47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsاحکام القرآن

Ayah 47:1

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (اوروں کو) خدا کے راستے سے روکا خدا نے انکے اعمال برباد کر دئیے

Ayah 47:2

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو (کتاب) محمد ﷺ پر نازل ہوئی اسے مانتے رہے اور وہ ان کے پروردگار کی طرف سے برحق ہے ان سے انکے گناہ دور کر دئیے اور انکی حالت سنوار دی

Ayah 47:3

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ (حبط اعمال اور اصلاح حال) اسلیے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے جھوٹی بات کی پیروی کی اور جو ایمان لائے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے (دین) حق کے پیچھے چلے اسی طرح خدا لوگوں سے انکے حالات بیان فرماتا ہے

Ayahs 47:4–32

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اڑا دو یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کر چکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں انکو) مضبوطی سے قید کرلو پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے یہ (حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

(بلکہ) انکو سیدھے راستے پر چلائے گا اور ان کی حالت درست کرے گا

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور ان کو بہشت میں جس سے ان کو شناسا کر رکھا ہے داخل کرے گا

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں ان کے لئے ہلاکت ہے اور وہ انکے اعمال کو برباد کر دے گا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا نے جو چیز نازل فرمائی انہوں نے اس کو ناپسند کیا تو خدا نے انکے اعمال اکارت کر دئیے

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

کیا انہوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ خدا نے ان پر تباہی ڈال دی اور اسی طرح کا (عذاب) ان کافروں کو ہوگا

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کارساز ہے اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکو خدا بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں داخل فرمائے گا اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور (اس طرح) کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں اور انکا ٹھکانا دوزخ ہے

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں تمہاری بستی سے جس (کے باشندوں نے تمہیں وہاں) سے نکال دیا زور قوت میں کہیں بڑھ کر تھیں ہم نے ان کا ستیاناس کردیا اور انکا کوئی مددگار نہ ہوا

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے راستے پر (چل رہا) ہو وہ انکی طرح (ہو سکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کر کے دکھائے جائیں اور جو اپنی خاہشوں کی پیروی کریں

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے اسکی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہے اور شہد مصفی کی نہریں ہیں (جو حلاوت ہی حلاوت ہے) اور (وہاں) ان کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں اور انکے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے (کیا یہ پرہیزگار) انکی طرح (ہو سکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جنکو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو انکی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے رہتے ہیں یہاں تک کہ (سب کچھ سنتے ہیں لیکن) جب تمہارے پاس سے نکل کر چلے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو علم (دین) دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ (بھلا) انہوں نے ابھی کیا کہا تھا ؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں ان کو وہ ہدایت مزید بخشتا ہے اور پرہیزگاری عنایت کرتا ہے

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

اب تو یہ لوگ قیامت ہی کو دیکھتے ہیں کہ ناگہاں ان پر آ واقع ہو تو اس کی نشانیاں (وقوع میں) آچکی ہیں پھر جب وہ ان پر آ نازل ہوگی اس وقت انہیں نصیحت کہاں (مفید ہو سکے گی ؟ )

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

پس جان رکھو کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی اور خدا تم لوگوں کے چلنے پھرنے اور ٹھہرنے سے واقف ہے

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی لیکن جب کوئی صاف معنوں کی سورت نازل ہو اور اس میں جہاد کا بیان ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف اس طرح دیکھنے لگیں جس طرح کسی پر موت کی بیہوشی (طاری) ہو رہی ہو تو ان کے لئے خرابی ہے

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

(خوب کام تو) فرمانبرداری اور پسندیدہ بات کہنا (ہے) پھر جب (جہاد کی) بات پختہ ہوگئی تو اگر یہ لوگ خدا سے سچے رہنا چاہتے تو ان کے لئے بہت اچھا ہوتا

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

(اے منافقو ! ) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا اور (ان کی) آنکھوں کو اندھا کردیا ہے

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

جو لوگ راہ ہدایت ظاہر ہونے کے بعد پیٹھ دے کر پھرگئے شیطان نے (یہ کام) ان کو مزین کر دکھایا اور انہیں طول (عمر کا وعدہ) دیا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو لوگ خدا کی اتاری ہوئی (کتاب) سے بیزار ہیں یہ ان سے کہتے ہیں کہ بعض کاموں میں ہم تمہاری بات بھی مانیں گے اور خدا ان کے پوشیدہ مشوروں سے واقف ہے

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

تو اس وقت (انکا) کیسا (حال) ہوگا جب فرشتے انکی جان نکالیں گے اور انکے مونہوں اور پیٹھو پر مارتے جائیں گے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ہے یہ اس کے پیچھے چلے اور اس کی خوشنودی کو اچھا نہ سمجھے تو اس نے بھی انکے عملوں کو برباد کردیا

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ خدا ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور تم ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے اور تم انہیں (ان کے) انداز گفتگو ہی سے پہچان لو گے اور خدا تمہارے اعمال سے واقف ہے

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور ہم تم لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں انکو معلوم کریں اور تمہارے حالات جانچ لیں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

جن لوگوں کو سیدھا راستہ معلوم ہوگیا (اور) پھر بھی انہوں نے کفر کیا اور (لوگوں) کو خدا کی راہ سے روکا اور پیغمبر کی مخالفت کی وہ خدا کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے اور خدا ان کا سب کیا کرایا اکارت کر دے گا

کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ ) ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے درج بالا آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ خون بہانے کا یہ حکم معرکہ بدر کے دن دیا گیا تھا، اس وقت مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی، لیکن جب ان کی تعداد بڑھ گئی اور ان کا غلبہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے قیدیوں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی (فاما منا بعد واما فدآء پھر اس کے بعد یا محض احسان کرکے (انہیں چھوڑ دو ) یا معاوضہ لے کر (انہیں جانے دو ) ) اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور مسلمانوں کو قیدیوں کے بارے میں یہ اختیار دے دیا کہ اگر چاہیں تو انہیں قتل کردیں اور اگر چاہیں تو غلام بنالیں یا فدیہ لے کر چھوڑ دیں۔ ابوعبید کو اس فقرے کے بارے میں شک ہے کہ ” اگر چاہیں تو انہیں غلام بنالیں۔ ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابوعبید نے انہیں ابومہدی اور حجاج نے سفیان سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے السدی کو قول باری (فاما منا بعد واما فداء) کی تفسیر میں یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے، اس کی ناسخ یہ آیت ہے۔ (فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب) نیز (ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض) نیز (فاما تثقفنھم فی العرب فشردبھم من خلفھم) کے حکم کا ثابت ہونا اور منسوخ نہ ہونا بعید از امکان نہیں ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو زمین میں کافروں کا خون بہانے کا حکم دیا اور انہیں قیدی بنانے کی صرف اسی صورت میں اجازت دی جب انہیں پوری طرح دبا دیاجائے اور ان کا قلع قمع کردیا جائے۔ یہ حکم اس وقت کے لئے تھا جب مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور مشرکین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ جب مشرکین کا خون بہہ گیا اور قتل ہونے کی بنا پر وہ پوری طرح ذلیل ہوگئے اور منتشر کردیے گئے تو اب انہیں باقی رکھنا جائز ہوگیا۔ اس لئے ضروری ہے کہ یہ حکم اس وقت بھی ثابت تسلیم کیا جائے جب صورت حال صدراسلام کی صورت حال جیسی ہو۔ رہ گیا قول باری (فاما منا بعدو اما فداء) تو ظاہری طور پر یہ دو میں سے ایک بات کا مقتضی ہے یا تو احسان کرکے انہیں چھوڑ دیا جائے یا فدیہ لے کر انہیں جانے دیا جائے اور یہ چیز قتل کے جواز کی نفی کرتی ہے۔ اس بارے میں سلف کے مابین بھی اختلاف رائے ہے۔ ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی ہے۔ انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے، انہیں حجاج نے مبارک بن فضالہ سے اور انہوں نے حسن سے کہ انہوں نے قیدی کو قتل کردینا پسند نہیں کیا ہے بلکہ کہا ہے کہ اس پر احسان کرکے اسے چھوڑ دیا جائے یا فدیہ لے کر جانے دیا جائے۔ ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے، انہیں ہیثم نے اور انہیں اشعث نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے قیدی کو قتل کردینے کے متعلق عطاء سے سوال کیا۔ انہوں نے جواب دیا۔” اس پر احسان کرو یا اس سے فدیہ لے لو۔ “ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے اس مسئلے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا۔ ” اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو حضور ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے ساتھ کیا تھا، اس پر یا تو احسان کیا جائے یا فدیہ لے کر اس چھوڑ دیا جائے۔ “ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ان کے پاس اصطخر کے علاقے کا ایک سردار لایا گیا اور ان سے اسے قتل کردینے کے لئے کہا گیا لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور زیر بحث آیت پڑھ کر سنائی۔ مجاہد اور ابن سیرین سے بھی قیدی کو قتل کردینے کی کراہت منقول ہے۔ ہم نے سدی سے ان کا یہ قول بھی نقل کردیا ہے کہ زیر بحث آیت قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ ابن جریج سے بھی اسی قسم کی روایت منقول ہے ۔ ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی ہے، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں حجاج نے ابن جریج سے روایت کی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ نے عقبہ بن ابی معیط کو بدر کے دن بند رکھنے کے بعد قتل کا حکم دیا تھا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ فقہاء امصار قیدی کو قتل کرنے کے جواز پر متفق ہیں۔ ہمیں اس مسئلے میں ان کے مابین کسی اختلاف رائے کا علم نہیں ہے۔ حضور ﷺ سے تواتر کے ساتھ مروی ہے کہ آپ نے قیدیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ آپ نے بدر کے دن عقبہ بن ابی معیط اور نضربن الحارث کو گرفتار ہونے کے بعد قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح احد کے دن ابوعزہ شاعر کو گرفتار کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ بنو قریظہ نے عہد شکنی کے بعد جب حضرت سعد بن معاذ ؓ کے فیصلے پر صاد کیا تھا تو ان کے مردوں کو قتل کرنے اور عورتوں بچوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان میں سے صرف زبیر بن باطا پر احسان کرکے اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔ اسی طرح خیبر کے بعض حصوں کو صلحاً فتح کیا گیا اور بعض کو بزور شمشیر ۔ آپ نے ابن ابی الحقیق یہودی پر یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھے گا لیکن جب اس کی خیانت ظاہر ہوگئی اور یہ واضح ہوگیا کہ اس نے باتیں چھپائی ہیں تو آپ ﷺ نے اسے قتل کردینے کا حکم دے دیا۔ فتح مکہ کے روز آپ نے ہلال بن خطل، مقیس بن حبابہ اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نیز چند دوسرے لوگوں کو قتل کردینے کا حکم دیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ اگر یہ لوگ غلاف کعبہ سے چمٹے ہوئے بھی ہوں پھر بھی انہیں نہ چھوڑا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے اہل مکہ پر احسان کرکے انہیں چھوڑ دیا اور ان کے اموال کو مال غنیمت بھی قرار نہیں دیا۔ صالح بن کیسان سے مروی ہے، انہوں نے محمد بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت عبدالرحمن بن عوف سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میری تمنا یہ تھی کہ جس دن فجاء ہ کو میرے پاس لایا گیا تھا میں اسے آگ میں نہ جلاتا بلکہ اسے برہنہ کرکے قتل کردیتا یا اسے بھگا کر چھوڑ دیتا۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے سو س کے ایک چودھری کو ایک گروہ کے لئے امان کا حکم جاری کردیا تھا ۔ اس چودھری نے امان کے لئے اس گروہ کیا فراد کے نام گنوائے تھے لیکن اپنا نام بھول گیا تھا۔ چناچہ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے اسے امان میں داخل نہیں کیا اور اسے قتل کردیا حضور ﷺ اور صحابہ کرام سے قیدی کو قتل کردینے اور اسے زندہ رکھنے کے جواز کے سلسلے میں یہ متواتر روایتیں موجود ہیں۔ اس پر فقہاء امصار کا اتفاق ہے۔ البتہ قیدی سے فدیہ لے کر اسے چھوڑ دینے کے سلسلے میں اختلاف رائے ہے۔ ہمارے تمام اصحاب کا قول ہے کہ قیدی سے مال کا فدیہ نہیں لیا جائے گا اور نہ ہی قیدیوں کو اہل حرب کے ہاتھوں فروخت کیا جائے گا کہ وہ پھر سے مسلمانوں کے خلاف صف آراز ہوجائیں۔ امام ابوحنیفہ کا یہ بھی قول ہے کہ مسلمان قیدیوں سے ان کا تبادلہ بھی نہیں کیا جائے گا۔ انہیں کبھی بھی مسلمانوں کے خلاف دوبارہ صف آرا ہونے نہیں دیا جائے گا۔ امام ابویوسف اور امام محمد کا قول ہے کہ اگر مسلمان قیدیوں کے تبادلے میں مشرکین قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سفیان ثوری اور اوزاعی کا بھی یہی قول ہے۔ اوزاعی کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو اہل حرب کے ہاتھوں فروخت کردینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تاہم مرد قیدیوں کو صرف اسی صورت میں فروخت کیا جائے گا جبکہ مسلمان قیدیوں کو ان کے ذریعے چھڑانے کی صورت پیدا ہوجائے ۔ المزنی نے امام شافعی سے روایت کی ہے کہ امام المسلمین کو اختیار ہے کہ جن لوگوں پر اسے فتح حاصل ہوئی ہے ان پر احسان کرکے بلامعاوضہ انہیں چھوڑ دے یا فدیہ لے لے۔ جو حضرات مسلمان قیدیوں کے تبادلے میں یا مالی معاوضہ کے بدلے قیدیوں کو چھوڑ دینا جائز قرار دیتے ہیں وہ قول باری (فاما منا بعدواما فداء) سے استدلال کرتے ہیں۔ ظاہر آیت مال کے بدلے اور مسلمان قیدیوں کے تبادے میں اس کے جواز کا مقتضی ہے۔ نیز یہ کہ حضور ﷺ نے بدر کے قیدیوں سے مال کا فدیہ لیا تھا۔ مسلمان قیدیوں کے تبادلے میں اس کے جواز کے لئے یہ حضرات اس روایت سے استدلال کرتے ہیں جس کے راوی ابن المبارک ہیں۔ انہوں نے معمر سے ، انہوں نے ایوب سے ، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابوالمہلب سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت کی ہے کہ قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے حضور ﷺ کے دو صحابیوں کو گرفتار کرلیا۔ حضور ﷺ کے صحابہ نے بنو عامر بن صعصعہ کے ایک آدمی کو پکڑ لیا۔ اس شخص پر آپ کا گزر ہوا وہ رسیوں میں بندھا ہوا تھا ۔ جب آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا : ” مجھے کیوں گرفتار کیا گیا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا۔ تمہارے حلیفوں کے جرم کی بنا پر “ وہ کہنے لگا ” میں مسلمان ہوتا ہوں “ آپ نے فرمایا۔” اگر تم یہ بات اس وقت کہتے جب تم اپنے معاملے میں خود مختار تھے تو تمہیں اس کا پورا فائدہ ہوتا۔ “ یہ کہہ کر آپ ﷺ آگے بڑھ گئے ۔ اس نے پھر آپ ﷺ کو آواز دی۔ آپ ﷺ واپس مڑے۔ اس نے کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” ٹھیک ہے یہ تمہاری ضرورت ہے۔ “ پھر آپ نے ان دو مسلمانوں کے بدلے میں اسے چھوڑ دیا جنہیں تقیف کے لوگوں نے گرفتار کرلیا تھا۔ ابن علیہ نے ایوب سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے ، انہوں نے ابوالمہلب سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے دو مسلمان قیدیوں کے بدلے میں بنو عقیل کے ایک قیدی کو چھوڑ دیا تھا۔ اس روایت میں اس قیدی کے مسلمان ہوجانے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جبکہ پہلی روایت میں اس کا ذکر ہے ۔ اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اب اس صورت میں قیدیوں کا تبادلہ نہیں ہوگا۔ یعنی مسلمان قیدی کے بدلے میں مسلمان قیدی نہیں چھڑائے جائیں گے کیونکہ کسی مسلمان کو اہل کفر کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ حضور ﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر مشرکین کی یہ شرط تسلیم کرلی تھی کہ ان کا کوئی آدمی اگر مسلمان ہوکر مدینہ آجائے گا تو اسے واپس بھیج دیا جائے گا ۔ پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا اور حضور ﷺ نے مسلمانوں کو کافروں کے درمیان رہائش اختیار کرنے سے منع فرمادیا۔ آپ نے فرمایا (انا بری من کل مسلم مع مشرک۔ میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرک کے ساتھ رہتا ہو) نیز فرمایا (من اقام بین اظھر المشرکین فقد برئت منہ الذمۃ۔ جس مسلمان نے مشرکین کے درمیان اقامت اختیار کرلی اس سے ذمہ داری ختم ہوگئی) ۔ آیت زیر بحث میں احسان کرنے یا فدیہ لینے کا جو ذکر ہے نیز بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے کی جو روایت منقول ہے وہ اس قول باری کی بنا پر منسوخ ہے (فاقتلوا المشرکین حیث وجد تموھم وخذوھم واحصروھم واقعدوالھم کل مرصد فان تابو ا واقاموالصلوٰۃ واتوالزکوۃ فخلوا سبیلھم۔ پس مشرکین کو قتل کرو جہاں کہیں بھی انہیں پائو، انہیں پکڑ لو، انہیں گھیر لو اور ان کے خلاف ہر گھات لگائو۔ اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ) ہم نے ابن جریج اور سدی سے بھی اس بات کی روایت نقل کی ہے۔ قول باری ہے (قاتلوا الذین لایومنون باللہ ولا بالیوم الاخر۔ ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان نہیں رکھتے) تاقول باری (حتی یعطوا الجزیۃ عن یدوھم صاغروں یہاں تک کہ وہ ہاتھوں سے جزیہ دیں ذلیل ہوکر) یہ دونوں آیتیں کافروں سے قتال کے وجوب کو متضمن ہیں یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوجائیں یا جزیہ ادا کریں۔ اب مال کے ذریعے یا کسی اور صورت میں فدیہ لینا اس بات کے منافی ہے۔ دوسری طرف اہل تفسیر اور راویان آثار کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سورة برات سورة محمد (ﷺ) کے بعد نازل ہوئی تھی۔ اس لئے ضروری ہے کہ سورة برات میں مذکورہ حکم فدیہ کے اس حکم کا ناسخ بن جائے جس کا ذکر سورة محمد (ﷺ) میں ہوا ہے۔ لڑائی کب تک جاری رکھی جائے ؟ قول باری ہے (حتی تضع الحرب اوزارھا ۔ تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے) حسن کا قول ہے ” تاآنکہ اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ “ سعید بن جبیر کا قول ہے۔ تاآنکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد ہوجائے وہ آکر صلیب کو توڑ دیں اور خنزیر کو قتل کردیں اور پھر بکری بھیڑیے کے سامنے آجائے لیکن بھیڑیا اس سے کوئی تعرض نہ کرے نیز دو شخصوں کے درمیان عداوت باقی نہ رہے فراء کا قول ہے ” تاآنکہ دنیا سے شرک اور گناہوں کا خاتمہ ہوجائے اور پھر دنیا میں مسلمان ہی باقی رہیں یا صلح پسند۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس تاویل پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ غیر مسلموں سے اس وقت تک قتال واجب ہے جب تک ایک بھی لڑنے والا باقی نہ رہے۔
Ayahs 47:33–34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

مومنو ! خدا کا ارشاد مانو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور خدا کے راستے سے روکتے رہے پھر کافر ہی مرگئے خدا ان کو ہرگز نہیں بخشے گا

قول باری ہے (ولا تبطلوا اعمالکم ۔ اور تم اپنے اعمال کو باطل نہ کرو) اس آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ جو شخص کوئی عبادت شروع کرلے تو جب تک اسے مکمل نہ کرلے اس وقت تک اسے اس عبادت سے باہر آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کیونکہ اس صورت میں اس کے عمل کا ابطال لازم آئے گا۔ مثلاً نماز، روزہ اور حج وغیرہ۔
Ayahs 47:35–38

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

تو تم ہمت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی طرف نہ بلاؤ اور تم تو غالب ہو اور خدا تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہارے اعمال کو کم (اور گم) نہیں کرے گا

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو وہ تم کو تمہارا اجر دے گا اور تم سے تمہارا مال طلب نہیں کرے گا

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر وہ تم سے مال طلب کرے اور تمہیں تنگ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ (بخل) تمہاری بدنیتی ظاہر کر کے رہے

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو تو تم میں ایسے شخص بھی ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے اپنے آپ سے بخل کرتا ہے اور خدا بےنیاز ہے اور تم محتاج اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے

مشرکین سے صلح کی درخواست کرنا منع ہے قول باری ہے (فلا تھنوا وتدعوا الی السلم وانتم الاعلون واللہ معکم سو تم ہمت نہ ہارو، اور انہیں صلح کی طرف مت بلائو اور تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے) مجاہد سے مروی ہے کہ ” قتال سے کمزور مت پڑو اور دشمنوں کو صلح کی طرف مت بلائو۔ “ ہمیں عبداللہ بن محمد نے رویات بیان کی، انہیں حسن جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے ، انہوں نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ صلح کی درخواست میں تم پہل نہ کرو۔ قول باری (و انتم الاعلون) کی تفسیر میں قتادہ کا قول ہے۔” تم اس کے مقابلہ میں اللہ سے زیادہ قریب ہو۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ مشرکین سے صلح کی درخواست کرنا جائز نہیں بلکہ ممتنع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب سے ان کے مسلمان ہونے تک قتال کے حکم کو موکد فرمایا تھا۔ آیت میں اس موکد حکم کا بیان ہے۔ نیز یہ بھی بیان ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین عجم سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جائے جب تک وہ مسلمان نہیں ہوجاتے اور جزیہ ادا کرنے پر رضا مند نہیں ہوجاتے۔ جزیہ ادا کرنے کی رضامندی کے بغیر صلح کرنے کی بات ان آیات کے مقتضیٰ سے خارج ہے جو ہماری بیان کردہ امور کی موجب ہیں۔ اس آیت میں صلح کی نہی کا نصاً ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے اس نہی کو موکد کردیا۔ اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ حضور ﷺ مکہ میں ازروئے صلح داخل نہیں ہوئے تھے بلکہ اسے بزور شمشیر فتح کیا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضور حضور ﷺ کو مشرکین کے ساتھ صلح کرنے سے روک دیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ مسلمان ہی غالب رہنے والے ہیں۔ اگر حضور ﷺ مکہ میں اہل مکہ کی رضامندی سے صلح کے تحت داخل ہوتے تو اس صورت میں مسلمان ان کے مساوی قرار پاتے کیونکہ جو صلح فریقین کی باہمی رضامندی سے عمل میں آتی ہے اس کا یہی حکم ہوتا ہے اور دونوں فریق اس میں یکساں حیثیت کے مالک ہوتے ہیں کسی فریق کو دوسرے فریق کی بہ نسبت غلبہ حاصل کرنے کا بڑھ کر استحقاق نہیں ہوتا۔