49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 49:1–10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے پیغمبر (کی اجازت) سے پہلے تم سبقت نہ کیا کرو (بولا نہ کرو) اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ سننے والے جاننے والے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کیا کرو اور نہ ان سے ایسے کھل کر بات کیا کرو جیسے آپس میں کھل کر (بےتکلفی سے) بات کرتے ہو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کے پیغمبر کے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں ، اللہ نے ان کے دل پرہیزگاری کے لئے آزما لئے ہیں ان کے لئے بخشش ہے اور بہت بڑا صلہ ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

بیشک جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں ، ان میں اکثر کو عقل نہیں

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود ان کے پاس باہر تشریف لے آتے تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا اور اللہ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر کوئی بدکار تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلیا کرو کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی نقصان نہ پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پچھتانا پڑے

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تم میں اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں۔ اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہنا مانیں تو تم کو نقصان پہنچے و لیکن اللہ نے تمہارے لئے ایمان کو محبوب بنادیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو نفرت دے دی۔ یہی لوگ درست راستے پر ہیں

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

اللہ کی مہربانی اور احسان سے۔ اور اللہ جاننے والے حکمت والے ہیں

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر ایمان والوں میں سے دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں (انصاف کے ساتھ) صلح کرادو۔ پھر اگر ان میں سے ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو اس فریق سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع ہوجائے۔ پھر اگر رجوع ہوجائے تو ان دونوں میں عدل کے ساتھ صلح کرادو اور انصاف کا خیال رکھو بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

بیشک ایمان والے تو سب بھائی ہیں سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان اصلاح کردیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ نیز اصلاح عالم کی جہاد کی غرض یہی ہے کہ پہلے اصلاح نفس کی ضرورت ہے جس کی بنیاد ادب واحترام نبوی پر ہے چہ جائیکہ کوئی اطاعت وغلامی میں پس وپیش کرے۔ حد ادب یہ ہے کہ کبھی کسی کام میں یا کسی بات میں رسول اللہ پر سبقت نہ کیا کرو کہ یہ ایسے ہے جیسے اللہ کی ذات پر کسی نے سبقت کی کہ آپ کا ارشاد ہی اللہ کا ارشاد ہے اور اس معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے ۔ اصلاح نفس کی بنیاد ادب ہے بارگاہ نبوی میں اس کی ضرورت قرآن نے بتادی علماء مشائخ وارث نبوت ہو کر ادب کے مستحق ہیں۔ نیز اپنی آواز کو پست رکھا کرو اور کبھی بھی نبی کریم کی آواز سے بلندآواز میں بات نہ کرو نہ ہی آپ ﷺ سے کھل کر بات کیا کرو جیسے تم لوگ آپس میں بےتکلفی سے کھل کر بات کرلیتے ہو ایسا نہ ہو کہ تمہارے سب اعمال برباد ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو یہاں بعض حضرات نے یوں فرمایا ہے بےارادہ آواز بلند کرے اور اس کا پتہ بھی نہ چلے مگر وہ اعمال کی بربادی کا سبب بن جائے چونکہ برکات نبوی حقیقی اور علماء حق سے نیز نور قلبی اور کیفیات روحانی مشائخ کے واسطے سے پہنچتی ہیں تو ان کا ادب بھی ایسے ہی کیا جائے گا جہاں تک اعمال کے ضائع ہونے کا تعلق ہے تو حبط عمل تو اہل سنت کے نزدیک کفر سے ہوتا ہے اور کفر اختیاری فعل ہے جب تک کوئی جان بوجھ کر اختیار نہ کرے کافر نہ ہوگا ، جیسے ایمان بھی اختیاری ہے کہ اپنی مرضی سے قبول نہ کرے تو مسلمان نہیں ہوسکتا اس کا حل مولانااشرف علی تھانوی نے اس طرح فرمایا ہے کہ آپ پر پیش قدمی یا بےمحابابات چیت شان رسالت میں گستاخی اور بےادبی ہے اور ایذائے رسول کا سبب ہوسکتی ہے اگر قصدا نہ بھی ہو تو بھی ایذا اور بےادبی کا احتمال ہے لہذا اسے ممنوع قرار دیا کہ یہ ایسی معصیت ہے جو توفیق عمل سبب کرلیتی ہے اور بندہ گناہوں میں پھنس کر کفر تک جاپہنچتا ہے ۔ مفتی محمد شفیع مرحوم معارف القرآن میں فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اگر کسی نے کسی صالح بزرگ کو اپنا مرشد بنایا ہو تو اس کے ساتھ بےگستاخی یا بےادبی کا یہی حال ہے کہ سلب توفیق کا سبب بن کر انجام کار متاع ایمان کو ضائع کردیتی ہے اور ایسے لوگ جو بارگاہ نبوی میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں یہ ایسے لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقوی کے لیے خاص کردیا ہے ۔ ان کے قلوب میں کوئی ایسی بات آتی ہی نہیں جو خلاف تقوی ہو ایسے لوگوں کے لیے اللہ کی بخشش اور اجر عظیم ہے۔ روضہ اطہر پہ یہی ادب شرط ہے۔ علماء حق کا ارشاد ہے کہ آپ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی وہی تعظیم واجب ہے جو حیات دنیا میں تھی اور روضہ اطہر کے سامنے بھی بلندآواز سے سلام و کلام خلاف ادب ہے یا جس طرح آپ کی احادیث پڑھی جارہی ہوں تو وہاں بھی شوروشغب ممنوع ہے اور بےادبی ہے اسی طرح اکابر علماء کی مجلس میں ادب سے بات کی جائے اور شوروشغب ممنوع ہے اور جو لوگ آپ کو حجرات مبارکہ کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں کی اکثریت عقل مند نہیں ہے۔ یہ بنوتمیم کے کچھ لوگ جو دیہات سے آئے تھے اور واپس اموال واموشی کے پاس جانے کی جلدی میں تھے انہوں نے آپ کو حجرہ مبارک کے باہر سے آواز دی۔ حجرات مبارکہ۔ امہات المومنین کے حجرات کھجور کی شاخوں کے چھت سے بنے ہوئے تھے اور دروازوں پر سیاہ رنگ کے موٹی اون کے پردے پڑے ہوئے تھے روضہ اقدس ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا حجرہ مبارک تھا ، دوسرے متصل محراب کی طرف تھے ۔ حضرت داؤد بن قیس سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ میں نے ا ن کی زیارت کی تھی کہ باہر کے دروازے سے کمرہ تک کا فاصلہ چھ سات ہاتھ یعنی نودس فٹ کا ہوگا اور حجرہ مبارکہ کا کمرہ دس ہاتھ یعنی تقریبا پندرہ فٹ کا اور اونچائی سات آٹھ ہاتھ ہوگی۔ یہ حجرات مقدسہ ولید بن عبدالملک کے حکم سے مسجد نبوی میں شامل کردیے گئے۔ اگر وہ پکارنے والے صبر کرتے یہاں تک کہ آپ ان کی بات سننے کے لیے باہر تشریف لاتے تب اپنی گذارش پیش کرتے تو ان کے لیے باعث خیر ہوتا یہاں حتی تخرج الیھم سے مراد ہے کہ آپ ان کی طرف متوجہ ہوتے تب وگرنی اگر کسی اور غرض سے باہر تشریف لاتے بھی تو پکار کر اپنی طرف متوجہ کرنا درست نہ ہوتا۔ یہ چونکہ دین حاصل کرنے آئے تھے مخلص مسلمان تھے اور دیہاتی ہونے کے باعث آداب سے ناواقف لہذا نہیں فرمادیا کہ اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ مگر ان کی سادگی بھی ساری انسانیت کے لیے بارگاہ رسالت کے آداب بیان کرنے کا سبب بن کر باعث رحمت بن گئی۔ نیز مسلمانوں کو کسی شریر آدمی کی اطلاع پر بھروسہ بھی نہ کرنا چاہیے ، جو خواہ مخواہ آپ کی توہین یا آپ کی اطاعت سے انکار کی شکایت کرے تو اس خبر کی تحقیق کرلی جائے ایسا نہ ہو کہ غلطی سے کسی کو نقصان پہنچادو اور پھر اپنے کیے پر ندامت ہو۔ قبیلہ بنی المصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار جن کی صاحبزادی حضرت میمونہ امہات المومنین میں سے تھیں خدمت عالی میں حاضر ہو کر ایمان لائے اور قبیلہ کو بھی مسلمان کرنے اور ادائے زکوۃ کا حکم پہنچانے کی اجازت حاصل کی اور عرض کیا کہ فلاں وقت آپ اپنا قاصد روانہ فرمادیں جو وصول کرکے لے آئے گا۔ آپ ﷺ نے وقت مقررہ پر جس صحابی کو قاصد کے طور پر روانہ فرمایا ان کی پہلے اس قبیلہ سے دشمنی تھی وہ قاصد جان کر استقبال کو نکلے یہ سمجھے مجھے مارنے آرہے ہیں چناچہ پلٹ گئے اور شکایت کی ، آپ ﷺ نے حضرت خالد بن ولید کی سرکردگی میں فوج کا دستہ روانہ فرمایا مگر وہ قبیلہ والے راہی مدینہ تھے چناچہ سب مل کرلوٹے اور بارگاہ عالی میں حاضر ہوکر غلط فہمی کا ازالہ کیا۔ فاسق کی شہادت۔ اس آیت سے علماء نے ثابت فرمایا ہے کہ فاسق کی خبر پر عمل درست نہیں جب تک دوسرے ذرائع سے اس کی تحقیق نہ ہوجائے تو فاسق کی شہادت ہرگز قبول نہ ہوگی ۔ تفصیل کتب فقہ میں ہے کہ بعض عام خبروں میں قابل قبول ہے جیسے یہ بتائے کہ یہ ہدیہ فلاں نے بھیجا ہے مگر اہم امور میں جیسے یہاں جنگ کا اندیشہ ہے جائز نہیں۔ موجودہ ووٹ کی صورت۔ موجودہ ووٹ کی صورت بھی ایسی شہادت کی ہے جس سے حکومتیں بنتی ہیں اور ملکوں کی قسمتوں کے فیصلے کرتی ہیں کاش یہ اصول بھی یہاں اپنایاجائے جس کا اپنایاجانا شرعا ضروری ہے۔ عدالت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ یہ خبر جس پر ساری غلط فہمی کا مدار تھا ایک صحابی نے دی تو کیا ان سے بھی فسق ہوا جبکہ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ سب کے سب عادل ہیں۔ علماء اہل سنت کا صحابہ کے بارے میں یہ عقیدہ ہے کہ وہ معصوم نہیں ان سے گناہ سرزد ہوسکتا ہے ان پر شرعی سزا بھی جاری ہوگی مگر نصوص قرآن وسنت کی بنا پر کوئی صحابی ایسا نہیں جو گناہ سے توبہ کرکے پاک نہ ہوگیا ہو اور جن محدوے چند حضرات سے خطا ہوئی تو ان کی توبہ مثالی ہے اور اللہ کا ارشاد ہے ، رضی اللہ عنھم ورضواعنہ۔ شاہد ہے کہ رضائے الٰہی گناہوں کی معافی پر اور خاتمہ ایمان اور رضائے حق پر تب ہی حاصل ہوسکتی ہے نیز صحابیت کا شرف عام ہے کسی کو زیادہ مدت یہ سعادت نصیب رہی یا کوئی لمحہ نصیب ہواسب صحابی ہیں۔ اور یاد رکھو کہ تمہارے اندر رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہیں اس نعمت عظمی کا شکر ان کی غلامی کرکے ادا ہوسکتا ہے یہ نہ سوچا کرو کہ اپنی بات پیش کریں کہ اگر آپ تم لوگوں کی باتوں پہ چلیں تو بہت مشکل پڑے گی اور تمہارے لی باعث مضرت ہوگی جبکہ تمہارا آپ کی رائے پہ چلنا حصول رحمت کا باعث ہے ۔ مقام صحابہ۔ لہذا اطاعت رسول کے لیے اپنی رائے ختم کردو کہ شرف محبت رسول کے باعث اللہ نے تمہیں وہ عظمت عطا کی کہ تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال دی اور اسے تمہارے دلوں میں پیوست کردیا کہ صحابہ اجمعین ہی محبت وعشق کی کامل مثال ہیں اور کفر یا گناہ ونافرمانی کے لیے تمہارے دلوں میں نفرت پیدا کردی جس کے نتیجے میں تم ہر آن رسول اللہ کی خوشنودی کی جستجو میں رہتے ہو اور یہی مثال لوگ ہیں جو اللہ کریم کے کرم سے راہ راست پر ہیں کہ یہ راستی ان پر اللہ کا انعام ہے اور اس کی بہت بڑی نعمت ۔ آج بھی آپ ہی کی شریعت اور احکامات و ارشادات موجود ہیں اور نبوت آپ ہی کی ہے آج بھی وہی درجہ اطاعت مطلوب ہے جو صحابہ کرام سے تھا۔ اور یہ جو آپ کے صحابہ کی عظمت کی خبر یہ اللہ نے دی ہے جو ہر بات سے واقف اور حکیم ودانا ہے۔ اگر مسلمانوں کے دو گروہوں میں تصادم ہوجائے تو ان کے درمیان اصلاح کی کوشش کرو اور صلح کرادی جائے اگر ان سے کوئی ایک دوسرے پر زیادتی سے باز نہ آئے تو اس سے لڑو تاآنکہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع ہوا اور صلح پر آمادہ ہوجائے تو ان کے درمیان جو بات جنگ کا باعث بنی ہو اس کو شرعی طریقے سے اور انصاف سے طے کردو تاکہ آئندہ جھگڑے کا خطرہ نہ رہے اور اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور باہمی صلح اور انصاف کا حکم اس لیے ہے کہ تمام مسلمان ایکد وسرے کے بھائی ہیں اور یہ معنوی رشتہ دنیا کے رشتہ سے مضبوط تر ہے لہذا بھائیوں کے درمیان صلح ہی زیب دیتی ہے لہذا صلح کردیا کرو اور تمام معاملات میں جنگ کے ہوں یاصلح کے اللہ سے ڈرتے رہا کرو وہ تم پر رحم کرے اور درست فیصلہ کرنے کی توفیق بخشے۔ مشاجرات صحابہ۔ علماء حق کا ارشاد ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کی آپس میں تمام جنگوں کو شامل ہے خصوصا صحابہ کرام کی آپس کی آویزش کہ اگر قتال بھی ہواتوسب نے پورے خلوص کے ساتھ اجتہاد سے کام لیا اور سب کا مقصد رضائے الٰہی تھا لہذا بعدوالوں کو ان پر تنقید کرنے کا حق حاصل نہیں بلکہ ہمیشہ ان کا ذکر بہترین انداز میں کرنا ضروری ہے اس پر قرآن گواہ ہے اور بہت سی احادیث موجود ہیں تفاسیر میں اس پر بہت تفصیل سے لکھا گیا ہے۔
Ayahs 49:11–18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے شاید کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور ایک دوسرے کو طعنہ نہ دو اور نہ ایک دوسرے کو خراب نام سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے۔ اور جو باز نہ آئیں گے تو وہی ظلم کرنے والے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچا کرو بیشک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور (ایک دوسرے کا) تجسس نہ کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کیا کرو۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ؟ تو اس سے تم نفرت کرو گے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ توبہ قبول فرمانے والے مہربان ہیں

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

اے لوگو ! بیشک ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا فرمایا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنایا تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بیشک اللہ جاننے والے خبر رکھنے والے ہیں۔

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

یہ گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ آپ فرمادیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لاؤ، لیکن یوں کہو کہ ہم (مخالفت چھوڑ کر) مطیع ہوگئے۔ اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرو تو وہ (اللہ) تمہارے اعمال میں ذرا بھی کمی نہ کریں گے۔ بیشک اللہ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

درحقیقت ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، یہی لوگ سچے ہیں

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ کیا تم اللہ کو اپنے دین کی خبر دیتے ہو حالانکہ اللہ کو تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کی خبر ہے۔ اور اللہ سب چیزوں کو جانتے ہیں

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں۔ فرمادیجئے کہ مجھ پر اپنے اسلام لانے کا احسان نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی راہ دکھائی اگر تم سچے ہو تو

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتے ہیں اور اللہ تمہارے سب اعمال کو بھی دیکھ رہے ہیں

آیات 11 تا 18۔ اسرار ومعارف۔ اے ایمان والو ! ایسی صورتون سے بچوجولڑائی کا سبب بنتی ہیں جیسے کوئی گروہ کسی دوسری جماعت کا مذاق نہ اڑائے کہ کیا خبر اللہ کریم کے نزدیک وہ لوگ ان سے بہتر ہوں ایسے ہی مسلمان خواتین کو بھی بات کرنے میں احتیاط لازم ہے اور دوسری خواتین کے بارے تحقیر کا انداز اختیار نہ کرنا چاہیے کیا خبر اللہ کریم انہیں ان مذاق کرنے والوں سے زیادہ محبوب رکھتا ہو اور ایک دوسرے کی نکتہ چینیاں نہ کیا کرو یہی بات نفرت کا سبب بن کر ایک دوسرے سے دور کردیتی ہے نہ ہی ایک دوسرے کو ناپسندیدہ ناموں سے پکارو۔ یہ بات اس قدر اہم ہے کہ قرآن کریم نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ حکم دیا ہے کہ جبکہ آج کل اس کی پرواہ نہیں کی جاتی جو نفرتوں کو بڑھانے کا سبب بن رہی ہے کہ ایمان لانے کے بعد گناہ کی بات بہت بری ہے جیسے لوگ کہیں کہ فلاں مسلمان لوگوں کے نام بگاڑتا ہے یاتمسخر اڑاتا ہے تو یہ زیب نہیں دیتا اور اگر کوئی ان حرکات سے باز نہ آئے اور باوجود مسلمان ہونے کے یہ حرکات اختیار کیے رکھے تو وہ ظلم کررہا ہے یعنی اس کے ساتھ وہ معاملہ ہوگا جو ظلم کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے اسی طرح بدگمانی بھی بہت بری بات ہے جو ایمان والوں کو زیب نہیں دیتی اور بعض گمان تو بہت بڑا گناہ ہوتے ہیں لہذا بلادلیل کسی مسلمان کے خلاف براگمان رکھنا حرام ہے۔ اور خواہ مخواہ دوسروں کے عیوب تلاش نہ کرتے پھرو کہ جو بات ظاہر ہے تم اس کے مکلف ہو اس پر عمل کرو اپناوقت دوسروں کی عیب جوئی میں برباد نہ کرو اور نہ ہی کسی کو پیٹھ پیچھے برا کہا کرو کہ غیت کرنا ایسا ہے جیسے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت نوچ نوچ کر کھارہا ہو اور یہ بات تمہیں کس قدر ناگوار لگتی ہے یہی حال غیبت کا ہے جیسے مردے کو گوشت نوچنے کی تکلیف نہیں مگر اس کی ہڈیاں ننگی ہورہی ہیں اور نوچنے والا کتنا نفرت انگیز کام کررہا ہے ایسے ہی غائب کو خبر نہیں مگر غیب کرنے والا اس کا پردہ نوچ نوچ کر اندر کی اشیاء یاس کی پوشیدہ باتیں ظاہر کررہا ہے لہذا اس سے توبہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو یقینا اللہ توبہ کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ مختصرا غیبت کے مسائل۔ کسی کی پیٹھ پیچھے برائی کرنا غیبت ہے اور اگر اس میں وہ برائی نہ ہوتوبہتان ہوگالہذا اگر کسی کی غیبت کی جائے تو اگر اسے علم نہیں ہوا تو جس کے سامنے کی گئی اس کے سامنے غلطی کا اعتراف کرے اور اگر اسے علم ہوگیا ہو تو اس سے بھی معاف کرائے۔ اسی طرح بچے کافر ذمی اور مجنون کی غیبت بھی حرام ہے۔ نیز زبان سے ہو یا اشارہ کرکے سب حرام ہے ہاں چندصورتیں استثنی کی ہے جیسے کسی برائی پھیلنے کا اندیشہ ہوتولوگوں کو اس کے شر سے بچانے کے لیے آگاہ کیا جائے یا کسی ایسے شخص یا ادارے کو آگاہ کرنا جو اس کی اصلاح کرسکے جائز ہوگا غرض مقصد محض اس کی تحقیر نہ ہو اصلاح ہو۔ اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک خاتون سے پیدا فرمایا اور تمہارے مختلف کنبے اور قبیلے بنادیے کہ تمہاری پہچان ہوجائے اور بس جہاں تک عزت وشرف کا تعلق ہے تو اللہ کے نزدیک تم میں سے بڑا شریف وہ ہے جو بڑا پرہیزگار ہے اور پرہیزگاری ایساوصف ہے جسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے بندوں کے پاس کوئی پیمانہ نہیں لہذا سب افراد کی حسب مراتب عزت کیا کرو کہ اللہ علم رکھنے والاباخبر ہے وہ سب کو خوب جانتا ہے ۔ مدینہ منورہ میں ریاست کے قیام سے لوگوں کے دنیاوی مفادات وابستہ ہوگئے تودیہات سے آنے والے لوگوں نے بظاہر اطاعت اختیار کرلی عبادت بھی کرلیتے مگر ذاتی فائدے کے لیے کہ تصدیق قلبی نصیب نہ ہوئی تھی مگر بارگاہ نبوت میں اپنے مومن ہونے کا تذکرہ ایسے انداز میں کیا جیسے بڑا احسان کیا ہو تو ارشاد ہوا کہ ان سے فرمادیجئے تم ایمان نہیں لائے ہاں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہو تم نے اطاعت اختیار کرلی اور تسلیم کرلیا حالانکہ ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرکے خلوص دل سے ایمان قبول کرلوتوتب تمہارے یہ اعمال جو محض نقل تھے اللہ انہیں بھی قبول فرما کر ضائع نہ کرے گا اور تمہیں کوئی نقصان نہ ہوگا کہ اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ ایمان واسلام کیا الگ شے ہیں ؟۔ اسلام اور ایمان اصطلاح شریعت میں ایک ہی شے ہے کہ اسلام سے مراد تسلیم کرکے تصدیق قلبی تک یعنی اعمال میں اتباع سے شروع ہو کر تصدیق قلبی تک جانا مراد ہے جبکہ ایمان میں تصدیق قلبی حاصل کرکے اتباع اختیار کرنا ہے دونوں ایک ہی شے ہیں مگر لغت کے اعتبار سے معانی الگ ہیں جیسے منافقین بظاہر اطاعت کرتے تھے دل میں ایمان نہ تھا۔ مسلمان توکہلاتے تھے مگر علم الٰہی میں مومن نہ تھے اور مومن کون لوگ ہیں ان کی صفات یہ ہیں کہ انہوں نے جب اللہ اور رسول پر ایمان قبول کرلیا تو زندگی بھر کبھی اس میں شک نہیں کیا ، بلکہ ہمیشہ کے لیے اس پر جم گئے اور اپنی جان کو اپنا سمجھا نہ مال کو اپنا جانا بلکہ جان ومال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ایسے لوگ کھرے ہیں اپنے ایمان میں مگر تم کو فائدہ اٹھانے کے لیے اطاعت کا دعوی رکھتے اور اللہ کی راہ میں کچھ دینے کے لیے تیار نہیں نہ جہاد کا نام لینے کے لیے تیار ہو اپنے دعوے میں کھرے نہیں ہو۔ یہ کیسادین ہے جو تم اللہ کریم کو بتانا چاہ رہے ہو کہ ہم بڑے پارسا ہیں کہ ایسا دین اس نے تو نہیں اتارا اور تم کوئی نئی بات بتانے کی دوسری گستاخی نہ کرو کہ اللہ آسمانوں اور زمین کی سب باتوں کو جانتا ہے اور وہ ہر شے سے باخبر ہے۔ یہ بیوقوف گویا اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان دھرتے ہیں۔ آپ فرمادیجئے کہ مجھ پر احسان نہ کرو کہ تمہارے مسلمان ہونے سے تمہارا فائدہ ہے اور اگر نہ ہوگے تو خود تباہ ہوجاؤ گے بلکہ اگر تم اپنے دعوائے اسلام میں سچے ہو اور تم نے دل سے ایمان قبول کرلیا ہے تو یہ تم پر اللہ کا احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اور یاد رکھو کہ اللہ آسمانوں اور زمینوں کی سب پوشیدہ باتیں جانتا ہے لہذا جو تمہارے دل میں ہے وہ اللہ کریم کو خوب خبر ہے اور جو تم عمل کرتے ہو اسے بھی اللہ دیکھ رہا ہے۔