Explained with ayahs 14–18
ایمان کا دعویٰ کرنے والے اپنا جائزہ تو لیں
کچھ اعرابی لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہی اپنے ایمان کا بڑھا چڑھا کر دعویٰ کرنے لگتے تھے حالانکہ دراصل ان کے دل میں اب تک ایمان کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئی تھیں ان کو اللہ تعالیٰ اس دعوے سے روکتا ہے یہ کہتے تھے ہم ایمان لائے۔ اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ ان کو کہئے اب تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا تم یوں نہ کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے یعنی اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے نبی کی اطاعت میں آئے ہیں اس آیت نے یہ فائدہ دیا کہ ایمان اسلام سے مخصوص چیز ہے جیسے کہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے جبرائیل ؑ والی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
سورة الْحُجُرٰت 30
اس سے مراد تمام بدوی نہیں ہیں بلکہ یہاں ذکر چند خاص بدوی گروہوں کا ہو رہا ہے جو اسلام میں بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر محض اس خیال سے مسلمان ہوگئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی ضرب سے محفوظ بھی رہیں گے اور اسلامی فتوحات کے قواعد سے متمتع بھی ہوں گے۔ یہ لوگ حقیقت میں سچے دل سے ایمان نہیں لائے تھے، محض زبانی اقرار ایمان کر کے انہوں نے مصلحۃً اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کرا لیا تھا۔ اور ان کی اس باطنی حالت کا راز اس وقت فاش ہوجاتا تھا جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے، اور اپنا حق اس طرح جتاتے تھے کہ گویا انہوں نے اسلام قبول کر کے آپ پر بڑا احسان کیا ہے۔ روایات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
خلاصہ تفسیر
یہ (بعضے) گنوار (بنی اسد وغیرہ کے آپ کے پاس آ کر جو ایمان لانے کے مدعی ہوتے ہیں یہ اس میں کئی گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں ایک تو کذب کہ بلا تصدیق قلب محض زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، آپ فرما دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے (کیونکہ وہ موقوف ہے، تصدیق قلبی پر، اور وہ موجود نہیں جیسا عنقریب آتا ہے (آیت) ولما یدخل الایمان) لیکن (ہاں) یوں کہو کہ (ہم مخالفت چھوڑ کر) مطیع ہوگئے (اور اطاعت بمعنی ترک مخالفت محض ظاہری موافقت سے بھی متحقق ہوجاتی ہے) اور (باقی) ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا (اس لئے ایمان کا دعویٰ مت کرو) اور (گو اب تک تم ایمان نہیں لائے لیکن اب بھی) اگر تم…
Read the full tafseer →یمنون علیک ان اسلموا قل لاتمنوا علی اسلامکم بل اللہ یمن علیکم ان ھدلکم للایمان ان کنتم صدقین 17
مدعیان احسان کو جواب
ان لوگوں کے دعوائے ایمان کی قلعی کھولنے کے بعد ان کے دعوائے اسلام کی حقیقت واضح فرمائی کہ یہ لوگ تمہارے اوپر (خطاب نبی ﷺ سے ہے) احسان جتاتے ہیں کہ وہ اسلام لائے۔ یعنی ان کا زعم یہ ہے کہ اسلام لا کر انہوں نے پیغمبر کی عزت بڑھائی اور اسلام کو قوت و شوکت بخشی اس وجہ سے وہ پیغمبر اور اسلام دونوں کے محسن ہیں اور پیغمبر کا فرض ہے کہ وہ ان کے اس احسان کا احترام کریں۔ فرمایا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم لوگ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ جتائو۔ اگر تم فی الواقع اپنے دعوے میں سچے ہو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17۔ 1 یہی اعراب نبی ﷺ کو کہتے کہ دیکھو ہم مسلمان ہوگئے اور آپ ﷺ کی مدد کی، جبکہ دوسرے عرب آپ ﷺ سے برسر پیکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرماتے ہوئے فرمایا، تم اللہ پر اسلام لانے کا احسان مت جتلاؤ اس لئے کہ اگر تم اخلاص سے مسلمان ہوئے ہو تو اس کا فائدہ تمہیں ہوگا، نہ کہ اللہ کو۔ اس لئے یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں قبول اسلام کی توفیق دی نہ کہ تمہارا احسان اللہ پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
10: دیہات کے کچھ لوگ دل سے ایمان لائے بغیر ظاہری طور پر کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کررہے تھے، جس کا مقصد مسلمانوں جیسے حقوق حاصل کرنا تھا، مدینہ منورہ میں آکر انہوں نے راستوں پر گندگی بھی پھیلائی تھی، ان آیات میں ان کی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے، اور یہ واضح کردیا گیا ہے کہ سچا مسلمان ہونے کے لئے صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں ہے، بلکہ دل سے اسلامی عقائد کو ماننا اور اپنے آپ کو اسلامی احکام کا پابند سمجھنا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →یمنون علیک ان ۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (49 : 17) “ یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ، ان سے کہو اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی اگر واقعی تم سچے ہو ”۔
انہوں نے یہ احسان جتلایا تھا کہ وہ اسلام لائے ہیں اور ان کا زعم یہ تھا کہ وہ مومن ہیں ، جواب یہ آیا کہ اپنے اسلام کا احسان نہ جتلاؤ ۔ اگر تم دعوائے اسلام و ایمان میں سچے ہو تو احسان اللہ کی جانب سے ہے۔
یہ جو اللہ نے ان کی تردید میں آیت نازل کی ہے یہ ایک عظیم حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ جس سے بڑے بڑے لوگ غافل ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اس پر قدرے غور کریں۔ بعض اہل ایمان…
Read the full tafseer →5 بعض گنوار آکر کہتے تھے کہ دیکھئے ہم تو بدون لڑے بھڑے مسلمان ہوگئے۔ گویا احسان جتلاتے تھے۔ اس کا جواب آگے دیتے ہیں۔
6 یعنی اگر واقعی تم دعوائے اسلام و ایمان میں سچے ہو تو یہ تمہارا احسان نہیں۔ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ایمان کی طرف آنے کا راستہ دیا اور دولت اسلام سے سرفراز کیا اگر سچی بات کہو تو واقعہ اس طرح ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " نیکی اپنے ہاتھ سے ہو، اپنی تعریف نہیں۔ رب کی تعریف ہے جس نے وہ نیکی کروائی۔ " گویا خاتمہ سورت پر متنبہ کردیا کہ اگر تم کو قرآنی آیات اور اسلامی تعلیمات پر کاربند ہونے کی توفیق ہو تو احسان نہ جتلاؤ بلکہ اللہ کے احسان و انعام کا شکر ادا کرو جس نے ایسی توفیق…
Read the full tafseer →آیت 17 { یَمُنُّوْنَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْا } ”اے نبی ﷺ ! یہ لوگ آپ پر احسان دھر رہے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے ہیں !“
{ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَکُمْ } ”ان سے کہیے کہ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ دھرو۔“
{ بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ہَدٰٹکُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”بلکہ اللہ تم پر احسان دھرتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کے راستے پر ڈال دیا ہے ‘ اگر تم سچے ہو۔“
اللہ تعالیٰ نے تمہیں توفیق دی کہ تم اسلام لے آئے۔ ابھی تم لوگ ایمان کے راستے پر آئے ہو۔ اگر تم اپنے اسلام کے دعوے میں سچے ہو گے ‘ نماز کی پابندی کرو گے ‘ رمضان کے روزے رکھو گے ‘ زکوٰۃ ادا کرو گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
27 بدوی قبائل کن اغراض کے تحت اسلام لائے تھے ؟ ایسے بدو دراصل صل اسلام لا کر احسان یہ جتلاتے تھے کہ ہم از خود ہی مطیع بن کر اور اسلام لاکر آپ کے پاس حاضر ہوگئے ہیں اور آپ کو ہمارے خلاف لشکر کشی نہیں کرنا پڑی۔ اور اس سے ان کا مقصود یہ تھا کہ اب ہماری طرف توجہ فرمائیے اور اموال غنائم میں سے ہمیں بھی کچھ مال دیجئے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کہا کہ انہیں کہہ دیجئے۔ کہ اگر اسلام لائے ہو تو اپنی ہی ذاتی اغراض کے لئے لائے ہو، ورنہ تمہارا بھی وہی حشر ہوتا جو دوسرے کافروں کا ہو رہا ہے۔ اس اسلام لانے کا مجھ پر کیا احسان دھرتے ہو ؟ بلکہ یہ تو اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں اسلام…
Read the full tafseer →32۔ (بےلڑے بھڑے بخلاف دوسرے قبائل کے) اشارہ انہیں قبائل بنی اسد وغیرہ کی جانب ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ انہیں نے آکر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کہا تھا کہ ہم خاص مراعات کے مستحق ہیں۔ دوسرے کتنے مقابلہ ومقاتلہ کے بعد کہیں ہتھیار رکھتے ہیں، اور ہم کو دیکھئے کہ ہم بغیر کسی جدوجہد کے آپ کی مخالفت سے باز آگئے۔
33۔ یعنی اگر تم واقعی مسلمان ہو بھی گئے ہو (جیسا کہ تمہارا دعوی ہے) تو یہ میرے اوپر احسان کیا ہوا، یہ تو اللہ کا احسان تمہارے اوپر ہوا کہ اس نے تمہیں دائمی نجات کی راہ دکھا دی، اور دنیا میں بھی تمہیں قتل، قید وغیرہ سے بچا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
قالت الاعراب امنا سابقہ آیت میں بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت و شرافت کا معیار تقویٰ ہے جو ایک باطنی چیز ہے اللہ تعالیٰ ہی اس کو جانتے ہیں کسی شخص کے لئے تقدس کا دعویٰ جائز نہیں، مذکورہ الصدر آیات میں ایک خاص واقعہ کی بناء پر بتلایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل مدار قلبی تصدیق پر ہے اس کے بغیر محض زبان سے خود کو مومن کہنا صحیح نہیں ہے۔
شان نزول :
امام بغوی رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے نزول کا سبب ایک روایت کے مطابق بیان کیا ہے کہ قبیلہ بنی اسد کے چند آدمی مدینہ طیبہ میں قحط شدید کے زمانہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ لوگ دل سے تو مومن تھے نہیں محض صدقات لینے کے لئے اپنے ایمان کا…
Read the full tafseer →یہ اپنے مسلمان ہونے کا آپ ﷺ پر احسان رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے اپنے اسلام لانے کا مجھ پر احسان نہ دھرو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی ہدایت دی ‘ بشرطیکہ تم سچے ہو۔
اَنْ ھَدَاکُمْ لِلْاِیْمَانِ : یعنی تمہارے دلوں میں اللہ نے ایمان پیدا کردیا ‘ یہ تم پر اللہ کا احسان ہے۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ : یعنی اگر تم ایمان کے دعوے میں سچے ہو اور تمہارے قول کے مطابق تمہارا ایمان اخلاص کے ساتھ ہے تو یہ تم پر اللہ کا احسان ہے۔ یہ جملہ شرطیہ اشارہ کر رہا ہے اس بات کی طرف کہ وہ سب کے سب اپنے ایمان کے دعوے میں سچے نہیں تھے۔
Read the full tafseer →یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں جس کا اظہار بایں الفاظ کرتے ہیں کہ ہمیں کھانے کو دیجیے اور ہمارا احترام کیجیئے کہ ہم اسلام لے آئے۔
آپ ان سے فرما دیجیے کہ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں تصدیق ایمان کی طرف بلایا بشرطیکہ تم اپنے اس دعوے ایمان میں سچے ہو۔
شان نزول : يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا (الخ)
امام طبرانی نے سند حسن کے ساتھ عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت کیا ہے کہ عرب کے کچھ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہم نے اسلام قبول کیا اور ہم نے آپ سے قتال نہیں کیا بنی فلاں نے آپ سے قتال کیا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ لوگ اپنے…
Read the full tafseer →(1) یمنون علیک ان اسلموا : اعراب یہ کہتے ہیں کہ ”امنا“ (ہم ایمان لے آئے) دراصل رسول اللہ ﷺ پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان جتلا رہے تھے۔ ان کے خیال میں یہ ان کا رسول اللہ ﷺ پر احسان تھا جس کا آپ ﷺ کو خیال رکھنا چاہیے تھا اور اس کے بدلے میں ان کے تقاضے اور فرمائشیں پوری کرنی چاہیے تھیں، جیسے چودھری اور سردار کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہو کر اس پر احسان رکھتے ہیں اور پارٹی کے سربراہ سے اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔
(2) قل لا تمنوا علی اسلامک : اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہہ دیجیے کہ اپنے اسلام کا مجھ پر احسان مت رکھو، کیونکہ کوئی مسلمان ہوتا ہے تو اس کا فائدہ اسی کو ہے، اگر نہیں ہوتا تو اس کا نقصان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
یہ ان کے اس قول کی طرف اشارہ ہے ہم آپ کی خدمت میں کل سازو سامان اور بال بچے لے کر آگئے ہیں محل نصب میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی یہاں علی باء کے معنی میں ہے محل نصب میں ہے تقدیر کلام بان ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے تقدیر کلام لان سے ہے حضرت عبداللہ کے مصحف میں کم ہے یعنی اگر تم اس امر میں سچے ہو کہ تم ایماندار ہو عاصم نے ان ہداکم پڑھا ہے یہ قول کی وجہ سے حقیقت سے بعید ہے یہ نہیں کہا جاتا ظاہر قرأت ہے یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ مومن تھے کیونکہ تقدیر کلام یہ ہے اگر تم ایمان لائے ہو تو یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔
ابن کثر، ابن محصین اور ابو عمرو نے یاء کے ساتھ خبر کے طور پر پڑھا ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
1:۔ ابن المنذر (رح) والطبرانی وابن مردویہ (رح) نے حسن سند کے ساتھ عبداللہ بن ابی اوفی (رح) سے روایت کیا کہ عرب میں سے کچھ لوگوں نے آکر کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم اسلام لے آئے اور ہم نے آپ سے کوئی قتال نہیں کیا جیسا کہ بنو فلاں نے آپ سے قتال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” اتاری یمنون علیک ان اسلموا “ (وہ لوگ احسان جتاتے ہیں آپ پر کہ وہ اسلام لے آئے ) ۔
2:۔ النسائی والبزار وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابنواسد رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا یارسول اللہ ﷺ ہم اسلام لے آئے عرب لوگوں نے آپ سے قتال کیا اور ہم نے آپ سے قتال نہیں کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
3:۔ سعید بن…
Read the full tafseer →يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ [ یہ لوگ احسان رکھتے ہیں آپ پر ] اَنْ اَسْلَمُوْا ۭ [کہ وہ لوگ فرمانبردار ہوئے ] قُلْ لَّا تَمُنُّوْا [آپ کہیے تم لوگ احسان مت رکھو ] عَلَيَّ [مجھ پر ] اِسْلَامَكُمْ ۚ [ اپنے فرمانبردار ہونے کا ] بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ [ بلکہ اللہ احسان رکھتا ہے ] عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ [ تم پر کہ اس نے ہدایت دی تم کو ] لِلْاِيْمَانِ [ ایمان لانے کی ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ہو ] صٰدِقِيْنَ [سچ کہنے والے ]
Read the full tafseer →معالم التنزیل اور روح المعانی میں لکھا ہے کہ جب آیت بالا نازل ہوئی تو وہ دیہاتی لوگ جنہوں نے اٰمَنَّا کہا تھا خدمت عالی میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ واقعی ہم سچے دل سے اسلام لائے ہیں اس پر آیت کریمہ ﴿يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ﴾ (الآیۃ) نازل ہوئی یعنی وہ آپ پر اس بات کا احسان دھرتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔
﴿قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ ﴾ آپ فرما دیجیے کہ مجھ پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان مت جتاؤ ﴿ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 0017﴾ (بلکہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
مدار فضیلت و کرامت ایمان وتقوی نہ کہ نسبت خاندان وقبائل :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر وانثنی ...... الی ..... واللہ بصیر بما تعملون “۔
(ربط) اس سے قبل آیات میں ایسی خصلتوں اور برائیوں سے اجتناب کی تعلیم تھی جو انسانی زندگی کو ذلت و پستی میں ڈالنے والی ہیں اور انسانی معاشرے میں اس قسم کے عیب نہایت ہی بدترین عیب اور تباہ کردینے والی بیماریاں ہیں تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل وہ اوصاف بیان کیئے جارہے ہیں جو انسانی کرامت اور شرف کا باعث ہیں اور اسکو عزت وسربلندی کے مقام پر پہونچا دینے کا باعث ہیں۔
اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو…
Read the full tafseer →16:۔ ” یمنون علیک۔ الایۃ “ یہ بھی زجر ہے۔ یہ اعرابی اپنے اسلام لانے سے آپ کو اپنا ممنون احسان بنانا چاہتے ہیں۔ آپ فرما دیں اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ رکھو، بلکہ اگر واقعی تم ادعائے ایمان میں سچے ہو، تو پھر تو اللہ تعالیٰ کا تم پر احسان ہے جس نے تمہیں ایمان لانے کی توفیق دی، اس لیے تم مجھ پر احسان رکھنے کے بجائے تمہیں اللہ کا شکر بجا لانا چاہئے جو تمہیں کفر سے نکال کر اسلام میں لے آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ربط آیات
اب تک اس سورة مبارکہ میں وہ بارہ بڑے بڑے اصول و ضوابط بیان ہوچکے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی حالات درست رہ سکتے ہیں اور مسلم معاشرہ امن وامان کا گہوارہ بن سکتا ہے اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا شکوہ کیا ہے جو ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر ان میں ایمان پورے طریقے سے راسخ نہیں ہوا ۔ بعض ایسے لوگوں کا بھی شکوہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اسلام لانے کا احسان جتلاتے ہیں ۔ اللہ نے ان کو بھی جواب دیا ہے کہ اسلام لا کر تم نے اللہ کے نبی پر احسان نہیں کیا بلکہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس نے ایمان کی طرف تمہاری رہنمائی فرمائی ہے۔
ایمان کا دعویٰ
ارشاد ہوتا ہے…
Read the full tafseer →يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا 0 ۭ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ 0 ۚ بَلِ اللہُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ ہَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 17
منن
والمِنَّةُ : النّعمة الثّقيلة، ويقال ذلک علی وجهين : أحدهما : أن يكون ذلک بالفعل، فيقال : منَّ فلان علی فلان : إذا أثقله بالنّعمة، وعلی ذلک قوله : لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 164]
والثاني : أن يكون ذلک بالقول،
وذلک مستقبح فيما بين الناس إلّا عند کفران النّعمة، ولقبح ذلک قيل : المِنَّةُ تهدم الصّنيعة «4» ، ولحسن ذكرها عند الکفران قيل : إذا کفرت النّعمة حسنت المنّة . وقوله : يَمُنُّونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ترکیب : الشعوب جمع شعب بفتح الشین ھواعلی طبقات النسب وتحتہ قبائل جمع قبیلۃ وبعدھا العمائر ثم البطون ثم الافخاذثم الفصائل خزیمہ شعب کنانۃ قبیلہ قریش عمارۃ بکسرالعین قصی بطن ہاشم فخذالعباس فصیلۃ۔
تفسیر … بارہواں حکم : جس کو اور دوسرے پیرایہ میں بیان فرماتا ہے یا ایہا الناس اناخلقناکم من ذکر وانثٰی کہ اے لوگو ہم نے تم سب کو ایک مرد یعنی آدم اور ایک عورت یعنی حوا سے پیدا کیا ہے تم سب کی ایک ذات اور ایک نسب ہے وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا پھر تمہارے قبیلے اور جتھے جدے جدے کردیے پہچان کے لیے نہ نسب پر فخر کرنے کے لیے کیونکہ نسب تو سب کا ایک ہے۔ اب یہ فخر کی چیز نہیں بلکہ پرہیزگاری کس لیے کہ ان…
Read the full tafseer →یَمُنُّوْنَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْا ط قُلْ لاَّتَمُنُّوْا عَلَّیَ اِسْلاَ مَکُمْ ج بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ھَدٰکُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الحجرات : 17)
(یہ لوگ آپ پر احسان رکھتے ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول کرلیا، آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی، اگر تم دعوئے ایمان میں سچے ہو۔ )
گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت
ان کے ایمان کی حقیقت کو افشا کرنے کے بعد اب ان کے دعوئے اسلام کی قلعی کھولی جارہی ہے۔ کیونکہ یہ لوگ بار بار اپنے اسلام لانے کا ذکر اس طرح کرتے تھے گویا کہ انھوں نے نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فہم القرآن
ربط کلام : رسول محترم ﷺ پر جو لوگ اپنے اسلام کا احسان جتلاتے تھے انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کریں۔
جو لگ اپنے ایمان لانے کا نبی ﷺ اور مسلمانوں پر احسان سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے یہ فرمان جاری کیا کہ اے رسول ﷺ ! ان لوگوں سے بتلا دیں کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنا دین بتلاتے اور جتلاتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دلوں کا حال جانتا ہے کیونکہ زمین و آسمانوں میں جو چیز موجود ہے وہ اس کے علم میں ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ جو لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان جتلاتے ہیں انہیں کھلے الفاظ میں فرمائیں کہ مجھ پر اپنے…
Read the full tafseer →ایمان اللہ کا احسان ہے نہ کہ لانے والے کا :
آیت 17 : یَمُنُّوْنَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْا (یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا احسان آپ پر رکھتے ہیں) اَن سے پہلے باء سببیہ محذوف ہے وہ اپنے اسلام کے سبب آپ پر احسان جتلاتے ہیں۔ المن : شکر کی تعریض کرتے ہوئے اور اس سے روکتے ہوئے احسانات کا تذکرہ کرنا۔ قُلْ لاَّ تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَکُمْ بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ (آپ کہہ دیجئے کہ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان مت رکھو ! بلکہ اللہ تعالیٰ تم پر احسان رکھتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کا تم پر احسان ہے۔ اَنْ ہَدٰکُمْ (کہ اس نے تم کو ہدایت دی) ان سے پہلے باء محذوف ہے۔ اس سبب سے کہ اس نے تم کو ہدایت دی یا…
Read the full tafseer →16 ۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” قل اتعلمون اللہ بدینکم “ تعلیم یہاں خبر دینے کے معنی میں ہے اس لئے ” بدینکم “ کہا اور باء اس پر داخل کی گئی ہے۔ فرماتے ہیں کیا تم اللہ کو اپنے اس دین کی خبر دیتے ہو جس پر تم ہو۔ ” واللہ یعلم مافی السموات ومافی الارض واللہ بکل شیء علیم “ یعنی تمہارے خبر دینے کا محتاج نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17۔ 18۔ ایۃ قالت الاعراب امنا۔ کی شان نزول میں قبیلہ بنی اسد کا ذکر جو گزرا یہ لوگ قحط کے زمانہ میں اپنے گاؤں سے گھبرا کر مدینہ آگئے اور اس لالچ سے دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے کہ غنیمت کے مال میں صدقہ خیرات کی چیزوں میں سے مدد ملتی رہے گی جس سے قحط کا زمانہ اچھی طرح کٹ جائے گا۔ اب اسلام لانے کے بعد یہ لوگ اپنے اسلام کا احسان جتلانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ یہ لوگ اپنے اسلام کا احسان کسی پر نہ رکھیں ان کے اسلام سے اور کسی کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا یہی لوگ اگر سچے دل سے اسلام پر قائم رہیں گے تو ان کا عقبیٰ کا بھلا ہوجائے گا اس لئے ان لوگوں کو اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے اور اس کے باوجود انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ” ہم ایمان لائے “ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کردیں، چناچہ فرمایا : (قل لم تومنو) یعنی کہہ دیجئے : تم اپنے لئے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعویٰ نہ کرو (ولکن قولواسلمنا) ” لیکن کہو ہم اسلام لائے۔ “ یعنی ہم اسلام میں داخل ہوگئے اور اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
قبیلے ، برادریاں محض تعارف کے لئے ہیں
قول باری ہے (انا خلقنا کم من ذکروانثیٰ وجعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ، ہم نے تم سب کو ایک مراد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنادیا ہے کہ ایک دوسرے کو پہچان سکو) مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ شعوب سے دور کی رشتہ داریاں مراد ہیں اور قبائل سے قریب کی رشتہ داریاں اس لئے کہا جاتا ہے ” بنو فلاں وفلاں “ (فلاں فلاں قبیلے)
قول باری ہے (ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم۔ بیشک تم میں سے پرہیزگار تر اللہ کے نزدیک معزز تر ہے) اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ بیان کی تخلیق انسانیت کے ذکر سے ابتدا کی اور یہ بتایا کہ پوری انسانیت کی تخلیق ایک مرد اور ایک…
Read the full tafseer →[ 54] بدویوں کے احسان جتلانے کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ آپ پر احسان رکھتے ہیں کہ یہ اسلام لائے۔ جس طرح کہ بنو اسد وغیرہ کے کچھ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے احسان جتلاتے ہوئے کہا تھا کہ ہم بغیر لڑے بھڑے آپ پر ایمان لے آئے جب کہ دوسروں نے آپ سے جنگ وجدال سے کام لیا، وغیرہ، سو یہیں سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ کسی کو اگر دین کی کوئی خدمت انجام دینے کی توفیق مل رہی ہے تو وہ کسی اور پر اس کا احسان جتلانے کی بجائے، اسے خود اپنے اوپر اللہ پاک کا احسان سمجھے کہ اسی کے فضل و کرم سے یہ سعادت نصیب ہوئی ہے، جو کہ دارین کی فوزوفلاح کا ذریعہ ہے، منت منہہ کی خدمت سلطان می کہ منت ازوشناس کہ بخدمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
اسلام بغیر یقین کچھ نہیں
تشریح : یہ آیات دراصل ان چند دیہاتی لوگوں کے ذکر میں ہیں جو مدینہ کے اردگرد رہتے تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمان بڑی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں تو انہوں نے کچھ مالی امداد لینے اور کچھ اپنی حفاظت کی خاطراسلام قبول کرلیا۔ ان قبیلوں میں مزینہ، جہینہ، اسلم اور حزیمہ وغیرہ شامل ہیں۔ مگر یہ پکے مسلمان نہ تھے بس نام کے ہی مسلمان تھے۔ ان کا پول اس وقت کھلا جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور احسان جتانے لگے کہ ہم نے آپکی جماعت کو مضبوط کرنے کے لیے اسلام قبول کرلیا ہے۔ اور ہمیں مالی امداد چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ چلو تم مسلمان ہو ہی گئے ہو تو اللہ اور رسول ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
آیات 11 تا 18۔
اسرار ومعارف۔
اے ایمان والو ! ایسی صورتون سے بچوجولڑائی کا سبب بنتی ہیں جیسے کوئی گروہ کسی دوسری جماعت کا مذاق نہ اڑائے کہ کیا خبر اللہ کریم کے نزدیک وہ لوگ ان سے بہتر ہوں ایسے ہی مسلمان خواتین کو بھی بات کرنے میں احتیاط لازم ہے اور دوسری خواتین کے بارے تحقیر کا انداز اختیار نہ کرنا چاہیے کیا خبر اللہ کریم انہیں ان مذاق کرنے والوں سے زیادہ محبوب رکھتا ہو اور ایک دوسرے کی نکتہ چینیاں نہ کیا کرو یہی بات نفرت کا سبب بن کر ایک دوسرے سے دور کردیتی ہے نہ ہی ایک دوسرے کو ناپسندیدہ ناموں سے پکارو۔ یہ بات اس قدر اہم ہے کہ قرآن کریم نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ حکم دیا ہے کہ جبکہ آج کل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ف 2 یعنی سچے مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان جتلائے
Read the full tafseer →(49:17) یمنون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ من باب نصر مصدر۔ وہ احسان جتلاتے ہیں ۔ وہ احسان رکھتے ہیں۔
ان اسلموا : ان مصدریہ ہے اسلموا ماضی جمع مذکر غائب کہ وہ الام لائے۔ کہ وہ مسلمان ہوئے۔
لاتمنوا۔ فعل نہی جمع مذکر غائب۔ من باب نصر مصدر۔ وہ احسان مت جتلاؤ ۔ تم احسان مت رکھو۔ لاتمنوا علی اسلامکم : ای لاتمنوا علی باسلامکم اپنے اسلام کا مجھ پر احسان مت جتلاؤ۔
بل۔ حرف اضراب ہے۔ یعنی تمہارا مجھ پر کوئی احسان نہیں بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی دولت بخشی، ہدایت بخشی۔ ان ھدکم للایمان : ان مصدریہ ہے ھدی ماضی واحد مذکر غائب ھدایۃ (باب ضرب) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ کہ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 18 :
اسلمنا ( ہم نے ما ن لیا) لایلت (نہ گھٹائے گا) ‘ لم یرتابوا ( انہوں نے شک نہیں کیا) ‘ جاھدوا ( انہوں نے جہاد کیا) ‘ الصدقون) سچ بولنے والے) ‘ اتعلمون ( کیا تم جتاتے ہو۔ سکھاتے ہو) ‘ یمنون ( وہ احسان جتاتے ہیں) یمن (وہ احسان کرتا ہے) ‘ ان ھدا ( یہ کہ اس نے راستہ سمجھایا) ۔
تشریح : آیت نمبر 14 تا 18 :
سورۃ الحجرات کی ان آخری آیات کے سلسلہ میں علماء مفسرین نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ ایک مرتبہ شدید قحط پڑگیا۔ اس دوران قبیلہ بنو اسد کے کچھ لوگوں نے مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بظاہر ایمان قبول کرلیا۔ کہتے ہیں کہ ایمان لانے کا سبب یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ایمان کی دولت اللہ کا احسان ہے۔
(ف 2) شان نزول۔ اے محبوب یہ لوگ تم پر اپنے اپنے اسلام لانے کو جتلاتے ہیں تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسلام لاؤ کہ جس میں سراسر تمہارا ہی نفع ہے جب تم ایمان کا دعوی کرتے ہو تو پھر احسان کیا جتلاتے ہو اگر تم سچے ہو کہ سچے مسلمان ہوتب تم پر خدا کا اھسان ہے کہ اس نے تم کو ہدایت کی ہے ایمان کی طرف آنے کا راستہ دیا، اور دولت اسلام سے سرفراز فرمایا۔ تم کو ممنون ہونا چاہیے شکر بجالانا چاہیے کہ خدا نے اپنی رحمت سے راہ ہدایت دکھائی نہ کہ الٹا اسلام لانے کا احسان جتلاؤ، مگر بات یہ ہے کہ تم ایمان والے نہیں فقط ظاہری مسلمان ہو، اس لیے احساتن جتلاتے ہو اوپری دل کا کوئی نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
[18] یعنی ان کا یہ کہنا کہ ہم ایمان لائے اس کا حوالہ یہاں محض ان کے اقرار ایمان کی حیثیت سے نہیں دیا گیا ہے بلکہ جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا یہ بات وہ بطور احسان کہتے تھے۔
[19] یعنی تمہارا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ تم ایمان لائے ہو۔ البتہ تم یہ دعویٰ کرسکتے ہو کہ تم نے اطاعت کرلی ہے۔ لفظ '' اسلام '' یہاں اپنے لغوی مفہوم یعنی ظاہری اطاعت کے معنی میں ہے۔ اسلام کا حقیقی مفہوم تو اپنے آپ کو کلی طور پر اپنے رب کے حوالے کردینے کا ہے لیکن یہ ظاہری اطاعت کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہاں اسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
[20] یعنی اپنے ایمان کی حکایت زیادہ نہ بڑھاؤ۔ اس نے تمہارے دل کے دروازے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 1: نبواسد کے گنواروں کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ تم یہ دیکھو ۔ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے مقام ایمانی سے آگاہ نہیں ہیں ۔ اور وہ یہ نہیں جانتے ہیں ۔ کہ تم نے اسلام قبول کرکے کس درجہ احسان کیا ہے ؟ خدا تو وہ ہے جس کے سامنے آسمانوں کے بعید اور زمینوں کے اسرار بھی پوشیدہ اور مستتر نہیں ۔ پھر یہ کیونکر ہوسکتا ہے ۔ کہ وہ تمہارے دل کی گہرائیوں کو نہ جانتا ہو ۔ اور تمہارے مذہبی اور دینی مرتبہ سے آشنا نہ ہو ۔
Read the full tafseer →(17) اے پیغمبر یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں آپ فرمادیجئے تم مجھ پر اپنے اسلام لانے اور مسلمان ہونے کا حسان نہ رکھو بلکہ اللہ تعالیٰ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے ایمان کی جانب تمہاری رہنمائی فرمائی بشرطیکہ تم ایمان کے دعوے میں سچے ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو نیکی اپنے ہاتھ سے ہوا اپنی تعریف نہیں رب کی تعریف ہے جس نے کروائی۔ یعنی اگر تمہارا یہ دعویٰ ایمان سچا بھی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ کا احسان مانو کہ اس نے تم کو ہدایت ایمان کی توفیق دی اور تمہاری رہنمائی فرمائی تم الٹا اپنا احسان جتاتے ہو۔ اور یہاں تو بات ہی دوسری ہے کہ دعوئے اسلام میں ہی سچے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 1۔ یہاں لفظ ایمان فرمانے سے شبہ نہ کیا جائے کہ اس کا ایمان ہونا تسلیم کرلیا گیا، بات یہ ہے کہ یہاں بطور فرض کے گفتگو ہے جس میں ان کی طرف سے حکایت کی گئی ہے جیسا ان کنتم صدقین میں قرینہ ہے، یعنی اگر بالفرض تمہارے دعوے کے موافق اس کو ایمان مان لیا جائے تو بھی خدا ہی کا احسان ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! یہ لوگ آپ ﷺ پر احسان رکھتے ہیں ان سے کہہ دو کہ مجھ پر احسان مت رکھو
17 ۔ گزشتہ آیت کے مضمون کی مزید وضاحت ، پہلے ان کے دعویٰ ایمان کی حقیقت کو واضح کیا تھا اور اب ان کے دعوہ اسلام کی وضاحت کرتے ہوئے اس سے پردہ ہٹایا جارہا ہے تاکہ وہ جو چھ ہیں سب کو صاف صاف معلوم ہوجائے فرمایا : اے پمبرر اسلام ! یہ لوگ اسلام لانے کا احسان آپ ﷺ پر رکھتے ہیں اور اس طرح کے اشارے اور کنایے استعمال کرتے ہیں کہ ہم نے اسلام قبول کرکے اسلام کو طاقت و قوت بخشی ہے ان لوگوں کے کان کھول دو اور ان کے چہروں سے کپڑا ہٹا دو اور ان پر اچھی طرح یہ بات واضح کردو کہ بھائیو ! تم نے اسلام کو قبول کرکے مجھ پر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
Sequence of Verses in the Surah
In the preceding verses of the Surah it was stated that the basis of honour in the sight of Allah is righteousness which is an inner quality, and Allah alone knows it. It is improper for any man to claim self-sanctification. In the current set of verses, it is stated, on account of a particular incident, that the real basis of faith is the inner acceptance of the heart. Mere lip-service to faith does not count the person as a faithful believer. In the entire Surah, first the rights of the Prophet were set out and then the rules of how to respect and honour him.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
30 This does not imply alI the desert Arabs but only a few particular groups of the Bedouins who had become Muslims, seeing the increasing power of Islam, thinking that they would not only remain safe from any attack by the Muslims but would also gain materially from the Islamic conquests. These people had not embraced Islam sincerely but had professed faith only verbally in order to be counted among the Muslims, and their this inner state became exposed whenever they would come before the Holy Prophet with different sorts of demands and would enumerate and mention their rights as if they had…
Read the full tafseer →