51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 51:1–23

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

قسم ہے ان ہواؤں کی جو غبار کو اڑاتی ہیں

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر ان (بادلوں) کی جو بوجھ کو اٹھاتے ہیں

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر ان (کشتیوں) کی جو نرمی سے چلتی ہیں

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر ان (فرشتوں) کی جو حکم کے مطابق (چیزیں) بانٹتے ہیں

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

بیشک تم سے جس (قیامت) کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ بالکل سچ ہے۔

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور بیشک جزا وسزا ضرور ہوگی

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

قسم ہے آسمان کی جس میں (فرشتوں کے چلنے کے) راستے ہیں

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

بیشک تم لوگ مختلف باتوں میں پڑے ہوئے ہو۔

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس سے وہی پھرتا ہے جس کو پھرنا ہوتا ہے

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

غارت ہوجائیں بےسند باتیں کرنے والے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

جو کہ جہالت میں بھولے ہوئے ہیں

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کہ روز جزا کب ہوگا ؟

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

اس دن جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

اپنی اس سزا کا مزہ چکھو۔ یہی ہے جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

ان کے پروردگار نے جو ان کو عطا کیا ہوگا وہ اس کو (خوشی خوشی) لے رہے ہوں گے۔ بیشک یہ لوگ اس سے پہلے (دنیا میں) نیکوکار تھے

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

یہ گو رات کو بہت کم سوتے تھے

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور آخر شب میں بخشش مانگا کرتے تھے

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مال میں مانگنے والوں اور نہ مانگنے والوں (دونوں) کا حق تھا

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور یقین لانے والوں کے لئے زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہاری ذات میں بھی۔ تو کیا تم نہیں دیکھتے ؟

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور تمہارا رزق اور جو تم سے وعدہ (قیامت کا) کیا جاتا ہے (اس کا معین وقت) آسمان میں ہے (اللہ کے پاس)

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

پس آسمان اور زمین کے پروردگار کی قسم ! بیشک یہ سچ ہے (ایسے) جیسے تم باتیں کرتے ہو

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں اگر ان سب میں چھینا جھپٹی سے کچھ ملتا تو کچھ لوگ لوٹ کر ڈھیر لگالیتے جبکہ دوسروں کو سررمق بھی ہاتھ نہ آتا مگر وہ فرشتے جو بارش کا ہر قطرہ رزق کا ہر دانہ عمرصحت عقل شعور شکل قد بیٹا بیٹی صحت وبیماری ہر ہرشے اللہ کے حکم سے جہاں اللہ پہنچانا چاہتا ہے پہنچا رہے ہیں اور ایک ایسانظام جس کی بنیاد ہی عدل و انصاف پر ہے اور ہر ایک کو جو کچھ مل رہا ہے عین انصاف ہے اور وہ اسی کا مستحق ہے۔ یہ اس بات پر گواہ ہے کہ جب غیر اختیاری امور میں اس قدر انصاف ہورہا ہے تو انسان کو جن امور پر اختیار دیا گیا ہے اس میں کسی کو ایمان نصیب ہوا اور کسی نے کفر اختیار کیا ایک نے اطاعت کی جبکہ دوسرے نے نافرمانی کی اور ظلم کیا تو اس میں انصاف نہ ہوگاضرور ہوگا اور یہ سب کچھ اور سارانظام اس کی گواہی دے رہا ہے کہ تم سے جو قیامت کا وعدہ ہے وہ سچا ہے اور روز جزا ضرسور برپا ہوگا قسم ہے اس آسمان کی جس میں فرشتوں کے چلنے کی راہیں ہیں یعنی ملائکہ کا آناجانا اور آسمان میں نامہ اعمال کا رکھنا کہ تم اس بارے میں مختلف رائے رکھتے ہو کچھ لوگوں کو ایمان نصیب ہوتا ہے جبکہ دوسرے اختلاف کرکے کفر میں مبتلا ہوتے ہیں اور کفر میں وہی لوگ مبتلا ہوتے ہیں جن سے ان گناہوں کے سبب ایمان کی توفیق چھن جاتی ہے تباہی ہوا ایسے غلط اندازے لگانے والوں کی جو اللہ کی یاد سے غافل اور راہ حق سے بھٹکے ہوئے ہیں اور مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ انصاف کا دن ا اور قیامت کب ہوگی یہ اس روز ہوگی جب انہیں آگ میں جھونکا جائے گا اور کہاجائے گالواب اپنی شرارتوں کے انجام کا مزہ چکھو تمہیں جلدی تھی کہ قیامت کب ہو آج وہ واقع ہوگئی جبکہ یہی لمحہ کفار کے لیے باعث ذلت ورسوائی ہوگا اللہ کے نیک بندوں کے لیے راحت کی گھڑی ثابت ہوگا کہ باغات اور چشموں سے سجائی ہوئی جنت میں داخ (رح) ہوں گے اور جو نعمتیں اللہ نے وہاں ان ک لیے رکھی ہیں حاصل کریں گے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں خلوص دل سے اتباع شریعت کرنے والے تھے وہ راتوں کو خواب غفلت میں نہ گنواتے بلکہ اٹھ اٹھ کر اللہ کی عبادت کرتے تھے اور سحری کو استغفار کیا کرتے تھے یعنی رات کی عبادت پہ نازاں نہ ہوتے تھے بلکہ یہ احساس رکھتے تھے کہ ان کی عبات اس بارگاہ عالی کے لائق نہیں اور اپنی کمزوریوں پر بخشش اور عفودرگزر کے طالب ہوتے تھے اور ان کے مال میں سے ایسے غریب جو سوال کرتے یا وہ لوگ بھی جو محتاج تو تھے مگر سوال کرنے سے بچتے تھے اور یوں محروم رہتے ہیں ان سب کو ملتا تھا اور وہ اس انداز سے مال خرچ کرتے تھے کہ ان غرباء پر کوئی احسان نہ جتاتے بلکہ ان کا حق سمجھ کر انہیں پہنچاتے اور یوں سبکدوش ہوتے تھے یعنی مال وزر کی محبت کے اسیر نہ تھے بلکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے اور زمین میں اہل ایمان کے لیے بیشمار دلائل ہیں کہ جس قدر انسانی عقل کو تحقیقات پہ دسترس ہوتی ہے اللہ کی عظمت کا احساس اور بڑھ جاتا ہے۔ کہ کس طرح سے ہر آنے والے کا رزق اس میں محفوظ ہے اس کے موسم ماحول اور فضا ہر جگہ ہر مزاج کے مطابق ہیں یا کس طرح سے ذرات اور ایٹم اشیاء کا روپ دھارتے ہیں اور سبزہ درخت پھل پھول چشمے اور دریا وجود پاتے ہیں اسی طرح خود تمہارے وجود کے اندر اس کی عظمت کے نشان موجود ہیں ایک ایک انسانی وجود پورے نظام عالم کی مائیکرو ہے اور عالم اصغر کہا گیا ہے کہ کس طرح اس کے منتشر اجزاء خوراک بن کروجود کا حصہ بن رہے ہیں کس طرح لوگ اپنی باری پہ آتے اپنارزق لیتے اور چلے جاتے ہیں کس طرح ایک قطرہ انسانی قالب میں ڈھلتا ہے اور کس طرح مختلف شکلیں استعداد عمر وقوت اور صحت تقسیم ہو رہے ہیں یہ سارانظام اور اس کی باقاعدگی کیا یوم جزا اور انصاف کے دن کا تقاضا نہیں کرتی تمہیں ایسا نظر نہیں آتا یعنی یقینا کرتی ہے اور یہ بھی جان لو کہ یہ مال وزر اور رزق روزی بھی آسمانی فیصلوں کے مطابق ہی ہر ایک کو ملتی ہے انسان کے بس میں تو ایمان یعنی ماننا اور نہ ماننا ہے اور وہ ذریعہ جائز اپناتا ہے یا غلط اور بس ملتا وہ ہے جو اللہ کے حکم سے اس کو نصیب ہوتا ہے اور اعمال کی جزا کے فیصلے بھی اسی کے محفوظ کے تابع ہیں اور ارض وسماء کے نظام کو بنانے اور چلانے والے کی قدرت کاملہ اور عظمت اس بات کی گواہ ہے کہ سب کچھ واقع ہوگایہ ایک ایسی سچائی ہے جیسے تم خود بات کرت ہو تمہیں اپنے بات کرنے کا یقین ہوتا ہے ایسے ہی اس کا وقع یقینی ہے۔
Ayahs 51:24–30

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی حکایت آپ تک پہنچی ہے ؟

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ ان کے پاس آئے تو ان کو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا کہ انجان لوگ لگتے ہیں

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر اپنے گھر کی طرف (اندر) گئے اور ایک موٹا بچھڑا (تلا ہوا) لائے

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

پس وہ ان کے سامنے رکھا (اور) فرمایا تم لوگ کھاتے کیوں نہیں ؟

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

تو ان سے دل میں خوفزدہ ہوئے ۔ انہوں نے عرض کیا مت ڈرئیے اور ان کو ایک بڑے علم والے فرزند کی بشارت دی

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

اتنے میں ان کی بی بی بولتی ہوئیں آئیں پھر (حیرت سے) ماتھے پر ہاتھ مار کر کہنے لگیں کہ (اول تو) بڑھیا (اور پھر) بانجھ !

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

(فرشتے) کہنے لگے آپ کے پروردگار نے ایسا ہی فرمایا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ وہ بڑے حکمت والے جاننے والے ہیں

آیات 24 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ اس کے عجائبات قدرت کا ظہور دنیا میں بھی تو ہوتا ہے جو گواہی دیتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے جیسے آپ تک ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی بات پہنچی اور آپ کو سنائی گئی کہ چند مہمان ان کے پاس پہنچے جن کی انہوں نے بہت عزت کی جب انہوں نے ان پر سلام کہا تو ابراہم (علیہ السلام) نے بڑے تپاک سے انہیں سلام کا جواب دیا اور فرمایا پہچانا نہیں آپ لوگوں سے پہلے تعارف نہیں اور انہیں بٹھا کر چپکے سے اہل خانہ کے پاس تشریف لے گئے اور ایک بچھڑا تل کرلے آئے جو اس وقت ان کے پاس بہترین خوراک تھی پیش کردی یعنی جہاں انہیں بٹھایا تھا وہاں لاکر رکھ دی اور فرمایا حسب خواہش کچھ تولیجئے مگر جب انہوں نے کھانے کو ہاتھ نہ بڑھایا تو وہاں کے دستور کے مطابق ان سے خطرہ محسوس کرنے لگے کہ مبادا کوئی دشمن ہوں کہ یہ لوگ دشمن کے ہاں سے کھاتے نہ تھے تب انہوں نے بتایا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں ہم فرشتے ہیں انسانی روپ میں اور آپ کے پاس اس لیے رکے ہیں کہ اللہ کے حکم سے آپ کو ایک ایسے بیٹے کی خوش خبری دیناتھی جو صاحب علم یعنی نبی ہوگا کہ حقیقی عالم انبیاء (علیہم السلام) ہوتے ہیں اور خلق ان کی خوشہ چیں۔ اس میں آداب میزبانی بھی ارشاد ہوئے اور یہ بھی کہ اللہ کے بتانے سے ہی انبیاء (علیہم السلام) جانتے ہیں بیٹے کی بشارت سن کر اور یہ جان کر کہ باہر فرشتے ہی تو ہیں ان کی اہلیہ حضرت سارہ جو اس وقت ساتھ تھیں باہر آگئیں اور ماتھے پر ہاتھ مار کر جو اظہار حیرت کے لیے تھا بولیں کیا بیٹا ہوگا کہ میں بوڑھی ہوچکی ہوں اور ہمیشہ سے بانجھ ہوں جوانی میں بھی اولاد نہ ہوسکی اس وقت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو برس اور حضرت سارہ کی عمر ننانوے سال تھی تو فرشتوں نے کہا کہ آپ کے پروردگار نے یہی بات بتانے کا حکم دیا ہے اور وہ بہت دانا بھی ہے اور صاحب حکمت بھی۔