Al-Hujuraat 49:16

Al-Hujuraat · from ayah 16

49:16

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ ؕ— وَاللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ؕ— وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ۟قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰهَ بِدِيۡـنِكُمۡ ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ

ان سے کہو کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو۔ اور خدا تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے۔ اور خدا ہر شے کو جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Would you acquaint Allah with your religion while Allah knows whatever is in the heavens and whatever is on the earth, and Allah is Knowing of all things?"

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hujuraat

All translations of 49:16

اے نبیؐ، اِن (مدعیان ایمان) سے کہو، کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو؟ حالانکہ اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر شے کا علم رکھتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان سے کہو کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو۔ اور خدا تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے۔ اور خدا ہر شے کو جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے! کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دینداری سے آگاه کر رہے ہو، اللہ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاه ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر ! ان دیہاتیوں سے) کہو کہ : کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو ؟ حالانکہ اللہ ان تمام چیزوں کو خوب جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اور اللہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ کیا تم اللہ کو اپنا دین بتاتے ہو، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: کیا تم اﷲ کو اپنی دین داری جتلا رہے ہو، حالانکہ اﷲ اُن (تمام) چیزوں کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اور اﷲ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے کیا تم اللہ کو اپنے دین سے آگاہ کر رہے ہو، حالانکہ اللہ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان (بدویوں) سے کہئے : کیا تم اللہ کو اپنی دینداری جتلاتے ہو حالانکہ اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ، کیا تم اپنے دین سے اللہ کو آگاہ کر رہ ہو ! درآنحالیکہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے باخبر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو (اے پیغمبر !) کہ کیا تم اللہ کو آگاہ کر رہے ہو اپنے دین کے بارے میں ؟ حالانکہ اللہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو اپنے دین کی خبر دے رہے ہو ؟۔ درآنحالیکہ اللہ کو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کی (پوری) خبر ہے اور اللہ (اور بھی) ہر شے کا علم رکھتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) ان سے کہیے : کیا تم اللہ کو جتلانا چاہتے ہو اپنادین ؟ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ } اللہ تو ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمادیں کیا تم اللہ کو اپنی دینداری کی اطلاع دے رہے ہو۔ اور اللہ تو آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں سے واقف ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say, (O Prophet), (to these pretenders to faith): “Are you apprising Allah of your faith? Allah knows all that is in the heavens and the earth. Allah has full knowledge of everything.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Would you apprise Allah of your religion, while Allah knows all that is in the heavens and all that is in the earth, and Allah is All-Knowing about every thing?

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Would you apprise Allah of your religion, while Allah knows all that is in the heavens and all that is in the earth, and Allah is All-Knowing about every thing?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Will you inform Allah of your religion while Allah knows all that is in the heavens and all that is on the earth, and Allah is All-Aware of everything."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (unto them, O Muhammad): Would ye teach Allah your religion, when Allah knoweth all that is in the heavens and all that is in the earth, and Allah is Aware of all things?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Would you acquaint Allah with your religion while Allah knows whatever is in the heavens and whatever is on the earth, and Allah is Knowing of all things?"

— Saheeh International

(Muhammad), say, "Do you teach God about your religion? God knows whatever is in the heavens and the earth. He has the knowledge of all things".

— Muhammad Sarwar

Say: Do you apprise Allah of your religion, and Allah knows what is in the heavens and what is in the earth; and Allah is Cognizant of all things.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: Would ye appraise Allah of your religion, whereas Allah knoweth whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth, and Allah is of everything Aware!

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "What! Will ye instruct Allah about your religion? But Allah knows all that is in the heavens and on earth: He has full knowledge of all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 49:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–18

ایمان کا دعویٰ کرنے والے اپنا جائزہ تو لیں کچھ اعرابی لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہی اپنے ایمان کا بڑھا چڑھا کر دعویٰ کرنے لگتے تھے حالانکہ دراصل ان کے دل میں اب تک ایمان کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئی تھیں ان کو اللہ تعالیٰ اس دعوے سے روکتا ہے یہ کہتے تھے ہم ایمان لائے۔ اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ ان کو کہئے اب تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا تم یوں نہ کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے یعنی اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے نبی کی اطاعت میں آئے ہیں اس آیت نے یہ فائدہ دیا کہ ایمان اسلام سے مخصوص چیز ہے جیسے کہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے جبرائیل ؑ والی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–18

سورة الْحُجُرٰت 30 اس سے مراد تمام بدوی نہیں ہیں بلکہ یہاں ذکر چند خاص بدوی گروہوں کا ہو رہا ہے جو اسلام میں بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر محض اس خیال سے مسلمان ہوگئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی ضرب سے محفوظ بھی رہیں گے اور اسلامی فتوحات کے قواعد سے متمتع بھی ہوں گے۔ یہ لوگ حقیقت میں سچے دل سے ایمان نہیں لائے تھے، محض زبانی اقرار ایمان کر کے انہوں نے مصلحۃً اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کرا لیا تھا۔ اور ان کی اس باطنی حالت کا راز اس وقت فاش ہوجاتا تھا جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے، اور اپنا حق اس طرح جتاتے تھے کہ گویا انہوں نے اسلام قبول کر کے آپ پر بڑا احسان کیا ہے۔ روایات میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–18

خلاصہ تفسیر یہ (بعضے) گنوار (بنی اسد وغیرہ کے آپ کے پاس آ کر جو ایمان لانے کے مدعی ہوتے ہیں یہ اس میں کئی گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں ایک تو کذب کہ بلا تصدیق قلب محض زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، آپ فرما دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے (کیونکہ وہ موقوف ہے، تصدیق قلبی پر، اور وہ موجود نہیں جیسا عنقریب آتا ہے (آیت) ولما یدخل الایمان) لیکن (ہاں) یوں کہو کہ (ہم مخالفت چھوڑ کر) مطیع ہوگئے (اور اطاعت بمعنی ترک مخالفت محض ظاہری موافقت سے بھی متحقق ہوجاتی ہے) اور (باقی) ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا (اس لئے ایمان کا دعویٰ مت کرو) اور (گو اب تک تم ایمان نہیں لائے لیکن اب بھی) اگر تم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قل اتعلمون اللہ بدینکم واللہ یعلم ما فی السموت و ما فی الارض ط واللہ بکل شیء علیم 16 یعنی یہ لوگ بڑے سرپرستانہ انداز میں کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں تو ان سے پوچھو کہ کیا تم لوگ اللہ کو اپنے دین سے آگاہ کر رہے ہوا اگر یہ لوگ اللہ کو آگاہ کر ہے ہیں تو ان کو بتا دو کہ اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور اللہ ہر بات سے باخبر ہے۔ وہ فعلاً بھی ہر چیز کو جانتا ہے اور صفتاً بھی ہر بات سے باخبر ہے۔ کوئی چیز بھی اس سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کو اپنے ایمان پر ناز ہے تو اس پر وہ کسی ایسے کے سامنے ناز کریں جو ان کے دین و ایمان سے بیخبر ہو۔ اس کے سامنے ناز کرنے سے کیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 تعلیم، یہاں علم اور اخبار کے معنی میں ہے یعنی آمَنَّا کہہ کر تم اللہ کو اپنے دین و ایمان سے آگاہ کر رہے ہو ؟ یا اپنے دلوں کی کیفیت اللہ کو بتلا رہے ہو ۔ 16۔ 2 تو کیا تمہارے دلوں کی کیفیت پر یا تمہارے ایمان کی حقیقت سے وہ آگاہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–18

10: دیہات کے کچھ لوگ دل سے ایمان لائے بغیر ظاہری طور پر کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کررہے تھے، جس کا مقصد مسلمانوں جیسے حقوق حاصل کرنا تھا، مدینہ منورہ میں آکر انہوں نے راستوں پر گندگی بھی پھیلائی تھی، ان آیات میں ان کی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے، اور یہ واضح کردیا گیا ہے کہ سچا مسلمان ہونے کے لئے صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں ہے، بلکہ دل سے اسلامی عقائد کو ماننا اور اپنے آپ کو اسلامی احکام کا پابند سمجھنا ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد یہی بیان جاری رکھتے ہوئے ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ تو تمہارے دلوں اور نیتوں سے بھی واقف ہے ۔ یہ تو اللہ ہی ہے جو تمہیں تمہارے دلوں کی باتیں بناتا ہے اور اللہ تم سے علم حاصل نہیں کرتا۔ قل اتعلمون اللہ ۔۔۔۔۔۔ بکل شییء علیم (49 : 16) “ اے نبی ان سے کہو کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو ؟ حالانکہ اللہ زمین اور آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے ”۔ انسان اپنے علم کے بارے میں لمبے چوڑے دعوے کرتا ہے حالانکہ وہ خود اپنے نفس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ۔ وہ اپنے آپ کی شعوری دنیا کے بارے میں بھی پوری معلومات نہیں رکھتا۔ اور نہ اسے اپنے نفس کی پوری حقیقت معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی اگر واقعی سچا دین اور پورا یقین تم کو حاصل ہے تو کہے سے کیا ہوگا جس سے معاملہ ہے وہ آپ خبردار ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 { قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰہَ بِدِیْنِکُمْ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہیے : کیا تم اللہ کو جتلانا چاہتے ہو اپنادین ؟“ مثل مشہور ہے ”تھو تھا چنا باجے گھنا“۔ یعنی جو برتن خالی ہوگا وہ کھنکھنانے پر بھرے ہوئے برتن کی نسبت زیادہ آواز دے گا۔ ان لوگوں کے دل چونکہ حقیقی ایمان سے خالی تھے اس لیے وہ اپنے ایمان کا بڑھ چڑھ کر پرچار کرتے تھے اور حضور ﷺ پر احسان دھرتے تھے کہ دیکھیں ! ہم تو لڑے بھڑے بغیر اسلام لے آئے ہیں ‘ اس لیے اب ہمارے حقوق بھی زیادہ ہونے چاہئیں۔ { وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } ”اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔“ { وَاللّٰہُ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 ان لوگوں نے رسول اللہ کے پاس آکر کہا یہ تھا کہ ہم اسلام لے آئے اور ان کا یہ اسلام لانا چڑھتے سورج کو سلام کرنے کے مترادف تھا۔ وہ اسلام لاکر اپنے جان و مال کی حفاظت اور اموال غنائم سے اپنا حصہ طلب کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ جیسا تم اسلام لا رہے ہو۔ اللہ کو اس کا ٹھیک پتا ہے اور جن اغراض کے تحت لا رہے ہو وہ بھی معلوم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ (درآنحالیکہ اس کو خبر نہیں) خطاب جھوٹے مدعیان دین ومنافقین اعراب سے ہے کہ اللہ کو تو تمہارے دین کی خبر ہے نہیں اور تم اسے خبر دینا چاہتے ہو، ، مطلب صاف ظاہر ہے کہ تم ایسی جھوٹی اور بےاصل بات زبان سے نکال رہے ہو۔ 31۔ (تو ایسے کامل وجامع علم رکھنے والے کو بھلا کوئی کیا بتلائے گا) مشرک جاہلی قوموں کو ٹھوکر اللہ کے صفت علم ہی میں کثرت سے لگی ہے۔ قرآن اسی لئے بار بار اس کو توضیح کرتا جاتا ہے۔ (آیت) ” واللہ .... الارض “۔ یعنی کوئی بھی شے اللہ کے احاطہ علم سے باہر نہیں۔ (آیت) ” واللہ .... علیم “ َ یعنی جو بھی چیز ہے، اللہ کے احاطہ علم کے اندر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–18

قالت الاعراب امنا سابقہ آیت میں بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت و شرافت کا معیار تقویٰ ہے جو ایک باطنی چیز ہے اللہ تعالیٰ ہی اس کو جانتے ہیں کسی شخص کے لئے تقدس کا دعویٰ جائز نہیں، مذکورہ الصدر آیات میں ایک خاص واقعہ کی بناء پر بتلایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل مدار قلبی تصدیق پر ہے اس کے بغیر محض زبان سے خود کو مومن کہنا صحیح نہیں ہے۔ شان نزول : امام بغوی رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے نزول کا سبب ایک روایت کے مطابق بیان کیا ہے کہ قبیلہ بنی اسد کے چند آدمی مدینہ طیبہ میں قحط شدید کے زمانہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ لوگ دل سے تو مومن تھے نہیں محض صدقات لینے کے لئے اپنے ایمان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

. آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ کیا تم اپنے ایمان کی خدا تعالیٰ کو خبر دیتے ہو ‘ حالانکہ اللہ کو سب آسمانوں کی اور زمین کی ساری چیزوں کی خبر ہے اور اللہ سب چیزوں کو جانتا ہے۔ اَتُعَلِّمُوْنَ اللہ : یعنی اٰمَنَّا کہہ کر اپنے جس دین کا تم نے اظہار کیا ہے۔ کیا وہ دین تم مجھے بتا رہے ہو حالانکہ اللہ کو زمین و آسمان کی ساری چیزوں کا علم ہے۔ وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ وہ تمہاری چھپی ہوئی حقیقت کلام کو جانتا ہے اس کو تمہارے اظہار کی ضرورت نہیں تم اپنی اندرونی حالت کو درست کرلو۔ طبرانی نے عمدہ سند سے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی کی روایت سے اور بزار نے بطریق سعید بن جبیر حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن ابی حاتم نے حسن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آپ بنی اسد سے یہ بھی فرما دیجیے کہ کیا اللہ تعالیٰ کو اپنے دین قبول کرنے کی خبر دیتے ہو کہ تم اس میں سچے ہو یا جھوٹے، حالانکہ اللہ تعالیٰ تم کو تمام آسمانوں اور زمین والوں کے دلوں کی خبر ہے اور اس کے علاوہ اور بھی ان کی تمام پوشیدہ چیزوں سے واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قل اتعلمون اللہ بدینکم…:”تعلمون“ ”علم یعلم تعلیماً“ (تفعیل) کا معنی سکھانا پڑھانا ہے۔ تعلیم کسی کو کوئی بات بتانے کا سب سے مضبوط اور پختہ طریقہ ہوتا ہے۔ چونکہ وہ بار بار اپنے ایمان کا اور دین دار ہونے کا دعویٰ کرتے تھے ، ان کے بار بار دعوے کو اللہ تعالیٰ نے سکھانا پڑھانا قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو سکھانے چلے ہو کہ تم پکے مومن اور دین دار ہو اور یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ اسے تمہارے دل کا حال معلوم نہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ تو آسمانوں کی ہر چیز کو اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور اللہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ اس آیت میں قابل توجہ بات لفظ ”اللہ“ کا بار بار ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–16

یعنی انہوں نے تصدیق کی اور انہوں نے شک نہ کیا اور اسے جہاد اور اعمال صالحہ کے ساتھ سچ کر دکھایا۔ وہ ایمان میں سچے ہیں وہ وہ نہیں جو قتل کے ڈر اور مال کی امید کی وجہ سے مسلمان ہوئے جب یہ آیت نازل ہوئی تو بدوئوں نے قسم اٹھائی کہ وہ مخفی اور اعلانیہ ایماندار ہیں اور جھوٹ بولا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی جس دین پر تم ہو تم اللہ تعالیٰ کو اس کے بارے میں بتاتے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اسے جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–16

1:۔ احمد والحکیم الترمذی نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مؤمن دنیا میں تین قسم پر ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر پھر کبھی شرک نہیں کیا اور جہاد کیا اللہ کے راستے میں اپنی جانوں اور اپنے مالوں کے ساتھ۔ دوسرے وہ لوگ جنہوں نے آپ کو اپنے مالوں اور اپنی جانوں پر امین بنایا۔ تیسرے وہ لوگ جن کو لالچ اور طمع پیش آیا مگر انہوں نے اس کو اللہ کی رضا کے لئے چھوڑدیا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہیے ] اَتُعَلِّمُوْنَ [ کیا تم لوگ علم دیتے ہو ] اللّٰهَ [ اللہ کو ] بِدِيْنِكُمْ ۭ [ اپنے دین کے بارے میں ] وَاللّٰهُ يَعْلَمُ [ حالانکہ اللہ جانتا ہے ] مَا فِي السَّمٰوٰتِ [ اس کو جو آسمانوں میں ہے ] وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ [ اور اس کو زمین میں ہے ] وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ [ اور اللہ ہر چیز کو ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–16

اس کے بعد فرمایا ﴿ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ﴾ (الآیۃ) اس آیت میں یہ بتایا کہ واقعی اور سچے مومن وہی ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے یعنی انہوں نے سچے دل سے تصدیق کی ﴿ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا ﴾ پھر انہوں نے شک نہیں کیا ﴿ وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ 1ؕ﴾ (اور انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کیا) اس میں کافروں سے اور اپنے نفس سے جہاد کرنا اور اپنے کو غیر شرعی کاموں سے اور اپنے خاندان اور دیگر افراد کو شریعت اسلامیہ پر چلانے کے سلسلہ میں محنت اور کوشش کرنا سب داخل ہے اپنے نفس کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–18

مدار فضیلت و کرامت ایمان وتقوی نہ کہ نسبت خاندان وقبائل : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر وانثنی ...... الی ..... واللہ بصیر بما تعملون “۔ (ربط) اس سے قبل آیات میں ایسی خصلتوں اور برائیوں سے اجتناب کی تعلیم تھی جو انسانی زندگی کو ذلت و پستی میں ڈالنے والی ہیں اور انسانی معاشرے میں اس قسم کے عیب نہایت ہی بدترین عیب اور تباہ کردینے والی بیماریاں ہیں تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل وہ اوصاف بیان کیئے جارہے ہیں جو انسانی کرامت اور شرف کا باعث ہیں اور اسکو عزت وسربلندی کے مقام پر پہونچا دینے کا باعث ہیں۔ اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15:۔ ” قل اتعلمون۔ الایۃ “ زجر برائے اعراب۔ آپ ان سے فرما دیں کیا تم ” امنا “ (ہم ایمان لے آئے ہیں) کہہ کر خدا کو بتانا چاہتے ہو کہ تم ایمان لا چکے ہو ؟ تا کیا اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے اور جسے ہر بات معلوم ہے، وہ تمہارے دلوں کے پوشیدہ نفاق کو نہیں جانتا ؟ وہ خوب جانتا ہے کہ تمہارا یہ دعوائے ایمان محض زبانی ہے اور تمہارے دلوں میں ابھی تک ایمان نہیں اترا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–18

ربط آیات اب تک اس سورة مبارکہ میں وہ بارہ بڑے بڑے اصول و ضوابط بیان ہوچکے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی حالات درست رہ سکتے ہیں اور مسلم معاشرہ امن وامان کا گہوارہ بن سکتا ہے اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا شکوہ کیا ہے جو ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر ان میں ایمان پورے طریقے سے راسخ نہیں ہوا ۔ بعض ایسے لوگوں کا بھی شکوہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اسلام لانے کا احسان جتلاتے ہیں ۔ اللہ نے ان کو بھی جواب دیا ہے کہ اسلام لا کر تم نے اللہ کے نبی پر احسان نہیں کیا بلکہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس نے ایمان کی طرف تمہاری رہنمائی فرمائی ہے۔ ایمان کا دعویٰ ارشاد ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللہَ بِدِيْنِكُمْ۝ 0 ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۝ 0 ۭ وَاللہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۝ 16 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–18

ترکیب : الشعوب جمع شعب بفتح الشین ھواعلی طبقات النسب وتحتہ قبائل جمع قبیلۃ وبعدھا العمائر ثم البطون ثم الافخاذثم الفصائل خزیمہ شعب کنانۃ قبیلہ قریش عمارۃ بکسرالعین قصی بطن ہاشم فخذالعباس فصیلۃ۔ تفسیر … بارہواں حکم : جس کو اور دوسرے پیرایہ میں بیان فرماتا ہے یا ایہا الناس اناخلقناکم من ذکر وانثٰی کہ اے لوگو ہم نے تم سب کو ایک مرد یعنی آدم اور ایک عورت یعنی حوا سے پیدا کیا ہے تم سب کی ایک ذات اور ایک نسب ہے وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا پھر تمہارے قبیلے اور جتھے جدے جدے کردیے پہچان کے لیے نہ نسب پر فخر کرنے کے لیے کیونکہ نسب تو سب کا ایک ہے۔ اب یہ فخر کی چیز نہیں بلکہ پرہیزگاری کس لیے کہ ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰہَ بِدِیْنِکُمْ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فی الْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (الحجرات : 16) (اے پیغمبر ! کہہ دیجیے، کیا تم اللہ کو اپنے دین سے آگاہ کررہے ہو حالانکہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ ) اعراب کے طرزعمل پر گرفت چونکہ ان لوگوں کا طریقہ جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں یہ تھا کہ وہ جب آنحضرت ﷺ کے پاس آتے تو بار بار اپنے ایمان کا اظہار اس طرح کرتے گویا کہ انھوں نے ایمان لاکر کوئی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول پر کوئی احسان کیا ہے۔ اس کے جواب میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : رسول محترم ﷺ پر جو لوگ اپنے اسلام کا احسان جتلاتے تھے انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کریں۔ جو لگ اپنے ایمان لانے کا نبی ﷺ اور مسلمانوں پر احسان سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے یہ فرمان جاری کیا کہ اے رسول ﷺ ! ان لوگوں سے بتلا دیں کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنا دین بتلاتے اور جتلاتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دلوں کا حال جانتا ہے کیونکہ زمین و آسمانوں میں جو چیز موجود ہے وہ اس کے علم میں ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ جو لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان جتلاتے ہیں انہیں کھلے الفاظ میں فرمائیں کہ مجھ پر اپنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 16 : قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰہَ بِدِیْنِکُمْ (کہہ دیجئے کہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کی خبر دیتے ہو) کیا تم اس کو اطلاع دیتے ہو کہ تمہارے دل تصدیق کرنے والے ہیں۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ (اللہ تعالیٰ کو تو سب آسمان اور سب زمین کی چیزوں کی خبر ہے اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں کو جانتا ہے) نفاق و اخلاص وغیرہ جو کچھ بھی تمہارے دلوں میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔” انما المومنون الذین امنوا باللہ ورسولہ ثم لم یرتابوا “ اپنے دین میں شک نہیں کیا۔ ” وجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ اولئک ھم الصادقون “ اپنے ایمان میں۔ پس جب یہ دو آیتیں نازل ہوئیں تو بدو لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اللہ کی قسمیں کھانے لگے کہ وہ سچے مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان سے اس کے علاوہ کو پہچان لیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

16۔ جب اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے پکے ایمان داروں کے اوصاف بیان فرمائے تو وہ دیہاتی لوگ یہ کہنے لگے کہ کسی آزمائش کے وقت معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں بھی یہ سب اوصاف موجود ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں ان لوگوں کی یہ باتیں فقط زبانی تھیں ان کے دلوں میں ان باتوں کا اثر بہت کم تھا اس لئے اس آیت میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ آسمان و زمین میں جتنی چیزیں ہیں ان میں سے کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے پھر تم لوگ جو اپنی دین داری کا حال اللہ کو جتلاتے ہو تو تمہاری زبانی باتوں کی اور دل کے بھید کی اس کو سب خبر ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 14–18

اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے اور اس کے باوجود انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ” ہم ایمان لائے “ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کردیں، چناچہ فرمایا : (قل لم تومنو) یعنی کہہ دیجئے : تم اپنے لئے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعویٰ نہ کرو (ولکن قولواسلمنا) ” لیکن کہو ہم اسلام لائے۔ “ یعنی ہم اسلام میں داخل ہوگئے اور اسی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–18

قبیلے ، برادریاں محض تعارف کے لئے ہیں قول باری ہے (انا خلقنا کم من ذکروانثیٰ وجعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ، ہم نے تم سب کو ایک مراد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنادیا ہے کہ ایک دوسرے کو پہچان سکو) مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ شعوب سے دور کی رشتہ داریاں مراد ہیں اور قبائل سے قریب کی رشتہ داریاں اس لئے کہا جاتا ہے ” بنو فلاں وفلاں “ (فلاں فلاں قبیلے) قول باری ہے (ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم۔ بیشک تم میں سے پرہیزگار تر اللہ کے نزدیک معزز تر ہے) اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ بیان کی تخلیق انسانیت کے ذکر سے ابتدا کی اور یہ بتایا کہ پوری انسانیت کی تخلیق ایک مرد اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 52] ایمان کے دعویداروں کے ضمیر پر ایک دستک کا ذکر وبیان : سو ایمان کے دعویداروں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کے لئے اور ان کے ضمیروں پر ایک دستک کے طور پر فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ کیا تم لوگ اللہ کو اپنے دین کی خبر دینے چلے ہو ؟ جو اس طرح اپنے ایمان کے بلند بانگ دعوے کرتے ہو، سو اگر ایسے ہے تو تم لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے، اور وہ ہر شئی سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے، کوئی بھی چیز اس سے ڈھکی چھپی نہیں، مطلب یہ کہ اگر تم لوگوں کو اپنے دین و ایمان پر ناز ہے تو تم کسی ایسے کے سامنے ناز کرو، جو تمہارے دین و ایمان کی حقیقت سے بیخبر ہو، اس ذات اقدس و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–18

اسلام بغیر یقین کچھ نہیں تشریح : یہ آیات دراصل ان چند دیہاتی لوگوں کے ذکر میں ہیں جو مدینہ کے اردگرد رہتے تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمان بڑی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں تو انہوں نے کچھ مالی امداد لینے اور کچھ اپنی حفاظت کی خاطراسلام قبول کرلیا۔ ان قبیلوں میں مزینہ، جہینہ، اسلم اور حزیمہ وغیرہ شامل ہیں۔ مگر یہ پکے مسلمان نہ تھے بس نام کے ہی مسلمان تھے۔ ان کا پول اس وقت کھلا جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور احسان جتانے لگے کہ ہم نے آپکی جماعت کو مضبوط کرنے کے لیے اسلام قبول کرلیا ہے۔ اور ہمیں مالی امداد چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ چلو تم مسلمان ہو ہی گئے ہو تو اللہ اور رسول ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–18

آیات 11 تا 18۔ اسرار ومعارف۔ اے ایمان والو ! ایسی صورتون سے بچوجولڑائی کا سبب بنتی ہیں جیسے کوئی گروہ کسی دوسری جماعت کا مذاق نہ اڑائے کہ کیا خبر اللہ کریم کے نزدیک وہ لوگ ان سے بہتر ہوں ایسے ہی مسلمان خواتین کو بھی بات کرنے میں احتیاط لازم ہے اور دوسری خواتین کے بارے تحقیر کا انداز اختیار نہ کرنا چاہیے کیا خبر اللہ کریم انہیں ان مذاق کرنے والوں سے زیادہ محبوب رکھتا ہو اور ایک دوسرے کی نکتہ چینیاں نہ کیا کرو یہی بات نفرت کا سبب بن کر ایک دوسرے سے دور کردیتی ہے نہ ہی ایک دوسرے کو ناپسندیدہ ناموں سے پکارو۔ یہ بات اس قدر اہم ہے کہ قرآن کریم نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ حکم دیا ہے کہ جبکہ آج کل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 15–17

ف 2 یعنی سچے مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان جتلائے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(49:16) قل : ای قل یا محمد ﷺ ۔ اتعلمون اللّٰہ : ہمزہ استفہام کے لئے۔ تعلمون مضارع جمع مذکر حاضر تعلیم (تفعیل) مصدر۔ کیا تم سکھاتے ہو۔ کیا تم خبر دیتے ہو۔ کیا تم آگاہ کرتے ہو۔ بدینکم : دینکم مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور ب حرف جار۔ اپنے دین کے متعلق۔ واللّٰہ یعلم ۔۔ علیم۔ دونوں جملے حالیہ ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–18

لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 18 : اسلمنا ( ہم نے ما ن لیا) لایلت (نہ گھٹائے گا) ‘ لم یرتابوا ( انہوں نے شک نہیں کیا) ‘ جاھدوا ( انہوں نے جہاد کیا) ‘ الصدقون) سچ بولنے والے) ‘ اتعلمون ( کیا تم جتاتے ہو۔ سکھاتے ہو) ‘ یمنون ( وہ احسان جتاتے ہیں) یمن (وہ احسان کرتا ہے) ‘ ان ھدا ( یہ کہ اس نے راستہ سمجھایا) ۔ تشریح : آیت نمبر 14 تا 18 : سورۃ الحجرات کی ان آخری آیات کے سلسلہ میں علماء مفسرین نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ ایک مرتبہ شدید قحط پڑگیا۔ اس دوران قبیلہ بنو اسد کے کچھ لوگوں نے مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بظاہر ایمان قبول کرلیا۔ کہتے ہیں کہ ایمان لانے کا سبب یہ تھا کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ظاہری ایمان لانے والوں کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول۔ جب اوپر کی آیت نازل ہوئی تو اعراب نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے قسمیں کھائیں کہ ہم مومن مخلص ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے محبوب ان لوگوں سے کہہ دو جو دنیاوی غرض سے ایمان لائے ہیں کہ کیا تم خدا کو دھوک کہ دینا چاہتے ہو اپنے مذہب کا حال خلاف واقع اس کو بتانا چاہتے ہو حالانکہ آسمان و زمین میں جتنی چیزیں ہیں ان میں سے کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے پھر تم لوگ جو اپنی دینداری کا حال اللہ کو جتلاتے ہو تو تمہاری زبانی باتوں کی اور دل کے بھید کی اس کو سب خبر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–18

[18] یعنی ان کا یہ کہنا کہ ہم ایمان لائے اس کا حوالہ یہاں محض ان کے اقرار ایمان کی حیثیت سے نہیں دیا گیا ہے بلکہ جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا یہ بات وہ بطور احسان کہتے تھے۔ [19] یعنی تمہارا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ تم ایمان لائے ہو۔ البتہ تم یہ دعویٰ کرسکتے ہو کہ تم نے اطاعت کرلی ہے۔ لفظ '' اسلام '' یہاں اپنے لغوی مفہوم یعنی ظاہری اطاعت کے معنی میں ہے۔ اسلام کا حقیقی مفہوم تو اپنے آپ کو کلی طور پر اپنے رب کے حوالے کردینے کا ہے لیکن یہ ظاہری اطاعت کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہاں اسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ [20] یعنی اپنے ایمان کی حکایت زیادہ نہ بڑھاؤ۔ اس نے تمہارے دل کے دروازے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–16

حقیقی حلاوت ایمانی 1: بنواسہ کے چند دیہاتی حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ کے پاس آئے ہیں ہم مومن ہیں ۔ اور دیکھئے ہم نے دوسرے قبائل کی طرح آپ کی مخالفت نہیں کی ۔ ہمارے ساتھ ہمارا اہل و عیال بھی ہے ۔ غرض یہ تھی ۔ کہ آپ ہمارے ممنون ہوکر ہماری مدد کریں ۔ اور قحط سالی میں ہماری حوصلہ افزائی فرمائیں ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ ایمان کے مقام بلند پر فائز ہونا آسان نہیں ہے ۔ تم یہ کہو ۔ کہ ہم مسلمان ہیں اور سرسری طور پر ہم نے حقائق کو قبول کرلیا ہے ۔ ابھی ایمان کی حلاوت تمہارے دلوں میں پیدا نہیں ہوئی ۔ مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ مضبوط عقیدت رکھتے ہیں ۔ اور ان کے دلوں میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) آپ ان دیہاتیوں سے کہہ دیجئے کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کی خبر دیتے ہو اور اپنی دینداری اس کو جتاتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ یعنی زمین و آسمان کی چیزوں کے علاوہ بھی ہر ایک چیز کو جانتا ہے سورة یونس میں بھی گزر چکا ہے۔ قل اتنبون اللہ بمالا یعلم۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اگر سچا دین تم کو ہے تو کہے سے کہا ہوگا جس سے معاملت ہے وہ آپ خبردار ہے۔ خلاصہ : یہ کہ جب وہ ہر شئی کو جانتا ہے اور ہر شئے کا جاننے والا ہے تو تمہارے ایمان کو بھی جانتا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ یعنی اللہ تعالیٰ تو جانتے ہیں کہ تم نے ایمان نہیں قبول کیا باوجود اس کے جو تم دعوے قبول کا کرتے ہو تو لازم آتا ہے کہ خلاف علم خداوندی خدا تعالیٰ کو ایک بات بتاتے ہو۔ 5۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کو جو تمہارے متعلق علم ہے کہ تم ایمان نہیں لائے وہی صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ آسمانوں ، زمین کی ہرچیز سے واقف ہے پھر تم اپنے دین سے آگاہ کرو گے تو اسے پتہ چلے گا ؟ 16 ۔ آیت 14 میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی جہالت کے باعث اپنے اسلام لانے کا احسان نبی اعظم و آخر ﷺ کو جتایا اور یہ کہہ کر کہ ہم نے اسلام قبول کیا اور ہم ایمان لائے اور ہم نے شروع ہی سے اسلام کی مخالفت نہیں کی اور ہمارے قبیلہ نے کیھے آپ ﷺ کی مخالفت نہیں کی اور اسی طرح کے احسانات جتانے کے بعد سوال پر سوال کرنے شروع کردیئے اور کما کر کھانا اور استعمال کرنا ختم کرکے اس طرح کے سوالوں پر زندگی بسر کرنا شروع کردی گزشتہ آیت 14 میں ان کو کہا گیا کہ تم نے ایمان لاکر نبی کریم ﷺ پر کوئی احسان نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–18

Sequence of Verses in the Surah In the preceding verses of the Surah it was stated that the basis of honour in the sight of Allah is righteousness which is an inner quality, and Allah alone knows it. It is improper for any man to claim self-sanctification. In the current set of verses, it is stated, on account of a particular incident, that the real basis of faith is the inner acceptance of the heart. Mere lip-service to faith does not count the person as a faithful believer. In the entire Surah, first the rights of the Prophet were set out and then the rules of how to respect and honour him.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–18

30 This does not imply alI the desert Arabs but only a few particular groups of the Bedouins who had become Muslims, seeing the increasing power of Islam, thinking that they would not only remain safe from any attack by the Muslims but would also gain materially from the Islamic conquests. These people had not embraced Islam sincerely but had professed faith only verbally in order to be counted among the Muslims, and their this inner state became exposed whenever they would come before the Holy Prophet with different sorts of demands and would enumerate and mention their rights as if they had…

Read the full tafseer →