49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsسراج البیان

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

مومنو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہو ، بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے

Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

مومنو ! نبی کی آواز پر اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اور اس کے ساتھ زور زور سے باتیں نہ کرو ۔ جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ زور زور سے باتیں کرتے ہو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت ہوجائیں ۔ اور تمہیں خبر بھی نہ ہو

Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

جو لوگ رسول اللہ کے سامنے اپنی آوازیں پست کرتے ہیں وہی ہیں جن کے دل اللہ نے پرہیزگاری کے لئے آزمانے ہیں ۔ ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے

Ayah 49:4

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

بیشک جو لوگ گھروں کی چاردیواری کے باہر سے تجھے پکارتے ہیں وہ اکثر ناسمجھ ہیں

Ayahs 49:5–9

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر وہ صبر کرنے ۔ یہاں تک کہ تو ان کی طرف نکل آتا ۔ تو ان کے لئے بہتر ہوتا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

مومنو ! اگر کوئی فاسق آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تم اسے تحقیق کرو ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کسی قوم پر جاپڑو ۔ پھر کل کو لگو اپنے کئے پر پچھتانے

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور جان لو کہ تم میں اللہ کا رسول ہے اگر وہ اکثر باتوں میں تمہاری مانا کرے تو تم پر مشکل پڑے ۔ لیکن اللہ نے تمہارے دلوں میں محبت ڈالی اور اسے تمہارے دلوں میں اچھا دکھلایا اور کفر اور گناہ اور بےحکمی سے تمہارے دلوں میں نفرت پیدا کی ایسے ہی لوگ چال پر ہیں

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

یہ اللہ کی طرف سے فضل اور احسان ہے ۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مسلمانوں کے دو فرقے آپس میں لڑپڑیں تو ان کے درمیان صلح کرادو ۔ پھر اگر ایک جماعت دوسری پر چڑھ جائے تو جو چڑھائی والی ہے تو اس سے سب لڑو ۔ یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع کرے ۔ پھر اگر رجوع کرے تو انصاف کے ساتھ ان میں صلح کرادو اور انصاف کرو بیشک خدا منصفوں کو پسند کرتا ہے

ف 1: عنیہ بن حصن انفراری اور اقرع بن حابس کوئی ستر آدمیوں کے ساتھ حضور ﷺ سے ملنے کے لئے آئے ۔ حضور ﷺ اس وقت حرم میں تشریف فرما تھے یہ لگے زور زور سے آوازیں دینے ، اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ اس طرح آپ کو مخاطب کرنا بےادبی اور بےعقلی ہے ۔ ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ اطلاع کرادیتے اور پھر انتظار کرتے حتیٰ کہ حضور ﷺ تشریف لے آتے اور ان کی معروضات کو توجہ سے سن لیتے ۔ یاد رہے کہ یہ حکم اس وقت پیغمبر جلالت قدر کے تحفظ کے لئے ضروری تھا ۔ اور اسلام چونکہ ہر زمانے کے لئے موجب خیروبرکت ہے اس لئے اب اس کے یہ معنے ہونگے ۔ کہ دین میں خواہ مخواہ موشگافیاں کرنا درست نہیں ہیں جب تک کہ سنت خود کسی مسئلہ کی اہمیت کو واضح نہ کردے ۔ ہمیں کوئی استحقاق حاصل نہیں ۔ کہ ہم اس کو مذہب کا جزو بنانے کی کوشش کریں ۔ اور لادلائل تفصیلات سے اسلام کی سادگی اور اختصار کو نقصان پہنچائیں ۔ اس کے بعد ایک اصول ارشاد فرمایا ہے ۔ ہمیں پر کہ تنقید اور چھان بین کی تغریعت مترتب ہوتی ہیں ۔ اور جس سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ مسلمانوں کے لئے حالات سے باخبر رہنا کتنا ضروری ہے ۔ فرمایا کہ دیکھو تمہارے پاس کوئی فاسق اور ناقابل اعتماد آدمی خبر لائے ۔ تو بلا تحقیق اس پر اعتماد نہ کرلو ۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے اندھا دھند اعتماد سے مسلمانوں کو نقصان پہنچ جائے ۔ اور وہ تمہارے سوء ظنکا خمیازہ بھگتیں ۔ واضح ہو کہ آج اس اصول تحقیق وتنقید کے صحیح استعمال نہ کرنے سے مسلمانوں کو کس قدر نقصان پہنچا ہے ۔ اس کا اندازہ کچھ وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کو حالات پر نظر ہے ۔ کہ مخالفین کی پھیلائی ہوئی باتوں کو ہم کس درجہ قرین عدل و انصاف سمجھنے لگے ہیں ۔ اور ان پر یوں یقین کرنے لگے ہیں جس طرح کہ وہ وحی والہام کی باتیں ہیں اور اس طرح خوداپنے بھائیوں سے بدظن ہیں اپنے اکابر سے بپھرے ہوئے ہیں اور اپنے مخلصین سے بیزار ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ انتشار ہے ۔ تفرقق وتخرب ہے اور پریشانی ہے ۔ مسلمانوں کی وحدت کی مسلک میں پرونے کے لئے اور ایک سطح پر مرکوز کرنے کے لئے یہ ضرری تھا ۔ کہ ان میں ہمیشہ ایک جماعت ایسی موجود ہے ۔ جو اختلافات کا جائزہ لیتی رہے ۔ اور جب مسلمانوں کے دو فریق میں جنگ ہو ۔ تو وہ بیچ میں پڑ کر صلح کرادے ۔ اور جو فریق نہ مانے اس کے خلاف قوت و طاقت کا استعمال کریں ۔ حتیٰ کے وہ فریق اپنی سرکشی سے باز آجائے اور خدا کے حکموں کے سامنے سرتسلیم خم کردے ۔ چناچہ اس ضمن میں ارشاد فرمایا ۔ کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہوں میں اختلاف رائے سے جنگ وجدال کا موقع پیدا ہوجائے ۔ تو تم فوراً صلح کا پرچم لہراتے ہوئے ۔ درمیان میں کود پڑو ۔ اگر وہ تمہاری نہ مانیں ۔ تو ان کو سختی کے ساتھ مجبور کردو ۔ کہ اسلام کی وحدت کے لئے اور اس کے مفاد کے لئے اپنی ذاتی اغراض کو یک قلم ترک کردیں ۔ حل لغات :۔ فاسق ۔ برا آدمی ۔ ناقابل اعتماد لعلکم ۔ تو تم مشکلات میں گفتار ہوجاؤ۔ عنت سے ہے ۔ جس کے معنے تکلیف کے ہوتے ہیں ۔
Ayahs 49:10–11

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مسلمان جو ہیں سو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو تم انپے دو بھائیوں کے درمیان ملاپ کرادو ۔ اور اللہ سے ڈرو شاید پر رحم (ف 1) ہو

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

مومنو ! ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھانہ کرے شاید وہ ان سے بہتر ہوں ۔ اور نہ بعض عورتیں دوسری عورتوں سے ٹھٹھا کریں ۔ شاید وہ ان سے بہتر ہوں ۔ اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو (یعنی ایک دوسری کی چڑ نہ ڈالو) برا نام ایمان کے بعد بدکاری ہے اور جس نے توبہ نہ کی وہی ظالم ہیں

اسلامی اخوت 1: اسلام ایک ایسا مستحکم اور مضبوط رشتہ ہے ۔ جو کبھی نہیں ٹوٹتا اور جس پر رنگ وبو کا اختلاف قطعاً اثر انداز نہیں ہوتا ۔ مسلمان نام ہے ۔ ایک ایسی ہیئت اجتماعیہ کا ہو ساری کائنات میں موجود ہے ۔ اور جغرافیائی حدود اس میں داخل انداز نہیں ہوتیں ۔ مومن تعبیر ہے ۔ وحدت واخوت سے ۔ یک جہتی اور یکسانی سے اس عمائفہ نیک نہاد کی عادات میں ، تہذیب میں اور خیالات و افکار میں نہایت نمایاں اتحاد ہوتا ہے ۔ یہ لوگ دنیا میں اس لئے آئے ہیں ۔ کہ تمام نوع کی نسلی اور قومی امتیازات مٹادیں ۔ اور تمام تفریقات کو ختم کردیں ۔ جو مصنوعی ہیں ۔ اور اتحاد انسانی کے دشمنوں نے وضع کررکھی ہیں ۔ اور ساری انسانیت کو ایک برادری اور ایک کنبہ بنادیں ۔ اسی لئے ارشاد فرمایا ۔ کہ جو لوگ ایمان کی ہمت سے بہرہ مند ہیں ۔ وہ سب بھائی بھائی ہیں ۔ ان میں اگر بتقارائے بشریت کوئی اختلاف پیدا ہو ۔ تو فوراً مٹادو ۔ اور اللہ سے ڈرو ۔ کیونکہ اس نظم والیتام میں تمہارے لئے رحمت و بخشش ہے ۔ حل لغات :۔ فائفنن ۔ دو گروہ تفی ۔ نوئے ۔ رجوع کرے ۔ مصدرقء اتسطوا قسط سے بمعنی انصاف اور عدل قوم ۔ مردم ۔ مجموعہ رجال ۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

مومنو ! تہمتیں کرنے سے بہت بچتے رہو کیونکہ بعض تہمت گناہ ہے اور جاسوسی نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو کیا کوئی تم میں سے اپنے مرے (ف 1) ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے ۔ سو اس سے تو تمہیں نفرت آتی ہے اور اللہ سے ڈرو ۔ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

استبراء تنابزسوء ظن تجسس اور غیبت 1: ان آیات میں ان قیمتی اصولوں کا ذکر کیا ہے ۔ جن کی وجہ سے قومی اخلاق کی تعمیر ہوتی ہے ۔ اور قوموں میں باہمی ربط واخوت کا رشتہ استوار رہتا ہے ۔ فرمایا ۔ کہ نہ مسلمان مرد مسلمان مردوں سے استہزاء واستخفاف کا سلوک کریں ۔ اور نہ مسلمان عورتیں مسلمان عورتوں کا مضحکہ اڑائیں ۔ کیونکہ ہوسکتا ہے ۔ کہ جن لوگوں کو تم اپنا ہدف مذاق بناتے ہو ۔ وہ تم سے اخلاق واعادت میں کہیں بہتر ہوں ۔ اور اس طرح تم ان کی غیرت وحمیت کو آزماؤ۔ نہ یہ کرو ۔ کہ ایک دوسرے لئے بڑے بڑے نام تجویز کرو ۔ اور عجیب عجیب القاب وضع کرو ۔ اور نہ آپس میں طعنہ زنی سے کام لو ۔ کیونکہ اس طرح مرد مسلمان کی تذلیل سے خسق وفجور کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔ اور ایمان کے بعد ان معرکات کا ارتکاب پھر جاہلیت کے سے اخلاق پیدا کردیتا ہے ۔ یہ اتنا بڑا گناہ ہے ۔ کہ اگر اس کا مرتکب توبہ نہ کرے ۔ تو اللہ کے نزدیک ظالم ہے ۔ سوء ظن سے بھی پرہیز کرو ۔ کیونکہ اس طرح مولوں میں خواہ مخواہ کنیوں کے اژدھے پلتے ہیں ۔ اور سوسائٹی میں افتراق وتشتت پیدا ہوتا ہے تجسس اور ٹٹول بھی کمینہ حرکات ہیں ۔ تمہیں یہ زیبا نہیں ہے ۔ کہ لوگوں کی عیب جوئی کرو ۔ اور یہ دیکھو کہ فلاں شخص رات کو کہاں جاتا ہے اور دن کہاں بسر کرتا ہے اس کے مشاغل کیا ہیں ۔ اور کہاں سے کھاتا پیتا ہے ۔ تمہیں محتسب بنا کر نہیں بھیجا گیا ۔ تم اپنی صلاح کرو ۔ اور لوگوں کو بری نظر سے نہ دیکھو ۔ غیبت بھی برائی ہے ۔ کسی کی غیر حاضری میں عیوب بیان کرنا ایک تو برا ہے ۔ دوسرے اس کے ساتھ چھپی دشمنی ہے ۔ اور تیسرے اس کی تذلیل ہے ۔ اور گویا اس کو ختم کردیتا ہے ۔ اسی لئے فرمایا کہ کیا تم پسند کرتے ہو کہ مسلمان کو اس کی غیبت کرکے مارڈالو ۔ اور پھر اس کی میت سے فائدہ اٹھاؤ۔ اور اس کا گوشت کھاؤ۔ حالانکہ وہ تمہارا بھائی ہے ۔ حل لغات :۔ ولاتنابروا ۔ بدنام نہ کرو ولا تجسسوا ۔ ٹٹول میں نہ رہو ولا یفقب ۔ غیبت سے ہے ۔ جس کے معنے کسی کی غیر حاضری میں توہین وتذلیل کی خاطر لب کشائی کرتا ہے ۔
Ayahs 49:13–14

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ۔ اور تمہاری ذاتیں اور کنبے بنائے تاکہ تم آپس میں پہچان رکھو ۔ تم میں سب سے زیادہ بزرگ اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم سب سے زیادہ باآدب (ف 1) ہے بیشک جاننے والا خبردار ہے

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

دیہاتیوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے ہیں تو کہہ کہ تم ایمان نہیں لائے لیکن تم یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے ہیں اور ایمان تو ابھی تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا ۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو وہ تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ کچھ کم نہ دیگا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

فضیلت کا تعلق روح سے ہے 1: اس آیت میں اس حقیقت کبری کا اظہار فرمایا ہے کہ معیار فضیلت جنسیت نہیں ہے ۔ مرد ہوتا نہیں ہے ۔ اور نہ عورت ہونا ۔ نہ کنبہ اور قبیلہ کا اختصاص ہے ۔ اور یہ اس نوع کے سارے اختیارات محض تعارف کے لئے ہیں ۔ معیار فضیلت یہ ہے ۔ کہ تمہارے دلوں میں تقویٰ اور پرہیزگاری کے جذبات موجزن ہوں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ تمام تقریبات جو انسانوں نے فضیلت اور برتری کے اظہار کے لئے وضع کررکھی ہیں بےمعنی ہیں ۔ وہ دولت کو بزرگی کا معیار قرار نہیں دیتا ۔ بتوں اور رفاہیئت کو وجہ اعزاز نہیں سمجھتا ۔ اس کے نزدیک عبادت اور فخر کے لئے تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں ہے ۔ بڑی بڑی تعلیمی ڈگریوں کا کالے اور گورے کی تمیز بھی مہمل ہے ۔ اس کے نزدیک وہ معزز اور محترم ہے ۔ جس کا دماغ خشئیت الٰہی کے خیالات سے مزین ہے اور جس کا قلب تقویٰ وصلاح سے معمور ہے ۔ گویا وہ فضیلت اور بزرگی کے لئے جو پیمانہ مقرر کرتا ہے ۔ وہ جسم کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا روح سے وابستہ ہے ۔ قرآن کہتا ہے ۔ تم ظاہری ٹھاٹ اور وجاہت کو نہ دیکھو ۔ چہروں کے رنگ و روغن کو ملاحظہ نہ کرو ! اور کھال کی سفیدی اور برائی سے دھوکہ نہ کھاؤ۔ بلکہ یہ دیکھو ۔ کہ باطن کیسا ہے ان خوبصورت مجسموں میں جو روح موجود ہے ۔ وہ کن مجامد سے مشصف ہے ۔ کھال کی عمدگی پر نہ جاؤ۔ اندر کی طرف جھانک کردیکھو ۔ کہ اس گوری اور چٹی کھال کے اندر مکروہ اور ذہن روح تو نہیں ہے ۔ کیونکہ ہوسکتا ہے ۔ کہ جس کے پاس بےاندازہ ہلاکت ہو ۔ وہ اخلاق کے لحاظ سے بالکل قلاش ہو ۔ اور بظاہر معزز اور اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھنے والا خصائل کے اعتبار سے ذلیل اور کمینہ ہو ۔ اسلام کے نقط نگاہ سے کوئی دنیوی تفریق انسانوں کو عزت اور ذلت کے دوگروہوں میں تقسیم نہیں کرسکتی ۔ اور کوئی مصنوعی امتیاز یہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ اس کی وساطت سے انسانیت کو توانا اور ناپاجائے ۔ بجز قلب کی سل امتی اور دماغ کی پاکیزگی کا ۔ حل لغات :۔ شعوبا ۔ جمع شعب ۔ بمعنی خاندان وقبائل ۔ جمع ۔ قبیلۃ بمعنی قوم ۔
Ayahs 49:15–16

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

سوائے اس کے نہیں کہ مومن (ف 1) وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر شبہ نہ کیا ۔ اور اللہ کی اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا وہی سچے ہیں

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

تو کیا تم اللہ کو اپنی دینداری جتاتے ہو ؟ اور (حالانکہ) اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر شئے کو جانتا ہے

حقیقی حلاوت ایمانی 1: بنواسہ کے چند دیہاتی حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ کے پاس آئے ہیں ہم مومن ہیں ۔ اور دیکھئے ہم نے دوسرے قبائل کی طرح آپ کی مخالفت نہیں کی ۔ ہمارے ساتھ ہمارا اہل و عیال بھی ہے ۔ غرض یہ تھی ۔ کہ آپ ہمارے ممنون ہوکر ہماری مدد کریں ۔ اور قحط سالی میں ہماری حوصلہ افزائی فرمائیں ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ ایمان کے مقام بلند پر فائز ہونا آسان نہیں ہے ۔ تم یہ کہو ۔ کہ ہم مسلمان ہیں اور سرسری طور پر ہم نے حقائق کو قبول کرلیا ہے ۔ ابھی ایمان کی حلاوت تمہارے دلوں میں پیدا نہیں ہوئی ۔ مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ مضبوط عقیدت رکھتے ہیں ۔ اور ان کے دلوں میں کسی طرح کا شک وشبہ پیدا نہیں ہوتا ۔ اور مخلصانہ اس کے دین کی اشاعت کے لئے اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرتے ہیں ۔ تم اسلام کو قبول کرکے حضور ﷺ پر احسان جتلاتے ہو ۔ حالانکہ تم کو خود اللہ کا ممنون ہوجا چاہیے ۔ کہ اس نے تمہیں ایمان کی توفیق مرحمت فرمائی ۔ اور اسلام کی نعمت سے نوازا ۔ حل لغات :۔ الصادقون ۔ یعنی صداقت شعار یمنون ۔ احسان جتلاتے ہیں ۔ من سے ہے ۔
Ayahs 49:17–18

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

وہ تجھ پر احسان جتاتے ہیں کہ مسلمان ہوئے ہیں تو کہہ اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ رکھو (ف 1) بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے ۔ کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم سچے ہو

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کے چھپے ہوئے بھید جانتا ہے اور جو تم کرتے ہو اللہ دیکھتا ہے

ف 1: نبواسد کے گنواروں کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ تم یہ دیکھو ۔ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے مقام ایمانی سے آگاہ نہیں ہیں ۔ اور وہ یہ نہیں جانتے ہیں ۔ کہ تم نے اسلام قبول کرکے کس درجہ احسان کیا ہے ؟ خدا تو وہ ہے جس کے سامنے آسمانوں کے بعید اور زمینوں کے اسرار بھی پوشیدہ اور مستتر نہیں ۔ پھر یہ کیونکر ہوسکتا ہے ۔ کہ وہ تمہارے دل کی گہرائیوں کو نہ جانتا ہو ۔ اور تمہارے مذہبی اور دینی مرتبہ سے آشنا نہ ہو ۔