48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 48:1–15

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

(اے محمد) ﷺ ہم نے تم کو فتح دی فتح بھی صریح و صاف

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے اور تم کو سیدھے راستے چلائے

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور خدا تمہاری زبردست مدد کرے

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے اور آسمانوں اور زمین کے لشکر (سب) خدا ہی کے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے انکے گناہوں کو دور کر دے اور یہ خدا کے نزدیک بڑی کامیابی ہے

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور (اس لئے کہ) منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو خدا کے حق میں برے برے خیال رکھتے ہیں عذاب دے انہی پر برے حادثے واقع ہوں اور خدا ان پر غصے ہوا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وہ بری جگہ ہے

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا ہی کے ہیں اور خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

اور ہم نے (اے محمد) ﷺ تم کو حق ظاہر کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا اور خوف دلانے والا (بنا کر) بھیجا ہے

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ (مسلمانو ! ) تم لوگ خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اسکو بزرگ سمجھو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے اور جو اس بات کو جس کا اس نے خدا سے عہد کیا ہے پورا کرے تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

جو اعراب پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل و عیال نے روک رکھا آپ ہمارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے کہہ دو کہ اگر خدا تم (لوگوں) کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لیے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے ؟ (کوئی نہیں) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخر کار) تم ہلاکت میں پڑگئے

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو شخص خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہ لائے تو ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجئے کہ آپ کے ساتھ چلیں یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے اسی طرح خدا نے پہلے تو فرما دیا ہے پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم

فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟ قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔ اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔ اگر ایک شخص یہ کہتا ہے کہ ” فلاں شہر فتح ہوگیا۔ “ تو اس سے یہی مفہوم اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ فتح غلبہ اور بالادستی کی بنا پر حاصل ہوئی ہے۔ صلح کی بنا پر حاصل نہیں ہوئی۔ سلسلہ تلاوت میں قول باری (وینصرک اللہ نصرا عزیزا۔ اور تاکہ اللہ آپ کو زبردست غلبہ عطا کرے) بھی اس پر دلالت کرتا ہے کہ آپ مکہ میں غلبہ اور بالا دستی کے تحت داخل ہوئے تھے اور آیت میں فتح مکہ ہی مراد ہے۔ اس پر قول باری (اذا جآء نصر اللہ والفتح جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچے) بھی دلالت کرتا ہے ۔ اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ آیت میں فتح مکہ مراد ہے۔ بزور شمشیر فتح پر قول باری (انا فتحنالک فتحا مبینا) کے علاوہ قول باری (ھوالذی انزل السکینۃ فی قلوب المومنین۔ اس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکون نازل کیا) کا اس واقعہ کے سیاق میں ذکر ہونا بھی دال ہے۔ کیونکہ ایمان کے ذریعے نفس کو سکون حاصل ہونے کے معنی یہی ہیں کہ اہل ایمان کو جو بصیرتیں حاصل ہونی تھیں ان کے سہارے وہ دین کے دفاع میں لڑتے رہے یہاں تک کہ وہ وقت بھی آگیا جب انہوں نے مکہ فتح کرلیا۔
Ayahs 48:16–17

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

جو اعراب پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم جلد ایک سخت جنگجو قوم کے (ساتھ لڑائی کے) لئے بلائے جاؤ گے ان سے تم (یا تو) جنگ کرتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے اگر تم حکم مانو گے تو خدا تم کو اچھا بدلا دے گا اور اگر منہ پھیر لو گے جیسے پہلی دفعہ پھیرا تھا تو وہ تم کو بری تکلیف کی سزا دے گا

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

نہ تو اندھے پر گناہ ہے (کہ سفر جنگ سے) پیچھے رہ جائے اور نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے اور جو شخص خدا اور اسکے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں اور جو روگردانی کرے گا اسے بڑے دکھ کی سزا دے گا

دلیل خلافت راشدہ قول باری ہے (قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید۔ آپ ان پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے کہہ دیجئے کہ عنقریب تم ایسے لوگوں کی طرف بلائے جائو گے جو سخت لڑنے والے ہوں گے) ایک روایت کے مطابق اس سے مراد فارس اور روم ہے بعض کا قول ہے کہ اس سے بنو حنیفہ مراد ہیں۔ یہ بات حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمر ؓ ، اور حضرت عثمان ؓ کی خلافت کی صحت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں بنو حنیفہ کے خلاف جنگ کرنے کے لئے بلایا تھا اور حضرت عمر ؓ نے ارض فارس وروم کی فتح کے لئے ان کی خدمات طلب کی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان بدویوں پر اس شخص کی طاعت لازم قرار دی جو انہیں جنگ کے لئے بلائے اور اس سلسلے میں ان کی خدمات حاصل کرے۔ چنانچہ ارشاد ہے (تقاتلو نھم او یسلمون فان تطیعو ایوتکم اللہ اجر حسنا وان تتولوا کما تولیتم من قبل یعذبکم عذابا الیما یا تو ان سے لڑتے رہو یا وہ مطیع اسلام ہوجائیں سو اگر تم اس وقت اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں نیک اجر دے گا اور اگر روگردانی کرو گے جیسا کہ اس سے قبل روگردانی کرچکے ہو تو وہ تمہیں درد ناک عذاب کی سزا دے گا) ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کی دعوت پر لبیک نہ کہنے کی صورت میں سخت عذاب کی دھمکی دی جو انہیں درج بالا دشمنان اسلام کے خلاف جنگ کرنے کے لئے نہ بلائے۔ یہ بات حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کی خلافت وامامت کی صحت پر دلالت کرتی ہے ۔ کیونکہ ان حضرات کی طاعت سے پیچھے رہ جانے کو سزا کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت زیر بحث میں مذکور لوگوں سے قبیلہ ہوازن اور ثقیف مراد ہیں جن کے ساتھ معرکہ حنین پیش آیا تھا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ آیت میں داعی یعنی انہیں دشمنان اسلام کے خلاف جنگ کی دعوت دینے والے سے حضور صلی الہل علیہ وسلم کی ذات مراد نہیں ہوسکتی کیونکہ قول باری ہے (فقل کن تخرجوا معی ابدا ولن تقاتلوامعی عدوا ۔ آپ کہہ دیجئے تم ہرگز میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے اور نہ ہی میرے ساتھ مل کر کسی دشمن سے لڑو گے) ۔ یہ قول باری اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ انہیں دشمنوں کے خلاف جنگ کی دعوت دینے والے حضور ﷺ کے علاوہ دوسرے لوگ تھے۔ دوسری طرف یہ بات واضح ہے کہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ نے ہی انہیں اس کام کی دعوت دی تھی اور روم وفارس کے جنگی محاذوں پر جانے کے لئے ان کی خدمات طلب کی تھیں۔
Ayahs 48:18–19

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ﷺ جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا اور جو (صدق و خلوص) انکے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سی غنیمتیں جو انہوں نے حاصل کیں اور خدا غالب حکمت والا ہے

بیعت رضوان صحابہ کرام ؓ کے پختہ ایمان پر دلالت کرتی ہے قول باری ہے (لقد ؓ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ۔ بیشک اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ کے ہاتھوں پر بیعت کررہے تھے) اس میں ان مسلمانوں کے ایمان کی صحت پر دلالت موجود ہے جنہوں نے حدیبیہ کے مقام پر حضور ﷺ کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔ آیت سے ان کی بصیرت کی پختگی پر بھی دلالت ہورہی ہے۔ یہ لوگ متعین افراد تھے حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق ان کی تعداد پچیس سو تھی اور حضرت جابر ؓ کے قول کے مطابق پندرہ سو تھی۔ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ سچ مچ اہل ایمان تھے اور اللہ کے دوست تھے کیونکہ یہ بات نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ کسی متعین گروہ کو اپنی خوشنودی اور رضامندی کے سند عطا کردے جب تک بصیرت کی پختگی اور ایمان کی سچائی کے لحاظ سے ان کا ظاہر وباطن ایک نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی مزید تاکید کردی چناچہ ارشاد ہے (نعلم مافی قلوبھم فانزل السکینۃ علیھم۔ اور اللہ کو معلوم تھا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا سو اس نے ان پر سکون نازل کردیا) اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ بصیرت کی پختگی اور نیت کی درستی کی جو کیفیت ان کے دلوں میں تھی اسے اس کی پوری خبر تھی نیز وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ان کا ظاہر وباطن یکساں ہے۔ قول بایر ہے (فانزل السکینۃ علیھم) سکینہ کے نزول کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نیت کی درستی پر جمے رہنے کی توفیق عطا فرمائی۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ توفیق ایزدی صدق نیت کے ساتھ حاصل ہوتی ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ان یرید اصلا حا یوفق اللہ بینھما اگر یہ (دونوں فیصل) اصلاح کا ارادہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں اس کی توفیق دے گا) ۔
Ayahs 48:20–24

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

خدا نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے کہ تم ان کو حاصل کرو گے تو اس نے غنیمت کی تمہارے لئے جلدی فرمائی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دئیے غرض یہ تھی کہ یہ مومنوں کے لئے (خدا کی) قدرت کا نمونہ ہے اور وہ تم کو سیدھے راستے پر چلائے

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور (غنیمتیں) دیں جن پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے (اور) وہ خدا ہی کی قدرت میں تھیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر تم سے کافر لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر کسی کو نہ دوست پاتے اور نہ مددگار

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

(یہی) خدا کی عادت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تم خدا کی عادت کبھی بدلتی نہ دیکھو گے

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان کافروں پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئیے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

مکہ بزور شمشیر فتح ہوا تھا نہ کہ صلح کے نتیجے میں قول باری ہے (وھو الذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفر کم علیھم۔ وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے بطن مکہ میں روک دیے بعد اس کے کہ تم کو ان پر قابو دے دیا تھا) تا آخر آیت۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آیت کا نزول صلح حدیبیہ کے سلسلے میں ہوا تھا۔ واقعہ اس طرح ہے کہ مشرکین نے چالیس آدمیوں کا ایک دستہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا تھا، یہ لوگ پکڑے گئے اور انہیں حضور ﷺ کے سامنے قیدیوں کی صورت میں پیش کردیا گیا۔ آپ نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ ایک روایت کے مطابق آیت کا نزول فتح مکہ کے سلسلہ میں ہوا تھا جب حضور ﷺ اس میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے تھے۔ اگر فتح مکہ کے سلسلے میں آیت کا نزول تسلیم کرلیا جائے تو پھر اس امر پر اس کی دلالت واضح ہے کہ مکہ بزور شمشیر فتح ہوا تھا۔ کیونکہ قول باری ہے (من بعد ان اظفر علیھم) اگر فتح مکہ صلح کی بنیاد پر ہوتا تو اس میں مشرکین پر مسلمانوں کے قابو پانے کا کوئی پہلو نہ ہوتا۔ یہ بات اس امر کی مقتضی ہے کہ مکہ بزور شمشیر فتح ہوا تھا۔
Ayah 48:25

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم انکو پامال کردیتے تو تم کو ان کی طرف سے بیخبر ی میں نقصان پہنچ جاتا (تو ابھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان کو ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے

قربانی کا اصل مقام حدود حرم ہے قول باری ہے (والھدی معکوفا ان یبلغ محلہ۔ اور (انہوں نے) قربانی کے جانور کو جو رکا ہوا رہ گیا تھا اس کی قربانی کی جگہ پر پہنچنے سے روک دیا تھا) آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو دم احصار کو غیر حرم میں ذبح کرنے کے جواز کے قائل ہیں کیونکہ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قربانی کا جانور اپنی قربانی کی جگہ پر پہنچنے سے روک دیا گیا تھا۔ اگر یہ جانور حدود حرم میں پہنچ کر وہاں ذبح ہوجانا تو محبوس یعنی رکا ہوا نہ کہلاتا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ان حضرات جس طرح سوچا ہے بات اس طرح نہیں ہے۔ اس لئے کہ ابتداء میں ہدی کو قربانی کی جگہ پر پہنچے سے روک دیا گیا تھا۔ جب صلح ہوگئی تو رکاوٹ دور ہوگئی اور بدی اپنی قربانی کی جگہ پر پہنچ گئی اور وہاں اسے ذبح کردیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر رکاوٹ کم سے کم وقت کے لئے بھی پیدا ہوجائے تو یہ کہنا درست ہوتا ہے کہ رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے جس طرح یہ قول باری ہے (قالوا یا ابانا منع منا الکیل۔ بیٹوں نے کہا ابا جان ! غلے کی ناپ تو ل ہمارے لئے روک دی گئی) حالانکہ ناپ تول ایک وقت کے لئے رکی رہی پھر دوسرے وقت میں یہ رکاوٹ ختم کردی گئی تھی۔ آیت میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ قربانی کی جگہ حرم ہے۔ اس لئے کہ ارشادباری ہے (و الھدی معکوفا ان یبلغ محلہ) اس سے یہ بات واجب ہوگئی کہ قول باری (ولا تحلقوا رذسکم حتی یبلغ الھدی محلہ۔ اور تم اپنے سر نہ مونڈو جب تک بدی اپنی قربانی کی جگہ پر نہ پہنچ جائے) میں قربانی کی جگہ حرم کو قرار دیا جائے۔ یہ جانتے ہوئے کہ مشرکین کے اندر مسلمانوں کے بچے اور قیدی موجود ہیں ان پر تیراندازی کا حکم امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد، زفر اور سفیان ثوری کا قول ہے کہ مشرکین کے قلعوں پر تیر چلانے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ ان قلعوں میں مسلمانوں کے بچے اور ان کے قیدی کیوں نہ موجودہوں۔ ان قلعوں کو آگ لگا دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ نیت مشرکین کو نقصان پہنچانے کی ہو۔ اسی طرح اگر مشرکین مسلمانوں کے بچوں کو ڈھال بنالیں تو اس صورت میں بھی ان پر تیر برسائے جائیں گے اگر تیروں کی زد میں کوئی بچہ یا قیدی آجائے گا تو اس کی نہ دیت ہوگی اور نہ کفارہ۔ ثوری کا قول ہے کہ اس صورت میں کفارہ لازم ہوگا دیت واجب نہیں ہوگی۔ امام مالک کا قول ہے کہ کفاروں کی کشتی میں اگر مسلمان قیدی موجودہوں تو اسے آگ نہیں لگائی جائے گی کیونکہ قول باری ہے (لو تویلوا لعذبنا الذین کفروا منھم عذابا الیما۔ اگر یہ (بےکس مسلمان) ٹل گئے ہوتے تو ان (مکہ والوں) میں سے جو کافر تھے انہیں ہم دردناک عذاب دیتے) حضور ﷺ نے ان مشرکین مکہ سے اپنا ہاتھ صرف اس لئے روک دیا تھا کہ ان میں مسلمان موجود تھے۔ اگر کافر مسلمانوں سے الگ ہوتے تو اللہ تعالیٰ کافروں کو سزا دیتا۔ اوزاعی کا قول ہے کہ کافر اگر مسلمان بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کریں تو ان پر تیراندازی نہیں کی جائے گی کیونکہ قول باری ہے (ولولا رجال مومنون اور اگر اہل ایمان مرد نہ ہوتے) تاآخر آیت۔ اوزاعی کا یہ بھی قول ہے کہ جس کشتی میں مسلمان موجود ہوں کافروں کی ایسی کشتی پر آگ نہیں برسائی جائے گی۔ البتہ اگر کافروں کے قلعوں میں مسلمان قیدی ہوں تو ان پر منجنیق کے ذریعے پتھر پھینکے جائیں گے اگر پتھر کسی مسلمان کو لگ جائے گا تو اسے خطا شمار کیا جائے گا۔ اگر قلعہ والے کافر مسلمانوں کو ڈھال بنالیں تو ان پر تیراندازی کی جائے گی اور نیت دشمنوں کو مارنے کی ہوگی۔ لیث بن سعد کا بھی یہی قول ہے۔ امام شافعی کا قول ہے کہ اگر کافروں کے قلعے میں مسلمانوں کے بچے اور قیدی موجود ہوں تو اس پر تیربرسانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر کوئی مسلمان تیروں کی زد میں آجائے گا تو اس کی وجہ سے کوئی دیت یا کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ اگر کافر ان مسلمانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کریں تو اس صورت میں امام شافعی سے دو قول منقول ہیں۔ ایک قول تو یہ ہے کہ کافروں پر تیراندازی کی جائے گی اور دوسرا قول یہ ہے کہ تیر اندازی نہیں کی جائے گی الایہ کہ مسلمان اور کافر گڈمڈ ہوں۔ اس صورت میں کافروں کو نشانہ بنایا جائے گا اور مسلمان کو حتی الامکان نشانہ بننے سے بچایا جائے گا۔ لیکن تیر چلانے والا اس حالت میں اگر کسی مسلمان کو ماردے گا تو قاتل پر دیت اور غلام آزاد کرنا واجب ہوگا بشرطیکہ اسے یہ معلوم ہو کہ اس نے مسلمان کو نشانہ بنایا ہے۔ اگر اسے اس کا علم نہ ہو تو صرف غلام آزاد کرنا واجب ہوگا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اہل سیر نے یہ روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے طائف والوں کے گرد محاصرہ قائم کردیا تھا اور ان پر منجنیق سے پتھر پھینکے تھے لیکن آپ نے عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنانے سے منع کردیا تھا حالانکہ آپ کو اس بات کا علم تھا کہ یہ پتھر عورتوں اور بچوں کو بھی نشانہ بنانے سے منع کردیا تھا حالانکہ آپ کو اس بات کا علم تھا کہ یہ پتھر عورتوں اور بچوں کو بھی لگ سکتے ہیں ۔ آپ نے مسلمانوں کو یہ اجازت نہیں دی تھی کہ وہ عورتوں اور بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنائیں۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اہل حرب کے درمیان مسلمانوں کی موجودگی انہیں نشانہ بنانے کی راہ میں حائل نہیں ہوتی بشرطیکہ مشرکین کو نشانہ بنانے کا ارادہ ہو مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہ ہو۔ زہری نے عبید اللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اور انہوں نے صعب بن جثامہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ سے ان مشرکین کے اہل خاندان کے متعلق پوچھا گیا تھا جن پر شبخون ماری جائے اور اس کاروائی کے دوران بچوں اور عورتوں کو بھی نقصان پہنچ جائے، آپ نے جواب میں فرمایا تھا (ھم منھم یہ بچے اور عورتیں بھی ان مشرکین میں سے ہیں) حضور ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید ؓ کو لشکر دے کر بھیجا تھا اور انہیں یہ حکم دیا تھا کہ ابنی (ایک مقام کا نام) پر صبح کے وقت حملہ کردیں اور وہاں آگ لگادیں۔ آپ جب فوجی مہمات روانہ کرتے تو انہیں حکم دیتے کہ حملہ کرنے کے پہلے انتظار کریں اگر دوسری جانب سے اذان کی آواز آجائے تو حملے سے با زرہیں اور اگر اذان کی آواز نہ سنیں تو حملہ کردیں۔ خلفائے راشدین نے بھی یہی طریق کاراختیار کیا تھا۔ اب یہ بات تو ظاہر ہے کہ ان لوگوں پر حملہ کرنے والوں کے حملے کی زد میں عورتیں اور بچے بھی آتے ہوں گے جن کے قتل کی حضور ﷺ نے ممانعت فرمادی تھی۔ اس لئے یہی بات اس وقت بھی ہونی چاہیے جب ان دشمنوں کے اندر مسلمان قیدی وغیرہ موجود ہوں۔ ان کے اندر مسلمانوں کی موجودگی ان پر دھاوا بولنے اور انہیں تیروں پر رکھ لینے کی راہ میں ہرگز رکاوٹ نہ بنے۔ خواہ اس میں مسلمانوں کے جانی نقصان کا خطرہ کیوں نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ بات اس طرح جائز ہوئی تھی کہ مشرکین کی اولاد اور ان کی عورتوں کا شمار مشرکین میں ہوتا تھا۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے حضرت صعب بن جثامہ کی روایت میں فرمایا تھا۔ اسے اس صورت پر منطبق نہیں کیا جاسکتا جب کفار کے درمیان مسلمان قیدی وغیرہ ہوں۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ حضور ﷺ کی مراد یہ تھی کہ کافروں کی اولاد کفر کے لحاظ سے ان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ بچے حقیقت میں کافر نہیں ہوتے اور نہ ہی دیت اور کفارہ کے سقوط کے باب میں وہ اپنے آباء کے فعل کی بنا پر قتل یا دیگر سزائوں کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ جن حضرات نے کافروں کے اندر مسلمانوں کی موجودگی کی صورت میں ان پر تیر چلانے کی ممانعت کے سلسلے میں آیت (ولو لا رجال مومنون) تا آخر آیت سے استدلال کیا ہے تو درحقیقت ان کا یہ استدلال بہت کمزور ہے کیونکہ آیت میں اختلافی نکتے پر کوئی دلالت موجود نہیں ہے۔ اس میں زیادہ سے زیادہ جو بات ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان پر حملہ کرنے سے اس لئے روک دیا تھا کہ ان میں مسلمان بھی موجود تھے اور حضور ﷺ کے صحابہ کرام کو خدشہ تھا کہ اگر وہ تلوار چلاتے ہوئے مکہ میں داخل ہوں گے تو اس کی زد میں مکہ میں موجود مسلمان بھی آجائیں گے۔ یہ بات کافروں پر تیراندازی اور حملہ نہ کرنے کی اباحت پر دلالت کرتی ہے ان پر حملہ کرنے کی ممانعت پر جبکہ حملہ کرنے والوں کو یہ معلوم ہو کہ دشمنوں کے اندر مسلمان بھی موجود ہیں دلالت نہیں کرتی۔ اس لئے کہ یہ ممکن ہے کہ مسلمانوں کی موجودگی کی بنا پر حملہ نہ کرنے کی اباحت ہوئی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تخییر کے طور پر حملہ کرنے کی اباحت کردی گئی ہو اس لئے آیت میں حملہ کرنے کی ممانعت پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کے مضمون میں حملہ کرنے کی ممانعت موجود ہے کیونکہ ارشاد ہے (لم تعلموھم ان تطوئوھم قتصیبکم منھم محرۃ بغیر علم۔ جن کی تمہیں خبر نہ تھی یعنی ان کے کچل جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر ان کے باعث تمہیں بھی نادانستگی میں ضرر پہنچتا) اگر ممانعت نہ ہوتی تو انہیں قتل کرنے اور نقصان پہنچانے کی بنا پر حملہ کرنے والے مسلمانوں کو ضرور نہ پہنچتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس مقام پر لفظ ” معرۃ “ کے معنی میں اختلاف رائے ہے۔ ابن اسحاق سے مروی ہے کہ اس سے دیت کا جرمانہ مراد ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اس سے کفارہ مراد ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے حضرات نے اس سے وہ صدمہ مراد لیا ہے جو اتفاقیہ طور پر مسلمانوں کے ہاتھ سے ایک مسلمان کے قتل ہوجانے کی بنا پر انہیں لاحق ہوتا ہے کیونکہ مسلمانوں کو اس بات کا صدمہ ضرور ہوتا ہے کہ ان کے ہاتھوں بلا ارادہ کس مسلمان کی جان چلی جائے۔ بعض حضرات نے اس سے عیب مراد لی ہے۔ بعض سے یہ منقول ہے کہ معرہ گناہ کو کہتے ہیں۔ لیکن یہ تاویل غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا ہے کہ اگر کسی مسلمان کا خون ہوجاتا تو یہ ہماری لاعلمی میں ہوتا چناچہ ارشاد باری ہے (لم تعلموھم ان تطئو ھم فتصیبکم منھم معدۃ بغیر علم) جس چیز کا ایک شخص کو علم نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر کوئی دلیل بھی قائم نہ کی گئی ہو اس کے کرلینے میں اس پر کوئی گناہ لازم نہیں آتا۔ ارشاد باری ہے (ولیس علیکم جناح فیما اخطاتم بہ ولکن ما تعمدت قلوبکم۔ اور تم پر اس کام میں کوئی گناہ نہیں جو تم سے غلطی سے سرزد ہوگیا۔ ہو لیکن گناہ اس کام میں ہے جو تمہارے دل جان بوجھ کر کریں) اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ آیت زیر بحث میں گناہ مراد نہیں ہے۔ یہاں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ حکم حرم کی حرمت کی بنا پر اہل مکہ کے ساتھ خاص تھا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جو شخص قتل کا سزاوار ہو اگر وہ حرم میں پناہ لے لے تو ہمارے نزدیک اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح حربی کا فر بھی اگر حرم میں پناہ لے لے اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ قتل صرف ایسے شخص کو کیا جائے گا جو حرم میں جرم کرکے اس کی حرمت کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہو۔ اس لئے مسلمانوں کو مکہ والوں پر حملے کی جو ممانعت کردی گئی تھی اس کی وجہ حرم کی حرمت تھی۔ یہ بھی احتمال ہے کہ آیت میں اللہ کی مراد یہ ہو کہ ” اگر ایسے مسلمان مراد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کے متعلق اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ وہ ان کافروں کی اولاد میں ہوں گی بشرطیکہ ان کافروں کو قتل نہ کیا جائے۔ “ اس لئے ہمیں ان کافروں کو قتل کرنے سے روک دیا گیا کیونکہ اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ ان کی اولاد میں مسلمان بھی ہوں گے۔ چونکہ اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ اگر ان کافروں کو زندہ رہنے دیا گیا تو ان کی اولاد میں مسلمان بھی ہوں گے اس لئے اللہ نے انہیں زندہ رہنے دیا اور ان کے قتل کا حکم نہیں دیا۔ قول باری (لو تذیلوا) کا درج بالا تاویل کی بنا پر مفہوم یہ ہوگا کہ یہ اہل ایمان جو ان کافروں کے اندر مسلمان موجود ہیں ان کافروں پر حملہ آور ہونے کا جواز ہے تو ضروری ہے کہ یہی حکم اس وقت بھی ثابت ہو جب کافر مسلمانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کریں۔ کیونکہ دونوں صورتوں میں کافروں کا نشانہ بنانا مقصود ہوتا ہے، مسلمانوں کو نہیں۔ اگر کوئی مسلمان حملے کی زد میں آجائے تو نہ اس کی دیت واجب ہوگی اور نہ ہی کفارہ ۔ جس طرح کافروں کے قلعے پر حملہ کرنے کی صورت میں قلعے کے اندر رہنے والا کوئی مسلمان اگر زد میں آجاتا ہے تو اس کی نہ توردیت ہوتی ہے اور نہ ہی کفارہ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس علم کے باوجود کہ محاذ کے فلاں طرف مسلمان موجود ہیں ہمارے لئے اس جہت میں تیر برسانے کی اباحت ہے اس لئے ان مسلمانوں کی حیثیت ان لوگوں کی طرح ہوگئی جن کے قتل کی اباحت ہوتی ہے اس لئے اس قتل میں کوئی چیز واجب نہیں ہوگی۔ آیت میں مذکور لفظ نہ تودیت ہے اور نہ ہی کفارہ کیونکہ نہ تو لفظی اعتبار سے دیت یا کفارہ پر اس کی دلالت ہے اور نہ کسی اور اعتبار سے اس لئے زیادہ طاہر بات یہی ہے کہ اس لفظ سے مراد وہ صدمہ ہے جو ایک مسلمان کو اس وقت لاحق ہوتا ہے جب اس کے ہاتھ سے اتفاقیہ طور پر کسی مسلمان کا خون ہوجاتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں صدمہ کا لاحق ہونا ایک فطری امر ہوتا ہے اور دستور بھی یہی ہے۔ جن حضرات نے اس لفظ کی تاویل عیب سے کی ہے ان کی اس تاویل کی بھی گنجائش ہے کیونکہ عرف اور عادت میں ایسے شخص پر انگشت نمائی ضرور کی جاتی ہے جس کے ہاتھوں غلطی سے اتفاقیہ طور پر کسی مسلمان کا خون ہوگیا ہو اگرچہ یہ انگشت نمائی سزا کے طور پر نہ بھی ہوتی ہو۔
Ayah 48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور انکو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے

قول باری ہے (اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ ۔ اور اس وقت کو بھی یاد کرو) جب (ان) کافروں نے عصییت کو اپنے دلوں میں جگہ دی، کہا جاتا ہے کہ جب حضور ﷺ نے صلحنامہ حدیبیہ تحریر کرنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو یہ عبارت لکھنے کے لئے کہا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ھذا ما اصطلح علیہ محمد رسول اللہ وسھیل بن عمرو ، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ وہ صلحنامہ ہے جس پر اللہ کے رسول محمد ﷺ اور سہیل بن عمرو نے اتفاق کیا ہے۔ حضرت علی ؓ نے حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق یہ عبارت لکھی، اس پر قریش والے اڑ گئے کہ صلحنامہ کی تحریر میں نہ تو بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا جائے اور نہ ہی محمدرسول اللہ بکہ بسمک اللھم اور محمد بن عبداللہ تحریر کی جائے۔ پھر قریش والوں نے آپ ﷺ کو مکہ میں داخل ہونے سے بھی روک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس غرور اور ہٹ دھرمی کو (حمیۃ الجاھلیۃ جاہلی عصبیت ) کا نام دیا۔ قول باری ہے (والزمھم کلمۃ التقوی اور اللہ نے انہیں تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس سے لا الہ الا اللہ کا کلمہ مراد ہے۔ قتادہ سے بھی یہی روایت ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے کلمہ اخلاص مراد ہے۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے ، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے ، انہوں نے زہری سے اس قول باری کی تفسیر میں بیان کیا کہ یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے۔
Ayahs 48:27–29

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

بیشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہو گے اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی تو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرا دی

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت (کی کتاب) اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے اور حق ظاہر کرنے کے لئے خدا ہی کافی ہے

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمد ﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں تو سخت ہیں اور آپس میں رحم دل (اے دیکھنے والے) تو انکو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سربسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے

سر مونڈنا یا کتراناعبادت احرام میں داخل ہے قول باری ہے (لتد خلن المسجد الحرام ان شآء اللہ امنین محلقین رئوسکم ومقصرین۔ تم لوگ مسجد حرام میں انشاء اللہ ضرور داخل ہوگے اور امن وامان کے ساتھ سرمونڈ کر یا بال کترا کر) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ وہ امن وامان کے ساتھ احرام باندھے ہوئے مسجد حرام میں داخل ہوجائیں گے جب اس کے ساتھ سر مونڈنے اور بال چھوٹے کرنے کا ذکر ہوا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ حلق اور تقصیہ احرام کی عبادت میں داخل ہیں اور ان کے ذریعے ہی ایک شخص احرام سے باہر آسکتا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو ان دونوں کا یہاں ذکر کرنا بلاوجہ ہوتا۔ حضرت جابر ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے حلق کرنے والوں کے لئے تین دفعہ دعا کی اور تقصیر کرنے والوں کے لئے ایک دفعہ دعا مانگی۔ یہ بات بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ حلق اور تقصیر احرام کھولنے کے لئے نسک اور قربت یعنی عبادت کا درجہ رکھتے ہیں۔