50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 50:1

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

قاف،1۔ قسم ہے قرآن بزرگ کی

1۔ عربی اسلوب بیان میں قسم کا مفہوم تاکید کا ہوتا ہے۔ اور جواب قسم یعنی قسم کے بعد کا مضمون اکثر بغیر کسی تصریح کے محض سیاق سے سمجھ لیا جاتا ہے۔ قسموں کی بحث کا تعلق تمامتر اسلوب بیان وبلاغت سے ہے۔ ق۔ مخفف اس فقرہ کا سمجھا گیا ہے۔ حکمۃ ھی قولنا قضی الامر (کبیر) ایک قول یہ ہے کہ : قفا اثرہ اے تبعہ کا مخفف ہے۔ قیل یجوز ان یکون ق امرا من مفاعلۃ قفا اثرہ اے تبعہ والمعنی اتبع القران واعمل بمافیہ (روح) یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قف کے معنی میں امر ہے۔ قیل انہ امر بمعنی قف اے قف عندما شرح لک ولا تجاوزہ (روح) حروف مقطعات کے لئے ملاحظہ ہو پ 1 میں الم پر حاشیہ۔ (آیت) ” والقران المجید “۔ قرآن مجید کی قسم کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ یہ کتاب اپنے مضامین کی بےنظیر بلندی اور معنویت کے لحاظ سے خود اپنی صداقت اور آپ کی رسالت پر گواہ ہے۔ (آیت) ” المجید “۔ یعنی بزرگی اور شرف والا قرآن۔ آج دنیا کی کون سی کتاب اپنی معنویت اور بلندی کے لحاظ سے اس کے ٹکر کی ہے ؟ کسی صحیفہ مذہب کو ع اس کی جامعیت وہمہ گیری کے مقابلہ میں لایا جاسکتا ہے ؟
Ayah 50:2

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

کہ ہم نے آپ کو نذیر بنا کر بھیجا ہے) لیکن یہ لوگ اس پر حیرت کررہے ہیں کہ ان کے پاس ایک ڈرانے والا نہیں میں سے آیا،2۔ سو کافر کہتے ہیں کہ یہ تو (بڑی) عجیب بات ہے

2۔ (حالانکہ اس نذیر کی سچائی پر ہر طرح کے دلائل صحیح قائم ہوچکے ہیں) (آیت) ” منھم “۔ انہیں میں سے، یعنی محض بشر ہوکر، یہی اس کے خصوصیات رکھ کر۔ مشرکین کی بڑی چڑھ اسی عقیدۂ رسالت سے ہے۔ وہ دیوتا کے قدموں پر گرپڑنے کو تیار رہتے ہیں۔ لیکن کسی فانی انسان کو خدا کا قاصد سمجھنا ان کی عقل کی گرفت سے بالکل باہر ہوتا ہے۔ آیت میں ایک حقیقت صحیح وثابت کے مقابلہ میں حیرت وشک کو باطل ٹھہرایا ہے۔ اس سے بعض اصولیین نے بقاعدۂ اقتضاء النص یہ مسئلہ نکالا ہے کہ مجرد شک وعجب کسی دلیل کا معارض نہیں ہوسکتا ہے۔
Ayah 50:3

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے (تو کیا دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ ) یہ رجعت تو (بہت ہی) بعید ہے،3۔

3۔ (عقل و قیاس سے) یعنی ایک تو بشر کی زبان سے دعوی رسالت خود ہی عجیب اور پھر ساتھ ہی یہ عقیدہ حشرونشر کا۔ ہم ” روشن خیالوں “ کی عقلیں اسے کیسے قبول کرلیں کہ جب ایک چیز فناء ہوگئی، اس کے اجزاء بکھر کر پارہ پارہ ہوگئے تو وہ دوبارہ پھر موجود ہوجائے گی، اعادۂ معدوم تو ہمارے تجربہ، مشاہدہ، عقل، سب کے خلاف ہے۔
Ayah 50:4

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

لیکن ہم تو ان کے اجزاء تک کو جانتے ہیں جنہیں زمین (کی مٹی) کم کرتی ہے اور ہمارے پاس تو (پورا) رجسٹر (ہی) محفوظ ہے،4۔

4۔” روشن خیال “۔ و حواس پرست مشرکوں کے دعوے پر جرح ہورہی ہے کہ تم اس بازگشت کو محال آخر کس بنا پر کہہ رہے ہو ؟ کیا اس لئے کہ اس ہستی میں قابلیت حیات نہیں ؟ اگر یہ مراد ہے تو یہ تو خود تمہارے مشاہدہ کے بھی خلاف ہے۔ پھر کیا ہے کہ ہمارے علم اور ہماری قدرت کو تم ناقص، محدود ناکافی سمجھتے ہو ؟ تو ہمارا علم تو ادنی سے ادنی جزئیات تک محیط ہے اور یہ علم بھی کچھ نوپیدا اور حادث نہیں، قدیم ہے۔ قبل وقوع ہی سے ہے۔ (آیت) ” ماتنقص الارض منھم “۔ یعنی ان کے جسم کے ہر ہر جزء کی وضع، مقدار، کیفیت سب ہی کچھ درج ہے۔ مراد لوح محفوظ سے ہونا ظاہر ہے۔ (آیت) ” فھم فی امر مریج “۔ حق کے ترک و انکار کا لازمی نتیجہ یہی ہونا تھا کہ ان لوگوں پر شک وارتیاب، تذبذب اور بےیقینی کی لعنت مسلط ہوجائے، عن قتادۃ قال من ترک الحق مرج علیہ رأیہ والتبس علیہ دینہ (جصاص)
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

اصل یہ ہے کہ یہ لوگ تو سچ ہی کو جھٹلاتے ہیں جب وہ ان کے پاس آگیا، غرض یہ کہ وہ ایک متزلزل حالت میں ہیں۔5۔

5۔ (کہ حق پر انہیں قرار ہی نہیں۔ کبھی تکذیب سے کام لیتے ہیں، کبھی تشکیک سے) (آیت) ” بل ..... ھم “۔ ان کی عادت ہی ہر سچائی سے انکار کی پڑگئی ہے۔
Ayah 50:6

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کیسا بنایا اور ہم نے اسے آراستہ کیا اور اس میں کوئی رخنہ (تک) نہیں،6۔

6۔ کمال علم کے بعد اب یہ بیان کمال قدرت کا ہورہا ہے ایک آسمان ہی پر جو کس وناکس ہر ایک کے مشاہدہ میں آرہا ہے، اور اس کی صناعی پر، عظمت وپہنائی پر، قوت و استحکام پر، ہر چیز پر غور کرو تو خود ہی معلوم ہوجائے گا کہ تم امکان بعث سے انکار واستبعاد پر کتنی نادانی پر ہو۔ (آیت) ” کیف “۔ اس میں اشارہ آسمان کی رفعت و عظمت، وسعت وپہنائی، استحکام و خوشنمائی سب کی جانب آگیا۔ (آیت) ” وما لھا من فروج “۔ یعنی کسی قسم کا نقص وضعف اس میں نہیں۔ ہر طرح مکمل ہی مکمل ہے۔ (آیت) ” وزینھا “۔ آسمان کی آراستگی و زیبائی بھی چاند، سورج ستاروں وغیرہ سے ہے۔
Ayahs 50:7–8

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے پھیلا یا اور اس میں پہاڑوں کو جما دیا اور اس میں ہر قسم کی خوشنماچیزیں اگائیں

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

جو ذریعہ ہے بینائی اور دانائی کا، ہر رجوع ہونے والے بندے کیلئے،7۔

7۔ آسمان کے بعد اب زمین کی صناعیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اور مطلب یہ ہوا کہ یہ آسمان و زمین کی ساخت و ترکیب، ان کے اندر کی گوناگوں صناعیاں، زمین پر پہاڑوں کا قیام، ان سب پر اگر انسان غور کرے تو قدرت الہی کے کتنے زبردست شواہد ان میں قدم قدم پر ملیں گے۔ لیکن یہ سبق بھی ہر شخص نہیں لیتا، یہ درس تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو نیت وقصد بھی اسی کا رکھتے ہیں۔ (آیت) ” والارض مددنھا “۔ زمین کے عظیم الشان پھیلاؤ کی طرف اشارہ ہے۔ (آیت) ” والقینا فیھا رواسی “۔ پہاڑوں کے قائم اور نصب کرنے کی ساری حکمتیں اس کے اندر آگئیں۔ (آیت) ” تبصرۃ ..... منیب “۔ ان عظیم الشان وحیرت انگیز مظاہر قدرت سے بھی عبرت وتذکرکاسبق لینا ہر ایک کا کام نہیں، چشم بینا ودل دانا اس کے لئے لازمی ہے۔ انابت واحساس عبدیت تو شرط اولیں ہے۔
Ayahs 50:9–11

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی برسایا پھر ہم نے اس سے باغ اور کھیتی کا غلہ

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور لمبی لمبی کھجور کے درخت جن کے گچھے خوب گندھے ہوئے رہتے ہیں

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

اگائے، بندوں کو روزی دینے کے لئے، اور ہم نے اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو زندہ کیا، اسی طرح (زمین سے حشر میں) نکلنا ہی ہوگا،8۔

8۔ یہاں گویا یہ فرمایا کہ تم جس طرح بارش ہوئے پر خشک زمین کو از سر نوسر سبز و شاداب ہوتے ہوئے روز مرہ دیکھتے ہو، اسی طرح حکمت الہی مردہ انسانوں کو بھی زمین سے لانکال کھڑا کرے گی۔ اور اس کا ناممکن ہونا تو خیر الگ رہا، اس میں استبعاد کی بھی کونسی بات ہے ؟
Ayahs 50:12–14

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان لوگوں کے قبل قوم نوح اور اہل رس اور ثمود

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد اور فرعون اور لوط والے

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور اہل ایکہ اور قوم تبع سب ہی تکذیب پیغمبروں کی کرچکے ہیں، سو میری وعید پوری اتری،9۔

9۔ (اور یہ سب کے سب تکذیب انیباء ہی کی پاداش میں اسی دنیا میں اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر رہے) (آیت) ” کل کذب الرسل “۔ منکروں نے انبیاء کرام کی تکذیب دین کے عقائد اساسی کے باب میں کی ہے اور وہ یہ تین مسئلے ہیں۔ (1) توحید۔ (2) حشرونشر (3) رسالت “۔ (آیت) ” قوم نوح۔ اصحب الرس۔ ثمود۔ فرعون۔ اخوان لوط۔ اصحب الایکۃ۔ قوم تبع “۔ ان سب پر حاشیے پہلے گذر چکے ہیں۔
Ayah 50:15

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

تو کیا ہم پہلی بار کی پیدائش سے تھک چکے ہیں ؟ اصل یہ ہے کہ یہ لوگ از سر نو پیدائش ہی کی طرف سے شبہ میں پڑے ہیں،10۔

10۔ (یوں ہی بلا کسی شبہ معقول یا کسی دلیل صحیح کے) (آیت) ” افعیینا بالخلق الاول “۔ یعنی بار اول میں عد م محض سے تو سب چیزوں کا ہمارا خالق ہونا تو تمہیں خود تسلیم ہے، تو پھر کیا یہ مانتے ہو کہ اب ہماری قدرت تخلق جواب دے گئی ہے اور اب ہم تخلیق ثانی پر قادر نہیں رہے۔ ؟ (آیت) ” افعیینا “۔ بعض گمراہ قوموں نے واقعۃ بھی خستگی اور تھکن کو حق تعالیٰ کی جانب منسوب کردیا ہے۔ یہاں تک کہ یہود اور نصرانیوں نے بھی۔
Ayah 50:16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور ہم (خوب) جانتے ہیں ان وسوسوں (تک) کو جو اس کے جی میں آتے رہتے ہیں ہم تو اس کی رگ گردن سے بھی بڑھ کر اس کے قریب ہیں،11۔

11۔ (جو منتہائے ہے کمال قرب کا) انسانی محاورہ میں انتہائے قرب کا کامل ترین تصور یہی ہے کہ اسے رگ جان کے برابر قریب سمجھا جائے۔ آیت کا مضمون ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی بڑھ کر قریب ہے۔ گویا ہر انسان کے تخیل سے بھی قریب تر۔ یہ قرب تکوینی عام ہے نیک وبد۔ بلکہ ہر مخلوق کے لیے۔ قرب مرتبہ البتہ مخصوص ہے مقبولین کیلیے (آیت) ” حب الورید “۔ اس رگ کا نام ہے جو سارے جسم میں خون پہنچاتی ہے۔ استعارۃ مراد عین جان ہے۔ اے من روحہ (راغب) (آیت) ” نحن ....... الورید “۔ اس میں ان جاہل، مشرک قوموں کی ترید آگئی، جو خدائے تعالیٰ کو بندوں سے دور اور بہت دور سمجھے رہتے ہیں۔ (آیت) ” ولقد خلقنا الانسان “۔ اس میں مضمون آگیا حق تعالیٰ کے کمال قدرت کا۔ یعنی ہم سے بڑھ کر انسان اور کس کے قبضہ قدرت میں ہے ؟ (آیت) ’ ونعلم ماتوسوس بہ نفسہ “۔ اس میں مضمون آگیا حق تعالیٰ کے کمال واحاطہ علم کا، یعنی ہم سے انسان کا کون ساراز مخفی رہ سکتا ہے ؟ حق تعالیٰ پر تو انسان کے وسوسے تک عیاں و روشن رہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اس علم محیط وکامل کے باوجود رحمت کاملہ نے گرفت وسوسوں پر نہیں رکھی، ملاحظہ ہوسورۂ بقرہ (پ 3) (آیت) ” وان تبدوا مافی انفسکم اوتخفوہ یحاسبکم بہ اللہ۔ کا حاشیہ۔
Ayah 50:17

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

) انہیں اس وقت کی یاد دلائیے) جب دو گرفت میں لینے والے فرشتے داہنے اور بائیں بیٹھنے والے گرفت میں لاتے رہتے ہیں،12۔

12۔ حدیث میں آتا ہے کہ دو فرشتے ہر وقت اور ہر حال میں انسان کے ساتھ رہتے اور اس کے ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل کو نیک ہو یا بد، دیکھتے رہتے ہیں، اور کسی حال میں اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے، یہاں تک کہ انسان کی ناپاکی وغیرہ کے اوقات میں جس سے فرشتے طبعی انقیاض کی بناء پر اس سے جسما الگ بھی ہوجاتے ہیں، ان اوقات میں انسان جو کچھ عمل کرتا رہتا ہے اس کی علامتیں کچھ ایسی اس پر نقش ہوجاتی ہیں کہ فرشتے انہیں کو پڑھ کر انہیں اپنے رجسٹر میں درج کرلیتے ہیں۔ (آیت) ” عن الیمین وعن الشمال “۔ داہنی طرف کا فرشتہ نیکی کے اعمال لکھتا رہتا ہے اور بائیں طرف کا بدی کے اعمال۔ (آیت) ” قعید “۔ یعنی بیٹھے رہنے والے یہ انسانی محاورۂ عادت کے مطابق فرشتوں کی ہمہ وقتی حاضری وموجودگی کے لیے فرمایا گیا ہے۔ بندوں کے اعمال کے احاطہ کامل کے لیے تو اللہ کی صفت علم محیط، وکامل خود ہی بالکل کافی ہے۔ فرشتوں کے اس ہمہ وقتی معیت اور باضابطہ اندراج سے بندوں کے دل میں اس کی اہمیت اور کیفیت استحضار کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
Ayah 50:18

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالنے پاتا مگر یہ کہ اس کے آس پاس ہی ایک تاک میں لگا رہنے والا تیار ہے،13۔

13۔ اعمال کے بعد اب ذکر اقوال کا ہورہا ہے۔ منہ سے ادھر بات نکلی نہیں کہ ادھر کاتب فرشتوں نے اسے نوٹ کرلیا۔ بات اگر اچھی ہے تو اسے بھی اور بری ہے تو اسے بھی ! اللہ اکبر ! کیا ٹھکانا ہے انسان کی ذمہ داریوں کا، وہ اللہ کا نائب بنا کر دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ وہ دن رات کے چوبیس گھنٹوں کے لیے۔ گھنٹے کے ہر منٹ کے ہر پل کے لیے ذمہ دار ہے۔ غفلت کی مہلت اسے ایک پل کے لیے بھی نہیں۔ آیت کا استحضار رہے تو مسلمان سے کبھی بھی گناہ صادر ہوسکے ؟ اللہ نے اپنے ہاں کا یہ ضابطہ بتا کر مسلمان کے لئے راہ عمل کتنی آسان کردی ہے۔ !
Ayah 50:19

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور آپہنچی موت کی بےہوشی سچائی کے ساتھ،14۔ یہی وہ (حقیقت) ہے جس سے تو بدکتا رہتا ہے،15۔

14۔ یعنی موت کی بیہوشی کا آنا تو بالکل برحق ہے۔ (آیت) ” سکرۃ “۔ کے معنی بیہوشی کے ہیں۔ السکرحالۃ تعترض بین المرء وعقلہ (راغب) اس ایک ذرا سے لفظ کے اندر موت کی پوری حقیقت آگئی، موت بذات خود کوئی ڈرنے کی چیز نہیں۔ وہ تو نیند کی طرح صرف ایک احسان وادراک کے ذہول کا نام ہے، فرق یہ ہے کہ نیند کی کیفیت ہلکی اور عارضی ہوتی ہے اور موت کی یہ کیفیت مستقل اور زیادہ قومی ہوگی، اس کو ” بیہوشی “۔ حواس دنیوی کی نسبت اور تعلق سے کہا گیا ہے ورنہ اس موت ناسوتی کے طاری ہونے میں معادوسرے اور ان سے کہیں لطیف و برتر قسم کے ہوش و حواس عطا ہوجاتے ہیں۔ 15۔ یعنی اس وقت کی آمد سے وحشت کرتا تھا۔ اور اس سے کترا کر نکل جانا چاہتا تھا۔ موت سے گریز ایک حد تک امر طبعی ہے۔ وہ یہاں مراد نہیں، جو آخرت سے انکار یا اس عقیدہ میں اشتباہ کی بناء پر، حب دنیا سے پیدا ہوجاتا ہے۔
Ayah 50:20

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے گا یہی دن ہے وعید کا،16۔

16۔ موت کے بعداب ذکر قیامت کا شروع ہوا۔ (آیت) ” ونفخ فی الصور “۔ نفخ صور سے یہاں مراد نفخ ثانی ہے جس سے سب مردے زندے ہوجائیں گے۔
Ayah 50:21

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ ایک (فرشتہ) تو اس کے ساتھ ہمراہ لانے والا ہوگا اور ایک (فرشتہ) گواہ ہوگا،17۔

17۔ یہ دونوں فرشتے وہی کاتب اعمال ہوں گے۔ عرف عام میں انہیں کو کراما کاتبین کہتے ہیں۔ ان فرشتوں اور ان کی کارروائیوں کا استحضار اگر قلب میں رہے تو انسان سے بھلا کوئی لغزش کسی وقت بھی صادر ہوسکے ؟ ان کی طرف سے غفلت ہی تو بڑی چھوٹی ہر برائی کی طرف لے جاتی ہے۔
Ayah 50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

تو اسی دن سے بیخبر تھا سو ہم نے تجھ پر سے تیرا پردہ ہٹا دیا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے،18۔

18۔ ( اور آج ہر حقیقت تجھ پر بےپردہ منکشف ہورہی ہے) یہ خطاب کافر سے ہوگا، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کشف بلامجاہدہ تو کافروں تک کو حاصل ہوجائے گا، سو محض کشف جو کافروں میں مشترک ہے، مومن کا مطلوب یقیناً نہ ہونا چاہیے۔
Ayah 50:23

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اس کے ساتھ والا (فرشتہ) کہے گا کہ یہ وہ (روزنامچہ) ہے جو میرے پاس تیار ہے،19۔

19۔ یعنی نامہ اعمال۔ (آیت) ” وقال قرینہ “ َ حدیث میں آتا ہے کہ ہر انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی ایک فرشتہ اور ایک شیطان بھی اس کے ساتھ کردیا جاتا ہے۔ فرشتہ نیکیوں کی راہ دکھاتا رہتا ہے۔ اور شیطان بدیوں کی راہ سمجھاتا رہتا ہے اس آیت میں قول فرشتہ کا نقل ہورہا ہے۔
Ayahs 50:24–26

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

ڈال دو تم دونوں جہنم میں ہر ایسے شخص کو جو کفر کرنے والا ہو ضد رکھنے ولا ہو

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

نیک کام سے روکنے والا ہو، حد سے نکل جانے والا ہو،

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

شبہ رکھنے والا ہو، جس نے اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا تجویز کر رکھا ہو سو ایسے کو تم دونوں عذاب سخت میں ڈال دو ،20۔

20۔ یہ سب قیامت کے دن فرشتوں کو حکم ہوگا، ہر قسم کے کافر کے لیے، (آیت) ” القیا “۔ اس کے معنی تو صیغہ تثنیہ ہی کے ہیں۔ ” یعنی اے دونوں فرشتو ! تم ڈال دو “۔ لیکن اس صیغہ کا ایک استعمال واحد کے لیے بھی بقصد تاکید ہے، ایسے موقع پر القیا مرادف الق۔ الق (مکرر) کا ہوتا ہے۔ یجوز ان یکون خطابا للواحد علی وجھین احدھما قول المبرد ان تشنیۃ الفاعل نزلت منزلۃ تثنیۃ الفعل لا تحاعدھما کانہ قیل الق الق للتاکید (کشاف) (آیت) ” کفار “۔ یعنی عقائد حق سے انکار کرنے والا۔ (آیت) ” عنید “۔ یعنی حق سے ایسی ضد رکھنے والا کہ اس کے بار بار وضوح کے باوجود بھی اسے قبول نہ کیا۔ (آیت) ” معتد “۔ یعنی حدود عبدیت سے باہر نکل جانے والا (آیت) ” مریب “۔ یعنی عقائد دین تک میں شک کرنے والا۔
Ayah 50:27

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

) تب) اس کے ساتھ والا (شیطان) کہے گا اے ہمارے پروردگار میں نے اسے نہیں بھٹکایا تھا بلکہ یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا،21۔

21۔ (اپنے ارادہ واختیار سے) ہر انسان کے ساتھ جو ایک ہمزاد شیطان ہوتا ہے تا کافر انسان کو شیطان الزام اپنے اوپر آتے دیکھ کر اس کو انسان ہی پر الٹ دے گا اور یہ کہے گا۔
Ayah 50:28

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

ارشاد ہوگا کہ میرے سامنے جھگڑو مت اور میں تو پہلے ہی تمہارے پاس بھیج چکا تھا،22۔

22۔ (کہ جو کوئی بھی کفر کرے گا، خواہ ابتداء خواہ کسی کے کہنے سننے سے، سب کی سزا جہنم ہی ہے) یہ اہل دوزخ سے قطع حجت کے لیے کہا جائے گا یعنی اب تم عذر ہی کیا کرسکتے ہو، یہ سب کچھ تو تمہیں تمہاری زندگی میں اچھی طرح بتا ہی دیا گیا تھا۔
Ayah 50:29

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

سو میرے ہاں بات نہیں بدلی جائے گی اور نہ میں بندوں پر ظلم کرنے والا ہوں،23۔

23۔ یعنی آج تو میری زمینی وعیدوں کا بس ظہور ہی ہے، ان کے علاوہ اور کوئی نئی بات نہیں، اور ظلم و زیادتی میری طرف سے کسی بندہ پر ذرا بھی نہیں۔ ظلام۔ صیغہ مبالغہ ہے۔ لیکن کبھی محض ظالم یا ذی ظلم کے مرادف بھی آتا ہے۔ (آیت) ” ظلام للعبید “۔ ظلام کو اگر صیغہ مبالغہ کی رعایت سے اس کے عام معنی میں لے کر ” ظالم ترین “۔ یا شدید ” ظالم “ کامرادف سمجھاجائے تو مفہوم یہ ہوگا کہ اگر قبل سے پوری طرح آگاہ کیے بغیر ہم مبتلائے عذاب کردیتے تو اس صورت میں ہمارا شاید ظالم ہونا لازم آتا ہے اور وہ ہم سرے سے ہئی نہیں، ایک پہلویہ بھی ہے کہ مشرک، جاہلی قوموں نے اپنے بعض دیوی دیوتاؤں کو جلاد اور خونخوار قسم کا سمجھا تھا۔ قرآن مجید حق تعالیٰ کی تنزیہ اس وصف سے بھی پوری طرح کر رہا ہے۔
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

) اور انہیں یاد دلائیے) وہ دن جب ہم دوزخ سے کہیں گے کہ تو بھر بھی گئی ؟ اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے ؟ ،24۔

24۔ جہنم کی شدت غیظ ظاہر کرنے کو ہے اور مقصود اس سے کافروں کے دل میں مزید دہشت بٹھانا ہے۔ (آیت) ” ھل امتلات “۔ یعنی ان کافروں سے جو تیرے اندر پہنچ چکے ہیں، تو بالکل بھر گئی ہے۔
Ayahs 50:31–32

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور جنت متقیوں کے قریب لائی جائے گی کہ کچھ دور نہ رہے گی ،

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا کہ وہ ہر رجوع ہوجانے والے، پابندی رکھنے والے کے لئے ہے،25۔

25۔ آیت میں بشارت ہے متقین کو، کہ جنت گو دور ہے لیکن تمہارے لیے نہیں۔ تمہیں وہاں پہنچنے میں تو کوئی تعب ومشقت ہوگی نہ تو قف وانتظار کرنا ہوگا۔ وہ تو خود ہی تم تک لے آئی جائے گی، یہ وعدہ تو بہرحال قطعی ہے، رہی اس کیفیت کی تفصیل تو اس کا علم حق تعالیٰ ہی کو ہے۔ (آیت) ” اواب “۔ یعنی اللہ اور احکام الہی کی طرف تہ دل سے رجوع ہونے والا۔ (آیت) ” حفیظ “۔ یعنی حدود الہی کا محافظ۔ اعمال و طاعات کی پابندی کرنے والا۔
Ayahs 50:33–34

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

(غرض) جو کوئی بھی (خدائے) رحمن سے بےدیکھے ڈرتا ہوگا اور رجوع ہونے والا دل لے کر آئے گا ،

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

) اس کو حکم ہوگا کہ) داخل ہوجاؤ اس جنت میں سلامتی کے ساتھ، یہ دن ہمیشگی کا ہے،26۔

26۔ یعنی آج کی نعمتوں کو نہ فناء ہے نہ زوال۔ (آیت) ” بالغیب “۔ یعنی جنت کی نعمتیں اور دوزخ کی سختیاں دنیا میں تو سب غیب ہی میں تھیں۔ یہ لوگ دنیاہی میں ان دھمکیوں کو حقائق جان کر ان سے پوری طرح متاثر ہوچکے تھے۔
Ayahs 50:35–37

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان لوگوں کو وہاں سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس اور بھی زائد ہے

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم ان قبل بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں جو قوت میں ان سے کہیں بڑھ کر تھے اور (تمام) شہروں کو چھانتے پھرتے تھے (سو) انہیں کہیں بھاگنے کی جگہ بھی ملی ؟

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

اس (اہلکا) میں اس کے لئے بڑی عبرت ہے جس کے پاس دل ہے یا وہ متوجہ ہو کان ہی لگا دیتا ہے،27۔

27۔ یعنی جو لوگ قلب سلیم رکھتے ہیں، ان کے لیے تو یہ سارے حکایات وقصص ذخیرۂ عبرت رکھتے ہی ہیں، باقی جو لوگ محض توجہ سے ان تذکروں کو سن لیں تو ان کیلئے بھی ان کے اندر کافی سامان ہدایت موجود ہے۔
Ayah 50:38

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پید کردیا اور ہم کو تکان نے چھوا تک نہیں،28۔

28۔ (تو ایسے قادر مطلق وہمہ تواں کے لیے اعادۂ خلق کیا دشوار ہے ؟ (آیت) ” ستۃ ایام “۔ مراد چھ متعارف دن نہیں۔ بلکہ محض چھ زمانے یا چھ وقت ہیں۔ ملاحظہ ہوں سورة الاعراف (پ 8) آیت متعلقہ کے حاشیے۔ (آیت) ” وما مسنا من لغوب “۔ دنیا کے کروڑوں مسیحیوں اور یہودیوں کو ایمان آج تک یہ چلا آرہا ہے کہ حق تعالیٰ نے چھ دن میں آسمان و زمین کی آفرینش کے بعد ساتویں دن آرام کیا۔ قرآن مجید کو اسی گمراہی کی تردید مقصود ہے۔ توریت مروجہ میں ہے :۔” خداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین، دریا اور سب کچھ جو ان میں ہے بنایا اور ساتویں دن آرام کیا۔ (خروج۔ 20: 11) ” چھ دن میں خداوند نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا اور تازہ دم ہوا “۔ (خروج۔ 41: 17) اور انجیل مروجہ میں ہے :۔” خداوند نے اپنے سارے کاموں کو پورا کرکے ساتویں دن آرام کیا “۔ (عبرانیون۔ 4: 4) اور اسی کتاب ” عبرانیون “ میں ” آرام “ کا یہ تلازمہ بہت دور تک چلا گیا ہے۔
Ayah 50:39

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

سو آپ ان کی باتوں پر صبر ہی کیجئے اور اپنے پروردگار کی حمد وتسبیح کرتے رہئے آفتاب نکلنے سے پہلے اور (اس کے) چھپنے سے پہلے بھی،29۔

29۔ (کہ اس ذکر الہی میں لگے رہنے سے آپ کی توجہ ہی ان کافروں کے معاندانہ اقوال و اعمال کی طرف کم رہے گی، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں صاف دلالت اس پر ہے کہ شدائد میں تسلی کا قوی ترین ذریعہ اللہ کی طرف توجہ ہے۔ (آیت) ” قبل طلوع الشمس “۔ اشارہ نماز فجر کی طرف ہے بمعنی صلاۃ الصبح (معالم) (آیت) ” وسبح بحمد ربک “۔ تسبیح سے یہاں مراد نماز ہی ہے۔ ارادبہ الصلوۃ (جصاص) اے فصل لہ (ابن کثیر) اے صل حمدا اللہ (معالم)
Ayah 50:40

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے اور نمازوں کے بعد بھی،30۔

30۔ (آیت) ” ادبار السجود “۔ سجود سے یہاں مراد نماز ہے۔ وقد یعبر بہ عن الصلوۃ (راغب) ادبار السجود اے ادبار الصلوۃ (راغب) اے واعقاب الصلوت (بیضاوی) (آیت) ” ومن الیل “۔ رات کی نمازوں میں مغرب اور عشاء کی نمازیں آگئیں۔ حرف من سے اشارہ اس طرف بھی ہوگیا کہ مراد ساری رات نہیں، بلکہ اس کا صرف ایک حصہ، نماز، ذکروتسبیح کے لیے مخصوص کرلینا کافی ہے۔ اے اصرف من الیل طرفا الی التسبیح (کبیر) اے وسبحہ بعض الیل (بیضاوی) (آیت) ” فسبحہ “۔ تسبیح سے یہاں مراد فرض نمازوں کے بعد کے نوافل اور ادوار اذکار لیے گئے ہیں۔ وھو التسبیح بعد الصلوۃ لان التسبیح تنزیہ للہ عما لایلیق بہ والصلوۃ تشتمل علی قراءۃ القران و اذکارھی تنزیہ للہ تعالیٰ (جصاص)