Explained with ayahs 14–18
ایمان کا دعویٰ کرنے والے اپنا جائزہ تو لیں
کچھ اعرابی لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہی اپنے ایمان کا بڑھا چڑھا کر دعویٰ کرنے لگتے تھے حالانکہ دراصل ان کے دل میں اب تک ایمان کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئی تھیں ان کو اللہ تعالیٰ اس دعوے سے روکتا ہے یہ کہتے تھے ہم ایمان لائے۔ اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ ان کو کہئے اب تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا تم یوں نہ کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے یعنی اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے نبی کی اطاعت میں آئے ہیں اس آیت نے یہ فائدہ دیا کہ ایمان اسلام سے مخصوص چیز ہے جیسے کہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے جبرائیل ؑ والی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
سورة الْحُجُرٰت 30
اس سے مراد تمام بدوی نہیں ہیں بلکہ یہاں ذکر چند خاص بدوی گروہوں کا ہو رہا ہے جو اسلام میں بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر محض اس خیال سے مسلمان ہوگئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی ضرب سے محفوظ بھی رہیں گے اور اسلامی فتوحات کے قواعد سے متمتع بھی ہوں گے۔ یہ لوگ حقیقت میں سچے دل سے ایمان نہیں لائے تھے، محض زبانی اقرار ایمان کر کے انہوں نے مصلحۃً اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کرا لیا تھا۔ اور ان کی اس باطنی حالت کا راز اس وقت فاش ہوجاتا تھا جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے، اور اپنا حق اس طرح جتاتے تھے کہ گویا انہوں نے اسلام قبول کر کے آپ پر بڑا احسان کیا ہے۔ روایات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
خلاصہ تفسیر
یہ (بعضے) گنوار (بنی اسد وغیرہ کے آپ کے پاس آ کر جو ایمان لانے کے مدعی ہوتے ہیں یہ اس میں کئی گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں ایک تو کذب کہ بلا تصدیق قلب محض زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، آپ فرما دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے (کیونکہ وہ موقوف ہے، تصدیق قلبی پر، اور وہ موجود نہیں جیسا عنقریب آتا ہے (آیت) ولما یدخل الایمان) لیکن (ہاں) یوں کہو کہ (ہم مخالفت چھوڑ کر) مطیع ہوگئے (اور اطاعت بمعنی ترک مخالفت محض ظاہری موافقت سے بھی متحقق ہوجاتی ہے) اور (باقی) ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا (اس لئے ایمان کا دعویٰ مت کرو) اور (گو اب تک تم ایمان نہیں لائے لیکن اب بھی) اگر تم…
Read the full tafseer →انما المومنون الذین امنوا باللہ ور سولہ ثم لم یرتابوا وجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ ط اولٓئک ھم الصدقون 15
حقیقی اہل ایمان کے اوصاف
فرمایا کہ ہر مدعی ایمان، اللہ کے نزدیک مومن نہیں بن سکتا۔ حقیقی مومن اللہ کے نزدیک وہی ہیں جو اللہ اور رسول پر صدق دل سے ایمان لائے، پھر شک و تذبذب میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ مال و جان دونوں سے اللہ کی راہ میں برابر جہاد کیا۔ اپنا مال بھی دین کی تقویت و تائید کے لئے صرف کیا اور جان قربان کرنے کی نوبت آئی تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا۔ فرمایا کہ یہی لوگ اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان کا دعویٰ تو بڑی بلند آہنگی سے کرتے ہیں لیکن اپنے تذبذب کے…
Read the full tafseer →15۔ 1 نہ کہ وہ جو صرف زبان سے اسلام کا اظہار کردیتے ہیں اور مذکورہ اعمال کا سرے سے کوئی اہتمام ہی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
10: دیہات کے کچھ لوگ دل سے ایمان لائے بغیر ظاہری طور پر کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کررہے تھے، جس کا مقصد مسلمانوں جیسے حقوق حاصل کرنا تھا، مدینہ منورہ میں آکر انہوں نے راستوں پر گندگی بھی پھیلائی تھی، ان آیات میں ان کی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے، اور یہ واضح کردیا گیا ہے کہ سچا مسلمان ہونے کے لئے صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں ہے، بلکہ دل سے اسلامی عقائد کو ماننا اور اپنے آپ کو اسلامی احکام کا پابند سمجھنا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →انما المؤمنون الذین ۔۔۔۔۔ ھم الصدقون (49 : 15) “ حقیقت میں مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے۔ پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، وہی سچے لوگ ہیں ”۔
ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ اور رسول پر دل سے یقین ہوجائے۔ ایسا یقین جس کے ساتھ دل میں کوئی شک اور خلجان باقی نہ رہے۔ ایسا یقین جو مستحکم ہو ، جس کے اندر کوئی تزلزل اور اضطراب نہ ہو ، جس کے اندر کوئی خلش یا شک نہ ہو۔ جس میں قلب و شعور میں کوئی تزلزل نہ ہو ، اور جس کے نتیجے میں جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کے اعمال پیدا ہوں ، دل جب ایمان کی شیرینی کو چکھ لے اور اس پر مطمئن اور پختہ…
Read the full tafseer →3 یعنی سچے مومن کی شان یہ ہوتی ہے کہ اللہ و رسول پر پختہ اعتقاد رکھتا ہو۔ اور ان کی راہ میں ہر طرح جان و مال سے حاضر رہے۔
Read the full tafseer →آیت 15 { اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا } ”مومن تو بس وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ پھر شک میں ہرگز نہیں پڑے“
یعنی ایسے لوگوں کا ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہو کر یقین کی ایسی صورت اختیار کر گیا ہے کہ ان کے دلوں کے اندر شک کی کوئی گنجائش رہی ہی نہیں۔ جیسے قبل ازیں آیت 7 میں صحابہ رض کے بارے میں فرمایا گیا : { وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ } ”لیکن اے نبی ﷺ کے ساتھیو ! اللہ نے تمہارے نزدیک ایمان کو بہت محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں کے اندر رچا بسا دیا ہے۔“
جب…
Read the full tafseer →25 اس آیت میں مومنوں اور منافقوں کا تقابل پیش کرکے بتایا گیا ہے کہ حقیقی مومن اللہ، اس کے وعدوں اور اس کے رسول پر پوری طرح یقین رکھتے ہیں۔ وہ مفاد پرست نہیں ہوتے لہذا جو کچھ اللہ اور اس کا رسول کہے فوراً اس کی اطاعت کرتے اور بوقت ضرورت جان و مال کی قربانیاں بھی پیش کردیتے ہیں۔ اور منافقوں کی طرح حیلوں بہانوں سے فرار کی راہ اختیار نہیں کرتے۔ ایسے ہی لوگ راستباز ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →29۔ (اپنے دعوی ایمان وتصدیق میں) (آیت) ” ال مومن ون “۔ یعنی دین کی پوری طرح اور درجہ کمال میں تصدیق کرنے والے۔ مومنین حقیقی، مومنین کامل۔ اے المومنون الکمل (ابن کثیر) فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ اگر کمال تصدیق نہ ہو، نفس تصدیق حاصل ہو جب بھی ایمان ثابت ہوجائے گا۔ (آیت) ” الذین ..... سبیل اللہ “۔ یعنی ہر طرح دین کی خدمت کی، اسی راہ میں سختیاں جھیلیں۔ (آیت) ” ثم لم یرتابوا “۔ زندگی کی کسی منزل اور ماحول کی کسی کشمکش میں بھی ایمان وتصدیق کی شاہراہ سے ڈانواں ڈول نہ ہونا بڑی نعمت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
قالت الاعراب امنا سابقہ آیت میں بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت و شرافت کا معیار تقویٰ ہے جو ایک باطنی چیز ہے اللہ تعالیٰ ہی اس کو جانتے ہیں کسی شخص کے لئے تقدس کا دعویٰ جائز نہیں، مذکورہ الصدر آیات میں ایک خاص واقعہ کی بناء پر بتلایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل مدار قلبی تصدیق پر ہے اس کے بغیر محض زبان سے خود کو مومن کہنا صحیح نہیں ہے۔
شان نزول :
امام بغوی رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے نزول کا سبب ایک روایت کے مطابق بیان کیا ہے کہ قبیلہ بنی اسد کے چند آدمی مدینہ طیبہ میں قحط شدید کے زمانہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ لوگ دل سے تو مومن تھے نہیں محض صدقات لینے کے لئے اپنے ایمان کا…
Read the full tafseer →انما المومنون الذین امنوا باللہ و رسولہ ثم لم یرتابوا وجھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ اولئک ھم الصدقون . پورے مؤمن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے پھر شک نہیں کیا
اور اپنے مال و جان سے اللہ کے راستہ میں محنت اٹھائی۔ یہ ہی لوگ ہیں سچے (مؤمن) ۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ..... یعنی خلوص قلب سے ایمان لائے اور احکام کی تعمیل کی۔
ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا : پھر رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین میں ان کو کبھی شک واقع نہیں ہوا۔ لفظ ثُمَّ دلالت کر رہا ہے کہ شروع ایمان کے وقت جس طرح شک نہ کرنا لازم تھا ‘ اسی طرح آئندہ پوری زندگی مرتے دم تک کبھی شک میں نہ پڑنا ضروری ہے۔ آیت : ثُمَّ…
Read the full tafseer →حقیقی مومن تو وہ ہیں جو سچائی اور خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر اپنے ایمان میں کبھی شک نہیں کیا اور اپنے جان و مال سے اطاعت خداوندی میں محنت اٹھائی سو یہی لوگ اپنے ایمان و اطاعت میں پورے سچے ہیں۔
Read the full tafseer →انما المومنون الذین امنوا باللہ و رسولہ …:”لم یرتابوا“ ”ریب“ سے باب افتعال ہے۔ اعراب (بدویوں) کے ایمان کے دعوے کی نفی کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایمان کی ایک باطنی اور ایک ظاہری شرط بیان فرمائی۔ چناچہ فرمایا مومن تو صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، پھر شک میں مبتلا نہیں ہوئے انہوں نے اپنے ایمان و یقین کا ثبوت مال و جان کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کے ساتھ دیا۔ یہی لوگ ہیں جو ایمان کے دعوے میں سچے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دعویٰ کرتے ہیں مگر جب جہاد کا موقع آتا ہے تو اس سے جان بچاتے ہیں، وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
یعنی انہوں نے تصدیق کی اور انہوں نے شک نہ کیا اور اسے جہاد اور اعمال صالحہ کے ساتھ سچ کر دکھایا۔
وہ ایمان میں سچے ہیں وہ وہ نہیں جو قتل کے ڈر اور مال کی امید کی وجہ سے مسلمان ہوئے جب یہ آیت نازل ہوئی تو بدوئوں نے قسم اٹھائی کہ وہ مخفی اور اعلانیہ ایماندار ہیں اور جھوٹ بولا تو یہ آیت نازل ہوئی۔
یعنی جس دین پر تم ہو تم اللہ تعالیٰ کو اس کے بارے میں بتاتے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اسے جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
1:۔ احمد والحکیم الترمذی نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مؤمن دنیا میں تین قسم پر ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر پھر کبھی شرک نہیں کیا اور جہاد کیا اللہ کے راستے میں اپنی جانوں اور اپنے مالوں کے ساتھ۔ دوسرے وہ لوگ جنہوں نے آپ کو اپنے مالوں اور اپنی جانوں پر امین بنایا۔ تیسرے وہ لوگ جن کو لالچ اور طمع پیش آیا مگر انہوں نے اس کو اللہ کی رضا کے لئے چھوڑدیا۔
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ [ کچھ نہیں سوائے اس کے وہ ایمان لانے والے جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ [ اللہ اور اس کے رسول پر ] ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا [ پھر وہ شبہہ میں پڑے ہی نہیں ] وَجٰهَدُوْا [اور انہوں نے جدوجہد کی ] بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ [ اپنے مالوں اور اپنی جانوں (وقت اور صلاحیت ) سے ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی راہ میں ] اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ [یہ لوگ ہی سچ کہنے والے ہیں ]
نوٹ۔ 3: آیت ۔ 15 پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہاں وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ مومنین کے عدم تذبذب کی شہادت کے طور پر آیا ہے ایک شخص اگر ایک نصب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اس کے بعد فرمایا ﴿ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ﴾ (الآیۃ) اس آیت میں یہ بتایا کہ واقعی اور سچے مومن وہی ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے یعنی انہوں نے سچے دل سے تصدیق کی ﴿ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا ﴾ پھر انہوں نے شک نہیں کیا ﴿ وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ 1ؕ﴾ (اور انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کیا) اس میں کافروں سے اور اپنے نفس سے جہاد کرنا اور اپنے کو غیر شرعی کاموں سے اور اپنے خاندان اور دیگر افراد کو شریعت اسلامیہ پر چلانے کے سلسلہ میں محنت اور کوشش کرنا سب داخل ہے اپنے نفس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
مدار فضیلت و کرامت ایمان وتقوی نہ کہ نسبت خاندان وقبائل :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر وانثنی ...... الی ..... واللہ بصیر بما تعملون “۔
(ربط) اس سے قبل آیات میں ایسی خصلتوں اور برائیوں سے اجتناب کی تعلیم تھی جو انسانی زندگی کو ذلت و پستی میں ڈالنے والی ہیں اور انسانی معاشرے میں اس قسم کے عیب نہایت ہی بدترین عیب اور تباہ کردینے والی بیماریاں ہیں تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل وہ اوصاف بیان کیئے جارہے ہیں جو انسانی کرامت اور شرف کا باعث ہیں اور اسکو عزت وسربلندی کے مقام پر پہونچا دینے کا باعث ہیں۔
اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو…
Read the full tafseer →14:۔ ” انما المومنون۔ الایۃ “ ان اعراب کے ادعائے ایمان کے مقابلے میں مومنین کاملین کی صفات کا ذکر ہے۔ صرف زبانی اظہار ایمان سے آدمی مومن نہیں بن جاتا، بلکہ مؤمنین کاملین تو وہ ہیں جو دل و جان سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں اور پھر توحید و رسالت اور تمام ضروریات دین کے بارے میں ان کے دلوں میں کوئی شک و شبہ یا کھٹکا پیدا نہ ہو۔ اور جب کبھی ضرورت پیش آجائے تو اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنے میں پیش پیش ہوں۔ یہ لوگ ہیں حقیقت میں سچے اور پکے مومن۔ ای ھم الذین ایمانھم ایمان صدق وحق (مدارک ج 4 ص 133) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ربط آیات
اب تک اس سورة مبارکہ میں وہ بارہ بڑے بڑے اصول و ضوابط بیان ہوچکے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی حالات درست رہ سکتے ہیں اور مسلم معاشرہ امن وامان کا گہوارہ بن سکتا ہے اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا شکوہ کیا ہے جو ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر ان میں ایمان پورے طریقے سے راسخ نہیں ہوا ۔ بعض ایسے لوگوں کا بھی شکوہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اسلام لانے کا احسان جتلاتے ہیں ۔ اللہ نے ان کو بھی جواب دیا ہے کہ اسلام لا کر تم نے اللہ کے نبی پر احسان نہیں کیا بلکہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس نے ایمان کی طرف تمہاری رہنمائی فرمائی ہے۔
ایمان کا دعویٰ
ارشاد ہوتا ہے…
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ 15
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ترکیب : الشعوب جمع شعب بفتح الشین ھواعلی طبقات النسب وتحتہ قبائل جمع قبیلۃ وبعدھا العمائر ثم البطون ثم الافخاذثم الفصائل خزیمہ شعب کنانۃ قبیلہ قریش عمارۃ بکسرالعین قصی بطن ہاشم فخذالعباس فصیلۃ۔
تفسیر … بارہواں حکم : جس کو اور دوسرے پیرایہ میں بیان فرماتا ہے یا ایہا الناس اناخلقناکم من ذکر وانثٰی کہ اے لوگو ہم نے تم سب کو ایک مرد یعنی آدم اور ایک عورت یعنی حوا سے پیدا کیا ہے تم سب کی ایک ذات اور ایک نسب ہے وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا پھر تمہارے قبیلے اور جتھے جدے جدے کردیے پہچان کے لیے نہ نسب پر فخر کرنے کے لیے کیونکہ نسب تو سب کا ایک ہے۔ اب یہ فخر کی چیز نہیں بلکہ پرہیزگاری کس لیے کہ ان…
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجٰھَدُوْا بِاَمْوَا لِہِمْ وَاَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ ۔ (الحجرات : 15)
(مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر شک میں نہیں پڑے اور انھوں نے اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یہی لوگ سچے ہیں۔ )
ایمان کا صحیح معیار
اس آیت کریمہ میں ایمان کا صحیح معیار سامنے رکھ دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان دعویٰ کرنے کی چیز نہیں، کچھ کرنے کی چیز ہے۔ سب سے پہلے اپنے دل و دماغ میں ان افکار کو اتارنا ہوگا جو جاہلیت اور شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ علیم اور خبیر ہے پچھلی آیات کے حوالے سے وہ جانتا ہے کہ کچھ لوگ صرف زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اس آیت میں یہ اشارہ موجود ہے کہ دوسروں کا مذاق اٹھانا اور عیب جوئی کرنا جہالت کا کام ہے ایسے لوگوں کو انتباہ کے طور پر بتلایا گیا ہے۔
نبی معظم ﷺ کے دور میں مدینہ کے مضافات میں رہنے والے ایسے لوگ بھی تھے جو آپ کی خدمت میں آکر ایسا انداز اختیار کرتے جس سے صاف معلوم ہوتا کہ یہ لوگ اپنے ایمان لانے کو نبی ﷺ اور مسلمانوں پر احسان سمجھتے ہیں۔ اس بنا پر وہ نبی ﷺ سے ایسے مطالبات کرتے ہیں جن کا انہیں حق نہیں تھا۔ اس صورتحال میں…
Read the full tafseer →آیت 15 : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا (پورے مومن وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک نہیں کیا) ارتاب یہ رابہ کا مطاوع بن کر آتا ہے۔ جبکہ کسی کو تہمت کے ساتھ شک میں ڈالا جائے۔ مطلب یہ ہے وہ ایمان لائے۔ پھر ان کے دلوں میں ایمانیات کے متعلق شک پیدا نہیں ہوا۔ اور نہ جس بات کی انہوں نے تصدیق کی اس میں ان پر تہمت و الزام ہے۔
ایمان اور اس کی تروتازگی :
! اس لئے کہ یقین اور ریب کا زوال یہ ایمان کا نچوڑ ہیں۔ تو ایمان کو مقدم کرنے کے بعد پھر الگ اس کو ذکر کیا تاکہ ایمان میں اس کا مرتبہ معلوم ہوجائے۔
" ثم جو تراخی…
Read the full tafseer →14 ۔” قالت الاعراب امنا “ یہ آیت بنو اسدسن خزیمہ کے چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں قحط سالی کے سال آئے اور اسلام کو ظاہر کیا اور اندر سے ایمان نہ لاتے تھے تو ان لوگوں نے مدینہ کے راستے گندگیوں سے خراب کردیئے اور اناج کا بھائو بڑھا دیا اور صبح وشام رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے اور کہتے کہ عرب آپ (علیہ السلام) کے پاس اپنی سواریوں پر تنہا آتے ہیں، ہم آپ (علیہ السلام) کے پاس اناج، عیال اور لونڈیاں لائے ہیں اور ہم نے آپ (علیہ السلام) سے قتال بھی نہیں کیا جیسے کہ بنو فلاں اور بنو فلاں نے قتال کیا۔ وہ نبی کریم ﷺ پر احسان جتاتے تھے اور صدقہ کا ارادہ رکھتے تھے اور کہتے تھے…
Read the full tafseer →15۔ اوپر کچے ایمان والوں کا ذکر فرما کر اس آیت میں پکے ایمان داروں کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح زبان سے اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کا سچا اقرار کرتے ہیں دل و زبان سے مرتے دم تک اس پر قائم اور ہر طرح جان و مال سے اسلام کی ترقی میں لگے رہتے ہیں غرض یہ سچے ایماندار کسی سختی میں اپنی حالت کو نہیں بدلتے یہ لوگ ان دیہاتی لوگوں کی طرح نہیں ہیں کہ زبان سے تو انہوں نے رسول کی فرمانبرداری کا اقرار کیا اور حدیبیہ کے سفر کے وقت اپنے اس اقرار پر قائم نہیں رہے اور رسول کی حکم عدولی کرکے گھروں میں بیٹھ رہے یا اپنی جان اپنا مال بچانے کے لئے۔ تو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے اور اللہ کے رسول پر اپنے اس اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے اور اس کے باوجود انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ” ہم ایمان لائے “ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کردیں، چناچہ فرمایا : (قل لم تومنو) یعنی کہہ دیجئے : تم اپنے لئے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعویٰ نہ کرو (ولکن قولواسلمنا) ” لیکن کہو ہم اسلام لائے۔ “ یعنی ہم اسلام میں داخل ہوگئے اور اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
قبیلے ، برادریاں محض تعارف کے لئے ہیں
قول باری ہے (انا خلقنا کم من ذکروانثیٰ وجعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ، ہم نے تم سب کو ایک مراد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنادیا ہے کہ ایک دوسرے کو پہچان سکو) مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ شعوب سے دور کی رشتہ داریاں مراد ہیں اور قبائل سے قریب کی رشتہ داریاں اس لئے کہا جاتا ہے ” بنو فلاں وفلاں “ (فلاں فلاں قبیلے)
قول باری ہے (ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم۔ بیشک تم میں سے پرہیزگار تر اللہ کے نزدیک معزز تر ہے) اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ بیان کی تخلیق انسانیت کے ذکر سے ابتدا کی اور یہ بتایا کہ پوری انسانیت کی تخلیق ایک مرد اور ایک…
Read the full tafseer →[ 51] اہل ایمان کے بعض اہم اوصاف کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمہء حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ مومن تو اصل میں وہی لوگ ہیں جو صدق دل سے ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر۔ پھر انہوں نے کوئی شک نہیں کیا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ۔ یہی لوگ ہیں سچے۔ یعنی یہی لوگ سچے ہیں اپنے دعویء ایمان میں، کہ انہوں نے اپنے عمل و کردار اور اپنی صفات و خصال سے اپنی صداقت کا ثبوت پیش کردیا، انہوں نے صرف زبانی کلامی دعوی ہی نہیں کیا بلکہ عمل طور پر اس کا ثبوت بھی دیا، اور اللہ کی راہ میں اپنی جانوں اور مالوں کا انذرانہ بھی برضا ورغبت پیش کیا، سو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
اسلام بغیر یقین کچھ نہیں
تشریح : یہ آیات دراصل ان چند دیہاتی لوگوں کے ذکر میں ہیں جو مدینہ کے اردگرد رہتے تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمان بڑی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں تو انہوں نے کچھ مالی امداد لینے اور کچھ اپنی حفاظت کی خاطراسلام قبول کرلیا۔ ان قبیلوں میں مزینہ، جہینہ، اسلم اور حزیمہ وغیرہ شامل ہیں۔ مگر یہ پکے مسلمان نہ تھے بس نام کے ہی مسلمان تھے۔ ان کا پول اس وقت کھلا جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور احسان جتانے لگے کہ ہم نے آپکی جماعت کو مضبوط کرنے کے لیے اسلام قبول کرلیا ہے۔ اور ہمیں مالی امداد چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ چلو تم مسلمان ہو ہی گئے ہو تو اللہ اور رسول ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
آیات 11 تا 18۔
اسرار ومعارف۔
اے ایمان والو ! ایسی صورتون سے بچوجولڑائی کا سبب بنتی ہیں جیسے کوئی گروہ کسی دوسری جماعت کا مذاق نہ اڑائے کہ کیا خبر اللہ کریم کے نزدیک وہ لوگ ان سے بہتر ہوں ایسے ہی مسلمان خواتین کو بھی بات کرنے میں احتیاط لازم ہے اور دوسری خواتین کے بارے تحقیر کا انداز اختیار نہ کرنا چاہیے کیا خبر اللہ کریم انہیں ان مذاق کرنے والوں سے زیادہ محبوب رکھتا ہو اور ایک دوسرے کی نکتہ چینیاں نہ کیا کرو یہی بات نفرت کا سبب بن کر ایک دوسرے سے دور کردیتی ہے نہ ہی ایک دوسرے کو ناپسندیدہ ناموں سے پکارو۔ یہ بات اس قدر اہم ہے کہ قرآن کریم نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ حکم دیا ہے کہ جبکہ آج کل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ف 2 یعنی سچے مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان جتلائے
Read the full tafseer →(49:15) ثم لم یرتابوا : ثم تراخی زمانی کے لئے ہے۔ پھر ازاں بعد لم یرتابوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ جمع مذکر غائب اریتاب (افتعال) مصدر۔ وہ شک میں نہ پڑے۔
جھدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ مجاھدۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ انہوں نے جہاد کیا۔ جہاد کا مفعول مقدر ہے۔ مفعولہ مقدر۔ ای العدو او النفس والھوی۔ یعنی دشمن۔ یا نفس اور خواہشات۔
اولئک۔ اسم اشارہ۔ جمع مذکر۔ جو مذکورہ بالا اوصاف سے متصف ہیں۔
الصدقون۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ صادق کی جمع بحالت رفع۔ صدق سے۔ سچ بولنے والے۔ سچے مرد۔ دعوائے ایمان میں سچے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 18 :
اسلمنا ( ہم نے ما ن لیا) لایلت (نہ گھٹائے گا) ‘ لم یرتابوا ( انہوں نے شک نہیں کیا) ‘ جاھدوا ( انہوں نے جہاد کیا) ‘ الصدقون) سچ بولنے والے) ‘ اتعلمون ( کیا تم جتاتے ہو۔ سکھاتے ہو) ‘ یمنون ( وہ احسان جتاتے ہیں) یمن (وہ احسان کرتا ہے) ‘ ان ھدا ( یہ کہ اس نے راستہ سمجھایا) ۔
تشریح : آیت نمبر 14 تا 18 :
سورۃ الحجرات کی ان آخری آیات کے سلسلہ میں علماء مفسرین نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ ایک مرتبہ شدید قحط پڑگیا۔ اس دوران قبیلہ بنو اسد کے کچھ لوگوں نے مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بظاہر ایمان قبول کرلیا۔ کہتے ہیں کہ ایمان لانے کا سبب یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →سچے مومن کون ؟
(ف 1) شان نزول۔ ان آیتوں میں فرمایا کہ حقیقی مومن وہ ہیں کہ جو صدق دل سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور بعد اس کے جب زبان سے اقرار کرچکے دل میں شک نہیں کرتے اور جان ومال کو بہت خلوص وعاجزی سے اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں کہ غازیوں کو نفقہ دیتے اور ان کے لیے ہتھیار خریدتے اور آپ اس جنگ میں شریک ہوتے ہیں اور خوب جان توڑ کر ان سے مقابلہ کرتے ہیں اور کسی سختی میں اپنی حالت کو ہیں بدلتے یہی سچے ایماندار ہیں جو اپنے دعوی ایمان میں راست گو وراست پسند ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
[18] یعنی ان کا یہ کہنا کہ ہم ایمان لائے اس کا حوالہ یہاں محض ان کے اقرار ایمان کی حیثیت سے نہیں دیا گیا ہے بلکہ جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا یہ بات وہ بطور احسان کہتے تھے۔
[19] یعنی تمہارا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ تم ایمان لائے ہو۔ البتہ تم یہ دعویٰ کرسکتے ہو کہ تم نے اطاعت کرلی ہے۔ لفظ '' اسلام '' یہاں اپنے لغوی مفہوم یعنی ظاہری اطاعت کے معنی میں ہے۔ اسلام کا حقیقی مفہوم تو اپنے آپ کو کلی طور پر اپنے رب کے حوالے کردینے کا ہے لیکن یہ ظاہری اطاعت کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہاں اسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
[20] یعنی اپنے ایمان کی حکایت زیادہ نہ بڑھاؤ۔ اس نے تمہارے دل کے دروازے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
حقیقی حلاوت ایمانی
1: بنواسہ کے چند دیہاتی حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ کے پاس آئے ہیں ہم مومن ہیں ۔ اور دیکھئے ہم نے دوسرے قبائل کی طرح آپ کی مخالفت نہیں کی ۔ ہمارے ساتھ ہمارا اہل و عیال بھی ہے ۔ غرض یہ تھی ۔ کہ آپ ہمارے ممنون ہوکر ہماری مدد کریں ۔ اور قحط سالی میں ہماری حوصلہ افزائی فرمائیں ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ ایمان کے مقام بلند پر فائز ہونا آسان نہیں ہے ۔ تم یہ کہو ۔ کہ ہم مسلمان ہیں اور سرسری طور پر ہم نے حقائق کو قبول کرلیا ہے ۔ ابھی ایمان کی حلاوت تمہارے دلوں میں پیدا نہیں ہوئی ۔ مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ مضبوط عقیدت رکھتے ہیں ۔ اور ان کے دلوں میں…
Read the full tafseer →(15) کامل ایمان والے تو بس وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے کبھی شک و شبہ نہیں کیا ۔ یعنی ہمیشہ ایمان پر قائم رہے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مشقتیں برداشت کیں اور جہاد کیا یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔ یعنی تم تو کاذب ہوکر جھوٹ بولے ایمان کا اور ایمان تھا نہیں سچے اور پورے ایماندار تو وہ لوگ ہیں جو تصدیق قلبی کے ساتھ ایمان لائیں اور زبان سے اقرار کریں اور جہاد میں اپنی جان اور مال لڑادیں تو یہ لوگ سچے اور کامل ایمان والے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ اعمال میں کچھ کوتاہی بھی ہو مگر تصدیق قلبی تو ہو جب بھی تم کو صادق کہا جاسکتا تھا لیکن یہاں تو صدق ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 3۔ یہاں اسلام سے مراد اسلام لغوی ہے شرعی نہیں، پس اس آیت سے ایمان و اسلام کے تغایر پر استدلال کرنا غیر صحیح ہے۔
Read the full tafseer →ایمان والے وہ لوگ ہیں جو ایمان لانے کے بعد پھر شک و شبہ میں کبھی گرفتار نہیں ہوئے
15 ۔ ہر وہ شخص ، ہر وہ گروہ ، ہر وہ جماعت اور ہر وہ جماعت اور ہر وہ پارٹی جو اپنا اندراج اسلام کے نام کے ساتھ کرتی ہے اور پھر آبائو اجداد سے کرتی ہی چلی آرہی ہے اور زبانی اقرار کے سوا اور کچھ نہیں کرتی اس کی ظاہری حالت ، اس کے سارے اعمال وہی ہیں جو دوسرے گروہ ، دوسری جماعتیں ، دوسرے افراد اور دوسری پارٹیاں کررہی ہیں جو اسلام کے نام سے موسوم نہیں کی جاتیں تو ان کے ایمان کی تصدیق جب ان کے اعمال نے نہ کی تو ان کا ایمان کیا ہوا ؟ ایمان والے تو وہ لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں اللہ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
Sequence of Verses in the Surah
In the preceding verses of the Surah it was stated that the basis of honour in the sight of Allah is righteousness which is an inner quality, and Allah alone knows it. It is improper for any man to claim self-sanctification. In the current set of verses, it is stated, on account of a particular incident, that the real basis of faith is the inner acceptance of the heart. Mere lip-service to faith does not count the person as a faithful believer. In the entire Surah, first the rights of the Prophet were set out and then the rules of how to respect and honour him.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
30 This does not imply alI the desert Arabs but only a few particular groups of the Bedouins who had become Muslims, seeing the increasing power of Islam, thinking that they would not only remain safe from any attack by the Muslims but would also gain materially from the Islamic conquests. These people had not embraced Islam sincerely but had professed faith only verbally in order to be counted among the Muslims, and their this inner state became exposed whenever they would come before the Holy Prophet with different sorts of demands and would enumerate and mention their rights as if they had…
Read the full tafseer →