دہشت گرد اور ہراس پھیلانے والے ناپسندیدہ لوگ
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو بدگمانی کرنے، تہمت رکھنے اپنوں اور غیروں کو خوفزدہ کرنے، خواہ مخواہ کی دہشت دل میں رکھ لینے سے روکتا ہے اور فرماتا ہے کہ بسا اوقات اکثر اس قسم کے گمان بالکل گناہ ہوتے ہیں پس تمہیں اس میں پوری احتیاط چاہیے۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا تیرے مسلمان بھائی کی زبان سے جو کلمہ نکلا ہو جہاں تک تجھ سے ہو سکے اسے بھلائی اور اچھائی پر محمول کر۔ ابن ماجہ میں ہے کہ نبی ﷺ نے طواف کعبہ کرتے ہوئے فرمایا تو کتنا پاک گھر ہے ؟ تو کیسی بڑی حرمت والا ہے ؟ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ مومن کی…
Read the full tafseer →سورة الْحُجُرٰت 24
مطلقاً گمان کرنے سے نہیں روکا گیا ہے بلکہ بہت زیادہ گمان سے کام لینے اور ہر طرح کے گمان کی پیروی کرنے سے منع فرمایا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اس حکم کو سمجھنے کے لیے ہمیں تجزیہ کر کے دیکھنا چاہیے کہ گمان کی کتنی قسمیں ہیں اور ہر ایک کی اخلاقی حیثیت کیا ہے
ایک قسم کا گمان وہ ہے جو اخلاق کی نگاہ میں نہایت پسندیدہ اور دین کی نظر میں مطلوب اور محمود ہے، مثلاً اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان سے نیک گمان اور ان لوگوں کے ساتھ حسن ظن جن سے آدمی کا میل جول ہو اور جن کے متعلق بد گمانی کرنے کی کوئی معقول وجہ نہ ہو۔
دوسری قسم کا گمان وہ ہے جس سے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچا کرو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں (اس لئے ظن و گمان کی جتنی قسمیں ہیں ان سب کے اقسام کے احکام کی تحقیق کرلو کہ کون سا گمان جائز ہے کون سا ناجائز، پھر جائز کی حد تک رہو) اور (کسی کے عیب کا) سراغ نہ لگایا کرو اور کوئی کسی کی غیبت بھی نہ کیا کرے (آگے غیبت کی مذمت ہے کہ) کیا تم میں کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھالے اس کو تو تم (ضرور) برا سمجھتے ہو (تو سمجھ لو کہ کسی بھائی کی غیبت بھی اسی کے مشابہ ہے) اور اللہ سے ڈرتے رہو (غیبت چھوڑ دو توبہ کرلو) بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
معارف و مسائل
یہ آیت بھی…
Read the full tafseer →یا یھا الذین امنوا اجتنبوا کثیراً من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسوا ولایغتب بعضکم بعضاً ط ایحب احدکم ان یا کل لحم اخیہ میتا فکرھتموہ واتقوا اللہ ط ان اللہ ت واب رحیم 12
یہ اہل ایمان کو از سر نو خطاب کر کے بعض ایسی باتوں سے روکا گیا ہے جو بظاہر تو معمولی نظر آتی ہیں لیکن یہ انسان کے خود اپنے دل کو ایسے روگ میں مبتلا کردیتی ہیں کہ وہ تقویٰ کی روئیدگی کے لئے بالکل ناساز گار ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے جن کو ایمان عزیز ہو ان کے لئے ضرویر ہے کہ وہ ان آفتوں سے اپنے کو محفوظ رکھیں۔
بدگمانی
پہلی بات یہ ارشاد ہوئی کہ انسان اپنے دل کو دوسروں سے متعلق بدگمانیوں کی پرورش گاہ نہ بنالے کہ جس کی نسبت جو براگمان…
Read the full tafseer →12۔ 1 ظن کے معنی ہیں گمان کرنا مطلب ہے کہ اہل خیر واہل اصلاح وتقوی کے بارے میں ایسے گمان رکھنا جو بےاصل ہوں اور تہمت وافترا کے ضمن میں آتے ہوں اسی لیے اس کا ترجمہ بدگمانی کیا جاتا ہے اور حدیث میں اس کو اکذب الحدیث سب سے بڑا جھوٹ کہہ کر اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے ایاکم والظن البخاری کتاب الادب باب یا ایھا الذین امنو اجتنبو امنو اجتنبوا کثیرا من الظن صحیح مسلم ورنہ فسق و فجور میں مبتلا لوگوں سے ان کے گناہوں کی وجہ سے اور ان کے گناہوں پر بدگمانی رکھنا یہ وہ بدگمانی نہیں ہے جسے یہاں گناہ کہا گیا ہے اور اس سے اجتناب کی تاکید کی گئی ہے۔ ان الظن القبیح بمن ظاہرہ الخیر لا یجوز وانہ لا حرج فی الظن…
Read the full tafseer →6: یعنی کسی کے خلاف تحقیق کے بغیر بدگمانی دل میں جما لینا گناہ ہے۔
7: کسی دوسرے کے عیب تلاش کرنے کے لیے اس کی ٹوہ اور جستجو میں لگنا بھی اس آیت کی رو سے گناہ ہے۔ البتہ کوئی حاکم مجرموں کا پتہ لگانے کے لیے تفتیش کرے تو وہ اس میں داخل نہیں ہے۔
8: غیبت کی تعریف ایک حدیث میں خود حضور اقدس ﷺ نے یہ فرمائی ہے کہ : تم اپنے بھائی کا تذکرہ اس طرح کرو جو اسے ناگوار ہو۔ ایک صحابی نے پوچھا کہ اگر اس میں واقعی وہ عیب ہو تو (کیا اس کا بیان کرنا بھی غیبت ہے) آپ نے فرمایا : کہ اگر اس میں واقعی وہ عیب ہو تب تو وہ غیبت ہے اور اگر وہ نہ ہو تو بہتان ہے، یعنی وہ دوہرا گناہ ہے۔
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا اجتنبوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان اللہ تواب رحیم (49 : 12) “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ تجسس نہ کرو۔ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا ؟ دیکھو ، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ بڑا توبہ کرنے والا اور رحیم ہے ”۔
یہ آیت اس فاضلانہ معاشرہ کی حفاظت کے لئے ایک دوسری باڑ ہے۔ جس میں ایک فرد کی آزادی اور اس کی عزت محفوظ ہوتی ہے ، اسی طرح ان کو یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنے شعور اور اپنے ضمیر کا اظہار کس طرح کریں گے۔ اور دوسروں کے بارے ان کی سوچ…
Read the full tafseer →5 اختلاف و تفریق باہمی کے بڑھانے میں ان امور کو خصوصیت سے دخل ہے ایک فریق دوسرے فریق سے ایسا بدگمان ہوجاتا ہے کہ حسن ظن کو کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ مخالف کی کوئی بات ہو اس کا محل اپنے خلاف نکال لیتا ہے۔ اس کی بات میں ہزار احتمال بھلائی کے ہوں اور صرف ایک پہلو برائی کا نکلتا ہو، ہمیشہ اس کی طبیعت برے پہلو کی طرف چلے گی اور اسی برے اور کمزور پہلو کو قطعی اور یقینی قرار دے کر فریق مقابل پر تہمتیں اور الزام لگانا شروع کر دے گا۔ پھر نہ صرف یہ ہی کہ ایک بات حسب اتفاق پہنچ گئی، بدگمانی، سے اس کو غلط معنی پہنا دیے گئے، نہیں، اس جستجو میں رہتا ہے کہ دوسری طرف کے اندرونی بھید معلوم ہوں جس پر ہم خوب…
Read the full tafseer →آیت 12{ یٰٓــاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ} ”اے اہل ِایمان ! زیادہ گمان کرنے سے بچو ‘ بیشک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں“
کسی کے بارے میں خواہ مخواہ کوئی بات فرض کر کے یا کسی سنی سنائی بات کو بنیاد بنا کر کوئی برا گمان اپنے دل میں بٹھا لینا اور منفی رائے قائم کرلینا جبکہ متعلقہ شخص نے نہ تو ویسا کوئی اقدام کیا ہو اور نہ ہی اس کے عملی رویے سے ویسی کسی بات کی تصدیق ہوتی ہو ‘ یہ ہے اس گمان کی نوعیت جس سے یہاں منع کیا جا رہا ہے۔ ایسے گمان کو بدگمانی یا سوئے ظن کہا جاتا ہے اور یہ بہتان اور تہمت کے زمرے میں آتا ہے۔
{ وَّلَا تَجَسَّسُوْا }…
Read the full tafseer →19 سوئے ظن سے پرہیز :۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ گمان کرنے سے بچو بلکہ یوں فرمایا کہ زیادہ گمان کرنے سے بچو۔ کیونکہ گمان تو ہر انسان کو کسی نہ کسی وقت کرنا ہی پڑتا ہے۔ اور اگر ظن و گمان کو عادت بنا لیا جائے تو یہ بہت بری بات ہے کیونکہ اکثر ظن بدظنی پر مشتمل ہوتے ہیں اور کسی سے سوئے ظن رکھنا بذات خود گناہ کبیرہ ہے۔ اس کے برعکس اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر شخص سے حسن ظنی رکھی جائے تاآنکہ اس سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہوجائے جو حسن ظن کو بدظنی میں تبدیل کر دے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے متعلق کوئی برا خیال پیدا ہوجائے تو جب تک زبان سے اس کا اظہار نہ کرے وہ قابل مواخذہ نہیں ہے۔ اس…
Read the full tafseer →19۔ (اس لئے ضرور ہے کہ اقسام گمان کو سمجھ کر حد ود جواز کے اندر ہو) فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ حق تعالیٰ کے ساتھ نیک گمان رکھنا واجب ہے اور حق تعالیٰ اور عام مسلمانوں کے ساتھ بدگمانی ممنوع وناجائز ہے۔ فحسن الظن باللہ فرض وسوء الظن بہ محظور منھی وکذلک سوء الظن بالمسلمین الذین ظاھر ھم العدالۃ محظور مزجور عنہ (جصاص) بدگمانیوں کی عام عادت جو بطور وباء کے ہم لوگوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ آیت اس پر کیسی ضرب لگارہی ہے۔ بات بات پر بلاوجہ بھائیوں سے بدگمانی، بیوی، بچوں سے بدگمانی، پڑوسیوں سے بدگمانی، نوکروں چاکروں سے بدگمانی، گویا بدگمانی کو ہم لوگوں نے اوڑھنا، بچھونا بنارکھا ہے۔ یہ بدگمانی کی خلش اگر…
Read the full tafseer →یا ایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیراً من الظن (آلایۃ) اس آیت میں تین باتوں کو حرام قرار دیا گیا ہے، اول ظن، دوسرے تجسس، تیسرے غیبت، پہلی چیز یعنی ظن کے معنی گمان غالب کے ہیں، اس کے متعلق قرآن کریم نے اول یہ یہ فرمایا کہ بہت گمانوں سے بچا کرو، پھر اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ ہر گماہ گناہ نہیں ہوتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ ہر گمان گناہ نہیں ہوتا۔
اس حکم کو سمجھنے کے لئے ہمیں تجزیہ کر کے دیکھنا چاہیے کہ گمان کی کتنی قسمیں ہیں اور ہر ایک کی اخلاقی حیثیت کیا ہے۔
گمان کی ایک قسم وہ ہے کہ جو اخلاق کی نگاہ میں نہایت پسندیدہ اور دین کی نظر میں مطلوب، محمود، مثلاً…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسسوا ولا یغتب بعضکم بعضا ایب احدکم ان یا کل لحم اخیہ میتا فکرھتموہ .
اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور (کسی کی) ٹوہ میں نہ لگے رہا کرو اور کوئی کسی کی غیبت بھی نہ کیا کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ‘ اس کو تم ناگوار سمجھتے ہو۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : سیوطی نے لکھا ہے کہ قصۂ مذکورہ ثعلبی نے بغیر سند کے ذکر کیا ہے اور اصبہانی نے ترغیب میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی روایت سے اس کے ہم معنی قصہ بیان کیا ہے۔ ابن المنذر نے ابن جریج کی روایت…
Read the full tafseer →اور اے ایمان والو بہت سے گمانوں سے بچا کرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
یہ آیت دو صحابیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے اپنے ساتھی حضرت سلمان فارسی کی غیبت کی تھی اور حضرت اسامہ خادم رسول اکرم کے ساتھ بدگمانی کی تھی اور ان کا سراغ لگایا تھا کہ ان کے پاس کچھ چیز موجود ہے، جس کے بارے میں رسول اکرم نے ان کو دینے کا حکم دیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بدگمانی غیبت اور سراغ لگانے سے منع کردیا، یعنی اپنے بھائی کے آنے جانے کے بارے میں جو تم گمان کرتے ہو جیسا کہ اس مقام پر حضرت اسامہ کے بارے میں گمان کیا یہ گمان مت کرو۔
اور نہ کسی عیب کا کھوج لگاؤ اور نہ اس چیز کی تحقیق کرو جس کی حق تعالیٰ نے پردہ…
Read the full tafseer →(1) یا یھا الذین امنوا اجتنبوا…: پچھلی آیت میں مسلمانوں کے باہمی تعلقات خراب کرنے والی ایسی چیزوں سبے منع فرمایا تھا جو ایک دوسرے کے سامنے ظاہر ہوتی ہیں، یعنی مذاق اڑانا، عیب لگانا اور برے نام سے پکارنا، اب ان تین چیزوں سے منع فرمایا جو دوسرے بھائیوں سے تعلق رکھتی ہیں مگر انہیں ان کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ وہ ہیں بدگمانی، جاسوسی اور غیبت۔ یہ تینوں کام انتہائی کمینگی اور بزدلی کے کام ہیں، کیونکہ انہیں کرنے والے میں جرأت ہی نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں کے سامنے آسکے۔ یہ اس سورت کی پانچویں آیت ہے جس کا آغاز ”یایھا الذین امنوا“ سے ہوا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ تینوں کا م ایمان اور اس کے دعوے کے منافی ہیں، اسلئے…
Read the full tafseer →اس میں دس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1:۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت ان دو مرد صحابہ بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنی ساتھی کی غیبت کی تھی اس کی وجہ یہ بنی کہ نبی کریم ﷺ کا معمول مبارک یہ تھا جب آپ سفر کرتے تو ایک محتاج آدمی کو دو خوشحال آدمیوں کے ساتھ ملا دیتے وہ ان کی خدمت کرتا رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلمان کو دو آدمیوں کے ساتھ ملایا، حضرت سلمان اپنے پڑائو کی طرف نکلے اور نیند غالب آگئے وہ سو گئے اور ان دونوں کے لئے کوئی چیز تیار نہ کی وہ دونوں آئے تو کھانا اور سالن نہ پایا دونوں نے کہا : جائو نبی کریم ﷺ سے ہمارے لئے کھانا اور سالن طلب کرو۔ وہ گئے نبی کریم ﷺ نے انہیں فرمایا :” اسامہ بن زید کے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرامن الظن “ (اے ایمان والو بہت سے گمانوں سے بچو) سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمن کو منع فرمایا کہ وہ کسی مؤمن کے ساتھ برا گمان کرے۔
2:۔ مالک واحمد والبخاری ومسلم و ابوداؤد والترمذی وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی بڑی جھوٹی بات ہے کسی کے عیب کی ٹوہ میں نہ لگو نہ ایک دوسرے کے عیب تلاش کرو نہ آپس میں بغض رکھو اور نہ آپس میں حسد کرو اور تم اللہ کے بندوں کے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوا [ایمان لائے ] اجْتَنِبُوْا [تم لوگ بچو ] كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ ۡ [ بہت زیادہ گمان کرنے سے ] اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ [ بیشک گمان کے بعض ] اِثْمٌ [ گناہ ہیں ] وَّلَا تَجَسَّسُوْا [ اور تجسس مت کرو ] وَلَا يَغْتَبْ [ اور غیبت نہ کرے ] بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ۭ [ تم میں کا کوئی کسی کی ] اَيُحِبُّ [ کیا پسند کرتا ہے ] اَحَدُكُمْ [ تمہارا کوئی ایک ] اَنْ يَّاْكُلَ [ کہ وہ کھائے ] لَحْمَ اَخِيْهِ [ اپنے بھائی کا گوشت ] مَيْتًا [ اس حال میں کہ (وہ بھائی ) مردہ ہو ] فَكَرِهْتُمُوْهُ ۭ [ تو تم نے کراہیت کی اس سے ] وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ [ اور تقوی اختیار کرو…
Read the full tafseer →پانچویں نصیحت : پھر فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ ﴾ (اے ایمان والو بہت سے گمانوں سے بچو) ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ﴿اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ ﴾ (بعض گمان گناہ ہوتے ہیں) بات یہ ہے کہ بد گمانی بہت سے گناہوں کا پیش خیمہ ہوتی ہے بہت سے لوگوں میں وہ بات ہوتی ہی نہیں جسے محض اٹکل و گمان سے طے کرلیا جاتا ہے اور پھر اپنے گمان کے مطابق تہمتیں لگاتے ہیں اور غیبتیں کرتے ہیں بد گمانی کی بنیاد پر جو باتیں کہی جاتی ہیں وہ آگے بڑھتی ہیں اس سے آپس میں فتنہ فساد پیدا ہوتا ہے حالانکہ گمان اپنا ایک ذاتی خیال ہوتا ہے خیال کا صحیح ہونا ضروری نہیں اسی لیے سورة النجم…
Read the full tafseer →تنبیہ وتہدید بربدگمانی وغیبت وممانعت از تجسس احوال :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یایھا الذین امنوا اجتنبوا ...... الی ....... ان اللہ تواب رحیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مسلمانوں کی گروہ بندی اور باہمی منازعت ومخاصمت سے منع کیا گیا تھا اور اس پر وعید وتنبیہ کی گئی تھی کہ کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے یا اس کا مذاق اڑائے کیونکہ ایسی ہی باتیں مسلمانوں میں نفاق وشقاق پیدا کرنے والی ہیں تو اب ان آیات میں مزید ایسے اسباب بیان فرمائے جارہے ہیں جن کی وجہ سے باہمی منافرت اور عداوت کی فضا پیدا ہوئی ہے، آپس میں جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور نوبت جنگ وجدل اور قتل و خونریزی تک پہنچ جاتی ہے جن میں سب…
Read the full tafseer →11:۔ ” یا ایہا الذین امنوا اجتنبوا۔ الایۃ “ یہ چھٹا قانون ہے۔ اس میں بھی تین آداب معاشرت مذکور ہیں۔ اول یہ کہ بدگمانی سے اجتناب کرو اور محض ظن وتخمین کی بناء پر کوئی حکم نہ لگاؤ اور نہ کسی کو الزام دو ، کیونکہ بعض گمان غلط اور موجب گناہ ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ایسے قرائن موجود ہوں جو ظن کو غالب اور یقین کے قریب کردیں اور اس کے خلاف کوئی قرینہ بھی موجود نہ ہو تو اس پر عمل کیا جائیگا۔ باقی صلحاء امت خصوصًا صحابہ کرام ؓ کے ساتھ تو ہر حال میں حسن ظن رکھنے کا حکم ہے۔ ان کے بارے میں بدگمانی کرنا جائز نہیں۔ دوم : ” ولا تجسسوا “ یعنی ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو۔ مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے عیوب و نقائص نہ تلاش…
Read the full tafseer →ربط آیات
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے انفرادی اور اجتماعی نظام کی درستگی کے لیے بعض ایسے قوانین واضع فرمائے ہیں جن پر عملدرآمد سے شہری زندگی امن وامان اور خوشگوار طریقے سے بسر ہو سکتی ہے۔ منجملہ ان ضوابط کے گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کو ٹھٹا اور تمسخر کرنے سے منع فرمایا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ جن مردوں یا عورتوں کو ٹھٹا کیا جارہا ہے۔ وہ اللہ کے نزدیک ٹھٹا کرنے والوں سے بہتر ہوں ۔ اسی طرح اللہ نے ایک دوسرے کی عب جوئی اور برے القاب کے ساتھ پکارنے سے بھی منع فرمایا ، کیونکہ یہ چیزیں نافرمانی کی تعریف میں آتی ہیں جس کی وجہ سے آپس میں نفرت کے جذبات ابھرتے ہیں ، جھگڑتے تنازعے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ 0 ۡاِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا 0 ۭ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْہِ مَيْتًا فَكَرِہْتُمُوْہُ 0 ۭ وَاتَّقُوا اللہَ 0 ۭ اِنَّ اللہَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ 12
اجتناب
ورجل جَنِبٌ وجَانِبٌ. قال عزّ وجل : إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبائِرَ ما تُنْهَوْنَ عَنْهُ
[ النساء/ 31] ، وقال عزّ وجل : وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ [ الحج/ 30] ، واجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ [ الزمر/ 17] عبارة عن تركهم إياه، فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ [ المائدة/ 90] ، وذلک أبلغ من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ترکیب : السخریۃ الاستہزاء ویعدی بعلی ومن۔ اللمزالعیب قال ابن جریر اللمزبالید والعین واللسان والاشارۃ والہمزلایکون الاباللسان التنابزالتفاعل من النبزبالسکون وھوالمصدر والنبزبالتحریک اللقب مطلقاً ولکن خص فی العرف بالقبح و الجمع انباز والالقاب جمع لقب وھوما یذکربہ الانسان من اوصافہ والمرادبہ ھنالقب السوء۔ اجتنبوا یقال جنبہ الشراذابعدہ عنہ واصلہ جعل الشیء فی جانب فیعدی الی مفعولین کما فی قولہ تعالیٰ و اجنبی و نبی ان نعبدالاصنام و مطاومۃ اجتنب الشر فنقص مفعولا۔ میتاحال عن اللحم اوعن الاخ فکرھتموہ الفاء لترتیب مابعدھاعلی ماقبلہا من التمثیل والضمیر فی کرھتموہ (ہ) عائدالی الاکل اوالی اللحم او الی…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَیِثْرًا مِّنَ الظَّنِّ ز اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلاَ تَجَسَّسُوْا وَلاَیَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا ط اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ۔ (الحجرات : 12)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، بہت سے گمانوں سے بچو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کرو، اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے، سو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : عیب جوئی کا آغاز بد ظنی سے ہوتا ہے۔ اسے ختم کرنے کے لیے حکم دیا ہے کہ ہر قسم کی بدگمانی سے اجتناب کرو۔
ایمانداروں کو تیسرا خطاب اس میں تین کاموں سے منع کیا گیا ہے۔ اے ایماندارو ! بدگمانیوں سے بچو کیونکہ اکثر بد گمانیاں بدظنی پر مبنی ہوتی ہیں اور کوئی مسلمان کسی مسلمان کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں کوئی شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ حالانکہ اس سے تم ہر صورت نفرت کرتے ہو۔ اللہ سے ڈرو ! یقیناً اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ پہلے کسی کے بارے میں بدظنی پیدا ہوتی ہے اور پھر بدظنی کے بعد عیب جوئی کے لیے تجسس…
Read the full tafseer →آیت 12 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ (اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچا کرو) عرب کہتے ہیں جنبہ الشر : جبکہ وہ اس سے دور رہے۔ اور حقیقت میں اس کا معنی اس کو ایک جانب کردیا۔ پس اس کو دو مفعول کی طرف متعدی کیا جاوے گا۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا۔ واجنبنی وبنی ان نعبدالاصنام [ ابراہیم : 35] اور اس کا مطاوع اجتنب الشر ہے پس ایک مفعول کم ہوگیا۔
آیت میں ہر گمان سے نہیں بلکہ بعض گمانوں سے اجتناب کا حکم دیا اور اس بعض کو پھر کثرت سے موصوف کیا۔ کیا تم نے اس ارشاد پر غور نہیں کیا جو آگے آتا ہے۔ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (کیونکہ بعض گمان گناہ…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا لا یسخر قوم کا شان نزول
11 ۔” یایھا الذین امنوا لا یسخرقوم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ثابت بن قیس بن شماس ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ان کی قوت سماعت کم تھی، یہ جب بھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتے اور صحابہ کرام ؓ مجلس میں ان سے پہلے جگہ بنا چکے ہوتے تو ان کے لئے مجلس کو کشادہ کردیتے حتیٰ کہ یہ آپ (علیہ السلام) کے پہلو میں بیٹھ جاتے اور آپ (علیہ السلام) کے ارشادات سن لیتے تو یہ ایک دن آئے اور فجر کی ایک رکعت ان سے چھوٹ گئی تھی جب نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرام ؓ نے مجلس میں اپنی جگہیں بنالیں تو ہر شخص نے اپنی جگہ پر بخل کیا اور ان کے لئے وسعت نہ کی۔
پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11۔ 12۔ صحیحین 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ایک بڑی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایماندار آدمی کو چاہئے کہ یا تو نیک بات منہ سے نکالے نہیں تو چپکا رہے غرض اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ٹھٹھے بدگوئی اور غیبت سے زبان کو روکنا ایمانداری کی نشانی ہے جس طرح گالی کا منہ سے نکالنا جھوٹ بولنا امانت میں خیانت کرنا منافق کی نشانی ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کسی شخص کی مذمت پیٹھ پیچھے کرنا غیبت ہے صحابہ نے عرض کیا کہ حضرت اگر اس شخص میں وہ مذمت کی بات موجود ہو تو کیا اس کا ذکر کرنا بھی غیبت ہے آپ نے…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے بارے میں بدگمانی سے روکا ہے، اس لئے کہ (ان بعض الظن اثم) ” بیشک بعض گمان گناہ ہیں۔ “ اس سے مراد وہ ظن و گمان ہے جو حقیقت اور قرینے سے خالی ہے مثلاً وہ بدگمانی جس کے ساتھ بہت سے اقوال بد اور افعال بد مقرون ہوتے ہیں۔ کیونکہ دل کے اندر بدگمانی کے جڑ پکڑ لینے سے بدگمانی کرنے والا شخص صرف بدگمانی پر اکتفاء نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے بارے میں باتیں اور ایسے کام کرتا رہتا ہے جس کا کرنا مناسب نہیں، نیز یہ چیز مسلمان کے بارے میں بدگمانی، اس کے ساتھ بغض و عداوت کو متضمن ہے جس کے برعکس معاملے کا حکم دیا گیا ہے۔ (ولا تجسسوا) یعنی مسلمانوں کے پوشیدہ معاملات کی ٹوہ لگاؤ نہ…
Read the full tafseer →وہم وگمان سے بچنا چاہیے
قول باری ہے (اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم۔ بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں) آیت بعض گمانوں سے نہی کی مقتضی ہے۔ تمام گمانوں سے نہیں۔ کیونکہ قول باری (کثیرا من الظن) بعض کا مقتضی ہے اس کے ساتھ ہی ارشاد ہوا۔ (ان بعض الظن اثم)
یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام گمانوں سے نہی نہیں کی ہے۔ دوسری آیت میں ارشاد ہے (ان الظن لا یغنی من الحق شیئا۔ بیشک گمان حق کے سلسلے میں کسی چیز کا فائدہ نہیں دیتا) نیز فرمایا (وظننتم ظن الشوء وکنتم قوما بورا۔ اور تم نے برا گمان کیا اور تم لوگ بربادہوکر رہے) ظن کی چار صورتیں ہیں ایک تو وہ ظن جس کی ممانعت…
Read the full tafseer →[ 36] بدگمانی سے بچنے کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ بچتے رہا کرو کہ بدگمانی بڑا گناہ ہے۔ اور یہ آگے کئی فتنوں کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے اس کو سب سے بڑا جھوٹ " اکذب الحدیث " قرار دیا ہے۔ چناچہ صحیح بکاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی منقول ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے آپ کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے " ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث " واضح رہے کہ [ کثیرا من الظن ] " بہت سی بدگمانیوں " کے کلمات کریمہ سے یہاں پر دو اہم درس اور بنیادی سبق اور بھی ملتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
اخلاقی برائیاں
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں چند اخلاقی اصول بتائے گئے ہیں ان آیات میں اخلاقیات سے متعلق چند اور اصول بتائے جا رہے ہیں۔ کہنے کو یہ بڑی معمولی باتیں ہیں مگر ان کے اثرات اور فضیلتیں بیشمار ہیں۔ حکم دیا گیا ہے کہ کوئی مرد کسی مرد کا اور کوئی عورت کسی عورت کا مذاق نہ اڑائے۔ اسی لیے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ” کوئی مرد کسی مرد کا اور کوئی عورت کسی عورت کا مذاق نہ اڑائے ”۔
دوسری مصلحت یہ ملتی ہے کہ ہوسکتا ہے جس کا ہم مذاق اڑا رہے ہیں وہ اللہ کا پسندیدہ بندہ ہو جو بظاہر درویش صفت ہو تو اس طرح ہم نے کئی گناہ کما لیے۔ ایک تو اس کا دل دکھایا دوسرے بیخبر ی میں اللہ کے مقبول بندے کا مذاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
آیات 11 تا 18۔
اسرار ومعارف۔
اے ایمان والو ! ایسی صورتون سے بچوجولڑائی کا سبب بنتی ہیں جیسے کوئی گروہ کسی دوسری جماعت کا مذاق نہ اڑائے کہ کیا خبر اللہ کریم کے نزدیک وہ لوگ ان سے بہتر ہوں ایسے ہی مسلمان خواتین کو بھی بات کرنے میں احتیاط لازم ہے اور دوسری خواتین کے بارے تحقیر کا انداز اختیار نہ کرنا چاہیے کیا خبر اللہ کریم انہیں ان مذاق کرنے والوں سے زیادہ محبوب رکھتا ہو اور ایک دوسرے کی نکتہ چینیاں نہ کیا کرو یہی بات نفرت کا سبب بن کر ایک دوسرے سے دور کردیتی ہے نہ ہی ایک دوسرے کو ناپسندیدہ ناموں سے پکارو۔ یہ بات اس قدر اہم ہے کہ قرآن کریم نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ حکم دیا ہے کہ جبکہ آج کل…
Read the full tafseer →ف 5 اس سے مراد وہ بدظنی ہے جو ایک مسلمان کے بارے میں بلا وجہ کی جائے۔ آیت میں ایسی بدگمانیوں سے منع کیا گیا ہے جن سے فساد اور بہت سی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔
6 یعنی بلاوجہ کسی کا راز نہ ٹوٹولو اور اس کے عیب اور کمزوریاں معلوم کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ حتی المقدور ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرو۔ حدیث میں ہے کہ جس نے کسی مسلمان کے پوشیدہ عیب پر پردہ ڈالا اس نے گویا ایک زندہ درگور لڑکی کو موت سے بچایا۔ “ ایک دوسری حدیث میں ہے اگر تم لوگوں کے پوشیدہ حالات معملوم کرنے کے درپے ہوگئے تو تم انہیں بگاڑو گے۔ خصوصاً حکمران جب لوگوں کے اندر شبہات تلاش کرتا ہے تو انہیں بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ (ابن کثیر)
7 غیبت سے…
Read the full tafseer →(49:12) اجتنبوا فعل امر، جمع مذکر حاضر۔ اجتناب (افتعال) مصدر۔ تم پرہیز کرو۔ تم بچو۔ تم اجتناب کرو۔ الجنب اصل میں پہلو کو کہتے ہیں اس کی جمع جنوب ہے۔ قرآن مجید میں ہے قیاما قعودا وعلی جنوبھم (3:191) جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں پر لپٹے ہوئے اور اسی سے والصاحب بالجنب (4:36) بمعنی قریبی ساتھی۔ دوست کے ہیں۔ اور دوری کے معنی میں اسی آیۃ (4:36) میں ہے الجار الجنب اجنبی یعنی دور کا ہمسایہ۔
الظن۔ تہمت ۔ شک ۔ اٹکل۔ انسان کے دل میں جو بات آئے اور اس کے صحیح اور غلط ہونے کے دونوں پہلو ہوں اسے ظن کہتے ہیں ۔ آیت ہذا میں تہمت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ قاموس القرآن از قاضی زین العابدین میں ہے :۔ کہ کہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
لغات القرآن آیت نمبر (11 تا 12 ) ۔
لا یسخر (مذاق نہ اڑائے) ۔ لا تلمزوا (طعنے مت دو ) ۔ لا تنابزوا (برے نام نہ رکھو) ۔ القاب (لقب۔ نام رکھنا) ۔ بئس (برا ہے) ۔ لم یتب (توبہ نہ کی) ۔ اجتنبوا (بچتے رہو) ۔ لا تجسسوا (ٹوہ میں نہ لگو) ۔ لا یغتب (غیبت نہیں کرتا) ۔ ایحب (کیا پسند ہے ؟ ) ۔ ان یا کل (یہ کہ وہ کھائے) ۔ لحم (گوشت ) ۔ کر ھتم (تم نے برا سمجھا ) ۔
تشریح : آیت نمبر (11 تا 12 ) ۔ ” آپس میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، طعنے دینا، کسی کو برے الفاظ و القاب سے پکارنا، بدگمانیاں کرنا، دوسرے کے عیب تلاش کرنا اور پیٹھ پیچھے اپنے بھائیوں کی غیبت کرنا یہ سب وہ باتیں ہیں جن سے فسادات اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →غیبت کا بیان اور اس کی مذمت۔
(ف 1) شان نزول۔ نبی ﷺ جب جہاد کے لیے روانہ ہوتے اور سفر فرماتے تو ہر دو مالداروں کے ساتھ ایک غریب مسلمان کو کردیتے کہ وہ غریب ان کی خدمت کرے ، وہ اسے کھلائیں پلائیں، ہر ایک کا کام چلے، اسی طرح حضرت سلمان ؓ دو آدمیوں کے ساتھ کیے گئے ایک روز وہ سوگئے اور کھانا تیار نہ کرسکے، تو ان دونوں نے انہیں کھانا طلب کرنے کے لیے نبی کی خدمت میں بھیجا حضور کے خادم مطبخ حضرت اسامہ تھے ان کے پاس کچھ نہ رہا تھا انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ نہیں، حضرت سلمان نے یہی آکر کہہ دیا تو ان دونوں رفیقوں نے کہا کہ اسامہ نے بخل کیا، جب وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے فرمایا میں تمہارے منہ میں…
Read the full tafseer →[12] یعنی آدمی اپنے دل کو دوسروں سے متعلق بدگمانیوں کی پرورش گاہ نہ بنا لے۔ اہل ایمان کو اسلام نے اس بارے میں یہ رہنمائی دی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں ہمیشہ نیک گمان رکھیں جب تک کسی کے بارے میں ثابت نہ ہوجائے کہ وہ نیک گمان کا سزاوار نہیں ہے۔ یہ نیک گمانی اس ایمانی اخوت کا لازمی تقاضا ہے جس کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے۔
[13] یعنی اوروں کے عیبوں اور کمزوریوں کی تلاش و جستجو میں نہ پڑو تاوقتیکہ کوئی ضرورت یا مصلحت ہی اس کی نہ آپڑے۔ چھپ کر باتیں سننا، لوگوں کے نجی خطوط پڑھنا، ہمسایوں کے گھروں میں جھانکنا یہ سب تجسس میں داخل ہیں۔
[14] غیبت کے معنی کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی بیان کرنے کے ہیں۔…
Read the full tafseer →استبراء تنابزسوء ظن تجسس اور غیبت
1: ان آیات میں ان قیمتی اصولوں کا ذکر کیا ہے ۔ جن کی وجہ سے قومی اخلاق کی تعمیر ہوتی ہے ۔ اور قوموں میں باہمی ربط واخوت کا رشتہ استوار رہتا ہے ۔ فرمایا ۔ کہ نہ مسلمان مرد مسلمان مردوں سے استہزاء واستخفاف کا سلوک کریں ۔ اور نہ مسلمان عورتیں مسلمان عورتوں کا مضحکہ اڑائیں ۔ کیونکہ ہوسکتا ہے ۔ کہ جن لوگوں کو تم اپنا ہدف مذاق بناتے ہو ۔ وہ تم سے اخلاق واعادت میں کہیں بہتر ہوں ۔ اور اس طرح تم ان کی غیرت وحمیت کو آزماؤ۔ نہ یہ کرو ۔ کہ ایک دوسرے لئے بڑے بڑے نام تجویز کرو ۔ اور عجیب عجیب القاب وضع کرو ۔ اور نہ آپس میں طعنہ زنی سے کام لو ۔ کیونکہ اس طرح مرد مسلمان کی…
Read the full tafseer →(12) اے ایمان والو بہت گمان کرنے سے احتراز کیا کرو اور بہت سے گمانوں سے بچا کرو بعضے گمان گناہ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے عیب کی ٹٹول نہ کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو پیٹھ پیچھے برا کہا کروں کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ اور مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے سو تم کو اس سے گھن آئے اور تم اس سے متنفر ہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنیوالا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ چونکہ ظن کی بہت سی اقسام ہیں بعض جائز ، بعض واجب، بعض مباح۔
اس لئے فرمایا بعض حرام اسلئے ظن اور گمان کی کثرت سے احتراز کردیا یہ مطلب ہے کہ اجتنبوا اجتنا باکثیراً کہ بچو بچنا بہت۔
اہل خیر…
Read the full tafseer →ف 1۔ غیبت یہ ہے کہ کسی کے پیچھے اس کی ایسی برائی کرنا کہ اس کے سامنے کی جائے تو اس کو رنج ہو، گو وہ سچی بات ہی ہو، ورنہ بہتان ہے، اور پیٹھ پیچھے کی قید سے یہ نہ سمجھا جائے کہ سامنے جائز ہے کیونکہ وہ لمز میں داخل ہے جس کی ممانعت اوپر آئی ہے۔ (فائدہ) محقق یہ ہے کہ غیبت گناہ کبیرہ ہے، البتہ جس سے بہت کم تاذی ہو وہ صغیرہ ہوسکتا ہے۔ (فائدہ) بلا اضطرار غیبت سننا مثل غیبت کرنے کے ممنوع ہے۔
Read the full tafseer →اے ایمان والو ! بدگمانیوں سے باز رہو لاریب بعض بدگمانیاں بڑا گناہ ہیں
12 ۔ ایمان والوں کو مخاطب کرکے مزید ہدایات دی جارہی ہیں اور فرمایا جارہاے کہ ایمان والو بدگمانیوں سے بچو۔ اب معلوم کرنا ہے کہ بدگمانی کیا ہے ؟ بدگمانی ایک قسم کا جھوٹا وہم ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے شخص کو ہر ایک کے کام میں بدنیتی معلوم ہوتی ہے اور کسی کے کام میں اس کو حسن نیت نظر نہیں آتا دوسروں کی طرف ان ہوئی باتیں منسوب کرنے لگتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کا خیال ہوتا ہے اور وہ بھی اس سے کترانے لگتے ہیں اس سے آپس میں نفرت اور دشمنی پیدا ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس سے باز رہنے کی تاکید کی ہے جیسا…
Read the full tafseer →Analysis of the Verse
This verse too comprises injunctions relating to mutual rights and manners to be observed in social life. It prohibits three things: [ 1] ظن zann [ unfounded suspicion ], the details to follow: [ 2] تَجَسُّس tajassus [ spying, looking secretly into the faults of others ]; and [ 3] غِیبَہ ghibah [ backbiting, speaking in of a person behind his back which if he heard would hurt or injure his feelings ].
[ 1] Prohibition of Unfounded Suspicion
Zann primarily denotes assumption on probable evidence. In the first instance, the Qur'an sets down "Abstain from many of the…
Read the full tafseer →24 What is forbidden is not conjecture as such but excessive conjecture and following every kind of conjecture, and the reason given is that some conjectures are sins. In order to understand this Command we should analyse and see what are the kinds of conjecture and what is the moral position of each.
One kind of conjecture is that which is morally approved and laudable, and desirable and praiseworthy from religious point of view, e.g. a good conjecture in respect of Allah and His Messenger and the believers and those people with whom one comes in common eontact daily and concerning whom…
Read the full tafseer →