51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 51:31–44

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

فرمایا اے بھیجے جانے والو ! (فرشتو) پھر تمہاری مہم کیا ہے ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا بیشک ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تاکہ ان پر کھنگر کے پتھر برسائیں

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جن پر آپ کے پروردگار کے پاس (یعنی عالم غیب میں) خاص نشانیاں بھی ہیں حد سے گزرنے والوں کے لئے

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

پس اس میں جتنے ایمان والے تھے ہم نے ان کو نکال لیا

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

پھر اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور جو لوگ دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں ہم نے ان کے لئے وہاں نشانی چھوڑ دی

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں جب ہم نے ان کو کھلی دلیل دے کر فرعون کے پاس بھیجا

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

پھر اس نے اپنی طاقت (کے گھمنڈ) پر منہ موڑ لیا اور کہنے لگا یہ جادو گر ہے یا دیوانہ

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا پھر انہیں دربابرد کردیا اور وہ کام ہی ملامت کے کرتا تھا

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور عاد کے حالات میں جب ہم نے ان پر نامبارک آندھی بھیجی

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

وہ جس چیز پر گزرتی تھی اس کو ریزہ ریزہ کیے بغیر نہ چھوڑتی تھی

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور ثمود (کے واقعہ) میں ، جب ان سے کہا گیا کہ ایک مدت (تھوڑے دنوں) تک فائدہ اٹھالو۔

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

پس ان لوگوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی۔ سو ان کو کڑک نے آپکڑا اور وہ دیکھ رہے تھے

آیات 31 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ تب ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے آنے کا اہم مقصد کیا ہے کس بات کو یہاں ٹھہرے تو آگے کہاں اور کس کام سے جانا ہے تب انہوں نے ساری بات عرض کردی کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب واقع کرنے جا رہے ہیں جو گناہ گار اور مجرم ہیں یعنی جرم وگناہ ان کی سرشت میں داخل ہوچکا ہے ہمیں حکم ہوا ہے کہ ان پر مٹی سے بنے ہوئے کنکر پتھر برسائیں۔ جو ان حد سے گزرنے والوں کے لیے آپ کے پروردگار نے مقرر کر رکھے ہیں کہ ہر آدمی کے لیے اس کے نام کا پتھر گرتا ہے اور وہ جدھر جاتا ہے اس کے پیچھے جاتا اور جب لگتا تو چور چور کردیتا اس ہلاکت سے ہم نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جو بہت کم تھے کہ اس ایک گھر کے علاوہ مسلمانوں کا کوئی اور گھر تو تھا ہی نہیں اور انہیں برباد کرکے آنے والی نسلوں کے لیے جو ان میں سے عذاب الٰہی سے ڈرنے والے ہیں عبرت کانشان بنادیا۔ ایسے ہی دلائل موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں ہیں جب انہیں فرعون کے پاس واضح دلائل اور معجزات عطا کرکے بھیجا گیا تو فرعون نے اپنی طاقت کے گھمنڈ پر روگردانی اختیار کی اور انہیں کبھی جادوگر کہا اور کبھی کہا کہ دیوانہ ہے پھر ہم نے اسے پکڑا اور ذلیل کرکے غرق کردیا یا غرق ہو کر رسوا ہو ایسے ہی قوم عاد کا حال ہے کہ نافرمانی کی تو اللہ نے بلاخیز طوفان بھیج دیا جس نے کچھ باقی چھوڑا اور ہر شے تباہ وبرباد کردی یہی حال قوم ثمود کا ہوا جنہیں ایک وقت تک مہلت دی گئی کہ اللہ کے جہاں کو برت لو مگر انہوں نے اپنے پالنے والے کی اطاعت نہ کی تو ان پر دیکھتی آنکھوں بجلی کی کڑک پڑی اور تباہ ہوگئے اور نہ مقابلہ کی جرات ہوسکی ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا یہی حشر ہوا وہ بھی بہت نافرمان لوگ تھے۔
Ayahs 51:45–60

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

پھر نہ تو اٹھنے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ ہی مقابلہ کرسکتے تھے

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم (بھی تباہ ہوئی) یقینا وہ بڑے نافرمان لوگ تھے

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا اور بیشک ہم وسیع قدرت رکھنے والے ہیں

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور ہم نے زمین کو بچھایا تو ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہر چیز کو ہم نے جوڑا جوڑا بنایا تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

تو تم اللہ ہی کی طرف دوڑو۔ بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لئے (انجام بد سے) صاف ڈرانے والا ہوں

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود مت بناؤ ۔ یقینا میں اسکی طرف سے تمہارے لئے صاف ڈرانے والا ہوں

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اسی طرح جو لوگ (کافر) ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کے پاس جو پیغمبر آتا تھا اس کو جادوگر یا دیوانہ کہتے تھے

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اس (بات) کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے آئے ہیں بلکہ یہ سرکش لوگ ہیں

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

سو آپ ان کی طرف التفات نہ کیجئے کہ آپ پر کسی طرح کا الزام نہیں

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

اور نصیحت فرماتے رہیے کہ بیشک نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

اور میں نے جن اور انسان کو اسی لئے پیدا فرمایا ہے کہ میری عبادت کریں

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

مجھے ان سے رزق کی طلب نہیں ہے اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کھانا کھلائیں

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

یقینا خود اللہ ہی سب کو رزق دینے والے ، زور آور (اور) مضبوط ہیں

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

تو بلا شبہ ان ظالموں کے لئے بھی سزا مقرر ہے جیسے ان کے ساتھیوں کے لئے سزا تھی سو مجھ سے جلدی طلب نہ کریں

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

غرض ان کافروں کے لئے اس دن کے آنے سے بڑی خرابی ہوگی جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے

آیات 45 تا 60۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔ بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا ہوں اور کبھی بھی اللہ کے ساتھ کسی کو معبود بناؤ یہ سارا کچھ اس کی وحدانیت پر گواہ ہے اور میں اسی کی طرف سے مبعوث ہو کر تمہیں شرک کی برائی سے مطلع کررہا ہوں اسی طرح جس طرح پہلے لوگوں کے پاس اللہ کے رسول آئے تو بدبختوں نے انہیں کبھی جادوگر کہا اور کبھی پاگل پن کا الزام دیا اور آج کے کافروں کارویہ بھی ایسا ہے جیسے پہلے کافرا نہیں وصیت کرمرے ہوں کہ یہ جواب دینا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے وصیت نہیں کی یہ بھی ان ہی گناہوں میں مبتلا ہیں اور ویسے ہی سرکش ہیں جیسے وہ تھے تو ان کے کلام میں بھی مطابقت ہے آپ ان کی پرواہ مت کیجئے آپ نے اللہ کا دین ان تک پہنچادیا اور آپ نصیحت فرماتے رہیے کہ آپ کا فرض منصبی صرف اتنا ہے ان کے قبول نہ کرنے کا الزام خود ان پر ہے کہ نصیحت سے فائدہ تو یقینا ایمان قبول کرنے والوں کو اور ان کو ہوگا ، پہلے سے ایمان پر ہیں منکر اور کافر پہ تو حجت ہی تمام ہوگی کہ ہم نے جنات اور انسانوں کو اپنی عظمت کا اقرار کرکے اپنی اطاعت کے لیے پیدا فرمایا ہے یعنی ان کا مقصد تخلیق یہ ہے اور سب کو اس کی فطری استعداد عطا کی گئی ہے مگر تکوینی طور پر اور مجبورا نہیں بلکہ اس استعداد کے ساتھ انہیں آزادی ہے کہ اس کی قو ت کو استعمال کرتے ہیں یا نہیں ورنہ اللہ کو ان سے کام میں مدد حاصل کرنے کی احتیاج نہیں کہ جس طرح کسی آقا کو غلاموں سے کمائی کا محتاج نہیں اور ہر شے ہر بات میں اس کی محتاج ہے ۔ اس کے باوجود بھی جو لوگ کفر اختیار کرتے ہیں تو پہلے کافروں کی طرح وہ بھی اپنی باری پہ اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔ اس میں بیشک جلدی نہ کریں کہ ان کا انجام کوئی اچھا نہ ہوگا بلکہ تباہی اور حسرت ہوگی کافروں کو اس روز جس کا وعدہ کیا گیا ہے یعنی روز قیامت کو۔