50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 50:1–15

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

قٓ ۔ قسم ہے قرآن بزرگ کی

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ ان کو اس پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک ڈرانے والے ان کے پاس آگئے۔ سو کافر کہنے لگے کہ یہ عجیب بات ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

کیا جب ہم مر گئے اور مٹی ہوگئے یہ پھر زندہ ہونا (عقل سے) بعید ہے

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

ان (کے جسموں) کو جتنا زمین (کھا کر) کم کرتی جاتی ہے یقینا ہم جانتے ہیں اور ہمارے پاس محفوظ کتاب ہے

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ سچی بات کو جب کہ وہ ان کے پاس پہنچتی ہے ، جھٹلاتے ہیں غرض یہ ایک متزلزل حالت میں ہیں

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

تو کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو کیسا بنایا اور اس کو کیسا سجایا اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دیئے اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائیں

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

تاکہ ہر رجوع ہونے والا بندہ ہدایت اور نصیحت حاصل کرے

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی برسایا پھر اس سے بہت سے باغ اگائے اور کھیتی کا غلہ

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور لمبی لمبی کھجور کے درخت جن کے گچھے خوب گندھے ہوئے ہوتے ہیں

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

بندوں کے رزق دینے کے لئے اور ہم نے اس (بارش) سے مردہ زمین کو زندہ فرمایا۔ اسی طرح (قیامت کو) نکلنا ہوگا

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

اس سے پہلے قوم نوح (علیہ السلام) اور کنویں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد اور فرعون اور لوط (علیہ السلام) کے (قومی) بھائی

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہمارا وعدہ (عذاب) بھی پورا ہو کر رہا

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم پہلی بار پیدا فرما کر تھک گئے ہیں بلکہ یہ لوگ نئے سرے سے پیدا کرنے میں (بےدلیل) شک میں ہیں

آیات 1 تا 15۔ اسرار ومعارف۔ ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے اجزاء کو مٹی نے کہاں کہاں ملایا اور وجود کا ہر ذرہ کہاں پر ہے ہمارے علم تو ازلی اور قدیم ہے کچھ بھی نہ تھا تو اللہ کو سب کچھ معلوم تھا کہ کہاں کیا ہوگا اور کون سا ذرہ کہاجائے گا جیسے زندگی میں بھی توروئے زمین سے غذا ودوا کی صورت میں ذرات خاکی ہی تو جزو بدن بنتے جاتے ہیں اور اس قدر پھیلے ہوئے ہیں کہ مرکر کسی کے اجزاء اس طرح پھیلنا ممکن نظر نہیں آتا ، جب یہ سب جمع ہو کر زندہ وجود سامنے ہے تو وہ کیسے نہ ہوں گے بلکہ ان تمام امور کا علم تو لوح محفوظ میں محفوظ کردیا گیا ہے ان کی بدنصیبی اور ان شبہات کا سبب ان کا کفر ہے کہ جب ان کے پاس نبی (علیہ السلام) دین برحق کا پیغام لائے تو انہوں نے انکار کردیا یوں انکے دلوں میں شبہات کے طوفان امنڈ ائے ۔ کیا یہ آسمان میں غور نہیں کرتے کہ سارے عالم کے سروں پر کس طرح تان دیا ہے اور اسے کس قدر خوبصورتی دی ہے اور سجادیا ہے اور اس کی بناوٹ میں کوئی جوڑ تک نظر نہیں آتانہ کوئی ٹوٹ پھوٹ کا اثر پیدا ہوتا ہے۔ اور زمین کو پھیلادیا کہ یہ بیضوی کرہ ہر جگہ بچھا ہوا ہے اور اس میں مختلف راہیں ممالک حدود اور مختلف جگہوں میں مختلف خصوصیات رکھ دیں اور طرح طرح کی چیزیں اگادیں کہ ہر شے مختلف ذرات کا مجموعہ ہی تو ہے جو اتفاقا جمع نہیں ہوگئے بلکہ خالق مصطلق نے ہر ذرہ ہر شے کے لیے مقرر فرمادیا ہے اس پر غور فکر ہراس بندے کے لیے کافی ہے جس کے دل میں اللہ کی طرف رجوع موجود ہو آسمانوں سے پانی برسنا اس کا نظام ار کر بلندیوں تک جانا بادل بن کر برسنا اور پھر زمین پر بیشمار روئیدگی کا باعث بن جانا اور ہمارا باغات اگادینا اور انہیں پھلوں سے بھردینا کھیتوں کو فصلوں سے اٹ دینا کہ انسان کاٹ کر غذائے بنائے اور لمبی لمبی کھجوریں جن پر تہ درتہ خوشے لگے ہوتے ہیں ان سب کو اپنے بندوں اور مخلوق کی روزی بنانایہ سب جسمانی اجزاء اور ذرات ہی تو ہیں جو یکجا کیے جا رہے ہیں اور جس طرح یہ سب ایک موسم میں ختم ہوکرگل سڑ جاتے ہیں اور لگتا ہے زمین مردہ ہوگئی مگر پھر اس پر بارش برسا کر یہ سب کچھ اگادیتے ہیں اور سب کے ذرات پھر سے یکجا ہوکردرخت پھل سبزے اور کھیتیاں بن جاتے ہیں کہ انسانی اجسام کے ذرات کا مجموعہ ہی تو ہیں ایسے ہی روز قیامت تم سب کے اجزا جمع کرکے تم زندہ کیے جاؤ گے اور اگر انکار ہی کریں تو ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے انکار کیا اور کنویں والے لوگ کہ یہ صالح (علیہ السلام) کی قوم وہ لوگ تھے جو عذاب سے بچ گئے اور صالح (علیہ السلام) کے ساتھ روانہ ہو کر ایک کچے کنویں پر مقیم ہوئے جہاں صالح (علیہ السلام) کو موت نے آلیا تو وہ جگہ حضر موت کہلاتی ہے اور ان کے بعد گمراہ ہوکرہلاک ہوئے ایسے ہی ثمود یہ بھی انہی کی قوم جو پہلے تباہ ہوئی اور قوم عاد جو بڑے زور آور تھے اور فرعون اور لوط (علیہ السلام) کی قوم یا وہ لوگ جو جنگل میں رہتے تھے ان کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے یا قوم تبع جن کا حال گزرچکا ہے یہ سب ایسے لوگ تھے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی بات کو جھٹلایا اور ان پر عذاب کی وعید لاگو ہوکرسچ ثابت ہوئی ان کے اثرات تم لوگوں کے گرد بکھرے پڑے ہیں یا ان کفار کو یہ دھوکا ہے کہ وہ قادر مطلق ایک بار پیدا کرکے تھک گیا ہے اور دوبارہ پیدا نہ کرسکے گا یہ محض بےدلیل بات ہے جبکہ اس کی ذات عیوب سے پاک اور اس کی قدرت دلائل سے ثابت ہے۔
Ayahs 50:16–29

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے انسان کو پیدا فرمایا اور اس کے جی میں جو خیالات آتے ہیں ، ہم ان کو جانتے ہیں اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب اخذ کرنے والے (فرشتے) اخذ کرتے رہتے ہیں جو کہ دائیں اور بائیں بیٹھے رہتے ہیں

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی بےہوشی حق کے ساتھ آپہنچی ، یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور (قیامت کے دن دوبارہ) صور پھونکا جائے گا یہی وعید کا دن ہے

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص جب (ہمارے سامنے) آئے گا تو اس کے ساتھ اس کو چلانے والا (فرشتہ) ہوگا اور وہ (اس کے اعمال کی) گواہی دے گا۔

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

یقینا تو اس دن سے غفلت میں تھا سو ہم نے تجھ پر سے تیرا پردہ (غفلت کا) ہٹا دیا۔ سو آج تیری نگاہ بہت تیز ہے

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اس کے ساتھ رہنے والا (فرشتہ) کہے گا کہ یہ (روزنامچہ) میرے پاس حاضر ہے

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

(ارشاد ہوگا) ہر کافر اور (حق سے) ضد رکھنے والے کو جہنم میں ڈال دو

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

نیک کام سے روکنے والا (اور) حد سے پاہر جانے والا (اور جو دین میں) شبہ پیدا کرنے والا ہو

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا معبود تجویز کیا ہو۔ سو ایسے شخص کو سخت عذاب میں ڈال دو

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کے ساتھ رہنے والا (شیطان) کہے گا اے ہمارے پروردگار ! میں نے اس کو (جبراً ) گمراہ نہیں کیا تھا و لیکن یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

ارشاد ہوگا میرے پاس مت جھگڑو اور میں تو پہلے ہی تمہارے پاس وعید بھیج چکا تھا

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

میرے ہاں بات بدلی نہیں جائے گی اور میں بندوں پر زیادتی کرنے والا نہیں ہوں

آیات 16 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے انسان کو پیدا کیا اس کی ایک ایک صفت اس میں پیدا کی لہذا اس کے دل میں بھی جو خیال گزرتا ہے ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔ شہ رگ سے قریب تر ہونا۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں مفسرین کرام کے مطابق یہاں قرب علمی مراد ہے کہ بات اس کے احوال اور دل میں گزرنے والے خیالات تک کی ہورہی ہے قرب مسافت مراد نہیں کہ اس کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے مگر تفسیر مظہری میں صوفیائے کرام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ احاطہ عملی بھی ہر شے سے ہے اور انسان کے ساتھ ایک خاص قسم کا اتصال بلاکیف موجود ہے جس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا جس کے دلائل قرآن حدیث میں موجود ہیں اور جس پر مولوی رومی نے فرمایا۔۔۔۔۔۔۔ اتصالے بےتکیف وبے قیاس ، ہست رب الناس راباجان ناس۔ اور قرب جو عبادت کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے وہ صرف مومن کے لیے خاص ہے اور ایسے مومن اولیاء اللہ کہلاتے ہیں یہ اس کے علاوہ ہے جو اللہ ہر مومن وکافر کی جان کے ساتھ یکساں ہے اور یہ قدرت تو اللہ کی ہے اتمام حجت کے لیے دو فرشتے بھی مقرر فرمارکھے ہیں جو اس کے دائیں اور بائیں ہر آن موجود ہیں اور اس کا ہر فعل لکھتے جا رہے ہیں کہ دائیں والافرشتہ نیک اعمال لکھتا ہے اور بائیں والابرے۔ یہاں تک کہ جو لفظ بھی انسان کے منہ سے نکلے یہ نگران فرشتے محفوظ کرلیتے ہیں جو روز محشر پیش کیے جائیں گے اور پھر موت کی بےہوشی یاسکرات موت تمام حقائق سے پردہ ہٹادیتی ہے اور مومن وکافر کو سب وہ حقائق نظر آنے لگتے ہیں یہی وہ لمحہ اور وہ حال ہے انسان جس سے بچنے کے جتن کیا کرتا تھا اگرچہ بعض اہل اللہ کو موت محبوب بھی ہو مگر انسانی مزاج کے اعتبار سے تو انسان ہمیشہ زندہ رہنے کے حیلے کرتا ہی رہتا ہے اور کافر و بدکار تو اس لمحے سے بہت گھبراتا ہے اور اسے یاد کرنا بھی گوارا نہیں کرتا ، پھر یوم حشر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو ہر انسان کو وہاں حاضر ہونا ہوگا اور ہر ایک کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے ایک اسے لانے والا کہ سائق ہانک کر لانے والے کو کہاجاتا ہے اور دوسرا جن کے پاس اس کا اعمال نامہ ہوگاجو اس پر گواہ ہوگا اور کافر سے کہاجائے گا کہ تو اس حال سے غافل وبے خبر تھا اور اس پر ایمان ہی نہیں لارہا تھا سو آج ہم نے تیری آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نگاہ میں قوت دے دی کہ سب حقائق آخرت فرشتے جنت دوزخ ہر شے کو تودیکھ سکتا ہے۔ مرنے کے بعد انسانی کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ موت کے بعد تو حجابات اٹھ جاتے ہیں اور ہر انسان کو یہ حقائق نظر آنے لگتے ہیں مومن ہو یا کفر نیک ہو یا بد چونکہ امتحان کی جگہ تو دنیا ہے جہاں اسے یہ حقائق اللہ اور اس کے رسول کے بتانے پر مان کر اور ایمان بالغیب لاکر اطاعت الٰہی اختیار کرنا تھی اور مومن کو جب برکات نبوی نصیب ہوں اور اس کا قلب منور ہوتودل کی آنکھ کھل جاتی ہے اور دنیا میں ان حقائق کا مشاہدہ نصیب ہوتا ہے جسے کشف کہا جاتا ہے حضرت علی کا ارشاد کہ اگر آخرت سے حجاب ہٹـادیے جائیں تو مجھے کوئی حیرت نہ ہوگی یعنی ہر شے وہی ہے جو پہلے دیکھی بھالی ہے اور اہل اللہ کا کشف تواتر سے ثابت ہے۔ جو راہ حق پہ استقامت اور برائی سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے چناچہ ہر انسان کے ساتھ رہنے والا فرشتہ اس کا اعمال نامہ پیش کرکے عرض کرے گا کہ یہ اس کی ساری کمائی اور پونجی ہے جو میں نے حاضر کردی تو حکم ہوگا کہ کافر کو اس کے شیطان سمیت جو اسے برائی پر اکساتارہا جہنم میں پھینکاجائے ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان بھی ہوتا ہے جسے قرین شیطان کہا جاتا ہے۔ قرین شیطان۔ حضرت استاذناالمکرم (رح) کی تحقیق کے مطابق یہی وہ شیطان ہے جو عام شیطانوں کے علاوہ ہے اور ہر آدمی کے ساتھ ایک شیطان رہتا ہے جس پر آپ ﷺ سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا آپ کے ساتھ بھی تو فرمایا ہاں مگر میرے ساتھ جو ہے وہ مسلمان ہوچکا ہے اور مجھ پر ایمان لایا ہے۔ سبحان اللہ کیا شان ہے کہ شیطان کو بھی ساتھ نصیب ہو تو ایمان نصیب ہوجائے بہرحال یہ طویل العمر ہوتے ہیں اور انسان کے مرنے کے مدتوں زندہ رہتے ہیں عموما اس کی قبر یاوجود کے ذرات جہاں ہوں وہاں رہتے ہیں یہی وہ ہیں جنہیں یورپ والے یایوگی وغیرہ روح کا نام دیے ہیں اور عملیات کے ذریعے ارواح کو حاضر کیا جاتا ہے کہ روح کا آنا تو ممکن نہیں نجات میں ہے تو اللہ اسے ایسی خرافات سے بچاتا ہے عذاب میں ہے تو اسے کون آنے دے گا لہذا عامل جو ارواح حاضر کرتے ہیں دراصل قرین شیطان ہی ہوتے ہیں اور روز حشر کافر اپنے قرین سمیت جہنم میں جھونکاجائے گا کہ یہ سخت ناشکرگزار تھا اور نہ صرف خود بدکار تھا بلکہ دوسروں کو بھی نیکی کی راہ سے اور دین سے روکتا تھا اور حد سے بڑھا ہوا تھا۔ دین پر اعتراضات بنا بناکر لوگوں کو شبہ میں ڈالتا تھا سو جس جس نے بھی اللہ کے ساتھ دوسرے معبود گھڑ رکھے تھے اور اپنی امیدیں غیر اللہ سے ایسے وابستہ کررکھی تھیں کہ اللہ کی نافرمانی کرکے ان کی اطاعت کرتے تھے سب کو بہت ہی سخت عذاب میں ڈالا جائے گا اس وقت قرین شیطان چلائے گا کہ اللہ اس کے گناہوں کا بوجھ مجھ پر مت ڈالیے یہ خود ہی بڑا بدکار تھا میں نے اسے برائی پہ نہیں لگایا تھا کہ محض رائے دی تھی مجھے کچھ اختیار تو نہ تھا یہ برائی نہ کرتا بھلا میں زبردستی تو نہیں کراسکتا تھا تو ارشاد ہوگا اب اس بارگاہ میں تمہارا جھگڑنا لاحاصل ہے میں نے تم سب کو پہلے سے ان عذابوں کو خبر دے دی تھی کہ کفر پر اور برائی پر ایسا ایسا پھل لگے گا اب وہی ہوگاجس کا فیصلہ پہلے سنادیا گیا تھا کہ میرے فیصلے تبدیل نہیں ہوا کرتے اور نہ ہی میں نے کسی پر زیادتی کی ہے ہر فیصلہ عین انصاف ہے۔