Ayah 50:1ق . یہ حرف حروف مقطعات (تہجی) میں سے ہے۔ صحیح بات یہی ہے بعض کے نزدیک سورة کا اور بعض کے نزدیک قرآن کا نام ہے۔
قرطبی نے کہا : قدیر ‘ قادر ‘ قاہر ‘ قریب ‘ قابض اللہ کے (وصفی) نام ہیں۔ قٓ ان اسماء کی کنجی ہے (یعنی ابتدائی حرف ہے ‘ اس سے انہی اسماء کی طرف اشارہ ہے) ۔
بعض نے کہا ق سے اشارہ ہے جملہ قُضِیَ الْاَمْرُ یا قُضِیَ مَا ھُوَ کَاءِنٌ کی طرف۔ حق بات یہ ہے کہ (دوسرے مقطعات و متشابہات کی طرح) اس کی اصلی مراد سوائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور رسوخ علمی رکھنے والوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان ایک رمز ہے۔ سورة بقرہ کے شروع میں اس کی مکمل تفصیل گزر چکی ہے۔
عکرمہ نے کہا ‘ قاف زمرد سبز کا ایک پہاڑ ہے جو زمین کو محیط ہے اور اس پر آسمان قبہ کی طرح ڈھانکا ہوا ہے۔
والقرآن المجید . قسم ہے قرآن مجید کی۔
واؤ قسمیہ ہے (قسم ہے قرآن کی) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ق کا لفظ قسم ہے یعنی فعل قسم یہاں محذوف یا مضمر ہے اور والقرآن کا واؤ عاطفہ ہے (ترجمہ یوں ہوا ‘ قسم ہے قٓ کی اور قرآن کی۔
اَلْمَجِیْدِ : بزرگی والا۔ تمام کتابوں پر برتری رکھنے والا۔ اس وجہ سے کہ بزرگی والے اللہ کا کلام ہے یا اس سبب سے کہ جو شخص اس کو سیکھتا ہے ‘ اس کا مطلب جان لیتا ہے پھر تعمیل احکام کرتا ہے ‘ وہ بزرگی والا ہوتا ہے۔
قسم کا جواب محذوف ہے۔ یعنی قسم قرآن مجید کی کہ رسول جو قیامت سے تم کو ڈرا رہے ہیں ‘ بلاشبہ وہ سچے ہیں ‘ بعض کے نزدیک قسم کا جواب مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ الاَّ لَدَیْہَ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ ہے اور بعض کے نزدیک قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ جواب قسم ہے۔ اہل کوفہ کے نزدیک اگلی متصل آیت جواب قسم ہے۔
Ayah 50:2بل عجبوا ان جاء ھم منذر منھم فقال الکفرون ھذا شی ءٌ عجیبٌ . بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی (کی جنس بشری) میں سے ایک ڈرانے والا (پیغمبر) آگیا سو کافر لوگ کہنے لگے کہ یہ ایک عجیب چیز ہے۔
بَلْ عَجِبُوْا : بل بمعنی قد کے ہے یعنی کفار مکہ نے بلاشبہ تعجب کیا اس بات پر کہ انہیں میں سے ایک ڈرانے والا ان کے پاس ایسی بات لے کر آیا ہے جو تعجب انگیز نہیں تھی۔ یہ امر تعجب آفریں نہ ہونا چاہیے کہ انہی میں کا ایک شخص جس کو وہ سچا جانتے تھے اور اس کی سچائی کا اقرار کرتے تھے ‘ ان کی خیر خواہی کرتا ہے۔ اس کو اندیشہ ہے کہ کہیں ان لوگوں کو دکھ پہنچ جائے ‘ ایسے بہی خواہ قوم سچے مخلص آدمی کو تو کسی خوفناک امر سے قوم کو ڈرانا ہی چاہیے۔
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ قبائل قریش جب رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : دیکھو ! اگر میں تم کو اطلاع دوں کہ کچھ سوار (گھاٹی) سے نکل کر وادی میں آکر تم پر حملہ کرنا اور تم کو لوٹنا چاہتے ہیں تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟ قریش نے کہا : ہاں ! ہم کو تجربہ کے بعد ہمیشہ آپ کی سچائی ہی ثابت ہوئی ہے (کبھی آپ کو دروغ گو نہیں پایا) حضور ﷺ نے فرمایا : تو میں سامنے آنے والے عذاب سے (پہلے ہی) تم کو ڈرا رہا ہوں۔ الحدیث۔ (متفق علیہ)
فَقَالَ الْکَافِرُوْنَ ھٰذَا :تفسیر کے لیے ہے ‘ یہ کافروں کے لیے تعجب کا بیان ہے اور ھٰذَا سے اشارہ ہے ‘ رسول اللہ ﷺ کو رسالت کے لیے منتخب کرنے کی طرف اور الْکَافِرُوْنَ صراحت کے ساتھ کہنے سے ان منکرین کے کفر پر مہر لگا دی گئی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہتعقیب کے لیے ہو اور ھٰذَا سے بعث بعد الموت کی طرف اشارہ ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھٰذَا کا مشارٌ الیہ مبہم ہو جس کی تفسیر آئندہ آیت میں کردی گئی ہے۔
Ayah 50:3ء اذا متنا و کنا ترابا ذالک رجع بعید .
کیا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے تو دوبارہ زندہ ہوں گے ‘ یہ دوبارہ زندہ ہونا ناممکن ہے۔
ءَ اِذَا مِتْنَا .... اس کا تعلق محذوف فعل سے ہے ‘ یعنی کیا ہم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا ‘ جب ہم مر کر خاک ہوچکے ہوں گے۔ یہ بات بہت ہی بعید (از امکان) ہے۔
ذٰلِکَ رَجْعٌ بَعِیْدٌ : یہ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنا تو عقل و عادت اور امکان سے بھی بعید ہے۔
Ayah 50:4قد علمنا ما تنقص الارض منھم و عندنا کتب حفیظ . ہم ان کے ان اجزاء کو جانتے ہیں جن کو مٹی (کھاتی اور) کم کرتی ہے اور ہمارے پاس وہ کتاب (یعنی لوحِ ) محفوظ ہے۔
اس آیت میں انکار قیامت کی تردید ہے یعنی زمین مرنے کے بعد جو ان کے جسموں کو کھا لیتی ہے وہ ہم کو معلوم ہے (ہم جانتے ہیں کہ وہ خاک کے ذرّے کہاں کہاں ہیں) ہمارے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ہے۔ ان تمام ذرات کو جمع کرنا اور پھر زندہ کر کے اٹھانا ہمارے لیے دشوار نہیں ہے۔
کِتٰبٌ حَفِیْظٌ : یعنی ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو شیطانوں کے دست تصرف سے باہر ہے۔ اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں ہوسکتا۔ حَفِیْظٌ کا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں تمام اشیاء کی پوری تفصیل موجود ہے۔ جس سے واقف وہی ملائکہ ہیں جو ہمارے پاس ہیں۔
Ayah 50:5بل کذبوا بالحق لما جاء ھم فھم فی امر مریج .
بلکہ سچی بات جب ان کو پہنچی تو اس کو انہوں نے جھٹلایا۔ غرض یہ کہ وہ ایک متزلزل حالت میں ہیں۔
بَلْ کَذَّبُوْا ....... : یہ انکار نبوت کرنے والوں کی تردید ہے۔
نبوت جو معجزات سے ثابت شدہ ہے ‘ اس کی تکذیب سابق انکار سے بڑھ کر ہے جو چیز قطعی دلائل سے ثابت ہو اس کا انکار بہت ہی بعید از عقل ہے۔
مَرِیْجٍ : امر مشتبہ۔ مضطرب۔ بےیقینی۔ ان کے قول میں اضطراب اور بےیقینی تکذیب نبوت کی وجہ سے ہی تھی۔ قتادہ اور حسن نے کہا جو حق کو چھوڑ دیتا ہے اس کو اپنے معاملے میں اور دین میں اشتباہ پیدا ہوجاتا ہے۔ زجاج نے کہا : ایک قول پر ان کو قرار نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو کبھی شاعر کہتے ہیں ‘ کبھی جادوگر ‘ کبھی دوسروں کا سکھایا پڑھایا ہوا ‘ کبھی دیوانہ ‘ کبھی دروغ تراشی کرنے والا اور یہ سارے اقوال باہم مختلف اور متضاد ہیں۔
Ayah 50:6افلم ینظروا الی السماء فوقھم کیف بنینھا و زینھا ومالھا من فروج . کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا۔ ہم نے اس کو کیسا (اونچا اور بڑا) بنایا اور (ستاروں سے) اس کو سجایا اور اس میں کوئی رخنہ تک نہیں ہے۔
اللہ قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر کے اٹھانے پر قادر ہے۔ اس آیت میں اس کی دلیل بیان کی گئی ہے۔ ہمزۂ استفہام انکاریہ توبیخیہ ہے۔ فؔ کا عطف فعل محذوف پر ہے ‘ پورا کلام اس طرح ہے : کیا انہوں نے دوبارہ زندہ کیے جانے کی تکذیب کی ‘ پھر تکذیب کے بعد آسمان ‘ زمین وغیرہ (یعنی نشانہائے قدرت) کو نہیں دیکھا ؟
بَنَیْنٰھَا : ہم نے اس کو بنایا اور بغیر کسی ستون کے بلند رکھا اور ستاروں سے اس کو سجایا۔
وَمَالَھَا مِنْ فُرُوْجٍ : اور اس میں کہیں شگاف اور رخنہ نہیں ہے۔
Ayah 50:7والارض مددنھا والقینا فیھا رواسی وانبتنا فیھا من کل زوج بھیج تبصرۃ و ذکری لکل عبد منیب . اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑوں کو جمایا اور اس میں ہر قسم کی خوشنما چیزیں اگائیں جو ذریعہ ہے
بینائی اور دانائی کا ہر رجوع کرنے والے بندے کے لیے۔
اس کلام میں کچھ حذف و اضمار ہے ‘ اصل کلام اس طرح تھا : کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ‘ ہم نے آسمان کیسا بنایا اور کیا انہوں نے اپنے نیچے زمین کی طرف نہیں دیکھا ہم نے زمین کو کیسے پھیلایا اور بچھایا۔
رَوَاسِیَ : گڑے ہوئے پہاڑ۔
مِنْ کُلِّ زَوْجٍ : ہر قسم کا سبزہ۔
بَھِیْجٍ : حسن اور فرحت و بہجت والا۔
Ayah 50:8تَبْصِرَۃً وَ ذِکْرٰی : یہ دونوں لفظ تخلیق سماء و ارض کی علت غائی اور مقصود اصلی ہیں۔ تخلیق اشیاء کی اصل غایت ہی یہ ہے کہ ان کو دیکھ کر ایک واجب الوجود خالق ‘ قدیم وعلیم کی ہستی اور اسکی صفات پر استدلال کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ وہ ہر خرابی اور فناء سے پاک ہے۔
لِکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ : مخلوق پر غور کر کے اپنے رب کی طرف لوٹنے والے بندے کے لیے چونکہ ” عبد منیب “ کے لیے ہی یہ تخلیق نشیب و فراز ‘ بصیرت آفریں ہے ‘ اس لیے منیب کا لفظ خاص طور پر ذکر کیا۔
Ayah 50:9ونزلنا من السمآء ماء مبرکا فانبتنا بہ جنت و حب الحصید والنخل بسقت لھا طلع نضید رزقا للعباد واحینا بہ بلدۃ میتا کذالک الخروج . اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی برسایا پھر
اس سے بہت سے باغ اگائے اور کھیتی کا غلہ مُبٰرَکًا : بہت مفید ‘ کثیر النفع۔
فَاَنْبَتْنَا بِہٖ : پھر اس پانی سے ہم نے زمین میں اگائے۔ جَنّٰتٍ : باغ۔
حَبَّ الْحَصِیْدِ : حب کی اضافت الحصید کی طرف۔ اضافت عام الی الخاص ہے ‘ جیسے حق الیقین۔ کل الدراھم اور عین الشَّی ءِ میں ہے یعنی وہ غلّہ جو کاٹا جاتا ہے ‘ جیسے گیہوں ‘ جو وغیرہ۔ مراد یہ ہے کہ جو غلہ بویا جاتا ہے پھر (کاٹ کر) غذائی کام میں لایا جاتا ہے چونکہ غلّہ کا اصل مقصد اور کامل نفع یہی ہے کہ اس کو کاٹ کر غذائی کام میں لایا جائے ‘ اس لیے حب کی الحصید کی جانب خاص طور پر اضافت کردی گئی ہے یا مضاف الیہ کا موصوف محذوف ہے جیسے مسجد الجامع یعنی مسجد الصلوٰۃ الجامع اور صلوٰۃ الاولیٰ یعنی صلوٰۃ الساعۃ الاولیٰ میں ‘ اس تاویل پر حبّ الحصید کا مطلب ہوگا : حب الزرع الحصید یعنی قابل حصاد کھیتی کا غلہ۔
Ayah 50:10اور لمبے لمبے کھجور کے درخت کے گپھے خوب گوندھے ہوئے ہوتے ہیں
بٰسِقٰتٍ : لمبے لمبے کھجور کے درخت یا باسقات کا معنی ہے بوجھ اٹھانے والے ‘ بکری گابھن ہوجائے تو کہتے ہیں بَسَقَتِ الشَّاۃُ : کھجور کا درخت بہت اونچا بھی ہوتا ہے اور اس کے منافع بھی بہت ہیں ‘ اس لیے خصوصیت کے ساتھ اس کا ذکر کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : درختوں میں ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں گرتے ‘ اس کی مثال ایسی ہے جیسے مسلمان۔ بتاؤ وہ کونسا درخت ہے ؟ لوگوں کا خیال صحرائی درختوں کی طرف گیا۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ کھجور کا درخت ہے۔ (رواہ البخاری ‘ من حدیث ابن عمر ؓ
یہ بھی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنی پھوپھی یعنی کھجور کے درخت کی عزت کرو۔ تمہارے باپ آدم کی جسمانی ساخت سے جو مٹی بچ رہی تھی ‘ اس سے اس (درخت) کو بنایا گیا اور جس درخت کے نیچے مریم بنت عمران کے بطن سے (عیسیٰ کی) پیدائش ہوئی۔ اس سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک کوئی درخت نہیں۔ پس تم اپنے اہل و عیال کو کھجوریں کھلاؤ اور اگر کھجوریں نہ ہوں تو چھوارے کھلاؤ۔ (رواہ ابن ابی حاتم و ابو یعلی فی المسند و ابن عدی فی الکامل و ابن انس و ابو نعیم فی المطلب و ابن مردویہ عن علی ؓ
لَھَا طَلْعٌ : طلع ‘ پھل اور وہ جگہ جہاں سے پھل نمودار ہوتا ہے۔
نَضِیْدٌ : تہ بر تہ۔ چنا ہوا۔ اس سے مراد ہے شگوفوں کی یا پھلوں کی کثرت۔
Ayah 50:11‘ بندوں کے رزق دینے کے لیے اور ہم نے اس (پانی) کے ذریعہ سے مردہ زمین کو زندہ کیا (پس) اسی طرح زمین سے نکلنا ہوگا۔
رِزْقًا لِّلْعِبَادِ : رزقًا۔ انبتنا کا مفعول لہٗ ہے یعنی پیدا کرنے کی اصل غرض یا مفعول مطلق ہے اگرچہ انبات اور رزق کے الفاظ الگ الگ ہیں لیکن دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔
وَاَحْیَیْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا : یعنی پانی سے ہم نے خشک زمین کو جس میں کوئی روئیدگی اور سبزی نہیں تھی ‘ زندہ کردیا۔
کَذٰلِکَ الْخُرُوْجُ : یعنی جس طرح ہم زمین سے سبزہ اگاتے ہیں۔ اسی طرح ہم قبروں سے مردوں کو زندہ کر کے نکالیں گے۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دونوں صور پھونکنے کے درمیان فاصلہ چالیس سال کا ہوگا۔ حاضرین نے پوچھا : ابوہریرہ کیا چالیس دن (کا فاصلہ ہوگا ؟ ) حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : مجھے اس لفظ کے کہنے سے انکار ہے۔ لوگوں نے کہا : تو پھر چالیس مہینوں کی (مدت ہوگی) ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : میں یہ بھی نہیں کہتا۔ لوگوں نے کہا : تو کیا چالیس سال کی (مدت آپ کہنا چاہتے ہیں) ؟ فرمایا : مجھے یہ کہنے سے بھی انکار ہے۔ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :) پھر اللہ آسمان سے (پانی) نازل فرمائے گا ‘ جس سے لوگ ایسے اگیں گے جیسے سبزہ اگتا ہے۔ آدمی (کے بدن) کا ہر حصہ سوائے ایک ہڈی کے یعنی سوائے دم گزے کی ہڈی کے فنا ہوجاتا ہے۔ قیامت کے دن اسی دم گزے (عصعص) کی ہڈی سے جوڑ کر انسانی جسم بنایا جائے گا۔ ابن ابی داؤد سے بھی اسی طرح کی حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ آئی ہے۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ دونوں مرتبہ صور پھونکنے کے درمیان چالیس سال کا فصل ہوگا۔
ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ عرش کے نیچے سے پانی کا نالہ دونوں مرتبہ صور پھونکنے کی درمیانی مدت میں بہہ کر آئے گا اور یہ درمیانی مدت چالیس سال کی ہوگی۔ اس پانی سے وہ تمام انسان ‘ چوپائے اور پرندے جو بوسیدہ ‘ فرسودہ ہو کر گل گئے ہوں گے (دوبارہ سبزہ کی طرح) اگیں گے جو شخص ان کو پہلے (دُنیا میں) پہچانتا ہوگا ‘ جب دوبارہ پیدا ہونے کے بعد ان کی طرف سے گزرے گا تو پہچان نہ سکے گا ‘ اس کے بعد روحوں کو بھیجا جائے گا اور جسموں کے ساتھ ان کا جوڑا لگا دیا جائے گا۔ یہی مطلب ہے آیت : اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ کا۔
امام ابو یعلی اور بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن لوگوں کو (قبروں سے) اٹھایا جائے گا اور آسمان سے پانی کا ایک جھالا ان پر پڑے گا۔ آئندہ آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے اور کافروں کو عذاب کی دھمکی دینے کے لیے (گزشتہ انبیاء اور ان کی امتوں کا) بطور مثال ذکر فرمایا ہے۔
Ayah 50:12ان سے پہلے قوم نوح اور رس والے اور ثمود
قَبْلَھُمْ : یعنی کفار مکہ سے پہلے۔
قَوْمُ نُوْحٍ : حضرت نوح نے نو سو پچاس برس اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا (یعنی تبلیغ کی) مگر انہوں نے آپ کو جھوٹا سمجھا۔ آخر طوفان نے ان کو آپکڑا اور سوائے ان لوگوں کے جو آپ پر ایمان لے آئے تھے ‘ سب کو غرق کردیا۔ حضرت نوح اور آپ کے مؤمن ساتھی محفوظ رہے۔
اَصْحَاب الرَّسِّ : صاحب قاموس نے لکھا ہے : رَس کسی چیز کی ابتداء۔ وہ کنواں جس کی مَن (گھیرا) پتھروں سے بنائی گئی ہو۔ وہ کنواں جو بقیہ نسل ثمود نے بنایا تھا۔ ان لوگوں نے اپنے زمانے کے پیغمبروں کی تکذیب کی اور پیغمبر کو اس کنویں میں پاٹ دیا۔ کھودنا ‘ میّت کو دفن کرنا ‘ رس کے یہ تمام معانی آئے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : رس کنویں کو اور اس باؤلی کو کہتے ہیں جس کی چو طرفہ من پتھروں سے اور پختہ اینٹوں سے نہ بنائی گئی ہو۔ بعض نے کہا : رس کا معنی ہے معدن۔ اس کی جمع رسائس آتی ہے۔
اصحاب الرس کون تھے ؟ بعض علماء کے نزدیک تو یہ وہی لوگ تھے جن کا ذکر صاحب قاموس نے کیا ہے یعنی نسل ثمود کے بقیہ لوگ۔ بغوی نے بروایت ابو روق ‘ ضحاک کا قول بیان کیا ہے کہ حضرموت کے ایک شہر میں جس کو حاصورا کہا جاتا تھا ایک کنواں تھا ‘ حضرت صالح پر جو لوگ ایمان لے آئے تھے وہ چار ہزار تھے جو عذاب سے محفوظ رہے تھے۔ یہ لوگ حضرت صالح کے ساتھ مقام حضرموت میں آکر آباد ہوگئے۔ یہاں پہنچنے کے بعد حضرت صالح کی وفات ہوگئی۔ اسی لیے اس مقام کا نام حضرموت ہوگیا یعنی حضرت صالح کی موت (اس جگہ) حاضر ہوگئی۔ لوگوں نے اس مقام پر ایک حصار بنا دیا اور کنویں کے آس پاس مقیم ہوگئے اور اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو اپنا سردار بنا لیا۔ ایک طویل مدت اسی طرح گزر گئی ‘ نسلوں کی تعداد بھی بہت بڑھ گئی ‘ رفتہ رفتہ یہ لوگ بتوں کی پوجا کرنے لگے۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے ایک پیغمبر کو مبعوث فرمایا جن کا نام حنظلہ بن صفوان تھا۔ نبوت سے پہلے یہ نبی بوجھ اٹھانے والے ایک قلی تھے۔ بت پرستوں نے بازار میں حضرت حنظلہ کو شہید کردیا ‘ جس کے نتیجہ میں اللہ نے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ کنواں بھی بیکار ہوگیا اور محلات بھی ویرانے میں تبدیل ہوگئے۔ انہیں کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : وَبِءْرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ ۔
سعید بن جبیر نے کہا : اصحاب الرس میں ایک پیغمبر تھا جس کو حنظلہ بن صفوان کہا جاتا تھا۔ اصحاب الرس نے پیغمبر کو قتل کردیا ‘ اس کے نتیجہ میں اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔
وہب بن منبہ نے کہا : اصحاب الرس ایک کنویں کے مالک تھے ‘ مویشی بھی انکے پاس تھے (یعنی مویشی پالتے تھے) بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ اللہ نے انکی ہدایت کے لیے شعیب ( علیہ السلام) پیغمبر کو بھیجا۔ شعیب ( علیہ السلام) نے ان کو اسلام کی دعوت دی لیکن انکی سرکشی بڑھتی ہی گئی۔ ایک روز جبکہ کنوئیں کے آس پاس لوگ اپنے اپنے گھروں میں تھے۔ کنواں ڈھ گیا اور اللہ نے سب کو مع مکانوں کے زمین میں دھنسا دیا۔
قتادہ اور کلبی نے کہا : رس ‘ یمامہ میں ایک کنواں تھا ‘ ان لوگوں نے اپنے نبی کو قتل کردیا۔ اللہ نے ان سب کو ہلاک کردیا۔
کعب ‘ مقاتل اور سدی نے کہا : رسؔ انطاکیہ میں ایک کنواں تھا جس میں حبیب نجار کو (لوگوں نے پھینک) کر شہید کردیا تھا۔ انہیں لوگوں کا ذکر سورة یٰسین میں آیا ہے۔
بعض علماء نے کہا ہے : اصحاب الاخدود ہی اصحاب الرس تھے۔ انہوں نے ہی وہ کنواں کھودا تھا۔ عکرمہ نے کہا : ان لوگوں نے کنویں میں اپنے نبی کو پاٹ دیا تھا۔
وَ ثَمُوْدُ : اس قوم نے پیغمبروں کی تکذیب کی ‘ ان کے بھائی صالح ( علیہ السلام) (پیغمبر) نے ان سے کہا : تم اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ میں تمہاری ہدایت کے لیے امانتدار پیغمبر (بنا کر بھیجا گیا) ہوں۔ میرا کہا مانو ‘ اللہ سے ڈرو ‘ کہنے لگے : تیرے اوپر تو جادو کردیا گیا ہے تو ہم جیسا آدمی ہے (پیغمبر نہیں ہے) اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔ حضرت صالح ( علیہ السلام) کی دعا سے ایک دس ماہ کی گابھن اونٹنی ایک پتھر سے برآمد ہوگئی اور اس کا بچہ بھی اسی جیسا پیدا ہوگیا۔
(یہ اونٹنی ایک دن سارا پانی پی جاتی تھی اور دوسرے دن جانوروں کے لیے چھوڑ دیتی تھی ‘ اس طرح ایک دن کا پانی اونٹنی کا اور ایک دن کا پانی قوم کے جانوروں کا مقرر کردیا گیا تھا) حضرت صالح ( علیہ السلام) نے کہہ دیا ‘ پانی کا ایک مقرر حصہ (یعنی ایک دن کا پانی) اونٹنی کا ہے اور ایک دن کا تم لوگوں کا۔ اس کو تکلیف دینے کے لیے ہاتھ بھی نہ لگانا ‘ ورنہ سخت عذاب تم کو آپکڑے گا لیکن ان لوگوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں ‘ پھر پشیمان بھی ہوئے (مگر بیکار) حضرت صالح ( علیہ السلام) نے کہہ دیا تین روز تک اپنے گھروں میں مزے اڑاؤ (اس کے بعد عذاب نازل ہوجائے گا) یہ دھمکی جھوٹی نہیں ہے ‘ غرض عذاب آگیا۔ صالح ( علیہ السلام) اور ان کے ساتھ وہ لوگ جو ایمان لائے تھے عذاب سے محفوظ رہے اور ظالموں کو ایک چیخ نے پکڑ لیا اور سب کے سب گھروں میں زمین سے چمٹے ہوئے مردہ ہوگئے۔
Ayah 50:13اور عاد
اور فرعون اور قوم لوط
وَعَادٌ : اور قوم عاد نے پیغمبروں کو جھٹلایا ‘ ان کے بھائی ہود (پیغمبر) نے کہا : کیا تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں ڈرتے۔ میں رسول امین ہوں ‘ تمہاری ہدایت کے لیے آیا ہوں ‘ اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ غرض اللہ نے ایک تیز طوفان بھیج کر ان کو ہلاک کردیا۔ طوفان ان پر سات رات اور آٹھ دن مسلط رہا۔ جس نے ان کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیا۔ لمبے لمبے زمین پر ایسے پڑے تھے جیسے درخت کھجور کے کھوکھلے تنے۔
وَ فِرْعَوْنُ : اور فرعون اور اس کی قوم عمالقہ نے تکذیب کی۔ اللہ نے موسیٰ اور ہارون کو اس کے پاس بھیجا اور فرمایا : فرعون کے پاس جاؤ ‘ وہ سرکش ہوگیا ہے اس سے کہو کیا تو پاک ہونے کا خواہش مند ہے اور کیا تو چاہتا ہے کہ میں تجھے تیرے رب تک پہنچنے کا راستہ بتاؤں اور تیرے اندر خشیت پیدا ہوجائے۔ موسیٰ نے اس کو بڑا معجزہ دکھایا۔ زمین پر اپنی لاٹھی کو پھینک دیا وہ فوراً سانپ بن کر دوڑنے لگی اور ایک اور نشان نبوت بھی دکھایا ‘ اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو بغیر کسی بیماری کے وہ گورا (آفتاب کی طرح چمکیلا) ہو کر برآمد ہوا۔ لیکن فرعون نے موسیٰ کی تکذیب کی اور منہ پھیر کر (اپنے درباریوں سے) کہنے لگا : میں تم سب کا ربِّ اعلیٰ ہوں۔ اللہ نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو رات کو باہر نکال کر (مصر سے) لے جاؤ۔ (موسیٰ نے حکم کی تعمیل کی) جب دریا پر پہنچے تو متحیر ہوگئے کہ دریا کو عبور کیسے کریں ؟ اللہ نے فرمایا : اپنی لاٹھی دریا پر مارو۔ موسیٰ نے پانی میں لاٹھی ماری ‘ پانی پھٹ کر ادھر ادھر بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا اور راستہ پایاب نکل آیا۔ موسیٰ بنی اسرائیل کو لے کر دریا میں گھس پڑے۔ اس طرح اللہ نے موسیٰ اور بنی اسرائیل کو فرعون کے پنجہ سے نجات دے دی۔
فرعون اور اس کے لشکر نے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا اور موسیٰ کے پیچھے وہ بھی دریا میں گھس گئے۔ فوراً دریا کی عظیم الشان موج آئی اور ان پر چھا گئی۔ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا : میں نے مان لیا کہ سوائے اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان رکھتے ہیں اور کوئی معبود نہیں اور میں اس کے فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اب ایمان لایا اور اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا اور تباہی پھیلانے والوں میں سے تھا۔ آج تیرا رب تیری لاش کو بچا لے گا تاکہ آنے والے لوگوں کے لیے تو عبرت بن جائے ‘ الخ۔
وَاِخْوَانُ لُوْطٍ : اور لوط کے بھائی بندوں یعنی قوم والوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا ‘ ان کے بھائی لوط نے کہا : کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟ میں امانت دار قاصد ہوں ‘ تمہارے پاس مجھے بھیجا گیا ہے۔ اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو ‘ سارے جہان میں کیا تم ہی (ایسے بےحیاء ہو کہ) مَردوں پر چڑھ بیٹھے ہو اور تمہارے رب نے جو (عورتیں) تمہارے لیے پیدا کی ہیں ‘ ان سے ترک تعلق کرتے ہو ‘ بلاشبہ تم حد سے آگے بڑھ جانے والے لوگ ہو۔ کہنے لگے : لوط ! اگر تو اپنی اس نصیحت سے باز نہیں آیا تو بستی سے نکال دیا جائے گا۔ لوط ( علیہ السلام) نے کہا : مجھے تمہارے عمل سے سخت نفرت ہے۔ آخر اللہ نے لوط کو اور سوائے ان کی بیوی کے باقی اہل و عیال کو عذاب سے محفوظ رکھا۔ بیوی پیچھے رہنے والوں (یعنی کافروں) میں سے تھی (اس لیے ہلاک کردی گئی) اللہ نے ان پر کنکریلے پتھر جو کہ (ہر ایک کے لیے الگ الگ) نشان زدہ تھے ‘ برسائے۔
Ayah 50:14اور بَن والے اور تبع کی قوم (پیغمبروں کی) تکذیب کرچکے ہیں۔ سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ سو میری وعید (عذاب) ان پر واقع ہوگئی۔
وَاَصْحَابُ الْاَیْکَۃ : اور بن والوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی۔ حضرت شعیب ( علیہ السلام) نے ان سے کہا : کیا تم (اللہ کے عذاب سے) نہیں ڈرتے ؟ میں امانتدار قاصد ہوں۔ مجھے تمہارے لیے بھیجا گیا ہے۔ اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو ‘ ناپ پورا پورا دیا کرو ‘ ناپ کردینے میں کمی نہ کیا کرو اور سیدھی (صحیح) ترازو سے تول کردیا کرو ‘ تول کر ‘ دینے میں کمی نہ کیا کرو (یعنی تولنے میں ڈنڈی نہ مارا کرو) اور زمین پر تباہی مت پھیلاؤ۔ قوم والوں نے کہا : (اس بکواس کی اور کوئی وجہ نہیں) بس تیرے اوپر تو کسی نے جادو کردیا ہے (تو خدا کا پیغمبر نہیں ہے) بس ہم جیسا آدمی ہے۔ ہم بلاشبہ تجھے جھوٹا سمجھتے ہیں ‘ اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان سے (عذاب کا) کوئی ٹکڑا گرا دے۔ غرض شعیب کو قوم والوں نے جھٹلایا۔ نتیجہ میں (آتشیں) سایہ کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔ سخت گرمی کی وجہ سے سرنگوں اور تہ خانوں میں گھسنے لگے۔ وہاں اور بھی شدت کی گرمی محسوس ہوئی تو باہر نکلے۔ اللہ نے ان کے اوپر ایک (آتشیں) بادل کا ٹکڑا سایہ فگن کردیا ‘ اسی کو آیت میں ظُلّہ کہا گیا ہے۔ سب لوگ اس بادل کے نیچے جمع ہوگئے۔ سب اکٹھے ہوگئے تو بادل سے ایک آگ برسی اور سب جل گئے۔
وَ قَوْمُ تُبَّعٍ : بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ نے بیان کیا۔ تُبَّع یمن کے بادشاہوں میں سے ایک حمیری بادشاہ تھا۔ یہ اپنی فوجیں لے کر حیرہ اور سمرقند تک گیا تھا۔ اس کے تابع بہت زیادہ لوگ تھے ‘ اسی لیے اس کو تبع کہا جاتا تھا۔ تبع بھی بہت تھے اور چونکہ ایک دوسرے کے پیچھے (بغیر فصل کے) بادشاہ ہوتا تھا۔ اس لیے ان میں سے ہر ایک کو تبع کہا جاتا ہے۔ تبع پہلے آتش پرست تھا ‘ پھر اسلام لے آیا اور اپنی قوم کو بھی اسلام کی دعوت دی۔
محمد بن اسحاق وغیرہ نے بوساطت عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ آخری تبع اسعد بن ابوکرب بن ملیک بن یکرب تھا ‘ اسعد مشرق سے آتے ہوئے مدینہ پر سے گزرا اور مدینے میں اپنے ایک بیٹے کو اپنا قائم مقام بنا کر خود چلا گیا۔ بیٹے کو کسی نے قتل کردیا یہ خبر پا کر اسعد مدینہ کو اس بات کا پختہ ارادہ کر کے آیا کہ مدینہ کو بیخ و بن سے اکھاڑ دے گا۔ انصار کے اس قبیلہ (یعنی اوس اور خزرج) کو جب اسعد کے اس ارادے کی اطلاع ملی تو اسعد سے لڑنے اور مقابلہ کرنے کے لیے مدینہ کے باہر جمع ہوگئے۔
قبائل انصار اسعد کے لشکر سے دن میں تو لڑتے تھے اور رات کو ان کی مہمانی کرتے (یعنی کھانا کھلاتے) تھے۔ اسعد کو اس پر بڑا تعجب ہوا۔ کہنے لگا : یہ بڑے شریف لوگ ہیں۔
انہی ایّام میں بنی قریظہ کے دو یہودی عالم کعب اور اسد ‘ اسعد کے پاس آئے اور عرض کیا : بادشاہ سلامت آپ کو اپنے ارادے سے باز آجانا چاہیے اگر آپ اپنی ضد پر قائم رہے تب بھی آپ کی مراد حاصل نہ ہوگی۔ کوئی (غیبی) رکاوٹ پڑجائے گی۔ اس صورت میں آپ کسی (غیبی) فوری مصیبت سے مامون نہیں رہیں گے۔ یہ ایک نبی کی ہجرت گاہ ہے ‘ جو اس قبیلۂ قریش میں پیدا ہوگا اس کا نام محمد ﷺ ہوگا۔ مکہ اس کی جائے پیدائش اور مدینہ مقام ہجرت ہے۔ یہاں جس جگہ آپ اترے ہیں اسی جگہ اس نبی کے ساتھیوں کی اور اس کے دشمنوں کی لڑائی ہوگی ‘ جس میں کچھ لوگ مجروح و مقتول ہوں گے ‘ اسعد نے کہا : جب وہ نبی ہوگا تو اس سے لڑے گا کون ؟ کعب اور اسعد نے کہا : اس کی قوم والے یہاں آکر اس سے لڑیں گے۔
یہودیوں کی یہ باتیں سن کر اسعد اپنے خیال سے باز آگیا۔ دونوں عالموں نے اس کو اپنے دین یعنی اصل یہودی مذہب کی طرف بلایا تو اس نے یہ دعوت قبول کرلی اور یہودی دین اختیار کرلیا اور دونوں عالموں کی بڑی عزت کی اور مدینہ سے واپس چلا گیا۔ واپسی میں ان دونوں کو اور کچھ اور یہودیوں کو ساتھ لے کر یمن جانے کے ارادے سے روانہ ہوگیا۔ راستہ میں قبیلہ ہذیل کے کچھ آدمی اس سے ملے اور کہنے لگے : ہم آپ کو ایک ایسا گھر بتاتے ہیں جس کے اندر موتیوں اور زبرجد اور چاندی کا خزانہ (مدفون) ہے۔ اسعد نے کہا : مکہ میں ایسا کونسا گھر ہوسکتا ہے ؟ حقیقت میں بنی ہذیل نے اسعد کو ہلاک کرنا چاہا تھا کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ بیت اللہ کے متعلق برا ارادہ رکھنے والا ہلاکت سے بچ نہیں سکتا۔
یہودی علماء سے جب اسکا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا اس (کعبہ) کے علاوہ کوئی اور ایسا گھر ہمارے علم میں نہیں ہے (جس کے متعلق برا ارادہ کرنے والا ہلاک نہ کردیا گیا ہو) آپ اسی گھر کو عبادت خانہ بنا لیں۔ اس کا حج کریں ‘ قربانی کریں اور اسکے پاس سر منڈوائیں۔
یہودی عالموں سے جب اسعد نے یہ بات سنی تو ہذیل کے ان آدمیوں کو (جنہوں نے اسعد کو اغوا کرنا چاہا تھا) پکڑ کر ہاتھ پاؤں کٹوا کر ‘ آنکھوں میں سلائی پھیر کر صلیب پر لٹکوا دیا۔ پھر مکہ میں جا کر شعب مصالح میں اترا اور کعبہ کو غلاف پہنایا۔ اسعد ہی پہلا شخص تھا جس نے کعبہ کو غلاف پوش کیا۔ شعب میں چھ ہزار اونٹوں کی قربانی کی ‘ چھ دن یہاں قیام کیا۔ طواف کیا اور سر منڈوایا پھر واپس چلا گیا۔ جب یمن کے قریب پہنچا اور حدود یمن میں داخل ہونا چاہا تو قبیلہ حمیر والوں نے یمن میں داخلہ سے روکا اور کہا : تم نے ہمارا مذہب چھوڑ دیا اس لیے یمن کے اندر تم داخل نہیں ہوسکتے۔ اسعد نے حمیر والوں کو مذہب یہودیت کی دعوت دی اور کہا : یہ دین تمہارے دین سے بہتر ہے۔ حمیر والوں نے کہا : چلو آگ کے پاس یہ معاملہ رکھو۔ آگ سے فیصلہ کراؤ۔
یمن کے اندر ایک پہاڑ کے نشیب میں ایک آگ تھی۔ لوگ نزاعی معاملات اس کے پاس لے جاتے تھے۔ آگ (غار کے اندر سے) نکل کر ظالم کو کھا جاتی تھی اور مظلوم کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچاتی تھی۔ تبع نے کہا : تم نے یہ بات انصاف کی کہی۔ چناچہ حمیر والے اپنے بتوں کو اور ان کے دین پر جو بھینٹ کی چیزیں ہوتی تھیں ‘ ان سب کو لے کر نکلے اور دونوں یہودی عالم اپنی مذہبی کتابیں گلے میں ڈال کر برآمد ہوئے اور یہ سب لوگ اس جگہ جا کر بیٹھ گئے ‘ جہاں سے آگ نکلتی تھی۔ کچھ دیر کے بعد آگ نکلی اور سب کو ڈھانک لیا۔ بتوں کو اور بھینٹ کے سامان کو تو کھالیا اور یہودی عالم جن کی گردنوں میں مذہبی صحیفے آویزاں تھے ‘ برابر ان کو پڑھتے رہے۔ پیشانی سے پسینہ تو بہنے لگا اور کوئی ضرر نہیں پہنچا۔ آگ جہاں سے نکلی تھی ‘ وہیں واپس چلی گئی۔ اس کے بعد حمیر والوں نے بھی بالاتفاق اصل دین یہودیت اختیار کرلیا۔
ابو حاتم نے رقاشی کا قول نقل کیا ہے کہ ابو کرب اسعد حمری بتابعہ میں سے تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے سات سو سال پہلے ہی آپ پر ایمان لے آیا تھا۔
ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ کعب نے کہا : اللہ نے تبع کی قوم کی تو مذمت کی ‘ تبع کی مذمت نہیں کی۔
حضرت عائشہ فرماتی تھیں تبع کو برا مت کہو وہ اسلام لے آیا تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ تبع نبی تھے یا نہ تھے۔
کُلٌّ : یعنی ہر ایک شخص نے یا ہر امت نے یا سب نے پیغمبروں کی تکذیب کی چونکہ ایک پیغمبر کی تکذیب تمام پیغمبروں کی تکذیب ہے اس لیے کَذَّبَ الرُّسُلَ : (بصیغہ جمع) فرمایا یا یوں کہا جائے کہ ان میں سے کوئی بھی اللہ کی توحید پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ سب کے سب توحید ہی کے منکر تھے اس لیے پیغمبروں کے آنے کے منکر بدرجۂ اولیٰ تھے۔
فَحَقَّ : پس واجب ہوگیا ‘ محقق ہوگیا۔
وَعِیْدِ : میرا عذاب جس میں ان تکذیب انبیاء کرنے والے کافروں کو مبتلا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
Ayah 50:15افعیینا بالخلق الاول بل ھم فی لبس من خلق جدید . کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے میں تھک گئے بلکہ یہ لوگ از سرِ نو پیدا کرنے کی طرف سے (بلا دلیل) شبہ میں ہیں۔
قاموس میں ہے عَیَّ بالْاَمْرِ اس نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کا راستہ نہیں پایا یا حصول مقصود سے عاجز ہوگیا اور طاقت نہیں رہی
اَفَعَیِیْنَا : میں ہمزہ انکاری ہے اور فَ عاطفہ تعقیبیہ ہے۔ آیت : اَفَلَمْ یَنْظُرُوْا اِلَی السَّمَآ ءِ سے مَآءٍ..... پر اس کا عطف ہے اور کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ : سے آخر تک معترضہ جملے ہیں ‘ خلاصہ مطلب اس طرح ہوگا ‘ ہم نے آسمان کو بغیر کسی شگاف اور رخنہ کے بنایا۔ زمین کو پھیلایا ‘ پہاڑوں کو جمایا۔ آسمان سے پانی برسایا۔ پانی سے کھیتیوں کو اگایا اور تمہارا مشاہدہ اور اعتراف ہے کہ ہم پہلی مرتبہ ان سب چیزوں کو پیدا کرنے سے عاجز نہیں ہوئے تو دوبارہ تخلیق سے کس طرح عاجز ہوسکتے ہیں۔ تخلیق اوّل ‘ تخلیق دوم سے آسان نہیں تھی ‘ پھر کیا وجہ ہے کہ تخلیق اوّل کا اعتراف کرنے والے تخلیق ثانی کے منکر ہیں۔
فِیْ لَبْسٍ : لبس کا معنی ہے مخلوط ہوجانا ‘ مشتبہ ہوجانا ‘ اس جگہ مراد ہے شک۔ لبس کا لغوی ترجمہ ہے چھپانا ‘ شک کی حالت میں بھی باطل حق کے ساتھ مخلوط ہوجاتا ہے اور حق کو چھپا لیتا ہے۔ ( علیہ السلام)
خَلْقٍ جَدِیْدٍ : یعنی دوبارہ تخلیق۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ فرماتا ہے آدم کے بیٹے نے میری تکذیب کی اور یہ تکذیب اس کو سزاوار نہ تھی۔ اس نے مجھے گالی دی اور یہ اس کے لیے جائز نہیں تھا ‘ تکذیب تو یہ کی کہ اس نے کہا : خدا نے پہلی مرتبہ جو مجھے پیدا کردیا اب دوبارہ مجھے پیدا نہیں کرسکے گا۔ حالانکہ تخلیق اوّل میرے لیے تخلیق ثانی سے آسان نہیں تھی اور مجھے گالی اس نے اس طرح دی کہ (اس نے میرے لیے اولاد قرار دی اور) اس نے کہا کہ اللہ نے اپنے لیے صاحب اولاد ہونا اختیار کیا حالانکہ میں اکیلا ہوں ‘ بےنیاز ہوں ‘ نہ کسی کا والد ہوں ‘ نہ مولود ‘ نہ کوئی میرا ہمسر ہے۔ (رواہ البخاری عن ابی ہریرہ ؓ و ابن عباس ؓ
Ayah 50:16ولقد خلقنا الانسان و نعلم ما تو سوس بہ نفسہ و نحن اقرب الیہ من حبل الورید .
اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے جی میں جو خیالات آتے ہیں ‘ ہم ان کو جانتے ہیں اور اس کے اتنے قریب ہیں کہ اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ۔
مَاتُوَسْوِسُ : وسوسہ کا لغوی معنی ہے پوشیدہ (چپکے کی) آواز۔ اس جگہ مراد ہے دل میں پیدا ہونے والا خیال۔ یعنی ہم نے انسان کو اور ہر چیز کو خواہ جوہر ہو یا عرض اپنے ارادہ اور اختیار سے پیدا کیا اور تخلیق بالارادہ اسی وقت ہوسکتی ہے جب اس سے پہلے اس کا علم ہو (علم کے بغیر ارادے کا کوئی معنی نہیں) ۔
وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ : حبل (رسّی) یعنی رگ۔ ورید حبل کا بیان ہے جیسے شجرۃ الاراک اور یوم الجمعہ میں اضافت بیانیہ ہے ‘ گلے کے دائیں بائیں دو رگیں ہیں جن کا تعلق اور اتصال دل کی رگ سے ہے ‘ ان دونوں کو ورید کہا جاتا ہے۔ ورید کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ دونوں سر سے اتر کر گردن کی طرف آتی ہیں۔ بعض نے کہا : روح اس رگ کی طرف اترتی ہے (معلوم نہیں ‘ روح سے کونسی روح مراد ہے ‘ طبعی یا نفسانی یا حیوانی یا شرعی روح) ۔
قریب ہونے سے کیا مراد ہے ؟ بعض علماء کے نزدیک قرب علمی مراد ہے (کیونکہ ذات خداوندی تو ہر مکان سے بالا اور منزّہ ہے ‘ وہ نہ جسم ہے نہ جسمانی ‘ ہر قرب و بعد مکانی سے پاک ہے۔
بیضاوی نے اسی قول کو پسند کیا ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ حبل الورید سے قریب ترین شخص سے بھی زیادہ قریب ہمارا علم ہے۔ ہم انسان کو اس شخص سے بھی زیادہ جانتے ہیں جو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہو۔ قرب ذات سے مراد مجازاً قرب علمی ہے کیونکہ قرب شخصی سے قرب علمی حاصل ہوتا ہے (سبب بول کر مسبب مراد لینا مجاز کی ایک قسم ہے) حبل الورید کو قرب کامل ظاہر کرنے کے لیے بطور مثال بیان کیا جاتا ہے۔ عرب کہتے ہیں : ” موت ورید سے بھی زیادہ میرے قریب ہے۔ “
بغوی نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہم انسان کو اتنا زیادہ جانتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو بھی اتنا نہیں جانتا کیونکہ انسان کے بعض اجزاء دوسرے اجزاء کے علم کے لیے حاجب اور مانع ہوجاتے ہیں لیکن اللہ کے علم کے لیے کوئی چیز حاجت نہیں ہوسکتی۔ اس مطلب پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ طبیب حبل الورید سے بھی زیادہ مریض کے قریب ہوتا ہے کیونکہ طبیب مریض کی صحت و بیماری کی جو حالت جانتا ہے وہ مریض خود اپنی نہیں جانتا اگرچہ طبیب کا علم استدلالی ہوتا ہے (اور مریض کا علم وجدانی) خصوصاً اگر کوئی چیز بالکل معدوم العلم اور مفقود العقل ہو تو وہ اپنے متعلق کچھ بھی نہیں جانتا۔ دوسرا شخص اس کے کچھ حالات جانتا ہے ‘ مثلاً آسمان مفقود العلم ‘ محروم الفہم ہے ‘ اپنے آپ کو کچھ نہیں جانتا ‘ تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ میں آسمان سے اتنا قریب ہوں کہ آسمان خود اپنے آپ سے اتنا قریب نہیں ہے۔ پس اگر اللہ کے اقرب ہونے کے یہی معنی ہیں کہ مخلوق اپنے نفس کو اتنا نہیں جانتی جتنا اس کو اللہ جانتا ہے تو یہ خدا کے علم پر محدود نہیں ہے (ہر علم والا معدوم العلم کے احوال اتنے جانتا ہے جتنا وہ خود نہیں جانتا ‘ اس لیے کہنا پڑے گا کہ ہر علم رکھنے والا مفقود العلم سے اتنا قریب ہے کہ وہ اپنے آپ سے اتنا قریب نہیں ہے) اللہ کی اقربیت بایں معنی میرے نزدیک صحیح نہیں ہے۔
صوفیہ کہتے ہیں مخلوق سے اللہ کی اقربیت ذاتی ہے نہ زمانی ہے نہ مکانی نہ کیفی (نہ مقداری) اللہ کی اس اقربیت کا ادراک نور فراست سے حاصل ہوتا ہے ‘ حواس یا عقلی استدلال سے حاصل نہیں ہوتا۔
زیادہ سے زیادہ اقربیت خداوندی کو قابل فہم بنانے کیلئے یوں کہا جاسکتا ہے کہ سارا جہان اپنے وجود اور بقائے وجود کے لیے واجب کا ایسا ہی محتاج ہے جیسے سایہ اصل کا محتاج ہوتا ہے۔ بغیر اصل کے سایہ کا نہ وجود ہوتا ہے نہ بقائے وجود ‘ اصل ظل سے اتنا قریب ہوتا ہے کہ ظل اپنی ذات سے بھی اتنا قریب نہیں ہوتا ‘ اسی طرح ممکن اپنے نفس سے اتنا قریب نہیں ہے جتنا واجب اس سے قریب ہے کیونکہ واجب کی جانب ممکن کی نسبت اگر نہ ہو تو ممکن واجب بالغیر نہیں ہوگا (ممکن کے وجود کی ترجیح عدم پر نہ ہوگی۔ مترجم) اور جب تک ممکن واجب بالغیر نہ ہوگا (یعنی جہت وجود عدم پر راجح نہ ہوگی) اس وقت تک ممکن کا وجود نہ ہوگا اور جب تک موجود نہ ہوگا تو خود ممکن کا اپنی ذات پر حمل اولی بھی صحیح نہ ہوگا (زید کو زید اسی وقت کہا جائے گا جب زید موجود ہو اگر زید موجود نہ ہو تو اپنی ذات سے زید کی نفی صحیح ہوگی) کیونکہ وجود موضوع کے بغیر حمل ایجابی صحیح نہیں ہوتا (پس زید کو زید کہنا اسی وقت درست ہوگا جب زید موجود ہو اگر زید کا وجود ہی نہ ہو تو اس کو زید کیسے کہہ سکتے ہیں۔ زَیْدٌ زَیْدٌ : زید زید ہے) کا معنی ہے کہ وجود زید زید ہے۔ وجود زید ہی نہ ہو تو پھر کیا چیز زید ہوگی۔
(حضرت مفسرکا یہ کلام عام منطقیوں کے مسلمہ کلیہ پر مبنی ہے : ثُبُوْتُ شَیْ ءٍ لِشَیْ ءٍ فَرْعُ وُجُوْدِ الْمُثْبَتِ لَہٗ : اہل منطق کا تسلیم شدہ ضابطہ ہے لیکن اہل تحقیق کے نزدیک یہ کلیہ غلط ہے۔ ثبود محمول وجود موضوع پر ہر جگہ موقوف نہیں ہے اگر وجود کا ثبوت ماہیت کے لیے ہو اور ذات زیدٍ موجودۃٌ کہا جائے تو کیا موجودۃٌ کے ثبوت سے پہلے ماہیت زید کا وجود ضروری ہوگا اور یہ بداہۃً غلط ہے کہ موجود ہونے سے پہلے کسی شے کا وجود ہو اسی لیے میر باقر نے افق المبین میں صراحت کردی ہے کہ ثبوت وجود للماہیتہ تقرر ماہیت کی فرع ہے ‘ وجود ماہیت کی فرع نہیں ہے۔ ثبوت وجود سے پہلے ماہیت کا تقرر ہونا ضروری ہے ‘ مترجم) ۔
پس ذات ممکن سے وجود ممکن اتنا قریب ہے کہ ممکن اپنی ذات سے بھی اتنا قریب نہیں ہے کیونکہ (اگر وجود ذات ملحوظ نہ ہو تو) ذات ممکن کی نفی ذات ممکن سے جائز ہے۔ سلب شئی عن نفسہ اس وقت محال ہے جب وہ شے موجود ہو اور اگر موجود نہ ہو تو نفی شئی عن نفسہ محال نہیں ہے۔ پس ذات خداوندی ممکن سے اتنی قریب ہے کہ ممکن اپنی ذات سے بھی اتنا قریب نہیں ہے۔ وجدان میں اگرچہ بعد نظر آتا ہے لیکن بالذات قریب تر ہے۔
یاد رکھو کہ وجود سے مراد مصدری معنی نہیں بلکہ وہ صفت مراد ہے جس سے کسی چیز کی موجودیت ہوتی ہے۔
صوفیہ تمام عالم کی نسبت دائرۂ ظلال کی جانب اور ظلال کی نسبت صفات کی جانب اور صفات کی نسبت ذات کی جانب کرتے ہیں اور ظلال کے مدارج بہت ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : اِنَِّ ﷲِ سبعین الف .... اللہ کے لیے نور و ظلمت کے ستّر ہزار حجاب ہیں ‘ اگر وہ گرہ کھول دے تو اس کے چہرے کے چمکارے (جلوے) حد نظر تک ساری مخلوق کو جلا ڈالیں۔ اسی طرح صفات کے مدارج غیر متناہی ہیں ‘ اللہ نے خود فرمایا ہے اگر زمین میں جتنے درخت ہیں وہ سب قلم بن جائیں اور سمندر روشنائی ہوجائیں اور سات سمندر اور (روشنائی بننے میں) ان کی مدد کریں (اور صفات الٰہیہ کو لکھیں) تو کلمات اللہ (یعنی صفات خداوندی) ختم نہیں ہوں گے۔ ایک اور آیت میں فرمایا ہے : جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ باقی رہنے والا (یعنی غیر فانی اور غیر مختتم) ہے۔
حضرت مجدد قدس سرہٗ نے فرمایا : اللہ سبحانہٗ وراء الوراء ہے پھر وراء الوراء ہے پھر وراء الوراء ہے ‘ اس کی جہت میں قرب ہے دوری نہیں ہے۔ یعنی ظلال صفات کا ممکن سے قرب اتنا زیادہ ہے کہ ممکن کا اپنی ذات سے بھی اتنا قرب نہیں ہے اور صفات خداوندی کا ممکن سے قرب اتنا زائد ہے کہ نہ اتنا قرب ممکن کا اپنی ذات سے ہے نہ ظلال کا ممکن کی ذات سے اور اللہ کا قریب ممکن سے اتنا زیادہ ہے کہ اتنا قرب نہ ممکن کا اپنی ذات سے ہے ‘ نہ ظلال صفات کا ‘ نہ صفات کا۔
فائدہ آیت میں انسان سے خدا کا قرب جو مستفاد ہو رہا ہے اس میں کوئی خصوصیت نہیں ‘ نہ کافر کی ‘ نہ مؤمن کی ‘ نہ کسی اور مخلوق کی۔ ساری کائنات سے اللہ قریب تر ہے۔ یہاں تک کہ کافروں سے بھی۔ اس قرب عام کے علاوہ اللہ کا ایک اور قرب خاص بھی ہے ‘ مذکورہ قرب عمومی اور اس قرب خصوصی میں صرف نام کا اشتراک ہے (دونوں کو قرب ہی کہا جاتا ہے) لیکن حقیقت دونوں کی جدا جدا ہے۔ اس قرب کا ادراک بھی نور فراست اور کتاب و سنت سے ہوتا ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے : وَاسْجُدُ وَاقْتَرِبْ . دوسری جگہ فرمایا : اَﷲُ مَعَنَا . تیسری آیت میں فرمایا : اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ ایک اور آیت میں آیا ہے۔ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٌ اور ‘ اور جگہ آیا ہے : عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ قول نقل فرمایا ہے۔ نوافل کے ذریعہ سے بندہ برابر میرے قریب ہوتا جاتا ہے۔ اسی مقام قرب کو ولایت کہتے ہیں۔ اس کے مدارج و مراتب بیشمار ہیں۔ اس کے برعکس وہ بعد (دُوری) ہے جو کافروں کے لیے مخصوص ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے : اَلاَ بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ ھُوْدٍ ۔۔ اِلاَ بُعْدًا لِّثَمُوْدَ ۔۔ اَلاَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ.
Ayah 50:17اذ یتلقی المتلقین عن الیمین و عن الشمال قعید
اور جب (آدمی کے قول و عمل کو) یا لینے والے دونوں (فرشتے اس کے قول و عمل کو) لے لیتے ہیں جو کہ دائیں اور بائیں (دونوں طرف) بیٹھے رہتے ہیں
اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلّقِّیٰنِ : جب دو لینے والے دو فرشے جو انسان پر مقرر ہیں ‘ آدمی کے عمل و قول کو لے لیتے ہیں۔ یَتَلَقَّی کا مفعول محذوف ہے۔ یعنی آدمی کے قول و عمل کو لے لیتے ہیں اور حفاظت کے ساتھ اس کو لکھ لیتے ہیں۔
عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ : جار مجرور کا تعلق قعید سے ہے اور قعید المتلقیان سے بدل ہے اور عن الیمین کے بعد قعید محذوف ہے یعنی دائیں طرف ایک بیٹھا رہتا ہے اور بائیں طرف ایک بیٹھا رہتا ہے (بعض کے نزدیک قید محذوف نہیں ہے بلکہ قعید جو مذکور ہے اسی سے عن الیمین کا بھی تعلق ہے اور عن الشمال کا بھی اور وزن فعیل پر جو الفاظ آتے ہیں ان کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور کثیر پر بھی جیسے آیت : وَالْمَلآءِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَھِیْرٌ میں (ظہیر باوجود مفرد ہونے کے الملائکہ کی خبر ہے کیونکہ بروزن فعیل ہے) ۔
قائم کی ضد قاعد آتا ہے ‘ بیٹھنے والا اور قعید کا معنی ہے جم کر بیٹھا رہنے والا۔ مجاہد نے کہا : قعید کا معنی ہے گھات میں لگا ہوا۔ اِذْ یَتَلَقّٰی کا تعلق اُذْکُرْ : محذوف سے ہے یا اَقْرَبُ سے ہے۔ آخری صورت میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ ہم تو حَبْلُ الْوَرِیْد سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ ہم کو فرشتوں کے لکھنے اور محفوظ رکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہم تو ان چیزوں کو بھی جانتے ہیں جو فرشتوں سے بھی زیادہ پوشیدہ ہیں لیکن تقاضائے حکمت ہے اور قیامت کے دن فرشتوں کی شہادت پیش کر کے کافروں پر حجت قائم کرنی ہے ‘ اس لیے اعمال نامے لکھنے پر فرشتوں کو مامور کیا ہے۔
Ayah 50:18ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید
‘ آدمی کوئی بات منہ سے نکالنے بھی نہیں پاتا کہ ایک تاک لگائے رکھنے والا (فرشتہ اس کے لینے کو) تیار (بیٹھا) ہوتا ہے۔
مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ : انسان اپنے منہ سے کوئی لفظ نکالتا بھی نہیں ہے کہ
رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ : رقیب سے مراد نگران فرشتہ ہے جو آدمی کے عمل کی چوکسائی کرتارہتا ہے۔
عَتِیْد : حاضر (موجود)
حسن نے کہا فرشتے دو حالتوں میں انسان سے الگ ہوجاتے ہیں۔ رفع حاجت کے قریب اور جماع کے وقت۔
مجاہد نے کہا دونوں فرشتے آدمی کے عمل لکھتے ہیں یہاں تک کہ بیماری کی حالت میں بھی۔ عکرمہ نے کہا : صرف وہی اقوال و اعمال لکھتے ہیں جو ثواب یا عذاب کا باعث ہوتے ہیں۔ بغوی نے اپنی مسند سے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نیکیاں لکھنے والا آدمی کے دائیں جانب اور بدیاں لکھنے والا بائیں جانب ہوتا ہے اور نیکیاں لکھنے والا برائیاں لکھنے والے کا حاکم ہوتا ہے۔ اگر آدمی کوئی ایک نیکی کرتا ہے تو دائیں طرف والا دس نیکیاں لکھ لیتا ہے اور اگر ایک گناہ کرتا ہے تو دائیں طرف والا بائیں طرف والے سے کہتا ہے ابھی سات گھنٹے تک رکے رہو ‘ ابھی نہ لکھو شاید یہ توبہ و استغفار کرلے۔ ابن راہویہ نے مسند میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں بھی یہ حدیث نقل کی ہے۔
کافروں کو دوبارہ جی اٹھنا بعید از عقل معلوم ہوتا ہے ‘ اللہ نے ان کے اس خیال کا ازالہ اس طور پر کردیا کہ اپنی قدرت اور علم کی ہمہ گیری کو اوّل بیان کیا تخلیق عالم اور انسان کی ہستی و معاش کی تخلیق کا ذکر کیا۔ اس کے بعد آئندہ آیت میں تہدید و تحویف کے لیے موت کے قریب ہونے اور قیامت برپا ہونے کا بیان کیا اور فرمایا :
Ayah 50:19وجاءت سکرۃ الموت بالحق ذلک ما کنت منہ تحید
اور موت کی سختی قریب آپہنچی یہ موت وہی ہے جس سے تو بدکتا تھا
سَکْرَۃُ الْمَوْتِ : موت کی بیہوشی اور سختی جو آدمی پر چھا جاتی ہے اور اس کی عقل کو زائل کردیتی ہے۔ ان آیات میں جَآءَ تْ اور نُفِخَ اور کَشَفْنَا کے تمام صیغے ماضی کے ذکر کیے گئے ‘ حالانکہ یہ واقعات مستقبل میں پیش آئیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ واقعات یقینی ہیں ‘ ضرور پیش آئیں گے اور ایسے موقع پر ماضی کا صیغہ استعمال کرنے سے اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ یہ واقعات اتنے یقینی الوقوع ہیں کہ گویا ان کا وقوع ہو ہی گیا۔
بِالْحَقِّ : ب تعدیہ کے لیے ہے بالحق جآءت کا مفعول بہ ہے۔ دنیا اور دنیا کی ہر چیز ایک سراب ہے ‘ بےاصل اور مرنے کے بعد جو احوال اور واقعات پیش آئیں گے وہ مبنی بر حقیقت اور محقق و ثابت ہیں پس تلخی موت ایسے امور کو لے کر آتی ہے جو حق ہیں ‘ حقیقی ہیں ‘ بےاصل نہیں ہیں یا حق سے مراد ہے وعدۂ حق جس کے خلاف ہونا ممکن نہ ہو موت وعدۂِ حق کو لے کر آتی ہے جس کے خلاف ہونا ممکن نہیں یا حق سے مراد ہے سزا و جزاء۔۔ سزا و جزا امرحق ہے انسان کو اسی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
یہ بھی احتمال ہے کہ بالحق میں ب ؔ استصحاب کے لیے ہو یعنی موت کی تلخی موت کو ساتھ لے کر آئی ‘ اس صورت میں الحق سے مراد ہوگی موت اور موت کے بعد کی حالت۔
ذٰلِکَ : یہ موت یا سزا و جزا۔
تَحِیْدٌ : تو اس سے مڑتا تھا ‘ تو اس سے بھاگتا تھا یعنی موت سے تجھے نفرت تھی اور اعمال کے بدلے کا منکر تھا۔ اس فقرے سے پہلے لفظ یُقَال محذوف ہے یعنی منکر قیامت انسان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کا تو منکر تھا۔
Ayah 50:20و نفخ فی الصور ذلک یوم الوعید . اور (قیامت کے دن دوبارہ) صور پھونکا جائیگا یہی دن ہوگا وعید کا
وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ : اور صور پھونکی جائے گی یعنی قبروں سے زندہ کر کے اٹھانے کے لیے صور پھونکی جائے گی۔
ذٰلِکَ : یعنی اس صور پھونکنے کا دن وعید کا دن ہوگا۔
ابو نعیم نے حلیہ میں لکھا ہے کہ عکرمہ نے کہا : جو لوگ سمندر میں ڈوب جاتے ہیں۔ لاشوں کا گوشت مچھلیاں بانٹ لیتی ہیں ‘ صرف ہڈیاں رہ جاتی ہیں ‘ سمندر کی لہریں ہڈیوں کو خشکی پر لا ڈالتی ہیں پھر ہڈیاں خشک ہو کر اتنی بوسیدہ ہوجاتی ہیں کہ ان کو اونٹ چبا جاتے ہیں اور اونٹ کے پیٹ کے اندر پہنچ کر ان کی مینگنیاں بن جاتی ہیں۔ اونٹ مینگیاں کردیتا ہے ‘ مینگنیوں کے مقام پر کوئی مسافر آکر اترتا ہے ‘ وہ مسافر مینگنیاں لے کر ان کو بطور ایندھن استعمال کرتا ہے۔ مینگنیاں دہکنے لگتی ہیں ‘ پھر آگ بجھ جاتی ہے اور مینگنیاں راکھ بن جاتی ہیں ‘ پھر اس خاک کو ہوا زمین پر پھیلا دیتی ہے اور منتشر کردیتی ہے۔ جب صور پھونکی جائے گی تو وہ لوگ (جو اتنے مراحل طے کرنے کے بعد منتشر خاک بن گئے ہوں گے) پھر زندہ ہو کر نکل کھڑے ہوں گے۔
Ayah 50:21و جاءت کل نفس معھا سائق و شھید . اور ہر شخص (اس طرح میدان قیامت میں) آئے گا کہ ایک (فرشتہ) اس کو ہنکا کر لانے والا ہوگا اور ایک اس کے اعمال پر گواہی دینے والا ہوگا۔
وَجَآءَ تْ : اور اس روز ہر شخص مؤمن ہو یا کافر آئے گا۔
سعید بن منصور ‘ عبدالرزاق ‘ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیروں میں اس آیت کی تشریح کے سلسلے میں حضرت عثمان کا قول نقل کیا ہے کہ ایک ہنکانے والا ہر شخص کو اللہ کے حکم کی طرف ہنکا کرلے جائے گا اور ایک شاہد اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ کا قول بیان کیا ہے کہ ہنکانے والا فرشتہ ہوگا اور شہید آدمی کا عمل۔
سیوطی نے کتاب البرزخ میں حضرت جابر کی مرفوع روایت بیان کی ہے ‘ جب قیامت برپا ہوگی تو نیکیاں لکھنے والا فرشتہ اور گناہ لکھنے والا فرشتہ آدمی پر ٹوٹ پڑیں گے اور چستی کے ساتھ اس تحریر پر قبضہ کرلیں گے جو آدمی کے گلے میں بندھی ہوگی ‘ پھر دونوں اس کے ساتھ (میدان حساب میں) آئیں گے ‘ ایک ہنکانے والا ہوگا اور دوسرا گواہ۔
ابو نعیم اور ابن ابی حاتم اور ابن ابی الدنیا نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ بغوی نے ضحاک کا قول بیان کیا ہے کہ ہنکانے والا فرشتہ ہوگا اور گواہ آدمی کے ہاتھ پاؤں۔ عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول آیا ہے۔
Ayah 50:22لقد کنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک غطاءک فبصرک الیوم حدید .
تو اس دن سے بیخبر تھا۔ اب ہم نے تجھ پر سے تیرا پردہ (غفلت کا) ہٹا دیا ‘ سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔
لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا : یعنی اس سے کہا جائے گا کہ آج جو حالات تیرے سامنے آئے ‘ ان سے دنیا میں تو غافل تھا۔
غِطَآءَ کَ : یعنی امور معاد کو مخفی رکھنے والا پردہ۔ اس سے مراد ہے غفلت۔ محسوسات میں ڈوب جانا اور ان سے محبت کرنا اور غور کرنے سے نظر کو کوتاہ رکھنا اور دل کی سیاہی اور زنگ ‘ اللہ نے اسی غطاء کو غشاوۃ اور رین (زنگ) فرمایا ہے۔ ایک آیت میں آیا ہے : کَلاَّ بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ .
حَدِیْدٌ : آج تیری نظر خوب تیز ہے کہ دنیا میں جس چیز کا تجھے انکار تھا اور نظر نہ آتی تھی ‘ آج اس کو دیکھ رہا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مجاہد نے کہا : (نظر تیز ہونے کا یہ مطلب ہے) کہ جب تیری نیکیاں اور بدیاں تولی جا رہی ہیں تو ترازو کی زبان (جس کو ہاتھ میں پکڑ کر تولا جاتا ہے) کو تیزی سے دیکھ رہا ہے۔
Ayah 50:23و قال قرینہ ھذا ما لدی عتید . اور اس کا ساتھی (فرشتہ) کہے گا یہ وہ (روزنامچہ) ہے جو میرے پاس تیار ہے۔
قَرِیْنُہٗ : قرین سے مراد وہ فرشتہ جو انسان کے اعمال پر مقرر ہے۔
ھٰذَا کا اشارہ یا شخص کی طرف ہے یا اس کے اعمالنامے کی طرف۔ یعنی یہ اعمالنامہ جو میرے پاس ہے حاضر ہے یا میرے پاس جو شخص ہے حاضر ہے۔ اللہ فرمائے گا :
Ayah 50:24القیافی جھنم کل کفار عنید
ہر ایسے شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کفر کرنے والا ہو ‘ حق سے ضد رکھتا ہے
اَلْقِیَا : تم دونوں ڈال دو ۔ دونوں سے مراد ہیں سائق اور شہید یا دوزخ پر مامور فرشتوں میں سے دو فرشتے یا مخاطب حقیقت میں کوئی ایک ہے لیکن بصیغۂ تثنیہ ذکر کرنے سے تثنیہ فعل مراد ہے اور تکرار فعل برائے تاکید ہوتی ہے لہٰذا تکرار واحد یعنی مخاطب واحد کو بصیغہ تثنیہ ذکر کرنے سے تثنیہ ذکر کرنے سے بھی تاکید فعل ہوگئی یا یہ صیغہ واحد ہی کا ہے اور الف تثنیہ کا نہیں ہے بلکہ نون تاکید خفیفہ کو الف سے بدل دیا گیا ہے۔ اصل میں اَلْقَیْن تھا۔ بعض قراءتوں میں اَلْقَیْن آیا بھی ہے۔
عَنِیْدٍ : حق سے عناد رکھنے والا۔
Ayah 50:25مناع للخیر معتد مریب
اور نیک کام سے روکتا ہو
اور حد (عبدیت) سے باہر جانے والا ہو اور دین میں شبہ کرنے والا ہو
لِلْخَیْرِ : خیر سے مراد ہے فرض زکوٰۃ اور ہر وہ مالی حق جس کا ادا کرنا واجب ہے۔
مُعْتَدٍ : ظالم جو اللہ کی توحید کا اقرار نہیں کرتا۔
مُرِیْبٍ : اللہ کی ذات ‘ صفات اور اس کے دین میں شک کرنے والا۔
Ayah 50:26الذی جعل مع اللہ الھا اخر فالقیہ فی العذاب الشدید .‘ جس نے خدا کے ساتھ دوسرا معبود تجویز کیا ہو ‘ سو ایسے شخص کو سخت عذاب میں ڈال دو ۔
اَلْعَذَاب الشَّدِیْدِ : یعنی آگ (دوزخ) ۔