49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کے رسول سے سبقت نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو بلاشبہ اللہ سننے والا خوب جاننے والا ہے

سورة الحجرات مدینہ اللہ رب کریم اور نبی اعظم و آخر ﷺ کے سامنے بڑھ کر بات کرنے کی ممانعت 1 ۔ اس سورة مبارکہ میں مسلمانوں کو آداب سکھائے گئے ہیں جیسا کہ ہم نے تعارف میں عرض کردیا ہے اور آداب جمع ہے ادب کی اس لیے سمجھ لینا چاہیے کہ ادب کیا ہے ؟ ادب اس چیز کو کہتے ہیں جس کو عام بول چال میں پاس کرنا اور لحاظ رکھنا کے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے جس کا ادب کیا جائے اس کے تعلق سے ادب حق ہے اور ادب کرنے والے کے تعلق سے فرض۔ انسان اگر فی الواقع انسان ہے اور انسانیت کو ضائع نہیں کر بیٹھا تو وہ اپنے سے برتر کا ادب کرتا ہے اور پھر برتری کی کئی صورتیں ہیں مثلاً رشتے اور قرابت کی برتری ہے ، عمر کی برتری ہے ، علم و ہنر کی برتری ہے ، استاد و معلم کی برتری ہے ، حکومت کی برتری ہے ، دولت کی برتری ہے ، احسان کی برتری ہے ، دینداری کی برتری ہے اور پھر سب سے بڑھ کر نبوت و رسالت کی برتری ہے جس کا اس جگہ ذکر مقصود ہے اس برتری میں سارے نبی و رسول آتے ہیں اور ہمارے لیے ان کی برتری پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے اور ہمارے نبی و رسول خاتم النبیین ﷺ کا ادب و احترام معلوم کرنے کے لیے کیا صورت ہوگی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہی ایک صورت ہے جو مجھ سے پہلے کسی نے کہہ دی ہے کہ ع ” بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر “ اور جو ادب کے طریقے اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں بتائے ہیں ان کا ذکر کیا جارہا ہے ان سب کا ماحصل معلوم کرنا ہے تو وہ یہ کہ عبادت کے لائق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کے سوا اور کوئی نہیں جس کی عبادت کی جائے بس کوئی ایسا نہ ہو جس پر عبادت کا لفظ اطلاق کرے باقی ساری تعظیموں اور توقیروں سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و توقیر لازم و ضروری ہے کیونکہ آپ ﷺ ہی ساری برتویوں سے زیادہ برتر ہیں زیر نظر آیت میں ادب و احترام کے درس کا آغاز لفظ (لاتقدموا) سے بیان کیا گیا ہے مفسرین کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے پیشوا و راہنما کے حکم کے بغیر خود ہی امرو نہی کے نافذ کرنے میں جلدی کرے تو اس کے متعلق عرب کہتے ہیں فلان قدم بین یدی امامہ یعنی فلاں شخص اپنے امام و پیشوا کے آگے آگے چلتا ہے اور ابن کثیر (رح) نے ابن عباس ؓ سے اس جملہ کی تفسیر اس طرح نقل کی ہے کہ عن ابن عباس ؓ عنھما لا تقولو اخلاف ال کتاب والسنۃ کتاب و سنت کی خلاف ورزی مت کرو ، کتاب اللہ کی خلاف ورزی اللہ سے آگے بڑھنے کی کوشش اور سنت کی خلاف ورزی رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھنے کی کوشش تصور کی جائے گی جس کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کے بعد کسی شخص کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے رب کریم اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے علی الرغم کوئی بات کہے یا کرے کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان ہونے کا اعلان و اعتراف کرتا ہے تو گویا وہ اس امر کا اعلان کرتا ہے کہ آج کے بعد اس کی خواہش ، اس کی مرضی ، اس کی مصلحت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر بلاحیل و حجت قربان کردی ہے اور پھر اس کا یہ کہنا اس کی خشصی اور انفرادی زندگی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ قومی اور اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں ، سیاسی ، اقتصادی اور اخلاقی پر بھی محیط ہے گویا نہ کسی فرد کو یہ حق ہے کہ وہ کوئی ایسا قانون بنائے جو کتاب و سنت سے متصادم ہو اور نہ ہی کسی عدالت کو یہ حق ہے کہ وہ احکام الٰہی اور احکام رسول ﷺ کے برعکس کوئی فیصلہ دے اگر کوئی فرد یا کوئی جماعت یا کوئی عدالت ایسا کرے گی تو وہ فرد مسلمان ، جماعت مسلمانوں کی جماعت اور عدالت اسلامی عدالت نہیں کہلا سکتی اور نہ ہی وہ فیصلہ کرنے والا ایک مسلمان جج ہوسکتا ہے خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کیسا ہو۔ ایک بار پھر غور کرو کہ اس جگہ جو لفظ استعمال ہوا وہ ہے (لاتقدموا) اور تقدموا تقدیم سے ہے اور تقدیم چار طرح سے ہوتی ہے : 1 ۔ مکان کے لحاظ سے ۔ 2 ۔ زمانہ کے لحاظ سے ۔ 3 ۔ مرتبہ کے لحاظ سے۔ 4 ۔ ترتیب ضاعی کے لحاظ سے اور قدم کے معنی ہیں کسی چیز کو آگے کیا جائے گا بھجال جائے گا جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ : (لمئس ماقدمت لھم انفسھم) (80:5) ” بہت ہی برا ہے جو انہوں نے اپنی جانوں کیلئے اگے بھیجا ہے “ اور ایک جگہ ارشاد ہوا کہ (یقدم قومہ بوم القیامہ) (98:11) ” قیامت کے روز وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا “ اس جگہ نفی کیلئے ارشاد فرمایا کہ : (لاتقدموا) جب تم کو کسی کام کا حکم دیا جائے تو اسے اس کے اس وقت سے پہلے نہ کرو جس وقت تمہیں کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور (قدم بین یدیہ) کے معنی آگے بڑھنے کے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ (قدم) متعدی ہے یعنی ایک چیز کو دوسری سے آگے کرنا اور اس میں دو احتمال کئے گئے ہیں ایک یہ کہ مفعول کو چھوڑ دیا گیا ہے اور نفس فعل کی تقدیم ہی مراد ہے یعنی تقدیم مت اختیار کرو اور دوسرا یہ کہ مفعول کو عام رکھنے کی خاطر حذف کردیا گیا ہے اور دونوں ہی احتمال صحیح اور درست ہیں اور ابن کثیر کے حوالہ سے ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ عبداللہ بن عباس ؓ نے اس کو اختیار کیا ہے یعنی کتاب و سنت کے خلاف مت کرو یا مت کہو ( بین یدیہ) کا استعمال قرآن کریم میں عام ہے اس کے لیے دیکھیں عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ آیت 66 ، جلد دوم آل عمران آیت 50 ، جلد سوم سورة الاعراف آیت 17 ، جلد ہفتم سورة سبا آیت 31 اور آیت 46 وغیرہ وغیرہ۔ زیر نظر آیت کے شان نزول میں کئی باتیں کہی گئی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ باتیں کچھ بھی بیان ہوئی ہوں جب حکم عام ہے تو ان باتوں کے ذکر کرنے کی ضرورت کیا ہے اور اس تحقیق کی کہ آیا ان میں سے کون سی بات اصل سے تعلق رکھتی ہے بات عام اور واضح ہے اور اختصار اس کا یہ ہے کہ جب کسی بھی دنیا کی چیز کی محبت نبی اعظم و آخر ﷺ کی محبت پر فوقیت لے گئی تو گویا ایمان رخصت ہوگیا اور یہی بات آپ ﷺ نے خود ارشاد فرمائی جہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ : ( لا یومن احد کم حتیٰ کون احب الیہ من والدہ و والدہ والناس اجمعین) ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ مجھے اپنے باپ ، بیٹے اور دنیا کے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ سمجھے “ اور اس بات کی تصدیق زبان نہیں عمل ہی کرسکتا ہے جس کو یہ بات میسر آگئی لاریب وہ مومن ہوگیا اور خالی دعوئوں کی حیثیت جو کچھ ہوتی ہے وہ سب پر عیا ہے اس لیے ہر آدمی کو خود اپناجائزہ لے کر فیصلہ کرلینا چاہیے اللہ تعالیٰ توفیق دے اور یہ بات پہلے معلوم ہے کہ آپ ﷺ کی تعظیم ہی اللہ کی تعظیم ہے اور آپ ﷺ کا ادب و احترام ہی اللہ کا ادب و احترام ہے آپ ﷺ کی پیروی و اتباع اللہ کی پیروی و اتباع ہے اللہ کا حق بندوں پر صرف یہ ہے کہ وہ اس ذات الٰہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں خواہ وہ کوئی نبی و رسول ہی کیوں نہ ہو یہ شرک ہے اور اللہ کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کیا جاسکتا اور جس کو بھی شریک مانا یا سمجھا جائے وہ کفر ہے اس آیت کے ضمن میں بہت سے مسائل ذکر کئے جاسکتے ہیں اور اس کی جنتی وضاحت کی جائے اتنی ہی کم ہے لیکن طول کلامی سے بچنے کے لیے اور اختصار کے پیش نظر ہم یہ کہیں گے کہ یہ بات معلوم ہوجانے کے بعد کہ فلاں معاملہ میں نبی اعظم و آخر ﷺ کا یہ حکم یا یہ فرمان ہے پھر جو شخص کسی امام ، پیشوا ، پیرو مرشد یا مذہبی اور سیاسی راہنما کی بات کا منتظر رہے کہ ہمارے امام ، پیشوا ، پیرو مرشد یا مذہبی و سیاسی لیڈر نے کیا فرمایا ہے لاریب وہ اس کی زد میں آتا ہے خواہ وہ کوئی ہے کون ہے اور کیسا ہے اس کسوٹی پر ہر ایک شخص کا حق ہے کہ وہ اپنی حالت کی خود جانچ پڑتال کرے کیونکہ یہ معاملہ بہت ہی نازک ہے اور جتنا نازک ہے اس سے بھی زیادہ اہم ہے اس وقت فی زمانا اس کسوٹی کی بہت ضرورت ہے کیونکہ ہماری محبتوں کا جو حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور آپ ﷺ کے ادب کا کون دعویدار نہیں ہم میں سے ہر ایک کا دعویٰ یین ہے کہ وہ جو ادب و احترام نبی کریم ﷺ کا کرتا ہے کوئی ایسا ادب و احترام نہیں کرسکتا یہاں تک کہ کوئی بانڈھ ، ڈوم ، قوال اور گانے بجانے والا بھی ایسا نہیں جو اس بات کا زحم اپنے اندر نہ رکھتا ہو۔ ایک بات مزید سن لیں اور اس کے بعد آگے بڑھتے ہیں وہ بات یہ ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے ادب کے متعلق ہمارے بھائیوں سے ایک غلطی یہ بھی ہوئی ہے کہ وہ افراط ادب میں مبتلا ہوجاتے ہیں وہ یہ کہ پیغبر اعظم و آخر ﷺ کو خدا اور ادب کو عبادت بنا دیتے ہیں حالانکہ یہی بات شرک کہلاتی ہے۔ احمد کو ہم نے جان رکھا ہے وہی احد مذہب کچھ اور ہوگا کسی بو الفضول کا اور یہ بات جو سنی گئی ہے عرض کرنے میں کیا قباحت ہے کہ ” انا احمد بلامیم والعرب بلاعین “ یہ محبت نہیں بلکہ سو جھوٹوں کا ایک جھوٹ ہے اور ہم کو کہہ دینا چاہیے کہ سبحانک ھذا بھتان عظیم حاشاکلا یہ بہت بھاری بہتان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ (وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون) اکثر لوگوں کا حال ایسا ہی ہے کہ اللہ رب کریم کو مانتے ہیں اور شرک بھی کرتے جاتے ہیں مختصر یہ کہ اس سورت کے مضامین کا صل مقصد مسلمانوں کی باہم اخوت قائم کرنا ہے اس لیے اس کی ابتدا اس سے کی ہے کہ سب کے سب اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت کو باقی سب باتوں پر مقدم کریں اور یہی اخوت اسلامی کی بنیاد ہے اور باہمی محبت قائم ہی نہیں ہوسکتی جب تک کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی محبت باقی سب محبتوں پر فوقیت نہ رکھتی ہو جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد اوپر نقل کیا جاچکا ہے اس کی مزید وضاحت درکار ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة التوبہ کی آیت 108 ، جلد دوم سورة المائدہ 101 ، جلد چہارم سورة الانفال آیت 20 ، جلد ہفتم سورة الاحزاب آیت 53 ، سورة النور 62 ، 63 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنی آوازوں کو پیغمبر ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اور آپ ﷺ سے اس طرح زور سے نہ بولا کرو جیسے آپس میں بولتے ہو کہیں تمہارے اعمال ضائع نہ ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو

ایمان والوں کو نبی کریم ﷺ کے پاس اپنی آوازوں کو پست رکھنے کا حکم 2 ۔ گزشتہ آیت کی طرح حکم عام مسلمانوں کو دیاج ارہا ہے اور الفاظ اور حکم کو زوردار بنانے کیلئے دوبارہ خطب کیا جارہا ہے کہ ایمان والو اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ قول و عمل میں نبی اعظم و آخر ﷺ سے سبقت نہ کرنے کے ساتھ اس با تکو بھی یاد رکھو کہ اگر آپ ﷺ سے بات کرنے کی ضرورت ہو اور آپ ﷺ کے ساتھ ہم کلامی کا شرف حاصل ہو تو اس بات کا خوب خیال رکھو کہ تمہاری آواز آپ ﷺ کے سامنے بلند نہ ہونے پائے اور انداز گفتگو تیکھا نہ ہو ، آواز کو بھی پست رکھو اور آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرو ، برابری کا معیار اختیار نہ کرو اس سلسلہ میں ذرا سی غفلت بھی تمہارا سب کچھ برباد کرکے رکھ دے گی لاریب اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے بھی صحابہ کرام ؓ کی وہ جماعت جن کے دلوں میں ایمان جم چکا تھا کبھی ادب و احترام کے خلاف بات نہیں کرتے تے لیکن نئے نئے مسلمن ہو کر آنے والے جن کو ابھی ایمان کی مکمل شناخت نہ ہوئی تھی بلکہ دیکھا دیکھی اسلام کی طرف پھر آئے تھے گنوار اور اعراب ان ہی میں سے کسی سے کوئی ایسی حرکت ہوسکتی تھی اور یہ بھی کہ ان کو ادب و احترام سکھانا مقصود تھا اور اسلام کے بتائے ہوئے آداب میں سے یہ بھی ایک ادب ہے کہ جب بات عام حکم کے تحت سمجھائی جاسکتی ہو تو کسی کا نام لے کر اور اس کو مخاطب کرکے نہ کی جائے اور خصوصاً جب بات بھی اچھی نہ ہو اور کرنے والا اپنی جہالت کے باعث ایسا کررہا ہو تو جہالت کے مقابلہ میں جہالت کو اختیار کرنا اسلام کو کبھی پسند نہیں آیا بلکہ جہالت کے مقابلہ میں اسلام نے ہمیشہ علم ہی کا مظاہرہ کرنے کا حکم دیا ہے اور پھر جب یہ حکم نازل ہوگیا تو اس کے بعد تو صحابہ کرام ؓ کی حالت کچھ عجیب ہی قسم کی ہوگئی تھی اور کتنے ہی صحابہ کرام ؓ کا ذکر آتا ہے کہ وہ صرف آپ ﷺ کے چہرہ کی طرف اس وقت دیکھتے جب آپ ﷺ کسی دوسرے سے مشغول گفتگو ہوتے اور جس سے گفتگو فرماتے وہ آپ ﷺ کے چہرہ کی طرف بھی آنکھ بھر کر نہ دیکھتا اور بات کرتے وقت بھی نہایت ہی آواز کو پست رکھتے یہاں تک کہ بعض کو تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ذرا اونچی آواز سے بات کرو کہ میں سمجھ سکوں اور جواب دے سکوں ایک صاحب ؓ کی قدرتی آواز بلند تھی جیسا کہ اکثر کی فطری طور پر آواز بلند ہوتی ہے تو وہ صاحب گھر ہی میں بیٹھ گئے اور دن رات رونے میں مصروف رہے آپ ﷺ نے جب ایک دو روز تک نہ دیکھا تو ان کے بارے میں دریافت کیا آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ تو دن رات رونے میں مصروف ہیں اور گھر سے باہر بھی نہیں نکلتے آپ ﷺ نے پوچھا کیوں ؟ تو عرض کی گئی کہ محض اس لیے کہ ان کی آواز فطری طور پر ذرا ونچی ہے اور وہ عادتاً بلند آواز سے بولتے ہیں اور ان کو اندیشہ ہے کہ شاید یہ آیت میرے حق میں نازل ہوئی ہے آپ ﷺ نے ان صاحب ؓ کو بلوایا اور فرمایا کہ اس آیت میں ادب و احترام سکھایا گیا ہے بولنے اور بات کرنے سے منع نہیں کیا گیا اور احترام کا مقام دل ہے اور انسان کو اپنی اصلاح کرنے کا حکم ہے فطری طور پر آواز بلند ہونے کا تعلق اس بات سے نہیں جیسا کہ تم نے سمجھ لیا ہے اور مزید ارشاد فرمایا کہ ” جس طرح تم میں سے ہر ایک دوسرے کو پکارتا ہے اور بلاتا ہے اس طرح پکارنے اور بلانے سے منع فرمایا گیا ہے کہ تم میرے رسول ﷺ کو اس طرح خطاب نہ کرو “ اب غور طلب بات یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص دوسرے سے کس طرح مخاطب ہوتا ہے ؟ اس طرح کہ اس کا نام لے کر آواز دے دیتا ہے اور دور کھڑا ہو کر زور دار آواز سے بھی خطاب کرسکتا ہے تاکہ وہ اس کی بات کو سن سکے اور ان دونوں باتوں سے لوگوں کو منع کیا گیا ہے کون نہیں جانتا کہک آپ ﷺ کا اصل نام کیا تھا ؟ سب کو معلوم ہے کہ آپ ﷺ کے اصل دو نام تھے ایک محمد ﷺ اور دوسر احمد ﷺ اور یہ بات بھی ہم جانتے ہیں کہ جو کسی کا نام ہوتا ہے دوسرا اس کو اسی نام سے مخاطب کرتا ہے اور کرسکتا ہ کے اور دور سے بھی ایک دوسرے کو متوجہ کرنے کے لیے آواز دی جاسکتی ہے اور انہی دونوں باتوں سے مسلمانوں کو روکا گیا ہے آپ ﷺ کا فقط ذاتی نام بھی استعمال نہ کرو اور دور سے آوازیں بھی مت بلند کرو بلکہ قریب آکر بلائو اور آہستگی سے بات کرو اور زور دار آواز سے دور کھڑے ہو کر مت بلائو اگر تم نے ایسا کیا تو خطرہ ہے کہ کہیں تمہارے اعمال ہی برباد نہ ہوجائیں اور یہ بات ہم کو پہلے معلوم ہے کہ جب بھی اعمال حبط ہونے یا ضائع ہونے کا ذکر آتا ہے تو مراد یہی ہوتی ہے کہ جو اچھے اعمال کیے جاتے ہیں جن کا اجر عنداللہ محفوظ ہوتا ہے انہیں کے برباد ہونے کا ذکر کرتا ہے۔ اب ذرا غور کرو کہ آپ ﷺ کے ذاتی نام محمد ﷺ یا احمد ﷺ لے کر یا محمد یا احمد کے نام کی زور دار ضربیں لگانا کہاں تک صحیح اور درست ہوسکتا ہ کے لیکن ضد ایک ایسی نامراد چیز ہے آج اسی ضد اور ہٹ دھرمی کے زور سے سب کچھ ہورہا ہے اور اس کو بعض دوستوں نے وظیفہ بنالیا ہے کہ اگر وہ آپ ﷺ کو ان ذاتی ناموں سے زور دارآواز کے ساتھ ضربیں نہ دیں تو ان کا وظیفہ مکمل ہی نہیں ہوتا ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے بھائیوں کو اس ضد سے کیا حاصل ہوتا ہے ؟ جب قرآن کریم کی تعلیم یہ ہے کہ آپ ﷺ کی موجودگی میں کوئی شخص نماز نہیں پڑھا سکتا اور نہ ہی کوئی شخص آپ ﷺ کی موجودگی میں آپ ﷺ کے ذاتی نام اور زوردار آواز سے پکار سکتا ہ کے تو پھر آپ ﷺ کے متعلق گرجدار آوز سے یہ کہا کہ ” دم بدم پھڑو درود اور حضرت بھی ہیں یہاں موجود “ اور پھر آپ ﷺ کے ذاتی نام کو ضد کے ساتھ پکارنا اور بار بار کہنا کہ ” اساں یا محمد کہنا ایں “ اس میں فرمانبرداری اور پیروی کی کوئی بات ہے یا آپ ﷺ کی فرمانبرداری اور پیروی کے یہ سراسر خلاف ہے فیصلہ خود کرلو کہ حکم کیا دیا جارہا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں ؟ پھر سن لو کہ ؎ ادب گا ہیست زیر آسمان از عرش نازک تر نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا اگر اس مضمون کو زیادہ بڑھاتے چلے جائیں گے اور بات سے بات نکالتے جائیں گے تو ایسا ہوسکتا ہے اور مسائل بین کیے جاسکتے ہیں آپ ﷺ کے نام محمد ﷺ کے اثبات و نفی میں کتابیں تیار کھڑی ہیں اور ان میں حقیقی اور فرضی مسائل بھی بیان کئے گئے ہیں ان کو پیش کرکے تبصرہ بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے حاصل کیا ہوگا ؟ حاصل تو جو کچھ ہوگا وہ صرف اور صرف عمل سے ہوگا اور اگر کوئی عمل کرنا چاہے تو اس کیلئے کتاب و سنت سے بڑھ کر اور کون سی دلیل ہو سکتی ہے پھر قرآن کریم کی آیت ایک واضح اور غیر مبہم حکم دے رہی ہے اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ کا عمل ہمارے سامنے روز روشن کی طرح موجود ہے پھر ہم کو ادھر ادھر دیکھنے کی ضرورت ہی آخر کیوں ہے ؟ اور اگر ہے اور ہم کو ادھر ادھر دیکھنا ہے تو اس کا نام تو ضد اور ہٹ دھرمی ہے اور اس کو جب تک چھوڑا نہیں جائے گا اصلاح کیسے ممکن ہوگی ؟
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں وہی لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ نے تقویٰ کے لیے آزما لیا ہے (اس لیے) ان کے لیے (اللہ کی طرف سے) بخشش اور عظیم اجر ہے

حق بات کو سن کر عمل کرنے والے ہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کی آزمائش کرلی گئی ہے 3 ۔ (یغضوا) کا اصل مادہ غ ض ض ہے اور غض کے معنی جھکانے اور نیچا کرنے کے ہیں اس کا استعمال نظر اور آواز دونوں پر ہوتا ہے نظریں نیچی کرنا یا آواز نیچی کرنا گویا یہ ان خوش قسمت لوگوں کی طرف اشارہ ہے جن کو نبی اعظم و آخر ﷺ کے سامنے بات کرنے اور آپ ﷺ کی طرف دیکھنے اور آپ ﷺ کی حیثیت کا لحاظ ویاس کرتے دیکھ لیا گیا ہے کہ وہ نہ تو آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی آپ ﷺ کے سامنے اپنی آواز کو بلند کرسکتے ہیں اور یہ بات ان کی طبیعت میں راسخ ہوچکی ہے کہ کتاب و سنت کی بات آئے گی تو وہ رام ہوں گے اور اس کے سامنے کبھی چوں چرا نہیں کرتے اور بغیر حیل و حجت سر تسلیم ختم کردیتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کا امتحان کرلیا گیا ہے اور بلاشبہ وہ اس امتحان میں پاس ہیں اور ان کی روش سے ساری باتیں واضح ہو رہ ہیں اور لاریب ان کے دلوں میں تقویٰ موجود ہے اور وہ ہر پرہیز گاری کے کام کو قبول کرتے اور ہر تقویٰ کے خلاف کام کو ترک کردینے میں تیز گام ہیں اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی رحمت آوازیں دے رہی ہے وہ بھلائی اور خیر کا کام سنتے ہیں تو اس کی طرف ان کو رغبت ہوتی ہے اور اگر برائی اور شرکا کام ان کی نظروں کے سامنے آ بھی جائے تو وہ اس سے نفرت کرتے ہیں اور اس کے قریب بھی نہیں بھٹکتے اور ان کے دلوں کا امتحان یہی ہے کہ بہ بات ان میں اس طرح راسخ ہوجاتی ہے کہ اس کا خلاف ان سے ممکن ہی نہیں ہوتا کیونکہ بار بار مشق سے اس چیز کے وہ عادی بن جاتے ہیں اور ان سے اگر کوئی انسانی لغزش ہو بھی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے ان کو معاف کردیتا ہے اور ان کے اجر کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
Ayah 49:4

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ آپ ﷺ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر ناسمجھ ہیں (کہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے)

معاشرہ کے اندر جہاں آزمائے گئے لوگ ہوتے ہیں وہاں کم ظرفوں کی بھی کمی نہیں ہوتی 4 ۔ محاورہ ہے کہ ” پانچوں انگلیاں کبھی برابر نہیں ہوتیں “ مطلب یہی ہے کہ سارے انسان ایک جیسی عقل و فکر اور ایک جیسی طبع نہیں رکھتے جہاں وہ لوگ موجود ہوتے ہیں جو اشاروں ہی اشاروں میں سب کچھ سمجھ جاتے ہیں وہاں ایسے بھی ہوتے ہیں جو سمجھانے سے بھی نہیں سمجھتے اس طرح جہاں ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے دل میں بغض و اعناد ہوتا ہے اور اس بغض وعناد کے باعث ان سے اس طرح کی حرکتیں سرزد ہوتی ہیں لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کے دلوں میں کوئی کھوٹ نہیں ہوتا لیکن عقل کے کوتاہ ہوتے ہیں اس لیے ان سے اس طرح کی کوتاہیاں سرزد ہوتتی رہتی ہیں اور ان میں اکثریت انہی لوگوں کی ہوتی ہے جو دیہاتی ، بدوی ہوتے ہیں جن کو قرآن کریم کی زبان میں (الاعراب) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے زیر نظر آیت میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ لوگ محض اپنے گنوار پن کے باعث اس طرح کی حرکات کرجاتے ہیں اور ان کے دلوں میں کوئی بیماری نہیں ہوتی بلکہ محض بےعقلی اور ناسمجھی ہوتی ہے منافقین جو کچھ کرتے ہیں دیدہ دانستہ ، جان بوجھ کر اپنے اندر کے بغض و خبث کے باعث کرتے ہیں لیکن اس آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے وہ کتنی ہی نازیبا حرکت کریں لیکن ان کے دل میں کوئی میل نہیں ہوتی محض کم عقلی کے باعث ان سے ایسا سرزد ہوتا ہے اس لیے قرآن کریم نے پیرا یہ بیان ایسا اختیار کیا ہے جس سے ان کی ملامت کا پہلو بھی نکلتا ہے اور نہایت لطیف اشارہ سے ان کی اس نادانی سے درگزر کرنے کا حکم بھی اور اس طرح ان کا ذکر کرکے عام مسلمانوں کو بھی سمجھایا جارہا ہے کہ ان کی اسی حرکات کو اسلام پسند نہیں کرتا اگرچہ ان کی نادنی کے باعث ان پر گرفت بھی نہ کی جائے اس لیے تم سے اس طرح کی حرکت بھی سرزد نہ ہو کیونکہ نادانی بہرحال نادنی ہی ہوتی ہے اور یہ بھی کہ نادان کی نادانی اور سمجھ دار کی نادانی میں ویسے بھی زمین و نٓسمان کا فرق ہے ان کی نادانی کیا تھی ؟ یہی کہ کوئی کام ہوا تو آپ ﷺ کے دروازہ کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے اور زور زور سے آوازیں دینے لگے اور کبھی بغیر اطلاع دیئے ہی ندر گھس گئے اور جاتے ہی اپنی رام کہانی شروع کردی ، کھاتے دیکھا تو بیٹھ گئے کہ چلو شاید کچھ ملہی جائے تو ہم بھی دو لقمے لگالیں ۔ ایسی بات تو عام گھروں میں بھی ممنوع ہے لیکن اگر آپ ﷺ کی بھی کوئی پروا نہ کرے تو کیا اس کو سمجھایا بھی نہ جائے گا ؟ بس ایسے لوگوں کی فہیم کرائی جارہی ہے پھر بعض سمجھ جاتے ہیں لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وقت گزرنے کے بعد ان کو کچھ بھی یاد نہیں رہتا اس لیے قرآن کریم نے ان کو (لایعقلون ) کہہ دیا ہے کہ وہ اتنی عقل ہی کے مالک نہیں ہوتے کہ آپ ﷺ کے احترام کو سمجھ سکیں تاہم ان کی تفہیم کرانا بہت ضروری ہوتا ہے اور تفہیم کا انداز ناصحانہ ہی ہونا چاہیے کیونکہ تفہیم کیلئے یہ انداز نہات ضروری ہوتا ہے ورنہ جاہل کسی مزید جہالت کا مظاہرہ کردے گا اور اپنے پائوں پر خود کلہاڑی چلا دے گا “۔
Ayah 49:5

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ ﷺ خود ان کے پاس باہر آجاتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا اور اللہ معاف کرنے والا پیار کرنے والا ہے

اگر ایسے لوگ ذرا توقف کریں اور آپ ﷺ کے باہر آنے کا انتظار کریں تو بہت اچھا ہو 5 ۔ ایسے کم عقل اور ناسمجھ لوگوں کو ڈانٹ پلانے سے ان کے مزید بگڑنے کا اندیشہ ضرور ہوتا ہے اس لیے ان کو نہایت نرمی اور پیار کے لہجہ میں سمجھایا جارہا ہے کہ اگر یہ لوگ صبر وثبات سے کام لیتے اور اتنی جلدی نہ کرتے بلکہ آپ ﷺ کا گھر سے نکلنے کا انتظار کرلیتے تو ان کے لیے بہت بہتر ہوتا کہ خود بھی بےآرام نہ ہوتے اور دوسروں کو بھی بےآرام نہ کرتے اور خصوصاً نبی کریم ﷺ کے گھر سے باہر آنے کا انتظار کرتے تو یہ بات ان کے حق میں بہت اچھی ہوتی کہ وہ (لایعقلون) کے خطب سے بچتے اور اعمال کے ضائع ہونے کا خطرہ بھی مول نہ لیتے بہرحال ان کی کم عقلی اور کوتاہ نظری کے باعث اتنا ہی کافی ہے کہ بروقت ان کو بات سمجھا دی گئی ہے کہ وہ اس طرح کی حرکتوں سے باز آئیں اور اپنے ہاتھوں اپنا نقصان نہ کریں اور گزشتہ گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں لاریب اللہ بندوں کو بخش دینے والا ، معاف کرنے والا ، پیار کرنے والا ہے۔
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر کوئی جلد باز تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلیا کرو (ایسا نہ ہو کہ) کہیں تم کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے ؟

ایک بات کو سن کر اس کے صحیح یا غلط ہونے کی جانچ کرنا بھی ایمان والوں کے لیے ضروری ہے 6 ۔ یہ بات بھی ان باتوں میں سے ہے جن کا مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ تم ایسا اور ایسا ضرور کیا کرو اور اسی طرح ایسا اور ایسا بالکل نہ کیا کرو یعنی نفی اور اثبات دونوں طرح کے احکام ہیں ان میں سے یک یہ حکم بھی ہے کہ جب تم کسی شخص سے کوئی بات سنو تو سنتے ہی آگے مت پہنچائو بلکہ توقف کرو یہاں تک کہ اس کے صحیح یا غلط ہونے کی تصدیق ہوجائے پھر یہ بھی کہ باتوں کی اپنی اپنی اہمیت ہوتی ہے جتنی بات اہم ہوگی اتنی ہی اس کی احتیاط زیادہ ہوگی اس طرح بعض باتیں انفرادی ہوتی ہیں اور بعض اجتماعی ، قومی اور انفرادی باتوں کی تحقیق بھی ضروری ہے لیکن انفرادی کے مقابلہ میں اجتماعی باتوں کی تحقیق کی اور بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس طرح خبر دینے والے شخص پر بھی بہت نحصار ہوتا ہے کہ خبر دینے والا کیسا آدمی ہے ثقہ اور پختہ کردار کا یا سطحی اور عوامی ذہن و دماغ کا غیر ثقہ اور غیر پختہ لیکن تحقیق حل ہر حال میں ضروری ہے مطلب یہ ہے کہ کسی خبر کے سن لینے کے بعد اس پر جتنے پہلوئوں پر غور و فکر ضروری ہو ان سارے پہلوئوں پر غور و فکر کرو اور تحقیق کا جو طریقہ سہل اور بہتر ہو اس کو اسی انداز سے اختیار کرتے ہوئے کرو جو کچھ کرنا چاہتے ہو بات کو سنتے ہی فوراً کوئی ایسا اقدام نہ کر بیٹھو کہ بعد میں تم کو پچھتاوا ہو کہ ہم نے جلدی میں کیا کردیا اور اس کی تحقیق کیوں نہ کرلی بلاشبہ زندگی میں ایسے بہت سے واقعات پیش آسکتے ہیں جن پر انسان احتیاط نہ کرنے کے باعث منہ کے بل گر جاتا ہے اور اپنا نقصن جلد بازی میں کر بیٹھتا ہ کے اور پھر جب علم ہوتا ہے کہ میں نے کیا کیا تو اس کو حسرت و افسوس ہونے لگتا ہے لیکن جو ہوجائے اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کام تو واپس نہیں ہوتا اور نہ ہی ہوسکتا ہے حکم عام ہے اس لیے ہم ان تمام واقعات سے چشم پوشی کر رہے ہیں جن کو شان نزول کے طور پر بیان کیا گیا ہے وہ بدو تھے یا گنوار و اعراب ان سے ایسی باتیں جہالت کے باعث سرزد ہوئیں یا انہوں نے جان بوجھ کر کیں ہمیں اس کے کھوج کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی اس کھوج سے ہم کو کوئی فائدہ ہوگا اتیج بات تو ہے کہ وہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے زمانہ کے لوگ تھے یہ بات تو اپنی جگہ محقق ہوے کہ ان کو جاہل اور کم عقل کہا گیا ہے اور ظاہر ہ کے کہ جہالت اور کم عقلی اگر دونوں اکٹھی ہوں تو باوجود اس کے کہ نقصان کا احتمال بہت ہوتا ہے تاہم یہ ایسا عذر بھی ہے جو قابل قبول ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان پر سخت قسم کی گرفت نہیں کی گئی اور ان کے اس رویہ کو منافقانہ رویہ قرار نہیں دیا گیا صرف یہ بات فرمائی گئی کہک ان لوگوں میں تہذیب و معاشرت کے آداب کی کمی تھی اور بہتر ہوتا کہ وہ اپنی اس کمی کو دور کرنے کی سعی و کوشش کرتے اگر نام لے کر ہی بات کرنا ضروری ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے ان کے نام پوشیدہ نہیں تھے وہ ان کا نام بنام ذکر کرسکتا تھا جب اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس ذات اقس سے کسی غلطی کا کوئی احتمال بھی نہ تھا تو اپنے علم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی جہالت کیوں کریں گے پھر کوئی خوبی کی بات ہوتی تو نام لینے اور اس کی تحقیق کرنے کا ایک لطف اپنی جگہ ضرور ہوتا اس لیے اس معاملہ میں سعی و کوشش کسی تحسین کی مستحق ہوتی اس جگہ تو کمزوری اور کمی کا پہلو بیان کیا گیا ہ کے پھر کمزوری اور کمی کو معلوم کرنا ہو تو وہ محض اپنی کمیوں اور کمزوریوں کو معلوم کرنے کا فائدہ ہوسکتا ہے نہ کہ دوسروں کی کمیوں اور کمزوریوں سے بحث کرنا ہمارے نزدیک تو ایسا فعل و عمل بذات خود کمی اور کمزوری ہے خواہ وہ کسی سے بھی ہو اور کوئی بھی اس طرح کرنے کا مرتکب ہو ہم نے اس تفسیر میں اس طرح کی باتوں سے جو کسی کی ذات سے متعلق تھیں ان کا ذکر کرتے وقت ان اشخاص کا نام مطلق نہیں لیا ج کے متعلق مفسرین نے ان باتوں کی نسبت کی تھی اور خصوصاً صحابہ ؓ کے بارے میں بڑی احتیاط برتی ہے مجھے جہاں تک یاد ہے صرف اور صرف ایک جگہ میں نے نام بنام بات کی ہے جو ایک صحابی کے متعلق ہے اور اس وقت نہ معلوم کیوں یہ بات ذہن میں نہ رہی اور میں اعتراف کرتا ہوں کہ وہ میری فروگزاشت ہے اگر بات فی الواقع اسی طرح ہے جس طرح بیان کی گئی تو بھی مجھ کو نام کا ذکر نہیں کرنا چہیے تھا لیکن اگر بات ہی کچھ اور ہو جس کا زیادہ احتمال بھی ہے تو لاریب میں اس میں گنہگار ٹھہرا لیکن اب بات میرے اختیار سے نکل گئی کیونکہ وہ تحریر ہونے کے بعد طبع ہوگئی اور لوگوں نے اس کو پڑھ لیا وہ نام ” ثعلبہ ؓ “ کا تھا اس اشارہ سے کوئی سمجھنا چاہے گا تو سمجھ لے گا ورنہ دوبارہ نشاندہی کرنے سے ایک مزید خرابی ہوگی اور ثعلبہ ؓ بدری صحابی ہیں جن کی شان اور عزت و احترام اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ بات کہتے وقت ہر لحاظ سے غور و فکر کیا جائے کہ میں یہ بات کس کے متعلق کہہ رہا ہوں لیکن افسوس کہ مفسرین نے اس بات کا خیال بہت ہی کم رکھا ہے۔ بہرحال اس وقت جھے کہنا صرف یہ تھا کہ اس جگہ جس کو ” فاسق “ کہا گیا مفسرین نے اس کا نام تلاش کرنے میں بڑی تگ و دو کی لیکن میں پچھلی فروگزاشت کا بھی ماتم کررہا ہوں تو مزید ایسی بات کیوں کہوں گا وہ کوئی بھی ہے جس سے یہ ہدایت ہم کو دی جارہی ہے ہم کو چاہیے کہ اس ہدایت کو قبول کرتے ہوئے اپنی اصلاح کریں یہ واقعہ بنی مصطلق کے ہاں کسی کے جانے کا تھا یا کوئی دوسرا ، جانے والے کن صاحب تھے انہوں نے واپس آکر کیا کہا اس کا نتیجہ کیا نکلا یہی کہ مدینہ سے ایک لشکر تیار کرکے ان کی گوشمالی کے لیے بھیجا گیا لیکن وہاں پہنچ کر واقعہ کی جو تحقیق ہوئی تو بات ہی کچھ اور نکلی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اصلاح کے لیے قرآن کریم میں یہ آیت اتار دی کہ جو ہوگیا سو ہوگیا اور ہم نے تم کو اس لیے آگاہ نہ کیا کہ تم کو احساس ہو کہ ایسے حالات میں انسان کیا کچھ کرجاتا ہے اور بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے اب ہم تم کو بتا دیتے ہیں کہ ایسے حالات میں تم کو کیا کرنا چاہیے تھا تاکہ آئندہ تم سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو ہم نے اس واقعہ کو بار بار پڑھا ، اس کی تلاش کی ، اس کو حفظ کیا ، اس کے معنی پڑھے پڑھائے ، اس کو لفظ لفظ یاد کیا بالکل صحیح لیکن جب وقت آتا ہے تو ہم وہی کچھ کرتے ہیں جس سے ہم کو منفع کیا گیا ہے ، کیوں ؟ اس لیے کہ ہمارے شعور میں یہ بات محفوظ ہوچکی ہے کہ فلاں صاحب سے ایک غلطی ہوئی تھی انہوں نے ایسا ایسا کیا تھا اور اس طرح ایک لشکر مدینہ سے نکلا تھا یوں اس کی تیاری ہوئی تھی اس لشکر کا سپہ سالار فلاں بہادر تھا ، یہ لشکر فلاں وقت وہاں پہنچا تھا اسلامی کمانڈر نے فلاں آدمی کو حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا تھا اس نے واپس آکر کہا تھا کہ وہاں اذان ہوتی ہے اور قرآن کریم کی تلاوت سنی گئی ہے وہاں کے لوگ مسلمان ہیں اور ارکان اسلام کو ادا کرر رہے ہیں پھر کمانڈر نے وہاں کے سردار کو بلایا تو وہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مدینہ منورہ روانہ ہوچکا تھا اور اسی طرح پڑھ کر خس مجھ کر سمجھا کر ہم مطمئن ہوجاتے ہیں اور جب وقت آتا ہ کے تو ہم خود اسی جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور پھر اسی ندامت سے دوچار ہوتے ہیں لیکن جب کسی واقعہ کی تحقیق کا وقت آتا ہے تو ہم نے کبھی یہ غور نہیں کیا کہ قرآن کریم کی ہدایت کیا ہے اور ہم کس طرح بےپر کی اڑا رہے ہیں اور اس وقت یہ جتنی بیماری مذہی رہنمائوں ، علمائوں اور سیاسی لیڈروں ، پیروں ، مرشوں اور شیوخ الاشیاخ میں پائی جاتی ہے اتنی عوام کالا نعام میں بھی نہیں اس سے ہم کیا سمجھیں ؟ کہ ہم نے اس ہداتی کو بطور ہدایت قبول کیا اور ہمارے ان سار محترموں نے اس کی کیا عزت کی ؟ کیا یہ حکم ہمارے لیے اور ہمارے ان سارے محترموں کے لیے نہیں تھا ؟ کیا ہم یہ ہدایت مرنے والوں کے لیے سمجھتے ہیں کہ ان کی قبروں پر اور ان کی مذہبی روسومات پر ہم اس کی تلاوت کرکے ان کو ثواب پہنچاتے ہیں قرآن کریم کیوں نازل کیا گیا اور ہم نے اس کو کس کام کے لیے مخصوص کردیا پھر تعجب ہے کہ ہمارا پڑھا لکھا سمجھدار اور عقل و فکر رکھنے والا طبقہ بھی اسی ڈگر پر چل نکلا جس ڈگر پر ان کے باپ دادا چل رہے تھے اے اللہ ! اے رب ذوالجلال والا کرام ہم کو قرآن کریم سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ الے اللہ ! ہم کو سیدھی راہ چلنے اور اس پر قائم رہنے کی ہمت دے۔
Ayah 49:7

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور جان لو کہ (جب تک) تم میں اللہ کا رسول ﷺ موجود ہے اگر وہ اکثر تمہاری بات مان لیا کرے تو تم بڑی مشکل میں پڑجاؤ لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی ایسی محبت ڈال دی ہے (کہ تم اپنی بات منوانے کی کوشش ہی نہیں کرتے) اور اس (محبت) کو تمہارے دلوں میں مزین کردیا ہے اور کفر و فسق اور نافرمانی سے تم کو بیزار کردیا ہے یہی لوگ راہ حق پر ہیں

واقعہ کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ اور ہدایت حاصل کرنے کا صحیح طریقہ 7 ۔ بنی المصطلق کے سردار حارث بن ابی الضرار کا واقعہ جس کی طرف گزشتہ آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرلیا آپ ﷺ نے اس کو دوسرے ارکان اسلام تلقین کیے زکوۃ ادا کرنے کا حکم بھی دیا اس نے تسلیم کرلیا اور وعدہ کیا کہ میں واپس اپنے قبیلہ کے پاس جائوں گا تو انہیں اسلام کی دعوت دوں گا جن لوگوں نے یہ دعوت قبول کی ان کی اور اپنی زکوٰۃ کو اکٹھا کرلوں گا آپ ﷺ کسی آدمی کو روانہ فرما کر وہ جمع شدہ زکوٰۃ وصول کرالیں آپ ﷺ نے اس مقصد کے لیے ایک صاحب کو روانہ کیا اتفاق سے جو صاحب زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے گئے ان کے اور بنی المصطلق قبیلہ کے درمیان اس سے پہلے کوئی پرخاش تھی وہ چلے تو گئے لیکن دل کے اندر وسواس رہا کہ یہ صحیح ہے کہ میں زکوٰۃ وصول کرنے جارہا ہوں اور اس وقت مسلمان ہوچکا ہوں اور وہ قبیلہ بھی مسلمان ہوچکا ہے لیکن وہ گزشتہ پرخاش تو اپن یجگہ ہے اگر میں وہاں گیا اور انہوں نے مجھے پکڑ کر کوئی سزا دے دی یا جان ہی سے مار دیا اور کہہ دیا کہ آپ ﷺ کا آدمی ہمارے پاس نہیں آیا تو پھر کیا ہوگا ؟ بہرحال وہ انہی وساوس میں مبتلا ہو کر کچھ وقت کے بعد واپس آگئے اور واپس آکر رسول اللہ ﷺ سے کہہ دیا کہ وہ لوگ تو مجھے جان ہی سے مار دینے لگے تھے لیکن میں بمشکل جان بچا کر بھاگ آیا اور ان کے مارمنے کا سب بھی آپ ﷺ کو بتایا کہ اس طرح کی ایک چیز قبل از اسلام ان کے اور میرے درمیان تیا بہرحال مختصراً یہ کہ وہ لوگ تو اسلام سے پھرگئے ہیں زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے تیار ہی نہیں آپ ﷺ نے ان صاحب کی بات سن کو توقف کیا لیکن بعض لوگوں نے اس واقعہ کو سن کر آپ ﷺ سے عرض کی کہ اگر بات اسی طرح ہے تو ہم کو بنی المصطلق پر حملہ کرنا چاہیے اور ان کو ان کے کیے کی قرار واقعی سزا دینی چاہیے اس سے بعض لوگوں میں جوش پیدا ہوگیا اور اب مشاء اللہ طاقت بھی تھی اور مجاہد بھی تھے اور ایک بہانہ بھی نکل آیا آپ ﷺ نے خالد بن ولید ؓ کی معیت میں ایک لشکر روانہ کرنے کا حکم دیا جب لشکر تیار ہوگیا تو آپ ﷺ نے خالد ؓ کو حکم دیا کہ آپ لوگ بنی المصطلق پر اچانک حملہ نہ کریں بلکہ قریب جاکر پہلے وہاں کے حالات معلوم کریں خالد ؓ نے ایسا ہی کیا اور اپنے لوگوں کو وہاں کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا لوگوں نے واپس آکر بتایا کہ وہاں تو ہم نے اذانیں سنی ہیں اور لوگوں کو باجماعت صلوٰۃ ادا کرتے دیکھا ہے خالد ؓ نے توقف کیا اور صبح ہونے کے بعد خود وہاں تشریف لے گئے اور اپنے لوگوں کی اطلاع کو درست پایا اور وہاں سے واپس آکر نبی اعظم و آخر ﷺ کو اطلع کردی کہ اس کے حالات ایسے ایسے ہیں اب زیر نظر ٓیت میں بیان کیا جارہا ہ کے کہ مسلمانو ! یہ تو اللہ کے رسول ﷺ کی فراست کا نتیجہ ہے کہ آپ ﷺ نے لشکر کے سردار کو حکم دے دیا کہ وہیں جاکر پہلے حالات کی تحقیق کرنا تب کوئی اقدام کرنا اچانک حملہ نہ کردینا۔ فرض کرو کہک اگر تم میں رسول اللہ ﷺ موجود نہ ہوتے اور نہ تم کو اس طرح کی کوئی ہدایت دی گئی ہوتی تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا ؟ اور دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ اگر ہمارا رسول محمد رسول اللہ ﷺ تم لوگوں کی طرح اسی طرح جوش میں آجاتے اور تمہاری باتوں کے مطابق تم پر کوئی ایسا حکم صادر فرماتے تو پھر کیا ہوتا ؟ یہی کہ تم ایک مشکل میں پھنس کر رہ جاتے ایک تو اپنے مسلمان بھائیوں کو ناحق قتل و غارت کرکے بہت بڑا جرم کرتے جس سے تمہاری ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے آخرت بھی برباد ہوتی اور دنیا کے اندر بھی تمہاری بلکہ تمہارے ساتھ ساتھ نبی کریم ﷺ اور اسلام کی کوئی بات قابل قبول نہ رہتی یہ تو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم تم پر ہوا کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کے دل میں ایک بات ڈال دی تو آپ ﷺ نے احتیاط کا حکم دے دیا اور اللہ نے تم کو توفیق دی اور تمہارے ایمان و یقین کو مضبوط رکھا اور تم نے آپ ﷺ کے حکم کے مطابق حالات کی تحقیق کی اور کوئی اقدام نہ کردیا اور تمہارے دلوں کو ایمان کی دولت سے مزین رکھا حالانکہ ایسے حالات اور جوش و جذبہ میں اکثر غلط اقدامات ہوجایا کرتے ہیں اور بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے اور یہ بھی کہ ایک آدمی کی غلطی سے پوری قوم کسی ایسے گڑھے میں جا گرتی ہے کہ نہ دین باقی رہتا ہے اور نہ دنیا اس لیے حالات کچھ بھی ہوں جذبات میں آکر اپنے آپے سے باہر نہ ہوجایا کرو بلکہ ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے حکم خاموشی کے ساتھ انتظار کیا کرو اگر تم مدینہ میں اس جوش و جذبہ کا ظہار نہ کرتے تو عین ممکن تھا کہ آپ ﷺ تم کو روانہع ہی نہ کرتے یا آپ ﷺ لوگوں کو روانہ کرنے سے قبل ہی خود حالات کا جائزہ لینے کے لیے کسی ایک آدھ آدمی کو بھیج کر خبر معلوم کر الیتے اور اس اتنی بڑی مہم کو خواہ مخواہ روانہ نہ کرتے اور ان مصارف اور تکالیف سے آپ لوگ بھی بچ جاتے جہاد بلاریب فرض ہے لیکن اس کے کچھ اپنے آداب بھی ہیں جس طرح ہر ایک کام کے کچھ آداب ہوتے ہیں آئندہ ان باتوں کا خیال رکھنا اور اپنی بات منوانے پر اصرار نہ کرنا اور نہ ہی ایسے جذبات اور جوش کا مظاہرہ کرنا بلکہ ہمارے رسول ﷺ کے حکم کا انتظار کرنا اور جو وہ حکم دیں اس کی پیروی کرنا ، اپنی رائے کو پیش کرنے میں جلدی نہ مچانا ہاں ! آپ ﷺ خود تم سے کوئی رائے طلب کرلیں یہ دوسری بات ہے جو لوگ کفر ، فسق اور نافرمانی سے بچتے ہیں وہی حق پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ لیکن ہمارے بعض بزرگوں نے (واعلموا ان فیکم رسول اللہ ) کے الفاظ سے عجیب عجیب مطلب نکالنے کی کوشش کی کہ دیکھو رسول اللہ ﷺ کا ہمیشہ قوم کے اندر موجود رہنا ثابت ہوگیا پھر اللہ ایک بتائے کہ تمہارے اندر رسول اللہ ﷺ ہمیشہ موجود رہیں گے اور بعض لوگ اس بات کو تسلیم ہی نہ کریں اور اللہ کے حکم کا مذاق اڑائیں جس طرح فلاں فلاں لوگ کر رہے ہیں کہ آپ ﷺ کو حاضر و ناظر اور قوم میں موجود نہیں سمجھتے بلکہ ایسا سمجھنے پر لعن طعن کرتے ہیں کیا وہ خود لعنت خدا وندی کے مستحق ٹھہرتے ہیں یا نہیں ؟ کیا (واعلموا) کے مخاطب تمام مسلمان نہیں ؟ کیا (ان) کا لفظ کسی شک و شبہ کو دور کرنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ کیا (فیکم رسول اللہ ) کے الفاظ کا مطلب و ترجمہ یہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمہارے درمیان موجود ہیں ؟ اگر سلامتی کوئی چیز ہے تو کیا ان سارے سوالات میں کوئی ایک سوال بھی قرآن کریم کی اس آیت کے ساتھ میل کھاتا ہے بات تو بالکل واضح ہے کہ جب تک رسول اللہ ﷺ مسلمانوں میں فی نفسہ موجود رہے لوگوں کے لیے ہدایت تھی کہ آپ ﷺ کے حکم کا انتظار کریں لیکن آپ ﷺ جب اللہ تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہہ کر یہاں سے رخصت ہوگئے تو آپ ﷺ کا لایا ہوا حکم تو تا قیامت اسی طرح بحال رہا کہ جب بھی کو یء اس طرح کا موقعہ آئے تو کس احتیاط سے کام لینا ہے اگر کسی شخص نے ایسی احتیاط نہ کی اور اس حکم کے مطابق عمل نہ کیا تو وہ خود اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا اور اس حکم کی نافرمانی کا نتیجہ اس کو دنیا میں بھی مل سکتا ہے لہٰذا ایسے حالات و واقعات میں جس احتیاط کا آپ ﷺ نے حکم دیا ہے اس کی پابندی ضروری ہے اگر کوئی حاکم ہے تو بھی اور اگر کوئی محکوم ہے تو بھی اپنی اپنی حیثیت اور اپنی اپنی ذمہ داری کو ذمہ داری کے ساتھ پورا کرنا ہر فرد و جماعت پر لازم و ضروری ہے اس کا تعلق حاضر و ناظر اور غیب جاننے نہ جاننے سے کچھ بھی نہیں اور نہ ہی اس طرح کے مسائل کا کوئی دین اسلام کے ساتھ تعلق ہے یہ تو محض من چلے پیٹ پرستوں کے اپنے بکھیڑے ہیں اور ہم کو افسوس ہے کہ لوگوں نے ان بکھیڑوں کو دین اسلام بناکر رکھ دیا ہے اور آج یہی دین کے اہم مسائل گردانے جاتے ہیں کوئی ان کے اثبات پر لگا تو کوئی ان کے رد پر اور حقیقت حال دونوں جگہ مفقود ہو کر رہ گئی ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے اس وقت ملک عزیز میں دین اسلام کی حالت بہت ہی بدل کر رکھ دی گئی ہے اور اس کی ساری ذمہ داری ان مذہبی رہنمائوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے دین کو بازیچہ اطفال بنا دیاے۔ زیر نظر آیت سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ جب تک اسلامی معاشرہ کے ساتھ وابستہ ہونے کے دعویداروں میں ایمان کی کی باتیں پسند اور کفر و فسق کی باتیں ناپسند کی جائیں اس معاشرہ کو فی الواقع اسلامی معاشرہ کہا جاسکتا ہے اور اس معاشرہ کی کوتاہیوں کا تدارک اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہوتا رہتا ہے کیونکہ اس معاشرہ میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی سوچ مثبت ہوتی ہے لیکن اگر اس کے برعکس کسی اسلام کے دعویدار معاشرہ میں نیکی اور بھائی کے کاموں سے نفرت اور برائی اور بدی کے کاموں کی طرف رغبت ہوجائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے اور جب کوئی علاقہ و معاشرہ ایسا ہوجائے وہاں حالات نہایت ہی خطرناک صورتحال اختیار کرجاتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مہلت اس کو ملتی ہے اس سے کم ہی کوئی فائدہ اٹھاتا ہے اکثر سنت اللہ یہی ہے کہ اس کے لیے تباہی و بربادی کا متعین وقت آہی جاتا ہے اللہ تعالیٰ معاف فرمائے اس وقت ملک عزیز پاکستان کی صورتحال کچھ اسسی طرح کی ہوچلی ہے اور قوم سنبھلتی نظر نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال دے اور اس فسق و فجور اور نافرمانی کو ہمارے دلوں سے دور فرما دے اور اس مہلت سے مستفید ہونے کی اور ہم کو اپنی اصلاح کرلینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Ayah 49:8

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

(تمہارے دلوں میں رسول اللہ کے لیے جذبہ محبت کا ہونا) اللہ کے فضل اور اس کی عنایت کے باعث ہے اور اللہ علم والا حکمت والا ہے

اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال تھا کہ اس نے تم کو ایک بہت بڑی غلطی سے بچالیا 8 ۔ اسلام کی ہدایت مسلمانوں کی زندگیوں کو سنوارنے کے لیے یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان سے کوئی اچھا کام ، کوئی اچھا اقدام ہو تو وہ اس کو اللہ کا فضل و احسان سمجھے اور اسی طرح اگر کسی جگہ کوئی غلطی اور کوئی برائی ہونے کا امکان ہو اور وہ اس غلطی اور برائی سے بچ جائے تو اس کو بھی اللہ کی نعمت و رحمت خیال کرے کہ اس نے اس غلطی اور برائی سے اس کو بچالیا اور اچھائی کرکے یا برائی سے بچ کر اپنی ذات پر نہ اترائے اور نہ اس طرح کا انداز گفتگو اختیار کرے جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ اپنی ذات کے بل بوتے پر ایسا کر پایا جیسا اکثر ہوتا ہے کہ آدمی کوئی نیک کام کرکے بعض اوقات اس خوشی میں کچھ کہہ دیتا ہے کیونکہ ہی ہی چیز بعض اوقات نخوت اور تکبر کا روپ دھار لیتی ہے جس کے اثرات بہت مضر ہوتے ہیں اس کی مزید وضاحت درکار ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد چہارم سورة یوف کی آیت 53 , 52 کی تفسیر دیکھیں۔