نسل انسانی کا نکتہ آغاز
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے تمام انسانوں کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے یعنی حضرت آدم سے ان ہی سے ان کی بیوی صاحبہ حضرت حوا کو پیدا کیا تھا اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی پھیلی۔ شعوب قبائل سے عام ہے مثال کے طور پر عرب تو شعوب میں داخل ہے پھر قریش غیر قریش پھر ان کی تقسیم میں یہ سب قبائل داخل ہے بعض کہتے ہیں شعوب سے مراد عجمی لوگ اور قبائل سے مراد عرب جماعتیں۔ جیسے کہ بنی اسرائیل کو اسباط کہا گیا ہے میں نے ان تمام باتوں کو ایک علیحدہ مقدمہ میں لکھ دیا ہے جسے میں نے ابو عمر بن عبداللہ کی کتاب الانباہ اور کتاب القصد والامم فی معرفۃ انساب العرب والعجم سے جمع کیا ہے…
Read the full tafseer →سورة الْحُجُرٰت 28
پچھلی آیات میں اہل ایمان کو خطاب کر کے وہ ہدایات دی گئی تھیں جو مسلم معاشرے کو خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ اب اس آیت میں پوری نوع انسانی کو خطاب کر کے اس عظیم گمراہی کی اصلاح کی گئی ہے جو دنیا میں ہمیشہ عالمگیر فساد کی موجب بنی رہی ہے، یعنی نسل، رنگ، زبان، وطن اور قومیت کا تعصب قدیم ترین زمانے سے آج تک ہر دور میں انسان بالعموم انسانیت کو نظر انداز کر کے اپنے گرد کچھ چھوٹے چھوٹے دائرے کھینچتا رہا ہے جن کے اندر پیدا ہونے والوں کو اس نے اپنا، اور باہر پیدا ہونے والوں کو غیر قرار دیا ہے۔ یہ دائرے کسی عقلی اور اخلاقی بنیاد پر نہیں بلکہ اتفاقی پیدائش کی بنیاد پر…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے لوگو ! ہم نے (سب) کو ایک مرد اور ایک عورت (یعنی آدم و حوا) سے پیدا کیا (اس لئے اس میں تو سب انسان برابر ہیں) اور (پھر جس بات میں فرق رکھا ہے کہ) تم کو مختلف قومیں اور (پھر ان قوموں میں) مختلف خاندان بنایا (یہ محض اس لئے) تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو (جس میں بہت سی مصلحتیں ہیں نہ اس لئے کہ ایک دوسرے پر تفاخر کرو کیونکہ) اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو (اور پرہیزگاری ایسی چیز ہے جس کا پورا حال کسی کو معلوم نہیں بلکہ اس کے حال کو محض) اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا اور پورا خبردار ہے (اس لئے کسی نسب اور قومیت پر فخر نہ کرو)
معارف و مسائل
اوپر کی آیات…
Read the full tafseer →یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر و انثی وجعلنکم شعو با وقبآئل لتعارفوا ط ان اکرمکم عند اللہ اتقکم ط ان اللہ علیم خبیر 13
نسل اور خادنانی غرور پر ضرب
ایک عام خطاب سے یہ اس نسلی، خاندانی اور قبائلی غرور کا یک قلم خاتمہ کردیا جو ان برائیوں میں سے اکثر کا سبب بنتا ہے جو اپور بیان ہوئی ہیں۔ فرمایا کہ اے لوگو ! اس حقیقت کو اچھی طرح ذہین نشین رکھو کہ ہم نے سب کو ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت سے پیدا کیا ہے۔ یعنی تمام بنی نوع انسان کا آغاز آدم اور حوا ہی سے ہوا ہے اس وجہ سے باعتبار خلقت کسی کو کسی پر کوئی شرف و تفوق حاصل نہیں ہے۔ خادنانوں اور قبائل کی تقسیم محض تعارف اور شناخت کے لئے ہے کسی خاص خاندان یا…
Read the full tafseer →13۔ 1 یعنی آدم وحوا (علیہما السلام) سے یعنی تم سب کی اصل ایک ہی ہے ایک ہی مان باپ کی اولاد ہو مطلب ہے کسی کو محض خاندان اور نسب کی بنا پر فخر کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ سب کا نسب حضرت آدم ؑ سے ہی جا کر ملتا ہے۔
13۔ 2 شعوب شعب کی جمع ہے برادری یا بڑا قبیلہ شعب کے بعد قبیلہ پھر عمارہ پھر بطن پھر فصیلہ اور پھر عشیرہ ہے (فتح القدیر) مطلب یہ ہے کہ مختلف خاندانوں برادریوں اور قبیلوں کی تقسیم محض تعارف کے لیے ہے تاکہ آپس میں صلہ رحمی کرسکو اس کا مقصد ایک دوسرے پر برتری کا اظہار نہیں ہے جیسا کہ بدقسمتی سے حسب ونسب کو برتری کی بنیاد بنا لیا گیا ہے حالانکہ اسلام نے آ کر اسے مٹایا تھا اور اسے جاہلیت سے…
Read the full tafseer →9: اس آیت کریمہ نے مساوات کا یہ عظیم اصول بیان فرمایا ہے کہ کسی کی عزت اور شرافت کا معیار اس کی قوم اس کا قبیلہ یا وطن نہیں ہے، بلکہ تقوی ہے۔ سب لوگ ایک مرد و عورت یعنی حضرت آدم و حواء (علیہما السلام) سے پیدا ہوئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے مختلف قبیلے خاندان یا قومیں اس لیے نہیں بنائیں کہ وہ ایک دوسرے پر اپنی بڑائی جتائیں، بلکہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ بیشمار انسانوں میں باہمی پہچان کے لیے کچھ تقسیم قائم ہوجائے۔
Read the full tafseer →یایھا الناس انا ۔۔۔۔ علیم خبیر (49 : 13) “ لوگو ، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے ”۔
اے لوگو ، مختلف اقوام اور مختلف رنگ کے لوگو ! مختلف اقوام و قبائل کے لوگو ! تمہاری اصلیت تو ایک ہے۔ لہٰذا آپس میں اختلافات نہ کرو ، آپس میں جھگڑے نہ کرو اور الگ الگ راہوں پر نہ چلو۔ اے لوگو ، تمہیں جو پکار رہا ہے وہ تو وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ تمہیں اس نے ایک مرد اور ایک عورت سے…
Read the full tafseer →8 اکثر غیبت، طعن وتشنیع اور عیب جوئی کا منشاء کبر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے کو بڑا اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، اس کو بتلاتے ہیں کہ اصل میں انسان کا بڑا چھوٹا یا معزز و حقیر ہونا ذات پات اور خاندان و نسب سے تعلق نہیں رکھتا۔ ، بلکہ جو شخص جس قدر نیک خصلت، مودب اور پرہیزگار ہو اسی قدر اللہ کے ہاں معزز و مکرم ہے۔ نسب کی حقیقت تو یہ ہے کہ سارے آدمی ایک مرد اور ایک عورت یعنی آدم (علیہ السلام) و حوا کی اولاد ہیں شیخ، سید، مغل، پٹھان اور صدیقی، فاروقی، عثمانی، انصاری سب کا سلسلہ آدم و حوا پر منتہی ہوتا ہے یہ ذاتیں اور خاندان اللہ تعالیٰ نے محض تعارف اور شناخت کے لیے مقرر کیے ہیں۔ بلاشبہ جس کو حق تعالیٰ…
Read the full tafseer →آیت 13 { یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی } ”اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے“
تم میں سے چاہے کوئی مومن ہے یا کوئی کافر و مشرک لیکن تم سب آدم علیہ السلام اور حوا کی ہی اولاد ہو۔
{ وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا } ”اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔“
ایک ماں باپ کی اولاد ہونے کی بنا پر اگر تمام انسان ایک رنگ اور ایک جیسی شکل و صورت کے حامل ہوتے تو ان کی پہچان مشکل ہوجاتی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو دوسرے سے مختلف بنایا ہے اور پھر انہیں رنگ ‘ نسل زبان…
Read the full tafseer →22 اقوام کی لڑائی جھگڑوں کی بنیاد اور ان کا سد باب :۔ موجودہ دور میں قوم، وطن، نسل، رنگ اور زبان یہ پانچ خدا یا معبود بنا لئے گئے ہیں۔ انہی میں سے کسی کو بنیاد قرار دے کر پوری انسانیت کو کئی گروہوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ جو آپس میں ہر وقت متحارب اور ایک دوسرے سے لڑتے مرتے رہتے ہیں۔ کسی کو قومیت پر ناز ہے کہ وہ مثلاً جرمن یا انگریز قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ کوئی سفید رنگ کی نسل ہونے پر فخر کرتا ہے۔ کوئی سید اور فاروقی یا صدیقی ہونے پر ناز کرتا ہے۔ گویا ان چیزوں کو تفاخر و تنافر کا ذریعہ بنادیا گیا ہے۔ حالانکہ سب انسان ہی آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ یہ آیت ایسے معبودوں یا بالفاظ دیگر فتنہ و فساد اور…
Read the full tafseer →24۔ یعنی آدم وحوا سے۔ اور اس لحاظ سے سارے انسان یکساں وہم سطح ہوئے۔ اے انکم متساو ون فی النسب (معالم) قال تعالیٰ نتیھا علی تساویھم فی البشریۃ (ابن کثیر) فجمیع الناس فی الشرف بالنسبۃ الطینیۃ الی ادم وحوا سواء (ابن کثیر) وحدت نوع انسانی، اسلام میں ایک نظریہ نہیں، ایک موکد حقیقت ہے، اس نے ان تمام جاہلی نظریات کی جڑ کاٹ دی، جو انسان کی مختلف نسلوں کو مختلف مورثوں کی اولاد سمجھتے ہیں اور ہندوستان کی ذات پات والی پیدائشی تفریق کے حق میں اس آیت کا سم ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ دل بذالک علی انہ لافضل لبعضھم علی بعض من جھت النسب، اذ کان جمیعا من اب وام واحدۃ (جصاص) ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی نیز سورة النساء (پ…
Read the full tafseer →شان نزول :
یا ایھا الناس انا خلقنا کم من ذکر وانثی یہ آیت فتح مکہ کے موقع پر اس وقت نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال حبشی ؓ ٰ کو اذان کا حکم دیا تو قریش مکہ جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ان میں سے ایک نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میرے والد پہلے ہی وفات پا گئے ان کو یہ دن دیکھنا نہ پڑا اور حارث بن ہشام نے کہا کہ محمد ﷺ کو اس کالے کوئے کے سوا کوئی آدمی نہیں ملا کہ جو مسجد حرام میں اذان دے، ابوسفیان نے کہا کہ میں کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ اگر میں کچھ کہوں گا تو آسمان کا مالک اس کو خبر کر دے گا، چناچہ جبرائیل امین تشریف لائے اور آنحضرت ﷺ کو اس تمام گفتگو کی اطلاع دی، آپ نے…
Read the full tafseer →یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر وانثی و جعلنکم شعوبا و قبائل .
اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا۔
یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ : (اے لوگو ! ) یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : (اے ایمان والو ! ) نہیں فرمایا کیونکہ اس وقت تک وہ لوگ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم نے ابو ملیکہ کے حوالہ سے مختصراً نقل کیا ہے۔ ابن عساکر نے مہمات میں لکھا ہے کہ میں نے ابن بشکوال کی تحریر میں پایا کہ ابوبکر بن ابو داؤد نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی بیاضہ کو حکم دیا تھا۔ تم اپنے قبیلہ کی کسی عورت سے اس کا نکاح کر دو ۔ انہوں نے جواب…
Read the full tafseer →اگلی آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے ایک شخص سے کہا تھا کہ تو فلاں کا لڑکا ہے اور کہا گیا ہے کہ حضرت بلال قریش کے ایک گروہ سہل بن عمرو حارث بن ہشام اور ابو سفیان بن حرب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، فتح مکہ کے سال ان لوگوں نے جب حضرت بلال کی اذان سنی تو یہ بولے کہ حق تعالیٰ اور اس کے رسول کو اس کے علاوہ کوئی موذن نہیں ملا، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے لوگو ہم نے تم سب کو ایک مرد و عورت یعنی آدم و حوا سے پیدا کیا ہے، پھر تمہیں مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا یا یہ کہ پھر تمہیں غلام اور آزاد بنایا صرف اس لیے تاکہ تم ایک دوسرے کو شناخت کرسکو کہ جس وقت تم سے…
Read the full tafseer →(1) یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر و انثی : پچھلی آیت میں جن چھ گناہوں سے منع فرمایا ان کا بنیادی سبب اپنے آپ کو اونچا اور دوسروں کو نیچا سمجھنا ہے۔ جاہلیت میں اپنے قبیلے کی خوبیوں پر فخر اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کی بیماری عام تھی۔ اس کی وجہ سے ہر قبیلے کے شاعر اور خطیب اپنے قبیلے کی برتری ثابت کرنے کے لئے دوسرے قبیلے کو استہزاء تمسخر اور طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ، اس کے لئے وہ ان کے عیب تلاش کرتے، جاسوسی کرتے، غیبت، بہتان اور ہجو کا بازار گرم رکھتے تھے، حتیٰ کہ انہوں نے کئی قبیلوں کو بالکل ہی لوگوں کی نگاہوں سے گرا دیا۔ دنیا میں اپنی برتری پر فخر کا باعث کسی خاص قبیلے یا قوم میں پیدا ہونا…
Read the full tafseer →اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: یا ایھا الناس انا خلقنکم من ذکر و انثی۔ مراد حضرت آدم اور حضرت حواء ہے۔ یہ آیت ابی ہند کے بارے میں نازل ہوئی، ابو داؤد نے اسے مرسل میں ذکر کیا ہے۔ عمرو بن عثمان اور کثیر بن عبید، بقیہ بن ولید وہ زہری سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے بنی بیاضہ کو حکم دیا کہ وہ ابو ہند کی شاندی اپنی کسی عورت سے کردیں انہوں نے رسول اللہ سے عرض کیا ہم اپنی بیٹیوں کی شادیاں اپنے غلاموں سے کریں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔
زہری نے کہا : یہ آیت خاص کر ابو ہند کے بارے میں نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس کے حق میں نازل ہوئی۔ جو…
Read the full tafseer →1:۔ ابنالمنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی (رح) نے دلائل میں ابن ابی ملیکہ ؓ سے روایت کیا کہ جب فتح مکہ کا دن تھا بلال ؓ کعبہ پر چڑھے اور کعبہ پر اذان دی بعض لوگوں نے کہا یہ کالا غلام کعبہ کی چھت پر اذان دیتا ہے (یہ عجیب بات ہے) اور ان کے بعض لوگوں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ اس سے نارض ہوگا تو اس کو بدل دے گا تو یہ (آیت) نازل ہوئی ” یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر وانثی “ (اے ایمان والوہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا)
2:۔ ابن المنذر (رح) وابن جریج (رح) وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے اپنی سنن میں زھری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی بیاضہ کو حکم فرمایا کہ ابوھند کا اپنے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ [ اے لوگو ] اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ [ بیشک ہم نے پیدا کیا تم لوگوں کو ] مِّنْ ذَكَرٍ [ ایک مرد سے ] وَّاُنْثٰى [اور ایک عورت سے ] وَجَعَلْنٰكُمْ [ اور ہم نے بنایا تم لوگوں کو ] شُعُوْبًا [ قومیں ] وَّقَبَاۗىِٕلَ [ اور قبیلے ] لِتَعَارَفُوْا ۭ [ تاکہ تم لوگ ایک دوسرے کو پہچانو ] اِنَّ اَكْرَمَكُمْ [ بیشک تم لوگو کا زیادہ باعزت ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے نزدیک ] اَتْقٰىكُمْ ۭ [ تم لوگوں کا زیادہ پرہیزگار ہے ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ [ جاننے والا ہے باخبر ہے ]
ترکیب : (آیت ۔ 13) لتعارفوا میں تعارفوا باب تفاعل سے ماضی کا صیغہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ماضی پر لام…
Read the full tafseer →نویں نصیحت : اس کے بعد فرمایا کہ اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہارے چھوٹے بڑے قبیلے بنا دئیے تاکہ آپس میں جان پہچان ہو کہ یہ فلاں قبیلہ کا ہے اور یہ فلاں خاندان کا ہے آدمی ہونے میں برابر ہو کیونکہ سب آدم اور حواء ( علیہ السلام) کی اولاد ہو لہٰذا آدمیت میں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ہے اور اصل فضیلت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک معتبر ہے اور وہ فضیلت تقویٰ سے ہے ﴿ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ﴾ تم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہے۔ اس آیت کریمہ میں فضیلت اور عزت کا معیار بتادیا ہے اس کے برخلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
مدار فضیلت و کرامت ایمان وتقوی نہ کہ نسبت خاندان وقبائل :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر وانثنی ...... الی ..... واللہ بصیر بما تعملون “۔
(ربط) اس سے قبل آیات میں ایسی خصلتوں اور برائیوں سے اجتناب کی تعلیم تھی جو انسانی زندگی کو ذلت و پستی میں ڈالنے والی ہیں اور انسانی معاشرے میں اس قسم کے عیب نہایت ہی بدترین عیب اور تباہ کردینے والی بیماریاں ہیں تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل وہ اوصاف بیان کیئے جارہے ہیں جو انسانی کرامت اور شرف کا باعث ہیں اور اسکو عزت وسربلندی کے مقام پر پہونچا دینے کا باعث ہیں۔
اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو…
Read the full tafseer →12:۔ ” یا ایہا الناس۔ الایۃ “ یہ ساتواں قانون ہے۔ اس میں نسبی تفاخر سے منع فرمایا کہ اللہ کی بارگاہ میں عزت و کرام کا مدار حسب و نسب نہیں بلکہ ایمان وتقوی اور عمل صالح ہے۔ شعوب، شعب کی جمع ہے یعنی بڑا خاندان جس کے نیشے کئی چھوٹے چھوٹے قبیلے ہوں۔ قبائل، قبیلۃ کی جمع ہے یعنی بڑے خاندان کی شاخیں، کسی انسان کو کسی انسان پر آدمی اور انسان ہونے کی حیثیت سے کوئی امتیاز حاصل نہیں۔ کیونکہ سب ایک ہی ماں باپ یعنی آدم و حواء (علیہما السلام) کی اولاد ہیں باقی رہے قبیلے اور خاندان تو وہ محض اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ باہمی جان پہچان ہو، صلہ رحمی کا احساس ہو اور وراثت و ولدیت کا سلسلہ قائم رہے۔ اس لیے شعوب و…
Read the full tafseer →ربط آیات
اب تک گیارہ اصول بیان ہوچکے ہیں جو انسانی معاشرہ کی درستگی کے لیے ضروری ہے۔ ان اصولوں پر عمل کرنے سے جھگڑے ، تنازعے اور اختلافات نہیں پیدا ہوتے اور جماعتی اور ملکی نظم و نسق خوش اسلوبی سے قائم رہتا ہے۔ یہ صوابط اس طرح بیان کیے گئے ہیں ۔ (1) اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے آگے نہ بڑھو۔ (2) ہر حالت میں ڈرتے رہو۔ (3) پیغمبر اسلام کی آواز سے اپنی آوازوں کو بلند نہ کرو (4) آوازوں کو پست رکھنا حصول تقویٰ کا ذریعہ ہے (5) ہر فاسق کی خبر کی تحقیق کرلیا کرو (6) مومنوں کے دو گروہوں کے درمیان اگر تنازعہ ہوجائے تو صلح کرا دیا کرو (7) ایک دوسرے سے ہنسی مذاق نہ کیا کرو (8) ایک دوسرے کی عیب جوئی نہ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا 0 ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىكُمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 13
نوس
النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب،
قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1]
( ن و س ) الناس ۔
بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ترکیب : السخریۃ الاستہزاء ویعدی بعلی ومن۔ اللمزالعیب قال ابن جریر اللمزبالید والعین واللسان والاشارۃ والہمزلایکون الاباللسان التنابزالتفاعل من النبزبالسکون وھوالمصدر والنبزبالتحریک اللقب مطلقاً ولکن خص فی العرف بالقبح و الجمع انباز والالقاب جمع لقب وھوما یذکربہ الانسان من اوصافہ والمرادبہ ھنالقب السوء۔ اجتنبوا یقال جنبہ الشراذابعدہ عنہ واصلہ جعل الشیء فی جانب فیعدی الی مفعولین کما فی قولہ تعالیٰ و اجنبی و نبی ان نعبدالاصنام و مطاومۃ اجتنب الشر فنقص مفعولا۔ میتاحال عن اللحم اوعن الاخ فکرھتموہ الفاء لترتیب مابعدھاعلی ماقبلہا من التمثیل والضمیر فی کرھتموہ (ہ) عائدالی الاکل اوالی اللحم او الی…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی وَجَعَلْنٰـکُمْ شُعُوْبًا وَّقَـبَـآئِلَ لِتَعَارَفُوْاط اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقٰـکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔ (الحجرات : 13)
(اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہارے خاندان اور قبیلے بنا دیئے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے، بیشک اللہ علیم وخبیر ہے۔ )
انسانوں میں مساوات کی ترغیب اور حقیقی بڑائی سے آگاہی
گزشتہ آیات میں اصحابِ ایمان کو خطاب کرکے وہ ہدایات دی گئی تھیں جو مسلم امت کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اخلاقی اور لسانی عیوب سے بچنے کے لیے یہ حقیقت بتلائی اور اس کے ذریعے احساس دلایا ہے کہ تم بنیادی طور پر ایک ہی ماں، باپ کی اولاد ہو لہٰذا تمہیں بدگمانی، ایک دوسرے کا تجسس اور غیبت کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اے لوگو ! تمہارے رب کا فرمان ہے کہ ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے خاندان اور پھر قبیلے بنائے تاکہ تمہیں ایک دوسرے کو جاننے اور پہچاننے میں آسانی ہو۔ تمہارے خاندان اور قبائل بنانے کا یہ مقصد نہیں کہ تم خاندان اور قبائل کی بنیاد پر ایک دوسرے پر فخر کرو۔ یقیناً ” اللہ “ کے نزدیک تم میں سے وہی عزت والا ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے یقیناً…
Read the full tafseer →آیت 13 : یٰٓـاَیـُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی (اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد و عورت سے پیدا کیا ہے) مذکر سے آدم اور انثیٰ سے حواء مراد ہیں۔ نمبر 2۔ ہر ایک تم میں سے ایک ماں باپ سے ہے۔ پس تم میں سے ہر ایک ایک دوسرے کی طرح ڈول ڈالتے ہیں پھر تفاخر و تفاضل فی النسب تو کوئی معنی نہیں رکھتا۔
شعب و قبیلہ کا فرق :
وَجَعَلْنٰـکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ (اور تمہارے مختلف قومیں اور خاندان بنائے) الشعب : عرب جن طبقات پر منقسم ہیں ان میں سے طبقہ اولیٰ ۔ وہ کل یہ ہیں۔ نمبر 1۔ الشعب۔ نمبر 2۔ القبیلۃ۔ نمبر 3۔ العمارۃ۔ نمبر 4۔ البطن۔ نمبر 5۔ الفخذ۔ نمبر 6۔ الفصیلۃ۔
شعب میں کئی…
Read the full tafseer →12 ۔ ” یایھا الذین امنا اجنبوا کثیرا من الظن “ کہا گیا ہے کہ یہ آیت دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھی کی غیبت کی تھی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر جہاد یا ویسے سفر کرتے تو ایک ضرورت مند شخص کو دو مال دار آدمیوں کے ساتھ ملا دیتے وہ ان دونوں کی خدمت کرتا اور ان سے آگے پڑائو کی جگہ جاتا اور ان کی ضروریات کھانے پینے کی تیار کرتا تو سلمان فارسی ؓ کو کسی سفر میں دو آدمیوں کے ساتھ ملادیا تو حضرت سلمان ؓ منزل پر ان سے پہلے پہنچے۔ وہاں جاکر ان کو نیند آگئی، ان کے لئے کچھ تیار نہ کرسکے۔ پس جب وہ دونوں آئے تو ان کو کہا کیا تیار کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کچھ نہیں، مجھے…
Read the full tafseer →13۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ اسلام سے پہلے قریش لوگ حج سے فارغ ہونے کے بعد اپنے باپ دادا کی مدح کے شعر پڑھا کرتے تھے جس طریقہ کو اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ نے موقوف کردیا اسی طرح اور موقعوں پر بھی عرب میں شرافت خاندانی کے فخر کا بڑا دستور تھا اسی دستور کے سبب سے بعض قبیلے بعضوں کو حقیر جانتے تھے جس سے وہ باتیں پیش آتی تھیں جن کی مناہی اوپر کی آیتوں میں گزری اسی واسطے اس آیت میں فرمایا اے لوگو اللہ تعالیٰ نے تم سب کو ایک ماں باپ آدم اور حوا سے پیدا کیا اس لئے بنی آدم کو آپس میں بزرگی جتلانے کے لئے کوئی نئی بات پیدا کرنی چائے اپ یہ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ نئی بات پرہیز گاری ہے جس…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے نبی آدم کو ایک ہی اصل اور ایک ہی جنس سے پیدا کیا ہے تمام بنی آدم کو مرد اور عورت سے پیدا کیا۔ تمام نبی آدم، حضرت آدم اور حوا ( علیہ السلام) کی طرف لوٹتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی نسل میں سے بیشمار مردوں اور عورتوں کو پھیلایا، پھر ان کو قبیلوں اور گروہوں میں تقسیم کیا، یعنی چھوٹے بڑے قبیلوں میں تاکہ وہ ایک دوسرے کی پہچان رکھیں کیونکہ اگر ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت کو قائم رکھے تو وہ تعارف حاصل نہیں ہوسکتا جس پر ایک دوسرے کی مدد، باہمی تعاون، باہمی توارث اور عزیز و اقارب کے حقوق کا قیام مرتب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو قوموں اور قبیلوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
قبیلے ، برادریاں محض تعارف کے لئے ہیں
قول باری ہے (انا خلقنا کم من ذکروانثیٰ وجعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ، ہم نے تم سب کو ایک مراد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنادیا ہے کہ ایک دوسرے کو پہچان سکو) مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ شعوب سے دور کی رشتہ داریاں مراد ہیں اور قبائل سے قریب کی رشتہ داریاں اس لئے کہا جاتا ہے ” بنو فلاں وفلاں “ (فلاں فلاں قبیلے)
قول باری ہے (ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم۔ بیشک تم میں سے پرہیزگار تر اللہ کے نزدیک معزز تر ہے) اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ بیان کی تخلیق انسانیت کے ذکر سے ابتدا کی اور یہ بتایا کہ پوری انسانیت کی تخلیق ایک مرد اور ایک…
Read the full tafseer →[ 41] نسلی اور خاندانی تفاخر و غرور پر فیصلہ کن ضرب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور سب لوگوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ " اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا "۔ یعنی آدم و حوا سے۔ تو پھر تمہارے لئے دوسروں کی طعنہ زنی اور ان کو گھٹیا سمجھنا تمہارے لئے کس طرح روا ہوسکتا ہے ؟ جب کہ اصل اور اساس تم سب کی ایک ہی ہے، تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم کی پیدائش مٹی سے ہوئی ہے { کلکم من ادم و ادم من ترابٍ } پس محض نسلی بنیادوں پر اپنی بڑائی جتانے کا کوئی جواز نہیں، کہ یہ چیز بندے کے اپنے اختیار میں نہیں۔ اور جو چیز کسی کے اختیار میں نہ ہو وہ معیار فضیلت نہیں بن سکتی۔ اسی…
Read the full tafseer →برتری صرف تقویٰ میں ہے
تشریح : باقی تمام مذاہب کی تعلیمات کسی خاص قبیلے یا ملت کے لیے ہوتی تھیں لیکن اسلام پوری دنیا کے لیے ہدایت اور نیکی و نجات کا پیغام لے کر آیا ہے۔ اس دین کی خاصیت ہی یہ ہے کہ یہ انسانوں کے بنائے ہوئے دائرے یعنی یہ امیر ہے غریب ہے کالا ہے، گورا ہے، یہودی ہے، عیسائی ہے۔ ان تمام اونچ نیچ اور تفرقات کو بالکل نہیں مانتا کیونکہ یہ عالمگیر دین ہے۔ اس چھوٹی سی آیت میں اللہ رب العزت نے صاف صاف اعلان کردیا ہے اور انسانوں کو ان کی اصل حقیقت سے مطلع کردیا ہے۔ پہلی یہ کہ تم لوگ ایک مادے سے ایک طریقہ سے اور ایک ہی مرد اور عورت یعنی حضرت آدم اور حوا (علیہما السلام) سے پیدا کیے گئے ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
آیات 11 تا 18۔
اسرار ومعارف۔
اے ایمان والو ! ایسی صورتون سے بچوجولڑائی کا سبب بنتی ہیں جیسے کوئی گروہ کسی دوسری جماعت کا مذاق نہ اڑائے کہ کیا خبر اللہ کریم کے نزدیک وہ لوگ ان سے بہتر ہوں ایسے ہی مسلمان خواتین کو بھی بات کرنے میں احتیاط لازم ہے اور دوسری خواتین کے بارے تحقیر کا انداز اختیار نہ کرنا چاہیے کیا خبر اللہ کریم انہیں ان مذاق کرنے والوں سے زیادہ محبوب رکھتا ہو اور ایک دوسرے کی نکتہ چینیاں نہ کیا کرو یہی بات نفرت کا سبب بن کر ایک دوسرے سے دور کردیتی ہے نہ ہی ایک دوسرے کو ناپسندیدہ ناموں سے پکارو۔ یہ بات اس قدر اہم ہے کہ قرآن کریم نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ حکم دیا ہے کہ جبکہ آج کل…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی ایک باپ اور ایک ماں کی اولاد ہونے کی بنا پر تم سب کا مرتبہ یکساں ہے۔ لہٰذا کسی کا اپنے نسب پر فخر کرنا اور دوسرے کے نسب کو ذلیل سمجھنا جہالت ہے۔
10 یعنی اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہونے کے باوجود تمہارا مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم ہونا چونکہ فطری امر تھا اس لئے ہم نے تمہیں تقسیم کردیا مگر اس تقسیم کا مقصد برتر اور کمتر کا ا امتیاز قائم کرنا نہیں ہے بلکہا یک دوسرے کی پہچان ہے تاکہ باہم تعان کی فطری صورت پیدا ہو۔
11 یعنی ترجیح اور برتری کی بنیاد نسلی امتیازات پر نہیں ہے بلکہ پرہیز گاری پر ہے۔ حجتہ الوداع کے خطبہ میں آنحضرت نے اس کی خوب وضاحت فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →(49:13) من ذکر وانثی۔ ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت سے ای من ادم وحواء (علیہما السلام) فالکل سواء فی ذلک فلاوجہ للتفاخر بالنسب یعنی سب کو آدم اور حوا سے پیدا کیا۔ اس میں سے ایک برابر ہیں اور نسب میں کسی کے لئے کوئی وجہ تفاخر نہیں
وجعلنکم شعوبا و قبائل : شعوب جمع ہے۔ شعب کی۔ اور شعوب وہ الجمع العظیم ہے جن کا انستاب ایک ہی اصل کی طرف ہو۔ شعب سے قبیلے پھوٹتے ہیں پھر شاخ در شاخ سلسلہ کثرت سے قلت کی طرف چلا جاتا ہے۔
عرب میں قبیلہ کی تدریجی تقسیم کثرت سے قلت کی طرف ترتیب حسب ذیل ہے :۔ (1) پہلے شعب، (2) پھر قبیلہ (3) پھر عمارہ (4) پھر بطن (5) پھر فخد (6) پھر فیصلہ۔ ابو اسامہ نے تصریح کی ہے کہ یہ طبقے…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 13 :
خلقنا (ہم نے پیدا کیا) ذکر (مرد) انثی (عورت) شعوب (خاندان) ‘ قبائل (قبیلے) ‘ لتعارفوا (تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو) ‘ اکرم (سب سے زیادہ عزت والا) ‘ اتقی (بہت زیادہ پرہیز گار) ۔
تشریح : آیت نمبر 13 :
دنیا پرستوں نے مال و دولت کی بنیاد دیر ساری کائنات کے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ ایک طرف تو غریب مزدور اور محت کش طبقہ ہے دوسری طرف دولت مند ‘ سرمایہ دار اور عیش پسند طبقہ ہے۔ لوگوں کے نزدیک جس کے پاس جتنی دولت ‘ سرمایا اور اونچی بلڈنگیں اور بہتریں سوراریاں ہیں اس کو عزت دار اور بڑا آدمی سمجھا جاتا ہے خواہ اس میں ہزاروں عیب کیوں نہ ہوں اس کے بر خلاف وہ…
Read the full tafseer →(ف 1) ۔ اے لوگو ! تم آپس میں فخر و غرور کیوں کرتے ہو، ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد عورت یعنی ماں باپ آدم وحوا سے پیدا کیا ہے حقیقت میں تم سب ایک ہی ہو، مگر کنبے کنبے قبیلے قبیلے اس لیے الگ کردیے کہ آپس میں پہچان رہے۔ اور ایک دوسرے کا نسب جانے اور کوئی اپنے باپ دادا کے سوا دوسرے کی طرف اپنی نسبت نہ کرے نہ یہ کہ نسبت پر فخر کرے اور دوسروں کی تحقیر کرے، اس کے بعد اس چیز کا بیان فرمایا جاتا ہے جو انسان کے لیے شرافت وفضیلت کا سبب اور جس سے اس کو بارگاہ الٰہی میں عزت حاصل ہوتی ہے۔
تقوی معیار فضیلت۔
(ف 2) شان نزول۔ نبی ﷺ نے بازار مدینہ میں ایک حبشی غلام ملاحظہ فرمایا جو کہہ رہا تھا کہ جو مجھے خریدے اس…
Read the full tafseer →[16] یعنی آدم اور حوا سے۔
[17] یعنی انسان کا بڑا اور چھوٹا ہونا یا معزز یا حقیر ہونا ذات پات اور خاندانی نسب سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ جو شخص جس قدر نیک خصلت اور پرہیزگار ہوگا اسی قدر اللہ کے ہاں معزز و مکرم ہے۔ نسب کی حقیقت تو یہ ہے کہ سارے انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ شیخ، سید، مغل، پٹھان، صدیقی، فاروقی، انصاری سب کا سلسلہ آدم و حوا پر منتہی ہوتا ہے۔ ذاتیں اور خاندان اللہ تعالیٰ نے محض تعارف و شناخت کے لئے مقرر کئے ہیں۔ شرف و فضیلت کا اصل معیار نسب نہیں تقویٰ و طہارت ہے۔ اسی بات کو نبی ﷺ نے اس طرح بیان فرمایا ہے۔ '' لوگو، تمام انسان بس دو ہی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ایک نیک اور پرہیزگار جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فضیلت کا تعلق روح سے ہے
1: اس آیت میں اس حقیقت کبری کا اظہار فرمایا ہے کہ معیار فضیلت جنسیت نہیں ہے ۔ مرد ہوتا نہیں ہے ۔ اور نہ عورت ہونا ۔ نہ کنبہ اور قبیلہ کا اختصاص ہے ۔ اور یہ اس نوع کے سارے اختیارات محض تعارف کے لئے ہیں ۔ معیار فضیلت یہ ہے ۔ کہ تمہارے دلوں میں تقویٰ اور پرہیزگاری کے جذبات موجزن ہوں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ تمام تقریبات جو انسانوں نے فضیلت اور برتری کے اظہار کے لئے وضع کررکھی ہیں بےمعنی ہیں ۔ وہ دولت کو بزرگی کا معیار قرار نہیں دیتا ۔ بتوں اور رفاہیئت کو وجہ اعزاز نہیں سمجھتا ۔ اس کے نزدیک عبادت اور فخر کے لئے تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں ہے ۔ بڑی بڑی تعلیمی ڈگریوں…
Read the full tafseer →(13) اے انسانو ! اور اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف شاخیں اور مختلف قبیلے بنایا تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو اور پہچان سکو ورنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو تم سب میں بڑا شریف اور عزت والا وہ ہے جو تم سب میں بڑا پرہیزگار اور زیادہ تقویٰ والا ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے اور سب کے حال سے باخبر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بڑائیاں ذات کی اور قوم کی عبث میں صفت نیک چاہیے نری ذات کس کام کی۔
خلاصہ : یہ کہ سب لوگ ایک مرد اور ایک عورت یعنی آدم وحوا سے پیدا ہوئے ہیں جس قدر اولاد بڑھی گئی ان کے شعب قبیلہ ، عمارہ ، بطن، فخذ اور فیصلہ بنتے گئے…
Read the full tafseer →ف 2۔ شعب خاندان کی جڑ کو کہتے ہیں اور قبیلہ اس کی شاخ کو مثلا ایک شعب ہے اور حسنی و حسینی قبائل ہیں، وعلی ھذا۔
Read the full tafseer →اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک ہی جنس سے پیدا کیا اور یہ شعوب و قبائل تعارف کیلئے ہیں
13 ۔ اس آیت نے فخر و مباہات کے سارے امتیاز مٹا دیئے اور اونچ نیچ کے سارے نظریوں پر پانی پھیر دیا پھر یہ سب کچھ بین کرنے کے بعد آخری تعلیم یہ دی جس میں گزشتہ ساری آیتوں کا خلاصہ بیان کردیا اور ان ساری بیماریوں کا واحد علاج بتا دیا کہ اگر تم غورو فکر کرو تو یہ جو تقسیمات تم نے اختیار کی ہیں ان کی آخر کوئی حقیقت بھی ہے ؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ مراثی سے کسی نے دریافت کیا کہ ” دادا “ آپ بتا سکتے ہیں کہ آدم کون تھا ؟ ” دادا “ نے برجستہ جواب دیا کہ حضور جاں بخشی ہو تو عرض کروں اس سے کہا گیا کہ ہاں ! بےفکر ہو کر بیان کرو…
Read the full tafseer →All of Mankind are the Children of 'Adam and Hawwa' (علیہما السلام)
In the preceding verses, six social evils in connection with human and Islamic rights were prohibited, and principles of good manners were laid down to be observed in social life. The current verse proceeds to set down the basis of an all-comprehensive and all-pervading principle of human equality. It has firmly laid the axe at the false and foolish notions of superiority, born of racial arrogance or national conceit. All men have been created from a single male ['Adam (علیہ السلام) ] and a single female [ Hawwa' (علیہا…
Read the full tafseer →28 In the preceding verses the Muslims were addressed and given necessary instructions to safeguard the Muslim community against social"evils. In this verse the whole of mankind bas been addressed to reform it of the great evil that has always been causing universal disruption in the world, that is, the prejudices due to race, colour, language, country, and nationality. On account of these prejudices man in every age has generally been discarding humanity and drawing around himself some small circles and regarding those born within those circles as his own people and those outside them as…
Read the full tafseer →