50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsسراج البیان

Ayahs 50:1–7

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق ۔ اس قرآن بڑے شان والے کی قسم

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ انہیں تعجب ہوا کہ ان کے انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آیا ہے پس کافروں نے کہا کہ یہ عجیب شئے ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے (تو کیا ہم پھر زندہ کئے جائینگے) یہ دوبارہ زندہ ہونا تو بہت (ہی عقل) سے دور ہے

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

ان (آدمیوں) میں سے جتنا زمین گھٹاتی ہے ہمیں معلوم ہے اور ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ انہوں نے حق کو جبکہ وہ ان کے پاس آچکا جھٹلایا سو وہ الجھی بات میں پڑے ہوئے ہیں

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ۔ کہ کیونکر ہم نے اسے بنایا اور زینت دی ۔ اور اس میں کوئی سوراخ نہیں

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ ڈال دیئے ۔ اور اس میں ہر قسم کی رونق کی چیز اگائی

سورة ق فرمایا : کہ قرآن کی لفظی ومعنوی بزرگی اور عظمت خود قرآن پر وال ہے ۔ اور جس شخص نے اس صحیفہ مقدس کا بغور مطالعہ کیا ہے ۔ وہ اس کے محاسن سے متاثر ہو کر مجبور ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کی سچائی پر گواہی دے اور یہ کہہ دے ۔ کہ اتنی بڑی کتاب ۔ اتنا مکمل زندگی کا پروگرام ، اور اتنے خوارق علمیہ کا حامل مجموعہ ناممکن ہے ۔ کہ انسانی دماغ کی اختراع وایجاد قرار دیا جاسکے ۔ مگر ان مکہ کے ناسمجھ لوگوں کو اس کتاب ہدیٰ کی رفعتوں کا اندازہ نہیں ہوتا ۔ انہیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ ان میں کا ایک آدمی کیونکر منصب نبوت پر فائز ہوسکتا ہے ۔ ان کے نزدیک پیغمبر کے لئے ضروری ہے ۔ کہ وہ فوق البشر شخصیت ہو ۔ پھر انہیں تعلیمات کا یہ بڑا حصہ عجیب و غریب معلوم ہوتا ہے ۔ کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے ۔ تو کیونکر اٹھ کر اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے ۔ یہ لوگ کہتے ہیں ۔ کہ حشر اجساد کا یہ عقیدہ بالکل دوراز قیاس ہے ۔ اور عقل اس کو ہرگز تسلیم نہیں کرتی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ اس میں استحالہ اور اشکال کیا ہے ۔ ہم جانتے ہیں ، زندگی کے عناصر کہاں کہاں ہیں ۔ اور کن کن اشکال و صورت میں پنہاں ہیں ۔ ہمارے پاس معلومات کا کامل دفتر موجود ہے ۔ اس لئے ان حالات میں نشاۃ ثانیہ کچھ بھی دشوار نہیں ۔ اصل بات یہ ہے ۔ کہ ان لوگوں کو چونکہ اسلامی تعلیمات پر اعتماد نہیں ہے ۔ اور حق وصداقت کو ٹھکراتے ہیں ۔ اس لئے یہ باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آتیں ۔ ورنہ یہ بالکل سادہ اور قریب فہم مسئلہ ہے ۔ کہ جب اللہ کا علم کامل ہے اور وہ زندگی کا پیدا کرنے والا ہے ۔ اور بغیر ذرائع وسائل کے ہزار ہا عوام کو بیک جنبش امادہ معرض ظہور میں لے آنے والا ہے ۔ اور اس کو معلوم ہے ۔ کہ زندگی کا عطر کس کس پتی اور گل بوٹے سے کھینچتا ہے ۔ تو پھر دوبارہ پیدا کردینے میں کیا دقت ہے ؟ حل لغات :۔ والقرآن المجید ۔ یعنی قرآن کی بزرگی بطور استدلال اور استشہاد کے بیش ہے رجع بعید ۔ دوبارہ زندہ ہونا بہت ہی بعید ہے ۔
Ayahs 50:8–9

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

مقصود اس سے ہر ایک رجوع (ف 1) لانے والے بندے کو راہ دکھلانا اور نصیحت کرنا ہے

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے برکت کا پانی اتارا پھر اس سے باغ اور کتنے کھیت اگائے

ف 1: ان آیات میں انسانی توجہ کو اس طرح مبذول کیا ہے ۔ وہ کائنات کے مضبوط ترین نظام کو دیکھیں ۔ اور بتائیں اتنے بڑے آسمان میں کہیں رخنہ ہے ؟ یہ زمین ان کے پاؤں تلے بچھی ہے ۔ اس پر بڑے بڑے پہاڑ استادہ ہیں ۔ اور ہر طرح کی روئیدگی اور سبزہ موجود ہے ۔ کیا ان میں کوئی نقص ہے ؟۔ فطرت کے ان مظاہر میں بلاشبہ تذکیر اور عبرت پذیری کا وافر سامان موجود ہے ۔ مگر اس کے لئے ضرورت ہے عبودیت کی اور انابت الی اللہ کے پاکیزہ جذبات کی باقی صفحہ حل لغات :۔ امرہ ریح ۔ متزلزل حالت میں ۔ بروج ۔ شگاف ۔ رخنہ بھیج ۔ بارونق ۔ خوش نما ۔ نیکو بین السماء ۔ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس کا تعلق معبودوں یا دیوتاؤں سے نہیں ہے ۔ جیسا کہ عام بت پرست سمجھتے ہیں ۔ بلکہ اس کا تعلق محض اللہ کی قدرت سے ہے ۔
Ayah 50:10

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور کھجور کے لمبے درخت جن پر تہ بر تہ خوشہ ہیں

بارش کی برکتیں 1: بارش کی برکات کا تذکرہ کیا ہے ۔ کہ یہ کس قدر خیروبرکت کا موجب ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ سے باغات نشونما پاتے ہیں ۔ اناج اگتا ہے ۔ اور لمبی لمبی کھجوریں پیدا ہوتی ہیں ۔ جن کے خوشے خوب گتھے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ سب اس لئے ہے کہ اللہ کے بندے اپنے لئے رزق اور قوت کا سامان مہیا کریں ۔ پھر ایسا بھی ہوتا ہے ۔ کہ دیہات کے دیہات بارش نہ ہونے کی وجہ سے خشک اور بےآب ہوجاتے ہیں ۔ اور جب ابررحمت کے ۔ چند چھینٹے پڑجاتے ہیں ۔ تو ان میں تروتازی عود کر آتی ہے ۔ گویا وہ دوبارہ زندگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ کہ جو لوگ حشیر اجساد کے منکر ہیں ۔ اور جن کی سمجھ میں یہ حقیقت نہیں آتی ۔ کہ کیونکر عالم انسانی موت کے بعد زندگی کی کیفیتوں سے لذت اندوز ہوسکے گا ۔ وہ اس واقعہ پر غور کریں ۔ کہ بارش کے چند قطرے کیونکر زمین کے سینہ سے زندگی کو نکال کر محمل وریحان سے بدل دیتے ہیں ؟ جب یہ ممکن ہے ۔ اور ممکن ہی نہیں ۔ مشاہدہ ہے ۔ کہ روزانہ ہم عدم کو وجود میں تبدیل ہوتے دیکھتے ہیں ۔ تو پھر استحالہ کیسا ؟ اسی طرح اللہ کی قدرت سے قیامت کے دن مردے جی اٹھیں گے ۔ اور اس کے حضور میں پیش ہوں گے ۔
Ayahs 50:11–13

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

جو بندوں کے لئے روزی ہے اور اس پانی سے ہم نے مردہ (ف 2) شہرکو جلایا (اسی طرح) قبروں سے نکلنا ہے

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

اس سے پہلے قوم نوح اور کنوئیں والوں اور ثمود نے جھٹلایا تھا

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور قوم عاد اور فرعون اور لوط کے بھائیوں

تعلیم الٰہی کی غرض 2: تعلیمات الٰہیہ کی غرض وغایت یہ ہوتی ہے ۔ کہ مردہ تنوں میں جان ڈالدی جائے ۔ اور جن دلوں میں کفر والحاد کے خیالات کی وجہ سے زنگ پیدا ہوگیا ہے ۔ اس کو روشن اور مجلی بنادیا جائے ۔ روح کا تزکیہ کیا جائے اور اخلاق کو سنوارا جائے ۔ اور انسان کو بحیثیت مجموعی اس قابل بنایا جائے کہ وہ زندگی کی مشکلات میں عبور حاصل کرسکے ۔ اور ساری کائنات کو اپنے لئے مسخر کرلے ۔ اس مقصد کی تکمیل جب نہیں ہوتی اور قومیں اپنے افکار و معصیت سے جب یہ ثابت کردیتی ہیں ۔ کہ ہمیں زندہ رہنے کی قطعاً کوئی خواہش نہیں ہے ہماری صلاحتیں بیکار ہوچکی ہیں ۔ اور روحانی اخلاقی نصب العین کھو چکی ہیں ۔ تو اس وقت اللہ کا عذاب آتا ہے اور قوموں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔ ان آیتوں میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ حل لغات :۔ حب الحصید ۔ غلہ ۔ اناج باسقت ۔ بلند اور بارآور فصید ۔ خوب گھومتا ہوا ضحاف الرین ۔ اس ایک راوی کا نام ہے ۔ لایکۃ جھنڈ ۔
Ayahs 50:14–15

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور ان کے رہنے والوں اور قوم تبع سب نے رسولوں کو جھٹلایا سو میرے عذاب (ف 1) کا وعدہ ان پر راست آیا

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ہیں ؟ کوئی نہیں بلکہ انہیں نئی پیدائش میں شک ہے

خدا رگ جان سے بھی قریب ہے 1: رگ جان سے بھی اللہ کے قریب ہونے کے معنی یہ ہیں کہ نفس کی ادنیٰ ترین تحریکات سے بھی وہ آگاہ ہے ۔ اور اس کو خوب معلوم ہے ۔ کہ الحادوزندقہ کے اثراث کس طرح ہوتے ہیں ۔ اور سای طرح بڑھتے ہیں ۔ اس کا علم اتنا وسیع ہے ۔ کہ بعض دفعہ ان خواطر کو خود ہم کو بھی محسوس ہیں ہوتے وہ جانتا ہے اور نہ صرف جانتا ہے بلکہ اس کے فرشتوں کے پاس ان کا کامل مرقع موجود ہے ۔ وہ فرشتے مامور ہیں ۔ کہ کسی بات کو ضائع نہ جانے دیں اور فورات جب کوئی شخص کلمہ خیر یا شر کہے ۔ وہ اس کو محفوظ کرلیں ۔ یہ نظریہ حفظ صورت کا نظریہ ہے سا کے معنے یہ ہیں ۔ کہ کوئی آواز فضا میں ضائع نہیں ہوتی ۔ اسی نظریہ کی تکمیل ریڈیو ہے ۔ اور قرآن نے اس وقت اس چیز کو پیش فرمایا ہے ۔ جبکہ اس کو سمجھنا سخت دشوار تھا ۔ یہ وہ خوارق علمیہ ہیں ۔ جو اس بات کا کافی ثبوت ہیں ۔ کہ یہ کتاب اللہ کی کتاب ہے جس کا علم بدرجہ غائیت وسیع اور اکمل ہے ۔
Ayahs 50:16–21

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہمیں معلوم ہیں ۔ جو باتیں اس کے جی آتی ہیں اور ہم دھڑکتی رگ جان سے زیادہ اس کے قریب (ف 1) ہیں

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جبکہ وہ لینے والے داہنے بائیں بیٹھے لیتے رہتے ہیں ۔ (یعنی انسان) کو کلمہ زبان سے نکالتا ہے دو فرشتے اس کو لکھے جاتے ہیں

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

ممکن نہیں کہ آدمی کوئی کلمہ زبان سے نکالے اور اس کے پاس ایک نگہبان تیار نہ ہو

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی بیہوشی جس کا آنا یقینی ہے آکر رہے گا یہ وہ ہے جس سے تو بدکتا تھا

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور نرسنگا پھونکا جائے گا ۔ یہ عذاب کے وعدہ کا دن ہے

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص آئے گا ، اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہ ہوگا

اس وقت آنکھیں کھلیں گی ؟ 1: دلائل کی قسموں میں سے ایک قسم یہ ہے ۔ کہ مدلول کو اس طرح ممثل اور واضح کرکے پیش کیا جائے ۔ کہ اس کے سب امکانات خود بخود روشن ہوجائیں قرآن حکیم نے اثبات دعویٰ کے لئے اکثر اس نوع کے دلائل سے کام لیا ہے اس کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ سننے والا کم ازکم نفیس واقعہ کی ضروری تفصیلات سے آگاہ ہوجاتا ہے اور اس کو معلوم ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کو پیش کرنے والا اس کا کامل مرقع اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا ہے ۔ اور وہ ایسی چیز کی طرف دعوت نہیں دے رہا ہے ۔ کہ جس کو وہ خود پوری طرح نہ سمجھتا ہو ۔ پھر بعض طبائع جن میں قبولیت کی صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں ۔ وہ اس عبرت آفرین توضح وتشریح کو سن کر ایمانکے اور قریب ہوجاتی ہیں ۔ اور بسا اوقات یہ نفس تفصیل ان کے لئے ایمان کا موجب ہوجاتی ہے ان آیات میں ان واقعات کی تصویر کھینچی ہے ۔ جب نرسنگا پھونکا جائے گیا ۔ اور کہا جائے گا ۔ کو وعید وسرزنش کا دن آگیا ہے ۔ جب کیفیت یہ ہوگی ۔ کہ ہر شخص کو کشاں کشاں اللہ کے دربار عدل و انصاف کی جانب لایا جائے گا ۔ ایک فرشتہ تو اس کے ساتھ ہوگا ۔ جو اس کو پیش کریگا ۔ اور ایک گواہ ہوگا ۔ حل لغات : الویدا ۔ رگ جان تحید ۔ حیاع سے ہے جس کے معنی پہلوتہی کرنے کے ہیں اوعید ۔ سرزنش شافق ۔ ہنگامے والا ۔
Ayahs 50:22–29

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

تو اس سے غفلت میں تھا ۔ اب ہم نے تجھ سے تیرا پردہ (ف 1) ہٹا دیا ۔ سو آج تیری نگاہ تیز ہے

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اس کا ہم نشین (فرشتہ) بولا کہ جو کچھ میرے پاس تھا یہ حاضر ہے (اعمالنامہ)

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

اے دونوں فرشتوں ہر کافر سرکش کو دوزخ میں ڈال دو

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

نیکی سے روکنے والے حد سے باہر نکل جانے والے شک لانے والے کو

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے اللہ کے ساتھ اور معبود ٹھہرایا تو تم دونوں اسے سخت عذاب میں ڈال دو

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ہم نشین (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے رب میں نے اسے سرکش نہیں بنایا پر وہ خود پہلے درجے کی گمراہی میں تھا

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

اللہ کہے گا کہ میرے پاس تم جھگڑا نہ کرو اور میں تمہارے پاس پہلے ہی ودہ عذاب پہنچا چکا تھا

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

میرے پاس بات نہیں بدلتی اور میں بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں

ف 1: اس وقت غیب سے آواز آئیگی کہ دنیا میں تمہاری آنکھیں بند تھیں ۔ اس پر دولت ، عزت اور جہالت کے حجاب چھا رہے تھے ۔ آج وہ نقاب اتاردیا گیا ہے ۔ آج تیری نگاہیں تیزی کے ساتھ حالات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں ۔ بتا کہ یہی وہ چیزیں نہ تھیں ۔ جن کو تیرے سامنے پیش کیا جاتا تھا ۔ اور نوازراہ کبروغرور ان کا انکار کردیتا تھا ۔ کیا یہی وہ حقائق نہیں ہیں ۔ جن سے تجھے آگاہ کیا جاتا تھا اور تو ان کو بڑی بےپروائی سے ٹھکرادیتا تھا ۔ آج یہ چیزیں تیری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں ؟ کیا آج بھی انکار کی جرات ہے ؟ کیا اس وقت بھی جھٹلاتے ہو ؟ فرشتہ شہادت دیگا ۔ کہ اس کے اعمال میرے روزنامچہ میں ہیں ۔ یہ لکھے ہوئے موجود ہیں ۔ حکم ہوگا ۔ ان منکروں کو بلادریغ جہنم میں پھینک دو ۔ ان لوگوں نے دنیا میں ہر چیز اور ہر سعادت کی مخالفت کی تھی ۔ اللہ کی حدود سے تجاوز کیا تھا ۔ اور حقائق واقعات میں یہ بیشمار شبہ پیدا کرتے تھے ۔ یہ اللہ رب العزت کے ساتھ نہایت ادنیٰ چیزوں کو شر کی ٹھہراتے تھے ۔ ان کو خدا سمجھتے تھے ۔ اور خدا سمجھ کر ان کے سامنے جھکتے تھے ۔ آج یہ اس بات کے مستحق ہیں ۔ کہ ان کو عذاب شدید میں مبتلا کیا جائے ۔ اس وقت یہ بطور معذرت کہیں گے ۔ کہ اصل میں ہم کو شیطان نے بہکایا تھا ۔ ورنہ ہم نہیں چاہتے تھے ۔ کہ اللہ کے حکموں کی مخالفت کریں ۔ تب شیطان بھی ان کی مخالفت میں اٹھ کھڑا ہوگا ۔ اور جواباً یہ کہے گا ۔ کہ مولا میں نے ان کو بالکل گمراہ نہیں کیا ۔ یہ تو خود کھلی گمراہی میں مبتلا تھے ۔ ارشاد ہوگا ۔ میرے ہاں جھگڑو نہیں ۔ میں پہلے سے نیک وبدسمجھا چکا ہوں ۔ آج فیصلوں قطعاً تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے ۔ دوسری طرف دوزخ کی وسعتیں ھل من مزید کا مطالبہ کررہی ہوں گی ۔ حل لغات :۔ حدید ۔ بہت تیز ۔ اس میں اشارہ ہے ۔ اس چیز کی طرف کہ بینائی کی کیفیتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے ! اور نظر وبصر میں کئی قسم کی وسعتوں کو پیدا کیا جاسکتا ہے اوننیا ۔ تشنیر ہے ۔ مگر مراد اس سے جمع ہے ۔
Ayahs 50:30–35

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ تو بھر چکی ؟ اور وہ کہے گی کہ کچھ (ف 1) اور بھی ہے

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور بہشت متقیوں کے قریب کی جائے گی دور نہ ہوگی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہ وہ ہے جس کا وعدہ تمہیں ملا تھا ہر ایک رجوع لانے والے ادب نگاہ رکھنے والے کے لئے

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو بن دیکھے رحمن سے ڈرا اور رجوع کرنے والا مال دل سے کر آیا

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

سل امتی کے ساتھ اس میں داخل ہو یہ ہمیشگی کا دن ہے

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

وہاں ان کے لئے جو چاہیں گے موجود ہے اور ہمارے پاس زیادہ بھی ہے

عجیب ترین بات 1: اس سے قبل کی آیتوں میں جہنم والوں کا مرقع تھا ۔ اب ان آیات میں یہ بیان فرمایا ہے ۔ کہ اللہ کے پاکباز بندے جب اس کے حضور میں جائینگے ۔ تو وہ جنت کو بہت ہی قریب پائینگے ۔ اور دیکھیں گے ۔ کہ بلاکسی دقت اور کوفت کے وہ کس طرح ان نعمتوں سے بہرہ مند رہے ہیں ۔ جن کی نسبت ان سے دنیا میں کہا گیا تھا ۔ اس مقام مسرت وہجت میں وہ لوگ ہوں جو دنیا میں رجوع الی اللہ کے جذبات پاک سے مشرف ہیں ۔ جو ہر لمحہ اور ہر منزل اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے پر تیار ہوتے ہیں اور کوئی عزت ووقار کا سوال ان کو توبہ وانابت سے باز نہیں رکھ سکتا ۔ جو اس کے احکام اور اس کی بیان کردہ حدود کو اپنی نگاہ میں رکھتے ہیں ۔ اور کوشش کرتے ہیں ۔ کہ کبھی سرتابی اور انکار نہ کریں ۔ وہ جو اس کو دیکھتے تو نہیں ۔ مگر یقین اس درجہ ہے کہ بہر آئینہ اس سے لرزاں اور ترساں رہتے ہیں ۔ ہر وقت خشیت اور خوف سے ان کے بدن پر لرزہ سا طاری رہتا ہے ۔ ان کے دل تقویٰ سے معمور ہیں ۔ جو اسے جس کے سامنے جھکنے کے لئے بےتاب رہتے ہیں ۔ ان لوگوں سے کہا جائیگا ۔ یہ تمہارے لئے مختص ہے ۔ اس میں ہر نوع کی سل امتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے افکار کی الجھنوں سے چھوٹ جاؤ۔ یہ عجیب بات ہے کہ اسلام جس خدا کے تخیل کو پیش کرتا ہے ۔ وہ ایسا ہے جس کو نہ ٹٹول کر معلوم کیا جاسکے نہ آنکھیں اس تک پہنچ سکیں اور نہ فکرودلائل اس کا احاطہ کرسکیں ۔ مگر اس پر مطالبہ یہ ہے کہ نہ صرف ایسی ذات کو تسلیم کرے بلکہ اس کے ساتھ انتہا درجہ کی محبت اور عقیدت بھی رکھو ۔ اس سے ڈرو اور غائبانہ ہر وقت تعلقات کو استوار رکھو ۔ لکین یہ کس قدر تعجب انگیز بات ہے ۔ کہ بت پرستوں اور اصنام پرستوں کے دل میں اتنی محبت موجود نہیں ہے ۔ جن کو وہ روزانہ دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں ۔ جتنی کہ ایک مسلمان کے دل میں اس نادیدہ خدا کی ہے ۔ جو ہمیشہ اپنے جلال وجبروت میں مستور رہتا ہے ۔ حل لغات :۔ اواب ۔ اوب سے ہے ۔ جس کے معنے رجوع کے ہیں حفیظ ۔ اللہ کے احکام کو نگاہ میں رکھنے والا فنقبوا ۔ تنقیب سے ہے ۔ جس کے معنے گھومنے پھرنے کے ہیں ۔
Ayahs 50:36–37

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی امتیں ہلاک کر ماریں جو قوت میں ان سے سخت تھے ۔ پھر انہوں نے شہروں میں تفتیش کی کہ کہیں بھاگنے کا ٹھکانا بھی ہے ؟

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

بیشک اس میں اس شخص کے لئے نصیحت ہے ۔ جس کے اندر دل ہے یا دل لگا کر کان لگائیے (ف 1)

ف 1: اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ مکہ والوں سے کہیں زیادہ طاقتور قوموں نے جب ہماری نافرمانی کی تو وہ مٹادیئے گئے ہیں ۔ اور باوجود اس کے کہ وہ قومیں کئی شہروں میں گھومتی پھرتی رہتی تھیں ۔ ان کو کہیں پناہ نہیں ملی ۔ اس لئے داد سے م مکہ کے یہ مغرور بھی سن رکھیں ۔ کہ ہمارا قانون مکافات جب حرکت میں آگیا ۔ تو پھر کوئی چیز اس کے درمیان حائل نہ ہوسکے گی ۔ وہ پیدا کرنے میں ذرائع کا محتاج ہے نہ وسائل کا ۔ وہ حاکم اور قادر ہے ۔ اور بیک جنبش ارادہ ہزار ہا خوالم کو ظہور پذیر کرسکتا ہے ۔ اس لئے اگر یہ لوگ اس طرح کی باتوں کو اس کی ذات والا صفات کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ تو آپ برداشت کیجئے ۔ اور اپنے فرائض عبادت میں مصروف رہیے ۔