Ayah 49:1رسول اللہ ﷺ کی عظمت اور خدمت عالیٰ میں حاضری کے احکام و آداب کی تلقین !
رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات جن گھروں میں رہتی تھیں انہیں حجرات سے تعبیر فرمایا ہے کیونکہ یہ گھر چھوٹے چھوٹے تھے اور پختہ عمارتیں بھی نہ تھیں کھجوروں کی ٹہنیوں سے بنا دی گئی تھیں چونکہ اس سورت کے پہلے رکوع میں ان حجروں کا ذکر ہے اس لیے یہ سورت سورة الحجرات کے نام سے موسوم ہوئی۔
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے توقیر اور احترام کی تلقین فرمائی اور اس سلسلے میں چند آداب ارشاد فرمائے ہیں۔
اول تو یہ فرمایا کہ اے ایمان والو تم اللہ اور رسول سے سبقت مت کرو یہ ﴿ لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ﴾ کا ترجمہ ہے ان الفاظ میں بڑی جامعیت ہے حضرات مفسرین کرام نے اس کے متعدد معنی لکھے ہیں حضرت مجاہد نے فرمایا کہ تم پہلے سے کوئی بات اپنی طرف سے نہ کہہ دو اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کرو وہ اپنے رسول کی زبانی جو فیصلہ فرما دے اس کے مطابق عمل کرو حضرت سفیان ثوری ؓ نے بھی تقریباً یہی مطلب بتایا ہے، حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو یوں کہا کرتے تھے کہ اس بارے میں کچھ حکم نازل ہوجاتا اور فلاں مسئلہ میں کوئی قانون نازل ہوجاتا تو اچھا تھا اللہ تعالیٰ کو ان کی بات پسند نہ آئی اور فرمایا اللہ اور اس کے رسول سے سبقت نہ کرو۔ (معالم التنزیل ص 209 ج 4، ابن کثیر ص 205 ج 4)
ساتھ ہی ﴿ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ 1ؕ ﴾ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈرو ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ001﴾ بیشک اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔
حضرت امام بخاری ؓ نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے بواسطہ عبد اللہ بن الزبیر ؓ نقل کیا ہے کہ بنی تمیم کا ایک قافلہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور انہوں نے عرض کیا کہ کسی شخص کو ہمارا امیر بنا دیجیے (ابھی تک آنحضرت ﷺ نے کچھ نہیں فرمایا تھا کہ) حضرت ابوبکر ؓ نے قعقاع بن معبد کو امیر بنانے کا مشورہ دیا اور حضرت عمر ؓ نے اقرع بن حابس کے امیر بنانے کی رائے پیش کی۔
حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا تمہارا اس کے علاوہ کچھ مقصد نہیں ہے کہ میری مخالفت کرو، حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کہ میں نے آپ کی مخالفت کے طور پر اپنی رائے نہیں پیش کی، اس پر جھگڑا ہونے لگے جس سے دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں، لہٰذا آیت کریمہ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا ﴾ (آخر تک) نازل ہوگئی۔
Ayah 49:2معالم التنزیل میں ہے کہ اس موقعہ پر شروع سورت سے لے کر اجر عظیم تک آیات نازل ہوگئیں، جن میں اللہ اور رسول ﷺ کے حکم سے آگے بڑھنے کی اور آپ کی خدمت میں رہتے ہوئے آوازیں بلند کرنے کی ممانعت فرما دی اور یہ حکم بھی فرما دیا کہ رسول اللہ ﷺ سے باتیں کرو تو ادب کا خیال رکھو اور اس طرح اونچی آواز سے بات نہ کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا ﴿ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ 002﴾ ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ ﷺ کی آواز پر تمہاری آواز بلند ہوجائے اور اس کی وجہ سے تمہارے اعمال حبط ہوجائیں یعنی تمہاری نیکیاں ختم کردی جائیں اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ ہو، صحیح بخاری میں ہے کہ آیات مذکورہ نازل ہونے کے بعد حضرت عمر ؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اتنا آہستہ بولتے تھے کہ پوچھنا پڑتا تھا کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ (صحیح بخاری ص 718)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ثابت بن قیس صحابی ؓ کو اپنی مجلس سے غیر حاضر پایا تو آپ کو اس کا احساس ہوا، ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میں اس کا پتہ چلاتا ہوں وہ حضرت ثابت ؓ کے پاس آئے اور انہیں اس حال میں دیکھا کہ اپنے گھر میں سر جھکائے ہوئے بیٹھے ہیں، دریافت کیا کہ آپ کو کیا ہوا ؟ جواب دیا کہ میری آواز بلند ہے رسول اللہ ﷺ کی آواز پر اپنی آواز بلند کرچکا ہوں (جو اپنی عادت کے طور پر تھی) لہٰذا میں اہل نار میں سے ہوں اس شخص نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو جا کر بتادی آپ نے فرمایا کہ جاؤ انہیں جا کر بتادو کہ اہل نار میں سے نہیں ہیں بلکہ اہل جنت میں سے ہیں۔ (صحیح بخاری، ص 510، 718)
حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ آیت بالا نازل ہونے کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے یہ طریقہ اختیار کرلیا تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اس طرح پست آواز سے بات کرتے تھے کہ جیسے کوئی شخص راز داری کی باتیں کر رہا ہو، اور حضرت ابن زبیر ؓ نے بتایا کہ جب یہ آیت نازل ہوگئی تو حضرت عمر ؓ اتنی آہستہ بات کرتے تھے کہ صرف رسول اللہ ﷺ ان کی بات سن سکیں حتیٰ کہ بعض مرتبہ آپ سوال فرماتے تھے کہ کیا کہا ؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ للتَّقْوٰى ﴾ نازل فرمائی۔
بیشک جو لوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آواز کو پست کرتے ہیں ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لیے خالص کردیا ہے ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے۔
Ayahs 49:3–5اَمْتَحَنَ لفظ امْتحان سے ماضی کا صیغہ ہے جس کا ترجمہ ” جانچ کرنا “ کیا گیا ہے۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں : اِمْتَحَنَ اَخْلَصَ کے معنی میں ہے جس طرح سونے کو پگھلا کر خالص کردیا جاتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے قلوب کو تقویٰ کے لیے خالص کردیا ہے ان کے قلوب میں تقویٰ ہی تقویٰ ہے۔ حضرات صحابہ ؓ کے آداب و احترام کو دیکھو اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کو اور مدح اور توصیف کو دیکھو اور شیعوں کے بغض اور دشمنی کو دیکھو وہ کہتے ہیں کہ تین چار صحابہ کے علاوہ سب کافر تھے۔ (العیاذ باللہ)
فائدہ : حضرات علماء کرام نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی قبر شریف کے سامنے بھی آواز بلند کرنا مکروہ ہے جیسا کہ آپ کی زندگی میں ایسا کرنا مکروہ تھا کیونکہ آپ کا احترام اب بھی واجب ہے اور آپ کو بزرخی حیات حاصل ہے۔
جب خدمت عالی میں سلام پیش کرنے کے لیے حاضر ہو تو دھیمی آواز میں سلام پیش کرے ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ ﴾ (الآیۃ) اس آیت کے سبب نزول میں صاحب معالم التنزیل نے متعدد قصے لکھے ہیں جو حضرت ابن عباس، حضرت جابر، حضرت زید بن الارقم ؓ سے مروی ہیں… حضرت زید بن ارقم ؓ کا بیان ہے کہ عرب کے کچھ لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ آؤ آج اس شخص کے پاس چلیں جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اگر وہ واقعی نبی ہیں تو ہمیں سب لوگوں سے آگے بڑھ کر ان پر ایمان لاکر سعادت مند ہونا چاہیے اگر وہ نبی نہیں ہے بلکہ انہیں بادشاہت ملنے والی ہے تو ہمیں ان کے زیر سایہ زندگی گزارنی چاہیے (بہرحال ان سے تعلق قائم کرنے میں فائدہ ہے) اس کے بعد حاضر ہوئے تو یا محمد یا محمد کہہ کر آوازیں دینے لگے، اور حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے۔ کہ قبیلہ بنی عنبر کے آدمی دوپہر کے وقت آئے تھے انہوں نے پکارا : یا محمد اخرج الینا (اے محمد ﷺ ہماری طرف نکلیے) دوپہر کا وقت تھا آپ آرام فرما رہے تھے ان لوگوں کی چیخ پکار سے آپ کی آنکھ کھل گئی اور حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے کہ یہ لوگ قبیلہ بنو تمیم کے تھے جنہوں نے دروازے پر کھڑے ہوکر آپ کو باہر آنے کے لیے پکارا اس پر آیت کریمہ نازل ہوئی ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ 004﴾ (بےشک جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے ہیں) ﴿ وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ 1ؕ﴾ اور اگر وہ لوگ صبر کرلیتے یہاں تک کہ آپ خود ہی ان کی طرف نکلتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا ﴿ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ005﴾ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے جس کسی سے جو بھی کوئی خطا سرزد ہوگئی ہو توبہ کرکے معاف کرالے۔
Ayah 49:6کوئی فاسق خبر دے تو اچھی طرح تحقیق کرلو ایسا نہ ہو کہ نادانی کی وجہ سے کسی قوم کو ضرر پہنچا دو
معالم التنزیل 212 ج 4 میں لکھا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی واقعہ یوں پیش آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو قبیلہ بنی المصطلق کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا جب ان لوگوں کو پتہ چلا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک شخص ہمارے قبیلہ کی زکوٰۃ وصول کرنے کے پہنچ رہا ہے تو لوگوں نے آبادی سے باہر آکر اکرام کے طور پر ان کا استقبال کیا چونکہ زمانہ جاہلیت میں ولید بن عقبہ اور قبیلہ مذکورہ کے درمیان عداوت تھی اس لیے شیطان کو ان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالنے کا موقع مل گیا کہ لوگ تمہیں قتل کرنے کے لیے آ رہے ہیں انہوں نے شیطانی وسوسہ کو حقیقت پر محمول کرلیا اور راستہ ہی سے واپس ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کردیا کہ ان لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ہے اور مجھے قتل کرنے کے لیے آمادہ ہوگئے۔
یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کو بہت ناگواری ہوئی آپ نے ان سے جہاد کرنے کا ارادہ فرما لیا جب آپ کے ارادہ کا ان لوگوں کو علم ہوا تو خدمت عالی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں معلوم ہوا تھا کہ آپ کا قاصد پہنچا ہے ہم بطور استقبال اکرام کے لیے باہر نکلے تھے ہمارا ارادہ تھا کہ جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اس کے موافق زکوٰۃ کے اموال آپ کے قاصد کے سپرد کردیں لیکن آپ کے قاصد نے واپس ہونا مناسب جانا ہمیں اندیشہ ہوا کہ آپ نے ناراض ہوکر خط لکھ کر انہیں واپس بلا لیا ہو ہم اللہ کے غصہ اور اس کے رسول ﷺ کے غصہ سے پناہ مانگتے ہیں آپ نے ان لوگوں کی بات کا بھروسہ نہ کیا اور حضرت خالد بن ولید ؓ کو خفیہ طریقہ پر بھیج دیا اور فرمایا کہ جاؤ اگر وہ لوگ ایمان پر باقی ہیں تو ان کے اموال کی زکوٰۃ لے لینا اور اگر دوسری کوئی صورت ہے تو ان کے ساتھ وہی معاملہ کرنا جو کافروں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ حضرت خالد بن ولید ؓ ان کے پاس پہنچے تو انہیں فرمانبردار پایا لہٰذا ان سے اموال زکوٰۃ وصول کرلیے اور واپس آکر رسول اللہ ﷺ کو صورتحال سے باخبر کردیا، اس پر آیت کریمہ ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ ﴾ (الآیۃ) نازل ہوئی جس میں ایمان والوں کو یہ بتایا کہ ہر بات بھروسہ کرنے کی نہیں ہوتی اگر کوئی فاسق آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی بات سن کر کوئی اقدام نہ کریں بلکہ پہلے خوب اچھی طرح تحقیق کرلیں اور چھان بین کرنے کے بعد کوئی قدم اٹھائیں ایسا نہ ہو کہ صرف خبر سن کر تحقیق کیے بغیر کسی قوم پر حملہ کر بیٹھیں اور پھر بعد میں ان کے بےقصور ہونے کا پتہ چلے تو ندامت اٹھانی پڑے اور بےجا اقدام کرنے کا نتیجہ بھگتنا پڑے۔
واقعہ تو ایک جزئی تھا لیکن قرآن حکیم میں ایمان والوں کو ہمیشہ کے لیے نصیحت فرما دی اور متنبہ فرما دیا کہ ہر خبر سچی نہیں ہوتی خبر کی تحقیق ضروری ہے اور تحقیق کے بعد ہی کوئی اقدام کیا جاسکتا ہے آیت کے عموم نے بتادیا کہ یہ ہدایت امور دنیا اور امور آخرت سب سے متعلق ہے اسی لیے احادیث شریف کی روایات میں سچے اور متقی آدمی کی روایت قبول کی جاتی ہے جس راوی کا حال معلوم نہ ہو اسے مستور الحال کہتے ہیں اور اس کی روایت قبول کرنے میں توقف کرتے ہیں حضرت امام مسلم ؓ نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں اس آیت کو ذکر کیا ہے اور اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ فاسق کی خبر ساقط ہے مقبول نہیں ہے۔
Ayahs 49:7–8اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و انعام سے تمہارے دلوں میں ایمان کو مزین فرما دیا اور کفر و فسوق اور عصیان کو مکروہ بنا دیا
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے امت مسلمہ کو اپنا ایک بہت بڑا انعام یاد دلایا اور فرمایا کہ دیکھو تمہارے اندر اللہ کا رسول موجود ہے اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ تمہارے اندر اپنے رسول کو مبعوث فرما دیا وھذا کقولہ تعالیٰ ﴿ لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ ﴾ دوسری بات یہ بتائی کہ ہمارا رسول جو عمل کرتا ہے اور تمہیں جو حکم دیتا ہے اس میں ان کی اپنی مصلحت ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی مدد بھی ہوتی ہے بعض مواقع میں تم مشورہ بھی دیتے ہو تمہارے بہت سے مشورے نتائج کے اعتبار سے ٹھیک نہیں ہوتے لہٰذا رسول اللہ ﷺ ان کے مطابق عمل نہیں کرتے تم اس سے دلگیر نہ ہو اگر وہ تمام امور میں تمہاری رائے پر چلیں تو بہت سی باتیں ایسی ہوں گے ان کے بارے میں تمہاری رائے قبول کرلی جائے گی تو تم مشقت میں پڑجاؤ گے اور تمہیں اس کا نقصان پہنچ جائے گا۔
تیسری بات یہ فرمائی (جو بطور امتنان ہے) کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال دی اسے تمہارا محبوب بنا دیا اور اسے تمہارے دلوں میں مزین فرما دیا تمہارے دل نور ایمان سے منور ہیں اور اس جگمگاہٹ کا اثر یہ ہوتا ہے کہ سچا مومن بندہ کسی قیمت پر بھی ایمان کی نعمت سے محروم ہوجانے پر راضی نہیں ہوتا مزید انعام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے تمہارے دلوں میں کفر اور فسوق اور نافرمانی کو مکروہ بنا دیا تمہیں کفر سے بھی نفرت ہے اور گناہوں سے بھی۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تین چیزیں جس کے اندر ہوں وہ ایمان کی مٹھاس کو پالے گا :
1 جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول اللہ ﷺ ہر چیز سے بڑھ کر محبوب ہوں۔ 2 دوسرا وہ شخص جو کسی بندہ سے صرف اللہ کے لیے محبت کرے۔ 3 جب اللہ تعالیٰ نے کفر سے بچا دیا تو اب وہ کفر میں واپس جانے کو اتنا ہی برا جانتا ہو جتنا آگ میں ڈالے جانے کو مکروہ جانتا ہے۔ (رواہ البخاری 7 ج 1)
جن لوگوں کے دلوں میں ایمان محبوب اور مزین ہوگیا اور نافرمانی سے نفرت ہوگئی ان کے بارے میں فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ007﴾ (یہ لوگ راہ ہدایت پر ہیں) ﴿ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً 1ؕ﴾ اور اللہ تعالیٰ کی یہ بخششیں فضل اور انعام کے طور پر ہیں اللہ کے ذمہ کسی کا کوئی واجب نہیں ہے وہ جسے جو بھی نعمت عطا فرمائے وہ اس کا فضل ہی فضل ہے اور انعام ہی انعام ہے آخر میں فرمایا ﴿ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ008﴾ اور اللہ علیم ہے اسے سب کا ظاہر باطن معلوم ہے اور حکیم بھی ہے وہ اپنی حکمت کے مطابق انعام سے نوازتا ہے۔
Ayah 49:9مومنین کی دو جماعتوں میں قتال ہو تو انصاف کے ساتھ صلح کرا دو ، سب مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اگر آپ عبد اللہ بن ابی کے پاس تشریف لے جاتے تو اچھا ہوتا۔ عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین تھا اسلام کے اور مسلمانوں کے خلاف خود یہ اور اس کے ساتھی کچھ نہ کچھ حرکتیں کرتے رہتے تھے جس شخص نے اس کے پاس آنے کی رائے دی تھی اس کا مطلب بظاہر یہ تھا کہ آپ خود ہی اس کے پاس تشریف لے جائیں گے تو ممکن ہے اس کا مخالفانہ جذبہ ختم ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مسلمان ہی ہوجائے رسول اللہ ﷺ ایک گدھے پر سوار ہوکر روانہ ہوگئے اور آپ کے ساتھ دیگر مسلمان بھی تھے جو پیدل چل رہے تھے آپ ایک شور زمین سے گزرے جب عبد اللہ بن ابی کے پاس پہنچے تو اس نے کہا اجی تم مجھ سے دور رہو تمہارے گدھے کی بدبو سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے اس کے جواب میں ایک انصاری صحابی نے کہا کہ اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کا گدھا خوشبو کے اعتبار سے تجھ سے بڑھ کر ہے، یہ بات سن کر عبد اللہ بن ابی کی قوم میں سے ایک آدمی کو غصہ آگیا اور دونوں میں گالم گلوچ ہونے لگی اور دونوں میں سے ہر شخص کے ساتھیوں کو غصہ آگیا جس کی وجہ سے ٹہنیوں اور ہاتھوں اور چپلوں سے کچھ مار پیٹ ہوگئی۔ حضرت انس ؓ نے واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آیت کریمہ ﴿ وَ اِنْ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا 1ۚ ﴾ واقعہ مذکور کے بعد نازل ہوئی یہ صحیح بخاری 370 کی روایت ہے صاحب در منثور نے آیت کا سبب نزول بتاتے ہوئے دوسری روایت بھی نقل کی ہیں (اس میں کوئی اشکال کی بات نہیں ہے کیونکہ کسی آیت کے اسباب نزول ایک سے زائد بھی ہوسکتے ہیں)
آیت کریمہ میں مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دینے کا اور اگر صلح ہوجانے کے بعد دونوں جماعتوں میں سے کوئی جماعت زیادتی کرے تو اس سے جنگ کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے یعنی لڑائی کو چھوڑ دے اور اللہ کے دین کے مطابق جینے کا فیصلہ کرلے اور صلح کرانے والوں کو بتادے اور یقین دلا دے کہ اب ہمیں لڑنا نہیں ہے۔
بغاوت کو دبانے کے لیے جو جنگ لڑی جائے اس میں جو فریق زیادتی پر اتر آیا تھا وہ اپنے ارادہ سے باز آگیا تو یہ صلح کرانے والے ان رجوع کرنے اور لڑائی چھوڑ دینے والوں کو نہ دبائیں حق اور ناحق کو دیکھیں اور عدل و انصاف کے ساتھ دونوں فریقوں کے درمیان صلح کرا دیں انصاف بہت بڑی چیز ہے اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والے کو پسند فرماتا ہے محض جنگ رکوا دینا کافی نہیں آپس میں صلح بھی کرا دی جائے اور جو بات مابہ النزاع (جھگڑے کی وجہ) ہے اس کو ختم کرا دیا جائے ورنہ آئندہ پھر لڑائی کا امکان رہے گا اگر مسلمانوں کی دو جماعتوں میں لڑائی ہونے لگے تو امام المسلمین پر واجب ہے کہ ان کے درمیان صلح کرا دے اور دونوں فریق کو کتاب و سنت کے احکام قبول کرنے پر آمادہ کرے اگر کوئی جماعت امام المسلمین ہی سے باغی ہوجائے تو امام ان سے گفتگو کرے ان کی شکایت سنے ان کو کوئی شبہ ہے یا غلط فہمی ہے تو اس کو دور کرے اگر یہ باغی جماعت امام اور امیر کی مخالفت کی ایسی وجوہ پیش کرے جن سے امام کا ظالم ہونا یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے تو عامۃ المسلمین اس جماعت کی مدد کریں جو امام کی اطاعت سے منحرف ہوگئی تاکہ امام اپنے ظلم سے باز آجائے اگر باغی فرقہ ایسی وجوہ نہ بتاسکے جن سے امام المسلمین کا ظالم ہونا ثابت ہوتا ہے اور یہ باغی جماعت سمجھانے سے بھی باز نہ آئے اور امام المسلمین سے جنگ کرنے ہی پر تلی رہے تو امام المسلمین اور عامۃ المسلمین اس جماعت سے قتال کریں تاکہ امام المسلمین کے باغی لوگ اطاعت میں آجائیں… اس سلسلہ کی تفصیلات ہدایہ اور دیگر کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
Ayah 49:10آخر میں فرمایا ﴿ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ﴾ کہ سارے مومن ایمانی رشتہ کی وجہ سے آپس میں بھائی بھائی ہیں (اول تو انہیں خود ہی بھائی بھائی ہونے کا لحاظ رکھنا لازم ہے آپس میں لڑائی نہ کریں میل محبت کے ساتھ رہیں کسی کی طرف سے کوئی خطا ہوجائے حقوق کی ادائیگی میں بھول چوک ہوجائے تو درگزر کرتے رہیں لفظ ﴿اِخْوَۃٌ﴾ میں اس بات کو واضح فرما دیا) اور اگر دو جماعتوں میں کوئی بگاڑ ہوجائے اور کوئی فریق درگزر کرنے کو تیار نہ ہو جس سے جنگ وجدال کی نوبت آسکتی ہے تو دوسرے مسلمان اس وقت کے اہم تقاضے کو پورا کریں یعنی دونوں فریق کے درمیان باہمی صلح کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ان دونوں کی اصلاح اور صلاح اور ان کے درمیان صلح کرانے کی ہر ممکن کوشش کریں اس کے یے تدبیریں سوچیں اور آپس میں جوڑ بٹھا دیں اور آپس میں تعلقات استوار کرا دیں ان ساری کوششوں میں اور زندگی کے ہر موڑ میں اللہ سے ڈرتے رہیں اگر خوف خدا ہوگا تو حدود شرعیہ کی رعایت کرسکیں گے اصلاح کی کوششیں اور اللہ تعالیٰ کا خوف اللہ تعالیٰ کی رحمت کو لانے والی چیزیں ہیں اس لیے آخر میں ﴿لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (رح) 0010﴾ فرمایا۔
سورة النساء میں فرمایا ﴿ لَا خَيْرَ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَيْنَ النَّاسِ 1ؕ وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَات اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا 00114﴾ (نہیں ہے کوئی بھلائی ان کے بہت سے مشوروں میں مگر جو شخص صدقے کا یا اچھی باتوں کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے کا حکم دے اور جو شخص یہ کام اللہ کی رضا جوئی کے لیے کرے گا سو ہم اس کو بڑا اجر دیں گے) آیت میں فرمایا کہ صدقہ کا حکم اور امر بالمعروف (بھلائی کا حکم دینا) اور لوگوں کے درمیان صلح کرا دینا ان کاموں کا مشورہ ہونا چاہیے، اصلاح بین الناس یعنی لوگوں کے درمیان صلح کرا دینا ان کی رنجشیں دور کردینا اور ان کے دلوں کے جوڑنے کی کوشش کرنا روٹھے ہوئے دوستوں کو منا دینا میاں بیوی کے درمیان موافقت پیدا کرنا بہت بڑی ثواب کی چیزیں ہیں۔ حضرت ابودرداء ؓ نے بیان فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تم کو نفلی روزوں اور صدقے دینے اور نفلی نماز پڑھنے کے درجے سے بھی افضل چیز نہ بتادوں ؟ ہم نے عرض کیا ضرور ارشاد فرمائیے، آپ نے فرمایا کہ یہ چیز آپس میں صلح کرا دینا ہے (پھر فرمایا کہ بغض یعنی آپس کا بگاڑ) مونڈ دینے والا ہے۔ (رواہ ابو داؤد والترمذی وقال ہذا حدیث صحیح)
دوسری روایت میں ہے کہ میں نہیں کہتا بغض بالوں کو مونڈتا ہے بلکہ وہ دین کو مونڈ دیتا ہے۔
(مشکوٰۃ المصابیح 438 از احمد و ترمذی)
Ayah 49:11باہم مل کر زندگی گزارنے کے چند احکام
ان آیات میں اہل ایمان کو چند نصیحتیں فرمائیں اولاً تو یہ فرمایا ﴿ لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ ﴾ کہ ایک دوسرے کا مذاق نہ بنائیں اور کوئی کسی کے ساتھ تمسخر نہ کرے چونکہ مردوں کا آپس میں زیادہ ملنا جلنا رہتا ہے، اور عورتوں کا عورتوں سے زیادہ میل جول رہتا ہے اس لیے طرز خطاب یوں اختیار فرمایا کہ مرد مردوں کا مذاق نہ بنائیں اور عورتیں عورتوں کا مذاق نہ بنائیں یہ مطلب نہیں ہے کہ مردوں کو عورتوں کا اور عورتوں کو مردوں کا مذاق اڑانے کی اجازت دی گئی ہے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ ہنسی کرنے والوں کو اس کا کیا حق ہے کہ کسی کا مذاق بنائیں اصل بڑائی ایمان اور اعمال صالحہ سے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہونے سے ہے کوئی شخص دوسرے آدمی کے اعمال اور باطنی جذبات اخلاص و حسن نیت کو نہیں جانتا اور یہ بھی نہیں جانتا کہ یہ شخص اللہ کے یہاں مقبول ہے یا نہیں ؟ موت کے بعد کون کس سے افضل ہوگا اس کا بھی علم نہیں ہوسکتا ہے یا جس کی مذاق بنائی جا رہی ہے وہ مذاق بنانے والے سے بہتر ہو مردوں میں بھی یہی بات ہے اور عورتوں میں بھی اگر موت کے بعد اپنے اچھے حال کا اور جس کا مذاق بنا رہے ہیں اس کی بدحالی کا یقین ہوجاتا تو تمسخر کرنے کی کوئی وجہ بھی تھی، لیکن جب اپنے ہی بارے میں علم نہیں کہ میرا کیا بنے گا تو دوسرے کا مذاق بنانے کا کیا مقام ہے ؟ کسی کا مذاق بنانے میں ایک تو تکبر ہے کیونکہ مذاق بنانے والا یہ سمجھتا ہے کہ میں ایسا نہیں ہوں جیسا وہ ہے اگر اپنے حالات کا استحضار ہو تو کبھی کسی کی برائی اور غیبت کرنے اور کسی کا مذاق بنانے کی نہ ہمت ہو نہ فرصت ملے، دوسرے کا مذاق بنانے میں ایذاء رسانی بھی ہے اس سے اس کو قلبی تکلیف ہوتی ہے جس کا مذاق بنایا گیا ایذاء دینا حرام ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تو اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کر اور اس سے مذاق نہ کر (جس سے اسے تکلیف پہنچے) اور اس سے کوئی ایسا وعدہ نہ کر جس کی تو خلاف ورزی کرے۔ (مشکوٰۃ المصابیح 414)
خوش طبعی کے طور پر جو آپس میں مذاق کیا جائے جسے عربی میں مزاح کہتے ہیں وہ درست ہے مگر جھوٹ بولنا اس میں بھی جائز نہیں ہے اور اگر مزاح سے کسی کو تکلیف ہوتی ہو وہ بھی جائز نہیں ہے رسول اللہ ﷺ کبھی کبھی مزاح فرما لیتے تھے آپ نے فرمایا میں اس موقع پر بھی حق بات ہی کہتا ہوں۔ (مشکوٰۃ المصابیح 416)
یاد رہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ مذاق بنانا زبان سے ہی ہو، آنکھ سے یا ہاتھ سے یا سر سے اشارہ کرکے کسی کا مذاق بنانا اسے معلوم ہو یا نہ ہو یہ سب حرام ہے سورة الھمزہ میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے۔
فقال اللّٰہ تعالیٰ ﴿وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ001﴾
دوسری نصیحت : یہ فرمایا ﴿ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ ﴾ (اور اپنی جانوں کو عیب نہ لگاؤ) یہ بھی بہت جامع نصیحت ہے کسی کو طعنہ دینا اس کے جسم میں، بول چال میں قد میں عیب ظاہر کرنا زبان سے ہو یا اشارہ سے خط میں لکھ کر یا مضمون شائع كركے لفظوں کے عموم میں یہ سب باتیں آگئیں اگر کسی میں کوئی عیب موجود ہو تب بھی عیب ظاہر کرنے کے طور پر بیان کرنا حرام ہے کسی دراز قد کو لمڈھیک یا لمبو یا پستہ قد کو ٹھگنا بتادیا کسی کے ہلکے پن کی نقل اتاری، جس کی چال میں فرق ہے اسے لنگڑا کہہ دینا نابینا کو اندھا کہہ کر پکارنا سیدھے آدمی کو بدھو کہنا یہ سب عیب لگانے کے زمرے میں آتا ہے، یہ سب اور اس طرح کی جو باتیں عام طور پر رواج پذیر ہیں ان باتوں سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ازواج میں حضرت صفیہ ؓ کا قد چھوٹا تھا حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے کہا کہ صفیہ کا قد بس اتنا سا ہے (اور یہ بطور عیب لگانے کے کہا) آپ نے فرمایا کہ تو نے ایسا کلمہ بولا ہے کہ اگر اسے سمندر میں ملا دیا جائے تو اسے بھی خراب کرکے رکھ دے۔ (مشکوٰۃ المصابیح 414)
یاد رہے کہ (وَلاَ تَلْمِزُوْا غَیْرَكمْ ) نہیں فرمایا بلکہ ﴿ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ ﴾ فرمایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سب مسلمان آپس میں ایک ہی ہیں جب کسی کو کچھ کہیں گے تو وہ الٹ کر جواب دے گا اس طرح سے اپنا عمل اپنے ہی کی طرف لوٹ کر آجائے گا دوسرے کو عیب لگانے والا خود اپنی بےآبروئی کا سبب بنے گا۔
تیسری نصیحت : یہ فرمائی ﴿ وَ لَا تَنَابَزُوْا بالْاَلْقَابِ ﴾ (اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے یاد کرو) ایک دوسرے کو برا لقب دینے اور برے القاب سے یاد کرنے کی ممانعت فرمائی ہے مثلاً کسی مسلمان کو فاسق یا منافق یا کافر کہنا یا اور کسی ایسے لفظ سے یاد کرنا جس سے برائی ظاہر ہوتی ہو اس سے منع فرمایا، کسی کو کتا، یا گدھا یا خنزیر کہنا کسی نو مسلم کو اس کے سابق دین کی طرف منسوب کرنا یعنی یہودی یا نصرانی کہنا یہ سب تنابز بالالقاب میں آتا ہے یہ بھی حرام ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ حضرت صفیہ ؓ پہلے یہودی دین پر تھیں ان کا اونٹ مریض ہوگیا تو آپ ﷺ نے اپنی دوسری اہلیہ زینب بنت جحش ؓ سے فرمایا کہ اسے ایک اونٹ دے دو ، انہوں نے کہا کیا میں اس یہودی عورت کو دے دوں ؟ رسول اللہ ﷺ ان کے اس جواب کی وجہ سے غصہ ہوگئے اور ذی الحج اور محرم اور کچھ ماہ صفر کا حصہ ایسا گزرا کہ آپ نے حضرت زینب ؓ سے تعلقات نہیں رکھے (رواہ ابو داؤد ص 276) مسند احمد 337، 338 ج 6 میں ہے یہ واقعہ سفر حج کا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ آیت میں تنابز بالالقاب سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص نے کوئی گناہ یا برا عمل کیا ہو اور پھر اس سے تائب ہوگیا اس کے بعد اس کو اس برے عمل کے عنوان سے پکارا جائے مثلاً چور یا زانی یا شرابی وغیرہ کہہ دیا جائے (معالم التنزیل) ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جس نے اپنے مسلمان بھائی کو کسی گناہ کی وجہ سے عیب دار بتایا یعنی عیب لگایا تو یہ شخص اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک خود اس گناہ کو نہ کرلے۔ (مشکوٰۃ المصابیح 414)
پھر فرمایا ﴿ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ ﴾ (اور ایمان کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ تم مومن ہو اگر کسی کا مذاق بناؤ گے، عیب لگاؤ گے، برے لقب سے یاد کرو گے تو یہ فسق کا کام ہوگا کہنے والے کہیں کہ دیکھو وہ آدمی فاسق ہے مسلمان ہوکر فسق اور گنہگاری کا کام کرتا ہے اپنی ذات کو برائی سے موصوف اور معروف کرنا بری بات ہے کوئی مومن ہو اور اس کی شہرت گنہگاری کے ساتھ ہو یہ بات اہل ایمان کو زیب نہیں دیتی جب اسلام کو اپنا دین بنالیا اسلام ہی کے کاموں پر چلیں اور صالحین میں شمار ہوں فاسقین کی فہرست میں کیوں شمار ہوں، تفسیر قرطبی میں ﴿ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ ﴾ کا ایک معنی یہ لکھا ہے کہ جب کسی شخص نے گناہ کرلیا پھر توبہ کرلی تو اس کو فسق کے نام سے یاد کرنا بری بات ہے اور مثلاً نو مسلم کو کافر بتانا سابق گناہ کی وجہ سے زانی یا سارق یا چور کہنا بری بات ہے یعنی جس کے حق میں یہ بات کہہ رہے ہو اس کو برے لقب سے کیوں یاد کر رہے ہو ؟ اس کی آبرو کے خلاف لقب کیوں دے رہے ہو ؟
چوتھی نصیحت : پھر فرمایا ﴿ وَ مَنْ لَّمْ يَتُبْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ 0011﴾ (اور جو گناہوں سے توبہ نہ کرے سو یہ لوگ ظلم کرنے والے ہیں) ان کا ظلم ان کی جانوں پر ہے تمام گناہوں سے توبہ کریں عموم حکم ان تینوں گمانوں سے توبہ کرنے کو بھی شامل ہے جن کا آیت بالا میں ذکر گزرا۔
Ayah 49:12پانچویں نصیحت : پھر فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ ﴾ (اے ایمان والو بہت سے گمانوں سے بچو) ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ﴿اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ ﴾ (بعض گمان گناہ ہوتے ہیں) بات یہ ہے کہ بد گمانی بہت سے گناہوں کا پیش خیمہ ہوتی ہے بہت سے لوگوں میں وہ بات ہوتی ہی نہیں جسے محض اٹکل و گمان سے طے کرلیا جاتا ہے اور پھر اپنے گمان کے مطابق تہمتیں لگاتے ہیں اور غیبتیں کرتے ہیں بد گمانی کی بنیاد پر جو باتیں کہی جاتی ہیں وہ آگے بڑھتی ہیں اس سے آپس میں فتنہ فساد پیدا ہوتا ہے حالانکہ گمان اپنا ایک ذاتی خیال ہوتا ہے خیال کا صحیح ہونا ضروری نہیں اسی لیے سورة النجم میں فرمایا ہے ﴿ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا ﴾ (گمان حق کے بارے میں کچھ بھی فائدہ نہیں دیتا) مومنین سے اچھا گمان رکھیں اور بدگمانی سے پرہیز کریں ایک حدیث میں ارشاد ہے : اِیَّاكمْ وَالظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَّ اَكذَبُ الْحَدِیْثِ (یعنی گمان سے بچو کیونکہ گمان سب باتوں سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح 427)
یاد رہے کہ اگر کسی شخص سے کچھ نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اس سے میل جول میں احتیاط کرنا اور اس کے شر سے بچنے کے لیے یہ خیال کرنا کہ ممکن ہے کہ یہ مجھے کوئی تکلیف پہنچا دے یہ اس گمان میں نہیں آتا جو گناہ ہے اپنی احتیاط کرلے غیبت نہ کرے اور گمان کو یقین کا درجہ بھی نہ دے۔
آیت کریمہ میں فرمایا ہے کہ اے ایمان والو بہت سے گمانوں سے بچو اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ بعض گمان گناہ نہیں ہوتے بلکہ محمود اور مستحسن بھی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ اچھا گمان رکھے کہ وہ بخش دے گا معاف فرما دے گا اور ساتھ ہی گناہوں سے بھی پرہیز کرتا رہے نیز مسلمانوں کے ساتھ خاص کر جو مومنین صالحین ہوں اچھا گمان رکھا جائے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ (کہ حسن ظن عبادت کی ایک صورت ہے) (مشکوٰۃ المصابیح 479 از احمد و ابو داؤد)
البتہ مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ ایسے احوال اور ایسے مواقع سے بچیں جن کی وجہ سے دیکھنے والوں کو اور ساتھ رہنے والوں کو بدگمانی ہوسکتی ہے اپنے اعمال و احوال، چال ڈھال اوراقوال میں ایسا انداز اختیار نہ کرے جس سے لوگوں کی بدگمانی کا شکار ہوجائے کیونکہ لوگوں کی نظروں میں برا بن کر رہنا بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے۔
چھٹی نصیحت : یوں فرمائی ﴿ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا ﴾ (اور تم تجسس نہ کرو) یعنی لوگوں کے عیوب کا سراغ نہ لگاؤ اور اس تلاش میں نہ رہو کہ فلاں شخص میں کیا عیب ہے اور تنہائی میں کیا عمل کرتا ہے یہ تجسس کا مرض بھی بہت برا ہے بہت سے لوگ اس میں مبتلا رہتے ہیں حالانکہ اس کا وبال بہت بڑا ہے دنیا اور آخرت میں اس کی سزا مل جاتی ہے اور تجسس کرنے والا ذلیل ہوکر رہ جاتا ہے، بہت سی مرتبہ تجسس میں بد گمانی کو استعمال کرنا پڑتا ہے جس کی ممانعت ابھی معلوم ہوئی، مومن کا کام یہ ہے کہ اگر اپنے مسلمان بھائی کا کوئی عیب دیکھے تو اسے چھپائے نہ یہ کہ کسی کے عیب کے پیچھے پڑے اور ٹوہ لگائے۔ حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی کی کوئی ایسی چیز دیکھ لی جس کے ظاہرہونے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تو پھر اس کو چھپالیا تو اس کا اتنا بڑا ثواب ہے کہ جیسے کسی نے زندہ دفن کی ہوئی لڑکی کو زندہ کردیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 434)
اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لے گئے اور بلند آواز سے پکار کر فرمایا کہ اے وہ لوگو جو زبانی طور پر مسلمان ہوگئے اور ان کے دلوں میں ایمان نہیں پہنچا مسلمانوں کو تکلیف نہ دو اور انہیں عیب نہ لگاؤ ان کے چھپے ہوئے حالات کی تلاش میں نہ لگو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ عیب کے ظاہر ہونے کے پیچھے پڑتا ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ اس کے چھپے ہوئے عیب کا پیچھا کرتا ہے یہاں تک کہ اسے رسوا کرتا ہے اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو۔ (رواہ الترمذی)
یاد رہے کہ جس طرح سے کسی کے عیب یا گناہ یا بدحالی کا پتہ چلایا جائے یہ سب تجسس میں داخل ہے چھپ کر باتیں سننا یا اپنے کو سوتا ہوا ظاہر کرکے کسی کی باتیں معلوم کرلینا یہ سب تجسس ہے جو ممنوع ہے۔
ساتویں نصیحت : یہ فرمائی ﴿ وَ لَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ﴾ (کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو) مزید فرمایا ﴿اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ۠﴾ (کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے سو اس کو تم ناگوار سمجھتے ہو) یعنی غیبت کرنا اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے جیسے تمہیں مردہ بھائی کا گوشت کھانا گوارا نہیں اسی طرح غیبت کرنا بھی ناگوار ہونا لازم ہے، بات یہ ہے کہ غیبت بہت بری بلا ہے نمازی اور تقویٰ کے دعویدار اور اپنی بزرگی کا گمان رکھنے والے تک اس میں مبتلا ہوتے ہیں دنیا میں کچھ محسوس نہیں ہوتا قیامت کے دن جب اتنی چھوٹی سی زبان کی کھیتیاں کاٹنی پڑیں گی اس وقت احساس ہوگا کہ ہائے ہم نے کیا کیا لیکن اس وقت کا پچھتانا کچھ کام نہ دے گا اب اس بات کو سمجھیں کہ غیبت کیا چیز ہے ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے سوال فرمایا کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے ؟ عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں آپ نے فرمایا (ذِكرُك أَخَاک بِمَا یَكرَہُ ) کہ تمہارا اپنے بھائی کو اس طرح یاد کرنا کہ اسے برا لگے یہ غیبت ہے ایک شخص نے عرض کیا کہ جو بات میں بیان کر رہا ہوں اگر وہ میرے بھائی کے اندر موجود ہو تو اسے بیان کرنے کے بارے میں کیسا ارشاد ہے ؟ فرمایا اگر تیرے بھائی میں وہ عیب کی بات موجود ہے جسے تو بیان کر رہا ہے تب ہی تو غیبت ہوئی اور اگر تو نے کوئی بات بیان کی جو اس کے اندر نہیں ہے تب تو تو نے اس پر بہتان باندھا۔ (رواہ مسلم ص 323، ج 2)
حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ کسی کا واقعی عیب یا گناہ بیان کرنا ہی غیبت ہے اگر جھوٹی بات کسی کے ذمہ لگا دی تو وہ تہمت دھرنا اور اس میں دو گنا گناہ ہے ایک گناہ تہمت دھرنے کا دوسرا غیبت کرنے کا رسول اللہ ﷺ نے یہ جو فرمایا کہ اپنے بھائی کو ایسے طریقہ پر یاد کرنا جس سے اسے ناگواری ہو اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ سامنے کہنا بھی غیبت ہے اور تہمت دھرنا بھی غیبت میں شامل ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں سننے والے کو ناگوار ہوتی ہیں، غیبت کی بنیاد یہ ہے کہ جس شخص کے بارے میں کچھ کہا جا رہا ہے وہ اسے برا لگے سامنے ہو یا پیچھے غیبتیں کرتے ہیں پھر یوں کہہ دیتے ہیں کہ میں غلط نہیں کہہ رہا ہوں میں اس کے منہ پر کہہ سکتا ہوں حدیث بالا سے ان کی جرات بےجا کا پتہ چلا، ایسے لوگ نفس اور شیطان کے دھوکے میں ہیں، گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں جس کا عذاب اور وبال بہت بڑا ہے اور سمجھتے یوں ہیں کہ ہم گناہ سے بری ہیں اللہ تعالیٰ شانہٗ سمجھ دے۔
غیبت کا تعلق چونکہ حقوق العباد سے بھی ہے اس اعتبار سے غیبت سے بچنے کا اہتمام کرنا بہت زیادہ ضروری ہے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ غیبت زنا سے زیادہ سخت کیسے ہے ؟ آپ نے فرمایا ایک شخص زنا کرلیتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے اور اگر کوئی شخص غیبت کرلے تو اس وقت تک اس کی مغفرت نہ ہوگی جب تک وہ شخص معاف نہ کردے جس کی غیبت کی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 415)
بات یہ ہے کہ غیبت کرنے میں حق اللہ اور حق العبد دونوں کا ضائع کرنا ہے اللہ تعالیٰ نے چونکہ غیبت کرنے سے منع فرمایا ہے اس لیے غیبت کرنا حرام ہے اور گناہ کبیرہ ہے اور چونکہ بندہ کی بھی بےآبروئی کی ہے اس لیے اس کا حق بھی ضائع کیا اس کا نام احترام سے لیا جاتا ہے کم از کم اس کی برائی نہ کی جاتی جب غیبت کرلے تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے اور جس کی غیبت کی ہے اس سے معافی مانگ لے البتہ بعض اکابر نے یہ فرمایا ہے کہ اگر اسے اطلاع پہنچ گئی ہو تو معافی مانگ لے اور اگر اطلاع نہ پہنچی ہو تو اس کے لیے اتنی بار مغفرت کی دعا کرے کہ دل یہ گواہی دے دے کہ غیبت کی تلافی ہوگئی، ایک حدیث میں ہے کہ غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تو اس کے لیے استغفار کرے جس کی غیبت کی ہے اور یوں دعا کرے ﴿اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلَہٗ﴾ اے اللہ ہماری اور اس کی مغفرت فرما دے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 415)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس رات کو مجھے معراج کرائی گئی ایسے لوگوں پر میرا گزر ہوا جن کے تانبے کے ناخن تھے وہ ان سے اپنے چہروں اور سینوں کو چھیل رہے تھے میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی بےآبروئی کرتے تھے۔ (رواہ ابو داؤد 313 ج 2)
غیبت کرنے والے آیت کریمہ اور احادیث شریف کے مضامین پر اور اس سلسلہ کی وعیدوں پر غور کریں۔
جس طرح غیبت کرنا حرام ہے اسی طرح غیبت سننا بھی حرام ہے اگر کوئی شخص کسی کی غیبت کر رہا ہو تو سننے والے پر لازم ہے کہ اس کا کاٹ کرے اور جس کی غیبت ہو رہی ہے اس کی طرف سے دفاع کرے۔ حضرت اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی مسلمان اپنے بھائی کی آبرو کی طرف سے دفاع کرے اللہ تعالیٰ شانہٗ کے ذمہ ہوگا کہ قیامت کے دن دوزخ کی آگ کو اس سے دور رکھے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ ﴿ وَ كَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ 0047﴾ تلاوت فرمائی۔ (ذكر ھما صاحب المشکوٰۃ 424)
اور حضرت معاذ بن انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی منافق کی باتوں سے کسی مومن کا دفاع کیا اللہ تعالیٰ شانہٗ قیامت کے دن ایک فرشتہ بھیجے گا جو اس کے گوشت کو دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے گا اور جس کسی شخص نے مسلمان میں کوئی عیب ظاہر کیا اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کے پل پر روک دے گا جب تک اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل جائے یعنی معافی مانگ کر اسے راضی نہ کرلے جس کو عیب دار بتایا تھا۔ (رواہ ابو داؤد 313 ج 2)
اور حضرت جابر اور ابو طلحہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی مسلمان کی کسی جگہ بےحرمتی کی جا رہی ہو اور اس کی آبرو گھٹائی جا رہی ہو اور وہاں جو شخص موجود ہو اس کی مدد نہ کرے (یعنی برائی کرنے والے کو اس کے عمل سے نہ روکے) اللہ تعالیٰ ایسی جگہ میں اسے بغیر مدد کے چھوڑ دے گا جہاں وہ اپنی مدد کا خواہش مند ہوگا اور جس کسی نے مسلمان کی ایسی جگہ مدد کی جہاں اس کی آبرو گھٹائی جا رہی ہو اور بےحرمتی کی جا رہی ہو اللہ تعالیٰ اس شخص کی ایسی جگہ میں مدد فرمائے گا جہاں وہ اپنی مدد کا خواہش مند ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 424)
ان روایات سے معلوم ہوا کہ غیبت کرنا بھی حرام ہے اور غیبت سننا بھی حرام ہے اگر کسی کے سامنے کوئی شخص کسی کی غیبت کرنے لگے تو اس کا دفاع کرے۔
یہ جو ارشاد فرمایا ﴿ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ۠﴾ اس بارے میں حدیث شریف میں ایک واقعہ مروی ہے اور وہ یہ کہ ایک صحابی نے زنا کرلیا تھا جن کا نام ماعز ؓ تھا انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں چار مرتبہ اقرار کیا کہ میں نے ایسا کیا ہے پھر ان کو سنگسار کردیا گیا ایک شخص نے اپنے ساتھی سے راہ چلتے ہوئے کہا دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی لیکن اس سے رہا نہ گیا یہاں تک کہ کتے کی طرح اس کی رجم کی گئی یعنی پتھروں سے مارا گیا، رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سن لی اور خاموشی اختیار فرمائی پھر کچھ دور آگے بڑھے تو ایک مردہ گدھے پر گذر ہوا جو اوپر کو ٹانگ اٹھائے ہوئے تھا آپ نے فرمایا فلاں فلاں کہاں ہیں (ایک بات کہنے والا دوسرا سننے والا) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم حاضر ہیں، فرمایا تم دونوں اترو اور اس مردار گدھے کی نعش سے کھاؤ انہوں نے عرض کیا رسول اللہ اس میں سے کون کھا سکتا ہے آپ نے فرمایا وہ جو ابھی ابھی تم نے اپنے بھائی کی بےآبروئی کی ہے وہ اس گدھے کی نعش کھانے سے زیادہ سخت ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے بیشک وہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔ (رواہ ابو داؤد ص 252 ج 2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردہ شخص کی غیبت کرنا بھی حرام ہے جیسا کہ زندہ کی غیبت کرنا حرام ہے۔
فائدہ : یہ ضروری نہیں کہ زبان سے جو غیبت کی جائے وہی غیبت ہو آنکھ کے اشارہ سے ہاتھ کے اشارہ سے نقل اتارنے سے بھی غیبت ہوتی ہے کسی کی اولاد میں عیب نکالے کسی کی بیوی کا کوئی عیب بیان کردے اس میں ڈبل غیبت ہے باپ کی بھی اور اولاد کی بھی اور بیوی کی بھی اور شوہر کی بھی، بہت سے لوگوں کو غیبت کا ذوق ہوتا ہے جس سے ملتے ہیں جہاں ملتے ہیں کسی نہ کسی کا برائی سے تذکرہ کردیتے ہیں اور آخرت کے عذاب سے بچنے کی کوئی فکر نہیں کرتے۔
آٹھویں نصیحت : پھر فرمایا ﴿وَ اتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ (اور اللہ سے ڈرو) اس میں سب گناہوں سے بچنے کا حکم فرما دیا اور ساتھ ہی ﴿اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ0012﴾ بھی فرمایا کہ بلاشبہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے مہربان ہے۔ جس کسی سے جو گناہ ہوگیا ہو اس سے توبہ کرے اور کسی بندہ کا کوئی حق مار لیا ہو غیبت کی ہو بےآبروئی کی ہو اس سے بھی معاف کرالے اللہ تعالیٰ مہربانی فرمائے گا معاف فرما دے گا۔
Ayah 49:13نویں نصیحت : اس کے بعد فرمایا کہ اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہارے چھوٹے بڑے قبیلے بنا دئیے تاکہ آپس میں جان پہچان ہو کہ یہ فلاں قبیلہ کا ہے اور یہ فلاں خاندان کا ہے آدمی ہونے میں برابر ہو کیونکہ سب آدم اور حواء ( علیہ السلام) کی اولاد ہو لہٰذا آدمیت میں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ہے اور اصل فضیلت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک معتبر ہے اور وہ فضیلت تقویٰ سے ہے ﴿ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ﴾ تم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہے۔ اس آیت کریمہ میں فضیلت اور عزت کا معیار بتادیا ہے اس کے برخلاف لوگوں کا یہ حال ہے کہ بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں نمازوں کے بھی تارک ہیں زکوٰتیں بھی نہیں دیتے فسق و فجور میں مبتلا ہیں حرام کھاتے اور حرام کھلاتے ہیں لیکن نسب کی بڑائی بگھارتے ہیں سید اور ہاشمی اور صدیقی اور فاروقی، عثمانی، علوی، انصاری، شیخ، ملك، چوہدری اور دیگر نسبتوں کے بغیر اپنا نام ہی نہیں بتاتے۔ آ رہے ہیں سید صاحب داڑھی مونڈی ہوئی ہے پتلون پہنے ہوئے ہیں ٹائی لگی ہوئی ہے بینک کے منیجر ہیں اپنے نانا جان سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے اعمال سے کچھ بھی نسبت نہیں، ظاہر اور باطن دشمنوں کے ہاتھ بکا ہوا ہے اور ہیں سید صاحب یہی حال دوسری نسبتیں استعمال کرنے والوں کا ہے یہ لوگ جن قوموں کو کم تر جانتے ہیں ان کے علماء، و صلحاء، نمازی اور متقی حضرات کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں کچھ لوگ سفید سرخ رنگ ہونے کی وجہ سے اور کچھ لوگ عربی ہونے کی وجہ سے اپنی فضیلت کی خام خیالی میں مبتلا ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اِنَّك لَسْتَ بِخَیْرٍ مِنْ اَحْمَرَ وَلاَ اَسْوَدَ الاَّ أَنْ تَفَضَّلَہٗ بِتَقْوٰی (بےشک گورے اور کالے سے بہتر نہیں الاَّ یہ کہ تقویٰ میں بڑھ جائے۔ ) (رواہ احمد فی مسندہ عن ابی ذر ؓ 5، 108)
رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ صفا پر چڑھ کر قریش سے خطاب فرمایا اور فرمایا کہ اپنی جان کو دوزخ سے بچالو میں قیامت کے دن تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا بنی کعب، بنی مرۃ، بنی عبد شمس، بنی عبد مناف، بنی ہاشم، بنی عبد المطلب، اے جماعت بنی قریش سب سے الگ الگ خطاب فرمایا اور ان سے یہی فرمایا : اَنْقَذُوْا اَنْفُسَكمْ مِّنَ النَّارِ کہ اپنی جانوں کو دوزخ سے بچاؤ اپنے چچا عباس بن مطلب اور اپنی پھوپھی صفیہ ؓ اور اپنی بیٹی فاطمہ ؓ سے بھی خاص طور سے یہ خطاب فرمایا۔
(رواہ البخاری و مسلم کما فی مشکوٰۃ المصابیح 460)
نسب کی بنیاد پر نجات نہیں ہوگی ایمان کی بنیاد پر نجات ہوگی اور اعمال صالحہ کی بنیاد پر رفع درجات ہوگا رسول اللہ ﷺ کی شفاعت بھی اہل ایمان ہی کے لیے ہوگی۔
جزوی طور پر جو نسبی شرف کسی کو حاصل ہے اس کے بل بوتہ پر گناہ کرتے چلے جانا اور اپنے کو دوسری قوموں کے متقی لوگوں سے برتر سمجھنا یہ بہت بڑے دھوکہ کی بات ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت (یعنی متکبرانہ مقابلہ بازی) کو اور باپوں پر فخر کرنے کو ختم کردیا ہے اب تو بس مومن متقی ہے یا فاجر شقی ہے انسان سب آدم کے بیٹے ہیں آدمی کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ (رواہ ابو داؤد والترمذی کما فی المشکوٰۃ 418)
دسویں نصیحت : ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ0013﴾ بیشک اللہ جاننے والا ہے باخبر ہے۔
استحضار ہے کیونکہ اللہ علیم وخبیر ہے کس کا کیا درجہ ہے کون ایمان دار ہے کون بےایمان ہے کون گناہوں میں لت پت ہے اور آخرت میں کس کا کیا انجام ہونے والا ہے اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے سب تقویٰ اختیار کرنے کے لیے فکر مند ہوں تاکہ متقیوں میں حشر ہو اور ان کا جیسا معاملہ ہو۔
لِتَعَارَفُوْا کی تشریح کرتے ہوئے صاحب بیان القرآن فرماتے ہیں ” تعارف کی مصلحتیں متعدد ہیں مثلاً ایک نام کے دو شخص ہیں خاندان کے تفاوت سے دونوں میں تمیز ہوسکتی ہے اور یہ کہ ا سے دور کے اور نزدیک کے رشتوں کی پہچان ہوتی ہے اور بقدر قرب و بعد نسب کے ان کے حقوق شریعہ ادا کیے جاتے ہیں اور مثلاً اس سے عصبات کا قرب و بعد معلوم ہوتا ہے تو حاجب اور محجوب متعین ہوتا ہے مثلاً یہ کہ اپنا خاندان ہوگا تو اپنے کو دوسرے خاندانوں کی طرف منسوب نہ کرے گا جس کی ممانعت حدیث شریف میں وارد ہوئی ہے آیت کریمہ میں لفظ شُعُوْب اور لفظ قَبَآىِٕلَ مذکور ہے شعب خاندان کی جڑ کو یعنی اوپر والے خاندان کو اور قبیلہ اس کی شاخ کو کہتے ہیں۔
Ayah 49:14محض زبانی اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کو تنبیہ
معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ آیت کریمہ ﴿ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا 1ؕ﴾ قبیلہ بنی اسد کے چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ مدینہ منورہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ خشک سالی کا زمانہ تھا ان لوگوں نے ظاہر کیا کہ ہم نے اسلام قبول کرلیا حالانکہ دل سے مومن نہ تھے انہوں نے مدینہ منورہ کے راستوں میں گندگیاں ڈال کر خراب کردیا اور مالوں کے بھاؤ بھی مہنگے کردئیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں صبح شام جاتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ کے پاس عرب کے لوگ اپنی جانوں کو لے کر آگئے اور ہم اپنا سارا سامان اور بال بچوں کو لے کر آگئے اور ہم نے آپ سے جنگ نہ کی جیسا کہ فلاں فلاں قبیلہ نے آپ سے جنگ کی یہ باتیں کہہ کر آپ پر احسان رکھتے تھے اور صدقات کے اموال آپ سے طلب کرتے تھے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت نازل فرمائی ﴿ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا 1ؕ﴾ دیہات کے لوگوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے یعنی دل سے ہم نے آپ کی تصدیق کرلی اور آپ کے دین کو مان لیا ﴿ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا ﴾ آپ فرما دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے (یہ تمہارا زبانی دعویٰ ہے) ﴿ وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا ﴾ (لیکن تم یہ کہہ سکتے ہو کہ ہم نے ظاہری طور پر بات مان لی ہے اور فرمانبرداری کا اعلان کردیا ہے) ﴿ وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ ﴾ (اور تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا) محض زبانی اقرار اور ظاہری طور پر اعمال اسلام اپنا لینے سے بندہ مومن نہیں ہوتا اسلام تصدیق قلبی کا نام ہے منافقین کے بارے میں ارشاد ہے ﴿ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا باللّٰهِ وَ بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِيْنَۘ008﴾ (اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں) بات یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کے رسول کو دل سے سچا جاننے اور ماننے سے مومن ہوتا ہے اگر یقین نہ ہو یا یقین تو ہو لیکن تسلیم نہ ہو یعنی مانتا نہ ہو تو مومن نہیں ہوتا جیسا کہ فرعون کی قوم کے بارے میں فرمایا ﴿ وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَيْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا ﴾ (اور انہوں نے ان آیات کا انکار کیا حالانکہ انہیں ان کے سچا ہونے کا یقین تھا اور ان کا انکار ظلم اور تکبر کی وجہ سے تھا۔ )
بہت سے لوگ دنیاوی اغراض کے لیے یہ ظاہر کردیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں لیکن اندر سے تصدیق نہیں کرتے مسلمان انہیں ظاہری دعویٰ کی وجہ سے مسلمان سمجھ لیتے ہیں لیکن اللہ کے نزدیک مومن نہیں ہوتے۔
پھر فرمایا ﴿ وَ اِنْ تُطِيْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا يَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَيْـًٔا ﴾ اور اگر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے دل و جان سے ظاہر سے بھی باطن سے بھی لوگوں کے سامنے بھی تنہائیوں میں بھی تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے کوئی کمی نہ فرمائے گا یعنی تمہارے اعمال کا پورا پورا ثواب دے گا بلکہ کم از کم دس گنا بڑھا کر دے گا اس میں یہ بات بتادی کہ ایمان اعمال صالحہ پر آمادہ کرتا ہے ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی آخرت میں کام آئیں گے طلب دنیا کے لیے یہ کہنا کہ ہم مومن ہیں اور ظاہری طور پر ایمان قبول کرلینا آخرت میں مفید نہیں ہے وہاں کی نجات اور اجر وثواب ایمان حقیقی پر موقوف ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ0014﴾ (بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے) اگر سچے دل سے ایمان قبول کرلو گے تو اس سے پہلے جو کیا ہے اس سب کی معافی ہوجائے گی۔
قولہ تعالیٰ : لَا يَلِتْكُمْ قرأ ابو عمر ویالتکم بالالف کقولہ تعالیٰ : وما التناھم والآخرون بغیر الف وھما لغتان و معنا ھما لا ینقصکم یقال : الت یالت التاً ولات یلیت لیتاً اذا نقص (ذكرہ فی معالم التنزیل) (معالم التنزیل میں ہے لَايَلِتْكُمْ اسے ابوعمرو نے لاَ یَالِتْكم پڑھا ہے، الف کے ساتھ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَمَا اَلَتْنَاھُمْ﴾ اور دوسروں نے بغیر الف کے پڑھا ہے، اور دونوں صورتوں میں معنی ہے، تمہیں نقصان نہیں پہنچے گا کہا جاتا ہے الت یالت التًا ولاَت یَلیْتَ لیتًا جب نقصان ہوجائے۔