ہر طعنہ باز عیب جو مجرم ہے
اللہ تبارک وتعالیٰ لوگوں کو حقیر و ذلیل کرنے اور ان کا مذاق اڑانے سے روک رہا ہے حدیث شریف میں ہے تکبر حق سے منہ موڑ لینے اور لوگوں کو ذلیل و خوار سمجھنے کا نام ہے۔ اس کی وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی کہ جسے تم ذلیل کر رہے ہو جس کا تم مذاق اڑا رہے ہو ممکن ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ تم سے زیادہ باوقعت ہو مردوں کو منع کر کے پھر خاصتہ عورتوں کو بھی اس سے روکا اور اس ملعون خصلت کو حرام قرار دیا چناچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے آیت (وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۨ ۙ) 104۔ الهمزة :1) یعنی ہر طعنہ باز عیب جو کے لئے خرابی ہے ہمز فعل سے ہوتا ہے اور لمز قول سے ایک اور آیت میں ہے…
Read the full tafseer →سورة الْحُجُرٰت 19
پچھلی دو آیتوں میں مسلمانوں کی باہمی لڑائی کے متعلق ضروری ہدایات دینے کے بعد اہل ایمان کو یہ احساس دلایا گیا تھا کہ دین کے مقدس ترین رشتے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ان کو خدا سے ڈرتے ہوئے اپنے آپس کے تعلقات کو درست رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اب آگے کی دو آیتوں میں ان بڑی بڑی برائیوں کے سد باب کا حکم دیا جا رہا ہے جو بالعموم ایک معاشرے میں لوگوں کے باہمی تعلقات کو خراب کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کی عزت پر حملہ، ایک دوسرے کی دل آزاری، ایک دوسرے سے بد گمانی، اور ایک دوسرے کے عیوب کا تجسس، در حقیقت یہی وہ اسباب ہیں جن سے آپس کی عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور پھر دوسرے اسباب کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! نہ تو مردوں کو مردوں پر ہنسنا چاہئے کیا عجب ہے کہ (جن پر ہنستے ہیں) وہ ان (ہنسنے والوں) سے (خدا کے نزدیک) بہتر ہوں (پھر وہ تحقیر کیسے کرتے ہیں) اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہئے کیا عجب ہے کہ (جن پر ہنستی ہیں) وہ ان (ہنسنے والیوں) سے (خدا کے نزدیک) بہتر ہوں (پھر وہ تحقیر کیسے کرتی ہیں) اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو (کیونکہ یہ سب باتیں گناہ کی ہیں اور) ایمان لانے کے بعد (مسلمان پر) گناہ کا نام لگتا (ہی) برا ہے (یعنی یہ گناہ کر کے تمہاری شان میں یہ کہا جا سکنا کہ فلاں مسلمان جس سے تم مراد ہو گناہ یعنی خدا کی نافرمانی کرتا ہے…
Read the full tafseer →-3 آگے آیات 12-11 کا مضمون
اوپر آیت 7 میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس اہتمام خاص کا ذکر فرمایا ہے جو اس نے مسلمانوں کو کفر و فسق اور عصیان سے بچانے کے لئے لئے خاص اپنے فضل سے فرمایا۔ اب آگے بعض ان باتوں سے روکا گیا ہے جو ایمان کے منفای اور داخل فسق ہیں اور جن سے دلوں کے اندر اس فساد کی غم ریزیہ وتی ہے جو پورے معاشرے کو مسموم کر کے رکھ دیتا ہے اور جس کا سدباب نہ ہو تو جن کو اللہ تعالیٰ نے رحمآء بینھم کے وصف سے ممتاز فرمایا ہے وہ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمایئے
-4 الفاظ کی تحقیق اور آیات کیوضاحت
یا یھا الذین امنوا لایسخرقوم من قوم عیسیٰ ان یکونوا خیراً منھم ولا نساء من…
Read the full tafseer →11۔ 1 ایک شخص دوسرے کسی شخص کا استہزا یعنی اس سے مسخرا پن اسی وقت کرتا ہے جب وہ اپنے کو اس سے بہتر اور اس کو اپنے سے حقیر اور کمتر سمجھتا ہے حالانکہ اللہ کے ہاں ایمان وعمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور کون نہیں۔ اس کا علم صرف اللہ کو ہے اس لیے اپنے کو بہتر اور دوسرے کو کم تر سمجنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے بنا بریں آیت میں اس سے منع فرما دیا گیا ہے اور کہتے ہیں کہ عورتوں میں یہ اخلاقی بیماری زیادہ ہوتی ہے اس لیے عورتوں کا الگ ذکر کر کے انہیں بھی بظور خاص اس سے روک دیا گیا ہے اور حدیث رسول ﷺ میں لوگوں کے حقیر سمجھنے کو کبر سے تعبیر کیا گبا ہے الکبر بطر الحق وغمط الناس اور کبر اللہ کو نہایت ہی…
Read the full tafseer →5: معاشرے میں جن باتوں سے لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں، ان آیتوں میں ان باتوں کو نہایت جامعیت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ کسی دوسرے کا کوئی ایسا برا نام رکھ دیا جائے جو اسے ناگوار ہو۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ایسا کرنا گناہ ہے، اور اس سے خود تم گنہگار ہو گے، اور خود تم پر گنہگار ہونے کا نام لگے گا، اور کسی مسلمان پر یہ نام لگنا کہ وہ گنہگار ہے، ایمان لانے کے بعد بہت بری بات ہے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ تم کسی دوسرے پر برا نام لگا رہے تھے، اور اس عمل سے خود تم پر برا نام لگ گیا۔
Read the full tafseer →قرآن کریم اسلامی نظام حیات کے ذریعہ جو فاضلانہ سوسائٹی قائم کرنا چاہتا ہے اس کے اندر بہت ہی بلند معیار کے آداب و اخلاق ہوتے ہیں۔ اس میں ہر فرد کو عزت نفس حاصل ہوتی ہے اور کوئی فرد کسی فرد کی ہتک عزت نہیں کرسکتا ۔ فرد کی یہ عزت سوسائٹی کی عزت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ ایک فرد کی ہتک عزت پوری انسانی سوسائٹی کی ہتک عزت ہے۔ اس لئے کہ انسانی جماعت نفس واحد ہے اور اس کی عزت ایک ہی عزت ہے۔ ایک انسان کی تذلیل پوری انسانیت کی تذلیل ہے۔
اس آیت میں قرآن کریم ، انہی میٹھے بولوں سے ، مسلمانوں کو پکارتا ہے۔ “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ”۔ پھر ان کو اس بات سے منع کرتا ہے کہ کوئی گروہ دوسرے گروہ سے مزاح کرے۔ نہ…
Read the full tafseer →2 اول مسلمانوں میں نزاع و اختلاف کو روکنے کی تدابیر بتلائی تھیں۔ پھر بتلایا کہ اگر اتفاقاً اختلاف رونما ہوجائے تو پر زور اور موثر طریقہ سے اس کو مٹایا جائے لیکن جب تک نزاع کا خاتمہ نہ ہو کوشش ہونی چاہیے کہ کم ازکم جذبات منافرت و مخالفت زیادہ تیز اور مشتعل نہ ہونے پائیں۔ عموماً دیکھا جاتا ہے کہ جہاں دو شخصوں یا دو جماعتوں میں اختلاف رونما ہوا۔ بس ایک دوسرے کا تمسخر اور استہزاء کرنے لگتا ہے۔ ذرا سی بات ہاتھ لگ گئی اور ہنسی مذاق اڑانا شروع کردیا۔ حالانکہ اسے معلوم نہیں کہ شاید جس کا مذاق اڑا رہا ہے۔ وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہتر ہو بلکہ بسا اوقات یہ خود بھی اختلاف سے پہلے اس کو بہتر سمجھتا ہوتا…
Read the full tafseer →آیت 11{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ یَّـکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْہُمْ } ”اے اہل ایمان ! تم میں سے کوئی گروہ دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے ‘ ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں“
ممکن ہے مدمقابل شخص کی کوئی خوبی اس کے ظاہری عیب کے مقابلے میں بہت بڑی ہو۔ مثلاً آپ جس شخص کی بھدی ناک یا چھوٹے کان کا مذاق اڑا رہے ہوں ممکن ہے اس کے دل کا تقویٰ تمہارے تقویٰ کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہو۔ یا ممکن ہے وہ تمہارے مقابلے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ہزار گنا زیادہ محبت کرتا ہو۔
{ وَلَا نِسَآئٌ مِّنْ نِّسَآئٍ عَسٰٓی اَنْ یَّـکُنَّ خَیْرًا مِّنْہُنَّ } ”اسی طرح…
Read the full tafseer →14 مذاق اڑانے سے پرہیز :۔ اس آیت میں ایسے معاشرتی آداب سکھائے جارہے ہیں ہیں جو عموماً لڑائی جھگڑے کا سبب بنتے ہیں۔ مذاق اڑانے کی دو ہی وجہیں ہوسکتی ہیں۔ ایک مذہبی یا نظریاتی اختلاف کا ہونا دوسرے مخاطب کو اپنے سے کمتر اور حقیر سمجھنا۔ خواہ کوئی بھی صورت ہو مذاق اڑانے سے چونکہ لڑائی جھگڑے کا امکان ہے۔ لہذا لڑائی جھگڑے کے ان ابتدائی لوازمات سے بھی روک دیا گیا۔
15 اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مرد، مردوں کا مذاق نہ اڑائیں اور نہ عورتیں عورتوں کا، یہ نہیں فرمایا مرد عورت کا مذاق نہ اڑائے یا عورت کسی مرد کا مذاق نہ اڑائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں مخلوط سوسائٹی یا آزادانہ اختلاط مرد و زن کا تصور…
Read the full tafseer →16۔ یعنی کسی کو کیا خبر کہ اللہ کے نزدیک بہتر اور قابل عزت کون ہے، ہنسنے والا ہے یا وہ جس پر ہنسا جارہا ہے۔ اس احساس کو بیدار کرکے قرآن نے گویا معاشرہ اسلامی کے اندر تمسخر وتفضیح کی جڑ ہی کاٹ دی ہے۔ تعلیم ہمارے ہاں کی یہ تھی اور عمل یہ ہے کہ دوسرے پر ہنسنا، بنانا، علانیہ اسکی رسوائی کرنا، عیب نہیں رہا بلکہ داخل ہنر ہوگیا ہے۔ (آیت) ” لایسخر “۔ تمسخر وہ ہنسی ہے جس سے دوسرے کی تحقیر ودل شکنی ودلآزاری ہو اور وہ حرام ہے، باقی ایسی ہنسی جس سے دوسرے کا دل خوش ہو وہ مزاح اور خوش طبعی کہلاتی ہے اور ایسی ہنسی جائز ہے بلکہ بہت سے حالات میں مستحب ہے۔ (آیت) ” قوم من قوم “ َ مراد جنس رجال ہیں خواہ ایک ہو…
Read the full tafseer →ترجمعہ :۔ اے ایمان والو ! نہ تو مرد مردوں کا مذاق اڑائیں ہوسکتا ہے کہ وہ عنداللہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا ممکن ہے کہ وہ عورتیں ان عورتوں سے بہتر ہوں، یہ آیت و فد نبی تمیم کے بارے میں نازل ہوئی، جبکہ انہوں نیفقرائے مسلمین کا تمسخر کیا تھا، مثلاً عمار صہیب کا اور سخریہ تحقیر و تذلیل کو کہتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگائو کہ تم عیب جوئی کرو تو تمہاری عیب جئوی کی جائے، یعنی کوئی کسی کی عیب جوئی نہ کرے اور نہ کسی کو برالقب دو ، یعنی آپس میں ایک دوسرے کو ایسے لقب سے نہ پکارو جس کو وہ ناپسند کرے اور ان ہی (برے القاب) میں سے یا فاسق یا کافر ہے، (صفت) ایمان سے متصف ہونے کے بعد…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا لا یسخر قوم من قوم . اے ایمان والو ! مردوں کو مردوں پر ہنسنا نہیں چاہیے۔
قاموس میں ہے : ” قوم “ مردوں اور عورتوں کی مخلوط جماعت یا صرف مردوں کی جماعت پر قوم کا اطلاق ہوتا ہے اور عورتیں ضمنی طور پر مردوں کے ساتھ شامل ہوتی ہیں۔
صاحب صحاح نے لکھا : قوم اصل میں صرف مردوں کی جماعت کو کہا جاتا ہے۔ عورتوں کی جماعت کو نہیں کہا جاتا۔ جوہری نے اسی آیت کو دلیل میں پیش کیا ہے کیونکہ نِسَاءٌ کا قَوْمٌ پر عطف کیا گیا ہے (اور عطف مغایرت کو چاہتا ہے) ایک شاعر کا شعر ہے۔
وما ادری ولَسْتُ اخال ادری اَقَوْمٌ اٰلُ حصنٍ اَمْ نِسَآءٌ
” میں نہیں جانتا کہ قبیلہ حصن والے مرد ہیں یا عورتیں۔ “
آیات…
Read the full tafseer →اے ایمان والو نہ تو مردوں کو مردوں پر ہنسنا چاہیے، یہ آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے ایک انصاری شخص کی ماں کا تذکرہ کر کے ان کو عار دلائی تھی جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ان کو عار دلایا کرتے تھے، اس چیز سے اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا اسی طرح اگلی آیت کا حصہ ازواج مطہرات میں سے دو بیویوں کے بارے میں نازل ہوا ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ کا مذاق اڑایا تھا اس چیز سے بھی اللہ تعالیٰ نے روک دیا اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہیے کیا عجب ہے کہ جن پر ہنستے ہیں وہ ان سے ہنسنے والوں سے اللہ کے نزدیک بہتر اور افضل ہوں، اور نہ اپنے مسلمان بھائیوں کی عیب جوئی کرو اور نہ…
Read the full tafseer →(1) یایھا الذین امنوا…: گزشتہ آیات میں مسلمانوں کے آپ س میں لڑنے کی صورت میں ان کے درمیان صلح کروانے کا حکم دیا، اس سے پہلے بلاتحقیق خبر پر عمل سے منع فرمایا تھا، کیونکہ اس سے لڑائی پیدا ہوسکتی ہے اور لاعلمی میں نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہاں سے مزید ان چیزوں سے منع فرمایا جو اسلامی اخوت کو نقصان پہنچاتی ہیں اور باہمی عداوت اور لڑائی کا باعث بنتی ہیں۔ اس آیت میں ایسی تین چیزیں ذکر فرمائیں :(1) کسی کا مذاق اڑانا۔ (2) کسی پر عیب لگانا۔ (3) کسی کو برے لقب سے پکارنا۔
(2) لایسخر قوم من قوم :”سخر یسخر سخر وسخراً و سخراً و سخرا و سخرۃ و مسخراً بہ و منہ“ (َ) استہزائ، مذاق اڑانا، ٹھٹھا کرنا، و…
Read the full tafseer →اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان سے بہتر ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اعتقاد اور باطنی طور پر اطاعت شعار ہونے میں بہتر ہوں۔ سحر کا یہ معنی استہزاء ہے اس کا باب ہے، ابو زید نے یہ بیان کیا ہے یہ سب سے روی لغت ہے، اخفش نے کہا : سب نے کہا : یہ کہا جاتا ہے اس کا اسم سخریہ اور سخری ہے دونوں کے ساتھ اسے پڑھا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الزخرف 32) فلاں سخرہ وہ عمل میں مذاق کرتا ہے یہ کہا جاتا ہے یعنی اس کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے سخرہ لوگ اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 2: اس کے سبب نزول میں اختلاف ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس کے حق…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مقاتل (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” یایھا الذین امنوا لا یسخر قوم من قوم “ (اے ایمان والو ! نہ مذاق اڑائے کوئی قوم کسی قوم کا) یہ آیت بنوتمیم کیا ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے (غریب صحابہ) بلال، سلیمان، عمار، خباب، صہیب، ابن مہیرہ اور ابوحذیفہ کے آزادہ کردہ غلام سالم ؓ کا مذاق اڑایا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” لا یسخر قوم من قوم “ کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے اگرچہ وہ آدمی غنی ہو یا فقیر ہو یا وہ آدمی جو عقل اور سمجھ بوجھ رکھتا ہو اس کا مذاق نہ اڑاؤ۔
اما قولہ تعالیٰ : (آیت ) ”…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] لَا يَسْخَرْ [ مذاق نہ کرے ] قَوْمٌ [ کوئی گروہ ] مِّنْ قَوْمٍ [ کسی (دوسرے ) گروہ سے ] عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنُوْا [ ہوسکتا ہے کہ وہ ہوں ] خَيْرًا [ بہتر ] مِّنْهُمْ [ ان سے ] وَلَا نِسَاۗءٌ [ اور نہ ہی (مذاق کریں ) عورتیں ] مِّنْ نِّسَاۗءٍ [ (دوسری ) عورتوں سے ] عَسٰٓى اَنْ يَّكُنَّ [ ہوسکتا ہے کہ وہ ہوں ] خَيْرًا [ بہتر ] مِّنْهُنَّ ۚ [ ان سے ] وَلَا تَلْمِزُوْٓا [اور تم لوگ نکتہ مت کرو ] اَنْفُسَكُمْ [ اپنوں کی ] وَلَا تَنَابَزُوْا [ اور شرمندہ مت کرو (اپنوں کو ) ] بِالْاَلْقَابِ ۭ [ دوسرے ناموں (لقب ) سے ] بِئْسَ الِاسْمُ [ کتنا…
Read the full tafseer →باہم مل کر زندگی گزارنے کے چند احکام
ان آیات میں اہل ایمان کو چند نصیحتیں فرمائیں اولاً تو یہ فرمایا ﴿ لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ ﴾ کہ ایک دوسرے کا مذاق نہ بنائیں اور کوئی کسی کے ساتھ تمسخر نہ کرے چونکہ مردوں کا آپس میں زیادہ ملنا جلنا رہتا ہے، اور عورتوں کا عورتوں سے زیادہ میل جول رہتا ہے اس لیے طرز خطاب یوں اختیار فرمایا کہ مرد مردوں کا مذاق نہ بنائیں اور عورتیں عورتوں کا مذاق نہ بنائیں یہ مطلب نہیں ہے کہ مردوں کو عورتوں کا اور عورتوں کو مردوں کا مذاق اڑانے کی اجازت دی گئی ہے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ ہنسی کرنے والوں کو اس کا کیا حق ہے کہ کسی کا مذاق بنائیں اصل بڑائی ایمان اور اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ترغیب وتاکید باہمی اخوت وہمدردی وتنبیہ وتہدید برتحقیر وتذلیل :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وان طآئفتن من ال مومنین ...... الی ....... فاولٓئک ھم الظلمون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اس امر پر تنبیہ کی گئی تھی کہ کسی غیر مستند اور غیر معتبر بات کو سن کر اس پر یقین نہ کرنا چاہئے بلکہ اس کی تحقیق کرلی جائے محض افواہوں سے متاثر ہو کر جذبات میں مغلوب ہوجانا بہت سے مفاسد اور فتنوں کا ذریعہ ہے اور باہمی منازعت وخصومت کا اس سے دروازہ کھل جاتا ہے تو ان آیات میں اس کے بالمقابل ایسی ہدایت وتعلیم دی جارہی ہے کہ مسلمان قوم کو چاہئے کہ وحدت واخوت قائم رکھے، باہمی منازعت اور اختلاف وخصومت سے پوری طرح بچے اور اگر…
Read the full tafseer →10:۔ ” یا ایہا الذین امنوا لایسخر۔ الایۃ “ یہ پانچواں قانون ہے جس میں معاشرت کے کئی آداب ذکر کیے گئے ہیں۔ اول یہ کہ مردوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کی تحقیر و توہین نہ کریں اور ان کا مذاق نہ اڑائیں اور نہ ان کے عیوب و نقائص کو اس انداز میں بیان کریں جس سے ان کی تحقیر ہو اور وہ لوگوں کے لیے ہنسی مذاق بن جائیں۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جن کا وہ مذاق اڑائیں وہ ایمان و عمل صالح کی وجہ سے خدا کے نزدیک ان سے بہتر ہوں۔ اسی طرح عورتوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی مسلمان بہنوں کا مذاق نہ اڑائیں ہوسکتا ہے کہ جن کی تحقیر کر رہی ہوں وہ اللہ کے نزدیک ان سے بہت بہتر ہوں۔ اور جو اپنے سے بہتر ہو اس کو حقیر…
Read the full tafseer →ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی نظام کو درست رکھنے کے لیے ضابطے بیا ن کیے جا رہے ہیں ۔ گزشتہ درس میں چھٹا اصول یہ بیان ہوا تھا کہ اگر اہل ایمان کے دو گروہوں کے درمیان کوئی نا چاقی ہوجائے تو انکی آپس میں صلح کرا دیا کرو اور سر کشی کرنے والے کو سارے مل کر مجبور کر دو کہ وہ اللہ کے قانون کی طرف لوٹ آئے یعنی زیادتی کرنے سے باز آجائے۔ فرمایا متنازعہ معاملات کو حق و انصاف کے ساتھ سلجھا دو ۔ کیونکہ سارے مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ اب آج کی آیت میں اللہ نے وہ وجوہات بیان فرمائی ہیں جن کی بناء پر بالعموم جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور پھر اختلافات وسیع ہو کر اشتعال پیدا ہوتا ہے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَاۗءٌ مِّنْ نِّسَاۗءٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْہُنَّ 0 ۚ وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ 0 ۭ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ 0 ۚ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ 11
سخر
التَّسْخِيرُ : سياقة إلى الغرض المختصّ قهرا، قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13]
( س خ ر ) التسخیر
( تفعیل ) کے معنی کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبر دستی لیجانا کے ہیں قرآن میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ترکیب : السخریۃ الاستہزاء ویعدی بعلی ومن۔ اللمزالعیب قال ابن جریر اللمزبالید والعین واللسان والاشارۃ والہمزلایکون الاباللسان التنابزالتفاعل من النبزبالسکون وھوالمصدر والنبزبالتحریک اللقب مطلقاً ولکن خص فی العرف بالقبح و الجمع انباز والالقاب جمع لقب وھوما یذکربہ الانسان من اوصافہ والمرادبہ ھنالقب السوء۔ اجتنبوا یقال جنبہ الشراذابعدہ عنہ واصلہ جعل الشیء فی جانب فیعدی الی مفعولین کما فی قولہ تعالیٰ و اجنبی و نبی ان نعبدالاصنام و مطاومۃ اجتنب الشر فنقص مفعولا۔ میتاحال عن اللحم اوعن الاخ فکرھتموہ الفاء لترتیب مابعدھاعلی ماقبلہا من التمثیل والضمیر فی کرھتموہ (ہ) عائدالی الاکل اوالی اللحم او الی…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ یَّـکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْھُمْ وَلاَ نِسَآئٌ مِّنْ نِّسَآئٍ عَسٰٓی اَنْ یَّـکُنَّ خَیْرًا مِّنْھُنَّ ج وَلاَ تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَلاَ تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ط بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَالْاِیْمَانِ ج وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (الحجرات : 11)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو نہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں، آپس میں ایک دوسرے پر عیب نہ لگائو، اور نام نہ ڈالو ایک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اس لیے انہیں آپس کے اختلافات سے بچنا چاہیے یہ تبھی ممکن ہوگا جب مسلمان ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھیں گے اور ایسے الفاظ اور انداز سے بچیں جس سے دوسرے بھائی کی توہین کا پہلو نکلتاہو۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورة الحجرات میں مسلمانوں کو تیسری مرتبہ ” اٰمَنُوْا “ کے لفظ سے مخاطب کیا ہے کہ اے ایمان والو ! کوئی قوم کسی دوسری قوم سے تمسخر نہ کرے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اس سے بہتر ہو اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کو مذاق کا نشانہ بنائیں ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ ایک دوسرے کے عیب نکالا کرو اور نہ ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →تمسخر کی ممانعت :
آیت 11 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآئٌ مِّنْ نِّسَآئٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُنَّ خَیْرًا مِّنْہُنَّ (اے ایمان والو ! نہ تو مردوں کو مردوں پر ہنسنا چاہیے۔ کیا عجب ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہیے۔ کیا عجب ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں) قوم سے خاص کر مردمراد ہیں کیونکہ وہ عورتوں کے امور کے ذمہ دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ الرجال قوامون علی [ النساء : 34] قواموناصل میں قائم کی جمع ہے جیسا صوم جمع صائم کی ہے اور زور جمع زائر کی ہے۔ اور قوم سے مردوں کا مراد ہونا…
Read the full tafseer →انما المومنون اخوۃ کی تفسیر اور شان نزول
10 ۔” انما المومنون اخوۃ “ دین اور ولایت میں ” فاصلحوا بین اخویکم “ جب وہ دونوں اختلاف کریں اور لڑنے لگیں اور یعقوب (رح) نے ” بین اخوتکم “ ناء کے ساتھ جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔ ” واتقوا اللہ “ پس تم اس کی نافرمانی نہ کرو اور اس کے امر کی مخالفت نہ کرو ” لعلکم ترحمون “ سالم (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو گالیاں دیتا ہے جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرتے ہیں اور جو کسی مسلمان سے کوئی غم ومشقت دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11۔ 12۔ صحیحین 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ایک بڑی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایماندار آدمی کو چاہئے کہ یا تو نیک بات منہ سے نکالے نہیں تو چپکا رہے غرض اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ٹھٹھے بدگوئی اور غیبت سے زبان کو روکنا ایمانداری کی نشانی ہے جس طرح گالی کا منہ سے نکالنا جھوٹ بولنا امانت میں خیانت کرنا منافق کی نشانی ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کسی شخص کی مذمت پیٹھ پیچھے کرنا غیبت ہے صحابہ نے عرض کیا کہ حضرت اگر اس شخص میں وہ مذمت کی بات موجود ہو تو کیا اس کا ذکر کرنا بھی غیبت ہے آپ نے…
Read the full tafseer →یہ بھی مومنون کے باہمی حقوق میں شمار ہوتا ہے کہ (لا یسخر قوم من قوم) ” کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے۔ “ یعنی کسی قسم کی گفتگو اور قول و فعل کے ذریعے سے تمسخر نہ اڑائے جو مسلمان بھائی کی تحقیر پر دلالت کرتے ہوں۔ بیشک یہ تمسخر حرام ہے اور کسی طرح جائز نہیں، نیز یہ چیز تمسخر اڑانے والے کی خود پسندی پر دلیل ہے۔ ہوسکتا ہے جس کا تمسخر اڑایا جارہا ہے وہ تمسخر اڑانے والے سے بہتر ہو اور غالب طور پر یہی ہوتا ہے کیونکہ تمسخر صرف اسی شخص سے صادر ہوتا ہے جس کا قلب اخلاق بد سے لبریز ہو، جو ہر قسم کے اخلاق مذمومہ سے آراستہ اور اخلاق کریمہ سے بالکل خالی ہو۔ بنا بریں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :” کسی شخص کے لئے…
Read the full tafseer →تمسخرنہ اڑایا جائے
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لا یسخرقوم من قوم، اے ایمان لانے والو ! مردوں کو مردوں پر ہنسنا نہیں چاہیے) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تحقیر کی بنا پر کسی کا مذاق اڑانے اور اس پر ہنسنے سے منع فرمایا ہے جب کہ وہ شخص اس تمسخر کا سزا وارنہ ہو۔ مسخریہ اور تمسخر کے یہی معنی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بتادیا کہ مذاقاڑانے والا ہوسکتا ہے کہ دنیاوی لحاظ سے ارفع ہو تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس کا وہ مذاق اڑارہا ہے اللہ کے نزدیک اس کا درجہ اس سے بلند ہو۔
طعنہ زنی منع ہے
قول باری ہے (ولا تلمزوا انفسکم اور ایک دوسرے کو طعنہ نہ دو ) حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ سے مروی ہے کہ ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیں۔…
Read the full tafseer →[ 31] دوسروں کا مذاق اڑانے کی ممانعت کا ذکر وبیان :
سو اس سے آپس میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانے کی ممانعت فرما دی گئی چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ " کوئی قوم کسی دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے کہیں بہتر ہوں "۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک، کہ وہاں فیصلہ صرف ظواہر پر نہیں ہوتا بلکہ حقائق اور بواطن پر ہوتا ہے۔ اور اس کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں ہوسکتا۔ یہاں پر مردوں اور عورتوں دونوں کے بارے میں جمع کے صیغے اختیار فرمائے گئے۔ کیونکہ عیب جوئی عام طور پر دوسروں کے سامنے اور مجمع کے درمیان ہی کی جاتی ہے۔ سو یہاں سے دراصل ان امور سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
اخلاقی برائیاں
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں چند اخلاقی اصول بتائے گئے ہیں ان آیات میں اخلاقیات سے متعلق چند اور اصول بتائے جا رہے ہیں۔ کہنے کو یہ بڑی معمولی باتیں ہیں مگر ان کے اثرات اور فضیلتیں بیشمار ہیں۔ حکم دیا گیا ہے کہ کوئی مرد کسی مرد کا اور کوئی عورت کسی عورت کا مذاق نہ اڑائے۔ اسی لیے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ” کوئی مرد کسی مرد کا اور کوئی عورت کسی عورت کا مذاق نہ اڑائے ”۔
دوسری مصلحت یہ ملتی ہے کہ ہوسکتا ہے جس کا ہم مذاق اڑا رہے ہیں وہ اللہ کا پسندیدہ بندہ ہو جو بظاہر درویش صفت ہو تو اس طرح ہم نے کئی گناہ کما لیے۔ ایک تو اس کا دل دکھایا دوسرے بیخبر ی میں اللہ کے مقبول بندے کا مذاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
آیات 11 تا 18۔
اسرار ومعارف۔
اے ایمان والو ! ایسی صورتون سے بچوجولڑائی کا سبب بنتی ہیں جیسے کوئی گروہ کسی دوسری جماعت کا مذاق نہ اڑائے کہ کیا خبر اللہ کریم کے نزدیک وہ لوگ ان سے بہتر ہوں ایسے ہی مسلمان خواتین کو بھی بات کرنے میں احتیاط لازم ہے اور دوسری خواتین کے بارے تحقیر کا انداز اختیار نہ کرنا چاہیے کیا خبر اللہ کریم انہیں ان مذاق کرنے والوں سے زیادہ محبوب رکھتا ہو اور ایک دوسرے کی نکتہ چینیاں نہ کیا کرو یہی بات نفرت کا سبب بن کر ایک دوسرے سے دور کردیتی ہے نہ ہی ایک دوسرے کو ناپسندیدہ ناموں سے پکارو۔ یہ بات اس قدر اہم ہے کہ قرآن کریم نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ حکم دیا ہے کہ جبکہ آج کل…
Read the full tafseer →ف 3 جیسے کسی کو فاسق منافق کانا گدھا وغیرہ ناموں سے پکارنا یا کسی کو مسلمان ہوجانے کے بعد اس کے سابق مذہب کی بنیاد پر یہودی نصرانی وغیرہ کہہ کر پکارنا
4 یعنی مسلمان پر طعن کرنا، اس کا مذاق اڑانا اور اسے برے ناموں سے پکارنا۔
Read the full tafseer →(49:11) لایسخر : فعل نہی واحد مذکر غائب سخر (باب سمع) مصدر۔ ب اور من کے صلہ کے ساتھ۔ مذاق بنانا۔ ٹھٹھا کرنا۔ (چاہیے کہ یہ تمسخر اڑائے مردوں کی ایک جماعت دوسری جماعت کا۔
عسی۔ ممکن ہے۔ ہوسکتا ہے۔
ان یکن خیرا منھن : ان مصدریہ ۔ یکن مضارع جمع مؤنث غائب ۔ کون باب نصر۔ مصدر۔ وہ ہوں گی۔ وہ ہوں۔ خیرا افعل التفضیل کا صیغہ ہے بہتر۔ بوجہ خبر یکن منصوب ہے۔ یکن میں ضمیر جمع مؤنث غائب ان عورتوں کی طرف راجع ہے جن کا تمسخر اڑایا جا رہا ہو۔ اور منھن میں ان عورتوں کی طرف جو تمسخر اڑا رہی ہوں ۔
لاتلمزوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ لمز (باب ضرب و نصر) مصدر۔ تم عیب مت لگاؤ۔ تم عیب چینی مت کرو۔
انفسکم۔ مضاف مضاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
لغات القرآن آیت نمبر (11 تا 12 ) ۔
لا یسخر (مذاق نہ اڑائے) ۔ لا تلمزوا (طعنے مت دو ) ۔ لا تنابزوا (برے نام نہ رکھو) ۔ القاب (لقب۔ نام رکھنا) ۔ بئس (برا ہے) ۔ لم یتب (توبہ نہ کی) ۔ اجتنبوا (بچتے رہو) ۔ لا تجسسوا (ٹوہ میں نہ لگو) ۔ لا یغتب (غیبت نہیں کرتا) ۔ ایحب (کیا پسند ہے ؟ ) ۔ ان یا کل (یہ کہ وہ کھائے) ۔ لحم (گوشت ) ۔ کر ھتم (تم نے برا سمجھا ) ۔
تشریح : آیت نمبر (11 تا 12 ) ۔ ” آپس میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، طعنے دینا، کسی کو برے الفاظ و القاب سے پکارنا، بدگمانیاں کرنا، دوسرے کے عیب تلاش کرنا اور پیٹھ پیچھے اپنے بھائیوں کی غیبت کرنا یہ سب وہ باتیں ہیں جن سے فسادات اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →(ف 1) شان نزول۔ اس آیت کا نزول کئی واقعوں میں ہوا۔
(1) ۔ پہلا واقعہ یہ ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس کو کم سنائی دیتا تھا جب وہ نبی کی مجلس میں تشریف لاتے تو صحابہ انہیں آگے بٹھاتے اور ان کے لیے جگہ خالی کردیتے تاکہ وہ حضور کے قریب رہ کر کلام مبارک سن سکیں، ایک روز انہیں حاضری میں دیر ہوگئی اور مجلس شریف خوب بھر گئی اس وقت ثابت آئے اور قاعدہ یہ تھا کہ جو شخص ایسے وقت میں آتا اور مجلس میں جگہ نہ پاتا تو جہاں ہوتا کھڑا رہتا، ثابت آئے تو وہ نبی کے قریب بیٹھنے کے لیے لوگوں کو ہٹاتے ہوئے یہ کہتے چلے کہ، جگہ دو جگہ دو ۔ یہاں تک کہ وہ حضور کے قریب پہنچ گئے اور ان کے اور حضور کے درمیان صرف ایک شخص رہ گیا…
Read the full tafseer →[11] یعنی کسی کے بارے میں برا لقب تجویز کرنے سے آدمی خود گنہگار ہوتا ہے۔ اس شخص کو تو واقع میں عیب لگایا نہ لگا لیکن اس کا نام بدتہذیب، فاسق، مردم آزار پڑگیا۔ خیال کرو '' مومن '' کے بہترین لقب کے بعد یہ نام کیا اچھے معلوم ہوتے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اسلامی اخوت
1: اسلام ایک ایسا مستحکم اور مضبوط رشتہ ہے ۔ جو کبھی نہیں ٹوٹتا اور جس پر رنگ وبو کا اختلاف قطعاً اثر انداز نہیں ہوتا ۔ مسلمان نام ہے ۔ ایک ایسی ہیئت اجتماعیہ کا ہو ساری کائنات میں موجود ہے ۔ اور جغرافیائی حدود اس میں داخل انداز نہیں ہوتیں ۔ مومن تعبیر ہے ۔ وحدت واخوت سے ۔ یک جہتی اور یکسانی سے اس عمائفہ نیک نہاد کی عادات میں ، تہذیب میں اور خیالات و افکار میں نہایت نمایاں اتحاد ہوتا ہے ۔ یہ لوگ دنیا میں اس لئے آئے ہیں ۔ کہ تمام نوع کی نسلی اور قومی امتیازات مٹادیں ۔ اور تمام تفریقات کو ختم کردیں ۔ جو مصنوعی ہیں ۔ اور اتحاد انسانی کے دشمنوں نے وضع کررکھی ہیں ۔ اور ساری انسانیت کو…
Read the full tafseer →(11) اے ایمان والو ! نہ تو مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کی کسی جماعت سے مذاق کرے کیا عجب ہے کہ جو لوگ مذاق اڑا رہے ہیں اور سخر یہ کررہے ہیں ان سے وہ لوگ بہتر ہوں جن کا مذاق اڑایا جارہا ہے اور جن سے تمسخر کیا جارہا ہے اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا اور ان سے مذاق کرنا چاہیے یہ ممکن ہے کہ جو عورتیں ہنسی اڑانے والی ہیں ان سے وہ عورتیں بہتر ہوں جن کی ہنسی اڑائی جارہی ہے اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو طعنہ دیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارا کرو۔
ایمان لانے کے بعد مسلمان کے لئے فسق کا نام بہت برا ہے اور جو توبہ نہ کریں گے تو وہی لوگ ظلم کرنے والے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا مذاق اور تمسخر…
Read the full tafseer →ف 4۔ تمسخر وہ ہنسی ہے جس سے دوسرے کی تحقیر اور دل آزاری ہو، اور جس سے دوسرے کا دل خوش ہو وہ مزاح کہلاتا ہے اور وہ جائز ہے۔
Read the full tafseer →اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تمہارا کوئی گروہ دوسرے گروہ کو حقیر نہ سمجھے
11 ۔ ایک بار پھر مسلمانوں کو مخاطب کرکے حکم دیا جارہا ہے کہ اے مسلمانو ! کان کھول کر سن لو کہ تم میں سے کوئی قوم ، دوسری قوم کا تمسخر نہ اڑائے اور نہ ہی اس کو کوئی حقیر سمجھے عین ممکن ہے کہ جو جماعت دوسری کو حقیر سمجھتی ہے اس سے حقیر سمجھی جانے والی ہی اپنے اعمال کے باعث اس سے اچھی اور بہتر ہو۔ خیال رہے کہ اس جگہ قوم سے مراد وہ خاندانی تقسیم کی قوم ہے جو شناخت کی جانے کے لیے ضروری ہوتی ہے اور ایک ہی قوم کے لوگوں کے اندر شعوب و قبائل کی صورت میں تقسیم ناگزیر ہوجاتی ہے اور یہ محض شناخت کے لیے ہوتی ہے تاکہ ایک دوسرے کی شناخت…
Read the full tafseer →(). It means that calling others with bad nicknames is a sinful act, and the real bad name for a person after embracing Faith is that he is known among people for sinful acts. Therefore, if a Muslim commits the sin of calling others with bad nicknames, and it is known among people, then the real bad name is earned by himself, and not by the person whom he has abused with that nickname. (Muhammad Taqi Usmani)
Prohibition of Ridiculing One Another
The beginning part of this chapter laid down the Prophet's ﷺ rights and the etiquettes to be observed when dealing with him. Then the Holy Qur'an…
Read the full tafseer →19 In the preceding two verses after giving necessary instructions about the Muslim people's mutual fighting, the believers were made to realize that by virtue of the most sacred relationship of the faith they were brothers one to another, and they should fear God and try to keep their mutual relations right. Now, in the following two verses, they are being enjoined to avoid and shun those major evils which generally spoil the mutual relationships of the people in a society. Slandering and taunting the people and harboring suspicions and spying on others are, in fact, the evils that cause…
Read the full tafseer →