50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 50:1–4

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق۔1۔ قسم ہے عزت والے قرآن کی

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

کہ تم خدا کے پیغمبر ہو (کفار ایمان نہیں لائے) بلکہ کافروں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس ان کی قوم میں ایک ڈر سنانے والا رسو ل تشریف لایا، پس کافروں نے کہا کہ یہ تو عجیب بات ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک ہوجائیں گے پھر دوبارہ زندہ ہوں گے، یہ دوبارہ زندہ ہونا عقل سے بعید ہے

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

بیشک ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ زمین ان (کے جسم کے حصہ) میں سے گھٹاتی ہے اور ہمارے پاس ایک یادرکھنے والی کتاب (میں محفوظ) ہے

(ف 1) مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آن کر محمدرسول اللہ کے رسول ہونے کی اور اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کردے گا تو ہم مان لیں گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے قسم کھاکر فرمایا کہ قسم ہے قرآن کی جو نہایت بزرگی و کرامت و شرافت والا ہے کہ تم خدا کے رسول ہو، ہم جانتے ہیں کہ یہ کفار ایمان نہیں لائے، اور اس قرآن کی بزرگی اور عظمت وشان کا کیا کہنا جس نے آکر کفر وشرک کو منسوخ کردیا اور اپنی اعجازی قوت اور لامحدود اسرار ومعارف سے دنیا کو محو حیرت بنادیا۔ یہی بزرگی والا قرآن بذات خود شاہد ہے کہ اس کے اندر کوئی نقص وعیب نہیں لیکن منکرین پھر بھی رسول اور قرآن کو قبول نہیں کرتے۔ اس لیے نہیں کہ ان کے پاس اس کے خلاف کوئی حجت وبرہان ہے بلکہ محض اپنے جہل وحماقت سے اس پر تعجب کرتے ہیں کہ ان ہی کے خاندان اور نسل کا ان کی طرف رسول ہوکرآئے اور بڑا بن کر سب کو نصیحتیں کرنے لگے، حالانکہ جس کی عدالت وامانت اور صدق وراست بازی کو وہ خوب جانتے ہیں اور یہ بھی ان کے دل نشین ہے کہ ایسے صفات کا شخص سچاصح ہوتا ہے باوجود اس کے نبی کی نبوت سے تعجب و انکار کرنا قابل حیرت ہے آگے فرمایا کہ جب قیامت کا ذکر ہوتا ہے تو تم مرے بعد زندہ ہوگے تو مشرکین تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بات بھی ایسی عجیب کہی جسے کوئی باور نہ کرسکے بھلا جب ہم مرکرمٹی ہوگئے کیا پھر زندگی کی طرف واپس کیے جائیں گے یہ واپسی تو عقل سے بہت دور اور امکان عادت سے بالکل بعید ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کو بعید سمجھیں اور نہ مانیں مگر ہماری قدرت کے سامنے بہت ہی نزدیک اور سہل ہے۔ جب یہ مرجاتے ہیں اور زمین میں ان کے جسم کے جو حصے گوشت پوست ہڈیاں وغیرہ سب پراگندہ ہوجاتے ہیں زمین کھاجاتی ہے ان میں سے کوئی چیز ہم سے چھپی نہیں تو ہم ان کو ویسے ہی زندہ کرنے پر قادر ہیں جیسے کہ وہ پہلے تھے اور ہمارے پاس کتاب یعنی لوح محفوظ ہے اور اس میں موت حیات ، قبر قیامت اور جو کچھ ان میں سے زمین نے کھایا سب کا حال لکھا ہے ان کافروں نے حق ویقین کی اور خدا اور رسول کی اور قرآن کی ایسے وقت میں تکذیب کی جب وہ ظاہر وثابت ہوگیا شک وشبہ کا موقع نہ رہا اور وہ اپنے شبہ میں پڑ کر مختلف خیالات پکار رہے ہیں اور ضلالت میں پڑے ہیں کبھی نبی ﷺ کوشاعر، کبھی ساحر، کبھی کاہن اور اسی طرح قرآن پاک کو شعر وسحر کہانت کہتے ہیں کسی ایک بات پر قرار نہیں۔
Ayahs 50:5–11

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

انہوں نے حق کو جھٹلایا جبکہ وہ ان کے پاس آیا ، پس (ف 1) وہ لوگ (قرآن اور پیغمبر کے بارے میں) ایک مضطرب حالت میں ہیں

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

پھر کیا انہوں نے آسمان کی طرف نہیں دیکھا جو ان کے اوپر ہے کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے اور (ستاروں سے) اس کو زینت دی اور اس میں کوئی شگاف (یعنی عیب) نہیں ہے

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑوں کے لنگرڈالے اور اس میں ہم نے ہر قسم کی بارونق چیزیں اگائیں

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

تاکہ تم کو بصیرت اور نصیحت ہے بندے رجوع ہونے والے کے لیے

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے برکت (یعنی نفع) والا پانی اتارا پھر اس سے ہم نے باغ اگائے اور اناج کہ کاٹاجاتا ہے

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور کجھور کے لمبے لمبے درخت جس میں تہ بہ تہ خوش (لگتے) ہیں

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

بندوں کے رزق دینے کے لیے (پیدا کیے) اور ہم نے اس (بارش ) کے ذریعہ سے مردہ (یعنی خشک) شہر کو زندہ (یعنی سرسبز) کیا اسی طرح (تمہیں بھی ) قبروں سے نکلنا ہوگا

صفات باری تعالی۔ (ف 1) کفار قدرت الٰہی میں شک رکھتے ہیں کیا انہوں نے اس کے کارخانہ قدرت نہیں دیکھے کیا انہوں نے اپنے سروں پر آسمان نہیں دیکھا یہ نہیں سوچا کہ ہم نے اس کو کس حکمت سے مضبوط ومستحکم بغیر ستون بنایا اور رات کو جب اس پرستاروں کی قندیل اور جھاڑ فانوس روشن ہوتے ہیں تو کس قدر پررونق اور خوبصورت نظر آتا ہے پھر لطف یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں برس گزر گئے نہ اس چھت میں کہیں سوراخ ہوانہ کوئی کنگرہ گرا، نہ پلاسٹر ٹوٹا، نہ رنگ خراب ہوا، آخر کون ساہاتھ ہے جس نے یہ مخلوق بنائی اور بنا کر اس کی حفاظت کی، پھر فرمایا کہ زمین کو نہیں دیکھتے پانی پر اس کو کس قدرت کاملہ سے پھیلایا اور اس کے ثابت ومضبوط قائم رکھنے کے لیے اس پر پہاڑوں کو مثل میخوں کے بنایا اس میں انواع و اقسام کے درخت میوے تروتازہ ، خوبصورت خوش نما خوش منظر پیدا کیے یہ لوگ عبرت پکڑیں اور دیکھ کر خدا کو یاد کریں، مصنوعات الٰہیہ میں فکروتامل کریں۔ ان چیزوں میں ہر بندہ کو جو خدا کی طرف رجوع لاتا ہے، اس کے لیے آسمان و زمین کی تخلیق وتنظیم میں دانائی وبینائی کے کتنے سامان ہیں، جن میں ادنی غور کرنے سے صحیح حقیقت تک پہنچ سکتا ہے اور بھولے ہوئے سبق اس کو یاد آسکتے ہیں پھر خدا جانے ایسی روشن نشانیوں کی موجودگی میں بھی لوگ کیونکہ حق کو جھٹلانے کی جرات کرتے ہیں پھر فرمایا کہ ہم نے آسمان سے مینہ برسایا ، برکت والا، نفع اور خیر اور رحمت اور زندگی والا پھر اس سے طرح طرح کے باغات اور کھیتیاں اگائیں اور وہ دانے جن کو آدمی کاٹتے اور جمع کرتے ہیں گیہیوں، جو، چنا، وغیرہ اور بڑے بڑے کھجور کے درخت پیدا کیے جن کے خوشے عمدہ خوبصورت تہ بہ تہ دانوں والے ہیں یہ چیزیں ہم نے اپنے بندوں کے لیے روزی بناکراتاری ہیں اور بذریعہ بارش ان کو پیدا کیا ہے اور مردہ خشک ویران جنگلوں اور شہروں کو مینہ سے دم بھر میں زندہ کیا جب اتنے اتنے تغیر ہمارے نزدیک کوئی مشکل کام نہیں پھر قیامت کیا ہے آخر ساری زمین مردہ کو بارش سے جلادیتے ہیں اسی طرح قبروں سے آدمیوں کو نکال دیں گے۔
Ayahs 50:12–15

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان سے (ف 1) پہلے قوم نوح نے جھٹلایا اور رس والوں نے اور ثمود نے

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد نے اور فرعون نے اور لوط کے ہم قوموں نے

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والوں نے اور تبع کی قوم نے ، ان سب نے (اپنے اپنے) رسولوں کو جھٹلایا پس میرے عذاب کا وعدہ ان پر ثابت ہوگیا

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

پس کیا ہم پہلی بار (مخلوقات کو) پیدا کرکے تھک گئے ؟ بلکہ وہ لوگ نئی پیدائش سے شبہہ میں ہیں

رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام۔ (ف 1) کفار مکہ نے حشر اور نبی ﷺ کی نبوت کا جوانکار کیا تھا جس کا اوپر کی آیت میں ذکر تھا، ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی یہ تسکین فرمائی کہ جیسے تمہاری تکذیب یہ کافر کتے ہیں اور قیامت کو نہیں مانتے یوں ہی ان سے پہلے جو کافر گزرے انہوں نے اپنے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی، حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے نوح کو جھٹلایا ، اصحاب رس نے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا ثمود نے صالح کو، عاد نے ہود کو فرعون اور اس کی قوم نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو، قوم لوط (علیہ السلام) ، اصحاب الایکہ نے شعیب (علیہ السلام) کو، اور قوم تبع نے اپنے رسول کو، اے محبوب ان سب قوموں نے اپنے اپنے رسولوں کو جھٹلایا، حکم الٰہی نہ مانا، جیسا ان لوگوں نے کیا ویسا ہی پایا، کہ آخر کو سب طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو وہی نتیجہ ان کا ہوگا، پھر فرمایا کہ ہم نے لاکھوں گر وہیں پیدا کیں لاکھوں ماردیں، پھر جب ہم نے اپنی قدرت سے اپنی حکمت سے ایک بار پیدا کیا تو اب پھر دوبارہ زندہ کرنا کون سادشوار ہے ہر کام کا پہلے پہل کرنا مشکل ہوتا ہے بغیر کسی نمونہ کے ۔ جب ایک دفعہ سب عالم کو پیدا کردیاتو پھر اسی نمونہ پر انسان دوبارہ پیدا کرنا عقل سے بعید نہیں ہے پھر قیامت کا لانا کیا مشکل ہے بلکہ یہ کفار خواہ مخواہ دوبارہ زندہ ہونے کے بارہ میں شک وشبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور نئی زندگی کا ان کو یقین نہیں آتا، خاکی انسان تو اپنی اصلی مادہ خاک سے ہی دوبارہ پیدا کیا جائے گا جس صاحب قدرت نے عصا یعنی لکڑی سے سانپ کو، اور پتھر سے اونٹنی کو، پانی یعنی نطفہ سے انسان کو پیدا کیا، اس کی قدرت سے یہ کیا بعید ہے کہ خاک سے خاکی انسان کو دوبارہ پیدا کردے۔
Ayahs 50:16–19

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور (ف 1) بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اس کا نفس جو وسوسہ پیدا کرتا ہے ہم جانتے ہیں اور ہم اس کی جان کی رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہیں

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب اس سے لیتے ہیں دو (فرشتے) لینے والے (یعنی اعمال لکھنے والے ) ایک داہنی طرف بیٹھا ہے اور ایک بائیں طرف

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

کوئی بات آدمی زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک نگہبان (یعنی اعمال لکھنے والا) تیار نہ بیٹھا ہو

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور (اس کو) موت کی سختی یقینا (پیش) آئے گی (پھر اس سے کہا جائے گا کہ ) یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا

(ف 1) اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا، کہ انسان کے مرجانے کے بعد جنگل میں ، دریا میں، جہاں کہیں اس کی خاک ہوگی، اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی جگہ کی خاک باہر نہیں ہے، ان آیتوں میں فرمایا کہ خاک تو ظاہر آنکھوں سے نظر آتی ہوئی چیز ہے، اللہ تعالیٰ کا علم تو ایسا بڑا ہے کہ وہ انسان کے دل کے خطرہ تک کو چاہتا ہے ، اللہ کا علم اس کی قدرت آدمی کو گھیرے ہوئے ہے ہر ہر ذرہ میں آدمی کے ہر رونگٹے میں جلوہ گر ہے پھر اس سے بھاگ کر آدمی کہاں جائے گا، آگے فرمایا کہ بندہ خدا کو دور جانتا ہے خیال کرتا ہے کہ اس کی بری باتوں کو کون دیکھے گا کون پرسش کرے گا، حالانکہ خدا کے دو موکل فرشتے ہر دم ساتھ ہیں، وہ جو کام کرتا ہے اچھا یا برا ہے وہ اس کو جھٹ پٹ لے کر دفتر نامہ اعمال میں لکھ لیتے ہیں ایک سیدھی طرف سے ایک الٹی طرف سے برابر بیٹھا ہوا اپنااپنا کام انجام دے رہا ہے آدمی اپنے منہ سے کوئی کلمہ نکالتا خواہ اچھا ہو خواہ برا، ادھر منہ سے بات نکلی ادھر درج نامہ اعمال ہوئی اور فرمایا کہ دنیا میں آدمی نہیں دیکھتا اور وہ آدمی سے باتیں نہیں کرتے مگر جب موت کی سکرات آئے گی اور روح نکلنے لگے گی ، اور جو کچھ سعادت یا شقاوت ہونی ہوگی، ثابت ومستحق ہوجائے گی، یعنی خاتم بالخیر یا انجام بد، اس وقت آدمی ان کو دیکھے گا اور وہ کہیں گے کہ اے فرزند آدم، دنیا میں تو اس دن سے بہت بھاگتا تھا اور موت سے بہت ڈرتا تھا، ناگواری ظاہر کرتا تھا مگر وہ آج آہی گئی ۔
Ayahs 50:20–29

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور قیامت کے دن (دوبارہ) صور (ف 1) پھونکا جائیگا (تب کافروں سے کہا جائے گا کہ ) عذاب کے وعدہ کا دن یہی ہے

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص اسی طرح (میدان حشر میں) آوے گا کہ اس کے ہمراہ ایک (فرشتہ اس کو) ہانکنے والا اور ایک اس کے اعمال کا) گواہی دینے والا ہوگا

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

( اور کافروں سے کہا جائے گا کہ ) بیشک تو اس معمالہ سے (دنیا میں) غفلت میں تھا پس ہم نے تیرا پردہ (دل اور کانوں اور آنکھوں کا) اٹھادیا سواج تیری نگاہ تیز ہے

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور (وہ فرشتہ جو) اس کے (اعمال لکھنے والا) ہم نشین تھا کہے گا : یہ ہے (اس کا اعمال نامہ) جو میرے پاس حاضر ہے

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

حکم ہوگا کہ (اے فرشتوں) تم دونوں جہنم میں ہر بڑے ناشکرے ہٹ دھرم کو ڈال دو

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

جو بھلائی سے بہت روکنے والا حد سے بڑھنے والا (دین میں) شک کرنے والا ہے

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے خدا کے ساتھ دوسرا معبود ٹھہرایا تو تم دونوں اسے سخت عذاب میں ڈالو

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا : اے میرے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا لیکن یہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

فرمائے گا : میرے سامنے نہ جھگڑو اور تمہیں پہلے ہی میں اپنی کتابوں اور اپنے رسولوں کے ذریعہ تمہارے پاس وعدہ عذاب بھیج چکا تھا

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

میرے ہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں بندوں پر ظلم کروں

نیک وبد کا انجام۔ (ف 1) جب صور پھ کے گا، قیامت قائم ہوگی، سب مجمع حشر میں اکٹھے ہوں گے تو وہ دن سزا جزا کا ہوگا، اولین وآخرین سب جمع ہوں گے ، وہ دن جس کی خبر دہشت ناک سنائی گئی ہے۔ ظاہر ہوگا یعنی روز جزا ہر آدمی زندہ ہوگا، اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہوگا، جو اس کو لے کرجاکردرباررب العزت میں کھڑا کرے گا، اور دوسرا اعمال نامہ کے لیے ہوگا جس میں اس کی زندگی کے سب احوال درج ہوں گے۔ اس وقت کہا جائے گا دنیا کے مزوں میں پڑ کر توآج کے دن سے بیخبر تھا اور تیری آنکھوں کے سامنے شہوات اور خواہشات کا اندھیرا چھایا ہوا تھ ارسول جو سمجھاتے تھے تجھے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا آج ہم نے تیری آنکھ سے وہ پردہ ہٹا دیا اور نگاہ خوب تیز کردی اب دیکھ لے جو باتیں کہی گئی تھیں صحیح ہیں یا غلط اور جتنے اعمال بد یا نیک کیے ہیں وہ سب پیش نظر ہیں آج تجھ کو سب نظر آتا ہے جتنی باتوں کو نہ مانتا تھا آج تو سب کو مانتا ہے اور ظاہر ظہور دیکھتا ہے دنیا میں مانتا تو فائدہ ہوتا جب وہ دربار میں حاضر ہوگا تو اس کا ہم نشین فرشتہ اعمال نیک یا بد دفتر اعمال خدمت میں پیش کرکے کہے گا، پروردگار یہ جس قدر اعمال اس بندہ کے میرے پاس حاضر ہیں یا یہ کہ اس بندہ کی طرف اشارہ ہے کہ اے رب یہ وہ بندہ حاضر ہے جس پر تونے مجھ کو مسلط کیا تھا اس وقت اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کے جواب میں دوزخیوں کے اوصاف فرماکرحکم دے گا کہ ان اوصاف کے لوگوں کو جہنم میں جھونک دوجو اللہ کو نہ مانتا تھا سرکش، نافرمان تھا خود بھی ایمان سے متنفر اوروں کو بھی منع کرنے والا اپنے بھائی بندوں قرابت داروں کو اسلام سے روکنے والا، ظاہر بدکار حد سے گزرنے والا، خدا پر افتراء اٹھانے والا، شک وشبہ میں گرفتار ، اور وہ جو خدا کے ساتھ بتوں وغیرہ کو شریک ثابت کرتا تھا تو ایسے کم بخت کافر کو پکڑ کر ہزار زلت، شدید غلیظ دردناک عذاب میں ڈالو، جب کافر کو دوزخ کا حکم ہوگا تو کافر کہے گا کہ مجھ کو شیطان نے بہکا دیا تھا تب شیطان کہے گا کہ میں نے کچھ بھی گمراہ نہیں کیا میری کوئی زبردستی اس پر نہ چلتی تھی ذرا شہ دی تھی کہ یہ کم بخت خود گمراہ ہوکرنجات وصلاح کے راستے دور جاپڑا۔ شیطان یہ کہہ کر اپنا جرم ہلکا کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آج میرے روبرو فضول جھگڑا نہ پھیلاؤاب جھوٹے حیلے حوالے بہانے ظاہر کرنے سے کیا فائدہ۔ دنیا میں کیوں اسلام نہ لائے، میں نے تو سب کو نیک وبد سے آگاہ کردیا تھا اور میرے رسول نے تم کو اس دن سے ڈرایا تھا اب ہر ایک کو اس کے جرم کے موافق سزا ملے گی جو گمراہ ہوا اور جس نے گمراہ کیا سب اپنی حرکتوں سے خیمازہ بھگتیں گے اور میں بندوں پر ظالم نہیں کہ خواہ مخواہ بےگناہ انکو پکڑلوں بلکہ جو کچھ فیصلہ ہوگا عین حکمت اور انصاف سے ہوگا، جس نے جو کیا ہوگا پائے گا اور میری بات نہیں بدلتی یعنی کافر نہیں بخشا جاتا اب کئی کئی بار عذر کرنے حیلے ڈھونڈنے سے کیا نتیجہ ہوسکتا ہے۔
Ayahs 50:30–35

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

جس (ف 1) دن کہ ہم دوزخ سے کہیں گے کیا تو بھرگئی اور وہ عرض کرے گی کہ کچھ اور زیادہ ہے

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور جنت پرہیزگاروں کے لیے نزدیک کردی جائے گی کہ ان سے کچھ دور نہ ہوگی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

ہم کہیں گے یہ ہے کہ جس کا تم سے (رسولوں کی معرفت دنیا میں) وعدہ دیاجاتا تھا ہر رجوع لانے والے (احکام شرعیہ) کی نگہداشت والے کے لیے

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو خدا سے بےدیکھے ڈرتا ہے اور رجوع ہونے والا دل لایا

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

ہم ان لوگوں سے کہیں گے تم سلامتی سے جنت میں داخل ہوجاؤ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان کے لیے اس میں جو چاہیں (موجود ہے) اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بروز قیامت ہم کافروں کو دوخ میں ڈال چکیں گے تو دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی اور وہ جواب میں کہے گی کہ اور بھی جو کافر ہوں وہ بھی سہی، برابر لاؤ، لاؤ، کہے گی اور دریافت کرے گی کہ کافروں میں اور بھی کوئی رہا یا نہیں ، اگر رہا تو لاؤ، یہاں تک دوزخیوں کا حال بیان ہوا اب جنتیوں کا حال ذکر کرتا ہے کہ جس طرح اہل دوزخ کے دکھانے کے لیے دوزخ کو محشر کے میدان میں لایاجائے گا اسی عرش معلی کی دائیں طرف کی جگہ محشر کے میدان کے سامنے کردی جائے گی ، جس سے اہل جنت میدان محشر میں سے جنت کو دیکھ لیں گے اور ان سے کہا جائے گا جنہوں نے دنیا میں خدا کو یاد رکھا اور گناہوں سے محفوط ہو کر اس کی طرف رجوع ہوئے اور بےدیکھے اس کے قہر و جلال سے ڈرے، اور ایک پاک وصاف رجوع ہونے والا دل لے کر حاضر ہوئے ، اس جنت کا وعدہ ایسے لوگوں سے دنیا میں رسولوں کی معرفت کیا گیا تھا وقت آگیا ہے کہ سلامت و عافیت کے ساتھ اس میں داخل ہو اور خوش ہو کہ یہ وہ دن ہے کہ نہ تمہیں عذاب ہو، نہ تمہاری نعمتیں زائل ہوں، اب نہ فنا ہے نہ موت ، اور جو جو چاہیں گے وہ ملے گا اور اس کے علاوہ نعمتیں ملیں گی جو ان کے خیال میں بھی نہیں۔
Ayahs 50:36–37

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم ان (کفار) سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں جو قوت میں ان سے (کہیں) زیادہ تھیں ، پھر (جب ہمارا عذاب ان پر آیاتو) تمام شہروں میں تلاش کیا کہ کوئی (موت اور حکم الٰہی سے ) بھاگنے کی جگہ ہے (مگر کہیں پناہ نہ ملی)

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

بیشک اس (بیان) میں اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو دل رکھتا ہو یا متوجہ ہوکر کان لگائے

(ف 1) دوزخ کے عذاب کے ذکر کے بعد دنیا کے عذاب سے ان آیتوں میں اللہ تعای نے کفار کو ڈرایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کچھ قیامت پر ہی موقوف نہیں ہے دنیا کے طرح طرح کے عذابوں سے ہزاروں گر وہیں زمانہ ہائے گذشتہ میں ہلاک کرڈالیں جو ان سے طاقت ، عزت ، شوکت، اسباب وہمت میں بدرجہا زائد تھیں، پھر باوجود اس قوت و ثروت کے اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی ٹھکانہ انہوں نے نہ پایا، حال کے لوگ بھی اگر اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو ایک دن یہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا کہ ہر شخص صاحب عقل نصیحت کو کان لگا کر سننے والے کو یہ پچھلی قوموں کی ہلاکت کے قصے سن کر عبرت پکڑنی چاہیے اور مذہب اسلام کو کھیل کود نہ جاننا چاہیے کہ کہیں یہی دن اس کے آگے نہ آئے۔
Ayahs 50:38–40

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور (ف 1) بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا اور ہم کو کچھ تکان نہ ہوئی

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

پس جو کچھ (کافر) کہتے ہیں کہ اس پر صبر کرو اور اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کروآفتاب چمکنے سے پہلے (یعنی صبح کی نماز) اور آفتاب ڈوبنے سے پہلے (یعنی ظہر وعصر )

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور کچھ رات کے وقتوں میں (یعنی مغرب اور عشاء) اس کی تسبیح بیان کرو اور نمازوں کے بعد بھی

(ف 1) شان نزول : یہ آیت یہود کے رد میں نازل ہوئی جو یہ کہتے تھے کہ اللہ تعای نے آسمان و زمین اور ان کے درمیانی کائنات کو چھ روز میں بنایا جن میں سے پہلا اتوار ہے پچھلا جمعہ پھر وہ معاذ اللہ تھک گیا اور ہفتہ کو اس نے عرش پر لیت کر آرام لیا، اس آیت میں ان کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ تھکے، وہ قادر ہے کہ ایک ان میں ساراعالم بنادے، ہر چیز کو حسب اقتضائے حکمت ہستی عطا فرماتا ہے شان الٰہی میں یہود کا یہ کلمہ نبی ﷺ کو بہت ناگوار ہوا، اور شدت غضب سے چہرہ مبارک پر سرخی نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسکین فرمائی اور یہ آیت نازل فرمائی۔