42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 42:37–44

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور جنہوں نے اپنے پروردگار کا حکم قبول کیا اور نماز قائم رکھی اور ان کا ہر کام ان کے آپس کے مشورے سے ہے اور ہمارے دیئے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب انہیں بغاوت پہنچے تو (انصاف سے) بدلہ لیتے ہیں

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور برائی کا بدلہ اسی قدر برائی ہے۔ پس جو کوئی معاف کردے اور معاملہ کو درست کردے، پس اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک وہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور بیشک جس نے اپنی مظلومی پر بدلہ لیا، پس ایسے لوگوں پر کچھ مواخذہ کی راہ نہیں۔

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

مواخذہ تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کو درد دینے والا عذاب ہے ۔

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور بیشک جو شخص صبر کرے اور معاف کرے تو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں۔

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور1 جس کو خدا گمراہ کرے پس اس کا کوئی رفیق نہیں اس کے بعد، اور تم ان ظالموں کو دیکھو گے جب وہ (قیامت کے دن) عذاب کو دیکھیں گے (تو) کہیں گے کیا (دنیا) میں واپس جانے کی کوئی راہ ہے اور تم ان کو دیکھو گے کہ جب وہ دوزخ پر پیش کیے جائیں گے ذلت سے عاجزی کرتے ہوئے چھپی نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔

کافروں کا انجام اور نافرمانی کی زندگی۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ کی توفیق ودست گیری ہی سے آدمی کو ایمان حاصل ہوسکتا ہے اور اگر اللہ اپنے مقدس مذہب کی راہ نہ دے تو کون ہے جو ہاتھ پکڑا اخلاقی پستی اور گمراہی کے گڑھے سے ہم کو نکال سکے، آگے فرمایا کہ قیامت کے دن ان کافروں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ بروز قیامت عذاب کی سختی اور تکلیف دیکھیں گے تو وہ اس حالت کو دیکھ کر بہت گھبرائیں گے اور یہ تمنا کریں گے اور ان کو دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ مل جائے تاکہ دوبارہ دنیا میں جاکر نیک کام کریں اور عذاب دوزخ سے نجات پائیں اور سہمے ہوئے مجرم کی طرح خوف اور ذلت وندامت کے مارے نیچی نظریں سے دیکھتے ہوں گے کسی سے پوری طرح آنکھ نہ ملاسکیں گے اور میدان محشر میں ایماندار لوگ جب ان نافرمان لوگوں کا حال دیکھیں گے، کہ نافرمان لوگ دوزخ کو کن آنکھوں سے دیکھ کر پھر دوبارہ دنیا میں جانے اور نیک عمل کرنے کی آرزو کررہے ہیں تو اس وقت جو ایماندار لوگ ان نافرمانوں لوگوں کو قائل کرنے کے طور کہیں گے کہ جو وقت نیک عمل کرنے کا تھا وہ تم نافرمان لوگوں نے ہاتھ سے کھودیا اور سرکشی کے سبب سے دنیا میں ایسی تجارت کی جس کے سبب سے اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو نقصان میں ڈالا، بیشک ظالم کافر مشرک ایسے عذاب میں گرفتار ہوں گے جو ہمیشہ قائم رہے گا اور وہاں ان کے بت، یا عزیزواقارب وغیرہ کام نہ آئیں گے کہ ان کی مدد کریں اور عذاب الٰہی سے بچالیں، نجات دلائیں آگے فرمایا اے لوگو اس بےکسی کے وقت کے آنے سے پہلے اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری قبول کرلو، تو ابھی وقت ہاتھ سے نہیں گیا ہے جب وقت ہاتھ سے جاتار ہے گا تو پھر پچھتانا کچھ کام نہ آئے گا، فرمایا اے محبوب ﷺ اس نصیحت کے بعد بھی اگر یہ نافرمان لوگ نہ مانیں تو تمہارا کام اتنا ہی ہے کہ تم ان کو اللہ کی نصیحت پہنچادو، پھر اگر یہ نہ مانیں تو اللہ ان سے سمجھ لیوے گا پھر فرمایا کہ ان نافرمان لوگوں کے لیے اللہ کی نصیحت نہ ماننے کا بڑا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں کسی قدر فراغت دے رکھی ہے اور یہ انسان کی جبلی عادت ہے کہ فراغت کے وقت بجائے اللہ کے شکر کے اتراتے لگتا ہے اور تکلیف کے وقت اللہ کی تمام نعمتوں کو بھول کر بجائے خدا سے ڈرنے کی خدا کی ناشکری کرنے لگتا ہے پھر فرمایا کہ زمین اور آسمان سب ملک کا اللہ کا ہے کسی کی ناشکری اور نافرمانی سے اللہ کے ملک میں کوئی فتور پڑجاتا ہے خدا کی بادشاہت ایسی نہیں ہے خدا ایسازبردست بادشاہ ہے کہ اس کو کسی کی نافرمانی اور ناشکری اور مخالفت کی کچھ پر اوہ نہیں ہے جس طرح اس کی حکومت غریب لوگوں پر ہے وہ ویسی ہی بادشاہوں پر ہے بڑے بڑے بادشاہوں میں سے جس کو چاہے بےاولاد رکھے، جس کو چاہے بجائے لڑکے کے لڑکی دیوے کسی کا اس پر کچھ زور اور بس نہیں چل سکتا۔
Ayahs 42:45–51

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور ایمان والے کہیں گے بیشک نقصان میں وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے قیامت کے دن اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈالا آگاہ ہو بیشک ظالم (یعنی مشرک و کافر) لوگ ہمیشہ کے عذاب میں رہیں گے۔

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور (وہاں) ان کا کوئی کارساز نہ ہوگا کہ اللہ کے مقابل ان کی مدد کرے ، اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کوئی راہ نہیں۔

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

تم اپنے پروردگار کا حکم مانو اس دن کے آنے سے پہلے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں، اس دن تمہیں کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہیں (اپنے گناہوں کا) انکار کرتے بنے۔

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا، تمہارے ذمہ تو یہی ہے پیغام پہنچا دینا، اور بیشک جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے، اور اگر انہیں کوئی مصیبت پہنچے ان کے ان اعمال کے سبب سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے (تو سب نعمتوں کو بھول جاتا ہے) بیشک انسان بڑا ناشکرا ہے۔

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکیاں عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے عطا فرماتا ہے۔

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا انہیں لڑکے اور لڑکیاں دونوں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے، بیشک وہ جاننے والا قدرت والا ہے۔

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور1 کسی آدمی کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر، یا یوں کہ وہ بشر پردہ عظمت کے ادھر ہو یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اللہ کے حکم سے وحی کرے جو اللہ چاہے، بیشک خدا بلند مرتبہ حکمت والا ہے۔

قرآن خدا کی کتاب ہے۔ (ف 1) شان نزول : یہود نبی کی نبوت پر لوگوں کے بہکانے کے لیے اور حسد کے سبب سے یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ اگر یہ نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے بلاواسطہ فرشتے کے کلام کرتے وقت اس کو کیوں نہیں دیکھتے جیسا کہ حضرت موسیٰ دیکھتے تھے ان کے اس اعتراض کو جواب نبی ﷺ نے یہ دیا کہ حضرت موسیٰ بھی نہیں دیکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اصل مطلب یہ ہے کہ بلاپردہ کی آڑ کی تو نہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور نہ کسی آدمی میں یہ طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے روبروباتیں بےپردہ حجاب فرمائے، ہاں پچھلے تمام انبیاء مین جو وحی کا طریقہ تھا کہ خواب میں کوئی بات معلوم ہوجاتی تھی یافرشتہ آکر اللہ کا حکم پہنچاجاتا تھا یہ سب طریقے وحی کے نبی ان بھی موجود ہیں شب معراج میں نبی ﷺ کی باتیں ہوئیں سچے خواب بھی ان کو ہوتے ہیں غیب سے باتیں بھی ان کے دل میں پڑجاتی ہیں ہر روز اللہ کافرشتہ بھی ان کے پاس اللہ کا حکم لے کر آتا ہے پھر ان کی نبوت سے انکار کیونکر ہوسکتا ہے پھر آگے اسی جواب کی تائید میں فرمایا کہ امی نبی کو پچھلے انبیاء کی طرح سب احکام شریعت کا معلوم ہوجانا یہ تائید غیبی اور اللہ کی وحی نہیں تو پھر کیا ہے۔ مسئلہ : اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے لیے کوئی پردہ ایسا ہو جیسا جسمانیات کے لیے ہوتا ہے اس پردہ سے مراد سامع کا دنیا میں دیدار سے محجوب ہونا ہے۔
Ayah 42:52

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور (اے محبوب) اسی طرح ہم نے تمہاری طرف اپنے حکم سے قرآن وحی کیا، اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے اور نہ احکام شرع کی تفصیل،2 ہاں ہم نے اس قرآن کو نور بنایا کہ جس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں۔ اور1 بیشک (اے محبوب) تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو۔

(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ ہم نے قرآن کو اتار کر سارے جہان میں نور پھیلایا، اور قرآن کو اپنا چراغ بنادیا، امر، نہی حق، باطل، حلال، حرام صاف صاف بیان کرتا ہے، ہم بذریعہ قرآن جس کو چاہتے ہیں اور اپنے بندوں میں سے جس کو لائق سمجھتے ہیں اسی کو راہ اور اس قرآن کی روشنی دکھاتے ہیں۔ (ف 1) اے محبوب ﷺ تم تو سب بندوں کو قرآن کریم کے ذریعہ سے اللہ تک پہنچنے کی سیدھی راہ بتلاتے رہتے ہو کوئی اس پر چلے یا نہ چلے۔
Ayah 42:53

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

اللہ2 کی راہ کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، آگاہ ہو3 اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹتے ہیں۔

(ف 2) یعنی سیدھی راہ وہ ہے جس پر چل کر آدمی خدائے واحد تک پہنچتا ہے جو اس راہ سے بھٹکا خدا سے الگ ہوا۔ (ف 3) یعنی جب سب کاموں کے انجام اسی کی طرف لوٹتے ہیں تو چاہیے کہ آدمی شروع سے اس انجام کو سوچ لے اور اپنے اختیار سے ایسے راستہ پر چلے جو سیدھا اسی کی بارگاہ تک پہنچنے والا ہے۔