50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsانوار البیان

Ayah 50:1

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق قرآن مجید کی قسم کہ محمد پیغمبر خدا ہے

(50:1) ق۔ حروف مقطعات میں سے ہے۔ والقرآن المجید واؤ قسمیہ ہے القرآن المجید موصوف صفت۔ جواب قسم محذوف ہے۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ (1) انک جئتھم منذرا بالبعث۔ بیشک آپ ان کے پاس آئے ہیں ان کو حشر کے دن جی اٹھنے سے ڈرانے کے لئے۔ (ابو حیان) (2) وقیل تقدیرہ : لتبعثن۔ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (3) وقیل ھو : قد علمنا ما تنقص الارض منھم : ہم خوب جانتے ہیں جو زمین ان کے جسموں کو (کھا کھا کر) گھٹاتی ہے۔ (الاخفش) (4) وقیل ھو : ما یلفظ من قول الاولیدیہ رقیب عتید کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے (ابن کیسان) (5) اہل کوفہ کے نزدیک اگلی متصل آیت جواب قسم ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ المجید۔ صفت مشبہ معرفہ۔ مجد (باب نصر) مصدر۔ بزرگ ہونا۔ شریف ہونا۔ (اونٹوں کا) بہت چارہ والی چراگاہ میں چرنا اور مجدت الابل، وسیع اور بڑے سبزہ زار میں اونٹ پہنچ گئے۔ عرب کہتے ہیں فی کل شجرنا رواستمجد المرخ والعفار۔ ہر درخت میں آگ ہے لیکن مرخ اور عفار سب سے بڑ چڑھ کر ہیں۔ اور اس کے معنی میں کثرت اور وسعت کا مفہوم غالب ہے۔ عرف عام میں وسعت کرم اور رفعت عزت کے معنی میں ہوگیا۔ اللہ وسیع الفضل ہے کثیر الخیر ہے۔ سب سے بڑھ کر بزرگ ہے۔ رفیع الشاش ہے۔ اس لئے مجید ہے۔ قرآن مجید میں تمام مکارم دنیویہ و اخرویہ کو حاوی ہے (راغب)
Ayah 50:2

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے تعجب کیا کہ ان ہی میں سے ایک ہدایت کرنے والا انکے پاس آیا تو کافر کہنے لگے کہ یہ بات تو (بڑی) عجیب ہے

(50:2) بل عجبوا ان جاء ہم منذر منھم : بل حرف اضراب ہے یعنی اے رسول ﷺ آپ کو ان کی طرف اس واسطے بھیجا تھا کہ آپ حشر کے روز دوبارہ جی اٹھنے اور حساب و کتاب اور سزا جزاء کے متعلق ان کو ڈرائیں لیکن ان بدقسمت لوگوں نے صرف آپ کے ڈراوے سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا بلکہ مزید برآں اس پر تعجب میں پڑگئے کہ یہ ڈرانے والا ان میں سے کیسے آگیا۔ یہ ان کی طرح کھاتا ہے اور ان کی طرح پیتا ہے اور ان کی طرح چلتا ہے پھر یہ ہی خاص طور پر نبوت کے لئے قابل کیوں سمجھا گیا کیوں نہ کوئی فرشتہ اس مقصد کے لئے بھیجا گیا وغیرہ وغیرہ۔ منذر اسم فاعل واحد مذکر انذار (افعال) مصدر۔ ڈرانے والا۔ فقال الکفرون ھذا شیء عجیب :تفسیر کے لئے ہے یہ کافروں کے تعجب کا بیان ہے۔ ھذا۔ اشارہ ہے رسول اللہ ﷺ کو رسالت کے لئے منتخب کرنے کی طرف۔
Ayah 50:3

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے (تو پھر زندہ ہونگے ؟ ) یہ زندہ ہونا (عقل سے) بعید ہے

(50:3) ء اذا متنا وکنا ترابا : ای ونبعث اذا متنا وکنا ترابا۔ کیا ہم دوبارہ نزدہ اٹھائے جائیں گے جب ہم مرگئے ہوں گے۔ اور مٹی بن چکے ہوں گے۔ (یہ کفار کے انکار اور ان کے انکار کی دوسری وجہ تھی) ذلک : ای بعث بعد الموت رجع بعید موصوف و صفت بعید : ای بعید عن الاوھام او العادۃ او امکان یعنی یہ واپسی (مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا) ۔ وہم و گمان سے بالاتر ، خرق العادت اور ناممکنات میں سے ہے۔
Ayah 50:4

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

انکے جسموں کو زمین جتنا (کھا کھا کر) کم کرتی جاتی ہے ہم کو معلوم ہے اور ہمارے پاس تحریری یادداشت بھی ہے

(50:4) قدعلمنا : قد ماضی کے ساتھ تحقیق کا معنی دیتا ہے۔ تحقیق ہمیں علم ہے۔ ہم جانتے ہیں۔ ما تنقص الارض منھم : ما موصولہ، باقی جملہ اس کا صلہ۔ تنقص مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ نقص (باب نصر) مصدر۔ وہ کم کرتی ہے۔ وہ گھٹاتی ہے۔ منھم : ای من اجسامھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے جسموں اور جسدوں سے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع کافرون ہیں۔ یعنی ہم جانتے ہیں کہ مرنے والوں کے جسموں کو کھا کر مٹی ان کو مٹی بنا دیتی ہے تو اس کے ذرات کہاں کہاں ہیں۔ ان کو اکٹھا کرنا اور پھر زندہ کرکے اٹھانا ہمارے لئے دشوار نہیں ہے۔ کتب حفیظ۔ موصوف و صفت۔ حفیظ حفظ سے بروزن فعیل بمعنی فاعل۔ حفاظت رکھنے والا۔ اور بمعنی مفعول محفوظ ہے یہاں محفوظ مراد لیا گیا ہے ۔ ایسی کتاب جو ہر قسم کے دست تصرف سے باہر ہے۔ یہاں بمعنی لوح محفوظ ہے۔
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ (عجیب بات یہ ہے کہ) جب انکے پاس (دین) حق آپہنچا تو انہوں نے اسکو جھوٹ سمجھا تو یہ ایک الجھی ہوئی بات میں (پڑ رہے) ہیں

(50:5) بل کذبوا بالحق لما جاء ھم : بل حرف اضراب ہے ماقبل کی حالت کو برقرار رکھتے ہوئے اس پر مابعد کو اور زیادہ کرنے کے لئے ۔ یعنی ایک تو وہ پہلے ہی تعجب اور تردد میں تھے کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ایک رسول منجانب اللہ ہونے کا مدعی ہے اور بعث بعد الموت سے بھی انکاری تھے۔ اب مزید یہ کہ جب نبوت اپنے صریح معجزات سے ثابت ہوچکی تو فوراً اس کی تکذیب کرنے لگے۔ معجزات سے ثابت شدہ نبوت کی تکذیب اس کے انکار سے بڑھ کر ہے جو چیز قطعی دلائل سے ثابت ہو اس کا انکار بہت ہی بعید از عقل ہے۔ الحق سے مراد قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے۔ لما حرف ظرف بمعنی جب۔ جاء کا ضمیر فاعل الحق کی طرف راجع ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب منکرین کافرین کے لئے ہے۔ فہم میںترتیب کا ہے۔ امر مریج۔ موصوف و صفت۔ مریج صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ مرج مادہ۔ الجھی ہوئی بات۔ سخت الجھن۔ المرج کے اصل معنی خلط ملط کرنے اور ملا دینے کے ہیں۔ امر مریج۔ گذ مذ اور پیچیدہ معاملہ۔ غصن مریج باہم گتھی ہوئی ٹہنی۔ اور مرج البحرین یلتقین (55:19) اس نے دودریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں ۔ اور جگہ فرمایا : من مارج من نار (55:5) آگ کے شعلے سے۔ یہاں مارج کے معنی آگ کے مخلوط شعلے کے ہیں جو دھوئیں سے خلط ملط ہو۔
Ayah 50:6

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا اور (کیونکر) سجایا اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں

(50:6) افلم ینظروا۔ ہمزرہ استفہامیہ انکاریہ ہے اورعاطفہ سے قبل کلام مقدرہ ہے۔ ای اعموا فلم ینظروا۔ کیا وہ اندھے ہیں اور انہوں نے نہیں دیکھا ہے۔ لم ینظروا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ جمع مذکر غائب۔ انہوں نے نہیں دیکھا۔ بینھا : بنینا۔ ماضی جمع متکلم بناء (باب ضرب) مصدر۔ ب ن ی مادہ۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع السمآء ہے۔ ہم نے اس کو (کس طرح) بنایا ہے۔ زینھا : زینا ماضی جمع متکلم تزئین تفعیل مصدر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب برائے السماء ہے ہم نے اس کو مزین کیا ہے ۔ ہم نے اس کو زینت بخشی۔ لہا : ای فیہا۔ فروج : فرج کی جمع ۔ شگاف۔ دراڑیں۔ سوراخ (اور اس میں کہیں دراڑ تک نہیں) الفرج کے معنی دو چیزوں کے درمیان شگاف کے ہیں جیسے دیوار میں شگاف ، یا دونوں ٹانگوں کے درمیان کی کشادگی۔ اور کنایہ کے طور پر فرج کا لفظ شرم گاہ پر بولا جاتا ہے اور کثرت استعمال کی وجہ سے اسے حقیقی معنی سمجھا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے ویحفظن فروجھن (24:31) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں۔
Ayah 50:7

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو (دیکھو اسے) ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دئیے اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائیں

(50:7) والارض معطوف علی موضع السمائ۔ ای فلم یروا الارض اور (کیا) انہوں نے (اپنے نیچے) زمین کو نہیں دیکھا۔ (تفسیر حقانی، جلالین) مددنھا : مددنا : ماضی جمع متکلم مد (باب نصر) مصدر۔ لمبائی کے رخ کسی چیز کے کھینچنے یا بڑھانے کو کہتے ہیں ۔ اسی سے مدت دراز کو مدۃ کہتے ہیں ۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب الارض کی طرف راجع ہے۔ ہم نے اس کو پھیلا دیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے الم ترالی ربک کیف مدالظل (25:45) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تیرا رب سائے کو کس طرح دراز کرکے پھیلا دیتا ہے۔ القینا : ماضی جمع متکلم القاء (افعال) سے اس کے معنی ہیں کسی چیز کو اس طرح ڈال دینا کہ وہ دوسرے کو سامنے نظر آئے۔ پھر عرف میں مطلق کسی چیز کو پھینک دینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ القینا۔ ہم نے ڈالا۔ ہم نے رکھا۔ ہم نے رکھ دیا۔ فیہا : ای فی الارض۔ زمین پر۔ رواسی ر س و مادہ سے راسیۃ کی جمع ہے رسا الشیء رسو (باب نصر) مصدر بمعنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں ۔ اور باب افعال سے بمعنی ٹھہرانے اور استوار کردینے کے ہیں۔ رواسی گڑے ہوئے پہاڑ۔ یہاں پہاڑوں کو بوجہ ان کے ثبات اور استواری کے رواسی کہا گیا ہے جیسا کہ دوسری جگہ قرآن مجید میں فرمایا والجبال ارسھا (79:32) اور پہاڑوں کو (اس میں بمعنی زمین میں گاڑ کر) پھیلا دیا۔ اسی طرح معنی ثبات کے اعتبار سے پہاڑوں کو اوتاد (وثد کی جمع بمعنی میخ) فرمایا ہے۔ جیسے والجبال اوتادا (78:5) اور (کیا ہم نے) پہاڑوں کو (اس کی یعنی زمین کی) میخیں (نہیں ٹھہرایا) ۔ انبتنا۔ ماضی جمع متکلم انبات (افعال) مصدر ۔ ہم نے اگایا۔ بناتات ، پودے ، سبزی اگی ہوئی بوٹیاں۔ من کل زوج۔ ہر قسم کا سبزہ۔ یہاں زوج کا معنی جوڑا نہیں بلکہ نوع ہے ای من کل نوع من النبات / من کل صنف من اصناف النبات۔ بھجۃ۔ رونق ۔ تازگی۔ خوبی۔ خوش رنگی۔ فرحت۔ مسرت کو کہتے ہیں۔
Ayah 50:8

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

تاکہ رجوع لانے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں

(50:8) تبصرۃ وذکری ہر دو مفعول لہ ہیں بصیرت کے لئے اور یاد دہانی کے لئے تبصرۃ۔ دکھلانا۔ سمجھانا۔ بروزن تفعلۃ باب تفعیل کا مصدر ہے۔ تبصیر اور تبصرۃ دونوں آتے ہیں ۔ جیسے تقدیم وتقدمۃ اور تذکیر وتذکرۃ۔ ذکری نصیحت کرنا۔ ذکر کرنا۔ یاد ۔ موعظت۔ پند، باب نصر سے مصدر ہے۔ کثرت ذکر کے لئے بولا جاتا ہے ۔ یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔ لکل عبد منیب۔ لام حرف جار کل مجرور۔ مضاف۔ عبد منیب موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ کل لفظا واحد اور معنی کے لحاظ سے جمع ہے اس لئے اس کا استعمال دونوں طرح ہے تذکیر و تانیث اس میں برابر ہے۔ کل دو طرح کا ہوتا ہے۔ مجموعی اور افرادی۔ کل افرادی ہمیشہ نکرہ مفرد کی طرف مضاف ہوتا ہے جس کا ترجمہ ہوتا ہے ہر ایک ۔ جیسے آیت زیر مطالعہ میں لکل عبد منیب ہر اس بندے کے لئے جو بار بار اللہ کی طرف لوٹنے والا ہو۔ یا بکل شیء علیم۔ علی کل شیء قدیر۔ کل مجموعی مصرف باللام کی طرف مضاف ہوتا ہے یا اس ضمیر کی طرف مضاف ہوتا ہے جو معرف باللام کی طرف راجع ہوتی ہے اس وقت مجموعہ افراد پر دلالت کرتا ہے ۔ ترجمہ ہوتا ہے سب، پورا ۔ اول کی مثال کل القوم۔ پوری قوم۔ سب قوم۔ دوم کی مثال فسجد الملئکۃ کلہم (38:72) ۔ کبھی کل بمعنی بعض آتا ہے جیسے ثم اجعل علی کل جبل منھن جزء (2:260) بعض پہاڑوں پر ان کا ایک ایک حصہ رکھ دو ۔ کل کا مضاف ہونا ضروری ہے اگر مضاف الیہ مذکور نہ ہو تو محذوف مانا جائے گا جیسے کل فی فلک یسبحون ۔ (21:33) سب (یعنی سورج، چاند، ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں۔ منیب : اسم فاعل واحد مذکر ، مجرور۔ اللہ کی طرف خصوص سے رجوع کرنے والا۔ انابۃ (افعال) مصدر۔ نوب مادہ۔ (باب نصر) مصدر سے بمعنی بار بار لوٹنا۔
Ayah 50:9

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور آسمان سے برکت والا پانی اتارا اور اس سے باغ و بستان اگائے اور کھیتی کا اناج

(50:9) ماء مبرکا : ماء مفعول ہے نزلنا کا۔ موصوف۔ مبرکا صفت مبارک کثیر النفع پانی۔ برکت والا پانی۔ ماء سے یہاں مراد بارش کا پانی ہے جو اوپر سے برستا ہے۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ماء کی طرف راجع ہے یعنی پھر ہم نے اس پانی سے زمین میں باغ اگائے۔ جنت وحب الحصید۔ جنت (جنۃ کی جمع، باغ) حب (بمعنی دانہ، غلہ اناج) دونوں فعل انبتنا کے مفعول ہیں۔ ہم نے اگایا۔ باغات کو ۔ کھیتی کے غلہ کو۔ حب الحصید میں اضافت حب کی الحصید کی طرف اضافت عام الی الخاص ہے جیسے حق الیقین عین الیقین میں ہے یعنی وہ غلہ جو کاٹا جاتا ہے جیسے گیہوں وغیرہ۔ مراد یہ ہے کہ جو غلہ بویا جاتا ہے پھر (کاٹ کر) غذائی کام میں لایا جاتا ہے۔ چونکہ غلہ کا اصل مقصد اور کامل نفع یہی ہے کہ اس کو کاٹ کر غذائی کام لایا جائے اس لئے حب کی الحصید کی جانب خاص طور پر اضافت کردی گئی ہے۔ یا مضاف الیہ کا موصوف محذوف ہے۔ جیسے مسجد الجامع یعنی مسجد للصلوۃ الجامع۔ اس تاویل پر حب الحصید کا مطلب ہوگا حب الزرع الحصید یعنی قابل حصاد کھیتی کا غلہ۔
Ayah 50:10

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا گھابہ تہ بہ تہ ہوتا ہے

(50:10) والنخل۔ انبتنا کا مفعول سوم۔ اور کھجور کے درخت۔ بسقت۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث غائب۔ باسقۃ واحد بسوق (باب نصر) مصدر (درخت کا) لمبی تنے والا، اور لمبی شاخوں والا ہونا۔ النخل بسقت ای النخیل الطوال العالیات کھجوروں کے درخت جو لمبے اور اونچے چلے گئے ہوں۔ لہا طلع نضید : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب النخل کے لئے ہے طلع طلع طلوع ومطلع (باب نصر) کے معنی آفتاب کے طلوع ہونے کے ہیں اور طلوع آفتاب کی مناسبت سے طلع النخل کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اور اس کے معنی درخت خرما کے غلاف کے ہیں جس کے اندر اس کا خوشہ ہوتا ہے (راغب) طلع پھل ہے جب تک وہ اس کے گابھے میں رہے (کلمات القرآن) طلع کھجور کے درخت کا گابھا۔ شگوفہ (فیروز اللغات) طلع خوشہ، گابھا، گچھا ۔ درخت خرما کا پہلا شگوفہ جو باہر نکلتا ہے طلع کہلاتا ہے (لغات القرآن) یہ موصوف ہے اور اس کی صفت نضید ہے۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی اسم مفعول نضید بمعنی منضود۔ نضد باب (ضرب) مصدر۔ سامان کو ترتیب سے رکھنا ۔ ڈھیر لگانا۔ ترتیب سے چننا۔ یہاں بمعنی تہ بر تہ ترتیب سے گندھا ہوا پھل۔ اس سے مراد پھلوں یا شگوفوں کی کثرت۔ صاحب ایسر التفاسیر لکھتے ہیں :۔ ای لہا طلع منضد متراکب بعضہ فوق بعض۔ گچھے ترتیب سے ایک دوسرے پر تہ درتہ چڑھے ہوئے۔ لھا طلع نضید یہ جملہ حال ہے النخل سے۔
Ayah 50:11

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

(یہ سب کچھ) بندوں کو روزی دینے کے لئے (کیا ہے) اور اس (پانی) سے ہم نے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کیا (بس) اسی طرح (قیامت کے روز) نکل پڑنا ہے

(50:11) رزقا للعباد : زرقا مفعول لہ ہے انبتنا کا۔ یعنی پیدا کرنے کی اصل غرض یہ ہے ۔ واحیینا بہ بلدۃ میتا : واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف انبینا بہ پر ہے بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ماء ہے ای احیینا بذلک الماء بلدۃ میتا۔ موصوف و صفت مل کر احیینا کا مفعول ۔ اور اس پانی سے ہم نے مردہ شہر کو زندہ کردیا۔ یعنی جہاں کوئی سبزہ اور روئیدگی نہ تھی اس کو سرسبز و شاداب بنادیا۔ کذلک الخروج : مبتداء خبر۔ جیسے مثل زیدا خوک۔ کذلک۔ کاف تشبیہ واقع موقع مثل ہے۔ ذلک الخروج۔ یعنی ان خروج الناس احیاء من قبورہم بعد الموت کخروج النبات من الارض بعد عدمہ موت کے بعد لوگوں کا قبروں سے زندہ نکال لانا ایسے ہی ہے جیسا کہ عدم کے بعد زمین سے سبزہ اگا دینا ۔
Ayah 50:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں

(50:12) قبلہم : ای قبل قریش۔ قریش کفار مکہ سے قبل۔ (اضواء البیان) اصحب الرس۔ مضاف مضاف الیہ۔ الرس ایک کنویں کا نام ہے جو مدین کے قریب ہے یہ کنویں والے کون تھے۔ اس کے متعلق مختلف مگر مستند روایات ہیں خلاصہ ان سب کا یہ ہے کہ یہ ایک قوم تھی جس کو اللہ تعالیٰ بےاپنے پیغمبر کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کردیا تھا۔ ثمود : ای قوم ثمود۔ اس قوم نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔ حضرت صالح اور ان کی اونٹنی کا حال قرآن مجید میں تفصیلا مذکور ہے قوم نے حضرت صالح کے سمجھانے کے باوجود اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور اس طرح عذاب الٰہی کے مستوجب ہوئے۔
Ayah 50:13

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی

( ّ 50:13) وعاد ۔۔ اس جملہ کا عطف بھی جملہ سابقہ پر ہے۔ عاد۔ عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا اور ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کی نافرمانی میں ہلاک ہوئے۔ اخوان لوط : مضاف مضاف الیہ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بھائی بندوں نے بھی ان کی تکذیب کی اور اس پاداش میں ہلاک کر دئیے گئے۔ قوم لوط کا سب سے بڑا گناہ لواطت تھی یعنی ہم جنسوں سے خلاف فطرت بدفعلی کرنا۔
Ayah 50:14

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم (غرض) ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہماری وعید (عذاب) بھی پوری ہو کر رہی

(50:14) واصحب الایکۃ۔ اس کا عطف آیت نمبر 12 پر ہے۔ اور ایکہ کے رہنے والے اور قوم تبع نے بھی (حق کو) جھٹلایا۔ اصحب الایکۃ مضاف مضاف الیہ۔ ایکہ کے لوگ، ایکہ کے رہنے والے۔ یہ کم تولنے کے گناہ میں ملوث تھے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پندو نصائح کی تکذیب میں دھرلئے گئے اور ہلاک کر دئیے گئے۔ وقوم تبع : مضاف مضاف الیہ۔ اور تبع کی قوم نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا۔ تبع یمن کے بادشاہوں میں سے ایک خمیری بادشاہ تھا۔ یہ قوم آتش پرست تھی یہ تبع بعد میں اسلام لایا اور اپنی قوم کو بھی اسلام کی دعوت دی۔ کل۔ یعنی ہر ایک شخص نے یا ہر امت نے باب نے پیغمبروں کی تکذیب کی۔ چونکہ ایک پیغمبر کی تکذیب تمام پیغمبروں کی تکذیب ہے اس لئے کذب الرسل بصیغہ جمع فرمایا ہے یا یوں کہا جائے کہ ان میں سے کوئی بھی اللہ کی توحید پر ایمان نہیں رکھا تھا۔ سب کے سب توحید ہی کے منکر ہے اس لئے پیغمبروں کے منکر بدرجہ اولیٰ تھے۔ (نیز ملاحظہ ہو 50:8 متذکرۃ الصدر۔ کذب الرسل : کذب ماضی واحد مذکر غائب۔ تکذیب (تفعیل) مصدر جھٹلانا الرسل رسول کی جمع ہے۔ فحق :ترتیب کا۔ حق ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ حق (باب ضرب، نصر) مصدر ثابت ہونا۔ واجب ہونا۔ محقق ہونا۔ وعید : وعیدی۔ میرا عذاب ۔ میرا وعدہ عذاب۔ جس میں ان تکذیب کرنے والے کافروں کو مبتلا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ فحق وعید۔ پس پورا ہوگیا۔ میرا عذاب کا وعدہ۔
Ayah 50:15

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ از سر نو پیدا کرنے میں شک میں (پڑے ہوئے) ہیں

(50:15) افعیینا بالخلق الاول۔ اس میں ہمزہ انکاری ہے اورعاطفہ تعقیبیہ ہے۔ اس کا عطف افلم ینظروا الی السماء پر ہے۔ اور کذبت قبلہم سے آخر تک معترضہ جملے ہیں۔ (مظہری) نیز ملاحظہ ہو 2:44 ۔ عیینا۔ ماضی جمع متکلم۔ عی (باب سمع) مصدر سے جس کے معنی تھکنے اور عاجز ہونے کے ہیں۔ ہم تھک گئے۔ ہم عاجز آگئے۔ تو کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے ٹھک گئے (نہیں) ۔ بل۔ حرف اضراب ہے یعنی وہ پہلی بار پیدا کرنے میں ہماری قدرت کے منکر نہیں بلکہ ہم فی لبس من خلق جدید۔ یہ لوگ ازسر تو پیدا کرنے کے بارے میں شبہ میں ہیں۔ لبس اس کے اصل معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں اور قرآن مجید میں اکثر ان معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن اور معانی میں بھی استعمال ہونا ہے اور قرآن مجید میں بھی مستعمل ہے مثلاً وللبسنا علیہم ما یلبسون (6:9) اور جو شبہ وہ (اب) کرتے ہیں اسی شبہ میں انہیں ہم پھر ڈال دیں گے اور ولا تلبسوا الحق بالباطل (2:42) تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ مت ملاؤ۔ یہاں آیت ہذا میں لیس بمعنی شبہ اور شک ہے۔
Ayah 50:16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور ہم ہی نے انسان پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم انکو جانتے ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں

(50:16) ولقد واؤ عاطفہ۔ لام تاکید کا ۔ قد ماضی کے ساتھ تاکید کے معنی دیتا ہے لقد بلاشبہ، تحقیق ، بےشک۔ ما توسوس بہ نفسہ : ما موصولہ ۔ باقی جملہ اس کا صلہ۔ توسوس مضارع واحد مؤنث غائب۔ وسوسۃ (فعللۃ) مصدر جس کے معنی بری بات کے جہ میں ڈالنے کے ہیں۔ وہ وسوسہ ڈالتی ہے وہ خیال ڈالتی ہے۔ نفسہ مضاف مضاف الیہ اس کا نفس ، ہ ضمیر انسان کی طرف راجع ہے۔ ہم خوب جانتے ہیں اس کا نفس جو وسوسے ڈالتا ہے۔ اقرب الیہ۔ اقرب قرب سے افعل التفضیل کا سیغہ ہے زیادہ قریب ، زیادہ نزدیک۔ الیہ میں ضمیر واحد مذکر غائب الانسان کے لئے ہے۔ حبل الورید، مضاف مضاف الیہ ۔ حبل بمعنی رسی۔ ورید گردن کی رگ۔ شہ رگ جس میں جان پھرتی ہے اس کے کٹنے سے موت ہے۔ چونکہ رگ بھی ہیت میں رسی ہے ملتی جلتی ہے اس لئے شہ رگ کو حبل الورید کہتے ہیں۔ یہ اضافت بیانیہ ہے جیسے یوم الجمعۃ۔ گلے کے دائیں بائیں دو رگیں ہیں جن کا تعلق اور اتصال دل کی رگ سے ہے ان دونوں کو ورید کہا جاتا ہے ورید کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ دونوں سر سے اتر کر گردن کی طرف آتی ہیں۔
Ayah 50:17

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھتے ہیں لکھ لیتے ہیں

(50:17) اذ یتلقی الم تلقین عن الیمین وعن الشمال قعید۔ اذ سے قبل فعل اذکر محذوف ہے۔ یعنی یاد کرو جب۔ (یا اذکر الامر اذ اس امر کو (بات) کو یاد کرو جب) یتلقی مضارع واحد مذکر غائب تلقی تفعل مصدر بمعنی ملاقات کرنا سامنے سے کسی چیز کو لے لینا۔ پالینا۔ یہاں لے لینے یا پالینے سے مراد لکھ کر کسی چیز کو لے لینا ۔ یا محفوظ کرلینا ہے۔ اسی سے المتلقیان اسم فاعل تثنیہ۔ وہ (لکھ کر) پالینے والے۔ مراد وہ دو فرشتے جو انسان کے دائیں بائیں تعینات ہیں اس کے اقوال و افعال کو لکھنے کے لئے۔ علامہ پانی پتی اس آیت کی ترکیب میں فرماتے ہیں کہ :۔ اذ یتلقی المتلقیان۔ جب لینے والے دو فرشتے جو انسان پر مقرر ہیں انسان کے عمل و قول کو لے لیتے ہیں۔ یتلقی کا مفعول محذوف ہے یعنی آدمی کے قول و عمل کو لے لیتے ہیں اور حفاظت کے ساتھ اس کو لکھ لیتے ہیں ۔ عن الیمین وعن الشمال قعید۔ جار مجرور کا تعلق قعید سے ہے اور قعید المتلقیان سے بدل ہے اور عن الیمین کے بعد قعید محذوف ہے۔ یعنی ایک فرشتہ دائیں طرف بیٹھا ہے اور ایک بائیں طرف بیٹھا رہتا ہے۔ (بعض کے نزدیک قعد محذوف نہیں ہے بلکہ قعید مذکور کا تعلق عن الیمین سے بھی ہے اور عن الشمال سے بھی۔ اور جو الفاظ فعیل کے وزن پر آتے ہیں ان کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور کثیر پر بھی۔ جیسے کہ آیت : والملئکۃ بعد ذلک ظھیر۔ میں ظھیر باوجود مفسر ہونے کے الملئکۃ کی خبر ہے کیونکہ بروزن فعیل ہے) قائم کی ضد قاعد آتا ہے بیٹھنے والا۔ اور قعید کا معنی ہے جم کر بیٹھنے والا۔ مجاہد نے کہا ہے کہ قعید کا معنی ہے گھات میں لگا ہوا۔ اذ یتلقی کا تعلق اذکر محذوف سے ہے۔ یا اقرب سے ہے۔ آخری صورت میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ ہم تو حبل الورید سے بھی جانتے ہیں جو فرشتوں سے بھی زیادہ پوشیدہ ہیں لیکن تقاضا کے حکمت ہے اور قیامت کے دن فرشتوں کو مامور کیا ہے۔ عن الیمین دائیں طرف کو عن الشمال بائیں جانب کو قعید صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر۔ جم کر بیٹھنے والا۔ ہم نشین، نگرانی کرنے والا۔
Ayah 50:18

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے

(50:18) مایلفظ من قول : مضارع منفی واحد مذکر غائب لفظ (باب ضرب) مصدر وہ منہ سے نہیں نکالتا ہے ۔ من قول کوئی بات لفظ مصدر متعدی بنفسہ وبواسطۃ ب۔ کوئی چیز منہ سے باہر پھینکنا۔ لفظ بالکلام۔ اس نے منہ سے کوئی بات نکالی۔ لفظ بات۔ تلفظ بات کہنا۔ ردیہ : لدی اسم ظرف مضاف۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اس کے پاس اس کے نزدیک۔ ضمیر کا مرجع الانسان ہے رقیب۔ نگہبان، محافظ ، فعیل کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے۔ عتید تیار۔ عتاد سے جس کے معنی ضرورت سے پہلے کسی چیز کے ذخیرہ کرلینے کے ہیں۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل اور کبھی بمعنی مفعول آتا ہے چناچہ آیت ہذا میں بمعنی فاعل استعمال ہوا ہے یعنی وہ منہ سے کوئی بات نکالنے نہیں پاتا کہ اس کے پاس ایک نگہبان تیار رہتا ہے (کتابت کے لئے) سورة ہذا میں آگے چل کر 50:23) میں فرمایا : وقال قرینہ ھذا ما لدی عتید : اور اس کا ساتھی (فرشتہ) کہیگا کہ یہ (اعمال نامہ) میرے پاس تیار ہے یہاں عتید بمعنی مفعول آیا ہے ۔ راغب لکھتے ہیں کہ :۔ العتید : المعد والمعد عتید کے معنی ہیں تیار کرنے والا۔ تیار کردہ ۔ شدہ۔
Ayah 50:19

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی بیہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا

(50:19) سکرۃ الموت مضاف مضاف الیہ۔ سکرۃ بےہوشی، مدہوشی، موت کی سختی جو آدمی پر چھا جاتی ہے اور اس کی عقل کو زائل کردیتی ہے۔ بالحق : ب تعدیہ کے لئے ہے بالحق جاءت کا مفعول یہ ہے ۔ موت کی بیہوشی حقیقت لے کر آئے گی۔ دنیا کی ہر چیز بےاصل اور بےحقیقت ہے مرنے کے بعد جو احوال اور واقعات پیش آئیں گے وہ مبنی بر حقیقت اور محقق ثابت ہیں۔ ذلک : یعنی یہ موت اور اس کے بعد کی حقیقتیں۔ ما موصولہ اگل اجملہ اس کا صلہ منہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب موت کیلئے ہے۔ تحید۔ مضارع واحد مذکر حاضر حید (باب ضرب) مصدر۔ کنارہ کرنا۔ مڑنا۔ کنت منہ تحید۔ جس سے تو کنارہ کیا کرتا تھا اور بھاگا کرتا تھا۔ یہاں خطاب مطلق انسان سے نہیں ہے بلکہ ایک فاسق و فاجر شخص سے ہے۔ حید مادہ۔
Ayah 50:20

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے گا یہی (عذاب کے) وعید کا دن ہے

(50:20) ونفخ فی الصور واؤ عاطفہ نفخ ماضی مجہول واحد مذکر غائب نفخ باب نصر مصدر۔ پھونکا گیا۔ یا پھونکا جائے گا (بمعنی مستقبل) اس سے مراد نفحہ دوم ہے یعنی نفخۃ البعث۔ اسی معنی میں آیت ونفخ فی الصور فاذاھم من الاجداث الی ربھم ینسلون (36:51) اور آیت ونفخ فی الصور فجمعنم جمعا (18:99) میں استعمال ہوا ہے۔ اور قیامت کے دن (دوبارہ) صور پھونکا جائے گا۔ ذلک : مضاف الیہ جس کا مضاف محذوف ہے ای وقت ذلک النفخ اس صور کے پھونکنے کا وقت یوم الوعید ہوگا۔ ذلک کا اشارہ نفخ کی طرف ہے۔ یوم الوعید مضاف مضاف الیہ۔ وعید کا دن۔ عذاب کا دن۔
Ayah 50:21

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا ایک (فرشتہ) اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اسکے عملوں کی) گواہی دینے والا

(50:21) معھا : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کل نفس کے لئے ہے (ہر نفس کے ساتھ) یہ جملہ معھا سابق وشھید حال ہے کل نفس سے درآں حالیکہ ایک (فرشتہ) ہانکنے والا اور ایک (فرشتہ) بطور گواہ اس کے ساتھ ہوگا۔ سابق۔ ہانکنے والا۔ اسم فاعل کا سیغہ واحد مذکر سوف (باب نصر) مصدر۔ شھید۔ گواہ ۔ یہاں اس کا استعمال بطور گواہ ہی آیا ہے ۔ شرع کی اصطلاح میں شھید وہ ہے جو کہ اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا ہو۔ حق تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے بھی شھید آیا ہے اس وقت اس کے معنی ہوں گے وہ ذات جس کے علم سے کوئی چیز غائب نہ ہو۔
Ayah 50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

(یہ وہ دن ہے کہ) اس سے تو غافل ہو رہا تھا اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے

(50:22) لقد کنت فی غفلۃ من ھذا ۔۔ الجنۃ استئناف ، بنی علی سوال نشأ مما قبلہ کانہ قیل : فما ذا یکون بعد النفخ ومحی کل نفس معھا سائق وشھید ؟ فقیل یقال للکافر الغافل ۔۔ نیا جملہ ہے جو پہلے مضمون سے ایک نئے سوال پر مبنی ہے جیسا کہ کہا جاوے صور پھونکنے اور ہر شخص کے بمعیت سائق و شہید (میدان قیامت میں) آنے کے بعد کیا ہوگا ؟ جواب ہوگا کہ ہر کافر غافل یا ہر شخص سے (خطاب عام ہونے کی صورت میں) یہ کہا جاوے گا۔ لقد کنت فی غفلۃ من ھذا ۔۔ حدید۔ لقد تحقیق کے معنی میں ہے کنت ای کنت فی الدنیا فی غفلۃ من ھذا۔ من ھذا۔ یعنی جو کچھ تو نے آج اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ کشفنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ کشف (باب ضرب) مصدر۔ ہم نے دور کردیا۔ ہم نے اٹھا دیا ۔ ہم نے کھول دیا۔ غطاء ک مضاف مضاف الیہ ۔ الغطاء کے اصل معنی طباق وغیرہ کی قسم کی چیز کے ہیں جو کسی چیز پر بطور سرپوش کے رکھی جائے۔ جیسا کہ غشاء لباس وغیرہ کی قسم کی چیز کو کہتے ہیں۔ جسے کسی دوسری چیز کے اوپر ڈالا جائے۔ بطور استعارہ غطاء کا لفظ (پردہ) جہالت وغیرہ پر بولا جاتا ہے جیسا کہ آیت ہذا میں ہے ۔ تیرا پردہ۔ تیری آنکھوں پر پڑا ہوا پردہ۔ فبصرک :ترتیب کا ہے۔ بصرک مضاف مضاف الیہ تیری نظر ۔ تیری آنکھ۔ الیوم : آج۔ حدید تیز ۔ لوہا۔ لوہے کو بھی کہتے ہیں اور نیز ہر وپ چیز جو کہ بذاتہ باریک ہو۔ خواہ باعتبار خلقت کے خواہ باعتبار معنی کے۔ حدید کہلاتی ہے اس صورت میں یہ حدۃ سے ہے۔ جس کے معنی تیز ہونے کے ہیں۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ ترجمہ : ہم نے پردہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے (آج تو ہر چیز اس کے اصلی تناظر میں دیکھ سکتا ہے) فائدہ : اوپر جاءت (آیات 19:31) نفخ (آیت 20) اور کشفنا (آیت 22) تمام صیغے ماضی کے ذکر کئے گئے ہیں حالانکہ یہ واقعات مستقبل میں پیش آئیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ واقعات یعنی ہیں ضرور پیش آئیں گے۔ ایسے موقع پر ماضی کا صیغہ استعمال کرنے سے اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ یہ واقعات اتنے یقینی الوقوع ہیں کہ گویا ان کا وقوع ہو ہی گیا۔
Ayah 50:23

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اسکا ہم نشین (فرشتہ) کہے گا کہ یہ اعمال نامہ میرے پاس حاضر ہے

(50:23) وقال قرینہ واؤ عاطفہ ہے قرینہ مضاف مضاف الیہ ۔ اس کا ساتھی۔ ہ ضمیر واحد مذکر کا مرجع وہ شخص ہے جس سے لقد کنت فی غفلۃ میں خطاب ہے۔ قرین : ق ر ن مادہ۔ باب افتعال سے الاقتران کے معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے کسی معنی میں باہم مجتمع ہونے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے اوجاء معہ الملئکۃ مقترنین (43:53) یا یہ ہوتا کہ فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے۔ وہ آدمی جو دوسرے کا ہم پلہ ہو بہادری۔ قوت اور دیگر اوصاف میں اسے اس کا قرن کہا جاتا ہے اور ہم پلہ یا ہمسر کو قرین بھی کہتے ہیں چناچہ محاورہ ہے فلان قرن فلان او قرینہ فلاں اس کا ہم عمر یا ہمسر ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے انی کان لی قرین (37: 51) کہ میرا ایک ہم نشین تھا۔ آیت ہذا میں بھی قرین بمعنی ساتھی ہے اس ساتھی سے کون مراد ہے۔ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ساتھی سے مراد وہ فرشتہ ہے جسے آیت نمبر 21 میں بطور گواہ فرمایا گیا ہے وہ کہے گا کہ اس شخص کا اعمال نامہ میرے پاس تیار ہے کچھ دوسرے مفسرین نے لکھا ہے کہ ساتھی سے مراد وہ شیطان ہے جو دنیا میں اس شخص کے ساتھ لگا ہوا تھا وہ عرض کرے گا کہ یہ شخص جس کو میں نے اپنے قابو میں کرکے جہنم کے لئے تیار کر رکھا تھا۔ اب آپ کی خدمت میں حاضر ہے مگر سیاق وسباق سے زیادہ مناسبت رکھنے والی تفسیر وہی ہے جو قتادہ اور ابن زید سے منقول ہے کہ ساتھی سے مراد ہانک کر لانے والا فرشتہ ہے اور وہی عدالت الٰہی میں پہنچ کر عرض کرے گا کہ یہ شخص جو میری سپردگی میں تھا سرکار کی پیشی میں حاضر ہے۔ (تفہیم القرآن) ھذا ما لدی عتید : ھذا کا اشارہ یا تو شخص کی طرف ہے یا اعمال نامہ کی طرف ما موصوفہ بمعنی شے ہے لدی مضاف مضاف الیہ مل کر ما کی صفت (میرے پاس) عتید ما موصوفہ کی صفت بمعنی تیار ہے، حاضر ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ یہ جو میری سپردگی میں تھا حاضر ہے
Ayah 50:24

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

(حکم ہوگا کہ) ہر سرکش ناشکرے کو دوزخ میں ڈال دو

(50:24) القیانی جھنم کل کفار عنید : ای قیل القیافی ۔۔ الخ۔ القیا فعل امر حاضر تثنیہ مذکر۔ القاء (افعال) مصدر۔ تم دونوں ڈال دو ۔ کل مضاف کفار عنید موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول القیا کا۔ کفار مبالغہ کا صیغہ، بڑا کافر۔ عنید عناد رکھنے والا ۔ مخالف۔ ضدی۔ علامہ ناصر بن عبد السید مطرزی نے لکھے ہیں کہ : عنید اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانتے پہچانتے ٹکرائے۔ یہ عنود سے ہے جس کے معنی راستہ سے ادھر ادھر ہٹ جانے کے ہیں بروزن فعیل بمعنی فاعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اس کی جمع عند ہے۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ (اور حکم ہوگا) ہر کافر ضد رکھنے والے کو تم دونوں جہنم میں ڈال دو ۔ القاء امر کا صیغہ تثنیہ مذکر حاضر کے بارے میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) خلیل اور اخفش کہتے ہیں کہ فصحاء عرب واحد کے لئے بھی بسا اوقات تثنیہ کا صیغہ استعمال کرلیتے ہیں جس طرح ایک دوست کے لئے خلیلی (تثنیہ) عام مروج ہے۔ امرؤ القیس اپنے ایک رفیق سفر کو مخاطب کرکے کہتا ہے :۔ قفانبک من ذکر حبیب ومنزل اے میرے دوست ذرا ٹھہرو تاکہ ہم اپنے محبوب اور اس کی منزل کو یاد کرکے آہستہ بنالیں۔ یہاں قف کی بجائے قفا تثنیہ کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ القیا تثنیہ کا صیغہ نہیں بلکہ اصل میں امر تاکید بانون خفیفہ تھا (القین) اب یہ نون بدل کر الف ہوگیا۔ (3) یہ خطاب صرف اس قرین سے نہیں جس نے آیت سابقہ میں ھذا ما لدی عتید کہا تھا بلکہ یہ حکم ان دونوں فرشتوں کے لئے ہے (سائق وشھید) جو مجرم کو عدالت میں لاکر پیش کریں گے لہٰذا تثنیہ کا صیغہ قاعدہ کے مطابق ہے۔ یا یہ فرشتے جہنم کے داروغہ فرشتوں میں سے کوئی دو ہیں جن کو یہ حکم دیا جائے گا۔ (4) مخاطب حقیقت میں کوئی ایک فرشتہ ہے لیکن بصیغہ تثنیہ ذکر کرنے سے تثنیہ فعل مراد ہے اور تکرار فعل برائے تاکید ہوتی ہے لہٰذا تکرار واحد یعنی مخاطب واحد کو بصیغہ تثنیہ ذکر کرنے سے بھی تاکید فعل ہوگئی۔
Ayah 50:25

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا شبہ نکالنے والا تھا

(50:25) مناع : منع باب فتح سے مبالغہ کا صیغہ، بہت منع کرنے والا۔ بہت روک رکھنے والا۔ نیکی کے کام سے یا مال کے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے۔ للخیر میں خیر سے مراد نیکی بھی ہے اور مال بھی۔ خیر سے بہت روکنے والا۔ معتد : اسم فاعل واحد مذکر حد سے بڑھنے والا۔ اصل میں معتدی تھا ۔ اعتداء (افتعال) مصدر سے، حدود حق سے ہٹ جانا۔ تجاوز کرنا۔ اس میں عدو کا مفہوم ہے دل سے اگر ایک دوسرے کی طرف سے ہٹ جائے تو عدوان اور عدو ہے اسی سے عدو اور معادی بمعنی دشمن ہے اور ظلم وتعدی میں، تعدی بمعنی دوسرے کی طرف تجاوز کرنا۔ مریب۔ اسم فاعل واحد مذکر ارابۃ (افعال) مصدر۔ ریب مادہ۔ متردد بنا دینے والا متردد کرنے والا۔ بےچین کردینے والا۔ آیت ہذا میں بمعنی تردد (شک) کرنے والا ہے۔ قرآن میں باقی ہر جگہ بےچین کردینے والا۔ متردد بنا دینے والا ترجمہ ہوگا۔
Ayah 50:26

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے خدا کے ساتھ اور معبود مقرر کر رکھے تھے تو اس کو سخت عذاب میں ڈال دو

(50:26) فالقیہ : ہ ضمیر واحد مذکر غائب الذی کی طرف راجع ہے۔ عنید : متاع للخیر، معتد، مریب۔ اور شرک سب کل کفار کی تشریح میں ہے۔
Ayah 50:27

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ آپ ہی راستے سے دور بھٹکا ہوا تھا

(50:27) قال قرینہ : قرین سے مراد یہاں شیطان ہے جو دنیا میں اس شخص کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ اور یہ بات بھی انداز بیان ہی سے مترشح ہوتی ہے کہ وہ شخص اور اس کا شیطان دونوں خدائی عدالت میں ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ حضور یہ ظالم میرے پیچھے پڑا ہوا تھا اور اسی نے آخر منجھے گمراہ کرکے چھوڑا۔ اس لئے سزا اس کو ملنی چاہیے اور شیطان جواب میں کہتا ہے کہ سرکار میرا اس پر کوئی زور نہیں تھا۔ کہ یہ سرکش نہ بننا چاہتا ہو اور میں نے اسے زبردستی سرکش بنادیا ہو یہ کمبخت تو خود نیکی سے نفور اور بدی پر فریفتہ تھا۔ اسی لئے انبیاء کی کوئی بات اسے پسند نہ آئی اور میری ترغیبات پر یہ پھسلتا چلا گیا۔ ما اطغیتہ۔ ماضی منفی واحد متکلم اطغاء (افعال) مصدر بمعنی شرارت اور سرکشی میں ڈالنا ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع وہ کافر شخص ہے، میں نے اس کو سرکشی میں نہیں ڈالا تھا ۔ (غوی مادہ) ضلل بعید : موصوف و صفت، پرلے دوجے کی گمراہی۔
Ayah 50:28

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ ہمارے حضور میں ردوکد نہ کرو ہم تمہارے پاس پہلے ہی (عذاب کی) وعید بھیج چکے تھے

(50:28) قال : ای قال اللّٰہ۔ اللہ کہے گا۔ لا تختصموا : فعل نہی جمع مذکر حاضر اختصام (افتعال) مصدر۔ تم جھگڑا مت کرو۔ لدی : لدی اسم ظرف مضاف ی ضمیر واحد متکلم مضاف الیہ ۔ میرے سامنے ، میرے روبرو۔ وقد قدمت الیکم بالوعید واؤ حالیہ اور جملہ حالیہ ہے اور جھگڑا کرنے کی ممانعت کی علت ہے۔ قد : ماضی سے پہلے تحقیق کا معنی دیتا ہے اور زمانہ کو ماضی قریب کردیتا ہے۔ قدمت ماضی کا صیغہ واحد متکلم تقدیم (تفعیل) مصدر۔ اگر تقدیم کے بعد باء آجائے تو وقئت سے پہلے کسی کام کا حکم دیے یا وقت سے پہلے اطلاع دینے کے معنی ہوتے ہیں تاکہ وقت آنے سے پہلے اطلاع پانے والا کام کرے۔ آیت ہذا میں بھی یہی مراد ہے کہ میں نے یوم جزاء آنے سے پہلے دنیا میں ہی پیغمبروں کی زبانی اور کتابوں میں خوف آگیں اطلاع بھیج دی تھی اور پہلے ہی حکم دیدیا تھا کہ تیاری کرلو۔ ترجمہ :۔ میں پہلے ہی تمہارے پاس وعید عذاب بھیج چکا تھا۔ اگر تقدیم کے بعد باء نہ آئے تو پہلے سے کرنے ، پہلے سے بھیجنے، پیش کرنے اور پہلے زمانے میں کر چکنے کے معنی ہوتے ہیں۔ مثلا یلیتنی قدمت لحیاتی (89:34) کاش میں نے اپنی زندگی (جاہ دانی) کے لئے کچھ پہلے ہی بھیج دیا ہوتا۔
Ayah 50:29

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے

(50:29) ما یبدل القول : ما یبدل مضارع منفی مجہول واحد مذکر غائب۔ تبدیل (تفعیل) مصدر ۔ بدلہ نہیں جاتا۔ (میرا حکم اٹل ہوتا ہے اور مستقل ہوتا ہے بدلا نہیں جاتا) ۔ بظلام : ب حرف جار۔ ظلام مجرور (ظلم کرنے والا) مبالغہ کا صیغہ ہے لیکن یہاں مبالغہ ظلم کی نفی مراد نہیں بلکہ نفس ظلم کی نفی ہے۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ (اور میں بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں) ۔
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی ؟ وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے ؟

(50:30) ہل امتلئت : ہل حرف استفہام ہے امتلئت ماضی واحد مؤنث حاضر، امتلاء (افتعال) مصدر بمعنی بھر جانا۔ پر ہوجانا۔ کیا تو پر ہوگئی ہے کیا تو پھر گئی ہے۔ وتقول : تقول مضارع واحد مؤنث غائب قول (باب نصر) مصدر اور وہ کہے گی۔ ہل من مزید۔ اس کے متعلق علماء کے دو قول ہیں اول یہ کہ ہل استفہام انکاری ہے ہل امتلئت کے جواب میں جہنم کہے گی کیا ابھی اور بھی ہیں میں تو یا رب العزت بھر گئی ہوں میرے اندر کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جو بھری ہوئی نہ ہو۔ اب میرے میں اور گنجائش نہیں ہے۔ دوم یہ کہ یہ استفہام زیادتی کی طلب کو ظاہر کر رہا ہے ، یعنی جہنم کہے گی یا رب کچھ اور بھی ہے لایا جائے میں حاضر ہوں فائدہ : بعض مفسرین اور علماء نے لکھا ہے کہ اللہ اور دوزخ کے درمیان سوال و جواب حقیقی نہیں ہیں بلکہ بطور تخیل و تصویر بیان کیا ہے لیکن اس بیکار تاویل کی ضرورت نہیں ہے حقیقی سوال و جواب مراد لینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کیونکہ خداوند تعالیٰ جل شانہ انسانی اجزاء کو جس طرح ناطق بنا دے گا اسی طرح دوزخ کو ناطق بنا دیگا۔ یہ بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ قرآن مجید میں ہے وقلوا یجلودہم لم شھد ثم علینا قالوا انطقنا اللّٰہ الذی انطق کل شیء (41:21) اور وہ اپنے چمڑوں یعنی اعضاء سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی وہ کہیں گے جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی قوت گویائی بخشی۔
Ayah 50:31

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی (کہ مطلق) دور نہ ہوگی

(50:31) واذلفت : واؤ عاطفہ ازلفت ماضی مجہول جمع مؤنث غائب ازلاف (افعال) مصدر۔ جملہ کا عطف یا تو نفخ فی لاصور پر ہے یا وجاءت کل نفس ۔۔ پر ہے۔ جہنمیوں کے ذکر کے بعد ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی زہد وتقوی اور احکام خداوندی کی تعمیل میں گزاردی۔ اذلاف بمعنی قریب لانا۔ (جنت متقیوں کے قریب لائی گئی یعنی لائی جائے گی) ۔ (ماضی بمعنی مستقبل) غیر بعید : موصوف محذوف ہے ای غیر مکان بعید : او غیر زمان بعید یہ لفظ قرب کی مزید تاکید کے لئے لایا گیا ہے اگرچہ ازلفت کا لفظ بھی قرب پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ محاورہ میں بولا جاتا ہے کہ فلاں مکان قریب ہے دور نہیں۔
Ayah 50:32

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یعنی) ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے

(50:32) ھذا : اشارۃ الی الجنۃ۔ جنت کی طرف اشارہ ہے۔ ھذا صیغہ مذکر الجنۃ مؤنث کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فلما رأی الشمس بازغۃ قال ھذا ربی (6:79) ما توعدون ما موصولہ توعدون صلہ۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب وعد (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی وعدہ کرنا ۔ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اواب : بہت رجوع کرنے والا۔ فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے اواب (باب نصر) مصدر۔ بمعنی لوٹنا۔ اب الی اللّٰہ : توبہ کرنا۔ سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ :۔ اواب : ھو الذی یذنب ثم یتوب ثم یذنب ثم یتوب : اواب وہ ہے جو گناہ کرتا ہے پھر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس اور عطاء نے اواب کا ترجمہ پاکی بیان کرنے والا کیا ہے جیسے کہ آیت یجبال اوبی (34:10) میں اوبی کا ترجمہ ہے تسبیح کر۔ یعنی اللہ کی پاکی بیان کر ضحاک نے اس کا معنی بکثرت توبہ کرنے والا کیا ہے۔ یہاں اپنے تمام اقوال و افعال میں حرکات و سکنات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور اس کا مطیع ہونا مراد ہے۔ حفیظ : نگہبان، حفاظت کرنے والا۔ حفیظ (باب سمع) مصدر سے بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ قتادہ نے کہا ہے کہ اللہ نے اپنے جن حقوق کا اس کو امین بنایا ہے ان کی حفاظت کرنے والا۔
Ayah 50:33

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا رہا اور رجوع لانے والا دل لے کر آیا

(50:33) من خشی الرحمن بالغیب : جوبن دیکھے رحمن سے ڈرتا ہے (رحمن اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے) یہ جملہ یا تو اواب حفیظ سے بدل ہے یا اس کی صفت کہ اواب حفیظ وہ شخص ہے جو کہ بن دیکھے خدا وند تعالیٰ سے ڈرے۔ وجاء بقلب منیب : یہ بھی اواب کی صفت میں ہے اور جو قلب منیب لے کر آیا ہے۔ قلب منیب موصوف و صفت منیب اسم فاعل واحد مذکر انابۃ (افعال) مصدر لوب مادہ۔ اللہ کی طرف خلوص سے رجوع کرنے والا۔ ہر طرف سے لوٹ کر اللہ کی طرف مڑنے والا۔ بار بار ۔ اللہ کی طرف لوٹنے والا۔ خلوص دل کے ساتھ اللہ سے توبہ کرنے والا۔
Ayah 50:34

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے

(50:34) ادخلوھا : امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ادخال (افعال) مصدر۔ تم داخل ہوجاؤ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الجنۃ (آیت نمبر 31) کی طرف راجع ہے۔ ادخلوھا سے قبل یقال لہم محذوف ہے ) ان سے کہا جائے گا۔ خطاب المتقین سے جن کی صفات اوپر مذکور ہوئی ہیں۔ بسلم : سلامتی کے ساتھ۔ فکر و عذاب سے محفوظ اور زوال نعمت سے بےخطر۔ یا یہ کہ تمہارے داخلہ پر جنت کے فرشتے سلام علیکم (تم پر سلامتی ہو) سے تمہارا خیر مقدم کریں گے۔ ذلک یوم الخلود : ای ذلک یوم ابتداء الخلود۔ یہ بقاء خلد کی ابتداء کا دن ہوگا۔ اس دن سے تم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بہشت میں رہو گے۔
Ayah 50:35

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

وہاں وہ جو چاہیں گے انکے لئے حاضر ہے اور ہمارے ہاں اور بھی (بہت کچھ) ہے

(50:35) مایشاء ون : ما موصولہ۔ یشاء ون مضارع جمع مذکر غائب صلہ۔ مشیۃ (باب فتح) مصدر وہ چاہتے ہیں یاد و چاہیں گے فیہا : ای فی الجنۃ۔ جنت میں۔ الدنیا مزید : واؤ عاطفہ لدینا مضاف مضاف الیہ ۔ ہمارے پاس ۔ مزید زیادہ ۔ زیادتی۔ زیادۃ سے مصدر میمی۔ یہ جملہ سابقہ جملہ سے حال ہے اور حال یہ ہے کہ ہمارے پاس (ان کے لئے) اس سے بھی زیادہ ہے۔
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے کئی امتیں ہلاک کر ڈالیں وہ ان سے قوت میں کہیں بڑھ کر تھے وہ شہروں میں گشت کرنے لگے کہ کیا کہیں بھاگنے کی جگہ ہے ؟

(50:36) وکم اہلکنا قبلہم من قرن : واؤ عاطفہ ہے۔ کم دو طرح آتا ہے :۔ (1) سوالیہ : استفہام کے لئے آتا ہے، کتنی مقدار۔ کتنی تعداد۔ کتنی دیر۔ اس کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب ہوتی ہے کبھی مذکور ہوتی ہے جیسے کم درھما عندک تیرے پاس کتنے درہم ہیں اور کبھی محذوف ہوتی ہے جیسے قال کم لبثت (2:259) ای کم زمانا لبثت۔ تو کتنی مدت ٹھہرا ۔ (2) خبر یہ۔ جو مقدار بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے جیسے کم قریۃ اہلکناھا : ہم نے بہت سی بستیوں کو برباد کردیا۔ کبھی تمیز سے پہلے من آتا ہے جیسے وکم من قریۃ اہلکناہا (7:4) یا آیت ہذا۔ کم من قرن کتنی ہی قوموں کو، بہت سی قوموں کو۔ قبلہم میں ہم ضمیر جمع ذکر غائب کا مرجع کفار مکہ یا قومک محذوف ہے۔ قرن ای قوما مقترنین فی زمن واحد۔ وہ لوگ جو ایک ہی زمانہ میں رہتے ہوں قومیں۔ کم من قرن بہت سی قوموں کو۔ ہم اشد منہم : ہم اول سے مراد وہ قومیں جن کو ہل مکہ سے قبل ہلاک کیا گیا۔ اور ہم دوم سے مراد کفار مکہ ہیں۔ اشد افعل التفضیل کا صیغہ۔ بہت سخت، بہت طاقتور، بہت بڑھ کر۔ بطشا : ازروئے طاقت و سختی وقوت، اسم تمیز ہے۔ نقبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تنقیب (تفعیل) مصدر۔ بمعنی گھومنا۔ گشت لگانا۔ نقب مصدر۔ (باب نصر) دیوار میں سوراخ کرنا۔ نقابۃ (باب نصر) مصدر سے فی کے صلہ کے ساتھ۔ گھومنا۔ چکر لگانا۔ فنقبوا فی البلاد : ساروا فی الارض وطوفوا فیہا حذار الموت، موت سے بچنے کے لئے ملکوں میں گھومتے رہے اور چکر لگاتے رہےتعقیب کے لئے ہے۔ ہل من محیص : ہل استفہامیہ انکاریہ ہے محیص اسم ظاف مکان۔ پناہ گاہ۔ کیا عذاب الٰہی سے انہیں کوئی پناہ گاہ ملی ؟
Ayah 50:37

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

جو شخص دل (آگاہ) رکھتا ہے یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے

(50:37) ذلک۔ اشارہ ہے ان کے ہلاک ہونے کی طرف۔ یا جو مضمون اس سورت میں بیان ہوا ہے اس کی طرف ۔ لذکری۔ لام تحقیق کے لئے ہے۔ ذکری پندو نصیحت، عبرت۔ قلب : سے مراد یہاں قلب سلیم ہے۔ جو حقائق پر غور کرے اور صرف سطحی نظر سے نہ دیکھے پھر غور کے بعد اس سے نصیحت پکڑے القی السمع : القی ماضی واحد مذکر غائب القاء (افعال) مصدر اس نے ڈالا۔ القی السمع : ای اصغی الی ما یتلی علیہ من الوحی۔ جو وحی اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنتا ہے ۔ گوش ہوش سے سنتا ہے۔ وھو شھید : ای حاضر بذھنہ لیفھر معانیہ اور اپنے ذہن کو حاضر رکھے تاکہ اس کے معنی سمجھ سکے (بیضاوی) یہ سورت اس شخص کے لئے عبرت و موعظت ہے جس کے پاس قلب سلیم ہو یا قرآن کو بحضور قلب سنے۔ یا شھید بمعنی شاھد ہے۔ یعنی کانوں سے سن کر دل اس کی گواہی دے اور تصدیق کرے۔ ظاہر قرآن سے نصیحت اندوز ہو اور اس کی تنبیہات سے اثر پذیر ہو (تفسیر مظہری)
Ayah 50:38

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے سب کو چھ دن میں بنادیا اور ہم کو ذرا بھی تکان نہیں ہوا

(50:38) ما مسنا : ما نفی کا ہے مسنا میں مس فعل ماضی واحد مذکر غائب مس (باب نصر) مصدر سے دکھ پہنچانا۔ لاحق ہونا۔ لگ جانا۔ چھو جانا۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ اس نے ہم کو نہیں چھوا۔ وہ ہم کو نہیں پہنچا۔ لغوب : مصدر۔ ٹھکنا۔ نیز اسم مصدر۔ تھکان، لغب (باب فتح، سمع، کرم ) بمعنی سخت تھک گیا۔ وما مسنا من لغوب اور ہم کو ذرا بھی تھکان نہیں ہوئی۔
Ayah 50:39

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

تو جو کچھ یہ (کفار) بکتے ہیں اس پر صبر کرو اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اسکے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو

(50:39) سبح امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تسبیح (تفعیل) مصدر۔ تو تسبیح کر ، تو پاکی بیان کر، تو عبادت کر۔ بحمد ربک : ب حرف جار حمد مجرور۔ مضاف ربک مضاف مضاف الیہ مل کر حمد کا مضاف الیہ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ (اس کی پاکی بیان کر) ۔ قبل طلوع الشمس : طلوع الشمس مضاف مضاف الیہ مل کر قبل کا مضاف الیہ سورج کے طلوع سے قبل۔ قبل بوجہ ظرفیت (مفعول فیہ) منصوب ہے۔ وقبل الغروب۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے ای وسبح بحمد ربک قبل الغروب : اور تسبیح کر اپنے رب کی غروب آفتاب سے پہلے۔ ترکیب جملہ سابقہ کے مطابق۔
Ayah 50:40

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس (کے نام) کی تنزیہہ کیا کرو

(50:40) ومن الیل فسبحہ واؤ عاطفہ ہے من تبعیضیہ من الیل مفعول فیہ ہے فعل مذحوف کا۔ ای وسبحہ من الیل فسبحہ اور رات کے کچھ وقت میں بھی اس کی پاکی بیان کر۔ پس اس کی پاکی بیان کر ۔ وادبار السجود : ای وسبحہ ادبار السجود : ادبار فعل محذوف سبحہ کا مفعول فیہ ہے دبر کی جمع بمعنی پیٹھیں۔ پیچھے کے معنی میں بھی مستعمل ہے اور سجدوں (نمازوں) کے بعد بھی اس کی تسبیح کر۔ فائدہ : آیات 39:40 میں تسبیح سے مراد نامز پڑھنا ہے تسبیح قبل طلوع الشمس سے مراد نماز فجر ہے تسبیح قبل الغروب سے مراد نماز ظہر و عصر ہے من الیل سے مراد نماز مغرب و عشاء ہے اور ادبار السجود سے مراد نوافل ہیں جو فرائض کے بعد پڑھے جاتے ہیں۔