50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 50:30–45

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

جس دن ہم دوزخ سے کہیں گے کہ کیا تو بھر گئی ؟ اور ہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے ؟

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور جنت پرہیزگاروں کے لئے قریب لائی جائے گی کہ کچھ دور نہ رہے گی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہ ہے وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر رجوع کرنے والے پابندی کرنے والے کے لئے

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو رحمن (اللہ) سے بےدیکھے ڈرتا رہا اور رجوع ہونے والا دل لے کر آیا

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

سلامتی کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ یہ دن ہمیشہ رہنے کا ہے

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان کو اس میں جو چاہیں گے ملے گا اور ہمارے پاس اور زیادہ بھی ہے

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں جو قوت میں ان سے کہیں زیادہ تھیں پھر وہ تمام شہروں کو چھانتے پھرتے تھے (تو) کیا کہیں بھاگنے کی جگہ ہے ؟

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

بیشک اس میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جس کے پاس (فہیم) دل ہو یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہو

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کو چھ دن میں پیدا فرمایا اور ہمیں تکان نے چھوا تک نہیں

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

سو انکی باتوں پر صبر کیجئے اور اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہیے ، آفتاب نکلنے سے پہلے اور چھپنے سے پہلے

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات میں بھی اس کی پاکی بیان کیا کیجئے اور (فرض) نمازوں کے بعد بھی

وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 50:41 in the Quran reader

اور سن رکھو جس دن ایک پکارنے والا پاس ہی سے پکارے گا

یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ Open ayah 50:42 in the Quran reader

جس دن اس چیخ کو بالیقین سب سن لیں گے یہ (قبروں سے) نکلنے کا دن ہوگا

اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ Open ayah 50:43 in the Quran reader

بیشک ہم ہی زندہ کرتے اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری ہی طرف پھر لوٹ کر آنا ہے

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ Open ayah 50:44 in the Quran reader

جس دن زمین ان (مُردوں) پر سے پھٹ جائے گی وہ (فوراً ) نکل کھڑے ہوں گے۔ یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ Open ayah 50:45 in the Quran reader

ہمیں خوب معلوم ہے یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اور آپ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہیں جو (ہمارے عذاب کی) وعید سے ڈرے سو اس کو قرآن سے نصیحت کرتے رہیے

آیات 30 تا 45۔ دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اواب اور حفیظ ۔ اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی خطاؤں سے توبہ کرلے پھر اس توبہ کی حفاظت کرے اس پر قائم رہنے کی بھرپور کوشش کرے اور اللہ کریم سے استقامت طلب کرتا رہے اپنے گناہوں اور کمزوریوں کو یاد کرکے اللہ کریم سے مادد مانگتا رہے۔ ایسابندہ جو غائبانہ ایمان ویقین کے ساتھ اور رحیم ورحمن کی نافرمانی کرنے سے ڈرے اور ایسا دل لے کر آئے جس میں ہر آن اللہ کی یاد موجود رہی ہو۔ قلب منیب۔ وہ دل جس میں اللہ کی عظمت ہر آن مستحضر رہے اور اس کے نتیجے میں خواہشات نفس کی تکمیل کے لیے اللہ کی نافرمانی سے رک جائے انہیں ارشاد ہوگا کہ آج سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ جہاں سے تمہیں کبھی نکالانہ جائے گا اور جنت میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخلے کا وقت آپہنچا ہے جہاں ہر وہ نعمت موجود ہے جس کی اہل جنت خواہش کریں گے اور اس سے بڑھ کر ایسی نعمتیں بھی ہیں جن کا انسان کو وہم گمان بھی نہ ہوگا کہ وہ ان کی خواہش کرسکے۔ ان سے پہلے کتنی ایسی قومیں جو ان سے کہیں طاقتور اور شان و شوکت والی تھیں اور دور دراز شہروں تک ان کی تجارت پھیلی ہوئی تھی اپنے جرم کی پاداش میں تباہ ہوچکیں۔ جب ان پر اللہ کی گرفت آئی تو انہیں پاس فہم و شعور رکھنے والا دل ہو یا کم ازکم جب بات سنیں تو اس پر خود غور توکریں۔ حصول علم کے ذرائع۔ یہاں قلب سے مراد مفسرین کرام کے نزدیک وہ دل ہے جس میں شعور ہو۔ ذکر الٰہی کانوں اور معرفت الٰہی کی کیفیات ہوں اور اگر اس سے کمتر ہو تو وہ درجہ تو ضرور حاصل ہو کہ کسی پر اعتماد کرکے اس کی بات پوری توجہ سے سنے توسہی۔ صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں کہ پہلی قسم کے لوگ کاملین ہیں اور دوسری قسم کے مردین۔ اگر انہیں یہ خیال ہو کہ اتنا کچھ بنانے کے بعد شاید قدرت باری کو سب کو دوبارہ زندہ کرنا مشکل ہوتویہ ان کا خیال فاسد ہے کہ ہم نے زمین آسمان اور ان کی ساری مخلوق کو چھ روز کی مقدار کے برابر عرصے میں پیدا کردیا مگر کسی طرح کی تھکان نے ہمیں چھوا تک نہیں کہ یہ نقص ہے اور اللہ کی ذات نقائص سے بہت بلند ہے۔ اگر اس کے باوجود بھی یہ لوگ اپنے انکار پر ہی بضد ہوں تو آپ رنج نہ کیجئے بلکہ صبر کیجئے اور اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کرتے رہیے سورج طلوع ہونے سے قبل اور غروب ہونے کے بعد یعنی شام وسحر اور دن کی ابتدا وانتہا اللہ کے ذکر پر کیجے اور رات کو کیجئے اور سجدوں کے بعد بھی فرض نمازوں کے بعد بھی ذکر وتسبیحات جاری رکھیے مفسرین کرام کے مطابق یہاں فرض نمازیں بھی مراد ہیں۔ ذکر الٰہی کی تلقین۔ اور ان کے علاوہ تسبیحات اور زبانی اذکار بھی جو احادیث مبارکہ میں ارشاد ہوئے نیز ذکر دوام مراد ہے نیز مسنون اذکار صحابہ کرام کو ارشاد فرمائے گئے جن کے قلوب ذاکر تھے اور جنہیں ذکر دوام حاصل تھا یہاں بھی صبح وشام اور رات دن سے ذکر دوام ہی مراد لیاجاسکتا ہے اور اس کے ساتھ تسبیحات مسنونہ پڑھی جائیں توبرکات کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ اے مخاطب ! ذراغور سے سن کہ جس دن منادی کرنے والا بڑے قریب سے پکارے گا یعنی اسرافیل (علیہ السلام) جب دوسری دفعہ صور پھونکیں گے اور روایت ہے کہ خطاب کرکے کہیں گے اے گلی سڑی ہڈیوں اور ریزہ ریزہ ہوجانے والی کھالو۔ اور بکھر جانے والے بالو سن لو تم کو اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ حساب کے لیے جمع ہوجاؤ تو ان کی آواز ہر دورنزدیک والا ایسے سنے گا جیسے اس کے کان میں کہی جارہی ہو اور اس روز صور کی چنگھار کو جب سن لیں گے یہی دن دوبارہ زندہ ہو کر زمین سے نکل پڑنے کا دن ہوگا۔ اس کی مثال تو موجود ہے کہ اب بھی ہم ہی زندگی عطا کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور اس روز بھی ہم ہی زندہ کریں گے اور سب کو ہماری ہی بارگاہ میں حاضر ہونا ہوگا اس روز زمین پھٹ پڑے گی اور تمام لوگ زندہ ہو کر بھاگتے ہوئے نکل کھڑے ہوں گے اور دوڑ دوڑ کر حاضر ہو رہے ہوں گے اس طرح سب کو جمع کرنا قدرت باری کے لیے آسان ساکام ہے اور اس کی عقلی ونقلی دلیلیں دے کر بھی ثابت کیا جاچکا اگر اس کے بعد بھی ہی انکار کیے جا رہے ہیں تو ہمیں ان کی باتوں کا علم ہے آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے کہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ ان سے زبردستی قبول کرائیں بلکہ آپ قرآن حکیم کے ذریعے نصیحت جاری رکھیے اگرچہ فائدہ اسی کو نصیب ہوگاجو اللہ کے عذاب سے ڈرتا ہوگا۔