قٓ ۚ۫— وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ ۟ۚقٓ ۚ وَالۡقُرۡاٰنِ الۡمَجِيۡدِۚ
قٓ۔ قرآن مجید کی قسم (کہ محمد پیغمبر خدا ہیں)
— Fateh Muhammad Jalandhari
Qaf. By the honored Qur'an...
— Saheeh International
Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
The letter Qaaf · Meccan · 45 ayahs · 3 rukus
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قٓ ۚ۫— وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ ۟ۚقٓ ۚ وَالۡقُرۡاٰنِ الۡمَجِيۡدِۚ
قٓ۔ قرآن مجید کی قسم (کہ محمد پیغمبر خدا ہیں)
— Fateh Muhammad Jalandhari
Qaf. By the honored Qur'an...
— Saheeh International
Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Qaaf
ق، قسم ہے قرآن مجید کی
قٓ۔ قرآن مجید کی قسم (کہ محمد پیغمبر خدا ہیں)
ق! بہت بڑی شان والے اس قرآن کی قسم ہے
ق، قرآن مجید کی قسم ! (ان کافروں نے پیغمبر کو کسی دلیل کی وجہ سے نہیں جھٹلایا)
عزت والے قرآن کی قسم
ق (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، قسم ہے قرآنِ مجید کی،
قۤ۔ قسم ہے قرآن کی جو بہت بڑی شان والا ہے !
ق۔ قسم ہے اس قرآن کی جو بڑی شان والا ہے۔
یہ سورة ق ہے قسم ہے باعظمت قرآن کی !
قٓ قسم ہے اس قرآن کی جو بڑا ہی عزت و شان والا ہے
قاف۔ قسم ہے قرآن بزرگ کی
قسم ہے عظیم الشان قرآن کی۔
قۗ قرآن مجید کی قسم
Qaf. By the glorious Qur'an.
Qaf . (I swear) by the glorious Qur‘an, (you are sent as a messenger.)
Qaf . (I swear) by the glorious Qur‘an, (you are sent as a messenger.)
Qaf. By the Glorious Qur'an.
Qaf. By the Glorious Qur'an,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Qaf. By the honored Qur'an...
By Qaf and the glorious Quran, (you are the Messenger of God).
Qaf. I swear by the glorious Quran (that Muhammad is the Apostle of Allah)
Qaf. By the Qur'an glorious, We have sent thee as a warner.
Qaf: By the Glorious Qur'an (Thou art Allah's Messenger).
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–5
اہل کتاب کی موضوع روایتیں ق حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے ص، ن، الم، حم، طس، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورة بقرہ کی تفسیر میں شروع میں کردی ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کرسکتے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بد دینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کردیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجودیکہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت…
Read the full tafseer →سورة قٓ 1 " مجید " کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک، بلند مرتبہ، با عظمت، بزرگ اور صاحب عزت و شرف۔ دوسرے، کریم، کثیر العطاء، بہت نفع پہنچانے والا۔ قرآن کے لیے یہ لفظ ان دونوں معنوں میں استعمال فرمایا گیا ہے۔ قرآن اس لحاظ سے عظیم ہے کہ دنیا کی کوئی کتاب اس کے مقابلے میں نہیں لائی جاسکتی۔ اپنی زبان اور ادب کے لحاظ سے بھی وہ معجزہ ہے اور اپنی تعلیم اور حکمت کے لحاظ سے بھی معجزہ۔ جس وقت وہ نازل ہوا تھا اس وقت بھی انسان اس کے مانند کلام بنا کر لانے سے عاجز تھے اور آج بھی عاجز ہیں۔ اس کی کوئی بات کبھی کسی زمانے میں غلط ثابت نہیں کی جاسکی ہے نہ کی جاسکتی۔ باطل نہ سامنے سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
خلاصہ تفسیر ق (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) قسم ہے قرآن مجید کی (یعنی جس کو دوسری کتابوں پر فضیلت و شرف ہے کہ ہم نے آپ کو عذاب قیامت سے ڈرانے کے لئے بھیجا ہے مگر ان لوگوں نے نہ مانا) بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی (کی جنس) میں سے (یعنی انسانوں میں سے) ایک ڈرانے والا (پیغمبر) آ گیا (جس نے ان کو قیامت کے دن سے ڈرایا) سو (اس پر) کافر لوگ کہنے لگے کہ (اول تو خود) یہ (ایک) عجیب بات ہے (کہ بشر پیغمبر ہو، دوسرے پھر دعویٰ بھی عجیب بات کا کرے کہ دوبارہ زندہ ہوں گے بھلا) جب ہم مر گئے اور مٹی ہوگئے تو کیا دوبارہ زندہ ہوں گے یہ دوبارہ زندہ ہونا (امکان سے) بہت ہی بعید ہے (خلاصہ یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ق القرآن المجید -1 قرآن اپنی حقانیت پر خود گواہ ہے۔ ق اس سورة کا نام ہے۔ مبتداء جیسا کہ ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں، یہاں بھی محذوف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ سورة ق ہے۔ مجید کے معنی بزرگ، برتر اور باعظمت کے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے طور پر بھی قرآن میں استعمال ہوا ہے اور قرآن کی صفت کے طور پر بھی۔ ہر کلام متکلم کی صفات کا مظہر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جس طرح اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر ہے اسی طرح اس کا کلام بھی بزرگ و برتر ہے اور یہ برتری و بزرگی قرآن کی ایک ایک آیت سے نمایاں ہے۔ ممکن نہیں ہے کہ کوئی صاحب ذوق قرآن کو سنے یا پڑھے اور اس کی عظمت و شوکت…
Read the full tafseer →1۔ 1 اس کا جواب قسم محذوف ہے لَتُبْعَثنَّ (تم ضرور قیامت والے دن اٹھائے جاؤ گے) بعض کہتے ہیں اس کا جواب ما بعد کا مضمون کلام ہے جس میں نبوت اور معاد کا اثبات ہے (فتح القدیر و ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: یہ اس بات کا جواب ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو، پھر ہمارے جسم کے وہ حصے دوبارہ کیسے جمع ہوں گے جن کو مٹی کھا چکی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ تمہارے جسم کے جن جن حصوں کو مٹی کھاتی ہے، ان سب کا ہمیں پورا پورا علم ہے، اس لیے ان کو دوبارہ بحال کردینا ہمارے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ 2: اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 247 ایک نظر میں یہ اس سورت کا پہلا سبق ہے۔ اس کا موضوع مسئلہ بعث بعد الموت ہے۔ مشرکین مکہ اس کا انکار کرتے تھے بلکہ جو لوگ بعث بعد الموت کے قائل تھے وہ ان کی جانب سے یہ عقیدہ رکھنے پر تعجب کرتے تھے۔ لیکن قرآن صرف ان کے اس غلط خیال ہی کو موضوع بحث نہیں بناتا۔۔۔۔ ۔ انکار پر بحیثیت مجموعی تنقید کرتا ہے اور ان کی اصلاح کر کے اور ان کی کج فکری کو درست کر کے ان کو سچائی کی راہ کی طرف لوٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن کریم کی سعی یہ ہے کہ ان کے غافل دلوں کو جھنجھوڑے اور خوب جگائے تا کہ وہ اس کائنات کے اندر جو عظیم حقائق ہیں ، ان کو سمجھنے کے لئے اپنے دل کے دروازے کھولیں ۔ اس لیے قرآن کریم محض…
Read the full tafseer →1 یعنی قرآن کی بزرگی اور عظمت شان کا کیا کہنا جس نے آخر سب کتابوں کو منسوخ کردیا اور اپنی اعجازی قوت اور لامحدود اسرار و معارف سے دنیا کو محو حیرت بنادیا۔ یہ ہی بزرگی والا قرآن بذات خود شاہد ہے کہ اس کے اندر کوئی نقص و عیب نہیں نہ کہیں انگلی رکھنے کی جگہ ہے، لیکن منکرین پھر بھی اس کو قبول نہیں کرتے اس لیے نہیں کہ ان کے پاس اس کے خلاف کوئی حجت وبرہان ہے بلکہ محض اپنے جہل اور حماقت سے اس پر تعجب کرتے ہیں کہ ان ہی کے خاندان اور نسل کا ایک آدمی ان کی طرف رسول ہو کر آیا اور بڑا بن کر سب کو نصیحتیں کرنے لگا۔ اور بات بھی ایسی عجیب کہی جسے کوئی باور نہ کرسکے۔ بھلا جب ہم مر کر مٹی ہوگئے۔ کیا پھر زندگی…
Read the full tafseer →آیت 1{ قٓ قف وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ۔ } ”ق ‘ قسم ہے عظیم الشان قرآن کی۔“ قرآن کی تین سورتیں ایسی ہیں جن کے آغاز میں صرف ایک ایک حرفِ مقطعہ ہے۔ ان میں سورة قٓ کے علاوہ تیئسویں پارے کی سورة صٓ اور انتیسویں پارے کی سورة القلم یا سورة نٓ شامل ہیں۔ بہت سی دوسری سورتوں کے آغاز کی طرح اس سورت کے آغاز میں بھی قرآن مجید کی قسم کا مقسم علیہ محذوف ہے۔ بہرحال چونکہ سورة یٰسٓ کے آغاز میں قرآن حکیم کی قسم کا مقسم علیہ موجود ہے اس لیے اس قسم کا مقسم علیہ بھی وہی ہوگا ‘ یعنی { اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔ } یٰسٓ۔ چناچہ اس آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ اے محمد ﷺ قسم ہے اس عظیم الشان قرآن کی ‘ بیشک آپ مرسلین…
Read the full tafseer →1 قرآن کی شان :۔ شان والا اس لحاظ سے ہے کہ دنیا میں کوئی کتاب اس کے مقابلہ میں پیش نہیں کی جاسکتی، نہ مضامین کے لحاظ سے، نہ اسرار و رموز کے لحاظ سے اور نہ کثیر الاشاعت ہونے کے لحاظ سے۔ پھر اس کی شان کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں جتنا بھی غور کیا جائے، نئے سے نئے اسرار کھلتے جاتے ہیں اور ہر انسان خواہ وہ علمی لحاظ سے کس درجہ کا آدمی ہو اس سے ہدایت حاصل کرسکتا ہے۔ نہ اس سے مبتدی بےنیاز ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی علامہ دہر۔
Read the full tafseer →1۔ عربی اسلوب بیان میں قسم کا مفہوم تاکید کا ہوتا ہے۔ اور جواب قسم یعنی قسم کے بعد کا مضمون اکثر بغیر کسی تصریح کے محض سیاق سے سمجھ لیا جاتا ہے۔ قسموں کی بحث کا تعلق تمامتر اسلوب بیان وبلاغت سے ہے۔ ق۔ مخفف اس فقرہ کا سمجھا گیا ہے۔ حکمۃ ھی قولنا قضی الامر (کبیر) ایک قول یہ ہے کہ : قفا اثرہ اے تبعہ کا مخفف ہے۔ قیل یجوز ان یکون ق امرا من مفاعلۃ قفا اثرہ اے تبعہ والمعنی اتبع القران واعمل بمافیہ (روح) یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قف کے معنی میں امر ہے۔ قیل انہ امر بمعنی قف اے قف عندما شرح لک ولا تجاوزہ (روح) حروف مقطعات کے لئے ملاحظہ ہو پ 1 میں الم پر حاشیہ۔ (آیت) ” والقران المجید “۔ قرآن مجید کی قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترجمہ : ق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، قسم قرآن کریم کی کہ کفار مکہ، محمد ﷺ پر ایمان نہیں لائے، بلکہ اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا یعنی انہی میں سے ایک رسول جو ان کے زندہ ہونے کے بعد نار (جہنم) سے ڈراتا ہے آگیا سو کافر کہنے لگے یہ ڈراوا عجیب بات ہے، کیا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے ؟ ہم کو لوٹایا جائے گا، دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کر کے، یہ واپسی انتہائی درجہ بعید (بات) ہے، زمین ان میں سے جو کچھ کھا جاتی ہے وہ ہمیں معلوم ہے اور ہمارے پاس محفوظ کرنے والی کتاب ہے اور وہ لوح محفوظ ہے جس میں تمام اشیاء…
Read the full tafseer →ق . یہ حرف حروف مقطعات (تہجی) میں سے ہے۔ صحیح بات یہی ہے بعض کے نزدیک سورة کا اور بعض کے نزدیک قرآن کا نام ہے۔ قرطبی نے کہا : قدیر ‘ قادر ‘ قاہر ‘ قریب ‘ قابض اللہ کے (وصفی) نام ہیں۔ قٓ ان اسماء کی کنجی ہے (یعنی ابتدائی حرف ہے ‘ اس سے انہی اسماء کی طرف اشارہ ہے) ۔ بعض نے کہا ق سے اشارہ ہے جملہ قُضِیَ الْاَمْرُ یا قُضِیَ مَا ھُوَ کَاءِنٌ کی طرف۔ حق بات یہ ہے کہ (دوسرے مقطعات و متشابہات کی طرح) اس کی اصلی مراد سوائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور رسوخ علمی رکھنے والوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان ایک رمز ہے۔ سورة بقرہ کے شروع میں اس کی مکمل تفصیل گزر چکی ہے۔ عکرمہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) ق۔ یہ دنیا میں سبز رنگ کا پہاڑ کا اس کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور قسم ہے قرآن مجید کی۔ قریش سے جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے تو اس پر ان لوگوں کو تعجب ہوا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ قسم کھا کر بیان کرتا ہے اور ان تعجب کرنے والوں میں ابی بن خلف، امیہ بن خلف، منبہ بن الحجاج اور نبیہ بن حجاج ہیں کہ ان لوگوں کو اس پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس ان کے خاندان میں سے ایک ڈرانے والا رسول ان کے پاس آیا۔
Read the full tafseer →(1) ق : مفسر ابن کثیر نے فرمایا : ”ق“ ان حروف تہجی میں سے ہے جو سورتوں کی ابتدا میں مذکور ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”ص“ ، ”ن“ ، ”الم“ ، ”حم“ ، ”طس“ ، وغیرہ۔ یہ مجاہد کا قول ہے۔ ہم سورة بقرہ کے شروع میں اس پر کلام کرچکے ہیں جسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ (ہماری اس تفسیر میں بھی سورة بقرہ کے شروع میں اس پر کلام گزر چکا ہے) بعض سلف سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا ”ق“ ایک پہاڑ ہے جو ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے، اسے جبل قاف کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے (واللہ اعلم) کہ یہ بنی اسرائیل کی خرافات سے ہے جو بعض لوگوں نے یہ سمجھ کرلے لی ہیں کہ بنی اسرائیل سے وہ روایات لینا جائز ہیں جنہیں ہم نہ سچا کہیں نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1 ۔ 5:۔ ق والقران المجید۔ عام قراٗت قاف میں جزم کے ساتھ ہے۔ حضرت حسن بصری، ابن ابی اسحاق اور نصیر بن عاصمنے قاف پڑھا ہے کیونکہ کسرہ، جزم کا بھائی ہے جب اس کا آکر ساکن ہوا تو کسرہ کے ساتھ اسے حرکت دی۔ عیسیٰ ثقفی نے فاء کو فتحہ دیا ہے اسے خفیف ترین حرکت دی ہے۔ ہارون اور محمد بن سمیقع نے قاف ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ عموما یہ مبنی کی حرکت ہوتی ہے جس طرح منذ، قط، قبل اور بعد ہے۔ ق کے معنی میں اختلاف ہے کہ وہ کیا ہے ؟ ابن زید، عکرمہ اور ضحاک نے کہا : یہ ایسا پہاڑ ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے جو سبز زمرہ کا مرد ہے اس کی وجہ سے آسمان سبز ہے۔ آسمان کے دونوں کنارے اس پر ہیں۔ آسمان اس پر قبہ کی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1:۔ ابن جریر ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ '' ق '' اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے پیچھے ایک سمندر کو پیدا فرمایا جو اس ساری زمین کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے پھر اس کے پیچھے پہاڑ کو پیدا فرمایا جس کو '' ق '' کہا گیا دنیا کا آسمان اس پر پھیلا ہوا ہے پھر اس پہاڑ کے پیچھے اس زمین سے سات گنا بڑی زمین پیدا فرمائی پھر اس کے پیچھے ایک سمندر کو پیدا کیا جو اس کو گھیرے ہوئے ہے پھر اس کے پیچھے ایک پہاڑ کو پیدا فرمایا اسے بھی (آیت ) '' ق '' اور دوسرا آسمان اس پر پھیلا ہوا ہے یہاں تک کہ آپ نے سات زمینیں اور…
Read the full tafseer →قۗ ڗوَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ [ اس عظیم الشان قرآن کی قسم ہے (تم لوگ لازما اٹھائے جاؤگے ) ] م ج د : (ک) مجادۃ ۔ بزرگی اور عظمت والا ہونا ۔ بڑی شان والا ہونا ۔ مجید ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ بزرگ ، شان والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 1 ترکیب : (آیات ۔ 1 تا 3) قسم کے جواب میں عموما ایک جواب قسم آتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں خدا کی قسم یہ بات یوں ہے یا یہ بات یوں نہیں ہے ۔ یہاں وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ قسم ہے اور اس کا جواب قسم محذوف ہے۔ آگے کی آیات کے پیش نظر حافظ احمد یار صاحب مرحوم نے یہاں لتبعثن (تم لوگ لازما دوبارہ اٹھائے جاؤگے ) کو محذوف مانا ہے۔ ھٰذَا شَيْءٌ عَجِيْبٌ میں ھذا کا اشارہ اسی محذوف جواب…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی شان تخلیق کا بیان، نعمتوں کا تذکرہ منکرین بعث کی تردید یہاں سے سورة ٴ ق شروع ہو رہی ہے۔ اس میں دلائل توحید اور وقوع قیامت اور قیامت کے دن کے احوال اور مومنین و کافرین کا انجام بتایا ہے۔ درمیان میں باغی اور طاغی قوموں کی ہلاکت کا تذکرہ بھی فرما دیا ہے۔ قٓ یہ حروف مقطعات میں سے ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہوا ہے۔ ﴿قٓ1ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِۚ001﴾ (قسم ہے قرآن مجید کی) تم ضرور اٹھائے جاؤ گے اور قیامت کے دن حاضر ہو گے یہ جواب قسم لتبعثن محذوف کا ترجمہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
بیان عظمت کلام خداوندی و انکار منکرین وتعجب بر حشر ونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ق والقران المجید ....... الی ...... کذلک الخروج “۔ (ربط) سورة حجرات کے مضامین کا اختتام اس امر کے بیان پر تھا کہ اسلام کی توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہدایت ہے اور اس کا عظیم انعام ہے اس پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے ایمان پر استقامت اور دین حق پر ثابت قدمی اس اعتقاد ویقین پر موقوف ہے کہ حق تعالیٰ شانہ بندہ کی ہر حالت سے باخبر ہے اور وہ ہر عمل کو دیکھتا ہے وہ آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے تو اس مناسبت سے اب سورة ق کی ابتداء عظمت کلام خدا وندی سے کی جارہی ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہدایت کا…
Read the full tafseer →2:۔ ” ق، والقرآن المجید “ یہ ترغیب مع زجر ہے۔ ” المجید “ ذو المجد والشرف (مدارک، روح) ۔ بزرگی اور شرف والا۔ ایسا کلام، جو صفات جلالیہ کا حامل ہے اور جس سے صاحب کلام کا جلال و جبروت اور کبریائی و عظمت نمایا ہے جواب قسم محذوف ہے۔ اخفش، مبرد اور زجاج کے نزدیک ” لتبعثن “ (خازن) ۔ ابو حیان کے نزدیک انک جئتہم منذرا بالبعث (بحر ج 8 ص 120) ۔ حضرت شیخ (رح) کے نزدیک انک لرسول حق وان الساعۃ لاتیۃ۔ یعنی یہ صفات جلالیہ کا حامل قرآن شاہد ہے کہ قیامت ضرور آئیگی اور آپ سچے رسول ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
منازل قرآن صحابہ کرام ؓ نے قرآن پاک کو سات منزلوں میں تقسیم کرلیا تھا۔ اس سورة مبارکہ سے ساتویں منزل شروع ہو رہی ہے جو آخر قرآن تک جائے گی ۔ پہلی منزل میں قرآن پاک کی تین لمبی سورتیں سورة البقرہ ، سورة آل عمران اور سورة النساء ہیں ۔ اس کے بعد دوسری منزل میں پانچ سورتیں سورة المائدہ ، سورة الانعام ، سور ۃ الاعراف ، سورة الانفال اور سورة التوبہ آتی ہیں ۔ پھر تیسری منزل میں سات سورتیں یعنی سورة یونس ، سورة ہود ، سورة یوسف ، سورة الرعد ، سورة ابراہیم ، سورة الحجر اور سورة النحل ہیں ۔ چوتھی منزل میں نو سورتیں ہیں جن کے نام سورة بنی اسرائیل ، سورة الکہف ، سورة مریم ، سورة طلحہ ، سورة الانبیاء ،…
Read the full tafseer →قۗ 0 ۣ ۚ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ 1 قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…
Read the full tafseer →قٓ قف ج وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ ۔ (قٓ: 1) (قٓ، قسم ہے قرآن مجید کی۔ ) قسم اور جوابِ قسم کی وضاحت قٓ … حروفِ مقطعات میں سے ہے۔ اس کی مراد اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ مجید بزرگ، باعظمت اور برتر کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ اس آیت میں جس طرح قرآن کریم کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفت کی حیثیت سے بھی آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی عظیم ہے اور یہ قرآن بھی عظیم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کلام متکلم کی صفات کا مظہر ہوتا ہے۔ متکلم اگر بزرگ و برتر ہوگا تو کلام بھی بزرگ و برتر ہوگا۔ اسی وجہ سے قرآن کریم کی کوئی مثال لانے سے تمام مخلوقات عاجز ہیں۔ خود قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت :” ق “ حروف مقطعات میں شامل ہے۔ بعض اہل علم نے غیر مستند روایات کے حوالے سے اس کا مطلب بیان کرنے کی کوشش کی ہے لیکن نبی ﷺ اور صحابہ کرام (علیہ السلام) سے اس کا کوئی معنٰی ثابت نہیں۔ لہٰذا اسے اس طرح ہی تلاوت کرنا چاہیے۔ القرآن سے پہلے واؤ کا حرف قسم کے لیے ہے۔ عربی زبان میں حرف واؤ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ان میں واؤ قسم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کا معنٰی ہے یکجا کرنا، تلاوت کرنا، الفاظ پر غور کر کے زبان سے ان کی ادائیگی کرنا، الفاظ کا ” تتبُّع “ کرنا۔ (المنجد) المجید کا معنٰی بڑا اور عزت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم دے کر ارشاد فرمایا ہے کہ یہ لوگ…
Read the full tafseer →(قٓ۔ قسم ہے قرآن مجید کی۔ بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا آگیا۔ پس کافر کہنے لگے کہ یہ عجیب بات ہے) آیت 1 : قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ اس کے متعلق کلام اسی طرح ہے جو ہم صٓ والقرآن ذی الذکر بل الذین کفروا۔ ] ص۔ 1[ میں کر آئے ہیں۔ کوئی فرق نہیں کیونکہ دونوں کا اسلوب ایک جیسا ہے۔ البتہ مختلف لفظ المجید کی تفسیر کئے دیتے ہیں۔ المجید : دیگر کتب پر مجدو شرف والا۔ اور جو شخص اس کے معانی کا علم حاصل کر کے پھر اس کی مراد پر عمل کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے ہاں اور بارگاہ الٰہی میں شرف و عزت والا ہوجاتا ہے۔ بل عجبوا۔ یہ تعجب کرنے والے کفار مکہ ہیں۔
Read the full tafseer →مکی ہے اور اس کی پینتالیس 45 آیات ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ حروف مقطعات کا بیان سورة بقر کے شروع میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آ کر محمد رسول ﷺ کے رسول ہونے کی اور قرآن کو اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کر دے گا تو ہم مان لیں گے۔ محمد ﷺ تو ہم جیسے انسان ہیں ان کی باتوں کا ہمیں یقین نہیں آتا۔ اس کا جواب تفصیل سے سورة انعام میں ہے مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ فرشتہ کو اصل صورت میں دیکھنا تو عام لوگوں کی طاقت سے باہر ہے سوائے اللہ کے رسول کے عام لوگوں میں سے فرشتہ کو جو کوئی اصل صورت میں دیکھے گا وہ فوراً مرجائے گا۔ اس لئے فرشتہ بھی ان لوگوں کے پاس آئے گا تو انسان کی صورت میں آئے گا۔ پھر ان لوگوں کا شبہ بھی باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
تفسیر سورة ق اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا تا ہے، یعنی اس کے معانی بہت وسیع، عظیم اور اس کے پہلو بیشمار ہیں، اس کی برکات بےپایاں اور اس کی عنایات بہت زیادہ ہیں۔ (مجد) کا معنی ہے اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت۔ (مجد) سے موصوف ہونے کا سب سے زیادہ مستحق کلام اللہ یعنی قرآن ہے جو اولین وآخرین کے علوم پر مشتمل ہے، جس کی فصاحت کامل ترین، جس کے الفاظ عمدہ ترین اور جس کے معانی عام اور حسین ترین ہیں۔ یہ اوصاف اس کی کامل اتباع، اس کی فوری اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر شکر کے موجب ہیں۔ مگر اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے بنا بریں فرمایا : (بل عجبوا) یعنی رسول مصطفیٰ ﷺ کو…
Read the full tafseer →[ 1] قرآن اپنی صداقت و حقانیت پر خود گواہ : سو ارشاد فرمایا گیا " قسم ہے اس قرآن بزرگ و برتر اور باعظمت کی "۔ جس کی عزت و شان سب سے برھ کر ہے۔ اسی لئے یہ سابقہ آسمانی کتابوں کے لئے ناسخ ہے۔ پس جو اس پر ایمان لائے گا اس کو پڑھے گا اور سیکھ کر عمل کرے گا، وہ بھی بڑی عزت اور شان پائے گا، اس دنیا میں بھی اور اس کے بعد کی دائمی زندگی میں بھی۔ جعلنا اللّٰہ منھم ووفقنا لما یحب ویرضی سبحانہ وتعالیٰ ۔ نیز یہ قرآن جو اس شان والا ہے اس نبیء امی کی حقانیت و صداقت کی ایک قطعی اور واضح دلیل ہے کہ جس پر نازل ہوا اور جس نے اس دنیا کے سامنے پیش فرمایا وہ قطعی طور پر سچا اور برحو ہے۔ صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیات 1 تا 15۔ اسرار ومعارف۔ ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…
Read the full tafseer →ف 5 ” ہمیں نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے لیکن یہ مکہ والے آپ پر ایمان نہیں لائے۔ “ قسم کا یہ جواب محذوف ہے۔
Read the full tafseer →(50:1) ق۔ حروف مقطعات میں سے ہے۔ والقرآن المجید واؤ قسمیہ ہے القرآن المجید موصوف صفت۔ جواب قسم محذوف ہے۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ (1) انک جئتھم منذرا بالبعث۔ بیشک آپ ان کے پاس آئے ہیں ان کو حشر کے دن جی اٹھنے سے ڈرانے کے لئے۔ (ابو حیان) (2) وقیل تقدیرہ : لتبعثن۔ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (3) وقیل ھو : قد علمنا ما تنقص الارض منھم : ہم خوب جانتے ہیں جو زمین ان کے جسموں کو (کھا کھا کر) گھٹاتی ہے۔ (الاخفش) (4) وقیل ھو : ما یلفظ من قول الاولیدیہ رقیب عتید کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے (ابن کیسان) (5) اہل کوفہ کے نزدیک اگلی متصل آیت جواب قسم ہے۔ وغیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 : عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔ تشریح : آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(ف 1) مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آن کر محمدرسول اللہ کے رسول ہونے کی اور اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کردے گا تو ہم مان لیں گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے قسم کھاکر فرمایا کہ قسم ہے قرآن کی جو نہایت بزرگی و کرامت و شرافت والا ہے کہ تم خدا کے رسول ہو، ہم جانتے ہیں کہ یہ کفار ایمان نہیں لائے، اور اس قرآن کی بزرگی اور عظمت وشان کا کیا کہنا جس نے آکر کفر وشرک کو منسوخ کردیا اور اپنی اعجازی قوت اور لامحدود اسرار ومعارف سے دنیا کو محو حیرت بنادیا۔ یہی بزرگی والا قرآن بذات خود شاہد ہے کہ اس کے اندر کوئی نقص وعیب نہیں لیکن منکرین پھر بھی رسول اور قرآن کو قبول نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] قرآن مجید میں قسمیں بہت آئی ہیں اور لوگوں کو ان کے مفہوم اور مقصد کے متعلق طرح طرح کے شکوک ہیں۔ تشریح کیلئے ملاحظہ ہو صفحہ 2601
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة ق فرمایا : کہ قرآن کی لفظی ومعنوی بزرگی اور عظمت خود قرآن پر وال ہے ۔ اور جس شخص نے اس صحیفہ مقدس کا بغور مطالعہ کیا ہے ۔ وہ اس کے محاسن سے متاثر ہو کر مجبور ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کی سچائی پر گواہی دے اور یہ کہہ دے ۔ کہ اتنی بڑی کتاب ۔ اتنا مکمل زندگی کا پروگرام ، اور اتنے خوارق علمیہ کا حامل مجموعہ ناممکن ہے ۔ کہ انسانی دماغ کی اختراع وایجاد قرار دیا جاسکے ۔ مگر ان مکہ کے ناسمجھ لوگوں کو اس کتاب ہدیٰ کی رفعتوں کا اندازہ نہیں ہوتا ۔ انہیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ ان میں کا ایک آدمی کیونکر منصب نبوت پر فائز ہوسکتا ہے ۔ ان کے نزدیک پیغمبر کے لئے ضروری ہے ۔ کہ وہ فوق البشر شخصیت ہو ۔ پھر انہیں…
Read the full tafseer →(1) ق ٓ قف قسم ہے قرآن مجید بڑے شان والے کی۔ ق تو حروف مقطعات میں سے ہے اور قارئین کو معلوم ہے کہ ہم حروف مقطعات کے کوئی معنی نہیں کرتے اس لئے ان حروف کا حقیقی علم اور اس کے معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں۔ اگرچہ اکثر مفسرین نے معنی بیان کئے ہیں لیکن ہم نے احتیاطاً کسی جگہ اس کے معنی تیسیر میں نہیں کئے۔ مجد کے معنی شرف اور بزرگی کے ہیں اس لئے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں معنی کی رعایت رکھی ہے۔ قرآن کا مجد اور شرف ظاہر ہے دوسری کتب سماویہ پر قرآن کو ایک خاص شرف اور بزرگی حاصل ہے یہ سب کا ناسخ ہے اس میں تحریف نہیں جس طرح نازل ہوا اسی طرح امت کے سینوں میں محفوظ ہے اس قسم کا جواب محذوف…
Read the full tafseer →ق حروق مقطعات میں سے ہے اور قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے 1 ۔ (ق) حروف مقطعات میں سے ہے اور حرف مقطعات کی بحث سورة البقرہ کی آیت اول میں گزر چکی ہے وہیں سے دیکھ لی جائے تو زیدہ صحیح ہے بار بار اس کی بحث کی ضرورت نہیں۔ (ق) کے حروف پر مفسرین نے بہت طول کلامی کی ہے کسی نے اس کو القدیر ، القادر اور القھار کا مخفف قرار دے کر طرح طرح کے استد لال قائم کیے ہیں اور کسی نے اللہ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے درمیان راز و نیاز قرار دیا ہے کسی نے اس کو نبی کریم ﷺ کے دل کی قوت قرار دیا ہے اور عین حق کا شاہد بھی کہا گیا ہے اور بعض نے اس کو ” کوہ قاف “ قرار دیا ہے جو ایک پہاڑ بتایا جاتا ہے اور پھر اس پہاڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
Linkage with the preceding Surah This Surah mostly contains subjects relating to the Day of Judgment, Resurrection, the Reckoning, Paradise, the Fire, Allah's reward and punishment etc. Thus this Surah is linked with Surah Al-Hujurat because the concluding part of the latter Surah dealt with these subjects. Characteristics and Virtues of Surah Qaf It is reported in Muslim, as cited in Qurtubi, that Umm Hisham Bint Harithah Ibn Nu` man ؓ ، said: "For around two years, or a year and a part of another year, we shared one single oven with the Holy Prophet ﷺ . I memorized Surah Qaf from the Holy…
Read the full tafseer →1 The word "majid" is used for expressing two meanings in Arabic: for expressing the high rank, status, honor and dignity of a person, and for saying that somebody is highly generous, charitable and beneficent. This word has been used for the Qur'an in both these meanings. The Qur'an is great and glorious in the sense that no book of the world can be brought up against it. It is a miracle both in its language and literary excellence and in its teaching and wisdom. Humans were helpless to produce the like of it at the time when it was sent down and are likewise helpless even today. Nothing of…
Read the full tafseer →