50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة قٓ بسم اللہ الرحمن الرحیم ٭سورۃ نمبر 50 کل رکوع 3 آیات 45 الفاظ و کلمات 376 حروف 1525 مقام نزول مکہ مکرمہ ٭انسان اس دنیا میں جو بھی عمل کرتا ہے اللہ اس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس نے ہر آدمی پر دو فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اس کی اچھی یا بری باتوں کو لکھتے جارہے ہیں۔ ان کے اس نامہ اعمال کو وہ قیامت کے دن ہر آدمی کے سامنے رکھ دیں گے۔ پھر ان کے اعمال کے مطابق ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ معاملہ فرمائیں گے۔ ٭جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو جہنم سے پوچھا جائے گا کہ کیا اب بھی اور مجرمین کے لیے جگہ باقی ہے ؟ جہنم کہے گی الہیٰ ! اگر اور جہنمی ہیں تو ان کو بھیج دیجئے ابھی گنجائش ہے اور اس طرح ان کا فروں اور مشرکین کو اور ان کے شیطانوں کو جہنم میں ڈال کر اوپر سے جہنم کو ڈھک دیا جائے گا۔ ٭اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے رسول کو لوگوں کی اصلاح کے لیے بھیجا ہے۔ لیکن کفار یہ کہتے ہیں کہ (١) بڑے تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ اللہ نے اس کو نبی بنا کر بھیجا ہے جو ہم جیسا ہی ہے ؟ ٢) دوسری بات یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مرکر مٹی ہوجائیں گے تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا۔ یہ ایسی بات ہے جسے ہماری عقل تسلیم نہیں کرتی۔ ٭اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا وہ اپنے سروں کے اوپر اس آسمان کو نہیں دیکھتے جو بڑی شان والا ہے۔ جسے ہم نے چاند ‘ سورج اور ستاروں سے سجایا ہے۔ جس نے اس زمین و آسمان کو بنایا ہے اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ وہ آدمی کو مٹی میں مل جانے کے بعد دوبارہ پیدا نہ کرسکے۔ فرمایا زمین کو دیکھو اس کو اللہ نے کس طرح بچھایا ہے۔ اس میں مضبوط پہاڑ بنائے ہیں۔ اسی نے زمین میں طرح طرح کی چیزیں اگائی ہیں۔ بلندیوں سے پانی برسا کر اس سے وبصورت باغات ‘ سرسبز و شاداب درخت اور ان پر طرح طرح کے پھل پیدا کیے ہیں۔ جب بارش نہیں ہوتی تو زمین مردہ سی ہو کر رہ جاتی ہے لیکن جیسے ہی پانی برستا ہے تو زمین میں ایک نئی زندگی پیدا ہوجاتی ہے۔ فرمایا اگر اللہ تعالیٰ مردہ زمین پر بارش برسانے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ کردیتا ہے اسی طرح جب ساری دنیا کے انسان مرجائیں گے تو اللہ ان کو اسی طرح زندہ فرمادے گا۔ ٭ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کفار و مشرکین کو ان کے برے انجام سے ڈراتے رہیے اور کفار و مشرکین کی باتوں پر صبر کیجئے۔ ٭فرمایا کہ تم سے پہلے بہت سی قومیں گزری ہیں۔ قوم نوح ‘ کنویں والے ‘ قوم ثمود ‘ قوم عاد ‘ قوم فرعون ‘ قوم لوط ‘ گھنے جنگلات والے اور قوم تبع۔ یہ بڑی ترقی یافتہ اور مضبوط قومیں تھیں لیکن جب انہوں نے نبیوں کو اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کو جھٹلایا اور ضد میں بہت آگے نکل گئے تب ان پر اللہ کا عذاب آیا اور وہ اپنے بد ترین انجام سے نہ بچ سکے اور ان قوموں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا گیا۔ فرمایا کہ یہ احمدق اتنی بات نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ کیا پہلی مرتبہ انسان اور کائنات کو پیدا کر کے تھک گیا ہے اور اب وہ انسان اور کائنات کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ یہ کیسا برا تصور ہے کہ انہوں نے خود ہی فیصلہ کرلیا کہ اب اللہ آدمی کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا۔ پہلی مرتبہ پیدا کرنا مشکل ہو سکتا تھا مگر دوبارہ پیدا کرنا کیسے ناممکن سمجھ لیا ہے۔ ٭فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو انسان کے ہر ایک عمل کی خبر ہے۔ پھر اس نے اپنے دو ایسے فرشتے ہر انسان پر مقرر کیے ہوئے ہیں جو آدمی کی ایک ایک حرکت اور باتوں کو لکھتے جارہے ہیں۔ ٭فرمایا کہ موت کے دروازے سے ہر ایک کو گزرنا ہے۔ موت آدمیوں پر بھی طاری ہوتی ہے اور کائنات پر بھی طاری کی جائے گی۔ پہلی مربہ جب صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان اور ہر جان دارختم ہوجائے گا اور جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ ہو کر اللہ کی بار گاہ میں حاضر ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کے متعلق جو کفر و شرک کرتا ‘ ضد اور عناد سے کام لے کر ہر نیک کام سے دوسروں کو روکتا تھا۔ دین میں طرح طرح کے ش ہے پیدا کرتا اور اللہ کے ساتھ دوسروں کو معبود بنا کر رکھتا تھا حکم دیا جائے گا کہ اس کو سخ تجہنم میں جھونک دیا جائے۔ اس وقت کفارو مشرکین شیطانوں پر الزام لگاتے ہوئے کہیں گے کہ الیہٰ ! یہی وہ شیطان ہیں جنہوں نے ہمیں بہکایا تھا اور راستہ سے بھٹکادیا تھا۔ اس پر شیطان کہیں گے کہ الٰہی ! ہم نے انہیں گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ تو خود اپنے اختیار سے گمراہی کے گڑھے میں جا گرے تھے اور ہر برائی اور بدترین کام کی طرف دوڑ دوڑ کر جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اب آپس میں جھگڑا کرنے سے کیا فائدہ۔ آج دن وہ ہے کہ جس نے جیسا کیا تھا وہ اس کو بھگتے گا۔ جب تم سے کہا جاتا تھا کہ گمراہی کا راستہ اختیار نہ کرو اس وقت تم اس بات پر غور و فکر نہیں کرتے تھے۔ یاد رکھو اللہ کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا بلکہ انسان خود ہی اپنے نقصان کا ذمہ دار ہے ۔ ٭جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو جہنم سے پوچھا جائے گا کہ کیا اب بھی اور مجرمین کے لیے جگہ باقی ہے ؟ وہ جہنم کہے گی الٰہی ! اگر اور جہنمی ہیں تو ان کو بھیج دیجئے ابھی گنجائش باقی ہے اور اس طرح ان کافروں ‘ مشرکوں اور شیطانوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور جہنم کو ڈھک دیا جائے گا۔ ٭اہل تقویٰ اور اہل ایمان سے کہا جائے گا کہ تم سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا تھا وہ یہ جنت ہے اور جنت کو ان کے قریب تر کردیا جائے گا یعنی ان جنتیوں کو ایسا محسوس ہوگا جیسے جنت بالکل ان کے سامنے ہے۔ ان سے کہا جائے گا کہ اب تم امن و سلامتی اور سکون سے یہاں رہو۔ اب اس میں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔ ان جنتوں میں تم جو کچھ چاہو گے وہ ملے گا اور ان کو بغیر مانگے بھی بہت کچھ دیا جائے گا۔ ٭فرمایا گیا کہ یہ کفار و مشرکین اپنی طاقت اور سرداریوں پر نہ اترائیں کیونکہ ان سے پہلے گزری ہوئی قومیں ان سے بھی طاقت ور اور مضبوط تھیں لیکن جب انہوں نے نافرمانیوں سے توبہ نہ کی تو ان کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ ٭اللہ نے فرمایا کہ اس نے چھ دن میں ساری کائنات کو پیدا کیا۔ وہی دوبارہ بھی پیداکرے گا۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ کفارو مشرکین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے۔ طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے اپنے پروردگار کی حمد وثناکیجئے اور رات کے ایک حصے میں اس کی تسبیح کیجئے۔ نمازوں کا اہتمام کیجئے۔ فرمایا زندگی اور موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اسی طرح ساری دنیا کے سب اولین و آخرین کو جمع کرلینا بہت آسان ہے۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کفار کو سمجھاتے رہیے۔ ان کو سمجھا نا ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذمہ داری ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر زبردستی کے لیے نہیں بھیجے گئے۔ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ ضرور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات پر دھیان دیں گے۔

Ayahs 50:1–15

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

قاف۔ حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے۔ اس شان والے قرآن کی قسم۔

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہے کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ڈرانے والا آگیا ہے۔ پھر وہ کافر کہتے ہیں کہ یہ تو عجیب سی بات ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

کہ جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے (دوبارہ اٹھائے جائیں گے) یہ تو عقل اور سمجھ سے دور کی بات ہے۔

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ فرمائیں گے) حالانکہ ہم ان اجزا کو جنہیں زمین نے کم کردیا ہے ( یا کھالیا ہے) اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہمارے پاس کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے۔

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

اصل بات یہ ہے کہ جب ان کے پاس سچی بات پہنچ گئی تو انہوں نے اس کو جھٹلادیا۔ اب وہ کشمکش اور الجھن میں مبتلا ہیں۔

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس آیمان کو نہیں دیکھا جو ان کے سروں پر (چھت کی طرح) ہے کہ ہم نے اس کو کیسا بنایا ہے کیسے آراستہ کیا ہے ؟ اور اس میں کوئی شگاف نہیں ہے ؟

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

( کیا وہ) زمین کو نہیں دیکھتے کہ ہم نے اس کو پھیلا کر اس میں بھاری پہاڑ جمادیئے اور اس میں ہم نے ہر قسم کی پر رونق چیزیں اگادیں۔

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

اس میں (ہر اس شخص کے لئے) ہدایت و نصیحت ہے جو اللہ کی طرف لوٹنے والا ہے۔

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

( کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ) ہم نے آسمان سے ایک برکت والا ( نفع والا) پانی برسایا۔ پھر ہم نے اس کی ذریعہ بہت سے باغات اور اناج کو پیدا کیا ( جو کھیت بن جاتا ہے) اور پھر کاٹا جاتا ہے۔

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اس نے کھجوروں کے اونچے اونچے درخت اگائے کہ ان درختوں کا گا بھا خوب گتھا ہوا ہوتا ہے ۔

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

(یہ اللہ نے ) بندوں کے لئے رزق کا ذریعہ بنایا ہے) اور پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندگی بخشی ہے ( جو لوگ مرچکے ہیں ان کا بھی ) نکلنا اسی طرح سے ہوگا۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان سے پہلے قوم نوح ‘ کنویں والے ‘ قوم ثمود ‘

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

قوم عاد ‘ قوم فرعون اور قوم لوط

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

ایکہ والے اور قوم تبع نے بھی ( اللہ کے نبیوں کو) اوروں کی طرجھٹلایا۔ پھر ان پر رب کا وعدہ پورا ہو کر رہا۔

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا پھر ہم پہلی مرتبہ پیدا کر کے ( دوبارہ پیدا کرنے سے) تھک گئے ہیں۔ نہیں (اصل بات یہ ہے کہ ) لوگ دوبارہ پیدا کئے جانے سے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 : عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔ تشریح : آیت نمبر : 1 تا 15 : سورئہ ق سے قرآن کریم کی ساتویں اور آخری منزل کا آغاز ہو رہا ہے۔ ق حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی عظمت کی قسم کھا کر فرمایا یہ وہ بلند رتبہ اور عظمت و جلال والی کتاب ہے جیسے ان تمام کتابوں پر عزت و شرف حاصل ہے جو اس سے پہلے نازل کی گئی ہیں۔ اس کتاب کا مقابلہ اور کوئی کتاب نہیں کرسکتی۔ اس کتاب میں اس بات کو نہایت واضح طریقے سے بیان کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں انسان کا قیام عارضی ہے حقیقی زندگی کا آغاز آخرت سے ہوگا۔ دنیا میں وقتی زندگی گذارنے کے بعد ہر شخص کو ایک مقرر دن (قیامت کے دن) اللہ کی بار گاہ میں حاضر ہو کر اپنے تمام اعمال کا حساب دینا ہو گا پھر جزا اور سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ان تمام باتوں کو اللہ کے پیغمبر آکر بتاتے ہیں تاکہ راستہ سے بھٹکے ہوئے انسان سیدھے راستے پر آجائیں جو انکی اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں لیکن اللہ و رسول کے منکر جب گناہوں کی حدوں کو پار کر جاتے ہیں تو پھر ان کو عبرت ناک سزادی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار اس بات کو بڑی حیرت اور تعجب سے کہتے رہتے ہیں کہ یہ تمام باتیں بتانے والے پیغمبر ان ہی جیسے بشر ہیں۔ ان میں اور ہم میں فرق کیا ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو بڑے ہی تعجب کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے وجہ یہ ہے کہ اگر اللہ کے پیغمبر ان ہی میں سے ان کی اصلاح کے لئے نہ بھیجے جائیں تو پھر وہ کون سی مخلوق ہوگی جو پیغمبر بنا کر بھیجی جائے گی۔ انبیاء کی بشریت کا انکار کفار کا مزاج رہا ہے جس کا مظاہرہ وہ کرتے رہتے ہیں۔ قرآن کریم میں صاف صاف فرمادیا گیا ہے کہ اگر اللہ فرشتے کو بھی پیغمبر بنا کر بھیجتا تو وہ بھی بشر ہی ہوتا۔ کفار اس بات میں بھی تعجب کرتے ہیں کہ جب وہ مر کر مٹی ہوجائیں گے ان کی ہڈیاں گل سڑ جائیں گی اور ان کے جسم کے سارے اجزا بکھر جائیں گے تو ان کے اجزاء کس طرح جمع کئے جاسکیں گے ؟ دنیا کے اربوں کھربوں انسانوں کے اجزا جمع ہو کر دوبارہ کس طرح انسانی شکل اختیار کرسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں باتوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اس میں تعجب اور حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ اللہ کو معلوم ہے انسانی جسم کے اعضاء کو کس زمین نے کھایا ہے اور ان کے جسم کے کون کون سے اجزاباقی ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے ان تمام باتوں کا پورا حساب ایک ایسی کتاب میں دج کررکھا ہے جو ہر طرح کی تبدیلی سے محفوظ ہے اور وہ کتاب خود اس کی حفاظت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ درحقیقت یہ کفار کسی ایک بات پر جم کر سوچ ہی نہیں سکتے کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ۔ یہ ہر چیز میں ڈانواڈول ہی رہتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ کائنات میں ظاہری انقلاب اور قوموں کے انجام پر ذرا بھی سنجیدگی سے غور کرلیں تو انہیں ان میں سے کسی بات پر نہ تو حیرت ہوگی اور نہ تعجب ہوگا۔ فرمیا کہ ذرا اپنے اوپر ایک بلند وبالا آسمان کو دیکھو اور اللہ نے اس کو کس طرح بنایا ہے نہ ستون ہے نہ سہارا اور آسمان اپنی عظمتوں کے ساتھ چھت کی طرح سے تان دیا گیا ہے جسے چاند ‘ سورج اور ستاروں کی چمک سے روشن ومنور کر رکھا ہے اس میں کہیں شگاف یا دراڑ نہیں ہے ۔ اپنے پاؤں تلے زمین کو دیکھیں کہ اللہ نے اسکو پھیلا کر اس میں کس طرح تو ازن برقرار رکھنے کے لئے بڑے بڑے پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا تاکہ وہ زمین انہیں لے کر ایک طرف کو نہ ڈھلک جائے۔ پھر زمین میں طرح طرح کے حسن و جمال اور خوبصورتیوں کو بکھیر دیا ہے۔ جب یہ زمین خشک اور مردہ سی ہوجاتی ہے تو بلندی سے پانی برسایا جاتا ہے جس سے مردہ سی زمین دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے ہر طرف خوبصورت باغات ‘ لہلہاتے کھیت ‘ کھجوروں کے جھنڈ کے جھنڈ اس میں لگے ہوئے گابھے اور رزق کے مختلف سامان اسی پانی سے پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ فرمایا کہ ان تمام باتوں میں تعجب اور حیرت کی کوئی بات نہیں ہے ۔ اگر پانی کے چھینٹے سے زمین دوبارہ سرسبز و شاداب ہو کر ایک نئی زندگی حاصل کرسکتی ہے اور اللہ کے حکم سے پھل دینے لگتی ہے وہی اللہ جب سارے مردوں کو قبروں سے اٹھا کر ان کے اجزا کو جمع کر کے ان کی اپنی شکل و صورت پر دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا تو اس میں کسی حیرت کی بات نہیں ہے یہ تو اللہ کی قدرت و طاقت ہے وہ کائنات میں جس طرح چاہتا ہے تبدیلیاں کرتا ہے وہی انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے کی طاقت و قوت رکھتا ہے۔ فرمایا کہ یہ تو دنیاوی انقلابات ہیں۔ اگر دنیا بھر کی بڑی بڑی قوموں کے عبرت ناک انجام کو دیکھا جائے تو یہ بات لکل واضح ہو کر سامنے آجائے گی کہ اللہ کے سامنے دنیا کی طاقتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جب بھی اس کی زمین پر نافرمانی کی جات ہے تو اللہ کا قانون قدرت دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ چناچہ اللہ نے نافرمان قوموں کے متعلق فرمایا ہے کہ جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی تو پھر ان کی ترقیات ‘ مال و دولت اور اونچی اونچی بلڈنگیں ان کے کام نہ آسکیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قومیں قوم ثمود اور قوم عاد ‘ فرعون اور لوط (علیہ السلام) کی قوم گھنے جنگل والے اور قوم تبع ان قوموں کی زندگیاں گواہ ہیں کہ اللہ نے ان قوموں کی اصلاح کے لئے اپنے پیغمبر بھیجے۔ جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی تو ان تباہ و برباد کر کے نشان عبرت بنادیا۔ اصحابہ الرس ‘ اصحاب ایکہ اور قوم تبع کون تھے ان کی تفصیل یہ ہے۔ { اصحاب الرس }(کنویں والے) ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم ثمود کو ان کی نافرمانیوں سے روکا تو وہ ان کے مخالف ہوگئے اور اس قوم کی نافرمانیاں بڑھتی ہی چلی گئیں۔ آخر کار اس قوم پر عذاب کا فیصلہ آگیا اور وہ قوم تہس نہیس کردی گئی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے تقریباً چار ہزار آدمی تھے جنہیں اللہ نے اس عذاب سے بچا لیا اور حضر موت کے علاقے میں حضرت صالح اور ان کی قوم کے لوگ جا کر آباد ہوگئے۔ جس جگہ قیام کیا تھا وہاں ایک کنواں تھا۔ (الرس کنویں کو کہتے ہیں) ۔ فرمایا کہ اصحاب الرس (کنویں والے) شروع میں تو اللہ کے فرماں بردار رہے جب حضرت صالح (علیہ السلام) کا وصال ہوگیا تو آہستہ آہستہ اس قوم میں بت پرستی شروع ہوگئی۔ اسی کفرو شرک اور نافرمانی کی وجہ سے اس قوم پر عذاب نازل کیا گیا ۔ وہ کنواں جس پر ان کا دارو مدار تھا وہ کنواں خشک ہو کر ویران ہوگیا اور ان کی بنائی ہوئی اونچی اونچی بلڈنگیں تباہ برباد کردی گئیں۔ { اصحاب الایکہ } الایکہ گھنے جنگل کو کہتے ہیں۔ یہ علاقہ بہت سرسبز و شاداب تھا اور گھنے باغات سے گھرا ہوا تھا۔ پانی بھی بڑی کثرت سے تھا۔ آج کل یہ علاقہ اردن کی سلطنت میں ہے۔ جب اس قوم کی نافرمانیاں بڑھ گئیں تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لئے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا جب اس قوم نے ان کی مسلسل نافرمانیاں کیں اور اللہ و رسول کی باتیں ماننے سے انکار کردیا تو اس قوم پر اللہ کا عذاب آیا اور وہ قوم تباہ وبربادہو کر رہ گئی۔ { قوم تبع } یمن کے بادشاہوں کو ” تبع “ کہا جاتا ہے جس طرح مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون تھا۔ قوم تبع کو اپنی خوش حالی پر بڑا ناز تھا۔ وہ کوئی صحیح بات سننے کو تیار نہ ہوتے تھے۔ جب اس قوم کی نافرمانیاں حد سے بڑھ گئیں تو اللہ نے اس قوم کو شدید عذاب کے ذریعہ تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ ان کا مال اور دولت اور ان کی ترقیات ان کے کسی کام نہ آسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان مذکورہ قوموں کا ذکر کرکے مکہ کے کفار و مشرکین کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نافرمانیاں نہ کریں ورنہ وہ بھی اللہ کے غضب کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ اللہ کا دستور اور قانون ہر زمانہ میں یکساں رہا ہے۔ وہ نافرمانوں کو سزادیتا ہے اور فرماں برداروں کو دنیا اور آخرت کی ہر طرح کی کامیابیاں عطا کرتا ہے۔
Ayahs 50:16–29

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے دل میں جو خیالات ابھرتے ہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں۔ ہم اس کی رنگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے دو فرشتے اس کے اعمال کو لکھ رہے ہیں۔

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

اس کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لئے اس کے پاس ایک نگراں موجود نہ ہو۔

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی وہ سختی آپہنچی جو برحق ہے۔ (جس سے وہ زندگی بھر) بچتا بھرتا تھا۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور جس دن صور پھونکاجائے گا تو یہی دن عذاب کے وعدے کا دن ہوگا۔

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

ہر شخص ( میدان حشر میں) اس طرح آئے گا کہ اس کے سا تھ ایک (فرشتہ) حشر میں لانے والا اور ایک گواہ ہوگا۔

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

(اس سے کہا جائے گا کہ ) تو اس دن سے غفلت میں تھا جس کے پردے کو ہم نے ہٹادیا ہے۔ آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اسکا وہ ساتھی (فرشتہ) جو گواہ تھا کہے گا کہ اس کا نامہ اعمال میرے پاس تھا جو حاضر ہے۔

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

(حکم دیا جائے گا کہ ) تم ہر اس شخص کو جہنم میں جھونک دو جو ناشکرا ور زیادتی کرنے والا ‘ نیکی سے روکنے والا ‘

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

حد سے تجاوز کنے والا اور شک میں پڑا ہوا تھا۔

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے اللہ کے ساتھ دوسروں کو معبود بنایا اس کو بھی شدید عذاب میں جھونک دو ۔

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا وہ ساتھی (جو شیطان تھا) کہے گا کہ اے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہخود گمراہی میں دوڑا پھرتا تھا۔

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

فرمایا جائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ میں پہلے ہی تمہارے پاس عذاب کا وعدہ بھیج چکا تھا۔

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

میرے پاس کوئی بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 29 : توسوس (چپکے سے وسوسہ ڈالتا ہے) ‘ حبل الورید (شہہ رگ) ‘ قعید (بیٹھا ہوا) ‘ ما یلفظ ( کوئی لفظ نہیں نکلتا) ‘ رقیب (نگہبان۔ نگرانی کرنے والا) سکرۃ الموت (موت کی بےہوشی) ‘ تحید (کتراتا ہے) ‘ یوم الوعید ( ڈرنے کا دن) ‘ سائق (چلانے والا) ‘ غطائ (پردہ) ‘ حدید (بہت تیز) ‘ قرین (ساتھی) ‘ لدی (میرے پاس) القیا (تم دونوں ڈال دو ) ‘ عنید (ضدی) ‘ مناع ( روکنے والا) ‘ معتد (حد سے آگے بڑھ جانے والا) ‘ مریب (شک و شبہ ڈالنے والا) ‘ اطغیت (میں نے سرکشی کی) ‘ لاتختصموا (تم نہ جھگڑو) ۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 29 : ان آیات میں موت اور قیامت کے ہولناک دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جو کفار دنیا میں غرورو تکبر کا پیکر بنے ہوئے تھے اور وہ نبیوں کی بات بھی نہ مانتے تھے ان کو اپنے کرتوتوں کی سزا اور اگر کسی نے بہترین اعمال کئے ہوں گے تو ان کو ان کے تصور سے زیادہ انعامات سے نوازا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ اس کے دل میں پیدا ہونے والے ہر خیال سے اچھی طرح واقف ہیں۔ رگ جان جس پر انسانی زندگی کا دار و مدار ہے وہ اس سے اتنی قریب نہیں ہے جتنا ہم اس سے قریب ہیں۔ اس کی اندرونی کیفیات کو معلوم کرنے کے لئے ہمیں کہیں جانے اور کسی ذریعہ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کے دل و دماغ میں جو بھی خیالات آتے ہیں یا وہ عمل کرتا ہے وہ ہماری نظر میں ہے۔ فرمایا کہ ہم نے اس کے دائیں اور بائیں ایسے فرشتے مقرر کئے ہوئے ہیں جو اس کے منہ سے نکلے ہوئے ہر لفظ اور اس کے کئے ہوئے ہر کام سے واقف ہیں اور وہ اس کو برابر لکھتے چلے جارہے ہیں۔ جب اس پر اس موت کی بےہوشی اور غشی طاری ہوجائے گی جس موت سے وہ بھاگتا اور موت کے نام سے بد کتا تھا وہ اس کو آکر رہے گی۔ اس سے بچنا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ موت کا وہ دروازہ ہے جس سے سب کو گذرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد اس کو اللہ کی بار گاہ میں حاضر ہو کر اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوا۔ اسی طرح وہ جس قیامت کا یقین نہیں کرتا تھا وہ بھی آکر رہے گی۔ جیسے ہی اللہ کے حکم سے صور میں پھونک ماری جائے گی اور قیامت قائم ہوجائے گی تو وہی دونوں فرشتے جو اس کے دائیں بائیں اس کے اعمال لکھ رہے تھے ان میں سے ایک تو اس کا فر کو ہانکتا ہوا جہنم کی طرف لے جائے گا اور دوسرا فرشتہ اس کے تمام اعمال کا ریکارڈ لئے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ ہوگا۔ فرشتے کہیں گے کہ دنیا میں تیری آنکھوں پر غفلت کے پردے پڑے ہوئے تھے اور تو دیکھ کر بھی اور سن کر بھی اس کا یقین نہیں کرتا تھا آج غفلت کے سارے پردے تیری آنکھوں سے ہٹا دیئے گئے ہیں اور آج تیری نظریں ہر چیز کو صاف صاف دیکھ رہی ہیں۔ جو فرشتہ اس کے ساتھ رہتا تھا وہ اس کا نامہ اعمال سامنے رکھ کر کہے گا کہ یہ ہیں تیرے وہ اعمال اور کرتوت جنہیں تو دنیا میں کیا کرتا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان جیسے تمام نافرمانوں کو جہنم میں جھونک دینے کا حکم دیں گے جو (1) حق آنے کے باوجود اس کا انکار کیا کرتے تھے۔ (2) اللہ کی ناشکری جن کا شیوہ بن چکا تھا۔ (3) وہ ہر بھلائی کے راستے سے دوسروں کو روکتے تھے۔ (4) غرور وتکبر کا پیکر بنے ہوئے تھے۔ (5) حد سے نکل جانے والے تھے) ۔ (6) ہر چیز میں شکو شبہ پیدا کرتے تھے۔ (7) ایک اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے تھے۔ حکم ہوگا کہ آج ان کو جہنم میں جھونک دو ۔ اللہ تعالیٰ شیطان سیفرمائیں گے کہ کیا تو نے ان کو بہکایا تھا۔ وہ کہے گا کہ الہیٰ ! میں نیان کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ وہ تو خود ہی گمراہی کو اپنے گلے میں ڈالے پھرتے تھے۔ ادھر کفار شیطان پر الزام لگاتے ہوئے کہیں گے کہ ہمیں اس نے بہکایا تھا اس کو پوری پوری سزادی جائے اور ہمیں معاف کردیا جائے۔ جب ان دونوں میں جھگڑا بڑھ جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اب آپس میں جھگڑنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں نے تو اپنے پیغمبروں کے ذریعہ تمہیں پہلے ہی آگاہ اور خبردار کردیا تھا اور تمہیں اپنے فیصلے سے مطلع بھی کردیا تھا۔ وہ میرا فیصلہ اٹل اور ناقابل تبدیل ہے۔ ہم کسی پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں کیا کرتے۔
Ayahs 50:30–35

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

وہ دن (کتنا ہیبت ناک ہوگا) جب ہم جہنم سے کہیں گے کہ کیا تو بھرچکی ؟ وہ جہنم کہے گی کہ کیا کچھ اور بھی ہے ؟

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور تقویٰ والوں کے لئے جنت قریب کردی جائے گی جو ان سے دورنہ ہو گی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

(فرمایا جائے گا کہ) یہ وہ جنت ہے جس کا وعدہ ہر اس شخص سے کیا گیا تھا جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور (بندوں کے حقوق کی) حفاظت کرنے والا تھا۔

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو شخص رحمن کو دیکھے بغیر ڈرتارہا اور رجوع ہونے والا دل لے کر حاضر ہوا

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

(حکم دیا جائے گا کہ) سلامتی (عزت واحترام) کے ساتھ اس جنت میں داخل ہوجا جو ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے۔

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان جنتوں میں ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس سے اور زیادہ دیا جائے گا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 35 : ھل امتلات (کیا تو بھر گئی) ازلفت (قریب لائی گئی) ‘ اواب (جھکنے والا) ‘ الخلود (ہمیشہ رہنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 35 : جب میدان حشر میں ہر شخص کے اعمال کے مطابق فیصلہ کردیا جائے گا۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو جہنم میں داخل ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگی کہ جہنم پکار اٹھے گی کہ کیا ابھی اور اللہ کے نافرمان ہیں جنہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا ؟ مفسرین نے اس کے معنی یہ بھی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود ہی جہنم سے سوال فرمائیں گے کہ کیا اب بھی جہنم میں اور جگہ موجود ہے ؟ کیا اس کے علاوہ اور بھی جہنم والے ہیں۔ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے کہ دوزخیوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا پھر اس جہنم کو بند کر کے اوپر سے ڈھانپ دیا جائے گا۔ اسکے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ و رسول کی اطاعت میں گذاری ہوگی ان کو ایسی جنت میں داخل کیا جائے گا جہاں ہر طرف راحتیں ہی راحتیں ہوں گی اور کسی طرح کا کوئی رنج و غم نہ ہوگا۔ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارنیوالوں کے لئے جنت کو سنوار اجائے گا اور رفشتے اس میں ان کا پر جوش استقبال کریں گے۔ وہ جنت میں جیسی بھی خواہش کریں گے وہ ان کو اسی وقت بغیر کسی رکاوٹ کے عطا کردی جائے گی۔ اہل جنت کو سب سے بڑی نعمت ” دیدار الہی “ نصیب ہوگا۔ اور دیدار بھی اس شان کے ساتھ کہ درمیان سے ہر پردے کو ہٹا کر بےحجابانہ زیارت نصیب ہوگی۔ بعض روایات کے مطابق ہر جمعہ کو اللہ تعالیٰ کی ایسی زیارت نصیب ہوگی کہ دیدار الٰہی کے انوارات میں ہر شخص گم ہو کر رہے جائے گا۔ کفار و مشرکین اور اللہ کے نافرمانوں کو جہنم تک پہنچنے میں ایسا لگے گا جیسے کسی پہاڑ پر چڑھ رہے ہیں لیکن اہل جنت کے لئے جنت کو اتنا قریب کردیا جائے گا کہ جنت میں پہنچنے کی مسافت اور فاصلہ کا احساس تک نہ ہوگا اور وہ پورے احترام کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ یوں تو اہل جنت کی بہت سی خصوصیات ہوں گی اس جگہ خاص طور پر چار صفات کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اواب ‘ حفیظ ‘ خشی الرحمن اور قلب منیب۔ 1۔ اواب : ہر اس شخص کو کہتے ہیں جو شیطانی وسوسوں کے باوجود محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اپنی ہر خواہش کو چھوڑ کر ہر اس بات کو اختیار کرتا ہے جس میں اللہ و رسول کی اطاعت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ دن رات اپنے گناہوں پر شرمندگی کا احساس کرتے ہوئے توبہ و استغفار کرتارہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے تمام گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے اور اس کو جنت کا مستحق بنادیتا ہے۔ 2۔ حفیظ : جو کسی حال میں اپنے صغیرہ کبیرہ گناہوں کی تلافی کے لئے مخلصانہ کوششوں سے غافل نہ رہتا ہو۔ 3۔ خشی الرحمن : جو ہر وقت اس احساس کو زندہ رکھتا ہو کہ اللہ بڑا رحیم وکریم ہے وہی اپنے بندوں پر بےانتہا رحمتیں نازل کرتا ہے لیکن اس تصور سے کا نپتا اور ڈرتا رہتا ہو کہ کہیں وہ اللہ کے قہر کا شکار نہ ہوجائے۔ 4۔ قلب منیب : ایس دل جس میں اپنے نفسانی جذبوں کو چھوڑ نے اور نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ و رسول کے ادب و احترام کا بےپایاں خیال غالب رہے۔ صحیح عقیدہ اور اللہ کی طرف رجوع رہنے والا دل ہو۔ ایسا دل جس میں نیکیوں کی محبت اور گناہوں سے نفرت اور توبہ و استغفار جس کا شعار ہو۔ ایسا دل جو ہر طرف سے کٹ کر محض اللہ کی رضا و خوشنودی کا طالب ہو۔ اہل جنت کی یہ چار صفات ہیں جو ان کو جنت کا مستحق ثابت کردیں گی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں نازل ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر بھی ان صفات کو پیداکر کے ہمیں جہنم سے نجات اور جنت کا مستحق بنادے ۔ آمین
Ayahs 50:36–40

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم (ان کفار مکہ سے پہلے) بہت سی (نافرمان) قوموں کو تباہ کرچکے ہیں جو ان سے زیادہ طاقت و قوت والی تھیں۔ پھر وہ شہروں میں (فریاد کرتے) پھرے کہ ان کے لئے کوئی پناہ کی جگہ ہے ؟

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

بیشک اس میں ہر اس شخص کے لئے عبرت و نصیحت ہے جو دل رکھتا ہے یا جو پوری توجہ سے بات کو سنتا ہے۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ اور ہمیں اس کام نے تھکایا نہیں ہے

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ وہ کفار جو کچھ بکواس کرتے ہیں اس پر صبر کیجئے اور) اپنے رب کی حمد کے ساتھ سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات میں بھی اور سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی تسبیح کیجئے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 40 : نقبوا (وہ بھاگے دوڑے) محیص ( پناہ کی جگہ) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) مامسنا ( ہم کو نہیں چھوا) ‘ لغوب (تھکاوٹ۔ تھکن) ‘ ادبار ( پیچھے۔ بعد میں) ۔ تشریح : آیت نمبر 36 تا 40 : اعلان نبوت کے بعد وہی لوگ جو نبی کریم ﷺ کو بہت چاہتے تھے اس طرح آپ کے دشمن بن گئے کہ آپ کا اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کا مکہ میں رہنا دشوار ہوگیا اور ان مکہ کی سرزمین کو تنگ کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے قوموں کے ابھرنے ‘ عروج و ترقی تک پہنچنے اور نافرمانیوں کی وجہ سہ مٹ جانے کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حق و صداقت کے راستے پر چلنے والوں کو پورے عزم و یقین کے ساتھ صبر کرتے رہنا چاہیے کیونکہ سچائی کے اس کلمے کو بلند کرنے میں لوگوں کی بےحسی ‘ بد اخلاقی کو برداشت کر کے کڑوے گھونٹ پینا ہی پڑتے ہیں۔ اگر اتنا کچھ سمجھا نے کے باوجود قوم اپنی بداعمالیوں کا راستہ نہیں چھوڑتی تو پھر وہ قہر الہی کی زد میں آجاتی ہے۔ فرمایا کہ یہ مکہ کے لوگ جس طاقت و قوت پر ناز کررہے ہیں ان سے پہلے گذری ہوئی قومیں ان سے بہت زیادہ طاقت و قوت اور دنیا کے وسائل رکھتی تھیں لیکن جب انہوں نے نافرمانیوں کی انتہا کردی تب ان پر اللہ کا فیصلہ آگیا اور پھر انہیں دنیا کے کسی کونے میں بھی پناہ نصیب نہ ہوئی۔ فرمایا کہ یہ تاریخ انسانی کے سچے واقعات ہیں جن سے عرب کے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ ان ظالم قوموں کے کھنڈرات کے پاس سے گذرتے رہتے ہیں لیکن عبرت حاصل نہیں کرتے اور اپنے انجام پر غور نہیں کرتے۔ فرمایا کہ انسانی تاریخ کے ان واقعات سے وہی لوگ عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں جن میں سوچنے اور سمجھنے کی اہلیت و صلاحیت زندہ ہوتی ہے لیکن جو لوگ بےحس ہوچکے ہوں اور وہ کسی بات کو سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے اور غلط عقیدوں کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں وہ بہت جلد اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ نے اس زمین و آسمان یعنی کائنات کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور ساتویں دن تھکن کی وجہ سے اس نے آرام کیا (نعوذ باللہ) ۔ فرمایا کہ بیشک اللہ نے اس کائنات کو چھ دنوں میں بنایا لیکن ساتویں دن اس نے آرام نہیں کیا ۔ وہ تھک کر نہیں بیٹھ گیا کیونکہ وہ لوگوں کی طرح ہاتھ پیر سے محنت نہیں کرتا کہ کچھ کام کرکے تھک جائے بلکہ جس کام کو وہ کرنا چاہتا ہے اس کے لئے کہتا ہے ” کن “ ہوجا اور وہ چیز اسی وقت وجود اختیار کرلیتی ہے۔ اب اس نے کائنات کو بتدریج بنایا ہے یہ اس کی مصلحت ہے لیکن تھک جانا یہ تو انسانی عادت ہے جس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ فرمایا کہ آپ ان کفار یہودیوں اور نصاری کی اذیتوں پر صبر کیجئے۔ تحمل اور برداشت سے کام لیجئے ‘ صبح و شام اور رات کے اندھیروں میں اور دن کی روشنی میں اللہ کی حمد وثنا کیجئے۔ دین اسلام کے مخالف جو اسلام کو مٹانا چاہتے ہیں یہ خود ہی مٹ کر رہ جائیں گے۔ آپ اور آپ کے صحابہ ؓ اس کلمہ حق کو بلند کرتے رہیں ان کفار سے اللہ خود نبٹ لے گا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کا خلاصہ یہ ہے کہ مکہ کے کفار جن نافرمانیوں اور رسول دشمنی میں لگے ہوئے ہیں انہیں یادرکھنا چاہیے کہ ان سے پہلے وہ زبردست قوت اور طاقت رکھنے والی قومیں گذری ہیں جنہیں اللہ کے پیغمبروں نے ہر طریقے پر سمجھایا اور کفر و شرک سے بازرکھنے کی تلقین کی لیکن وہ اپنی بد مستیوں میں اللہ کے پیغمبروں کی باتوں کو ٹکھراتے رہے۔ آخر کار ان پر اللہ کا فیصلہ آگیا اور انہوں نے شہر شہر گھومنے اور پناہ کی جگہ تلاش کرنے میں اپنی ساری صلاحیتوں کو لگا دیا لیکن ان کو کسی جگہ بھی پناہ نصیب نہ ہوسکی۔ ان تمام واقعات سے اہل عرب اچھی طرح واقف تھے ان کے تباہ کئے گئے کھنڈرات سے اکثر گذرتے تھے مگر سب کچھ دیکھ کر بھی وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرتے تھے اور اپنے بدترین انجام سے غافل تھے۔ فرمایا بات یہ ہے کہ ان کے پاس وہ نگاہیں نہیں ہیں جو انپے انجام کو دیکھ سکیں وہ عقل وفکر نہیں جس سے وہ سوچ سکیں۔ جن کے پاس نگاہیں اور دل ہوتے ہیں وہی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ کفار و مشرکین ‘ یہودو نصاری جو بھی بکواس کرتے ہیں آپ اس کی پرواہ نہ کیجئے بلکہ صبر و تحمل اور برداشت سے اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی جدوجہد کرتے رہیے اور صبح و شام سورج نکلنے سے پہلے ‘ سورج ڈوبنے سے پہلے ‘ کچھ رات کے اندھیروں میں اور کچھ سجدوں سے فارغ ہوکر اللہ کی حمد وثنا کیجئے۔ کسی کی پرواہ نہ کیجئے۔ اللہ آپ پر اپنی رحمتیں نازل کرتا رہے گا اور دشمنان اسلام ہی گذشتہ قوموں کی طرح بےنام ونشان ہو کر رہ جائیں گے کیونکہ اللہ کا یہی دستور ہے۔