33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 33:41–44

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے مسلمانو1 اللہ کو بکثرت یاد کرو۔

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کیا کرو۔

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تم کو (گمراہی کے) اندھیروں سے (نور ایمان کی) روشنی کی طرف نکالے، اور اللہ مسلمانوں پر مہربان ہے ۔

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

ان کے لیے ملتے وقت کی دعا سلام ہے (یعنی موت یا قبروں سے نکلنے یا جنت میں داخل ہونے کے وقت) اور ان کے لیے (جنت میں) عزت کا ثواب تیار کر رکھا ہے

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے مسلمانو، دل سے زبان سے ہاتھ پیروں سے ذکرالٰہی میں لگے رہو اور نمازوں میں صبح اور عصر کی نماز کا بڑاخیال رکھو کہ صبح کی نماز کا وقت غفلت کا وقت ہے اور عصر کی نماز کا وقت کام کاج کا ہوتا ہے آگے فرمایا کہ جو لوگ ذکرالٰہی میں اور نماز صبح اور شام کے پابند ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فرشتوں کی دعاء خیر کی برکت سے وہ گمراہی کے اندھیروں سے راہ راست کے اجالے میں رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر مہربان ہے وہ ہمیشہ ایسے لوگوں کو دنیا میں راہ راست پر رکھے گا اور عقبی میں اس کے اجر میں ان کو جنت میں داخل کرے گا جہاں یہ لوگ خوشی سے آپس میں سلام علیک کریں گے، جس سلام علیک کا مطلب گویا مبارک باد ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچاکرامن وامان سے جنت میں داخل کیا ۔
Ayahs 33:45–49

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبی !1 بیشک ہم نے تمہیں گواہی دینے والا اور خوشخبری پہنچانے والا اور ڈر سنانے والا۔

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور چمکا دینے والا آفتاب (بنا کر) بھیجا۔

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور مسلمانوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے ۔

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور کافروں اور منافقوں کی خوشی نہ کر اور ان کی طرف سے جو ایذا پہنچے اس سے درگزر کرو، اور اللہ پر بھروسہ کرو اور اللہ کافی کارساز ہے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اے مسلمانو جب تم مسلمان عورتوں ؓ سے نکاح کرو پھر تم ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے (کسی وجہ سے) طلاق دے دو پس تمہارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں کہ تم اس کا شمار کرو پس ان کو کچھ (مال سے) فائدہ دے دو اور اچھی طرح سے ان کو رخصت کرو۔

فضائل مصطفیٰ ﷺ ۔ (ف 1) اے محبوب ﷺ درحقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپ کے نور نبوت نے پہنچائی ، اور کفر وشرک کے ظلمات شدیدہ کو اپنے نورحقیقت افروز سے دور کردیا، اور خلق کے لیے معرفت و توحید الٰہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کردیں اور ضلالت کی وادی تاریک میں گم کرنے والوں کو اپنے نور نبوت سے ضمائر وبصائر اور قلوب وارواح کو منور کیا، حقیقت میں آپ کا وجود مبارک ایسا آفتاب عالم تاب ہے جس نے ہزارہا آفتاب بنادیے، اس لیے اس کی صفت منیرا ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں کو خوش خبری دیدی کہ ان کے لی اللہ کی طرف سے بڑافضل ہے پھر فرمایا کہ جو کافر اور منافق تمہارے رسالت کے کام میں فتورڈالیں تو اے محبوب ﷺ ان کا کہنا نہ سنو، اور ان کی جہالت کی باتوں پر صبر کرکے اپنے کام کے پورا کرنے میں اللہ پر بھروسہ کرو۔ عدت کا ذکر۔ پھر فرمایا کہ اے مسلمانوں جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو اور پھر تم صحبت سے پہلے کسی کو طلاق دیدو تو پھر وعرتوں کو عدت میں بٹھانے کا کچھ حق نہیں ہے ، جس سے تم مہینوں یا حیضوں سے گنتی کرنے لگو، پھر تم ان کو نہیں روک سکتے بلکہ اس وقت ان کو اختیار ہوجاتا ہے کہ دوسرانکاح کرلے، پس ایسی عورت کو کچھ فائدہ اپنی حیثیت کے موافق دے کر اچھی طرح رخصت کردو۔ مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت کو قبل مباشرت طلاق دی تو اس پر عدت واجب نہیں ہوگی۔ مسئلہ۔ خلوت صحیحہ قربت کے حکم میں ہے تو اگر خلوت صحیحہ کے بعد طلاق واقع ہوتوعدت واجب ہوگی اگرچہ مباشرت نہ ہوئی ہو۔ مسئلہ : اگر عورت کا مہر مقرر ہوچکا ہے تو اس کو مباشرت سے پہلے طلاق دینے کی صورت میں آدھامہر واجب ہوگا اور اگر مہر مقرر نہیں ہوا تو آدمی پر اپنی حیثیت کے موافق فائدہ دیناضرور ہے۔
Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے نبی۔1 ہم نے تمہارے لیے تمہاری وہ بی بیاں حلال کیں کہ جن کو تم ان کا مہر دو ، اور تمہارے ہاتھ کا مال کنیزیں جو اللہ نے تمہیں غنیمت میں دیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہارے پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں، جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی اور حلال کی ایمان والی عورت اگر وہ اپنا نفس نبی کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہیے) بشرطیکہ نبی اگر اسے نکاح میں لانا چاہے، یہ (اجازت اے محبوب) خاص تمہارے لیے ہے سب مسلمانوں کے لیے نہیں، بیشک ہم جانتے ہیں جو کچھ ہم نے مسلمانوں کی بیویوں کے حق میں اور ران کے ہاتھ کے مال کنیزوں کے حق میں مقرر کیا ہے ، یہ خصوصیت تمہاری اس لیے کہ تمہیں کسی قسم کی تنگی نہ ہو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

نکاح کرنے کی شرط۔ (ف 1) ان آیتوں میں اپنے محبوب ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تم جن بیویوں کو مہر دے چکے ہو وہ اللہ نے تم پر حلال کردیں، نبی ﷺ کی بی بیوں کا مہر پانسودرہم تھا مگر اس حکم سے تین بی بیاں مستثنی ہیں ایک توام حبیبہ ؓ کہ ان کا مہر نجاشی بادشاہ نے چار سو دینا دیا۔ حضرت صفیہ اور حضرت جویریہ ؓ کہ جن کو نبی ﷺ نے آزاد فرمایا اور ان سے نکاح کیا۔ مسئلہ : غنیمت میں ملنے کا ذکر بھی یہاں فضیلت کے لیے ہے کیونکہ مملوکات مملکت میں خواہ خرید سے ملک میں آئی ہو یا ہبہ سے یا وراثت یا وصیت سے وہ سب حلال ہیں پھر فرمایا اے محبوب ﷺ اگر کوئی مسلمان عورت بغیر مہر اور بغیر مشروط نکاح اپنی جان آپ کو نذر کرے بشرطیکہ آپ اسے نکاح میں لانے کا ارادہ فرمائیں، تو ہم نے آپ کے لیے اس عورت کو حلال کیا، یہ نکاح بےمہرخالص آپ کے لیے جائز ہے امت کے لیے نہیں ہے، پھر فرمایا اے محبوب تمہارے نکاح کے حکموں کے علاوہ امت کے مسلمانوں کو چار عورتوں سے زیادہ نکاح میں رکھنے کی اجازت نہیں دی، اور ان کے ہر ایک نکاح میں عورت کے وارث کی اجازت اور گواہوں کی گواہی ضرور ہے اور لونڈیوں کی صحبت میں رکھنے کی ان کو اجازت ہے، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ نکاح کے احکام اس واطے تفصیل وار نازل فرمائے ہیں کہ اے محبوب تمہاری امت کے مسلمان لوگوں کو اس باب میں کچھ تنگی نہ رہے اور ان احکام کے نازل ہونے سے پہلے یہ لوگ جو بےاحتیاطی کرچکے اس کو اللہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا مہربان ہے۔
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

تم1 ان بیبیوں میں سے جس کو چاہو علیحدہ رکھو اور جس کو چاہو اپنے پاس جگہ دو اور جسے تم نے کنارے کردیا تھا ان میں سے تمہاری خواہش ہو تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں، یہ اجازت اس لیے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور غم نہ کریں اور جو کچھ تم ان کو دو اس پر سب کی سب خوش رہیں، اور اللہ جانتا ہے جو تم سب کے دلوں میں ہے اور اللہ جاننے والا تحمل والا ہے ۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب آپ کو اختیار ہے کہ جس بی بی کو چاہیں پاس رکھیں اور بی بیوں میں باری مقرر کریں یا نہ کریں لیکن باوجود اس اختیار کے سید عالم تمام ازواج مطہرات کے ساتھ عدل فرماتے تھے اور ان کی باریاں برابر رکھتے، بجز حضرت سودہ کے جنہوں نے اپنی باری کا دن حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کو دیدیا تھا، اور بارگاہ رسالت میں عرض کیا تھا کہ میرے لیے یہی کافی ہے کہ میرا حشر آپ کی ازواج میں ہو۔ مسئلہ۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص چندبیویاں کرلے، اور پھر ان کے درمیان مساوات و انصاف قائم نہ رکھے تو قیامت کے دن ایسی حالت میں اٹھے گا کہ اس کا آدھاجسم گلاہوا ہوگا، اور نیز یہ بھی فرمایا کہ جس کی ایک بیوی ہو اور اس کو تنگ رکھے، اس کا انجام بھی خراب ہوگا، آگے فرمایا ازواج میں سے آپ نے جس کو معزول یا ساقط القسمۃ کردیا ہو آپ جب چاہیں اس کو نوازیں ، اس کا آپ کو اختیاردیا گیا ہے کیونکہ جب وہ جانیں گی کہ یہ تفویض اور یہ اختیار آپ کو اللہ کی طرف سے عطا ہوا ہے تو ان کے قلوب مطمئن ہوجائیں گے اللہ سب کچھ جاننے والاتحمل والا ہے۔
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

ان کے بعد2 اور عورتیں تمہیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ تم ان (موجودہ) ببیویں کی جگہ دوسری بیبیاں بدل لو، اگرچہ تم کو ان (دوسریوں) کا حسن اچھا معلوم ہو مگر تمہارے ہاتھ کا مال لونڈیاں (دوست) ہیں اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے ۔

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان نوبیویوں کے بعد جو آپ کے نکاح میں ہیں جنہیں آپ نے اختیار دیا تو انہوں نے اللہ اور رسول کو اختیار کیا کیونکہ آنحضرت کے لیے ازواج کا نصاب نو ہے جیسے کہ امت کے لیے چار، فرمایا انہیں طلاق دے کر ان کی جگہ دوسری عورتوں سے نکاح کرلو، ایسا بھی نہ کرو، یہ احترام ان ازواج کا اس لیے ہے کہ جب نبی ﷺ نے انہیں اختیار دیا تھا تو انہوں نے اللہ رسول کو اختیار کیا اور آسائش دنیا کو ٹھکرادیا۔ چناچہ رسول کریم نے انہیں پر اکتفا فرمایا، اور آخیر تک یہی بی بیاں حضور کی خدمت میں رہیں، حضرت عائشہ وام سلمہ سے مروی ہے کہ آخیر میں حضور کے لیے حلال کردیا گیا تھا کہ جتنی عورتوں سے چاہیں نکاح فرمائیں، اس تقدیر پر آیت منسوخ ہے اور اس کی ناسخ آیت انااحللنالک ازواجک التی، ہے کہ وہ تمہارے لیے حلال ہے اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
Ayahs 33:53–54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے مسلمانو ! نبی کے گھروں میں نہ داخل ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلا جس وقت تم کو کھانے کے لیے بلایا جاوے نہ یوں خہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو، و لیکن جب تم کو بلایا جاوے (کہ کھانا تیار ہے) تب جایا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جاؤ اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھے رہو، بیشک اس سے نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ کرتے تھے اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا، اور1 جب نبی کی بیویوں سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو، اس میں تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی زیادہ ستھرائی ہے اور تمہیں نہیں پہنچتا کہ اللہ کے رسول کو ایذا دو اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو، بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑ ابھاری گناہ ہے۔

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو گے یا چھپاؤں گے تو بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ۔

معاشرتی آداب۔ (ف 1) شان نزول : جب نبی ﷺ نے حضرت زینب سے نکاح کرلیا اور ولیمہ کی عام دعوت فرمائی توجماعتیں کی جماعتیں آتی تھیں اور کھانے سے فارغ ہوکر چلی جاتی تھیں، آخر میں تین صاحب ایسے تھے جو کھانے سے فارغ ہوکر بیٹھے رہ گئے اور انہوں نے گفتگو کا طویل سلسلہ شروع کردیا، اور بہت دیر تک ٹھہرے رہے مکان تنگ تھا اس سے گھروالوں کو تکلیف ہوئی اور حرج ہوا کہ وہ ان کی وجہ سے اپنا کام کاج کچھ نہ کرسکے، نبی ﷺ اٹھے اور ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے اور دورہ فرما کر تشریف لائے اس وقت تک یہ لوگ اپنی باتوں میں لگے ہوئے تھے حضور ﷺ پھر واپس ہوگئے یہ دیکھ کر وہ لوگ روانہ ہوگئے تب حضور اقدس دولت سرائے میں داخل ہوئے اور دروازہ پر پردہ ڈال دیا، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اس سے نبی کی کمال حیا، اور شان کرم وحسن اخلاق معلوم ہوتی ہے کہ باوجود ضرورت کے اصحاب سے یہ نہ فرمایا کہ اب آپ چلے جائیے بلکہ جو طریقہ اختیار فرمایا وہ حسن آداب کا اعلی ترین معلم ہے۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

ان1 عورتوں پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے باپ اور بیٹوں اور اپنے بھائیوں اور اپنے بھتیجوں اور اپنے بھانجوں اور اپنی دینی عورتوں اور اپنی کنیزوں سے پردہ نہ کریں، اور اے عورتو ! اللہ سے ڈرتی رہو بیشک اللہ کے سامنے ہر ہر چیز حاضر ہے ۔

پردہ کا حکم۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ازواج مطہرات سے کوئی چیز مانگو تو پردہ کے باہر سے مانگاکرو۔ یہ بات وسواس اور خطرات سے امن میں رکھتی ہے اور تم کو زیبا نہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کے خلاف کوئی ایسا کام کروجوخاطر اقدس پر گراں ہو، جس عورت سے نبی ﷺ نے عقد فرمایا وہ حضور کے سوا ہر شخص پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جب رسول اللہ کی ازواج مطہرات کو امت کے لوگوں کے لیے ماں ٹھہرادیا تو اللہ کے رسول کی کسی بیوی سے امت کا کوئی شخص کبھی نکاح نہیں کرسکتا، اس میں اعلام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو بڑی عظمت عطا فرمائی اور آپ کی حرمت ہر حال میں واجب کی۔ شان نزول : جب پردہ کا حکم نازل ہوا تو عورتوں کے باپ بیٹوں اور قریب کے رشتہ داروں نے نبی ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم اپنی ماؤں بیٹیوں کے ساتھ پردہ کے باہر سے گفتگو کریں، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

بیشک1 اللہ ار اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے مسلمانو تم بھی (محمد پر) درود اور خوب سلام بھیجا کرو۔

درود شریف کے فضائل۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے مسلمانو، تم بھی محمد ﷺ پر خوب درود اور سلام بھیجا کرو جب اس نبی کا ہمارے ہاں اتنارتبہ ہے کہ خود ہم اور ہمارے فرشتے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں تو تم کو یہ بطریق اولی اس نبی پر درود سلام بھیجنا ضروری ہے ۔ اور اللہ پاک نے جو نبی پر درود سلام بھیجنے کا حکم کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے آنحضرت کو تمام عالم میں پسند کیا، اور مصطفیٰ اور اپنا محبوب بنایا تو جس طرح اللہ پاک کو اپنی تعریف بندوں کی زبان سے اچھی معلوم ہوتی ہے اسی طرح اپنے محبوب کے ذکر کو تعظیم اور دعا کے ساتھ پسند فرمایا ہیی ، اس پر نبی کا عجب رتبہ اور بارگاہ الٰہی میں دعا کا وسیلہ ہے۔ بخاری میں ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ درود شریف پڑھنے والے پر اللہ کی طرف سے ہر درود کے بدلے دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں دس گنا اس کا مرتبہ بلند ہوتا ہے دس نیکیاں اس کے واسطے لکھی جاتی ہیں اور دس برائیاں اس سے دور کی جاتی ہیں ۔ دعامانگنے سے پہلے درود شریف پڑھاجائے تو دعاقبول ہوتی ہے ورنہ آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتی ہے۔ درود شریف سے نبی کی شفاعتی نصیب ہوگی گناہ معاف ہوتے ہیں ، مشکلیں آسان ہوتی ہیں حدیثوں میں ہزاروں فوائد لکھے ہیں غرض یہ کہ ہر شخص کے دل میں رسول اللہ کی محبت لازم ہے کیونکہ جس کے دل میں آپ کی محبت نہ ہوگی تو اس کے دل میں قرآن کی محبت بھی نہ ہوگی، اور خدا کی بھی نہ ہوگی۔ نبی نے فرمایا جو لوگ درود پڑھنے سے غافل ہیں قیامت کے دن درود شریف پڑھنے والوں کا ثواب دیکھ کر ان غافل لوگوں کو بڑی حسرت آوے گی بعض حدیثوں میں اور کچھ روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ جو شخص درودشریف پڑھنا بھول گیا وہ گویا جنت کا راستہ بھول گیا، اس لیے مسلمانوں کو درود شریف کا زیادہ ورد رکھنا چاہیے۔
Ayahs 33:57–58

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

بیشک جو (کفار) لوگ ایذا دیتے ہیں اللہ کو اور2 اس کے رسول کو ان پر اللہ نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لیے (آخرت میں) ذلیل کرنے والا عذاب تیار کررکھا ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بغیر کسی برائی کے کہ عمل میں لائے ہوں ایذا پہنچاتے ہیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ اپنے سر لیا۔

منافقوں کا انجام اور عظمت صحابہ کرام علیہم الرضوان۔ (ف 2) آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے میرے صحابہ اجمعین کو ایذادی اس نے مجھ کو ایذا دی اور جس نے مجھ کو ایذادی اس نے گویا اللہ کو ایذادی۔ اس حدیث کو ملا کر ان آیتوں کی تفسیر کا حاصل یہ ہوا کہ جس کسی نے ناسمجھی سے اللہ تعالیٰ کے ایذا کی کوئی بات منہ سے نکالی، یا اللہ کے رسول یا، آپ کے صحابہ کے ایذا کی کوئی بات یا مسلمان مرد یا عورت پر جھوٹا کوئی بہتان لگایا توایساشخص اللہ کی رحمت سے دور قرار پاکر بڑا گناہ گار اور سخت عذاب میں گرفتار ہوگا۔
Ayahs 33:59–62

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے نبی1 اپنی بیویوں سے اور صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں، یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو (کہ یہ شریف ہیں) پھر ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر باز نہ آئے منافق اور جن کے دلوں میں (برے خیال کی) بیماری ہے اور مدینہ میں جھوٹی خبریں اڑانے والے تو بشیک ہم تم کو تم پر مسلط کردیں گے پھر وہ تمہارے پاس مدینہ میں نہ رہیں گے مگر تھوڑے دنوں۔

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

لعنت کئے ہوئے جہاں کہیں ملیں پکڑے جاویں اور گن گن کر قتل کیے جاویں۔

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

جیسا کہ اللہ کا دستور چلا آتا ہے ان لوگوں میں بھی جو پہلے گزر گئے اور تم خدا کا دستور ہرگز کہیں بدلا ہوا نہ پاؤ گے۔

(ف 1) شان نزول : جب منافق لوگ شریف عورتوں کو راستہ میں چھیڑا کرتے تھے اور جب ان منافقوں کو دھمکایا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ شریف مسلمان عورتوں کو تم کیوں چھیڑا کرتے ہو تو کہتے تھے کہ ہم نے ان کو شریف جان کر نہیں چھیڑا بلکہ لونڈی جان کرچھیڑا تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں پھر فرمایا کہ منافقوں کی ایک اور بھی ایذرسانی تھی وہ یہ کہ مدینہ میں طرح طرح کی خوفناک خبریں اڑا کر لوگوں کو پریشان کیا کرتے تھے کہ فلاں بادشاہ چڑھ کر آتا ہے وہ آکریوں قتل عام کرے گا، فلاں قوم آتی ہے ان سب کی نسبت فرمایا ہے کہ اگر یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلون میں بیماری ہے شک وشبہ یامرض زناکاری ہے اور جو افواہیں اڑایا کرتے ہیں باز نہ رہیں گے ۔ تو اے محبوب تم کو ہم ان پر ابھاریں گے اور مسلط کریں پھر مدینہ سے ان کو خالی کر الیاجائے گا، اور یہ مدینہ سے باہر نکل کر بھی خوش حال نہ رہیں گے بلکہ ذلیل و خوار ہوکر کہ جہاں پاویں پکڑیں جاویں اور قتل کیے جائیں گے یہ جملہ بطور تہدید کے ہے اگر منافق اس بات سے باز نہ آئیں گے تو جہاں پائے جائیں گے قتل کیے جائیں گے پھر فرمایا کہ جو لوگ گزرچکے ہیں ان میں بھی اللہ پاک کا یہی دستور رہا ہے کہ ایسے لوگوں کو ہمیشہ غارت کرتا رہا ہے اور خدا کے دستور کو تم بدلتا ہوا نہ دیکھو گے اگر انہوں نے اپنے اعمال سے توبہ نہ کی تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے دستور کو ان کے ساتھ برتے گا اور جو بیان کردیا ہے وہ کردکھائے گا۔
Ayahs 33:63–68

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

(منکر) لوگ1 تم سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں تم فرماؤ اس کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی اور ان کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے ۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

اس میں ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ مددگار۔

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن کہ ان کے منہ آگ میں پھیر جائیں گے کہیں گے اے کاش ہم خدا کی فرمانبرداری کرتے وہتے اور رسول کا حکم (دنیا میں) مانا ہوتا (تو آج اس عذاب میں نہ گرفتار ہوتے) ۔

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے اے ہمارے رب ہم اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کے کہنے پر چلے تو انہوں نے ہم کو (سیدھے) راستے پر گمراہ کردیا۔

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے پروردگار ہمارے ان کو دوگنا عذاب دے (کیونکہ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور انہوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا) اور ان پر بڑٰ لعنت کر ۔

(ف 1) شان نزول : مشرکین جو تمسخر و استہزاء اور ستانے کے طور پر گھڑی گھڑی اے محبوب ﷺ تم سے قیامت کا وقت دریافت کیا کرتے ہیں گویا کہ ان کو بہت ہی جلدی ہے اور یہودی اس کو امتحانا پوچھتے تھے کیونکہ توریت میں اس کا علم مخفی رکھا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم کو حکم فرامایا اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ صحیح بخاری ومسلم کو حضرت عائشہ عنہا کی حدیث ہے کہ جب لوگ اللہ کے رسول سے قیامت کا حال پوچھا کرتے تو آپ ایک نوعمر لڑکے کی طرف نظرڈال کر یہ فرمادیا کرتے کہ اس لڑکے کے بوڑھا ہونے سے پہلے موجود لوگوں میں سے اکثر لوگ مرجائیں گے اور مرنے کے ساتھ ہی ان میں سے ہر ایک کو اپنا قیامت کا انجام معلوم ہوجائے گا۔
Ayahs 33:69–70

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے مسلمانوف 1 تم ان لوگوں جیسے نہ ہوجانا کہ جنہوں نے موسیٰ کو رنج پہنچایا پس اللہ نے موسیٰ کو بری کردیا اس بات سے جو انہوں نے کہی اور موسیٰ اللہ کے نزدیک عزت دار ہے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے مسلمانو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا اے مسلمانو، تم ان لوگوں جیسے نہ ہوجانا، کہ جنہوں نے حضرت موسیٰ کو ستایا، حضرت موسیٰ کو اس عیب سے جو لوگوں نے لگایا تھا بری کیا، اور حضرت موسیٰ اللہ کے نزدیک بڑے عزت دار تھے ، امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑے حیادار اور بڑے پردہ کرنے والے تھے شرم کے سبب سے ان کا بدن بنی اسرائیل میں سے کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا اس لیے بنی اسرائیل میں کچھ موذی، (شرارتی ) لوگوں نے ان کو ستایا اور کہنے لگے کہ حضرت موسیٰ اپنے بدن کے کسی عیب کے سبب سے اس قدر پردہ کرتے ہیں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے انکواس عیب سے یوں بری کردیا کہ ایک روز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اکیلے جان کر اپنے کپڑے اتارے اور ایک پتھر پر رکھ دیے اور نہانے لگے جب نہاچکے اور اپنے کپڑے لینے کے لیے آگے بڑھے تو پتھر ان کے کپڑے لے کربھاگا، پھر حضرت موسیٰ اپنی لاٹھی لے کر پتھر کے پیچھے دوڑے اور فرمانے لگے ، اور پتھر، میرے کپڑے دیدو، اوپتھر میرے کپڑے دیدے، یہاں تک کہ وہ پتھر میں بنی اسرائیل میں جاپہنچا اور ٹھہر گیا، ان لوگوں نے حضرت موسیٰ کا تمام جسم نہایت صاف اور بےعیب دیکھا، اس کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی باتوں سے بری فرمایا، دوسری روایت ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) ایک پہاڑ پر گئے تو وہیں حضرت ہارون (علیہ السلام) کا انتقال ہوگیا، بنی اسرائیل کہنے لگے کہ اے موسیٰ اور ہارون ایک پہاڑ پر گئے تو وہیں حضرت ہارون کا انتقال ہوگیا، بنی اسرائیل کہنے لگے کہ اے موسی، تم نے ہی ان کو مارڈالا، اس پر اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا اور وہ حضرت ہارون کا جنازہ اٹھا کر بنی اسرائیل کے روبرولائے اور جنازے میں سے آواز آئی کہ میں اپنی موت سے مرا ہوں، اس سے یہ مراد ہے نبی کریم کا ادب واحترام بجالاؤ، اور کوئی کام ایسا نہ کروجوان کے رنج وملال کا باعث ہو، پھر فرمایا اے مسلمانو، اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو، تاکہ اللہ اس کے صلہ میں تمہارے اعمال کو درست کردے اور تمہارے گناہ معاف کردے، اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو وہ شخص بڑی مراد کو پہنچا اور بڑی مراد کو پہنچنا یہی ہے کہ اللہ اس کو عذاب دوزخ سے بچائے گا اور جنت میں داخل کرے گا جہاں ہر طرح سے ہمیشہ کا عیش و آرام ہے۔
Ayahs 33:71–73

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

کہ اللہ (اس کے صلہ میں) تمہارے اعمال تمہارے لیے درست کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کردے گا، ار جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے تو بیشک1 وہ بڑٰی کامیابی کو پہنچا۔

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر اپنی امانت پیش کی تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور اس کو آدمی نے اٹھا لیا بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے ۔

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

انجام کار یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور اللہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر رحمت سے توجہ فرمائے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے ۔

(ف 1) اس آیت میں امانت کا جوذکر ہے اس سے مراد وہ باتیں ہیں جو اللہ نے انسان پر فرض کی ہیں، جس کے ادا کرنے سے انسان کی نجات ہے ۔ اس امانت کو اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین اور پہاڑوں کے روبرو پیش کرکے فرمایا تھا کہ اگر اس امانت کو تم پورے طور پر ادا کرو گے تو تم کو بڑا اجر ملے گا ورنہ تم کو سخت عذاب بھگتنا پڑے گا اور وہ اس شرط سے ڈرے ، اور اس امانت کو قبول نہیں کیا، پھر اللہ نے اس امانت کو حضرت آدم کے روبرو پیش کیا اور انہوں نے اپنے اور اپنی اولاد کے لیے اس امانت کو قبول کرلیا، اللہ کو اپنے علم ازلی سے یہ بات معلوم تھی کہ حضرت آدم کی بہت سی اولاد اس امانت میں خیانت کرے گی اسی واسطے اللہ نے فرمایا کہ انسان بڑانادان ہے کہ بغیر انجام سوچے اتنابڑا بوجھ اپنے سرلے لیا ہے اور پھر انسان کی تسکین کے لیے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ اس امانت میں کسی طرح کی خیانت کریں گے تو اللہ غفوررحیم ہے وہ اس کی مغفرت فرماوے گا ہاں جو شخص مرتے دم تک شرک ونفاق کی خیانت حق الٰہی میں کرے گا وہ آخرت کے عذاب میں پکڑاجائے گا۔ کس لیے کہ انتظام الٰہی کے موافق دنیا کے پیدا ہونے کی بنیادیں اس جزاوسزا کے فیصلہ پر قائم ہوئی ہے یہ انتظام آسمان و زمین اور پہاڑوں کو جتلایا گیا تھا جب انہوں نے ذمہ داری ڈر کر اس انتظام کو اپنے ذمہ نہیں لیا ، اور سب بنی آدم کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس انتظام کو اپنے ذمہ لے لیاتوسب بنی آدم کو اس عہد پر قائم رہنا چاہیے۔