Ayah 49:1اس میں تین مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1: علماء نے کہا : عربوں میں نبی کریم ﷺ سے خطاب میں سختی اور سوء ادبی تھی اسی طرح وہ لوگوں کو القاب دینے میں بھی یہی رویہ اپناتے تھے یہ سورت مکارم اخلاق اور آداب کی رعایت کے حکم کے متعلق ہے۔ ضحاک اور یعقوب نے لاتقدامر تاء اور دال کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ تقدمہ سے مشتق ہے باقی قراء نے تاء کے ضمہ اور دال کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ تقدیم سے مشتق ہے دونوں کا معنی ظاہر ہے یعنی تم کوئی ایسا قول نہ کرو اور نہ ایسا فعل کرو جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے متجاوز ہو اور اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے قول اور فعل سے آگے نہ بڑھو جس کا حصول نبی کریم ﷺ کے وسیلہ سے ہو خواہ وہ امر دینی ہو یا دنیاوی ہو۔ جو اپنے قول اور فعل میں رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھا اور وہ اللہ تعالیٰ سے آگے بڑھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی حکم دیتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 2: اس کا سبب نزول کیا ہے اس بارے میں چھ اقوال ہیں :۔
(1) ابن جریج کی حدیث سے واحدی نے اسے ذکر کیا ہے : کہا : حضرت ابن ملیکہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت نقل کی ہے 1 ۔ کہ بنو تمیم کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کی : قعقاع بن معبد کو امیر مقرر کیجئے۔ حضرت عمر نے عرض کی : اقرع بن حابس کو امیر مقرر کیجئے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے کہا : تو نے محض میری مخالفت کی وجہ سے یہ بات کی ہے۔ حضرت عمر نے جواب دیا : میں نے آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا۔ دونوں نے گفتگو لمبی کی یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہوگئیں تو اس بارے میں یہ آیات ………نازل ہوئیں۔ اسے امام بخاری نے حسن بن عمر بن صباح سے نقل کیا ہے اور مہدوی نے بھی اسے ذکر کیا ہے (2) روایت بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارادہ کیا کہ ایک آدمی کو مدینہ طیبہ پر نائب بنائیں جب آپ خیبر کی طرف تشریف لے گئے حضرت عمر نے ایک اور آدمی کے بارے میں مشورہ دیا تو یہ آیات نازل ہوئیں۔ اسے بھی مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ (3) ۔ ماوردی نے ضحاک سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں (1) کہ نبی کریم ﷺ نے چوبیس صحابہ کو بنی عامر کی طرف بھیجا بنی عامر نے انہیں قتل کردیا مگر تین آدمی پیچھے رہ گئے وہ سلامت رہے اور مدینہ طیبہ کی طرف واپس لوٹ آئے وہ بنو سلیم کے دو آدمیوں سے ملے انہوں نے ان دو افراد سے ان کے نسب کے بارے میں پوچھا : دونوں نے کہا : بنی عامر سے تعلق رکھتے ہیں کیوں کہ بنی عامر بنو سالم سے زیادہ معزز شمار ہوتے تھے۔ ان صحابہ نے ان دونوں کو قتل کردیا۔ بنی سلیم کے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : ہمارے اور آپ کے درمیان معاہدہ ہے اور ہم میں سے آدمی قتل کردیئے گئے ہیں نبی کریم ﷺ نے ان کی دیت سو اونٹ عطا فرمائی، ان دوآدمیوں کے قتل کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں (4) ۔ قتادہ نے کہا : کچھ لوگ کہا کرتے تھے کاش : میرے بارے میں ایسی آیت نازل ہوتی، کاش میرے بارے میں ایس آیت نازل ہوتی تو یہ آیت نازل ہوئی (2) ۔ 5 ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : انہیں منع کیا گیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے کلام کریں۔ مجاہد نے کہا : تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے پہلے ہی حکم نہ دے دیا کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی زبان پر حکم دے، اسے امام بخاری نے بھی ذکر کیا ہے۔ (6) ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئیں (3) جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی جانب سے نماز ادا کرنے سے قبل ہی قربانیاں کردی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ ذبح کریں۔ ابن جریج نے کہا : وہ وقت جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے اس سے قبل تم اطاعات کے اعمال نہ کرو۔
میں کہتا ہوں : یہ آخری پانچ اقوال انہیں قاضی ابوبکر بن عربی نے ذکر کیا اور اس سے قبل ماوردی نے اچھی طرح وضاحت کی قاضی نے کہا : یہ سب صحیح ہیں (4) عموم کے تحت داخل ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ہی بہتر جانتی ہے جو ان آیات کے نزول کا سبب ہے ممکن ہے بغیر سبب کے نازل ہوئیں ہو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے قاضی نے کہا : جب ہم یہ کہیں کہ یہ طاعات کو ان کے اوقات سے پہلے لانے میں نازل ہوئی تو وہ بھی صحیح ہے کیونکہ ہر وہ عبادت جس کا ایک خاص وقت ہو تو وقت سے پہلے اسے ادا کرنا جائز نہیں ہوتا جس طرح نماز، روزہ، حج یہ سب واضح ہیں مگر علماء نے زکوۃ پر اختلاف کیا ہے جو عبادت مالیہ ہے۔ اور معنی مفہوم کے لئے مطلوب ہے وہ فقیر کی حاجت کو پورا کرتا ہے : کیونکہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عباس سے دو سال کا صدقہ جلدی لیا جب ایسی روایات آئی ہیں کہ صدقہ فطر کو عیدالفطر سے پہلے جمع کیا جاتا تاکہ عیدالفطر کے روز مستحق لوگوں کو وہ چیز دے دی جائے تو یہ امر سال یا دو سال پہلے زکوۃ کی ادائیگی کے جواز کو ثابت کرتا ہے اگر سال کا اختتام نہ ہوا اور نصاب اپنی حالت پر تھا تو زکوۃ کی ادائیگی ہوگئی اگر سال کا اختتام ہوا جبکہ نصاب تبدیل ہوچکا تھا تو واضح ہوگیا ہے کہ وہ نفلی صدقہ ہے
اشہب نے کہا : سال مکمل ہونے سے ایک گھڑی بھی پہلے دینا جائز نہیں (1) جس طرح نماز ہے گویا عبادت میں اس قاعدہ کو عام رکھا ہے ان کی رائے ہے کہ یہ اسلام کے ستونوں میں سے ایک ہے تو نظام اور حسن ترتیب میں اس کا پورا حق ادا کیا باقی ہمارے علماء کی رائے ہے کہ تھوڑی سی تقدیم جائز ہے کیونکہ اتنی چیز معاف ہے مگر کثیر معاف نہیں اشہب نے جو باب کہی وہ زیادہ واضح ہے کیونکہ تھوڑی چیز کا زیادہ سے الگ کرنا اصول شریعت میں صحیح ہے لیکن چند مقاصد جو تھوڑی چیز کے ساتھ خاص ہوں زیادہ کے ساتھ خاص نہ ہوں مگر ہمارے مسئلہ میں دن مہینہ کی طرح ہے مہینہ سال کی طرح ہے یا کلی تقدیم درست ہوگی جس طرح امام ابوحنیفہ اور امام شافعی (رح) تعالیٰ علیہ نے کہا : جہاں تک عبادت کا تعلق ہے تو وہ اپنے اوقات پر ہی ادا کی جائے گی جس طرح اشہب نے کہا :
مسئلہ نمبر 3:۔ نبی کریم ﷺ کے اقوال کے تعرض کو ترک کرنے میں یہ اصل ہے آپ کی اتباع اور آپ کی اقتداء کے وجوب میں بھی اصل ہے نبی کریم ﷺ نے اپنی بیماری میں ارشاد فرمایا : (2) ابوبکر صدیق کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت حفصہ سے کہا : آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کرو بیشک ابوبکر صدیق جلد رونے والے ہیں جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی آواز نہ سنا سکیں گے، حضرت عمر کو حک دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تم یوسف والیاں ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے “ تو صاحب یوسف کا معنی ہے وہ فتنہ جو جائز کو ناجائز کی طرف لوٹانے سے پیدا ہوتا ہے۔ (3) قیاس کے خلاف بغاوت کرنے والوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے یہ ان کی جانب سے باطل ہے کیونکہ جس امر پر دلیل قائم ہو اس کے بجا لانے میں اللہ تعالیٰ سے آگے نہیں بڑھنا ہے۔
یعنی اس آگے بڑھنے سے بچو جس سے منع کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے اقوال کو سننے والا اور تمہارے افعال کو جاننے والا ہے۔
Ayah 49:2اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1:۔ امام بخاری اور امام ترمذی نے حضرت ابن ابی ملیکہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا : اقرع بن حابس نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اسے اس کی قوم پر عامل بنا دیئجے۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ (1) اسے عامل نہ بنائیں، دونوں صحابہ نے نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں گفتگو کی یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا : تو نے محض میری مخالفت کا ارادہ کیا ہے حضرت عمر نے کہا : میں نے آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔
اس کے بعد جب حضرت عمر نبی کریم ﷺ کے پاس بات کرتے تو ان کی گفتگو سنی نہ جاسکتی یہاں تک کہ ان سے سوال کیا جاتا ؎ حضرت ابن زبیر نے اپنے نانا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ذکر نہیں کیا۔ یہ حدیث غریب حسن ہے۔ بعض علماء نے اسے حضرت ابن ابی ملیکہ سے مرسل نقل کیا ہے۔ اس میں حضرت عبداللہ بن زبیر کا ذکر نہیں کیا۔
میں کہتا ہوں : وہ امام بخاری ہیں : کہا : یہ روایت ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے (2) وہ بہترین آدمی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق قریب تھا کہ وہ ہلاک ہوجاتے ان دونوں کی آوازیں اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس بلند ہوگئیں جب بنو تمیم کا وفد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ان میں سے ایک نے اقرع بن حابس، جو بنی مجاشع سے تعلق رکھتا تھا کا مشورہ دیا دوسرے نے ایک اور کا مشورہ دیا۔ نافع نے کہا : مجھے اس کا نام یاد نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت عمر سے کہا : تو نے محض میرے ساتھ مخالفت کا ارادہ کیا ہے۔ حضرت عمر نے کہا : میں نے آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا اس بارے میں دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ حضرت ابن زبیر نے کہا : اس آیت کے نزول کے بعد حضرت عمر اپنی آواز رسول اللہ ﷺ کو نہیں سناتے تھے یہاں تک کہ ان سے پوچھا جاتا، انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق کا ذکر نہیں کیا۔ مہدوی نے حضرت علی شیر خدا ؓ کا ذکر کیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی جب میری حضرت جعفر اور حضرت زید بن حارثہ کی آواز بلند ہوگئی ہم حضرت حمزہ کی بیٹی کے بارے میں جھگڑے تھے جب زید اسے مکہ مکرمہ سے لائے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے جعفر کے حق میں اس کا فیصلہ کردیا کیونکہ اس بچی کی خالہ ان کے عقد میں تھی۔ یہ حدیث آل عمران میں گزر چکی ہے۔
صحیحین میں ہے حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ حضرت ثابت بن قیس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے پوچھا ایک آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں اس کے بارے میں میں خبر لاتا ہوں وہ حضرت ثابت کے پاس آئے انہیں اپنے گھر میں سرجکھائے ہوئے پایا پوچھا : تجھے کیا ہوا ہے ؟ جواب دیا : بہت برا حال ہے اس کی آواز نبی کریم ﷺ پر بلند ہوجاتی تھی اس کے عمل رائیگاں گئے جبکہ وہ جنہمی ہوچکا ہے وہ آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سب کچھ بتایا تو موسیٰ جو اس سند کے راوی ہیں نے کہا : وہ آدمی ان کی طرف ایک عظیم بشارت لے کر گیا فرمایا :” اس کے پاس جائو اس کو کہو تو جنہمی نہیں تو تو جنتی ہے “ (1) یہ بخاری کے الفاظ ہیں یہ ثابت، ثابت بن قیس بن شماس خزرجی ہے جن کی کنیت ابو محمد تھی یہ کنیت ان کے بیٹے محمد کی وجہ سے تھی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ابو عبدالرحمن ہے یوم حرہ کو انہیں شہید کیا گیا اس کے تین بیٹے تھے محمد، یحییٰ ، عبداللہ، وہ بہت اچھے خطیب اور بلیغ تھے وہ اسی وجہ سے معروف تھے انہیں رسول اللہ ﷺ کا خطیب کہا جاتا جس طرح حضرت حسان کو رسول اللہ ﷺ کا شاعر کہا جاتا جب بنو تمیم کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مفاخرہ کو طلب کیا ان کا خطیب کھڑا ہوا اور اظہار فخر کیا پھر ثابت بن قیس کھڑے ہوئے ایک عظیم وبلیغ خطبہ دیا اور ان پر غالب آگئے ان کا شاعر کھڑا ہوا وہ اقرع بن حابس تھا اس نے یہ شعر پڑھے۔
ہم آپ کے پاس آئے جس طرح لوگ جانتے ہیں جب لوگ مکارم کے ذکر کے وقت ہماری مخالفت کریں۔
ہم ہر قبیلہ کے لوگوں کے سردار ہیں جبکہ حجاز کی زمین میں دارم جیسا کوئی نہیں۔
ہمارے لئے ہر جنگ کے مال میں چوتھا حصہ ہوتا ہے وہ جنگ نجد میں ہو یا تہامہ کے علاقہ میں۔
حضرت حسان نے کہا :
” اے بنی دارم : تم فخر نہ کرو بیشک تمہارا فخر مکارم کے ذکر کے وقت وبال بن جائے گا۔ تم ہلاک ہو تم پر فخر کرتے ہوں جبکہ تم ہمارے خادم ہوں یا دایا اور خادم کے درمیان “ انہوں نے کہا : ان کا خطیب ہمارے خطیب سے اچھا ہے۔ ان کا شاعر ہمارے شاعر سے اچھا ہے ان کی آوازیں بلند ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔
عطا خراسانی نے کہا : مجھے ثابت بن قیس کی بیٹی نے بتایا جب یہ آیت نازل ہوئی تو ان کا والد اپنے کمرے میں داخل ہوا اور اپنا دروازہ بند کرلیا نبی کریم ﷺ نے اسے نہ پایا تو اسے بلا بھیجا تاکہ پوچھیں کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میری آواز سخت ہے مجھے ڈر ہے کہ میرا عمل ضائع ہی نہ ہوجائے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تو ان لوگوں میں سے نہیں تو بھلائی کے ساتھ جئے گا اور بھلائی کے ساتھ مرے گا (1) “ پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت : (النسائ) کو نازل فرمایا، انہوں نے اپنے دروازے کو بند کرلیا اور رونے لگے، نبی کریم ﷺ نے نہ پایا تو بلا بھیجا اور خبر دی عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں جمال کو پسند کرتا ہوں اور میں اپنی قوم کا سردار بننا پسند کرتا ہوں فرمایا :” تو ان میں سے نہیں بلکہ تو تعریف کی گئی زندگی گزارے گا شہید کی حیثیت سے قتل ہوگا اور جنت میں داخل ہوگا (2) اس بچی نے کہا : جب یمامہ کی جنگ کا مرحلہ آیا تو مسلمہ کذاب سے مقابلہ کے لئے حضرت خالد بن ولید کے ساتھ نکلے جب صحابہ کی ان سے مڈ بھیڑ ہوئی تو صحابہ بکھر گئے۔ حضرت ثابت اور حضرت سالم جو حضرت ابو حذیفہ کے غلام تھے نے کہا : رسول اللہ ﷺ کی معیت میں اس طرح تو جنگ نہیں کرتے تھے پھر دونوں نے اپنے ایک گڑھا کھودا اور جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہوئے اس روز حضرت ثابت کے جسم پر عمدہ زرہ تھی مسلمانوں میں سے ایک آدمی ان کے پاس سے گزرا اور اسے اتار لیا اسی اثناء میں ایک مسلمان سویا ہوا تھا تو حضرت ثابت اسے خواب میں آئے تو فرمایا : میں تجھے ایک وصیت کرتا ہوں یہ کہنے سے بچنا کہ یہ میری خواب ہے کہ تو اسے ضائع کردے میں جب کل شہید ہوا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی میرے پاس سے گزرا اس نے میری زرہ لے لی جبکہ اس کا پڑائو لوگوں کے ایک جانب ہے اس کے خیمہ کے پاس گھوڑا ہے جو لمبی رسی سے باندھا ہوا ہے اس نے زرہ پر توبرہ الٹا کیا ہوا اس توبرہ پر کچاوا ہے حضرت خالد کے پاس جائو اسے کہو کہ میری زرہ لینے کے لئے آدمی بھیجے جو زرہ لے آئے جب تو مدینہ طیبہ میں خلیفہ رسول حضرت ابوبکر صدیق کے پاس پہنچے تو ان سے عرض کرو مجھ پر فلاں فلاں قرض ہے میرے غلاموں میں سے فلاں فلاں آزاد ہے وہ آدمی حضرت خالد کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو بتایا حضرت خالد بن ولید نے زرہ لینے کے لئے آدمی کو بھیجا جو زرہ لے آیا حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ان کی وصیت کے بارے میں بات کی تو آپ نے وصیت کو نافذ کردیا ہم کسی کے بارے میں نہیں جانتے کہ حضرت ثابت کے بعد کسی کی وصیت نافذ کی گئی ہو۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ اسے ابو عمرو نے استعیاب میں ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 2: یعنی ان سے خطاب نہ کرو۔ اے محمد : بلکہ یوں خطاب کرو، یا بنی اللہ یا رسول اللہ : مقصود آپ کی عزت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے منافق اپنی آوازیں نبی کریم ﷺ کے پاس بلند کیا کرتے تھے تاکہ کمزور مسلمان بھی ان کی اقتدا کریں تو مسلمانوں کو اس سے منع کردیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کے معنی ہیں جس طح یہ جملہ کہا جاتا ہے یہ بھی علی کے معنی میں ہے کاف، کاف، تشبیہ ہے جو محل نصب میں ہے یعنی تم اس طرح آپ سے خطاب نہ کرو جس طرح ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہو اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ انہیں مطلق چہر سے منع نہیں کیا گیا یہاں تک کہ ان کے لئے جائز ہی نہ ہو مگر یہ کہ وہ اشارہ اور مخفی طریقہ سے آپ سے ہم کلام ہوں انہیں مخصوص چہر سے منع کیا گیا ہے جو صفت سے مقید ہو وہ جہر ہے جو اس مماثلت کے ساتھ مصوصوف ہے جس کے وہ باہم عادی تھی وہ ایسا جہر تھا جس میں نبوت کی قدرومنزل کا خیال نہ ہو اور باقی ماندہ مراتب کا انحطاط ہو اگرچہ نبوت و رسالت تمام سے بڑھ کر مرتبہ ہے۔
اس وجہ سے کہ تمہارے اعمال باطل ہوجائیں، یہ بصریوں کا قول ہے۔ کو فیوں نے کہا : تاکہ تمہارے اعمال رائیگاں نہ چلے جائیں۔ (1)
مسئلہ نمبر 3:۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور توقیر اور حضور ﷺ کی موجودگی اور آپ سے گفتگو کے وقت آواز کو پست رکھنے کا حکم جب آپ بولیں اور تم بولو تو تم پر لازم ہے کہ تم اپنی آوازوں کو اس حد تک بلند نہ کرو جہاں تک آپ ﷺ کی آواز پہنچتی ہے اور اپنی آوازوں کو پست رکھو اس طرح کہ آپ کی کلام تمہاری کلاموں پر غالب رہے اور آپ کی بلند آواز کی گفتگو بلند ٓواز کی گفتگو پر غالب ہو یہاں تک کہ آپ کی فضلیت تم پر نمایاں ہو۔ آپ کی سبقت ظاہر ہو اور آپ کا امتیاز تمہاری بلند آواز سے عی اس ہو ایسا نہ ہو کہ تم اپنے شوروغل سے آپ کی آواز کو دبا دو اور اپنے شوروغل سے آپ کی گفتگوپر غالب آ جائو۔ حضرت ابن مسعود کی قرأت میں ہے بعض علماء نے آپ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی قبر مبارک کے نزدیک بھی آواز بلند کرنے کو ناپسند کیا، بعض علماء کی مجلس میں بھی آواز بلند کرنے کو ناپسند کیا۔ مقصد ان کی تعظیم ہے کیونکہ وہ انبیاء کے وارث ہیں۔
مسئلہ نمبر 4:۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : نبی کریم ﷺ کے اس جہاں سے پردہ فرمانے کے بعد حرمت ایسے ہی ہے جس طرح ظاہری حیات میں آپ کی حرمت تھی (2) آپ کے وصال کے بعد آپ کا کلام اسی طرح ذی شاں ہے جس طرح اس کی عظمت اس وقت تھی جب آپ کی زبان سے آپ کا کلام سنا جائے جب آپ کا ارشاد پڑھا جا رہا ہو تو کسی کو زیب نہیں کہ وہ اپنی بلند آواز کرے اور نہ ہی اس کا یہ حق ہے کہ وہ اس کلام سے اعراض کرے جس طرح یہ اس وقت لازم تھا جب آپ کی مجلس میں آپ کی زبان سے اسے سنا جائے اللہ تعالیٰ نے مرور زمانہ کے باوجود اس مذکورہ دائمی حرمت پر یوں متبنہ کیا ہے (الاعرف 204) رسول اللہ ﷺ کا کلام بھی وحی ہے اس میں قرآن کی حکمت کی مثل حکمت ہے مگر چند معانی مستثنی ہیں جن کی وضاحت کتب فقہ میں ہے۔
مسئلہ نمبر 5:۔ آواز بلند کرنے اور عامیہ انداز میں گفتگو سے مراد استنخفاف اور تحقیر نہیں (3) کیونکہ ایسا امر تو کفر ہے جبکہ مخاطب مومن ہیں بلکہ مقصود محض آواز ہے اور جو اس کے مناسب نہ ہو جس کے ساتھ عظماء اور بڑے لوگوں کی عزت و توقیر کو پیش نظر رکھا جاتا ہے وہ اس کے پست کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسی سطح کی طرف لوٹانے کی سعی کرتا ہے جس سے عزت و توقیر عیاں ہو یہ نہیں اس کی آواز کو بلند کرنے کو شامل نہ ہوگی جو صحابہ سے حالت جنگ، معاند سے مجادلہ، دشمن کو خوفزدہ کرنے کے لئے ہوتی اگرچہ رسول اللہ ﷺ کو راحت نہ دیتی ہو حدیث طیبہ میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب سے فرمایا : جب لوگ غزوہ حینن کے موقع پر تتر بتر ہوگئے تھے ” لوگوں کو آواز دو “ حضرت عباس ؓ کی آواز بڑی بلند تھی۔ یہ بھی روایت کی جاتی ہے کہ ایک روز شب خون مارا گیا تو حضرت عباس ؓ نے یوں آواز لگائی یا صباحاۃ آپ کی آواز کی سختی کی وجہ سے حاملہ عورتوں نے حمل گرا دیئے اسی بارے میں نابغہ نے کہا :
ابو عروہ کا درندوں کو جھڑکنا ہے جب اسے ڈر ہو تاکہ وہ ریوڑ سے خلط ملط ہوجائیں گے۔
راویوں نے یہ گمان کیا ہے کہ وہ ریوڑ سے درندوں کو جھڑکتا تھا تو درندہ کا پتہ پانی ہوجاتا تھا۔
مسئلہ نمبر 6: زجاج نے کہا : تقدیر کلام یوں ہے۔ یعنی تمہارے اعمال ضائع چلے جائیں گے لام مقدرہ لام صیرورت ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان : اس امر کو ثابت نہیں کرتا کہ انسان کفر کر بیٹھے جبکہ وہ علم نہ رکھتا ہو جس طرح کافر مومن نہیں ہو سکتا مگر اس وقت جب وہ ایمان کو کفر پر ترجیح دے اسی طرح مومن کافر نہیں ہو سکتا جب تک وہ کفر کا قصد نہ کرے اور بالا جماع اسے پسند نہ کرے اسی طرح کافر کافر نہیں ہو سکتا کہ وہ جانتا ہی نہ ہو۔
Ayah 49:3جب وہ آپ ﷺ کی موجودگی پر کسی اور بات سے کرتے ہیں تو آپ کی تعظیم کی خاطر اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے (2) جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی نے کہا : اللہ کی قسم : میں آواز کو بلند نہیں کروں گا مگر رازداری کرنے والے کی طرح۔ سنید نے ذکر کیا : عباد بن عوام، محمد بن عمرو سے وہ ابو سلمہ سے رایت نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی : تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں آپ سے کلام نہیں کروں گا مگر جس طرح رازداری کرنے والا کلام کرتا ہے (3) عبداللہ بن زبیر نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی حضرت عمر نے نبی کریم ﷺ سے اس کے بعد کوئی گفتگو نہ کی۔ آپ نبی کریم ﷺ کا کلام سنتے یہاں تک جو پست آواز سے گفتگو ہوتی اس کو سمجھنے کے لئے کسی سے سوال کرتے تو یہ آیت نازل ہوئی فراء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لئے ان کے دلوں کو خاص کردیا۔ (4) ۔ اخفش نے کہا : تقوی کے لئے خاص کردیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ہر قبیح امر سے پاک کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور تقویٰ رکھ دیا ہے حضرت عمر ؓ نے ان کے دلوں سے شہوات کو ختم کردیا۔ امتحان یہ سے باب افتعال کا مصدر ہے یعنی میں نے چمڑے کو وسیع کیا۔ کا معنی ہوگا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقوی کے لئے وسیع کردیا پہلے قول کی بناء پر کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو خاص کردیا جس طرح تیرا قول ہے میں نے اسے پرکھا یہاں تک کہ میں نے اسے خالص پایا کلام میں حذف ہے جس پر کلام دلالت کرتی ہے ابو عمرو نے کہا ہر وہ جسے تو مشقت میں ڈالے تو نے اسے امتحان میں ڈالا۔ شاعر نے کہا :
کمزور اونٹیاں آئیں جن کی تھکاوٹیں ظاہر تھیں اور ان کی ڈھاکیں مشقت میں تھیں اور مضطرب تھیں۔
Ayah 49:4مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا : یہ آیت بنی تمیمم کے بدئوئوں کے بارے میں نازل ہوئی ان کا ایک وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ مسجد میں داخل ہوئے اور حجرہ کے باہر سے نبی کریم ﷺ کو آواز دی کہ ہمارے پاس باہر آئیں کیونکہ ہماری مدح زینت ہے اور ہماری مذمت عیب ہے وہ ستر افراد تھے انہوں نے اپنے بچوں کا فدیہ پیش کیا نبی کریم ﷺ قیلولہ کرنے کے لئے سوئے ہوئے تھے۔
روایت کی گئی ہے کہ جس ندا کی تھی وہ اقرع بن حابس تھا اسی نے بات کی تھی۔ میری مدح زینت اور میری مذمت عیب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ذاک اللہ (2) وہ ذات اللہ تعالیٰ کی ہے امام ترمذی نے اسے حضرت براء بن عاذب سے بھی ذکر کیا ہے۔
حضرت زید بن ارقم نے روایت کیا ہے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان میں سے بعض نے بعض سے کہا : ہمیں اس آدمی کے پاس لے چلو اگر وہ نبی ہوا تو ہم اس کی اتباع کریں گے لوگوں میں سے سب سے زیادہ سعادت مند ہوجائیں گے اور اگر وہ بادشاہ ہوا تو ہم اس کے پہلو میں رہیں گے۔ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آوازیں دینے لگے جبکہ آپ حجرہ میں موجود تھے یا محمد ! یا محمد : تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ بنو تمیم تھے، مقاتل نے کہا : وہ انیس تھے قیس بن عاصم، زبرقان بن بدر، اقرع بن حابس، سویا بن ہاشم، خالد بن مالک، عطا بن حابس، ققطع بن معبد، وکیع بن، عینیہ بن حصن، یہ احمق آدمی تھا اس کی اطاعت کی جاتی تھی یہ سرداروں میں سے تھا جس کے پیچھے دس ہزار نیزے بردار ہوتے تھے اس کا نام حذیفہ تھا اسے عینیہ نام اس لئے دیا گیا کیونکہ اس کی ایک پلک دہری ہوئی تھی عبدالرزاق نے اسی عینیہ کے بارے میں کہا : یہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (اکلہف 28) سورة اعراف میں حضرت عمر ؓ کا قول گزر چکا ہے جو کافی و شافی ہے بخاری نے اس کا ذکر کیا ہے روایت بیان کی ہے کہ وہ دوپہر کے وقت حاضر ہوئے جبکہ رسول اللہ ﷺ سوئے ہوئے تھے وہ بلانے لگے : یا محمد : یا محمد : ہمارے طرف نکلئے رسول اللہ ﷺ بیدا ہوئے اور باہر تشریف لائے اور یہ آیت نازل ہوئی ؎ : رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا تو فرمایا :” یہ بنی تمیم کے سخت دل لوگ تھے اگر کانے دجال سے سب سے سخت لڑائی کرنے والے نہ ہوتے تو میں ان کی ہلاکت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا کہ وہ انہیں ہلاک کردے۔ “ (1)
حجرات، حجر کی جمع ہے اور حجریہ حجراہ کی جمع ہے پس حجرات کی جمع کی جمع ہے اس میں دو لغتیں ہیں جیم پر ضمہ اور اس پر فتحہ
حجرہ سے مراد زمین کا وہ حصہ ہے جسے ایسی دیوار سے لوگوں کو روک دیا گیا جو اس کا احاطہ کئے ہوئے ہو اونٹ کے باڑے کو بھی حجرہ کہتے ہیں یہ فعلتۃ کا وزن ہے جو مفعولہ کے معنی میں ہے ابو جفعر بن قعقاع نے پڑھا الحجرات یعنی جیم مفتوح ہے کیونکہ دونوں پے در پے ضمے ثقیل تھے اسے الحجرات بھی پڑھا گیا ہے یعنی جیم ساکن ہے تخفیفف کے لئے ہے اس کا معنی روکنا ہے جس چیز تک پہنچنے سے تو نے منع کردیا تو تو نے اس پر حجر کردیا پھر احتمال موجود ہے کہ منادی کل میں سے بعض ہوا اسی وجہ سے فرمایا : یعنی جو آپ کو آواز دیتے ہیں وہ ایسی قوم سے ہیں جن میں سے اکثر پر جہالت غالب ہے۔
Ayah 49:5یعنی اگر وہ آپ ﷺ کے باہر آنے کا انتظار کرتے تو یہ ان کی دنیا کے لئے موزوں ہوتا۔ نبی کریم ﷺ لوگوں سے حجاب نہ کرتے مگر چند اوقات میں جن میں ضرورت مصروف ہوتے ان اوقات میں آپ کو پریشان کرنا سوء اوبی ہوتی ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ بنو عنبر کے قیدیوں کی سفارش کے لئے آئے تھے رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے نصف کو آزاد کردیا اگر وہ صبر کرتے تو بغیر فدیہ کے آپ سب کو آزاد کردیتے۔
Ayah 49:6اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ کے حق میں نازل ہوء اس کا سبب وہ ہے جسے قتادہ سے روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ولید بن عقبہ کو بنی مطلق کے صدقات وصول کرنے والا بنا کر بھیجا جب بنی مطقطق نے اسے دیکھا تو استقبال کے لئے آگے بڑھے تو یہ ان سے خوفزدہ ہوگیا ایک روایت میں ہے یہ اس کینہ کی وجہ سے تھا جو ان کے اور بنی مصطلق کے درمیان تھا۔ وہ نبی کریم ﷺ کی طرف لوٹ آیا اس نے نبی کریم ﷺ کو خبر دی کہ وہ مرتد ہوگئے ہیں نبی کریم ﷺ نے حضرت خالد بن ولید کو بھیجا اور انہیں حکم دیا : کہ ”‘ وہ چھان بین کے حملہ میں جلدی نہ کرے ‘ حضرت خالد چلے جہاں تک کہ رات کے وقت ان کے پاس پہنچے آپ نے ان کی طرف اپنے جاسوس بھیجے جب جاسوس واپس آئے تو انہوں نے بتایا کہ وہ لوگ اسلام کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ ہیں انہوں نے ان کی آواز سنی اور انہیں نماز پڑھتے ہوئے دکھایا جب انہوں نے صبح کی تو حضرت خالد ان کے پاس آئے اور جاسوسوں نے جو کچھ ذکر کیا تھا وہ سب کچھ صحیح پایا حضرت خالد نبی کریم ﷺ کی طرف لوٹ آئے اور سب کچھ بتایا تو یہ آیت نازل ہوئی، نبی کریم ﷺ کہا کرتے تھے۔ ” آہستہ روی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور تیزی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے “ (1)
ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے بنی مصطلق کی طرف بھیجا جبکہ وہ اسلام قبول کرچکے تھے جب انہوں نے اس کے بارے میں سنا تو وہ اس کے استقبال کے لئے سواریوں پر نکلے وہ ان سے خوفزدہ ہوگیا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹ آیا اس نے بتایا کہ لوگوں نے اس کے قتل کا پروگرام بنایا ہے اور اپنے صدقات سے دینے سے انکار کعردیا ہے رسول اللہ ﷺ نے ان پر حملہ کا ارادہ کیا اسی اثناء میں ان کا وفد رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا عرض کی : یا رسول اللہ : ﷺ ہم نے آپ کے قاصد کے بارے میں سنا ہم نکلے تاکہ اس کی تعظیم بجا لائیں اور ہمارے ذمہ جو صدقات ہیں وہ اسے ادا کریں تو وہ واپس چلا گیا اور ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ وہ یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اسے قتل کرنے کے لئے نکلے ہیں اللہ کی قسم : ہم اس کے لئے نکلے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا تو ولید کو جھوٹا نام دیا گیا۔ ابن زید، مقاتل، اور سہل بن عبداللہ نے کہا : فاسق سے مراد کذاب ہے۔ ابو الحسن وراق نے کہا : جو اعلانیہ گناہ کرتا ہو، ابن طاہر نے کہا : جو اللہ تعالیٰ سے حیا نہ کرتا ہو۔ حمزہ اور کسائی نے پڑھا۔ یہ ثبت سے مشتق ہے باقی قراء نے پڑھا ہے۔ جو تبین سے مشتق ہے ان محل نصب میں ہے کیونکہ حرف جار حذف ہے یعنی خطا کے ساتھ یعنی جلدی کرنے اور آہستہ روی اخیار نہ کرنے پر تم شرمند ہوئے
مسئلہ نمبر 2:۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ جب روای عادل ہو تو ایک راوی کی خبر قبول ہوگی کین کہ فاسق کی خبر پر چھان بین کا حکم ہے جس کا فسق ثابت ہوا اس کا قول بالا جماع باطل ہوگا کیونکہ خبر امانت ہے اور فسق ایسا قرینہ ہے جو اسے باطل کردیتا ہے اجماع نے اس میں اسے مستنثی کیا ہے جو دعوی اور انکار سے متعلق ہو اور غیر پر حق ثابت کرتا ہو جیسے کوئی کہتا ہے اس کا قول قبول کیا جائے گا جب کوئی یہ کہے فلاں نے یہ امر نافذ کیا ہے کہ تیرے لئے ہدیہ ہے تو اسے قبول کیا جائے گا اسی طرح اس کی مثل میں کافر کی خبر قبول کی جائے گی جہاں تک اس کا بات کا تعلق ہے کہ کسی غیر میں کسی نئی چیز کو لازم کیا جائے گا تو امام شافعی اور دوسرے علماء کی رائے ہے وہ نکاح میں ولی نہیں ہوگا امام ابوحنیفہ اور امام مالک نے کہا : وہ ولی ہوگا کیونکہ اس کا جو کچھ ہے اس کا ولی ہے تو اس کے وضع کا بھی ولی ہوگا جس طرح عادل ہوتا ہے اگرچہ وہ دین کے معاملہ میں فاسق ہے مگر اس کی غیرت وافر ہے اسی کے ساتھ وہ اپنے حرم کی حفاظت کرتا ہے وہ مال خرچ کرتا ہے اور حرمت کی حفاظت کرتا ہے جب مال کا ولی ہے تو نکاح کا بدرجہ اولی ولی ہوگا۔
مسئلہ نمبر 3: ابن عربی نے کہا : تعجب کی بات یہ ہے (1) کہ امام شافعی اور ان کی مثل لوگ فاسق کی امامت جائز قرار دیتے ہیں جو آدمی مال کے حسبہ (معمولی مال) پر امانت دار نہیں بنایا جاسکتا وہ دین کے قنطار (بڑا خزانہ) پر امانت دار کیسے بنایا جاسکتا ہے یہ اس کے لئے ہے کہ آپ کے نزدیک اصول یہ ہے کہ والی جو لوگوں کو نماز پڑھاتے ہیں جب ان کے دین فاسد ہوجائیں اور ان کے پیچھے نماز کا ترک کرنا ممکن نہ ہو ان کو ہٹانے کی طاقت بھی نہ ہو تو ان کے ساتھ اور ان پیچھے نماز پڑھی جائے گی جس طرح عثمان نے کہا : لوگ جو عمل کرتے ہیں نماز ان میں سے بہترین ہے جب وہ اچھا عمل کریں تو تو بھی اچھا عکمل کریں اور جب وہ برا عمل کریں تو ان کی برائی سے اجتناب کر۔ پھر لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جب کوئی آدمی ان کے ساتھ پاک صاف ہو کر نماز پڑھتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے لئے نماز کا اعادہ کرتے ہیں اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اسے اپنی نماز بنا لیتے ہیں نماز کے اعادہ کے جو وب کے بارے میں کہتا ہو کسی کے لئے مناسب نہیں کہ آئمہ میں سے جس سے وہ راضی نہ ہو اس کے ساتھ نماز پڑھنے کو ترک کر دے بلکہ وہ خاموشی سے نماز کا اعادہ کرے کسی اور کسی کے سامنے اس کا ذکر نہ کرے
مسئلہ نمبر 5:۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس کا کسی غیر کا قاصد ہونا کہ وہ کسی قول کو پہنچائے یا کسی شے کو پہنچائے یا اسے آگاہ کرے جب وہ بھیجنے والے او جس کی طرف بھیجا گیا ہے اس کے حق سے باہر نہ رکھے اگر اس کے ساتھ کسی اور کا حق متعلق ہو تو اس کا قول قبول نہ کیا جائے گا (2) یہ اس ضرورت کی وجہ سے جائز ہے جو اس کا سبب بنتی ہے اگر لوگوں کے درمیان صرف عادل آدمی ہی ان امور کی سرانجام دیں تو کوئی امر حاصل ہی نہ ہو سکے کیونکہ وہ اس صف سے خالی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 6: اس میں آدمی کے قول کا فاسد ظاہر ہوجاتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ تمام مسلمان عادل ہیں یہاں تک کہ ان کا جرم ثابت ہوجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قبول کرنے سے قبل چھان بین کا حکم دیا ہے حکم کے نافذ کرنے کے بعد چھان بین کرنے کا کوئی مطلب نہیں اگر حاکم چھان بین سے پہلے فیصلے کردے تو اس نے محکوم علیہ پر جہالت کے ساتھ معاملہ کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 7: اگر وہ ظن غالب کی بناء پر فیصلہ کرے تو یہ جہالت پر عمل نہ ہوگا جس طرح دو عادل گواہوں کی بناء پر فیصلہ کیا جاتا ہے اور مجتہد کے قول کو قبول کیا جاتا ہے جہالت پر عمل اس وقت ہوگا جب اس آدمی کا قول قبول کیا جائے گا جب اس کا قول قبول کرنے سے ظن غالب حاصل نہ ہو۔
اس مسئلہ کو قشیری نے اور اس سے قبل کے مسئلہ کو مہدوی نے ذکر کیا ہے۔
Ayahs 49:7–8جان لو کہ تم میں اللہ کا رسول ہے تو تم اس کو نہ جھٹلائو اللہ تعالیٰ اسے تمہاری خبریں بتا دے گا۔ کہ تم ذلیل و رسوا ہو جائو گے
اگر معاملہ ظاہر ہونے سے پہلے اس امر کی طرف جلدی کرے جس کا تم ارادہ کرو تو تمہارے لئے اس میں مشقت اور گناہ ہوگا کیونکہ اگر آپ اس قوم کو قتل کریں جس کی چغلی ولید بن عقبہ نے کھائی ہے تو وہ خطا ہوگی جو آدمی باہمی دشمنی کی وجہ سے انہیں ہلاک کرنے کا ارادہ کرنے کا ارادہ کرتا تو وہ گناہ گار ہوتا رسول اللہ ﷺ کی ان کی اطاعت سے مراد یہ ہے کہ آپ ان کی وہ بات مان لیں جو وہ لوگوں کے بارے میں آپ کو پہنچاتے ہیں یا ان سے سنتے ہیں عنت کا معنی گناہ ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے عنت الرحجل آدمی نے گناہ کیا عنت کا معنی فجور اور زنا بھی ہے جس طرح سورة نساء میں ہے عنت کا معنی مشکل امر میں جا پڑنا ہے سورة براۃ میں عنتم کے ضمن میں اس بارے میں زیادہ گفتگو گزر چکی ہے۔
یہ مخلص مومنوں کو خطاب ہے جو نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں جھوٹ نہیں بولتے اور باطل خبریں نہیں دیتے یعنی اللہ تعالیٰ نے ایمان کو ان کا پسندیدہ ترین امر بنا دیا ہے۔
االلہ تعالیٰ نے اپنی توفیق سے اسے تمہارے دلوں میں مزین کردیا ہے یہاں تک کہ تم نے اسے پسند کیا اس آیت میں قدریہ اور امامیہ وغیرہ کا رد ہے جس طرح پہلے کئی دفعہ گزر چکا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات تمام مخلوقات کی ذاتوں ان کے افعال، صفات ازبانوں اور رنگوں کی تخلیق میں منفرد ویکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس (فسوق) سے مراد خاص طور پر جھوٹ ہے (1) یہ ابن زید کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مراد ہر وہ عمل ہے جس میں اطاعت کا پہلو نہ ہو۔ یہ فسقت الرطبۃ سے مشتق ہے جو اپنے چھلکے سے باہر آجائے او چوہیا بل سے باہر آجائے سورة بقرہ میں اس بارے میں گفتگو مفصل گزر چکی ہے عصیان یہ معاصی کی جمع ہے پھر کلام خطاب سے خبر کی منتقل ہوگیا فرمایا : یعنی وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اللہ تعالیٰ نے ان میں ایمان کی محبت رکھ دی اور کفر کو ان کے کے لئے ناپسندیدہ بنایا یعنی اسے ان کے ہاں قبیح بنا دیا یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف ہے (الروم)
نابغہ نے کہا :
الرشد سے مراد سختی کے ساتھ حق کے راستہ پر استقامت کا مظاہرہ رنا ہے یہ رشاد سے مشتق ہے جس کا معنی چٹان ہے
ابو وازع نے کہا : ہر چٹان رشاد ہے شاعر نے اس سے چٹان مراد لی ہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ تمہارے ساتھ فضل و احسان کے طور پر کیا ہے مراد فضل و نعمت ہے یہ آپ کے لئے کردیا گیا ہے جو تمہارے حق میں بہتر ہے اسے جانتا ہے اور تمہاری تدبیر کے بارے میں حکمت والا ہے۔