Al-Hujuraat 49:18

Al-Hujuraat · from ayah 18

49:18

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— وَاللّٰهُ بَصِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۟۠اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ

بےشک خدا آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے دیکھتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Allah knows the unseen [aspects] of the heavens and the earth. And Allah is Seeing of what you do.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 14 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Hujuraat

All translations of 49:18

اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب اس کی نگاہ میں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک خدا آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے دیکھتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقین مانو کہ آسمانوں اور زمین کی پوشیده باتیں اللہ خوب جانتا ہے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اسے اللہ خوب دیکھ رہا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

واقعہ یہ ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ بات کو خوب جانتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کے سب غیب، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اﷲ آسمانوں اور زمین کے سب غیب جانتا ہے، اور اﷲ جو عمل بھی تم کرتے ہو اسے خوب دیکھنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کو جانتا ہے اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ آسمانوں اور زمین کی سب پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ جانتا ہے آسمانوں او زمین کے سارے غیب کو اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کے غیب (اور ان کی چھپی باتوں) کو اور اللہ پوری طرح نگاہ میں رکھے ہوئے ہے ان تمام کاموں کو جو تم کرتے ہوف

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی مخفی باتوں کو جانتا ہے اور اللہ تمہارے اعمال کو بھی خوب دیکھ رہا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزیں۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے بھی دیکھ رہا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک اللہ زمین و آسمان کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب اسے دیکھتا ہے ”

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely Allah knows every hidden thing of the heavens and the earth. Allah sees all that you do.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely Allah knows the Unseen of the heavens and the earth, and Allah keeps in sight whatever you do.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely Allah knows the Unseen of the heavens and the earth, and Allah keeps in sight whatever you do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Verily, Allah knows the Unseen of the heavens and the earth. And Allah is the All-Seer of what you do."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Allah knoweth the Unseen of the heavens and the earth. And Allah is Seer of what ye do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, Allah knows the unseen [aspects] of the heavens and the earth. And Allah is Seeing of what you do.

— Saheeh International

God knows whatever is unseen in the heavens and in the earth. He is Well Aware of what you do".

— Muhammad Sarwar

Surely Allah knows the unseen things of the heavens and the earth; and Allah sees what you do.

— Muhammad Habib Shakir

Verily Allah knoweth the Unseen of the heavens and the earth; and Allah is the Beholder of that which ye work.

— Abdul Majid Daryabadi

"Verily Allah knows the secrets of the heavens and the earth: and Allah Sees well all that ye do."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 49:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–18

ایمان کا دعویٰ کرنے والے اپنا جائزہ تو لیں کچھ اعرابی لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہی اپنے ایمان کا بڑھا چڑھا کر دعویٰ کرنے لگتے تھے حالانکہ دراصل ان کے دل میں اب تک ایمان کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئی تھیں ان کو اللہ تعالیٰ اس دعوے سے روکتا ہے یہ کہتے تھے ہم ایمان لائے۔ اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ ان کو کہئے اب تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا تم یوں نہ کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے یعنی اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے نبی کی اطاعت میں آئے ہیں اس آیت نے یہ فائدہ دیا کہ ایمان اسلام سے مخصوص چیز ہے جیسے کہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے جبرائیل ؑ والی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–18

سورة الْحُجُرٰت 30 اس سے مراد تمام بدوی نہیں ہیں بلکہ یہاں ذکر چند خاص بدوی گروہوں کا ہو رہا ہے جو اسلام میں بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر محض اس خیال سے مسلمان ہوگئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی ضرب سے محفوظ بھی رہیں گے اور اسلامی فتوحات کے قواعد سے متمتع بھی ہوں گے۔ یہ لوگ حقیقت میں سچے دل سے ایمان نہیں لائے تھے، محض زبانی اقرار ایمان کر کے انہوں نے مصلحۃً اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کرا لیا تھا۔ اور ان کی اس باطنی حالت کا راز اس وقت فاش ہوجاتا تھا جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے، اور اپنا حق اس طرح جتاتے تھے کہ گویا انہوں نے اسلام قبول کر کے آپ پر بڑا احسان کیا ہے۔ روایات میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–18

خلاصہ تفسیر یہ (بعضے) گنوار (بنی اسد وغیرہ کے آپ کے پاس آ کر جو ایمان لانے کے مدعی ہوتے ہیں یہ اس میں کئی گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں ایک تو کذب کہ بلا تصدیق قلب محض زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، آپ فرما دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے (کیونکہ وہ موقوف ہے، تصدیق قلبی پر، اور وہ موجود نہیں جیسا عنقریب آتا ہے (آیت) ولما یدخل الایمان) لیکن (ہاں) یوں کہو کہ (ہم مخالفت چھوڑ کر) مطیع ہوگئے (اور اطاعت بمعنی ترک مخالفت محض ظاہری موافقت سے بھی متحقق ہوجاتی ہے) اور (باقی) ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا (اس لئے ایمان کا دعویٰ مت کرو) اور (گو اب تک تم ایمان نہیں لائے لیکن اب بھی) اگر تم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان اللہ یعلم غیب السموت والارض ط واللہ بصیر بما تعملون 18 وہی آیت 16 والا مضمون ایک دوسرے اسلوب سے بیان فرمایا کہ اپنے ایمان و اسلام کو زیادہ بتانے اور جتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ آسمانوں اور زمین کے سارے بھیدوں کو خود جانتا ہے اور یہ یاد رکھو کہ اللہ تمہارے سارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اصل چیز دعویٰ نہیں بلکہ عمل ہے۔ اگر عمل کرو گے تو تمہارا دعویٰ بغیر اظہار و اعلان کے اللہ کے ہاں ثابت ہوجائے گا اور اگر عمل نہیں کرو گے تو زبان سے کتنا ہی دعویٰ کرو، یہ بالکل بےحقیقت و بےسود ہوگا۔ بتوفیق ایزدی ان سطور پر اس گروپ کی آخری سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد اللہ علی ذلک رحمن آباد 13…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–18

17۔ 1 یہی اعراب نبی ﷺ کو کہتے کہ دیکھو ہم مسلمان ہوگئے اور آپ ﷺ کی مدد کی، جبکہ دوسرے عرب آپ ﷺ سے برسر پیکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرماتے ہوئے فرمایا، تم اللہ پر اسلام لانے کا احسان مت جتلاؤ اس لئے کہ اگر تم اخلاص سے مسلمان ہوئے ہو تو اس کا فائدہ تمہیں ہوگا، نہ کہ اللہ کو۔ اس لئے یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں قبول اسلام کی توفیق دی نہ کہ تمہارا احسان اللہ پر ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–18

10: دیہات کے کچھ لوگ دل سے ایمان لائے بغیر ظاہری طور پر کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کررہے تھے، جس کا مقصد مسلمانوں جیسے حقوق حاصل کرنا تھا، مدینہ منورہ میں آکر انہوں نے راستوں پر گندگی بھی پھیلائی تھی، ان آیات میں ان کی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے، اور یہ واضح کردیا گیا ہے کہ سچا مسلمان ہونے کے لئے صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں ہے، بلکہ دل سے اسلامی عقائد کو ماننا اور اپنے آپ کو اسلامی احکام کا پابند سمجھنا ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان اللہ یعلم ۔۔۔۔۔ بما تعملون (49 : 18) “ اللہ زمین و آسمان کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو ، وہ اس کی نگاہ میں ہے ”۔ جو اللہ زمین و آسمانوں کے غیب سے واقف ہے ، جو ضمیروں کی بات جانتا ہے ، جو انسانی شعور سے بھی واقف ہے ، جو دیکھ رہا ہے کہ لوگ کرتے کیا ہیں۔ وہ صرف وہ باتیں ہی نہیں جانتا جو لوگوں کی زبان سے نکلتی ہیں بلکہ ان شعوری جذبات سے بھی واقف ہے جو دلوں میں جوش مارتے ہیں ، ان اعمال سے بھی واقف ہے جو ان دلی جذبات کے نیتجے میں عمل میں آتے ہیں۔ یہ ہے گیارہ آیات پر مشتمل یہ عظیم سورت ، یہ مومنین کے لئے نہایت ہی اہم نشانات راہ تجویز کرتی ہے اور نہایت ہی اعلیٰ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی دلوں کے بھید اور ظاہر کا عمل سب کو خدا جانتا ہے۔ اس کے سامنے باتیں نہ بناؤ

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18{ اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ } ”یقینا اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزیں۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے بھی دیکھ رہا ہے۔“ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ، ونفعنی وایّاکم بالات والذّکر الحکیم

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 17–18

27 بدوی قبائل کن اغراض کے تحت اسلام لائے تھے ؟ ایسے بدو دراصل صل اسلام لا کر احسان یہ جتلاتے تھے کہ ہم از خود ہی مطیع بن کر اور اسلام لاکر آپ کے پاس حاضر ہوگئے ہیں اور آپ کو ہمارے خلاف لشکر کشی نہیں کرنا پڑی۔ اور اس سے ان کا مقصود یہ تھا کہ اب ہماری طرف توجہ فرمائیے اور اموال غنائم میں سے ہمیں بھی کچھ مال دیجئے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کہا کہ انہیں کہہ دیجئے۔ کہ اگر اسلام لائے ہو تو اپنی ہی ذاتی اغراض کے لئے لائے ہو، ورنہ تمہارا بھی وہی حشر ہوتا جو دوسرے کافروں کا ہو رہا ہے۔ اس اسلام لانے کا مجھ پر کیا احسان دھرتے ہو ؟ بلکہ یہ تو اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں اسلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

34۔ (سو اس کے سامنے بھلا کوئی مکروفریب چل سکتا ہے ؟ ) بندہ کو حق تعالیٰ کے علم کے کامل و محیط کل ہونے کا جس درجہ میں استحضار رہے گا۔ اسی نسبت سے اس کا درجہ اخلاص بھی بڑھا ہوا رہے گا۔ (آیت) ” ان .... الارض “۔ موجودات عالم کی کوئی پوشیدہ سے بھی پوشیدہ چیز علم الہی سے پوشیدہ نہیں۔ (آیت) ” واللہ بصیر بما تعملون “۔ بندہ کا براہ راست تعلق تو اللہ کے اسی علم سے ہے جو وہ ان بندوں کے اعمال وجزئیات اعمال سے متعلق رکھتا ہے، اس لئے اس پہلو کی تصریح اور تاکید قرآن مجید میں بار بار آئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–18

قالت الاعراب امنا سابقہ آیت میں بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت و شرافت کا معیار تقویٰ ہے جو ایک باطنی چیز ہے اللہ تعالیٰ ہی اس کو جانتے ہیں کسی شخص کے لئے تقدس کا دعویٰ جائز نہیں، مذکورہ الصدر آیات میں ایک خاص واقعہ کی بناء پر بتلایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل مدار قلبی تصدیق پر ہے اس کے بغیر محض زبان سے خود کو مومن کہنا صحیح نہیں ہے۔ شان نزول : امام بغوی رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے نزول کا سبب ایک روایت کے مطابق بیان کیا ہے کہ قبیلہ بنی اسد کے چند آدمی مدینہ طیبہ میں قحط شدید کے زمانہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ لوگ دل سے تو مومن تھے نہیں محض صدقات لینے کے لئے اپنے ایمان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اللہ یعلم غیب السموات والارض واللہ بصیر بما تعلمون . بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی مخفی باتوں کو جانتا ہے اور تمہارے سب اعمال کو خوب دیکھتا ہے۔ ابن سعد نے بروایت محمد بن کعب قرظی اور سعید بن منصور نے بروایت سعید بن جبیر بیان کیا کہ 9 ھ میں قبیلہ بنی اسد کے دس آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ ان میں طلحہ ؓ بن خویلد بھی تھے۔ حضور ﷺ اس وقت صحابہ ؓ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ ان لوگوں نے آکر سلام کیا ‘ پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ وحدہٗ لا شریک لہٗ ہے اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ یا رسول اللہ ! ﷺ ہم خود…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

مگر تم جھوٹے ہو سچے نہیں اور اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی سب پوشیدہ چیز کو جانتا ہے۔ اور اے جماعت منافقین تمہارے نفاق سے بھی اور اگر تم توبہ نہ کرو تو تمہاری سزا سے بھی واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ان اللہ یعلم غیب السموت والارض…: اس سے پہلے یہ ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ تمام چیزیں جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ اس آیت میں اسی کی مزید تاکید فرمائی کہ یہ نہ سمجھنا کہ وہ آسمان و زمین کی انھی اشیاء کو جانتا ہے جو ظاہر ہیں، بلکہ وہ ان اشیاء کو بھی جانتا ہے جو نگاہوں سے غائب ہیں، خواہ پہلے گزر چکی ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گی اور تم جو کچھ کر رہے ہو یا آئندہ کرو گے اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھنے والا ہے۔ نظم الدرر میں ہے، قشیری نے کہا :”جو شخص یہاں ٹھہر کر تھوڑا سا غور و فکر کرے گا اس کا عیش مکدر ہوجائے گا، کیونکہ کسی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–18

یہ ان کے اس قول کی طرف اشارہ ہے ہم آپ کی خدمت میں کل سازو سامان اور بال بچے لے کر آگئے ہیں محل نصب میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی یہاں علی باء کے معنی میں ہے محل نصب میں ہے تقدیر کلام بان ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے تقدیر کلام لان سے ہے حضرت عبداللہ کے مصحف میں کم ہے یعنی اگر تم اس امر میں سچے ہو کہ تم ایماندار ہو عاصم نے ان ہداکم پڑھا ہے یہ قول کی وجہ سے حقیقت سے بعید ہے یہ نہیں کہا جاتا ظاہر قرأت ہے یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ مومن تھے کیونکہ تقدیر کلام یہ ہے اگر تم ایمان لائے ہو تو یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ ابن کثر، ابن محصین اور ابو عمرو نے یاء کے ساتھ خبر کے طور پر پڑھا ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–18

1:۔ ابن المنذر (رح) والطبرانی وابن مردویہ (رح) نے حسن سند کے ساتھ عبداللہ بن ابی اوفی (رح) سے روایت کیا کہ عرب میں سے کچھ لوگوں نے آکر کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم اسلام لے آئے اور ہم نے آپ سے کوئی قتال نہیں کیا جیسا کہ بنو فلاں نے آپ سے قتال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” اتاری یمنون علیک ان اسلموا “ (وہ لوگ احسان جتاتے ہیں آپ پر کہ وہ اسلام لے آئے ) ۔ 2:۔ النسائی والبزار وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابنواسد رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا یارسول اللہ ﷺ ہم اسلام لے آئے عرب لوگوں نے آپ سے قتال کیا اور ہم نے آپ سے قتال نہیں کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ 3:۔ سعید بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ [ یقینا اللہ جانتا ہے ] غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ آسمانوں اور زمین کے غیب کو ] وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ [ اور اللہ دیکھنے والا ہے ] بِمَا تَعْمَلُوْنَ [اس کو جو تم لوگ کرتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ 1ؕ﴾ (اور بیشک اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کے غیب کو) یعنی چھپی ہوئی باتوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو وہ خوب جانتا ہے ﴿ وَ اللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (رح) 0018﴾ (اور تمہارے سب کاموں کو دیکھنے والا ہے) وھذا آخر تفسیر سورة الحجرات، والحمد للّٰہ الذی بعزتہ ونعمتہ تتم الصالحات وقد فرغت منہ فی الیلة السابعة من شھر شعبان فی 1418 ھ والحمد للّٰہ اولًا واٰخرًا باطنًا وظاھرًا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–18

مدار فضیلت و کرامت ایمان وتقوی نہ کہ نسبت خاندان وقبائل : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر وانثنی ...... الی ..... واللہ بصیر بما تعملون “۔ (ربط) اس سے قبل آیات میں ایسی خصلتوں اور برائیوں سے اجتناب کی تعلیم تھی جو انسانی زندگی کو ذلت و پستی میں ڈالنے والی ہیں اور انسانی معاشرے میں اس قسم کے عیب نہایت ہی بدترین عیب اور تباہ کردینے والی بیماریاں ہیں تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل وہ اوصاف بیان کیئے جارہے ہیں جو انسانی کرامت اور شرف کا باعث ہیں اور اسکو عزت وسربلندی کے مقام پر پہونچا دینے کا باعث ہیں۔ اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

17:۔ ” ان اللہ۔ الایۃ “ ٓآخر میں مسئلہ توحید کا علی وجہ الترقی بیان ہے۔ سورة محمد میں فرمایا ” لا الہ الا اللہ “ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کے بعد سورة فتح میں فرمایا ” تسبحوہ “ یعنی معبود وہی ہے کس کو اس کا شریک نہ بناؤ اور یہاں سورة حجرات میں فرمایا ” ان اللہ یعلم۔ الایۃ “ یعنی عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا معبود اور کارساز بھی وہی ہے۔ کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہ بناؤ اور حاجات و مشکلات میں اس کے سوا کسی کو غائبانہ مت پکارو۔ سورة حجرات میں آیت توحید، +1 ۔ ” ان اللہ یعلم غیب السموات والارض، واللہ بصیر بما تعملون “ نفی شرک اعتقادی۔ سورة حجرات ختم ہوئی

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–18

ربط آیات اب تک اس سورة مبارکہ میں وہ بارہ بڑے بڑے اصول و ضوابط بیان ہوچکے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی حالات درست رہ سکتے ہیں اور مسلم معاشرہ امن وامان کا گہوارہ بن سکتا ہے اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا شکوہ کیا ہے جو ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر ان میں ایمان پورے طریقے سے راسخ نہیں ہوا ۔ بعض ایسے لوگوں کا بھی شکوہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اسلام لانے کا احسان جتلاتے ہیں ۔ اللہ نے ان کو بھی جواب دیا ہے کہ اسلام لا کر تم نے اللہ کے نبی پر احسان نہیں کیا بلکہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس نے ایمان کی طرف تمہاری رہنمائی فرمائی ہے۔ ایمان کا دعویٰ ارشاد ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اللہَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۭ وَاللہُ بَصِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝ 18 ۧ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–18

ترکیب : الشعوب جمع شعب بفتح الشین ھواعلی طبقات النسب وتحتہ قبائل جمع قبیلۃ وبعدھا العمائر ثم البطون ثم الافخاذثم الفصائل خزیمہ شعب کنانۃ قبیلہ قریش عمارۃ بکسرالعین قصی بطن ہاشم فخذالعباس فصیلۃ۔ تفسیر … بارہواں حکم : جس کو اور دوسرے پیرایہ میں بیان فرماتا ہے یا ایہا الناس اناخلقناکم من ذکر وانثٰی کہ اے لوگو ہم نے تم سب کو ایک مرد یعنی آدم اور ایک عورت یعنی حوا سے پیدا کیا ہے تم سب کی ایک ذات اور ایک نسب ہے وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا پھر تمہارے قبیلے اور جتھے جدے جدے کردیے پہچان کے لیے نہ نسب پر فخر کرنے کے لیے کیونکہ نسب تو سب کا ایک ہے۔ اب یہ فخر کی چیز نہیں بلکہ پرہیزگاری کس لیے کہ ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (الحجرات : 18) (بےشک اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے، اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کررہے ہو۔ ) آخر میں فرمایا کہ پانی دراصل یہاں مر رہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی صفات کا ادراک نہیں رکھتے۔ اگر تمہیں صرف اتنی بات کا استحضار ہوتا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز کو جانتا ہے تو اس سے تمہیں یہ سمجھنے میں دشواری نہ ہوتی کہ وہ تمہارے قلبی احساسات اور تمہارے افعال و اعمال کو بھی جانتا ہے۔ تو پھر تمہیں اپنے اسلام کا دعویٰ کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ تم دل میں جس طرح کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : رسول محترم ﷺ پر جو لوگ اپنے اسلام کا احسان جتلاتے تھے انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کریں۔ جو لگ اپنے ایمان لانے کا نبی ﷺ اور مسلمانوں پر احسان سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے یہ فرمان جاری کیا کہ اے رسول ﷺ ! ان لوگوں سے بتلا دیں کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنا دین بتلاتے اور جتلاتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دلوں کا حال جانتا ہے کیونکہ زمین و آسمانوں میں جو چیز موجود ہے وہ اس کے علم میں ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ جو لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان جتلاتے ہیں انہیں کھلے الفاظ میں فرمائیں کہ مجھ پر اپنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 18 : اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ (اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی سب مخفی باتوں کو جانتا ہے اور تمہارے سب اعمال کو بھی جانتا ہے) قراءت : مکی نے یعملون پڑھا ہے۔ اس میں وضاحت فرما دی کہ وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ سے پوشیدہ تر چیز جو جہاں میں پائی جاتی ہے۔ اس سے واقف ہیں اور وہ ہر عمل کو دیکھتا ہے۔ جو تم اپنے سرو علانیہ میں کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز بھی مخفی نہیں۔ پس اس پر تمہارے ضمائر کی بات کیسے مخفی رہ سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17 ۔” یمنون علیک ان اسلموا قل لا تمنوا علی اسلامکم “ یعنی تم اپنے سلام کو۔ ” بل اللہ یمن علیکم ان ھداکم للایمان “ اور عبداللہ ؓ کے مصحف میں۔ ” اذھداکم للایمان “ ہے۔ ” ان کنتم صادقین “ کہ تم مومن ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–18

17۔ 18۔ ایۃ قالت الاعراب امنا۔ کی شان نزول میں قبیلہ بنی اسد کا ذکر جو گزرا یہ لوگ قحط کے زمانہ میں اپنے گاؤں سے گھبرا کر مدینہ آگئے اور اس لالچ سے دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے کہ غنیمت کے مال میں صدقہ خیرات کی چیزوں میں سے مدد ملتی رہے گی جس سے قحط کا زمانہ اچھی طرح کٹ جائے گا۔ اب اسلام لانے کے بعد یہ لوگ اپنے اسلام کا احسان جتلانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ یہ لوگ اپنے اسلام کا احسان کسی پر نہ رکھیں ان کے اسلام سے اور کسی کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا یہی لوگ اگر سچے دل سے اسلام پر قائم رہیں گے تو ان کا عقبیٰ کا بھلا ہوجائے گا اس لئے ان لوگوں کو اللہ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 14–18

اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے اور اس کے باوجود انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ” ہم ایمان لائے “ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کردیں، چناچہ فرمایا : (قل لم تومنو) یعنی کہہ دیجئے : تم اپنے لئے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعویٰ نہ کرو (ولکن قولواسلمنا) ” لیکن کہو ہم اسلام لائے۔ “ یعنی ہم اسلام میں داخل ہوگئے اور اسی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–18

قبیلے ، برادریاں محض تعارف کے لئے ہیں قول باری ہے (انا خلقنا کم من ذکروانثیٰ وجعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ، ہم نے تم سب کو ایک مراد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنادیا ہے کہ ایک دوسرے کو پہچان سکو) مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ شعوب سے دور کی رشتہ داریاں مراد ہیں اور قبائل سے قریب کی رشتہ داریاں اس لئے کہا جاتا ہے ” بنو فلاں وفلاں “ (فلاں فلاں قبیلے) قول باری ہے (ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم۔ بیشک تم میں سے پرہیزگار تر اللہ کے نزدیک معزز تر ہے) اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ بیان کی تخلیق انسانیت کے ذکر سے ابتدا کی اور یہ بتایا کہ پوری انسانیت کی تخلیق ایک مرد اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 57] اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو مدعیان ایمان کے جواب کیلئے علم الٰہی کے کمال و شمول کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کی سب چھپی باتوں کو۔ پس اس سے تمہاری کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی، اس لئے زبانی کلامی دعوے کرنے کی بجائے تم لوگ ہمیشہ اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح کی فکر کرو، کہ تمہارا واسطہ ایسی علیم وخبیر ذات سے ہے جس سے آسمان و زمین کی اس پوری کائنات کی کوئی بھی چیز مخفی و مستور نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف آخر میں اس بات کو پھر واضح فرما دیا گیا کہ اپنے ایمان و اسلام کی حکایت کو زیادہ بڑھانے اور بتانے جتانے کی ضرورت نہیں، بلکہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–18

اسلام بغیر یقین کچھ نہیں تشریح : یہ آیات دراصل ان چند دیہاتی لوگوں کے ذکر میں ہیں جو مدینہ کے اردگرد رہتے تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمان بڑی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں تو انہوں نے کچھ مالی امداد لینے اور کچھ اپنی حفاظت کی خاطراسلام قبول کرلیا۔ ان قبیلوں میں مزینہ، جہینہ، اسلم اور حزیمہ وغیرہ شامل ہیں۔ مگر یہ پکے مسلمان نہ تھے بس نام کے ہی مسلمان تھے۔ ان کا پول اس وقت کھلا جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور احسان جتانے لگے کہ ہم نے آپکی جماعت کو مضبوط کرنے کے لیے اسلام قبول کرلیا ہے۔ اور ہمیں مالی امداد چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ چلو تم مسلمان ہو ہی گئے ہو تو اللہ اور رسول ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–18

آیات 11 تا 18۔ اسرار ومعارف۔ اے ایمان والو ! ایسی صورتون سے بچوجولڑائی کا سبب بنتی ہیں جیسے کوئی گروہ کسی دوسری جماعت کا مذاق نہ اڑائے کہ کیا خبر اللہ کریم کے نزدیک وہ لوگ ان سے بہتر ہوں ایسے ہی مسلمان خواتین کو بھی بات کرنے میں احتیاط لازم ہے اور دوسری خواتین کے بارے تحقیر کا انداز اختیار نہ کرنا چاہیے کیا خبر اللہ کریم انہیں ان مذاق کرنے والوں سے زیادہ محبوب رکھتا ہو اور ایک دوسرے کی نکتہ چینیاں نہ کیا کرو یہی بات نفرت کا سبب بن کر ایک دوسرے سے دور کردیتی ہے نہ ہی ایک دوسرے کو ناپسندیدہ ناموں سے پکارو۔ یہ بات اس قدر اہم ہے کہ قرآن کریم نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ حکم دیا ہے کہ جبکہ آج کل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی اسے خوب معلوم ہے کہ تمہارا ایمان کتنے پانی میں ہے اور تم کہاں تک دل سے اسلام کی پیروی کررہے ہو لہٰذا کسی پر احسان جتلانے کی ضرورت نہیں جو مانگتا ہے سیدھی طرح مانگو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(49:18) بصیر۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل۔ دیکھنے والا۔ جاننے والا۔ فائدہ : آیات 14 تا 18 میں ان بدوی قبائل کا ذکر ہے جو اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر محض اس خیال سے مسلمان ہوگئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی ضرب سے محفوظ رہیں گے۔ اور اسلامی فتوحات کے فوائد سے بھی متمتع ہوں گے یہ لوگ حقیقت میں سچے دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ محض زبانی اقرار ایمان کرکے محض مصلحۃً اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کر الیا تھا۔ اور ان کی اس باطنی حالت کا راز اس وقت افشا ہوجاتا جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے۔ اور اپنا حق اس طرح جتاتے تھے کہ گویا انہوں نے اسلام قبول کرکے آپ پر بڑا احسان کیا ہے روایات…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–18

لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 18 : اسلمنا ( ہم نے ما ن لیا) لایلت (نہ گھٹائے گا) ‘ لم یرتابوا ( انہوں نے شک نہیں کیا) ‘ جاھدوا ( انہوں نے جہاد کیا) ‘ الصدقون) سچ بولنے والے) ‘ اتعلمون ( کیا تم جتاتے ہو۔ سکھاتے ہو) ‘ یمنون ( وہ احسان جتاتے ہیں) یمن (وہ احسان کرتا ہے) ‘ ان ھدا ( یہ کہ اس نے راستہ سمجھایا) ۔ تشریح : آیت نمبر 14 تا 18 : سورۃ الحجرات کی ان آخری آیات کے سلسلہ میں علماء مفسرین نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ ایک مرتبہ شدید قحط پڑگیا۔ اس دوران قبیلہ بنو اسد کے کچھ لوگوں نے مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بظاہر ایمان قبول کرلیا۔ کہتے ہیں کہ ایمان لانے کا سبب یہ تھا کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–18

ایمان کی دولت اللہ کا احسان ہے۔ (ف 2) شان نزول۔ اے محبوب یہ لوگ تم پر اپنے اپنے اسلام لانے کو جتلاتے ہیں تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسلام لاؤ کہ جس میں سراسر تمہارا ہی نفع ہے جب تم ایمان کا دعوی کرتے ہو تو پھر احسان کیا جتلاتے ہو اگر تم سچے ہو کہ سچے مسلمان ہوتب تم پر خدا کا اھسان ہے کہ اس نے تم کو ہدایت کی ہے ایمان کی طرف آنے کا راستہ دیا، اور دولت اسلام سے سرفراز فرمایا۔ تم کو ممنون ہونا چاہیے شکر بجالانا چاہیے کہ خدا نے اپنی رحمت سے راہ ہدایت دکھائی نہ کہ الٹا اسلام لانے کا احسان جتلاؤ، مگر بات یہ ہے کہ تم ایمان والے نہیں فقط ظاہری مسلمان ہو، اس لیے احساتن جتلاتے ہو اوپری دل کا کوئی نیک…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–18

[18] یعنی ان کا یہ کہنا کہ ہم ایمان لائے اس کا حوالہ یہاں محض ان کے اقرار ایمان کی حیثیت سے نہیں دیا گیا ہے بلکہ جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا یہ بات وہ بطور احسان کہتے تھے۔ [19] یعنی تمہارا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ تم ایمان لائے ہو۔ البتہ تم یہ دعویٰ کرسکتے ہو کہ تم نے اطاعت کرلی ہے۔ لفظ '' اسلام '' یہاں اپنے لغوی مفہوم یعنی ظاہری اطاعت کے معنی میں ہے۔ اسلام کا حقیقی مفہوم تو اپنے آپ کو کلی طور پر اپنے رب کے حوالے کردینے کا ہے لیکن یہ ظاہری اطاعت کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہاں اسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ [20] یعنی اپنے ایمان کی حکایت زیادہ نہ بڑھاؤ۔ اس نے تمہارے دل کے دروازے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–18

ف 1: نبواسد کے گنواروں کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ تم یہ دیکھو ۔ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے مقام ایمانی سے آگاہ نہیں ہیں ۔ اور وہ یہ نہیں جانتے ہیں ۔ کہ تم نے اسلام قبول کرکے کس درجہ احسان کیا ہے ؟ خدا تو وہ ہے جس کے سامنے آسمانوں کے بعید اور زمینوں کے اسرار بھی پوشیدہ اور مستتر نہیں ۔ پھر یہ کیونکر ہوسکتا ہے ۔ کہ وہ تمہارے دل کی گہرائیوں کو نہ جانتا ہو ۔ اور تمہارے مذہبی اور دینی مرتبہ سے آشنا نہ ہو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) بلا شبہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی تمام مخفی اور پوشیدہ باتیں جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سب کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ صاحب مدارک نے فرمایا یہ ان اعراب کی غیر صادق ہونے کا بیان ہے یعنی جبکہ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ سے پوشیدہ چیز کو آسمان و زمین کو جانتا ہے اور تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور دیکھنے والا ہے تو اس سے یہ وہ بات کیوں کر پوشیدہ ہوسکتی ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ تم تفسیر سورة الحجرات

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–18

ف 1۔ یہاں لفظ ایمان فرمانے سے شبہ نہ کیا جائے کہ اس کا ایمان ہونا تسلیم کرلیا گیا، بات یہ ہے کہ یہاں بطور فرض کے گفتگو ہے جس میں ان کی طرف سے حکایت کی گئی ہے جیسا ان کنتم صدقین میں قرینہ ہے، یعنی اگر بالفرض تمہارے دعوے کے موافق اس کو ایمان مان لیا جائے تو بھی خدا ہی کا احسان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا اور تمارے اعمال کو دیکھتا ہے 18 ۔ بندے اور اس کے ایمان و اسلام کا معاملہ اللہ رب کریم سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے کیونکہ وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں اور لوگوں کے دلوں کے رازوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور اس کائنات کے ذرہ ذرہ سے وہ واقف ہے اور ہر ایک چیز پر اس کا علم محیط ہے آسمانوں کی وسعتوں اور زمین کی گہرائیوں اور فضائوں کی کشادگیوں میں سے کوئی چیز ایسی نہیں جس کی اس کو ساری حالت معلوم نہ ہو اور انسانوں میں سے ہر ایک انسان خواہ کتنا ہی چھپ کر عمل کیوں نہ کرے بہرحال وہ اس کے ہر عمل سے آگاہ اور ہر ایک بات سے اچھی طرح واقف ہے اور کسی کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–18

Sequence of Verses in the Surah In the preceding verses of the Surah it was stated that the basis of honour in the sight of Allah is righteousness which is an inner quality, and Allah alone knows it. It is improper for any man to claim self-sanctification. In the current set of verses, it is stated, on account of a particular incident, that the real basis of faith is the inner acceptance of the heart. Mere lip-service to faith does not count the person as a faithful believer. In the entire Surah, first the rights of the Prophet were set out and then the rules of how to respect and honour him.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–18

30 This does not imply alI the desert Arabs but only a few particular groups of the Bedouins who had become Muslims, seeing the increasing power of Islam, thinking that they would not only remain safe from any attack by the Muslims but would also gain materially from the Islamic conquests. These people had not embraced Islam sincerely but had professed faith only verbally in order to be counted among the Muslims, and their this inner state became exposed whenever they would come before the Holy Prophet with different sorts of demands and would enumerate and mention their rights as if they had…

Read the full tafseer →