Explained with ayahs 14–18
ایمان کا دعویٰ کرنے والے اپنا جائزہ تو لیں
کچھ اعرابی لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہی اپنے ایمان کا بڑھا چڑھا کر دعویٰ کرنے لگتے تھے حالانکہ دراصل ان کے دل میں اب تک ایمان کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئی تھیں ان کو اللہ تعالیٰ اس دعوے سے روکتا ہے یہ کہتے تھے ہم ایمان لائے۔ اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ ان کو کہئے اب تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا تم یوں نہ کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے یعنی اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے نبی کی اطاعت میں آئے ہیں اس آیت نے یہ فائدہ دیا کہ ایمان اسلام سے مخصوص چیز ہے جیسے کہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے جبرائیل ؑ والی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
سورة الْحُجُرٰت 30
اس سے مراد تمام بدوی نہیں ہیں بلکہ یہاں ذکر چند خاص بدوی گروہوں کا ہو رہا ہے جو اسلام میں بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر محض اس خیال سے مسلمان ہوگئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی ضرب سے محفوظ بھی رہیں گے اور اسلامی فتوحات کے قواعد سے متمتع بھی ہوں گے۔ یہ لوگ حقیقت میں سچے دل سے ایمان نہیں لائے تھے، محض زبانی اقرار ایمان کر کے انہوں نے مصلحۃً اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کرا لیا تھا۔ اور ان کی اس باطنی حالت کا راز اس وقت فاش ہوجاتا تھا جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے، اور اپنا حق اس طرح جتاتے تھے کہ گویا انہوں نے اسلام قبول کر کے آپ پر بڑا احسان کیا ہے۔ روایات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
خلاصہ تفسیر
یہ (بعضے) گنوار (بنی اسد وغیرہ کے آپ کے پاس آ کر جو ایمان لانے کے مدعی ہوتے ہیں یہ اس میں کئی گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں ایک تو کذب کہ بلا تصدیق قلب محض زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، آپ فرما دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے (کیونکہ وہ موقوف ہے، تصدیق قلبی پر، اور وہ موجود نہیں جیسا عنقریب آتا ہے (آیت) ولما یدخل الایمان) لیکن (ہاں) یوں کہو کہ (ہم مخالفت چھوڑ کر) مطیع ہوگئے (اور اطاعت بمعنی ترک مخالفت محض ظاہری موافقت سے بھی متحقق ہوجاتی ہے) اور (باقی) ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا (اس لئے ایمان کا دعویٰ مت کرو) اور (گو اب تک تم ایمان نہیں لائے لیکن اب بھی) اگر تم…
Read the full tafseer →-6 آگے آیات 18-14 کا مضمون
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جس میں ان لوگوں کے باطن سے پردہ اٹھایا ہے جن کے رویہ پر ابتدائی پانچ آیات میں نکیر فرمائی ہے۔ وہاں ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ اطراف برینہ کے بعض قبائل اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر مسلمانوں میں شامل تو ہوگئے تھے لیکن مرکز سے دور ہونے کے باعث ان کی تربیت اچھی طرح نہیں ہوئی تھی۔ اس وجہ سے وہ اس زعم میں مبتلا تھے کہ نبی ﷺ اور اسلام پر ان کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ وہ بغیر لڑکے بھڑے اسلام میں داخل ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ جب وہ اپنے آپ کو اللہ و رسول کا محسن گمان کئے ہوئے بیٹھے تھے تو رسول اللہ ﷺ کا وہ ادب و احترام کس طح محلوظ رکھ سکتے تھے جو ایمان…
Read the full tafseer →14۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک ان اعراب سے مراد بنو اسد اور خزیمہ کے منافقین ہیں جنہوں نے قحط سالی میں محض صدقات کی وصولی کے لیے یا قتل ہونے اور قیدی بننے کے اندیشے کے پیش نظر زبان سے اسلام کا اظہار کیا تھا ان کے دل ایمان اعتقاد صحیح اور خلوص نیت سے خالی تھے (فتح القدیر) لیکن امام ابن کثبر کے نزدیک ان سے وہ اعراب مراد ہیں جو نئے مسلمان ہوئے تھے اور ایمان ابھی ان کے اندر پوری طرح راسخ نہیں ہوا تھا لیکن دعوی انہوں نے اپنی اصل حثییت سے بڑھ کر ایمان کا کیا تھا جس پر انہیں یہ ادب سکھایا گیا کہ پہلے مرتبے پر ہی ایمان کا دعوی صحیح نہیں آہستہ آہستہ ترقی کے بعد تم ایمان کے مرتبے پر پہنچو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
10: دیہات کے کچھ لوگ دل سے ایمان لائے بغیر ظاہری طور پر کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کررہے تھے، جس کا مقصد مسلمانوں جیسے حقوق حاصل کرنا تھا، مدینہ منورہ میں آکر انہوں نے راستوں پر گندگی بھی پھیلائی تھی، ان آیات میں ان کی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے، اور یہ واضح کردیا گیا ہے کہ سچا مسلمان ہونے کے لئے صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں ہے، بلکہ دل سے اسلامی عقائد کو ماننا اور اپنے آپ کو اسلامی احکام کا پابند سمجھنا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →اب اس سورت کے آخر میں ایمان کی حقیقت اور اس کی اہمیت بیان کی جاتی ہے اور یہ ان اعراب کی تردید میں بیان کی جاتی ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ پر احسان جتلاتے تھے کہ ہم مسلمان ہوئے ہیں اور اس احسان کے بارے میں نہ سوچتے تھے کہ اللہ نے دعوت ایمان بھیج کر لوگوں پر کس قدر احسان کیا۔
یہ آیات بنو اسد کے دیہاتی مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم “ ایمان لائے ” ہیں۔ یہ انہوں نے اس وقت کہا جب وہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات بھی کہی کہ حضور ﷺ ہم نے تو اسلام قبول کرلیا لیکن آپ ﷺ کے ساتھ ہم کبھی نہیں لڑے جبکہ دوسرے عربوں نے آپ کے ساتھ…
Read the full tafseer →1 یہاں یہ بتلاتے کہ ایمان و یقین جب پوری طرح دل میں راسخ ہوجائے اور جڑ پکڑ لے اس وقت غیبت اور عیب جوئی وغیرہ کی خصلتیں آدمی سے دور ہوجاتی ہیں۔ جو شخص دوسروں کے عیب ڈھونڈنے اور آزار پہنچانے میں مبتلا ہو، سمجھ لو کہ ابھی تک ایمان اس کے دل میں پوری طرح پیوست نہیں ہوا۔ ایک حدیث میں ہے۔ " یَامَعْشَرَ مَنْ اٰمَنَ بِلِسَانِہٖ وَلَمْ یُفْضِ الْاِیْمَانُ اِلٰی قَلْبِہٖ لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِیْنَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِہِمْ " الخ (ابن کثیر، 8/24) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ایک کہتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں یعنی دین مسلمان ہم نے قبول کیا۔ اس کا مضائقہ نہیں۔ اور ایک کہتا ہے کہ ہم کو پورا یقین ہے۔ جو…
Read the full tafseer →آیت 14 { قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا } ”یہ بدو کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔“
{ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا } ”اے نبی ﷺ ان سے کہہ دیجیے : تم ہرگز ایمان نہیں لائے ہو ‘ بلکہ تم یوں کہو کہ ہم مسلمان اطاعت گزار ہوگئے ہیں“
”لَمْ تُـؤْمِنُوْا“ میں نفی جحد بِلَمْ کا نہایت موکد اسلوب ہے ‘ یعنی یہاں مضارع سے پہلے لَمْ تاکیدی نفی کے لیے آیا ہے۔ چناچہ ”لَمْ تُؤْمِنُوْا“ میں جو خاص تاکید پائی جاتی ہے وہ ”مَـا آمَنْتُمْ“ جیسے الفاظ میں نہیں۔
{ وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ } ”اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔“
اس آیت میں جو نکتہ بیان ہوا…
Read the full tafseer →23 بدوی منافق قبائل کا اسلام کیسا تھا ؟ یہ بدوی وہی لوگ تھے جو قبیلہ غفار، مزنیہ، جہینہ، اسلم اور اشجع سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے نفاق کی وجہ سے غزوہ حدیبیہ میں شریک نہیں ہوئے۔ تھے اور جب آپ اس غزوہ سے واپس آئے تو حیلے بہانے تراش کر اپنے لئے استغفار کی التجا کر رہے تھے۔ ان کا ذکر سورة احزاب کی آیت نمبر 11 تا 16 میں گزر چکا ہے۔ یہ لوگ کلمہ شہادتین پڑھ کر مسلمان تو ہوگئے تھے اور ارکان اسلام بھی بجا لاتے تھے۔ مگر ایمان ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوا تھا۔ انہیں آسان اور میٹھا میٹھا اسلام تو گوارا تھا لیکن وہ اس کے لئے کوئی مالی یا جانی قربانی پیش کرنے یا مشکلات برداشت کرنے کو تیار نہ تھے۔
خ اسلام…
Read the full tafseer →28۔ (تو اس کی مغفرت بےنہایت و رحمت بےپیایاں سے فائدہ اٹھانے کے مواقع اب بھی حاصل ہیں) (آیت) ” وان ..... رسولہ “۔ یعنی اگر واقعی ایمان لے آؤ۔ اور دل سے اللہ اور رسول کے احکام کی تصدیق کرنے لگو۔ (آیت) ” لا ..... شیئا “۔ اللہ تعالیٰ تو سارے ایمانی کا پورا پورا جر دے گا۔ (آیت) ” ولما .... قلوبکم “۔ محققین اہل سنت نے آیت سے یہ نکالا ہے کہ اسلام عام ہے اور ایمان اس سے خاص تر ہے۔ وقد استفید من ھذہ الایۃ الکریمۃ ان الایمان اخص من الاسلام کما ھو مذھب اھل السنۃ والجماعۃ (ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ابراہیم نخعی اور قتادہ اور ابن جریر نے بخلاف امام بخاری کے آیت سے یہی استدلال کیا ہے کہ جن لوگوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
قالت الاعراب امنا سابقہ آیت میں بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت و شرافت کا معیار تقویٰ ہے جو ایک باطنی چیز ہے اللہ تعالیٰ ہی اس کو جانتے ہیں کسی شخص کے لئے تقدس کا دعویٰ جائز نہیں، مذکورہ الصدر آیات میں ایک خاص واقعہ کی بناء پر بتلایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل مدار قلبی تصدیق پر ہے اس کے بغیر محض زبان سے خود کو مومن کہنا صحیح نہیں ہے۔
شان نزول :
امام بغوی رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے نزول کا سبب ایک روایت کے مطابق بیان کیا ہے کہ قبیلہ بنی اسد کے چند آدمی مدینہ طیبہ میں قحط شدید کے زمانہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ لوگ دل سے تو مومن تھے نہیں محض صدقات لینے کے لئے اپنے ایمان کا…
Read the full tafseer →قالت الاعراب امنا قل لم تو منوا ولکن قولوا اسلمنا ولما یدخل الایمان فی قلوبھکم وان تطیعوا اللہ و رسولہ لایلتکم من اعمالکم شیئا ان اللہ غفور رحیم .
یہ گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ آپ (ان سے) کہہ دیجئے تم ایمان (ابھی) نہیں لائے لیکن یوں کہو کہ ہم مخالفت چھوڑ کر مطیع ہوگئے اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کہنا مان لو تو اللہ تمہارے اعمال میں سے ذرا بھی کمی نہیں کرے گا ‘ بیشک اللہ غفور ‘ رحیم ہے۔
سدی نے کہا : یہ آیت ان بدویوں کے حق میں نازل ہوئی جن کا ذکر اللہ نے سورة الفتح میں کیا ہے۔ یہ دیہاتی قبائل جہینہ ‘ مزینہ ‘ اسلم ‘ اشجع اور غفار کے…
Read the full tafseer →اگلی آیت بنی اسد کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو لوگ سخت فاقہ میں مبتلا ہوگئے تھے تو مع اپنے اہل و عیال سب کے سب اسلام لے آئے اور رسول اکرم کی خدمت میں آئے تاکہ آپ سے کچھ مال و متاع حاصل کرلیں، چناچہ ان لوگوں نے آکر مدینہ منورہ میں گرانی پھیلا دی اور اس کے رستوں کو گندگی سے بھر دیا، حقیقت میں یہ لوگ منافق تھے مگر ظاہرا کہتے تھے یا رسول اللہ ہمیں کہلایئے اور ہمارا احترام کیجیے، ہم مخلص ہیں اور اپنے ایمان میں سچے ہیں۔ مگر یہ منافق تھے اپنے قول میں جھوٹے تھے، حق تعالیٰ نے انہیں کے مقابلہ کو روایت کردیا کہ کچھ گنوار یعنی بنی اسد والے آپ کے پاس آکر بلا تصدیق لب محض زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →(1) قالت الاعراب :”الاعراب“ کی تشریح کیلئے دیکھیں سورة توبہ (97) کی تفسیر۔ یہاں ”الاعراب“ پر الف لام جنس کا نہیں عہد کا ہے اور اس سے مراد تمام اعراب نہیں، کیونکہ ان میں کئی مخلص مومن بھی تھے۔ (دیکھیے توبہ : 99) بلکہ مراد وہ بعض اعراب ہیں جو مدینہ کے گرد رہتے تھے اور اسلام کی قوت کو دیکھ کر مسلمان ہوگئے تھے، دل میں تکذیب بھی نہیں تھی کہ انہیں منافق کہا جاسکے، مگر ابھی تک کچھ تردد باقی تھا اور ایمان و یقین پوری طرح دل میں داخل نہیں ہوا تھا، اس لئے یہ عمرہ حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں گئے۔ ان کا ذکر اس سے پہلے سورة فتح کی آیت (11):(سیقول لک المخلقون من الاعراب) میں بھی گزرا ہے۔
(2) امنا :…
Read the full tafseer →یہ آیت بنی اسد بن خزینہ کے بدوؤں کے بارے میں نازل ہوئی ،۔ وہ رسول اللہ کی بارگاہ میں خشک سالی کے دور میں آئے انہوں نے ایمان لانے کا اظہار کیا وہ مخفی طور پر مومن نہ تھے انہوں نے مدینہ طیبہ کے راستے غلاظتوں میں بھر دیئے اور بھائو کو بڑھا دیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ سے یہ کہا کرتے تھے، ہم سامان اور عیال کے ساتھ آئے ہیں ہم تمہارے ساتھ جنگ نہیں کریں گے جس طرح بنو فلاں نے آپ سے جنگ کی ہمیں صدقہ دیجیے وہ آپ پر احسان جتلانے لگے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل کی۔
حضرت ابن عباس نے کہا، یہ ان بدوئوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ ہجرت سے قبل ہی انہیں مہاجر کا نام دیا جائے اللہ تعالیٰ نے آگاہ کردیا کہ ان…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قالت الاعراب امنا “ (دیہاتیوں نے کہا کہ ہم ایمان لے آئے) اعراب سے مراد قبیلہ بنواسد بن خزیمہ کے اعراب ہیں (آیت ) ” ولکن قولوا اسلمنا “ (لیکن یوں کہو کہ ہم تابعدار ہوگے) یعنی ہم قتل اور قید ہونے کے ڈر سے تابعدار ہوگئے۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قالت الاعراب امنا “ بنواسد کے بارے میں نازل ہوئی۔
3:۔ عبدالرزاق وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قالت الاعراب امنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت اعراب کے لئے عام نہیں ہے لیکن اعراب میں سے چند…
Read the full tafseer →قَالَتِ الْاَعْرَابُ [ کہا بدو لوگوں نے ] اٰمَنَّا ۭ [ ہم ایمان لائے ] قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لَّمْ تُؤْمِنُوْا [ تم لوگ ایمان نہیں لائے ] وَلٰكِنْ قُوْلُوْٓا [ اور لیکن (بلکہ ) تم لوگ (یوں ) کہو ] اَسْلَمْنَا [ ہم فرمانبردار ہوئے ] وَلَمَّا يَدْخُلِ [ اور ابھی تک داخل نہیں ہوا ] الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ [ ایمان تمہارے دلوں میں ] وَاِنْ تُطِيْعُوا [ اور اگر تم لوگ اطاعت کروگے ] اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ [ اللہ اور اس کے رسول کی ] لَا يَـلِتْكُمْ [ تو وہ کم نہیں کرے گا تمہارے لیے ] مِّنْ اَعْمَالِكُمْ [ تمہارے اعمال میں سے ] شَـيْـــــًٔا ۭ [ کچھ بھی ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] غَفُوْرٌ…
Read the full tafseer →محض زبانی اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کو تنبیہ
معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ آیت کریمہ ﴿ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا 1ؕ﴾ قبیلہ بنی اسد کے چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ مدینہ منورہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ خشک سالی کا زمانہ تھا ان لوگوں نے ظاہر کیا کہ ہم نے اسلام قبول کرلیا حالانکہ دل سے مومن نہ تھے انہوں نے مدینہ منورہ کے راستوں میں گندگیاں ڈال کر خراب کردیا اور مالوں کے بھاؤ بھی مہنگے کردئیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں صبح شام جاتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ کے پاس عرب کے لوگ اپنی جانوں کو لے کر آگئے اور ہم اپنا سارا سامان اور بال بچوں کو لے کر آگئے اور ہم نے آپ سے جنگ نہ کی جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
مدار فضیلت و کرامت ایمان وتقوی نہ کہ نسبت خاندان وقبائل :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر وانثنی ...... الی ..... واللہ بصیر بما تعملون “۔
(ربط) اس سے قبل آیات میں ایسی خصلتوں اور برائیوں سے اجتناب کی تعلیم تھی جو انسانی زندگی کو ذلت و پستی میں ڈالنے والی ہیں اور انسانی معاشرے میں اس قسم کے عیب نہایت ہی بدترین عیب اور تباہ کردینے والی بیماریاں ہیں تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل وہ اوصاف بیان کیئے جارہے ہیں جو انسانی کرامت اور شرف کا باعث ہیں اور اسکو عزت وسربلندی کے مقام پر پہونچا دینے کا باعث ہیں۔
اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو…
Read the full tafseer →13:۔ ” قالت الاعراب۔ الایۃ “ یہ ان اعراب پر شکوی ہے جو اپنے ایمان کے اظہار سے رسول اللہ ﷺ کو ممنون کرنا چاہتے تھے۔ فرمایا تم لوگ ایمان کامل کا دعوی نہ کرو، البتہ یوں کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں کیونکہ تم نے ابھی صرف ظاہری طور پر ہی اسلام وانقیاد کا اعتراف کیا ہے اور ابھی تک ایمان ویقین تمہارے دل کی گہرائیوں میں نہیں اترا۔ یہ آیت بنی اسد بن خزیمہ کی ایک جماعت کے حق میں نازل ہوئی جو قحط سے متاثر ہو کر مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کا اظہار کیا، لیکن ان کے دل دولت ایمان سے خالی تھے۔ انہوں نے اموال غنیمت اور دنیوی منافع کی خاطر اسلام کا اظہار کیا تھا اور آپ پر احسان دھرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ربط آیات
اب تک اس سورة مبارکہ میں وہ بارہ بڑے بڑے اصول و ضوابط بیان ہوچکے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی حالات درست رہ سکتے ہیں اور مسلم معاشرہ امن وامان کا گہوارہ بن سکتا ہے اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا شکوہ کیا ہے جو ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر ان میں ایمان پورے طریقے سے راسخ نہیں ہوا ۔ بعض ایسے لوگوں کا بھی شکوہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اسلام لانے کا احسان جتلاتے ہیں ۔ اللہ نے ان کو بھی جواب دیا ہے کہ اسلام لا کر تم نے اللہ کے نبی پر احسان نہیں کیا بلکہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس نے ایمان کی طرف تمہاری رہنمائی فرمائی ہے۔
ایمان کا دعویٰ
ارشاد ہوتا ہے…
Read the full tafseer →قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا 0 ۭ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰكِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ 0 ۭ وَاِنْ تُطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ لَا يَـلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَـيْـــــًٔا 0 ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 14
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
عرب ( اعرابي)
العَرَبُ : وُلْدُ إسماعیلَ ، والأَعْرَابُ جمعه في الأصل،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ترکیب : الشعوب جمع شعب بفتح الشین ھواعلی طبقات النسب وتحتہ قبائل جمع قبیلۃ وبعدھا العمائر ثم البطون ثم الافخاذثم الفصائل خزیمہ شعب کنانۃ قبیلہ قریش عمارۃ بکسرالعین قصی بطن ہاشم فخذالعباس فصیلۃ۔
تفسیر … بارہواں حکم : جس کو اور دوسرے پیرایہ میں بیان فرماتا ہے یا ایہا الناس اناخلقناکم من ذکر وانثٰی کہ اے لوگو ہم نے تم سب کو ایک مرد یعنی آدم اور ایک عورت یعنی حوا سے پیدا کیا ہے تم سب کی ایک ذات اور ایک نسب ہے وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا پھر تمہارے قبیلے اور جتھے جدے جدے کردیے پہچان کے لیے نہ نسب پر فخر کرنے کے لیے کیونکہ نسب تو سب کا ایک ہے۔ اب یہ فخر کی چیز نہیں بلکہ پرہیزگاری کس لیے کہ ان…
Read the full tafseer →قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰـکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط وَاِنْ تُطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ لاَ یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئًا ط اِنّٰ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (الحجرات : 14)
(اعراب نے کہا کہ ہم ایمان لائے، ان سے کہئے کہ تم ایمان نہیں لائے، ہاں، یوں کہو کہ ہم مطیع ہوگئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں کے اندر داخل نہیں ہوا ہے، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں ذرا بھی کمی نہیں کرے گا، یقینا اللہ بہت درگزر کرنے والا اور مہربان ہے۔ )
اعراب کی کوتاہی پر تنبیہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ علیم اور خبیر ہے پچھلی آیات کے حوالے سے وہ جانتا ہے کہ کچھ لوگ صرف زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اس آیت میں یہ اشارہ موجود ہے کہ دوسروں کا مذاق اٹھانا اور عیب جوئی کرنا جہالت کا کام ہے ایسے لوگوں کو انتباہ کے طور پر بتلایا گیا ہے۔
نبی معظم ﷺ کے دور میں مدینہ کے مضافات میں رہنے والے ایسے لوگ بھی تھے جو آپ کی خدمت میں آکر ایسا انداز اختیار کرتے جس سے صاف معلوم ہوتا کہ یہ لوگ اپنے ایمان لانے کو نبی ﷺ اور مسلمانوں پر احسان سمجھتے ہیں۔ اس بنا پر وہ نبی ﷺ سے ایسے مطالبات کرتے ہیں جن کا انہیں حق نہیں تھا۔ اس صورتحال میں…
Read the full tafseer →ایمان لانا کسی پر احسان نہیں :
آیت 14 : قَالَتِ الْاَعْرَابُ (یہ گنوار کہتے ہیں) بعض بد و مراد ہیں۔ کیونکہ من الاعراب من یؤمن باللّٰہ والیوم الآخر اس کی تخصیص کرتا ہے۔ اس سے مراد بنو اسد کے بدو ہیں۔ جب وہ مدینہ آئے۔ اس وقت قحط کے حالات تھے۔ انہوں نے ایمان کا اظہار کیا۔ مقصد ان کا صدقہ تھا اور آپ پر اپنے ایمان کا احسان جتلا رہے تھے۔ ٰامَنَّا (ہم ظاہر و باطن سے ایمان لائے ہیں) ۔ قُلْ (ان سے کہہ دیں اے محمد ﷺ لَّمْ تُؤْمِنُوْا (تم ایمان تو نہیں لائے) تم نے دلوں سے تصدیق نہیں کی۔ وَلٰکِنْ قُوْلُوْا اَسْلَمْنَا (لیکن یوں کہو ہم مطیع ہوگئے) پس ایمان تصدیق قلبی ہے۔ اسلام : اسلام میں داخل ہونے اور…
Read the full tafseer →13 ۔” یایھا الناس انا خلقنا کم من ذکروانثیٰ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ثابت بن قیس ؓ اور ان کے جگہ نہ دینے والے شخص کو اس کی ماں کی عار دلانے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کس نے فلانی کا تذکرہ کیا ہے ؟ تو ثابت ؓ نے کہا میں نے یارسول اللہ ! تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھ۔ انہوں نے دیکھا تو آپ (علیہ السلام) نے پوچھا اے ثابت ! تونے کیا دیکھا ؟ انہوں نے کہا میں نے سفید، سرخ اور سیاہ چہرے دیکھے ہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک تو ان سے فضیلت نہیں پاسکتا مگر صرف دین اور تقویٰ میں ۔ پس ثابت ؓ اور اس شخص کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی جس نے…
Read the full tafseer →14۔ ایمان اور اسلام کے ایک ہونے اور نہ ہونے میں بڑا اختلاف قدیم سے ہے۔ امام احمد علیہ الرحمۃ اور امام شافعی علیہ الرحمۃ کا مناظرہ اس باب میں مشہور ہے امام بخاری 2 ؎ نے صحیح بخاری میں چند آیتوں اور حدیثوں سے یہی ثابت کیا ہے کہ حقیقت میں ایمان اور اسلام ایک ہی چیز ہے لیکن مجازی طور پر کبھی مسلمان ایسے شخص کو بھی کہا جاتا ہے جو ظاہری نماز روزہ کرتا ہو اور دین کی باتوں کا پورا یقین اس کے دل میں نہ ہو اور اپنے اس قول کے ثبوت میں امام بخاری نے یہی آیت پیش کی 3 ؎ ہے حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس اور سلف اس (3 ؎ صحیح بخاری باب اذالم یکن الاسلام علی الحقیقتۃ الخ ص 8 ج 1۔ ) بات کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے اور اس کے باوجود انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ” ہم ایمان لائے “ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کردیں، چناچہ فرمایا : (قل لم تومنو) یعنی کہہ دیجئے : تم اپنے لئے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعویٰ نہ کرو (ولکن قولواسلمنا) ” لیکن کہو ہم اسلام لائے۔ “ یعنی ہم اسلام میں داخل ہوگئے اور اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
قبیلے ، برادریاں محض تعارف کے لئے ہیں
قول باری ہے (انا خلقنا کم من ذکروانثیٰ وجعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ، ہم نے تم سب کو ایک مراد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنادیا ہے کہ ایک دوسرے کو پہچان سکو) مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ شعوب سے دور کی رشتہ داریاں مراد ہیں اور قبائل سے قریب کی رشتہ داریاں اس لئے کہا جاتا ہے ” بنو فلاں وفلاں “ (فلاں فلاں قبیلے)
قول باری ہے (ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم۔ بیشک تم میں سے پرہیزگار تر اللہ کے نزدیک معزز تر ہے) اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ بیان کی تخلیق انسانیت کے ذکر سے ابتدا کی اور یہ بتایا کہ پوری انسانیت کی تخلیق ایک مرد اور ایک…
Read the full tafseer →[ 46] ایمان محض زبانی کلامی دعوے کی چیز نہیں :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان محض زبانی کلامی دعوے کی چیز نہیں بلکہ وہ اصل اور حقیقی ایمان مطلوب ہے جو دل میں جاگزیں ہو۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بدوی لوگ کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے۔ سو تم ان سے کہو کہ تم لوگ ایمان نہیں لائے۔ یہوں نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، یا تم جھوٹے ہو، بلکہ یوں فرمایا کہ تم ایمان نہیں لائے، سو اس میں ادب اور حسن تخاطب کی تعلیم ہے، کہ مخاطب کو ایسے الفاظ میں خطاب نہ کیا جائے جس سے وہ چڑجائے اور ضد میں آکر حق سے منہ موڑلے، اور یہ حکمت تبلیغ کا ایک بڑا اہم اور بنیادی اصول ہے، جس کو دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ میں طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
اسلام بغیر یقین کچھ نہیں
تشریح : یہ آیات دراصل ان چند دیہاتی لوگوں کے ذکر میں ہیں جو مدینہ کے اردگرد رہتے تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمان بڑی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں تو انہوں نے کچھ مالی امداد لینے اور کچھ اپنی حفاظت کی خاطراسلام قبول کرلیا۔ ان قبیلوں میں مزینہ، جہینہ، اسلم اور حزیمہ وغیرہ شامل ہیں۔ مگر یہ پکے مسلمان نہ تھے بس نام کے ہی مسلمان تھے۔ ان کا پول اس وقت کھلا جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور احسان جتانے لگے کہ ہم نے آپکی جماعت کو مضبوط کرنے کے لیے اسلام قبول کرلیا ہے۔ اور ہمیں مالی امداد چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ چلو تم مسلمان ہو ہی گئے ہو تو اللہ اور رسول ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
آیات 11 تا 18۔
اسرار ومعارف۔
اے ایمان والو ! ایسی صورتون سے بچوجولڑائی کا سبب بنتی ہیں جیسے کوئی گروہ کسی دوسری جماعت کا مذاق نہ اڑائے کہ کیا خبر اللہ کریم کے نزدیک وہ لوگ ان سے بہتر ہوں ایسے ہی مسلمان خواتین کو بھی بات کرنے میں احتیاط لازم ہے اور دوسری خواتین کے بارے تحقیر کا انداز اختیار نہ کرنا چاہیے کیا خبر اللہ کریم انہیں ان مذاق کرنے والوں سے زیادہ محبوب رکھتا ہو اور ایک دوسرے کی نکتہ چینیاں نہ کیا کرو یہی بات نفرت کا سبب بن کر ایک دوسرے سے دور کردیتی ہے نہ ہی ایک دوسرے کو ناپسندیدہ ناموں سے پکارو۔ یہ بات اس قدر اہم ہے کہ قرآن کریم نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ حکم دیا ہے کہ جبکہ آج کل…
Read the full tafseer →ف 12 ابن عباس سے روایت ہے کہ بنو اسد ایک مرتبہ قحط سالی کے زمانہ میں مدینہ آئے اور انہوں نے مالی امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے بار بار آنحضرت سے یہی کہا ہم جنگ کئے بغیر مسلمان ہوئے ہیں اور ہم نے فلاں قبیلے کی طرح جنگ نہیں کی تو ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (قرطبی)
1 اس سے معلوم ہوا کہ اسلام اور ایمان میں فرق ہے۔ ایمان کے لئے قلبی ایفان بھی شرط ہے مگر اسلام کا لفظ ظاہری اطاعت پر بھی بولا جاتا ہے۔ گویا ایمان کو اسلام کی بہ نست خصوصیت حاصل ہے اور یہی بات اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جس میں جبریل نے آنحضرت سے پہلے سلام کے بارے میں سوال کیا اور پھر ایمان کے بارے میں صحیحین میں حضرت سعد سے روایت ہے کہ…
Read the full tafseer →(49:14) الاعراب : گنوار، بدو۔ اعراب وہ ہیں جو کہ صحراؤں میں سکونت گزیں ہوں۔ اس کے برخلاف لفظ عرب کے مفہوم میں وسعت ہے کیونکہ اس کا استعمال ان تمام انسانوں کے لئے عام ہے جو ریگستان عرب میں رہتے ہوں خواہ وہ صحراؤں میں بستے ہوں یا آبادیوں کے باشندے ہوں۔
اہل لغت کا بیان یہی ہے اور اسی پر سیبویہ نے کہا ہے کہ اعراب صیغہ جمع تو ہے مگر لفظ عرب کی جمع کا صیغہ نہیں ہے۔
لم تؤمنوا : مضارع نفی ھضد بلم۔ تم ایمان نہیں لائے۔
اسلمنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم مسلمان ہوئے۔ اسلام (افعال) مصدر۔
لما۔ حرف جازم ہے۔ لم کی طرح فعل مضارع پر داخل ہوکر جزم دیتا ہے اور مضارع کو ماضی منفی کے معنی میں کردیتا ہے۔
ولما یدخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 18 :
اسلمنا ( ہم نے ما ن لیا) لایلت (نہ گھٹائے گا) ‘ لم یرتابوا ( انہوں نے شک نہیں کیا) ‘ جاھدوا ( انہوں نے جہاد کیا) ‘ الصدقون) سچ بولنے والے) ‘ اتعلمون ( کیا تم جتاتے ہو۔ سکھاتے ہو) ‘ یمنون ( وہ احسان جتاتے ہیں) یمن (وہ احسان کرتا ہے) ‘ ان ھدا ( یہ کہ اس نے راستہ سمجھایا) ۔
تشریح : آیت نمبر 14 تا 18 :
سورۃ الحجرات کی ان آخری آیات کے سلسلہ میں علماء مفسرین نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ ایک مرتبہ شدید قحط پڑگیا۔ اس دوران قبیلہ بنو اسد کے کچھ لوگوں نے مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بظاہر ایمان قبول کرلیا۔ کہتے ہیں کہ ایمان لانے کا سبب یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →(ف 3) شان نزول۔ یہ آیت بنی اسد بن خزیمہ کی ایک جماعت کے حق میں نازل ہوئی جو خشک سالی کے زمانہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام کا اظہار کیا درحقیقت میں وہ ایمان نہ رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے مدینہ کے رستہ میں گندگیاں کیں، اور وہاں کے بھاؤ گراں کردیے ، صبح وشام نبی کی خدمت میں آکر اپنے اسلام لانے کا احسان جتاتے اور کہتے ہمیں کچھ دیجئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ بنی اسد کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ، اے محبوب ﷺ آپ کہہ دیں کہ اے بنی اسد تم کو ایمان نصیب نہ ہوا ہاں ظاہر میں تابعداری کرلی ہے۔ کہ کوئی تم کو نہ مارے، قیدی نہ بنائے تمہارے دلوں میں ایمان کی لذت وحلاوت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
[18] یعنی ان کا یہ کہنا کہ ہم ایمان لائے اس کا حوالہ یہاں محض ان کے اقرار ایمان کی حیثیت سے نہیں دیا گیا ہے بلکہ جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا یہ بات وہ بطور احسان کہتے تھے۔
[19] یعنی تمہارا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ تم ایمان لائے ہو۔ البتہ تم یہ دعویٰ کرسکتے ہو کہ تم نے اطاعت کرلی ہے۔ لفظ '' اسلام '' یہاں اپنے لغوی مفہوم یعنی ظاہری اطاعت کے معنی میں ہے۔ اسلام کا حقیقی مفہوم تو اپنے آپ کو کلی طور پر اپنے رب کے حوالے کردینے کا ہے لیکن یہ ظاہری اطاعت کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہاں اسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
[20] یعنی اپنے ایمان کی حکایت زیادہ نہ بڑھاؤ۔ اس نے تمہارے دل کے دروازے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فضیلت کا تعلق روح سے ہے
1: اس آیت میں اس حقیقت کبری کا اظہار فرمایا ہے کہ معیار فضیلت جنسیت نہیں ہے ۔ مرد ہوتا نہیں ہے ۔ اور نہ عورت ہونا ۔ نہ کنبہ اور قبیلہ کا اختصاص ہے ۔ اور یہ اس نوع کے سارے اختیارات محض تعارف کے لئے ہیں ۔ معیار فضیلت یہ ہے ۔ کہ تمہارے دلوں میں تقویٰ اور پرہیزگاری کے جذبات موجزن ہوں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ تمام تقریبات جو انسانوں نے فضیلت اور برتری کے اظہار کے لئے وضع کررکھی ہیں بےمعنی ہیں ۔ وہ دولت کو بزرگی کا معیار قرار نہیں دیتا ۔ بتوں اور رفاہیئت کو وجہ اعزاز نہیں سمجھتا ۔ اس کے نزدیک عبادت اور فخر کے لئے تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں ہے ۔ بڑی بڑی تعلیمی ڈگریوں…
Read the full tafseer →(14) یہ دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے ہاں یوں کہو کہ ہم فرماں بردارہوگئے یعنی ہم نے مخالفت ترک کردی ہے اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اور اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی صحیح اطاعت کرو۔ تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کے اجروثواب میں ذرا بھی کمی نہیں کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربانی کرنے والا ہے عرب کے اکثر دیہاتیوں نے صدق دل سے ایمان قبول کیا تھا لیکن یہ بنی اسد کے لوگ قحط کے زمانے میں غلہ وغیرہ حاصل کرنے مدینے میں آئے تو کہنے لگے ہم ایمان لے آئے اس پر تنبیہہ کی کہ ایمان صرف زبان سے کہنے سے نہیں ہوتا بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 3۔ یہاں اسلام سے مراد اسلام لغوی ہے شرعی نہیں، پس اس آیت سے ایمان و اسلام کے تغایر پر استدلال کرنا غیر صحیح ہے۔
Read the full tafseer →دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے آپ ﷺ کہہ دیجئے اے پیغمبر اسلام ! ابھی اسلام کی بات کرو
14 ۔ ہم اس سے پہلے کئی باریہ بات عرض کرچکے ہیں کہ ناخواندگی اور جہالت دو الگ الگ چیزیں ہیں اور شروع سے یہ دونوں چلی آرہی ہیں اور اب بھی کثرت سے موجود ہیں بعض لوگ ناخواندہ ہوتے ہیں لیکن جاہل نہیں ہوتے اور ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس ڈگریاں اور عہدے تو بہت ہوتے ہیں اور وہ ناخواندہ بھی نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود نرے جاہل ہوتے ہیں ان لوگوں کی کمی نہ دیہات میں ہے اور نہ شہروں میں ، یہ ساری قسمیں اس وقت بھی موجود تھیں اور آج بھی ہیں اس جگہ جن لوگوں (اعراب) کہا گیا ہے یہ خواندہ ہوں گے یا ناخواندہ لیکن جاہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
Sequence of Verses in the Surah
In the preceding verses of the Surah it was stated that the basis of honour in the sight of Allah is righteousness which is an inner quality, and Allah alone knows it. It is improper for any man to claim self-sanctification. In the current set of verses, it is stated, on account of a particular incident, that the real basis of faith is the inner acceptance of the heart. Mere lip-service to faith does not count the person as a faithful believer. In the entire Surah, first the rights of the Prophet were set out and then the rules of how to respect and honour him.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
30 This does not imply alI the desert Arabs but only a few particular groups of the Bedouins who had become Muslims, seeing the increasing power of Islam, thinking that they would not only remain safe from any attack by the Muslims but would also gain materially from the Islamic conquests. These people had not embraced Islam sincerely but had professed faith only verbally in order to be counted among the Muslims, and their this inner state became exposed whenever they would come before the Holy Prophet with different sorts of demands and would enumerate and mention their rights as if they had…
Read the full tafseer →