50. Surah Qaaf
قThe letter Qaaf · 45 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة قٓ بسم اللہ الرحمن الرحیم ٭سورۃ نمبر 50 کل رکوع 3 آیات 45 الفاظ و کلمات 376 حروف 1525 مقام نزول مکہ مکرمہ ٭انسان اس دنیا میں جو بھی عمل کرتا ہے اللہ اس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس نے ہر آدمی پر دو فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اس کی اچھی یا بری باتوں کو لکھتے جارہے ہیں۔ ان کے اس نامہ اعمال کو وہ قیامت کے دن ہر آدمی کے سامنے رکھ دیں گے۔ پھر ان کے اعمال کے مطابق ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ معاملہ فرمائیں گے۔ ٭جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو جہنم سے پوچھا جائے گا کہ کیا اب بھی اور مجرمین کے لیے جگہ باقی ہے ؟ جہنم کہے گی الہیٰ ! اگر اور جہنمی ہیں تو ان کو بھیج دیجئے ابھی گنجائش ہے اور اس طرح ان کا فروں اور مشرکین کو اور ان کے شیطانوں کو جہنم میں ڈال کر اوپر سے جہنم کو ڈھک دیا جائے گا۔ ٭اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے رسول کو لوگوں کی اصلاح کے لیے بھیجا ہے۔ لیکن کفار یہ کہتے ہیں کہ (١) بڑے تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ اللہ نے اس کو نبی بنا کر بھیجا ہے جو ہم جیسا ہی ہے ؟ ٢) دوسری بات یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مرکر مٹی ہوجائیں گے تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا۔ یہ ایسی بات ہے جسے ہماری عقل تسلیم نہیں کرتی۔ ٭اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا وہ اپنے سروں کے اوپر اس آسمان کو نہیں دیکھتے جو بڑی شان والا ہے۔ جسے ہم نے چاند ‘ سورج اور ستاروں سے سجایا ہے۔ جس نے اس زمین و آسمان کو بنایا ہے اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ وہ آدمی کو مٹی میں مل جانے کے بعد دوبارہ پیدا نہ کرسکے۔ فرمایا زمین کو دیکھو اس کو اللہ نے کس طرح بچھایا ہے۔ اس میں مضبوط پہاڑ بنائے ہیں۔ اسی نے زمین میں طرح طرح کی چیزیں اگائی ہیں۔ بلندیوں سے پانی برسا کر اس سے وبصورت باغات ‘ سرسبز و شاداب درخت اور ان پر طرح طرح کے پھل پیدا کیے ہیں۔ جب بارش نہیں ہوتی تو زمین مردہ سی ہو کر رہ جاتی ہے لیکن جیسے ہی پانی برستا ہے تو زمین میں ایک نئی زندگی پیدا ہوجاتی ہے۔ فرمایا اگر اللہ تعالیٰ مردہ زمین پر بارش برسانے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ کردیتا ہے اسی طرح جب ساری دنیا کے انسان مرجائیں گے تو اللہ ان کو اسی طرح زندہ فرمادے گا۔ ٭ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کفار و مشرکین کو ان کے برے انجام سے ڈراتے رہیے اور کفار و مشرکین کی باتوں پر صبر کیجئے۔ ٭فرمایا کہ تم سے پہلے بہت سی قومیں گزری ہیں۔ قوم نوح ‘ کنویں والے ‘ قوم ثمود ‘ قوم عاد ‘ قوم فرعون ‘ قوم لوط ‘ گھنے جنگلات والے اور قوم تبع۔ یہ بڑی ترقی یافتہ اور مضبوط قومیں تھیں لیکن جب انہوں نے نبیوں کو اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کو جھٹلایا اور ضد میں بہت آگے نکل گئے تب ان پر اللہ کا عذاب آیا اور وہ اپنے بد ترین انجام سے نہ بچ سکے اور ان قوموں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا گیا۔ فرمایا کہ یہ احمدق اتنی بات نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ کیا پہلی مرتبہ انسان اور کائنات کو پیدا کر کے تھک گیا ہے اور اب وہ انسان اور کائنات کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ یہ کیسا برا تصور ہے کہ انہوں نے خود ہی فیصلہ کرلیا کہ اب اللہ آدمی کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا۔ پہلی مرتبہ پیدا کرنا مشکل ہو سکتا تھا مگر دوبارہ پیدا کرنا کیسے ناممکن سمجھ لیا ہے۔ ٭فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو انسان کے ہر ایک عمل کی خبر ہے۔ پھر اس نے اپنے دو ایسے فرشتے ہر انسان پر مقرر کیے ہوئے ہیں جو آدمی کی ایک ایک حرکت اور باتوں کو لکھتے جارہے ہیں۔ ٭فرمایا کہ موت کے دروازے سے ہر ایک کو گزرنا ہے۔ موت آدمیوں پر بھی طاری ہوتی ہے اور کائنات پر بھی طاری کی جائے گی۔ پہلی مربہ جب صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان اور ہر جان دارختم ہوجائے گا اور جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ ہو کر اللہ کی بار گاہ میں حاضر ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کے متعلق جو کفر و شرک کرتا ‘ ضد اور عناد سے کام لے کر ہر نیک کام سے دوسروں کو روکتا تھا۔ دین میں طرح طرح کے ش ہے پیدا کرتا اور اللہ کے ساتھ دوسروں کو معبود بنا کر رکھتا تھا حکم دیا جائے گا کہ اس کو سخ تجہنم میں جھونک دیا جائے۔ اس وقت کفارو مشرکین شیطانوں پر الزام لگاتے ہوئے کہیں گے کہ الیہٰ ! یہی وہ شیطان ہیں جنہوں نے ہمیں بہکایا تھا اور راستہ سے بھٹکادیا تھا۔ اس پر شیطان کہیں گے کہ الٰہی ! ہم نے انہیں گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ تو خود اپنے اختیار سے گمراہی کے گڑھے میں جا گرے تھے اور ہر برائی اور بدترین کام کی طرف دوڑ دوڑ کر جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اب آپس میں جھگڑا کرنے سے کیا فائدہ۔ آج دن وہ ہے کہ جس نے جیسا کیا تھا وہ اس کو بھگتے گا۔ جب تم سے کہا جاتا تھا کہ گمراہی کا راستہ اختیار نہ کرو اس وقت تم اس بات پر غور و فکر نہیں کرتے تھے۔ یاد رکھو اللہ کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا بلکہ انسان خود ہی اپنے نقصان کا ذمہ دار ہے ۔ ٭جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو جہنم سے پوچھا جائے گا کہ کیا اب بھی اور مجرمین کے لیے جگہ باقی ہے ؟ وہ جہنم کہے گی الٰہی ! اگر اور جہنمی ہیں تو ان کو بھیج دیجئے ابھی گنجائش باقی ہے اور اس طرح ان کافروں ‘ مشرکوں اور شیطانوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور جہنم کو ڈھک دیا جائے گا۔ ٭اہل تقویٰ اور اہل ایمان سے کہا جائے گا کہ تم سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا تھا وہ یہ جنت ہے اور جنت کو ان کے قریب تر کردیا جائے گا یعنی ان جنتیوں کو ایسا محسوس ہوگا جیسے جنت بالکل ان کے سامنے ہے۔ ان سے کہا جائے گا کہ اب تم امن و سلامتی اور سکون سے یہاں رہو۔ اب اس میں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔ ان جنتوں میں تم جو کچھ چاہو گے وہ ملے گا اور ان کو بغیر مانگے بھی بہت کچھ دیا جائے گا۔ ٭فرمایا گیا کہ یہ کفار و مشرکین اپنی طاقت اور سرداریوں پر نہ اترائیں کیونکہ ان سے پہلے گزری ہوئی قومیں ان سے بھی طاقت ور اور مضبوط تھیں لیکن جب انہوں نے نافرمانیوں سے توبہ نہ کی تو ان کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ ٭اللہ نے فرمایا کہ اس نے چھ دن میں ساری کائنات کو پیدا کیا۔ وہی دوبارہ بھی پیداکرے گا۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ کفارو مشرکین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے۔ طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے اپنے پروردگار کی حمد وثناکیجئے اور رات کے ایک حصے میں اس کی تسبیح کیجئے۔ نمازوں کا اہتمام کیجئے۔ فرمایا زندگی اور موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اسی طرح ساری دنیا کے سب اولین و آخرین کو جمع کرلینا بہت آسان ہے۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کفار کو سمجھاتے رہیے۔ ان کو سمجھا نا ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذمہ داری ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر زبردستی کے لیے نہیں بھیجے گئے۔ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ ضرور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات پر دھیان دیں گے۔
قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader
قاف۔ حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے۔ اس شان والے قرآن کی قسم۔
بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader
بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہے کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ڈرانے والا آگیا ہے۔ پھر وہ کافر کہتے ہیں کہ یہ تو عجیب سی بات ہے
ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader
کہ جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے (دوبارہ اٹھائے جائیں گے) یہ تو عقل اور سمجھ سے دور کی بات ہے۔
قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader
(اللہ تعالیٰ فرمائیں گے) حالانکہ ہم ان اجزا کو جنہیں زمین نے کم کردیا ہے ( یا کھالیا ہے) اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہمارے پاس کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے۔
بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader
اصل بات یہ ہے کہ جب ان کے پاس سچی بات پہنچ گئی تو انہوں نے اس کو جھٹلادیا۔ اب وہ کشمکش اور الجھن میں مبتلا ہیں۔
اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader
کیا انہوں نے اس آیمان کو نہیں دیکھا جو ان کے سروں پر (چھت کی طرح) ہے کہ ہم نے اس کو کیسا بنایا ہے کیسے آراستہ کیا ہے ؟ اور اس میں کوئی شگاف نہیں ہے ؟
وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader
( کیا وہ) زمین کو نہیں دیکھتے کہ ہم نے اس کو پھیلا کر اس میں بھاری پہاڑ جمادیئے اور اس میں ہم نے ہر قسم کی پر رونق چیزیں اگادیں۔
تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader
اس میں (ہر اس شخص کے لئے) ہدایت و نصیحت ہے جو اللہ کی طرف لوٹنے والا ہے۔
وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader
( کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ) ہم نے آسمان سے ایک برکت والا ( نفع والا) پانی برسایا۔ پھر ہم نے اس کی ذریعہ بہت سے باغات اور اناج کو پیدا کیا ( جو کھیت بن جاتا ہے) اور پھر کاٹا جاتا ہے۔
وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader
اس نے کھجوروں کے اونچے اونچے درخت اگائے کہ ان درختوں کا گا بھا خوب گتھا ہوا ہوتا ہے ۔
رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader
(یہ اللہ نے ) بندوں کے لئے رزق کا ذریعہ بنایا ہے) اور پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندگی بخشی ہے ( جو لوگ مرچکے ہیں ان کا بھی ) نکلنا اسی طرح سے ہوگا۔
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader
ان سے پہلے قوم نوح ‘ کنویں والے ‘ قوم ثمود ‘
وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader
قوم عاد ‘ قوم فرعون اور قوم لوط
وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader
ایکہ والے اور قوم تبع نے بھی ( اللہ کے نبیوں کو) اوروں کی طرجھٹلایا۔ پھر ان پر رب کا وعدہ پورا ہو کر رہا۔
اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader
کیا پھر ہم پہلی مرتبہ پیدا کر کے ( دوبارہ پیدا کرنے سے) تھک گئے ہیں۔ نہیں (اصل بات یہ ہے کہ ) لوگ دوبارہ پیدا کئے جانے سے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader
بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے دل میں جو خیالات ابھرتے ہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں۔ ہم اس کی رنگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔
اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader
دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے دو فرشتے اس کے اعمال کو لکھ رہے ہیں۔
مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader
اس کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لئے اس کے پاس ایک نگراں موجود نہ ہو۔
وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader
اور موت کی وہ سختی آپہنچی جو برحق ہے۔ (جس سے وہ زندگی بھر) بچتا بھرتا تھا۔
وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader
اور جس دن صور پھونکاجائے گا تو یہی دن عذاب کے وعدے کا دن ہوگا۔
وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader
ہر شخص ( میدان حشر میں) اس طرح آئے گا کہ اس کے سا تھ ایک (فرشتہ) حشر میں لانے والا اور ایک گواہ ہوگا۔
لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader
(اس سے کہا جائے گا کہ ) تو اس دن سے غفلت میں تھا جس کے پردے کو ہم نے ہٹادیا ہے۔ آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔
وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader
اور اسکا وہ ساتھی (فرشتہ) جو گواہ تھا کہے گا کہ اس کا نامہ اعمال میرے پاس تھا جو حاضر ہے۔
اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader
(حکم دیا جائے گا کہ ) تم ہر اس شخص کو جہنم میں جھونک دو جو ناشکرا ور زیادتی کرنے والا ‘ نیکی سے روکنے والا ‘
مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader
حد سے تجاوز کنے والا اور شک میں پڑا ہوا تھا۔
اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader
جس نے اللہ کے ساتھ دوسروں کو معبود بنایا اس کو بھی شدید عذاب میں جھونک دو ۔
قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader
اس کا وہ ساتھی (جو شیطان تھا) کہے گا کہ اے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہخود گمراہی میں دوڑا پھرتا تھا۔
قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader
فرمایا جائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ میں پہلے ہی تمہارے پاس عذاب کا وعدہ بھیج چکا تھا۔
مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader
میرے پاس کوئی بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔
یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader
وہ دن (کتنا ہیبت ناک ہوگا) جب ہم جہنم سے کہیں گے کہ کیا تو بھرچکی ؟ وہ جہنم کہے گی کہ کیا کچھ اور بھی ہے ؟
وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader
اور تقویٰ والوں کے لئے جنت قریب کردی جائے گی جو ان سے دورنہ ہو گی
هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader
(فرمایا جائے گا کہ) یہ وہ جنت ہے جس کا وعدہ ہر اس شخص سے کیا گیا تھا جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور (بندوں کے حقوق کی) حفاظت کرنے والا تھا۔
مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader
جو شخص رحمن کو دیکھے بغیر ڈرتارہا اور رجوع ہونے والا دل لے کر حاضر ہوا
اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader
(حکم دیا جائے گا کہ) سلامتی (عزت واحترام) کے ساتھ اس جنت میں داخل ہوجا جو ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے۔
لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader
ان جنتوں میں ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس سے اور زیادہ دیا جائے گا۔
وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader
اور ہم (ان کفار مکہ سے پہلے) بہت سی (نافرمان) قوموں کو تباہ کرچکے ہیں جو ان سے زیادہ طاقت و قوت والی تھیں۔ پھر وہ شہروں میں (فریاد کرتے) پھرے کہ ان کے لئے کوئی پناہ کی جگہ ہے ؟
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader
بیشک اس میں ہر اس شخص کے لئے عبرت و نصیحت ہے جو دل رکھتا ہے یا جو پوری توجہ سے بات کو سنتا ہے۔
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader
اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ اور ہمیں اس کام نے تھکایا نہیں ہے
فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ وہ کفار جو کچھ بکواس کرتے ہیں اس پر صبر کیجئے اور) اپنے رب کی حمد کے ساتھ سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے
وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader
اور رات میں بھی اور سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی تسبیح کیجئے۔