49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsاحکام القرآن

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

مومنو ! (کسی بات کے جواب میں) خدا اور اسکے رسول سے پہلے نہ بول اٹھا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک خدا سنتا جانتا ہے

#Deleted
Ayahs 49:2–5

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

جو لوگ پیغمبر خدا کے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں خدا نے ان کے دل تقوے کے لئے آزما لیے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں اکثر بےعقل ہیں

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ تم خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

حضور ﷺ کی تعظیم ضروری ہے قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ۔ اے ایمان لانے والو ! اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کیا کرو) اس میں حضور ﷺ کی تعظیم کرنے اور اپٓ کی توقیر بجا لانے کا حکم ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (لسومنوا باللہ ورسولہ وتعزروہ وتوقروہ ۔ تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو، اس کی مدد کرو اور اس کی توقیر بجا لائو) ایک روایت کے مطابق آیت کا نزول ان لوگوں کے بارے میں ہوا تھا جن کی عادت یہ تھی کہ جب وہ حضور ﷺ سے کوئی بات پوچھی جاتی تو اس کے متعلق آپ سے پہلے ہی بول اٹھتے تھے۔ نیز ایک شخص کے بولنے کے دوران اگر آواز بلند کی جائے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ متکلم کی ہیبت نظر انداز ہوجاتی ہے اور اس کے سامنے ایک قسم کی جرات کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے سامنے ہمیں اس طریق کار سے روک دیا کیونکہ ہمیں آپ کی تعظیم کرنے، آپ کی توقیر بجا لانے اور آپ کی ہیبت کو قائم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قول باری ہے (ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض۔ اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسے آپس میں کھل کر بولا کرتے ہو) آیت میں آواز بلند کرنے سے زائد بات کہی گئی ہے۔ وہ اس طرح کہ ہمیں حضور ﷺ کے ساتھ ہماری آپس جیسی مخاطبت سے روک دیا گیا ہے اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم جب آپ سے ہم کلام ہوں تو ہماری گفتگو کے انداز میں آپ کی تعظیم کا ایسا رنگ جھلکنا چاہیے جس کی بنا پر یہ دوسری تمام گفتگوئوں سے نمایاں نظر آئے جو ہم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (لا تجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا۔ تم رسول کے بلاوے کو ایسا مت سمجھو جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلا لیتے ہو) اسی طرح قول باری ہے (ان الذین ینادونک من وراء الحجرات اکثرھم لا یعقلون۔ بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے) ایک روایت کے مطابق اس آیت کا نزول بنو تمیم کے ایک گروہ کے سلسلے میں ہوا تھا جو آپ کی خدمت میں آیا تھا۔ آتے ہی ان لوگوں نے حجرے کے باہر سے آوازیں دینی شروع کردیں۔ ” محمد (ﷺ) ہمارے پاس باہر آئو۔ “ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کرکے ان لوگوں کے طرز عمل کی مذمت فرمائی۔ ان آیات کا نزول حضور ﷺ کی تعظیم بجا لانے اور گفتگو وغیرہ میں دوسرے تمام لوگوں سے آپ کو ممتاز رکھنے کے ایجاب کے سلسلے میں ہوا ہے۔ حضور ﷺ کی تعظیم کے ضمن میں والدین، استاذ، علماء، بزرگ سب آجاتے ہیں تاہم اس آیت کے ذریعے ہمیں ان لوگوں کی تعظیم بجا لانے کی بھی تعلیم دی گئی ہے جن کی تعظیم ہم پر واجب ہے۔ مثلاً باپ، استاد، عالعم دین ، عابد وزاہد، امرونہی کرنے والا نیز نیکی وتقویٰ رکھنے والا اور بڑی عمر کا انسان وغیرہ۔ ان لوگوں کی تعظیم بجا لانا بھی ہمارے لئے ضروری ہے ، مثلاً ان کے سامنے آواز اونچی نہ کی جائے، ان سے کھل کر بےتکلفانہ انداز میں گفتگو نہ کی جائے۔ بلکہ ان کی حیثیت ان تمام لوگوں سے نمایاں رکھی جائے جو ان کے مرتبہ اور مقام کے نہیں ہیں۔ نیز باہر سے کھڑے ہوکر انہیں آواز نہ دی جائے اور امر کے صیغے کے ساتھ انہیں خطاب نہ کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بنو تمیم کے گروہ کی اس لئے مذمت کی تھی کہ انہوں نے حضور ﷺ کو حجرے کے باہر سے آواز دیتے ہوئے کہا تھا ” اخرج علینا “ (ہمارے پاس باہر آئو) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے زہری سے کہ حضرت ثابت بن قیس ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : ” اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ کہیں میں بربادنہ ہوجائوں۔ اللہ تعالیٰ نے آیت (لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی) نازل فرما کر ہمیں آپ کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے کی ممانعت کردی ہے میں ایک جہیر الصوت (ایسا شخص جس کی آواز پیدائشی طور پر بہت اونچی ہو) انسان ہوں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے کسی ناکردہ فعل پر تعریف وستائش پسند کرنے سے بھی روک دیا ہے جبکہ مجھے دوسروں کی زبان سے اپنی تعریف بہت پسند ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ہمیں تکبر کرنے اور نازوانداز اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ جبکہ میری جمالیاتی حسن تیز ہے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ثابت ! کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہوگے کہ ایک قابل تعریف زندگی گزارنے کے بعد اللہ کے راستے میں شہید ہوجائو اور پھر جنت میں داخل ہوجائو۔ “ چناچہ ایسا ہی ہوا، انہوں نے بڑی اچھی زندگی گزاری اور مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔
Ayahs 49:6–8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

مومنو ! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تم میں خدا کے پیغمبر ہیں اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑجاؤ لیکن خدا نے تم کو ایمان عزیز بنادیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کردیا یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

(یعنی) خدا کے فضل اور احسان سے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

فاسق کی دی ہوئی خبر کا حکم قول باری ہے (یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق بنبا فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالۃ۔ اے ایمان لانے والو ! اگر فاسق شخص تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تم تحقیق کرلیا کرو ایسا نہ ہو کہ کہیں تم نادانی سے کسی قوم کو ضرر پہنچادو) تا آخر آیت۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی۔ انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے ولید ؓ بن عقبہ کو بنو المصطلق کی طرف بھیجا۔ ولید ؓ ان کے پاس پہنچے تو وہ لوگ انہیں خوش آمدید کہنے کے لئے باہر نکل آئے۔ یہ دیکھ کر ولید ؓ ڈر گئے اور واپس حضور ﷺ کے پاس آگئے اور آکر یہ بتایا کہ وہ لوگ تو مرتد ہوگئے ہیں۔ اس پر حضور ﷺ نے حضرت خالد بن الولید کو ان کی طرف بھیجا۔ حضرت خالد ؓ جب ان کے علاقے کے قریب پہنچے تو ان کے متعلق درست معلومات حاصل کرنے کی خاطر رات کے وقت کچھ آدمی ادھر بھیج دیے، ان آدمیوں نے جاکر دیکھا تو یہ لوگ باقاعدہ اذان دیتے اور نمازیں پڑھتے تھے، حضرت خالد ؓ کو جب حقیقت حال کا علم ہوگیا تو وہ اپنے آدمیوں سمیت ان کے پاس پہنچ گئے وہاں انہیں بھلائی نیز اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے سوا اور کوئی بات نظر نہ آئی۔ حضرت خالد ؓ نے واپس جاکر حضور ﷺ کو ان تمام باتوں سے آگاہ کیا۔ معمر کہتے ہیں کہ اس موقعہ پر قتادہ نے یہ آیت تلاوت کی (لو یطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ ان میں اگر وہ تمہارا کہنا مان لیں تو تم کو تکلیف پہنچے) پھر قتادہ اپنے مخاطبین کو کہنے لگے۔” تم لوگوں کی رائے تو اور زیادہ گری ہوئی اور تمہارے خیالات تو اور زیادہ بےوقعت ہیں۔ وہ لوگ یعنی صحابہ کرام تو ایسے تھے کہ اللہ کی کتاب سے نصیحت حاصل کرتے۔ “ حسن سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا۔” خدا کی قسم ! اگر آیت (وان جاء کم فاسق) کسی خاص شخص کے متعلق نازل ہوئی تھی تو بھی قیامت تک اس کا حکم باقی رہے گا اور کسی اور حکم کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کا مقتضیٰ یہ ہے کہ فاسق کی دی ہوگی خبر کو چھان بین کر ناواجب ہے ، اور تحقیق وتفتیش کے بغیر نیز اس کے مدلول کی صحت کا علم حاصل کیے بغیر اس خبر کو قبول کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ممانعت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آیت میں دو قرات ہیں (فتثبتوا) تثبت یعنی چھان بین کرنے کے معنی ادا کرتا ہے۔ دوسری قرات (فتبینوا) کی ہے۔ دونوں الفاظ خبر کی صحت کا علم حاصل کیے بغیر اسے قبول کرنے کی ممانعت کرتے ہیں۔ کیونکہ پہلی قرات کے لحاظ سے تثبت کا حکم دیا گیا ہے یعنی چھان بین کرلی جائے تاکہ نادانی کی وجہ سے کسی قوم کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ دوسری قرات کی بنا پر تبین کے معنی علم کے ہیں اس لئے آیت اس امر کی مقتضی ہوگی کہ فاسق کی دی ہوئی خبر پر اس کے متعلق معلومات حاصل کیے بغیر کوئی قدم اٹھانا جائز نہیں ہے۔ یہ چیز فاسق کی گواہی مطلقاً قبول نہ کرنے کی مقتضی ہے۔ کیونکہ لواہی خبر ہوتی ہے۔ اسی طرح فاسق کی دی ہوئی تمام خبروں کا یہی حکم ہوگا۔ اسی بنا پر ہم نے یہ کہا ہے کہ حقوق کے اندر فاسق کی کوئی گواہی قابل قبول نہیں ہوگی حضور ﷺ سے مروی روایات کے اندر فاسق کی خبر کا بھی یہی حکم ہے۔ نیز دین سے تعلق رکھنے والے ہر ایسے معاملے میں اس کی خبر کا یہی حکم ہوگا جس کے ذریعے کوئی شرعی حکم یا کسی انسان پر کوئی حق ثابت کیا گیا ہو۔ تاہم چند امور میں فاسق کی خبر قبول کرنے پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ معاملات کے اندر فاسق کی دی ہوئی خبر قبول کی جائے گی۔ مثلاً ہدیہ کے متعلق اگر فاسق یہ کہے کہ ” فلاں شخص نے یہ ہدیہ تمہارے لئے بھیجا ہے۔ “ تو اس کی خبر کو قبول کرتے ہوئے اس ہدیہ کو اپنے قبضے میں لے لینا جائز ہوگا۔ اسی طرح اگر وہ یہ کہے ” مجھے فلاں شخص نے اپنے اس غلام کو فروخت کرنے کے لئے وکیل بنایا ہے۔ “ تو اس غلام کی خریداری جائز ہوگی۔ اسی طرح کسی گھر میں داخل ہونے کی اجازت کے سلسلے میں اگر کوئی کہے کہ ” داخل ہوجائو “ تو اس کی یہ بات قبول کرلی جائے گی اور اس میں قائل کی عدالت یعنی فاسق نہ ہونے کی حالت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ یہی حکم معاملات سے تعلق والی تمام خبروں کا ہے۔ ان تمام امور میں غلام، ذمی اور بچے کی خبر بھی قبول کرلی جائے گی۔ حضور ﷺ نے اپنی لونڈی بریرہ ؓ کی اس خبر کو قبول کرلیا تھا کہ ” فلاں چیز مجھے بطور صدقہ دی گئی تھی اور اسے آپ کو بطور ہدیہ دیتی ہوں۔ “ حضور ﷺ نے اس موقعہ پر فرمایا تھا (ھی لھا صدقۃ ولنا ھدیۃ یہ چیز بریرہ کے لئے صدقہ اور ہمارے لئے ہدیہ ہے ) اس طرح حضور ﷺ نے بریرہ ؓ کی یہ خبر قبول کرلی تھی کہ یہ چیز اسے بطور صدقہ ملی تھی اور صدقہ کرنے والے کی ملکیت اب بریرہ ؓ کی طرف منتقل ہوگئی تھی۔ ایک اور صورت میں بھی فاسق کی بات اور اس کی گواہی قبول کرلی جاتی ہے۔ وہ یہ کہ فاسق کا فسق دین کی جہت سے کسی خاص مذہب اور مسلک کے اعتقاد پر مبنی ہو۔ یہ اہل اہواء فاسق کہلاتے ہیں اور ان کی گواہی قابل قبول ہوتی ہے۔ اہل اہواء کی گواہی اور احادیث کی روایت میں ان کی خبروں کو قبول کرنے کے معاملہ میں سلف کا بھی یہی طریق کار تھا۔ دینداری کی جہت سے ان کا فسق ان کی گواہی قبول کرنے میں مانع نہیں تھا۔ اہل ذمہ کی آپس میں ایک دوسرے پر گواہی بھی قابل قبول ہے۔ ہم نے اس کتاب کے پچھلے صفحات میں اس پر روشنی ڈالی ہے۔ غرض یہ تین صورتیں ہیں جن میں فاسق کی خبر قابل قبول ہے اور یہ صورتیں قول باری (ان جاء کم فاسق بنبا فتبینوا) سے ان دلائل کی بنا پر مستثنیٰ ہیں جو اس سلسلے میں قائم ہوچکی ہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آیت کی مراد کا تعلق گواہیوں ، حقوق کے اثبات یا احکام دین کے ایجاب سے ہے نیز فسق کی اس صورت سے ہے جو دین اور اعتقاد کی جہت سے نہ ہو۔ آیت میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ خبر واحد علم کی موجب نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ اگر کسی حالت میں بھی علم کی موجب ہوتی تو اس کی چھان بین کی ضرورت پیش نہ آتی۔ بعض لوگ اس سے ایک عادل آدمی کی خبر کو قبول کرلینے کے جواز استدلال کرتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ ایٓت میں فاسق کی دی ہوئی خبر کی چھان بین کی تخصیص کی گئی ہے اس لئے عادل انسان کی دی ہوئی خبر کی چھان بین درست نہیں ہے۔ لیکن یہ بات غلط ہے کیونکہ ایک چیز کا اگر تخصیص کے ساتھ ذکر کردیا جائے تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اس کے ماسوا چیزوں کا حکم لازماً اس کے خلاف ہوگا۔
Ayah 49:9

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے پس وہ رجوع لائے تو دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

باغیوں کے خلاف قتال کا بیان قول باری ہے (وان طائفتان من المومنین اقتتلوا فاصلحو ا بینھما۔ اور اگر اہل ایمان کے دو گروہ آپس میں برسرپیکار ہوجائیں تو ان کے درمیان اصلاح کرادو) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے حسن بصری سے کہ مسلمانوں کے کچھ افراد کے درمیان کوئی تنازعہ تھا جو سلجھ نہ سکا اور پھر یہ لوگ ہاتھا پابی اور جو تم پیزار پر اتر آئے، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی۔ معمر کہتے ہیں کہ قتادہ نے کہا ہے کہ دو شخصوں کے درمیان کسی حق کے سلسلے میں کوئی جھگڑا تھا۔ یہ دونوں اس کے متعلق ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔ پھر ایک نے کہا میں زبردستی اپنا حق لے لوں گا۔ اس نے یہ بات اس لئے کہی تھی کہ اس کے خاندان کے افراد کی تعداد زیادہ تھی۔ دوسرے نے اس کے جواب میں کہا کہ میرے اور تمہارے درمیان رسول اللہ ﷺ ہیں۔ تنازعہ بڑھ جانے پر یہ دونوں ہاتھا پائی اور جو تم پیزار پر اتر آئے۔ سعید بن جبیر اور شعبی سے مروی ہے کہ انہوں نے ڈنڈوں اور جوتوں سے ایک دوسرے کی پٹائی شروع کردی۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ اوس اور خزرج کے قبیلے تھے۔ ان کے درمیان ڈنڈوں سے لڑائی ہوئی تھی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت باغی گروہ کے خلاف جنگ کرنے کے امر کا مقتضی ہے حتیٰ کہ یہ اللہ کے حکم کی طرف آئے۔ آیت میں قتال کی تمام صورتوں کے لئے عموم ہے اگر باغی گروہ جوتوں اور ڈنڈوں کے ساتھ قتال کے ذریعے حق کی طرف لوٹ آئے تو اس صورت میں جوتوں اور ڈنڈوں سے بات آگے نہیں بڑھائی جائے گی۔ اگر وہ جوتوں اور ڈنڈں سے سیدھے نہ ہوں تو ان کے خلاف تلوار سے جنگ کی جائے گی۔ جیسا کہ ظاہر آیت اس چیز کو متضمن ہے۔ اگر باغی گروہ اپنی بغاوت پر ڈٹا رہے اور حق کی طرف رجوع نہ کرے تو اس صورت میں صرف ڈنڈوں پر اکتفا کرنا کسی کے لئے جائز نہیں ہوگا بلکہ اس صورت میں اگر ہتھیار اٹھانے کی ضرورت ہوگی تو ہتھیار بھی اٹھا لئے جائیں گے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی یہ بھی ایک صورت ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (من رای منکم منکرا فلیغایرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذاک ضعف الایمان۔ تم میں سے کوئی شخص اگر غلط بات دیکھے توا سے اپنے ہاتھ سے بدل ڈالے، اگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا تو اپنی زبان سے اسے بدلنے کی کوشش کرے اگر وہ اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو اپنے دل سے اسے برا سمجھے یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے) حضور ﷺ نے ہاتھ سے برائی کے ازالے کا حکم دیا اور اس میں ہتھیار اور غیر ہتھیار کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔ اس لئے ظاہر حدیث منکر کے ازالے کا مقتضی ہے خواہ وہ جس طریقے سے بھی ہو۔ کچھ بیکار قسم کے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ باغیوں کی سرکوبی صرف ڈنڈوں اور جوتوں نیز ہتھیاروں سے کم چیزوں کے ذریعے کی جائے۔ ان کے خلاف ہتھیاروں کے ساتھ جنگ نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس واقعہ سے استدلال کیا ہے جو ہم نے آیت کے نزول کے سلسلے میں بیان کیا ہے نیز یہ کہ اس میں جوتوں اور ڈنڈوں کے ذریعے لڑائی ہوئی تھی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے جو بات بیان کی ہے اس پر اس واقعہ کی کوئی دلالت نہیں ہے۔ کیونکہ اس واقعہ میں لوگ ڈنڈوں کے ساتھ لڑے تھے یعنی اس لڑائی میں ہتھیاروں کے سوا دوسری چیزیں استعمال کی گئی تھیں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں فریقوں میں سے باغی اور سرکش فریق کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیا اور یہ تخصیص نہیں کی کہ اس کے خلاف ہماری جنگ ہتھیاروں کے سوا دوسری چیزوں کے ساتھ ہونی چاہیے۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اہل بغی کے خلاف جنگ کرنے کی جو صورت مناسب ہوگی ہوگی وہ ہم اختیار کریں گے۔ اگر ہتھیاروں کے ساتھ جنگ کرنے کی ضرورت پیش آئے گی تو ہم ہتھیار استعمال کریں گے اور اس کے بغیر دوسری چیز مثلاً ڈنڈوں وغیرہ سے کام چل سکتا ہو تو ڈنڈوں سے کام چلائیں گے یہاں تک کہ باغی گروہ حق کی طرف لوٹ آئے اور اپنی سرکشی سے دست بردار ہوجائے۔ آیت کا نزول جس واقعہ کے تحت ہوا ہے اس میں ڈنڈوں اور جوتوں سے لڑائی ہوئی تھی لیکن اس سے لازم نہیں آتا کہ آیت میں ہمیں ان کے خلاف قتال کا جو حکم دیا گیا ہے وہ صرف ڈنڈوں اور جوتوں کے استعمال تک محدود رہے۔ جب کہ آیت کا عموم ہتھیار اور ہتھیار سے کم چیزوں کے ساتھ قتال کا مقتضی ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر اللہ کا حکم یہ ہوتا کہ ” جو شخص تمہارے ساتھ ڈنڈے کے ساتھ لڑائی کرے تم اس کے ساتھ ہتھیار سے لڑو۔ “ تو اس صورت میں اس حکم کے اندر کوئی تناقض نہ ہوتا۔ یہی صورت اس حکم کی ہے جو اللہ نے ہمیں اہل بغی کے خلاف قتال کے سلسلے میں دیا ہے کیونکہ اس کا عموم ہتھیار اور غیر ہتھیار دونوں کا مقتضی ہے۔ اس لئے اسے عموم کی صورت میں باقی رکھنا واجب ہے۔ حضرت علی ؓ نے بھی ہتھیاروں کے ساتھ باغیوں کے خلاف جنگ کی تھی۔ آپ کے ساتھ جلیل القدر صحابہ کرام تھے جن میں بدریین (غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے) بھی تھے۔ حضرت علی ؓ ان باغیوں کے خلاف جنگ کرنے میں برحق تھے۔ کسی نے آپ کی مخالفت نہیں کی صرف یہ باغی گروہ اور اس کے ہمنوا جن کا آپ نے مقابلہ کیا تھا اس معاملے میں آپ کے مخالف تھے۔ حضور ﷺ نے حضرت عمار ؓ سے فرمایا تھا (تقتلک الفئۃ الباغیۃ۔ تمہیں باغی گروہ قتل کردے گا) یہ حدیث تواتر کی بنا پر خبر مقبول کا درجہ رکھتی ہے حتیٰ کہ حضرت معاویہ ؓ کو بھی اس کے انکار کی ہمت نہیں ہوئی۔ جب حضرت ابن عمر ؓ نے ان سے اسے بیان کیا اس موقعہ پر انہوں نے صرف اتنا ہی کہا : ” عمار کو دراصل اس نے قتل کیا جو انہیں اپنے ساتھ لے کر آیا تھا (اشارہ حضرت علی ؓ کی طرف ہے) اور پھر انہیں ہمارے نیزوں کے درمیان پھینک گیا۔ “ اس حدیث کی اہل کو فراء اہلی بصرہ، اہل حجاز اور اہل شام سب نے روایت کی ہے۔ یہ حدیث حضور ﷺ کی نبوت کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ہے کیونکہ یہ آئندہ رونما ہونے والے واقعہ کے متعلق اطلاع ہے جس کا علم صرف علام الغیوب کی طرف سے اس کے نبی ﷺ کو دیا گیا تھا۔ خوارج کے خلاف جنگ کرنے اور انہیں قتل کرنے کے ایجاب کی بہت سی روایتیں حضور ﷺ سے مروی ہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔ حضرت انس ؓ اور حضرت ابوسعید ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” میری امت میں عنقریب اختلاف پیدا ہوجائے گا۔ ایک گروہ ایسا ہوگا جو باتیں تو بڑی اچھی کرے گا لیکن اس کے اعمال بہت برے ہوں گے، وہ دین سے اس طرح نکل جائے گا جس طرح تیرا پنے نشانے سے پار نکل جاتا ہے۔ یہ لوگ واپس نہیں ہوں گے جب تک کہ تیرواپس نہ آجائے (اور یہ محال ہے) یہ لوگ بدترین مخلوق ہیں۔ سعادت ہے اس شخص کے لئے جو انہیں قتل کرے یا ان کے ہاتھوں قتل ہوجائے ۔ یہ لوگ کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے لیکن کتاب اللہ کے ساتھ خود ان کا کوئی تعلق نہیں ہوگا جو شخص انہیں قتل کرے گا وہ ان کی بہ نسبت اللہ سے زیادہ قریب ہوگا۔ “ صحابہ ؓ نے عرض کیا ” اللہ کے رسول ﷺ ! ان کی نشانی کیا ہوگی ؟ “ آپ ﷺ نے فرمایا ” تحلیق “ یعنی ان کے سر مونڈے ہوں گے۔ اعمش نے خیثمہ سے اور انہوں نے سوید بن غفلہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ” لوگو ! جب میں تمہیں حضور ﷺ کی کوئی حدیث سنائوں تو یادرکھو کہ میرے لئے آسمان سے اسی طرح نیچے گر جانا کہ فضا میں پرندے مجھے اچک لیں زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ میں حضور ﷺ سے کوئی جھوٹی حدیث بیان کروں اور جب میں تم سے موجودہ حالات کے بارے میں گفتگو کروں تو اس کے متعلق یادرکھو کہ جنگ ایک چال ہوتی ہے۔ “ یعنی ہوسکتا ہے کہ کسی مصلحت کی خاطر میں تم سے کھل کر بات نہ کروں۔ آپ نے مزید فرمایا، میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ زمانہ نبوت کے آخر پر کچھ لوگ ابھریں گے جن کی عمریں کم ہوں گی جو سمجھ بوجھ کے لحاظ سے بیوقوف ہوں گے۔ باتیں تو وہ بہترین کریں گے لیکن ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر اپنے نشانے کے پار نکل جاتا ہے۔ اگر تمہارا ان کے ساتھ آمنا سامنا ہو تو ان کی گردنیں اڑادو۔ انہیں قتل کرنے والوں کو قیامت کے دن اجر ملے گا۔ “ باغی سے جنگ کرکے اسے قتل کیا جاسکتا ہے باغی گروہ کو راہ راست پر لانے کے لئے تلوار سے کم کوئی چیز اگر کارگر نہ ہو تو ان کے خلاف جنگ کے وجوب پر صحابہ کرام کے درمیان کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ تمام صحابہ کرام خوارج کے خلاف جنگ کے قائل تھے، اگر یہ حضرات ان کے خلاف جنگ نہ کرتے بلکہ مقابلہ سے بیٹھ رہتے تو خوارج ان سب کو قتل کردیتے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو گرفتار کرلیتے اور انہیں برباد کرکے رکھ دیتے۔ اگر یہ کہا جائے کہ صحابہ کرام کی ایک جماعت نے حضرت علی ؓ کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ ان میں حضرت سعد ؓ ، محمد بن مسلمہ ؓ ، اسامہ بن زید ؓ اور حضرت ابن عمر ؓ شامل تھے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ انہوں نے اس لئے ساتھ نہیں دیا تھا کہ وہ باغی گروہ کے خلاف جنگ کے قائل نہیں تھے بلکہ ممکن ہے کہ انہوں نے اس بناء پر عملی طور پر جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا کہ ان کے خیال میں امام المسلمین یعنی حضرت علی ؓ کا ان کے خلاف اپنے رفقاء کے ساتھ نبردآزما ہونا کافی تھا اور ان کی ضرورت نہیں تھی اس لئے انہوں نے جنگ میں شرکت نہ کرنے کی اجازت حاصل کرلی تھی۔ آپ نہیں دیکھتے کہ خوارج کے خلاف ان حضرات نے جنگوں میں حصہ نہیں لیا تھا اس کے یہ معنی نہیں تھے کہ ان کے نزدیک خوارج کے خلاف قتال واجب نہیں تھا بلکہ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ جنگ میں ان کی ضرورت نہیں ہے دوسرے لوگ کافی ہیں تو انہوں نے عملی طور پر ان جنگوں میں حصہ لینا مناسب نہیں سمجھا۔ اگر ہمارے مخالفین اس روایت سے استدلال کریں جس میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا (ستکون فتنۃ القائم فیھا اخیر من الماشی والقاعد فیھا خیر ھن القائم۔ عنقریب فتنہ وفساد برپا ہوگا اس میں کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور بیٹھارہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا) اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ آپ نے اس سے وہ فتنہ مراد لیا ہے جس میں لوگ دنیا کی طلب اور عصبیت کی بنا پر ایک دوسرے کا گلا کاٹیں گے۔ اس میں امام المسلمین کے ساتھ جس کی اطاعت واجب ہوتی ہے مل کر قتال نہیں ہوگا لیکن جب یہ ثابت ہوجائے گا کہ فریقین میں سے ایک گروہ باغی اور دوسرا گروہ عادل اور امام المسلمین کا ساتھ دینے والا ہے تو اس صورت میں امام المسلمین اور اس کے ہمنوائوں کے ساتھ مل کر باغی گروہ کی سرکوبی واجب ہوگی اور ایسی جنگ میں حصہ لینے والا اللہ کے نزدیک اجر کا مستحق ہوگا۔ کلمہ توحید کے قائل کو ناحق قتل کرنا ممنوع ہے اگر یہ کہا جائے کہ ایک فوجی مہم میں حضرت اسامہ ؓ نے ایسے شخص کو قتل کردیا تھا جس نے کلمہ طیبہ کا اقرار کیا تھا۔ حضرت اسامہ ؓ کو شک لھا کہ اس نے اپنی جان بچانے کے لئے کلمہ طیبہ کا اقرار کیا ہے، لیکن جب یہ بات حضور ﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ کو انتہائی صدمہ پہنچا اور آپ ﷺ نے حضرت اسامہ ؓ سے فرمایا۔” تم نے اسے مار ڈالا جب کہ اس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا تھا۔ “ آپ ﷺ نے یہ فقرہ کئی بار دہرایا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جو شخص کلمہ گو ہو اس کے خلاف نہ تو جنگ کی جائے اور نہ ہی اسے قتل کیا جائے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ان کے خلاف اس لئے جنگ کی جاتی تھی کہ وہ مشرک تھے، ان کے خلاف جنگ کے خاتمے کی شرط یہ تھی کہ وہ کلمہ توحید کا اقرار کرلیں۔ جس طرح حضور ﷺ کا ارشاد ہے (امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوالا الہ الا اللہ ، فاذاقا لوھا عصموا منی دماء ھم واموالھم الا بحقھا۔ مجھے حکمی دیا گیا ہے کہ جب تک لوگ لا الہ الا اللہ نہ کہہ دیں اس وقت تک میں ان کے خلاف جنگ کرتا رہوں۔ جب وہ یہ کلمہ کہہ دیں گے تو میرے ہاتھوں سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کرلیں گے سوائے اس صورت کے جب ان کی جان یا ان کا مال کسی حق کے بدلے میں لیا جائے) یہ مشرکین جب کلمہ توحید کا اقرار کرلیتے تو ان تمام باتوں کو قبول کرلیتے جن کی طرف انہیں بلایا جاتا یعنی بت پرستی چھوڑ کر توحید کا اقرار کرلیتے۔ اس کی نظیر وہ صورت ہے جب باغی بغاوت سے کنارہ کش ہوکر حق کی طرف لوٹ آئیں تو ان کے خلاف قتال کا حکم ساقط ہوجاتا ہے۔ ان کے خلاف جنگی کاروائی صرف اس بنا پر کی جاتی ہے کہ وہ اہل عدل یعنی امام المسلمین کے وفادار لوگوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوتے ہیں۔ اس لئے جب وہ اس حرکت سے باز آجائیں گے تو ان کے خلاف جنگی کاروائی بھی رک جائے گی۔ جس طرح مشرکین سے اس لئے قتال کیا جاتا ہے کہ وہ اسلام کا اقرار کرلیں۔ جب وہ اسلام کا اظہار کردیں گے تو قتال کا حکم ان سے زائل ہوجائے گا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ رہزنوں اور امام المسلمین کے خلاف برسر پیکار لوگوں کے خلاف جنگی کاروائی کی جاتی تھی حالانکہ وہ لوگ لا الہ الا اللہ کے قائل ہوتے تھے۔ باغیوں کے خلاف اقدام کی ابتدا کیسے کی جائے ؟ قول باری ہے (وان طائفتان من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما۔ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کرنے لگیں تو ان کے درمیان اصلاح کرادو) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان جنگ شروع ہوجانے کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان اصلاح کرانے کا حکم دیا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ دونوں گروہوں کو صلاح اور حق کی طرف تیز کتاب وسنت کے حکم اور ترک بغاوت کی طرف بلایا جائے (فان بغت احداھما علی الاخری۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کرے) یعنی۔ واللہ اعلم۔ اگر ایک گروہ حق کی طرف لوٹ آئے اور اصلاح کا ارادہ کرلے لیکن دوسرا گروہ بغاوت اور سرکشی پر اڑا رہے اور حق کی طرف رجوع کرلینے سے باز رہے تو اس صورت میں دوسرے گروہ کے خلاف جنگ کی جائے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ سے پہلے حق کی طرف بلانے کا حکم دیا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ لوٹنے سے انکار کردے تو اس کے خلاف جنگی کاروائی کی جائے گی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی یہی طریق کار اختیار کیا تھا۔ آپ نے سب سے پہلے باغی گروہ کو حق کی طرف لوٹ آنے کی دعوت دی اور ان پر حجت تمام کردی لیکن جب انہوں نے آپ کی بات ماننے سے انکار کردیا تو آپ نے ان کے خلاف جنگ شروع کی۔ آیت میں اس بات پر دلالت موجود ہے کہ فساد عقائد کی بنا پر باغیوں سے جنگ نہیں کی جائے گی جب تک وہ خود قتال کی ابتداء نہ کریں کیونکہ قول باری ہے (فان بغت احداھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تقیء الی امر اللہ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو اس سے لڑو جو زیادتی کررہا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرلے) ان سے لڑائی کرنے کا حکم صرف اسی صورت میں دیا گیا ہے۔ جب وہ دوسروں کے خلاف جنگ کرکے ان کے ساتھ زیادتی کریں۔ حضرت علی ؓ نے بھی خوارج کے ساتھ یہی طریقہ کار اختیار کیا تھا۔ خوارج جب حضرت علی ؓ کے لشکر سے الگ ہوگئے تو آپ نے ان کی طرف حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو بھیجا، انہوں نے جاکر انہیں واپس آجانے کی دعوت دی لیکن انہوں نے اس دعوت کو قبول نہ کیا۔ پھر آپ خود ان کے پاس گئے اور ان کے ساتھ سوال وجواب کیا جس کے نتیجے میں ایک گروہ واپس ہوگیا لیکن دوسرا گروہ اپنی بغاوت پر ڈٹارہا۔ جب یہ لوگ کوفہ میں داخل ہوئے تو حضرت علی ؓ کے خطبے کے دوران مسجد کے ایک گوشے سے ” ان الحکم الا اللہ “ (فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اللہ کو ہے) کا نعرہ بلند کیا۔ حضرت علی ؓ نے یہ سن کر فرمایا : ” کلمۃ حق ارید بھا الباطل (یہ کلمہ حق ہے لیکن اس کا ایک غلط مفہوم لیا گیا ہے) پھر آپ نے یہ اعلان کیا۔ انہیں تین حقوق حاصل رہیں گے، ہم انہیں اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے نہیں روکیں گے، جب تک ان کے ہاتھ ہمارے ہاتھوں میں ہوں گے اس وقت تک فی یعنی مال غنیمت وغیرہ میں ان کا حق انہیں دیتے رہیں گے اور جب تک یہ ہمارے خلاف جنگ نہیں کریں گے اس وقت تک ہم ان کے خلاف جنگی کاروائی نہیں کریں گے۔ باغیوں سے چھینے ہوئے مال کا حکم ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس مسئلے میں اہل علم کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام محمد نے مبسوط میں کہا ہے کہ یہ مال مال غنیمت نہیں ہوگا۔ البتہ ان سے چھینے ہوئے ہتھیار اور گھوڑے ، خچر وغیرہ ان کے خلاف جنگ میں استعمال کیے جائیں گے۔ جب جنگ کا خاتمہ ہوجائے گا تو ان کا مال انہیں واپس کردیا جائے گا اور جب ایک بھی باغی باقی نہیں رہے گا ان کے گھوڑے وغیرہ بھی انہیں واپس کردیئے جائیں گے۔ جو چیزیں استعمال میں آکر ختم ہوچکی ہوں گی ان کے بدلے میں کوئی چیز نہیں دی جائے گی۔ ابراہیم بن الجراح نے امام ابویوسف سے ذکر کیا ہے کہ باغیوں کے قبضے میں جتنا ہتھیار اور گھوڑے، گدھے نیز خچر وغیرہ ہوں گے وہ فی شمار ہوں گے انہیں مال غنیمت کی طرح تقسیم کیا جائے گا اور خمس بھی نکالا جائے گا۔ پھر جب یہ لوگ توبہ کرلیں گے تو ان سے کسی خون کا بدلہ نہیں لیا جائے گا اور نہ ہی اس مال کا معاوضہ لیا جائے گا جو یہ اپنے استعمال میں لاکر ختم کرچکے ہوں گے۔ امام مالک کا قول ہے کہ خوارج نے جو جانیں لی ہوں گی یا جو مال انہوں نے ختم کیا ہوگا توبہ کرلینے پر ان سے ان چیزوں کا حساب نہیں لیا جائے گا۔ البتہ اگر کوئی مال بعینہ موجود ہوگا وہ واپس کرایا جائے گا۔ اوزاعی اور امام شافعی کا بھی یہ قول ہے۔ حسن بن صالح کا قول ہے کہ مسلح چوروں سے لڑائی کی صورت میں اگر انہیں قتل کرنے کے بعد ان کے مال پر قبضہ کرلیاجائے گا تو یہ مال لڑائی میں حصہ لینے والوں کے لئے مال غنیمت شمار ہوگا۔ البتہ اس سے خمس پہلے نکال لیا جائے گا۔ ہاں اگر کوئی چیز ایسی ہوگی جس کے بارے میں یہ علم ہو کہ انہوں نے اسے لوگوں کے گھروں سے چرایا تھا تو اس صورت میں وہ چیز مال غنیمت شمار نہیں ہوگی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس بارے میں حضرت علی ؓ سے منقول روایتوں میں اختلاف ہے۔ فطر بن خلیفہ نے منذر بن یعلیٰ سے روایت کی ہے اور انہوں نے محمد بن الحنفیہ سے کہ امیر المومنین حضرت علی ؓ نے جنگ جمل کے دن ہاتھ آنے والے ہتھیاروں اور گھوڑوں ، خچروں وغیرہ کو اپنے رفقاء کے درمیان مال غنیمت کے طور پر تقسیم کردیا تھا۔ اس روایت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جو ایسے مال کو مال غنیمت قرار دینے کے قائل ہیں۔ لیکن اس میں یہ دلالت موجود نہیں ہے کہ یہ مال غنیمت تھا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ حضرت علی ؓ نے ہاتھ آنے والے ہتھیاروں اور جانوروں کو اس بنا پر تقسیم کردیا ہو کہ جنگ کے خاتمے سے پہلے انہیں جنگی کاروائیوں میں استعمال کیا جائے۔ آپ نے یہ چیزیں اپنے رفقاء کی ملکیت میں نہیں دی تھیں جیسا کہ امام محمد نے مبسوط میں کہا ہے۔ عکرمہ بن عمار نے اوزمیل سے روایت کی ہے، انہوں نے عبداللہ بن الدولی سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ خوارج کو حضرت علی ؓ پر اس بات کا غصہ تھا کہ آپ نے جنگ جمل میں باغیوں کی عورتوں اور بچوں کو گرفتار نہیں کیا تھا اور نہ ہی ان کے مال کو مال غنیمت قرار دیا۔ اس پر حضرت علی ؓ نے ان سے یہ کہا تھا ” کیا پھر تم اپنی ماں عائشہ ؓ کو گرفتار کرتے اور ان سے اسی طرح پیش آتے جس طرح قیدی لونڈیوں سے پیش آتے ہو، اگر تم ایسا کرتے تو تم یقینا کافر ہوجاتے۔ ابو معاویہ نے صلت بن بہرام سے روایت کی ہے، انہوں نے ابو وائل سے۔ ابن بہرام کہتے ہیں کہ میں نے ابو وائل سے پوچھا کہ آیا حضرت علی ؓ نے جنگ جمل میں چھینے ہوئے اموال کا خمس نکالا تھا ؟ انہوں نے نفی میں اس کا جواب دیا۔ زہری کہتے ہیں کہ جب خانہ جنگی کا فتنہ اٹھ کھڑا ہوا تو اس وقت صحابہ کرام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ان سب کا اس پر اتفاق تھا کہ اس فتنہ کے دوران تاویل کی بنا پر بہنے والے خون اور استعمال شدہ مال کا کوئی تاوان نہیں۔ باغیوں کے مال کو مال غنیمت شمار نہیں کیا جائے گا اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں جو کچھ مال چھوڑ کر آئے ہیں اسے مال غنیمت شمار نہیں کیا جاتا خواہ وہ سب قتل کیوں نہ ہوجائیں۔ اسی طرح جو مال وہ اپنے ساتھ لے کر میدان جنگ میں آتے ہیں اسے بھی مال غنیمت شمار نہیں کیا جائے گا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اہل حرب کے اموال کو مال غنیمت شمار کیا جاتا ہے خواہ یہ اموال ان سے میدان جنگ میں چھینے گئے ہوں یا ان کے گھروں میں موجود ہوں۔ مال غنیمت ہونے کے لحاظ سے ان اموال میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کا جو مال بھی ہمارے قبضے میں آجاتا ہے وہ مال غنیمت شمار ہوتا ہے۔ نیز اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ باغیوں کی عورتوں اور بچوں کو قیدی نہیں بنایا جائے گا اور نہ ہی ان کی گردنوں کی ملکیت حاصل ہوگی اسی طرح ان کے مال کا بھی مسئلہ ہے کہ اسے مال غنیمت نہیں بنایا جائے گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ عرب کے مشرکین کی گردنوں کی ملکیت حاصل نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود ان کا مال مال غنیمت شمار ہوتا ہے اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ان کی گردنوں کی ملکیت اس لئے حاصل نہیں ہوتی کہ گرفتار ہوجانے پر اگر وہ اسلام نہ لائیں تو انہیں قتل کردیا جاتا ہے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جاتا ہے اسی لئے ان کے مال کو مال غنیمت قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس خوارج کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ان کی طاقت وقوت بکھر چکی ہو تو اس صورت میں ان کے قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو کسی صورت میں قیدی نہیں بنایا جائے گا۔ اسی طرح ان کے مال کو بھی مال غنیمت قرار نہیں دیا جائے گا۔ باغیوں کے قیدیوں اور زخمیوں کا حکم کوثر بن حکیم نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا :” ام عبد کے بیٹے ! اس امت میں جو لوگ بغاوت کریں ان کے متعلق اللہ کا کیا حکم ہے ؟ “ حضرت ابن عمر نے جواب دیا۔ اللہ اور اس کے رسول کو بہتر علم ہے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” باغیوں میں سے جو لوگ زخمی ہوں گے انہیں ہلاک نہیں کیا جائے گا، ان کے گرفتار شدہ قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا اور بھاگنے والوں کا تعاقب نہیں کیا جائے گا۔ “ عطاء بن السائب نے ابو النجتری اور عامر سے روایت کی ہے جنگ جمل میں حضرت علی ؓ کو جب فتح ہوگئی تو آپ نے حکم جاری کیا ” بھاگنے والوں کا تعاقب نہ کرو ۔ اور زخمی کو ہلاک نہ کرو۔ “ شر کی نے سدی سے اور انہوں نے عبد خیر سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ نے جنگ جمل کے دن اعلان کیا کسی قیدی کو قتل نہ کرو، کسی زخمی کو ہلاک نہ کرو، جو شخص ہتھیار پھینک دے اسے امان مل جائے گی۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ حضرت علی ؓ کا فیصلہ تھا اور ہمیں سلف میں سے کسی کے متعلق اس فیصلے سے اختلاف کا کوئی علم نہیں۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ باغیوں کی جتھا بندی اگر ختم ہوجائے اور ان کا ٹولہ باقی نہ رہے تو اس صورت میں ان کے زخمی کو نہ تو ہلاک کیا جائے گا نہ قیدی کو قتل کیا جائے گا اور نہ ہی بھاگنے والے کا تعاقب کیا جائے گا۔ اگر ان کی جتھا بندی قائم ہوگی تو امام المسلمین کی صوابدید کے مطابق ان کے قیدی کو قتل کیا جاسکے گا اور ان کے زخمی کو ہلاک اور بھاگنے والے کا تعاقب کیا جاسکے گا۔ حضرت علی ؓ کا درج بالا قول اس صورت پر محمول ہے جب کہ باغیوں کی جتھا بندی ختم ہوجائے۔ کیونکہ آپ نے یہ بات جنگ جمل کے موقعہ پر فرمائی تھی اور ظاہر ہے کہ شکست کھانے کے بعد ان کا کوئی جتھا باقی نہیں رہا تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جنگی کاروائیوں کے دوران حضرت علی ؓ نے ابن یثریٰ کو گرفتار کرلیا تھا اور جنگ جمل کے دن اسے قتل کردیا تھا۔ اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ پہلے قول سے آپ کی مراد یہ تھی کہ باغیوں کی گروہ بندی جب ختم ہوجائے اور ان کا جتھا باقی نہ رہے تو اس صورت میں مذکورہ احکام جاری ہوں گے۔ باغیوں کے فیصلوں کے متعلق بیان امام ابویوسف نے رسالہ البرم کی میں کہا ہے کہ مرکز کے وفادار مسلمانوں کے قاضی کے لئے باغیوں کے قاضی کے فیصلہ نامے، اس کی لی ہوئی گواہی اور اس کے فیصلے کو جائز قرار دینا مناسب نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ امام محمد کا بھی یہی قول ہے۔ انہوں نے یہ کہا ہے کہ اگر خوارج اپنوں میں سے کسی کو قاضی مقرر کردیں اور وہ کوئی فیصلہ جاری کرے پھر یہ فیصلہ اہل عدل یعنی وفادار مسلمانوں کے قاضی کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ اسے نافذ نہ کرے۔ البتہ اگر یہ فیصلہ اس کی رائے کے موافق ہو تو صرف اس پر صادر نہ کرے بلکہ اپنی طرف سے اسے نئے سرے سے جاری کرے۔ امام محمد نے یہ بھی کہا ہے کہ خوارج اگر اہل عدل میں سے کسی کو قاضی مقرر کریں اور اس نے کوئی فیصلہ کیا ہو پھر یہ فیصلہ اہل عدل کے قاضی کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ اس فیصلے کو اسی طرح نافذکردے گا جس طرح وہ اہل عدل کے کسی اور قاضی کے فیصلے کو نافذ کرتا ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ باغی جو فیصلے کریں گے ان کی چھان بین کی جائے گی، اور اس کے بعد ان کا جو فیصلہ شرعی لحاظ سے درست ہوگا اہل عدل کا قاضی اسے نافذ کردے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ اگر خوارج کسی شہر پر قبضہ کرلیں اور اس شہر کے باشندوں سے زکوٰۃ وغیرہ وصول کرلیں اور ان پر حدود وغیرہ قائم کریں تو اس صورت میں ان شہریوں سے نہ تو دوبارہ زکوٰۃ وصول کی جائے گی اور نہ ہی ان پر کوئی حد دوبارہ قائم کی جائے گی۔ نیز ان کے مقرر کردہ قاضی کے درست فیصلوں کو رد نہیں کیا جائے گا۔ البتہ اس کے غلط فیصلے اس طرح رد کردیے جائیں گے جس طرح اہل عدل کے قاضی کے غلط فیصلے رد کردیے جاتے ہیں۔ اگر کسی شخص کی جان یا اس کے مال کے متعلق خوارج کے مقرر کردہ قاضی کی رائے قابل اطمینان نہ ہو تو اس کا فیصلہ نافذ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کا فیصلہ نامہ قابل قبول ہوگا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ باغی جب قتال پر اتر آئیں اور اہل عدل کے ساتھ ان کی زیادتی واضح ہوجائے تو اس صورت میں ان کے خلاف جنگ کرنا اور انہیں قتل کرنا واجب ہوجاتا ہے اس لئے ایسے لوگوں کی گواہی قبول کرنا جائز نہیں ہوگا کیونکہ بغاوت کا اظہار اور اہل عدل سے جنگ فعل کی جہت سے فسق ہے اور فعل کی جہت سے فسق کا ظہور گواہی قبول کرنے میں مانع ہوتا ہے جس طرح زانی، چور اور شرابی کی گواہی قابل قبول نہیں ہوتی۔ اگر یہ کہا جائے کہ آپ باغیوں کی گواہی قبول کرتے ہیں تو پھر ان کے فیصلے کیوں نہیں نافذ کرتے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ امام محمد بن الحسن نے یہ کہا ہے کہ باغیوں کی گواہی اس وقت تک قابل قبول ہوگی جب تک وہ اہل عدل کے خلاف جنگ کریں۔ لیکن جب وہ جنگ شروع کردیں تو امام محمد کے قول کے مطابق ان کی گواہی قابل قبول نہ ہوگی۔ امام محمد نے ان کے فیصلوں اور ان کی گواہی کو یکساں درجے پر رکھا ہے۔ انہوں نے اس بارے میں ہمارے اصحاب کے درمیان کسی اختلاف رائے کا ذکر بھی نہیں کیا ہے۔ یہ ایک ٹھوس بات ہے اور اس کی علت وہی ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ فقہاء کا قول ہے کہ خوارج اگر کسی علاقے پر قبضہ کرلیں اور وہاں کے لوگوں سے مویشیوں اور پھلوں کی زکوٰۃ اور عشر وصول کرلیں تو اس صورت میں ان لوگوں سے دوبارہ زکوٰۃ اور عشر وصول نہیں کیا جائے گا اس طرح فقہاء نے خوارج کی اس وصولی کو اہل عدل کی وصولی کی طرح قرار دے دیا ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ خوارج کی طرف سے وصول کی بنا پر لوگوں سے زکوٰۃ اور عشر ساقط نہیں ہوگا کیونکہ فقہاء نے یہ کہا ہے کہ ایسے لوگوں پر اپنے طور پر زکوٰۃ کی دوبارہ ادائیگی واجب ہوگی۔ یہ معاملہ ان کے اور اللہ کے درمیان رہے گا یعنی اللہ کے سامنے بری الذمہ ہونے کے لئے انہیں دوبارہ زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔ خوارج کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرلیے جانے کی صورت میں انہوں نے زکوٰۃ کی ادائیگی کے وجوب کے ساقط نہیں کیا بلکہ صرف یہ کہا ہے کہ ایسی صورت میں امام المسلمین کی طرف سے اس کی وصولی کا حق ساقط ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امام المسلمین کو اس کی وصولی کا حق صرف اس بنا پر حاصل ہوتا ہے کہ وہ زکوٰۃ دینے والوں کی حفاظت اور ان کے دفاع کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ جب امام المسلمین انہیں باغیوں کے ہاتھوں سے بچا نہیں سکے گا تو اسے ان لوگوں سے زکوٰۃ کی وصولی کا کوئی حق نہیں ہوگا اور اس حق کے سقوط کے باب میں باغیوں کی طرف سے اس کی وصولی اما المسلمین کی طرف سے وصولی قرار دی جائے گی۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر اہل عدل کا کوئی فرد باغیوں کے کسی عاشر کے پاس سے مال لے کر گزرے اور وہ اس سے عشر وصول کرلے تو امام المسلمین اس وصولی کو کسی حساب میں شمار نہیں کرے گا اس لئے جب یہ شخص اپنا مال لے کر اہل عدل کے عاشر کے پاس سے گزرے گا تو وہ اس سے عشر وصول کرلے گا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ معترض نے فقہاء کی جو بات نقل کی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ وصولی کے سلسلے میں امام کا حق ساقط ہوجائے گا یہ مفہوم نہیں ہے کہ فقہاء نے باغیوں کے فیصلوں اور احکام کو اہل عدل کے فیصلوں اور احکام کی طرح قرار دیا ہے۔ اگر باغیوں کا مقرر کردہ قاضی اہل عدل میں سے ہو تو اس صورت میں فقہاء نے اس کے فیصلوں کو جائز قرار دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قاضی کے فیصلے کے نفاذ کی صحت کے لئے جس بات کی ضرورت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ قاضی فی نفسہٖ عادل ہو نیز اس کے لئے پوری قوت کے ساتھ اپنے فیصلوں کو نافذ کرنا اور لوگوں کو ان فیصلوں پر چلانا ممکن ہو خواہ اس قاضی کو عہدہ قضا پر مامور کرنے والا شخص خود عادل ہو یا باغی۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کسی شہر میں کوئی حاکم نہ ہو اور وہاں کے لوگ متفقہ طور پر کسی شخص کو قاضی مقرر کردیں تو ان کا یہ اقدام جائز ہوگا اور ان کے متعلق اس کے فیصلے نافذ العمل ہوں گے۔ اسی طرح وہ شخص جسے باغیوں نے قضا کے عہدے پر مامور کردیا ہو اگر فی نفسہٖ عادل ہو تو اس کے دیے ہوئے احکامات نافذ العمل ہوں گے۔ جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ تعزیری سزا حد کی سزا سے بڑھ سکتی ہے۔ وہ قول باری (فان بغت احداھما علی الاخریٰ فقاتلوا التی تبغی حتی لفیء الی امر اللہ) سے استدلال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے بغاوت پر ڈٹے رہنے والے گروہ کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھنے کا حکم دیا ہے جب تک وہ حق کی طرف رجوع نہ کرلیں۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ تعزیری سزا اس وقت تک جاری اور واجب رہتی ہے جب تک یہ معلوم نہ ہوجائے کہ مجرم نے جرم سے توبہ کرکے مکمل طور پر اس سے باز آگیا ہے کیونکہ تعزیر جرائم کے انسداد اور لوگوں کو ان سے باز رکھنے کی خاطر ہوتی ہے اور عرف میں اس سزا کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی جس طرح باغیوں کے خلاف جنگ بغاوت کے انسداد کی خاطر ہوتی ہے۔ اس کا اس وقت تک جاری رہنا واجب ہے، جب تک باغی بغاوت سے باز نہ آجائیں اور ان کا مکمل طور پر انسداد نہ ہوجائے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ جو حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ تعزیری سزا حد کے تحت ملنے والی سزا تک پہنچنی نہیں چاہیے بلکہ اس کی مقدار اس سے کم ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلے میں حضور ﷺ کے اس ارشاد (من بلغ حدا فی غیر حد فھو من المعتدین، جو شخص غیر حد میں کسی جرم پر حد کے برابر سزا دیتا ہے وہ حد سے تجاوز کرنے والا شمار ہوتا ہے) سے استدلال پر اکتفا کیا ہے۔
Ayah 49:10

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم رحمت کی جائے

فریقین میں حتی الامکان صلح کروانا واجب ہے قول باری (انما المومنون اخوۃ فاصلحوا بین اخویکم، بیشک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اس لئے اپنے دو بھائیوں کے درمیان اصلاح کردیا کرو) یعنی مسلمان ایک دوسرے کے دینی بھائی ہیں جس طرح یہ قول باری ہے۔ (فان لم تعلموا اباء ھم فاخوانکم فی الدین وموالیکم، اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو (آخر) وہ تمہارے دین کے تو بھائی ہی ہیں اور تمہارے دوست) اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ دینی جہت سے مسلمانوں پر ایک دوسرے کی طرف سے بھائی کے لفظ کا اطلاق جائز ہے۔ قول باری (فاصلحوا بین اخویکم) ا س پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص کو آپس میں دشمنی رکھنے والے دو مسلمانوں کی دشمنی ختم کرانے اور ان کے تعلقات بہتر بنانے کی توقع ہو اس پر ان دونوں کے درمیان اصلاح کرادینا واجب ہے۔
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

مومنو ! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا برا نام (رکھو) ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں

تمسخرنہ اڑایا جائے قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لا یسخرقوم من قوم، اے ایمان لانے والو ! مردوں کو مردوں پر ہنسنا نہیں چاہیے) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تحقیر کی بنا پر کسی کا مذاق اڑانے اور اس پر ہنسنے سے منع فرمایا ہے جب کہ وہ شخص اس تمسخر کا سزا وارنہ ہو۔ مسخریہ اور تمسخر کے یہی معنی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بتادیا کہ مذاقاڑانے والا ہوسکتا ہے کہ دنیاوی لحاظ سے ارفع ہو تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس کا وہ مذاق اڑارہا ہے اللہ کے نزدیک اس کا درجہ اس سے بلند ہو۔ طعنہ زنی منع ہے قول باری ہے (ولا تلمزوا انفسکم اور ایک دوسرے کو طعنہ نہ دو ) حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ سے مروی ہے کہ ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیں۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس کی مثال یہ قول باری ہے (فلا تقتلوا انفسکم ، اور تم ایک دوسرے کو قتل نہ کرو) کیونکہ تمام مسلمان یک جان ہوتے ہیں اس لئے جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی جان لیتا ہے وہ گویا اپنی جان لیتا ہے۔ یا جس طرح یہ قول باری ہے (فسلموا علی انفسکم، تو تم ایک دوسرے کو سلام کرلیاکرو) یعنی ایک دوسرے کو سلام کیا کرو۔ لمز عیب کو کہتے ہیں۔ جس کوئی شخص کسی کو طعنہ دے نکتہ چینی کرے اور اس پر عیب لگائے تو اس موقعہ پر کہا جاتا ہے ” لمزہ “ قول باری ہے (ومنھم من یلمزک فی الصدقات، اور ان میں بعض تو ایسے ہیں جو صدقات کی تقسیم کے سلسلے) میں آپ پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔ زیادالاعجم کا شعر ہے، ؎ اذا لقیتک تبدی لی مکا شرۃ وان تغیبت کنت لمزہ المزع جب تمہارے سامنے آتا ہوں تو تم بتیسی نکالتے ہو اور جب تمہاری نظروں سے غائب ہوجاتا ہوں تو تم پس پشت میری عیب جوئی کرتے اور مجھے طعنے دیتے ہو۔ ماکنت اخشی وان کان الزمان بہ حیف علی الناس ان یعتا بنی غنزل مجھے تو اس بات کا خطرہ نہیں تھا کہ کوئی بکری میری غیبت کرے گی اگر چہ یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ زمانہ کی طرف سے لوگوں پر ظلم ڈھائے جاتے رہتے ہیں۔ اس بنا پر تمہیں میری غیبت کی جرات ہوئی۔ فاسق وفاجر کی نکتہ چینی جائز ہے اس آیت میں ان لوگوں پر نکتہ چینی کرنے اور عیب نکالنے سے منع کیا گیا ہے جو اس کے سزاوار نہ ہوں لیکن اگر کسی شخص کا دامن فسق وفجور سے داغدار ہو تو اس پر اس سلسلے میں نکتہ چینی کرنا اور عیب نکالنا جائز ہے۔ روایت ہے کہ جب حجاج کا انتقال ہوگیا تو حسن بصری نے یہ دعا کی۔ “ میرے اللہ ! تونے اسے اس دنیا سے اٹھا لیا ہے اب اس کے ظالمانہ طریق کار کو بھی مٹادے۔ جب یہ ہم پر حاکم بن کر آیا تھا تو اس کی ہیئت کذائی یہ تھی کہ آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں ، بینائی کمزور تھی گویا کہ چندھا تھا۔ جب ہاتھ آگے بڑھاتا توانگلیوں کے پورے بہت چھوٹے چھوٹے دکھائی دیتے۔ اللہ کے راستے میں ان پوروں کے اندر گھوڑے کی باگ کو کبھی پسینے سے تر ہونے کی نوبت نہ آئی۔ اپنی زلفوں کی کنگھی کرتا رہتا اور چلتے وقت اس کے قدم لڑکھڑاتے رہتے۔ منبر پر جا بیٹھتا اور یا وہ گوئی شروع کردیتا حتیٰ کہ نماز کا وقت فوت ہوجاتا۔ نہ اسے خدا کا خوف تھا اور نہ ہی مخلوق کی شرم۔ اس کے اوپر اللہ تھا اور اس کے نیچے یعنی کمان میں ایک لاکھ یا اس سے زائد نفری تھی۔ کسی کو یہ کہنے کی جرات نہ ہوتی کہ ” بندہ خدا نماز کا وقت جارہا ہے۔ “ حسن بصری نے مزید کہا، ” یہ بات کہناکس قدر مشکل ہوگیا اور بعید ہوگیا تھا، بخدا، اس بات کے کہنے میں تلوار اور کوڑہ حائل ہوگیا تھا۔ “ برے ناموں سے نہ پکارو قول باری ہے : (ولا تنابزوا بالانقاب، اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو) حماد بن سلمہ نے یونس سے اور انہوں نے حسن سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوذر غفاری ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں موجود تھے۔ ایک شخص کے ساتھ ان کا تنازعہ چل رہا تھا۔ حضرت دائو د ؓ نے غصے میں آکر اسے ” اے یہودن کے لڑکے ! “ کے الفاظ سے پکارا۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا ” کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہاں جتنے بھی سرخ وسفید چل پھر رہے ہیں ان پر تمہیں صرف تقویٰ کی بنا پر فضیلت حاصل ہے۔ “ حسن کہتے ہیں کہ اللہ نے اس موقعہ پر درج بالا آیت نازل فرمائی۔ قتادہ نے آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کو ” یا فاسق، یا منافق “ کہہ کر نہ پکارو۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے حسن سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” کوئی یہودی یا نصرانی مسلمان ہوجاتا تو اسے ” یا یہودی، یا نصرانی “ کہہ کر پکارا جاتا ، اس سے لوگو کو منع کردیا گیا۔ “ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، اسے موسیٰ بن اسماعیل نے، انہیں وہب نے دائود سے، انہوں نے عامر سے، انہیں ابوجبیرہ بن الضحاک نے بیان کیا کہ آیت (ولاتنابزوا بالالقاب بئس الاسم الفسوق بعد الایمان ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو، ایمان کے بعد گناہ کا نام ہی برا ہے) ہمارے بارے میں یعنی بنو سلمہ کے متعلق نازل ہوئی تھی، ہمارے پاسحضور ﷺ لائے اس وقت ہم میں سے ہر آدمی کے دو دو یا تین تین نام تھے، آپ جب کسی کو یا فلاں “ کہہ کر بلاتے تو لوگ عرض کرتے ” اللہ کے رسول ! اسے اس نام سے نہ پکارئیے، کیونکہ یہ نام سن کرا سے غصہ آجاتا ہے۔ “ اس پر یہ آیت (ولا تنابزوا بالالقاب) نازل ہوئی۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ ناپسندیدہ لقب وہ ہوتا ہے جسے اس لقب والا ناپسند کرتا ہو اور اس سے اس کی مذمت کا پہلو نکلتا ہو۔ کیونکہ یہ لقب اس کے حق میں ایک گالی کی حیثیت رکھتا ہے۔ رہ گئے ایسے نام اور القاب واو صاف جن میں مذمت کا پہلو موجود نہ ہو وہ ناپسندیدہ نہیں ہوتے، اور آیت میں نہی کا حکم انہیں شامل نہیں ہے کیونکہ اس کی حیثیت اشخاص کے اسماء نیز افعال سے مشتق ہونے والے ناموں جیسی ہوتی ہے۔ محمد بن اسحاق نے محمد بن یزیدبن خثیم سے روایت کی ہے، انہوں نے محمد بن کعب سے، انہیں محمد بن خثیم المحاربی نے حضرت عمار ؓ بن یاسر سے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اور حضرت علی ؓ غزوہ عشیرہ کے اندر وادی ینبخ میں ایک ساتھ تھے۔ جب حضور ﷺ نے وہاں پڑائو ڈالا تو ایک ماہ تک وہیں قیام فرمایا۔ اسی دوران آپ نے بنو مدلج اور بنو ضمرہ میں ان کے حلیفوں سے صلح کی اور ان سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا۔ حضرت علی ؓ نے مجھ سے فرمایا۔ بنو مدلج کے آدمیوں کے پاس چل کر انہیں اپنے جنگلی گدھوں پر کام کرتے ہوئے نہ دیکھیں ؟ “ میں اس پر راضی ہوگیا۔ چنانچہ ہم ان کے پاس گئے اور ایک گھڑی تک انہیں کام کرتے ہوئے دیکھتے رہے۔ پھر ہمیں نیند آنے لگی۔ ہم کھجور کے ایک چھوٹے سے درخت کے پاس چلے گئے اور اس کے سائے میں بنجر زمین پر سوگئے۔ پھر حضور ﷺ کے قدموں کی چاپ سے ہماری آنکھ کھلی، ہم اٹھ بیٹھے، ہمارے جسم پر مٹی لگی ہوئی تھی۔ اس روزحضور ﷺ نے حضرت علی ؓ کو ” یا اباتراب “ (اے مٹی والے) کہہ کر پکارا کیونکہ ان کے جسم پر مٹی لگی ہوئی تھی۔ ہم نے آپ کو ساری بات بتادی جسے سن کر آپ ﷺ نے فرمایا۔ کیا میں تمہیں دو بدبخت ترین انسانوں کے بارے میں نہ بتائوں ؟ “ ہم نے عرض کیا،” وہ کون ہیں “ آپ ﷺ نے فرمایا ایک تو قوم ثمود کا وہ شخص ہے جس کی رنگت سرخ تھی اور جس نے معجزہ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں اور دوسرا وہ شخص ہے جو تمہیں ” اے علی ! اس جگہ پر تلوار کی ضرب لگائے گا “۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنا ہاتھ حضرت علی ؓ کے سر پر رکھا۔ پھر فرمایا : ” اور یہ جگہ خون سے سرخ ہوجائے گی۔ “ یہ کہہ کر آپ نے اپنا ہاتھ ان کی ڈاڑھی پر رکھا۔ سہل بن سعد کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کو اپنے ناموں میں سے کوئی نام ابوتراب سے بڑھ کر پسند نہیں تھا، اس نام سے پکارے جانے کو آپ سب سے زیادہ پسند کرتے تھے، ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس جیسا نام ناپسندیدہ نہیں ہوتا کیونکہ اس میں مذمت کا کوئی پہلو موجود ہے اور نہ ہی متعلقہ شخص اسے ناپسندیدہ خیال کرتا ہے۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں ابراہیم مہدی نے، انہیں شریک نے عاصم سے اور انہوں نے حضرت انس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (یا ذا الاذمنین اے دوکانوں والے) حضور ﷺ نے بہت سے اشخاص کے نام تبدیل کردیے تھے چناچہ آپ نے عاص کا نام عبداللہ رکھ دیا، شہاب کا نام ہشام اور حرب کا نام مسلم رکھ دیا۔ یہ تمام باتیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ آیت میں جس القاب سے روکا گیا ہے ان کی صورتیں وہ ہیں جن کا ہم نے گزشتہ سطور میں ذکر کیا ہے۔ اس کے سوا دوسرے القاب پر اس نہی کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ایک روایت کے مطابق ایک شخص نے ایک انصاری عورت سے نکاح کرنا چاہا تو حضور ﷺ نے اسے مشورہ دیا کہ اسے پہلے دیکھ لو کیونکہ انصاری کی عورتوں میں ایک بات موجود ہے یعنی ان کی آنکھیں چھوٹی ہوتی ہیں۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اس شخص سے انصار کی عورتوں کے متعلق جو بات فرمائی تھی وہ غیبت میں شمار نہیں ہوتی کیونکہ آپ نے یہ فرما کر ان کی مذمت اور نہ ہی ان کی بدگوئی کا ارادہ کیا تھا۔