50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 50:1

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق ، قسم ہے قرآن مجید کی۔

درس نمبر 247 ایک نظر میں یہ اس سورت کا پہلا سبق ہے۔ اس کا موضوع مسئلہ بعث بعد الموت ہے۔ مشرکین مکہ اس کا انکار کرتے تھے بلکہ جو لوگ بعث بعد الموت کے قائل تھے وہ ان کی جانب سے یہ عقیدہ رکھنے پر تعجب کرتے تھے۔ لیکن قرآن صرف ان کے اس غلط خیال ہی کو موضوع بحث نہیں بناتا۔۔۔۔ ۔ انکار پر بحیثیت مجموعی تنقید کرتا ہے اور ان کی اصلاح کر کے اور ان کی کج فکری کو درست کر کے ان کو سچائی کی راہ کی طرف لوٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن کریم کی سعی یہ ہے کہ ان کے غافل دلوں کو جھنجھوڑے اور خوب جگائے تا کہ وہ اس کائنات کے اندر جو عظیم حقائق ہیں ، ان کو سمجھنے کے لئے اپنے دل کے دروازے کھولیں ۔ اس لیے قرآن کریم محض منطقی انداز مناظرہ میں ان کے ساتھ موضوع بعث بعد الموت پر کوئی مباحثہ نہیں کرتا ۔ وہ صرف ان کے مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے۔ ان کے زنگ آلود دماغ کو صیقل کرتا ہے کہ وہ غور وفکر سے کام لیں۔ وہ ان کے وجدان کو چھوتا ہے تا کہ اس کے اندر احساس تیز ہو اور وہ اپنے ماحول کے اندر پائے جانے والے حقائق سے براہ راست متاثر ہو سکے۔ یہ ایک ایسا سبق ہے جس سے وہ لوگ خوب استفادہ کرسکتے ہیں جن کا کام دلوں کی اصلاح کرنا ہو۔ سورت کا آغاز حرف ق اور قرآن مجید کی قسم سے ہوتا ہے ، مطلب یہ کہ یہ قرآن مجید تو ایسے ہی حروف سے مرکب ہے اور لفظ قرآن کا پہلا حرف ہی قاف ہے۔ ٭٭٭٭٭ یہاں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ کس بات پر قسم اٹھائی جا رہی ہے۔ یہ قسم کلام کے آغاز میں ہے۔ اس کا پہلا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے کلام کا آغاز قسم سے کر رہا ہے ، لہٰذا بیدار ہوجاؤ، معاملہ غیر معمولی ہے۔ اللہ اور قسم ، لہٰذا معاملہ خطرناک ہے۔ شاید اس آغاز کا مقصد یہی ہے کیونکہ بجائے اس کے کہ بعد میں وہ بات ذکر کی جائے جس کے لئے قسم اٹھائی جا رہی ہے ، حرف اضراب “ بل ” کو لایا گیا ہے۔ کیونکہ قسم نے مخاطب پر خوب اثر ڈال دیا۔ اس لیے اب ان کے تعجب اور بعث بعد موت کو ایک “ انہونی بات سمجھنے ” کے موضوع کو لیا جاتا ہے ، اس اندز میں کہ گویا مشرکین کے سامنے جب رسول اللہ ﷺ نے دوبارہ اٹھائے جانے کی بات کی تو انہوں نے اس کا یوں انکار کردیا گویا کفار کے نزدیک یہ ایک نئی بات ہے۔
Ayah 50:2

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ ان لوگوں کو تعجب اس بات پر ہوا کہ ایک خبردار کرنے والا خود انہی میں سے ان کے پاس آگیا۔ پھر منکرین کہنے لگے : “ یہ تو عجیب بات ہے

بل عجبوا ان ۔۔۔۔۔ شییء عجیب (2) ء اذا متنا ۔۔۔۔۔۔ رجع بعید (50 : 2 تا 3) “ بلکہ ان لوگوں کو تعجب اس بات پر ہوا کہ ایک خبردار کرنے والا خود انہی میں سے ان کے پاس آگیا۔ پھر منکرین کہنے لگے : “ یہ تو عجیب بات ہے ، کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک ہوجائیں گے (تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے) ؟ یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے ”۔ کیا یہ بات قابل تعجب ہو سکتی ہے کہ ایک ڈرانے والا ان میں سے آگیا ۔ اس میں تو کوئی تعجب نہیں بلکہ یہ تو بالکل ایک قدرتی بات ہے اور فطرت سلیمہ اسے بڑی سادگی اور خوشی خوشی قبول کرتی ہے۔ یہ نہایت ہی معقول بات ہے کہ لوگوں کا مصلح اپنی قوم میں سے ہو ، لوگون کے احساسات میں ، ان کے ساتھ شریک ہو ، انہی جیسا شعور رکھتا ہو ، ان کی زبان بولتا ہو ، ان کی زندگی اور ان کی دوڑ دھوپ اور غم درد میں شریک ہو ، ان کے میلانات اور جذبات کو جانتا ہو ، ان کی طاقت اور حد برداشت سے واقف ہوتا کہ وہ انہیں بتلائے کہ جس شرک ، ظلم اور بد عملی میں وہ مبتلا ہیں ، اس کے نتیجے میں بہت ہی برا انجام ان کے انتظار میں ہے اور تا کہ ان کو سکھائے کہ انہوں نے کس طرح سیدھا راستہ اختیار کرنا ہے۔ اور جدید دعوت کو اگر وہ قبول کرلیں تو انہیں اپنے اندر کیا کیا تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ اور ان تبدیلیوں اور فرائض اور ذمہ داریوں میں وہ پہلا شخص ہوگا اور ان کے ساتھ شامل ہوگا۔ ان کو خود رسالت پر تعجب تھا۔ پھر جو رسول آیا اس نے اپنی دعوت میں سے عقیدہ بعث بعد الموت پر زیادہ زور دینا شروع کردیا۔ کیونکہ اسلامی نظام کا دارومدار ہی آخرت کی جواب دہی کے عقیدے پر ہے۔ آخرت کی جوابدہی کے عقیدے ہی کے تمام مطلوبہ اعمال تقاضے ہیں۔ مسلم کا پہلا فریضہ ہی یہ ہے کہ وہ حق پر قائم ہو اور باطل کو نیچا دکھائے۔ وہ خیر کو لے کر اٹھے اور شرکا خاتمہ کر دے۔ اس کی پوری سرگرمی اللہ کی بندگی ہو۔ وہ ہر حرکت میں اللہ کی طرف متوجہ ہو ، اور تمام اعمال پر اس کے لئے جزاء ضروری ہے۔ کبھی تو یہ جزاء دنیا ہی میں ملتی ہے لیکن پوری جزاء صرف آخرت ہی میں مل سکتی ہے۔ ہر انسان کا آخری حساب و کتاب آخرت میں ہوگا۔ لہٰذا عالم آخرت نہایت منطقی اور ضروری ہے۔ لوگوں کو اٹھایا جانا ضروری ہے کہ وہ زندگی کا حساب دیں۔ جب کسی کے ذہن سے آخرت کی جوابدہی کا احساس ہی ختم ہوجائے تو اس شخص کی زندگی سے وہ تمام اعمال و اخلاق ناپید ہوجاتے ہیں جو اس عقیدے پر مبنی ہوں۔ ایسا شخص کم از کم ایک مسلمان ہرگز نہیں ہو سکتا۔ لیکن ان لوگوں نے اس مسئلے کو اس زاویہ سے نہیں دیکھا ۔ انہوں نے بالکل ایک دوسرے زاویہ سے اور بالکل ایک سادہ نقطہ نظر سے دیکھا ۔ اس سلسلہ میں انہوں نے موت وحیات کی حقیقت پر بالکل غور نہیں کیا اور نہ انہوں نے اللہ کے نظام قضا وقدر کے کسی پہلو پر غور کیا۔ اس لئے وہ اس کے قائل ہوئے ۔
Ayah 50:3

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

“ ، کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک ہوجائیں گے (تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے) ؟ یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے۔

ء اذا متنا وکنا ترابا ذلک رجع بعید (50 : 3) ” کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک ہوجائیں گے ! یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے “۔ ان کی نظروں کی میں مسئلہ یہ ہے کہ مرنے اور خاک ہوجانے کے بعد زندگی کا دوبارہ پیدا ہونا مستعبد ہے اور یہ ایک نہایت ہی سادہ نظریہ ہے۔ کیونکہ ایک دفعہ جب مردہ مٹی میں زندگی ڈال دی گئی ہے تو دوبارہ مٹی میں اسی طرح زندگی ڈالنا کیا مشکل کام ہے جبکہ یہ معجزہ ان کے سامنے ہر لحظہ رو بعمل ہوتا رہتا ہے۔ اور اس کائنات کے ہر پہلو میں ہو رہا ہے۔ اس سورت میں قرآن کریم نے ان کو اس نکتے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ لیکن قبل اس کے کہ زندگی کی اس نمائش گاہ کے بارے میں ہم قرآن مجید کے اشارات اور تکوینی دلائل پر کوئی بات کریں۔ مناسب ہے کہ مرنے اور مٹی ہونے کی طرف انہوں نے جو اشارہ کیا اور جسے قرآن نے نقل کر کے اس پر تبصرہ کیا ، اس پر ذرا غور کریں۔ ء اذا متنا وکنا ترابا (50 : 3) ” کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک ہوجائیں گے “۔ ہاں ہم مر جائیں اور مٹی بھی ہوجائیں گے جو بھی قرآن کے ان الفاظ کو پڑھتا ہے جو قرآن نے کفار کے منہ سے لیے ہیں ، وہ اپنی ذات پر نگاہ ڈالتا ہے اپنے اردگرد دوسرے زندہ اشیاء کو دیکھتا ہے۔ اور وہ موت اور مٹی ہونے کے عمل پر ضرور غور کرتا ہے بلکہ جب وہ زندہ ہوتا ہے اور پھر رہا ہوتا ہے تو بھی وہ محسوس کرتا ہے کہ شاید مٹی ہونے کا عمل اس کے جسم میں جاری ہوچکا ہے۔ غرض موت کے سوا اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا تصور انسان کا دل ہلانہ دیتا ہو اور پھر قبر میں مٹی ہوجانے کے تصور ہی سے انسان کانپنے لگتا ہے۔
Ayah 50:4

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

(حالانکہ) زمین ان کے جسم میں سے جو کچھ کھاتی ہے وہ سب ہماری علم میں ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے۔

اس پر جو تبصرہ قرآن کرتا ہے وہ اس اثر کو مزید گہرا کردیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ زمین اس جسم کو آہستہ آہستہ کھاتی ہے۔ قد علمنا ما۔۔۔۔۔ کتب حفیظ (50 : 4) ” ( حالانکہ ) زمین ان کے جسم میں سے جو چکھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے “۔ انداز تعبیر ایسا اختیار کیا گیا ہے کہ زمین کو زندہ اور متحرک کردیا گیا ہے اور وہ ان اجسام کو کھا رہی ہے جو اس کے منہ میں آہستہ آہستہ غائب ہو رہے ہیں۔ اور یہ زمین ان اجسام کو کھا رہی ہے ، نہایت آہستگی کے ساتھ۔ اور پھر ان کے اجسام کو یوں دکھایا گیا ہے کہ وہ تسلسل کے ساتھ کھائے جا رہے ہیں۔ زمین ان کے جسم کے جس حصے کو کھاتی ہے ، اسے اللہ جانتا ہے اور وہ لکھا جا رہا ہے کہ وہ حصہ کہا ہے۔ اس لئے ان کے جسم کے ذرے ، مرنے کے بعد کہیں گم نہیں ہوجاتے۔ رہی یہ بات کہ اس مٹی میں روح کس طرح ڈال دی جائے گی تو یہ بات تو ایک بار ہوچکی ہے ۔ اور ان کے اردگرد جو لاتعداد زندہ اشیاء پیدا کی جا رہی ہیں اور جن کی کوئی انتہا نہیں ہے ان کو تو وہ دیکھ رہے ہیں۔ یوں دلوں کو اس قدر تیز احساس دلایا جاتا ہے یہاں تک کہ یہ دل پگھل جاتے ہیں اور نرم ہوجاتے ہیں اور ان کے اندر احساس کو اس قدر تیز احساس دلایا جاتا ہے یہاں تک کہ یہ دل پگھل جاتے ہیں اور نرم ہوجاتے ہیں اور ان کے اندر احساس کو اس قدر تیز کردیا جاتا ہے کہ وہ بات کو جلدی مانتے ہیں۔ یہ بطور تمہید اصل مقصود بالذات بات کہنے سے پہلے کیا جاتا ہے۔
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ ان لوگوں نے تو جس وقت حق ان کے پاس آیا اسی وقت اسے صاف جھٹلا دیا۔ اسی وجہ سے اب یہ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔

اس کے بعد ان کی شخصیت کا تجزیہ کر کے بتایا جاتا ہے اور وہ اصل سبب بتایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ وہی اعتراضات وہ کرتے ہیں یہ کہ انہوں نے سچائی کا مضبوط پلیٹ فارم چھوڑ دیا ہے ، ان کے پاؤں کے نیچے زمین ہی نہیں ہے۔ اس لیے یہ کسی موقف پر جم ہی نہیں سکتے۔ بل کذبوا بالحق لما جاءھم فھم فی امر مریج (50 : 5) “ بلکہ ان لوگوں نے تو جس وقت حق ان کے پاس آیا اسی وقت اسے صاف جھٹلا دیا۔ اسی وجہ سے اب یہ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یہ بھی ایک نہایت منفرد انداز تعبیر ہے۔ جو لوگ مستقل سچائی کو ترک کرتے ہیں تو پھر ان کے قدم کسی جگہ نہیں جم سکتے۔ سچائی ایک ایسا نقطہ ہے جس پر وہ شخص قائم ہوتا ہے جو سچائی پر ایمان لاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے قدموں میں کوئی لغزش نہیں ہوتی ۔ اس روش میں اضطراب نہیں ہوتا کیونکہ اس کے قدموں کے نیچے زمین مضبوط ہوتی ہے۔ اس میں کوئی زلزلہ نہیں آتا اور نہ اس کا کوئی حصہ زمین میں دھنستا ہے جبکہ اس کے ماحول کے دوسرے افراد ڈانواں ڈول ، مضطرب ، بےثبات اور دولت یقین سے محروم ہوتے ہیں۔ نہ ان میں کوئی مضبوط کردار ہوتا ہے اور نہ وہ مشکلات برداشت کرسکتے ہیں۔ جس نے بھی حق سے تجاوز کرلیا اور ادھر ادھر ہوگیا ، وہ پھسل گیا۔ اور ثبات وقرار سے محروم ہوگیا۔ اور اسے کبھی اطمینان نہ ہوگا۔ وہ ہر وقت شک ، پریشانی اور بےچینی میں مبتلا رے گا۔ پھر جو شخص سچائی کو چھوڑ دے تو ہر طرف سے خواہشات نفس کی آندھیاں چلنا شروع ہوجاتی ہیں ۔ میلانات و خواہشات ، بدلتی ہوئی خواہشات ، اسے کسی ایک جگہ ٹکنے نہیں دیتیں ۔ حیران و پریشان ، افتاں و خیزاں کبھی ادھر دوڑتا ہے ، کبھی ادھر بھاگتا ہے۔ جہاں کھڑا ہوتا ہے وہاں مطمئن نہیں ہوتا۔ پاگلوں کی طرح کبھی دائیں ، کبھی بائیں ، کبھی آگے کبھی پیچھے دوڑتا رہتا ہے۔ اس کے لئے کوئی جائے امن وقرار نہیں ہوتی۔ یہ ایک عجیب انداز بیان ہے کہ وہ ” امر مریج “ میں پھنسا ہوا ہے ۔ ایسی حالت میں جس میں الجھن ہو اور وہ فیصلہ نہ کرسکتا ہو اور دائمی خلجان میں گرفتار ہو۔ انداز بیان ایسا ہے کہ ایسے شخص کی اندرونی کیفیات کو اس کی حرکات ظاہر کر رہی ہیں اور لوگ اسے دیکھ رہے ہیں۔
Ayah 50:6

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

اچھا ، تو کیا انہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا ، اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے۔

مضمون یہ چل رہا تھا کہ یہ لوگ بعث بعد الموت اور حشر ونشر کے قائل نہ تھے۔ اس کے لئے بتایا گیا تھا کہ اس کے لئے یہی ثبوت کافی ہے کہ اس کائنات کی بنیاد حق پر ہے جو اس کے اندر جما ہوا ہے اور پہاڑ کی طرح بلند نظر آتا ہے۔ لہٰذا اب یہاں اس کائنات کے اندر پائے جانے والے حق کے بعض مناظر پیش کئے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ذرا آسمانوں اور زمین پر غور کرو ، زمین کے اندر جمے ہوئے پہاڑوں کو دیکھو۔ آسمانوں سے برسنے والی بارشوں کو دیکھو ، بلندیوں تک بڑھنے والے کھجور کے درختوں کو دیکھو ، با غات و نباتات کو دیکھو ، یہ سب حق کی علامات ہیں۔ جس طرح یہ چیزیں مستقل ہیں ، حق بھی مستقل ہے۔ نہایت ہی خوبصورت انداز میں تعبیر میں سچائی کی یہ مثالیں۔ افلم ینظروا الی ۔۔۔۔۔۔۔ من فروج (50 : 6) “ اچھا ، تو کیا انہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا ، اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے “۔ یہ آسمان اس کائنات کی کتاب کا ایک صفحہ ہے۔ یہ کتاب اس سچائی پر گواہ ہے جس کا یہ لوگ انکار کرتے ہیں۔ یہ دیکھتے نہیں کہ اس کائنات میں کس قدر بلندی ، ثبات اور قرار ہے ۔ اور پھر ان آسمانوں میں زیب وزینت اور کمال و جمال ہے اور ان کے نظام میں کوئی خلل اور کوئی اضطراب نہیں ہے۔ ثبات اور کمال و جمال آسمان کی صفت ہے اور یہ صفات یہاں انداز بیان کے اندر بھی ایک ہم آہنگی پیدا کرتی ہے کیونکہ حق میں بھی کمال و جمال اور ثبات وقرار ہوتا ہے۔ چناچہ آسمانوں کے لئے جمیعت ، خوبصورتی ، دوام اور سوراخوں اور دراڑوں سے پاک ہونے کی صفات لائی گئی ہیں۔
Ayah 50:7

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اگادیں۔

ایسی ہی صفات زمین کے لئے استعمال ہوئی ہیں کیونکہ زمین بھی اس کائنات کی کتب کا ایک سور ہے۔ اور اسے ثبات اور کمال و جمال اور قرار حاصل ہے۔ زمین کو آسمانوں کے بالمقابل لایا گیا۔ والارض مددنھا ۔۔۔۔۔ کل زوج بھیج (50 : 7) ” اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اگادیں ”۔ زمین کا بچھایا ہوا ہونا ، پہاڑوں کا جما ہوا ہونا اور نباتات کا خوبصورت ہونا ، تمام صفات کمال و جمال دکھانے والی چیزیں ہیں اور بادی النظر میں یہ صفات نظر آتی ہیں۔ آسمان کی خوبصورت اور طویل و عریض تعمیر ، اور بچھی ہوئی زمین اور بلند وبالا پہاڑوں کے مناظر دکھا کر ان لوگوں کے دل و دماغ کو ایک نکتے کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔
Ayahs 50:8–9

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اس بندے کے لئے جو (حق کی طرف) رجوع کرنے والا ہو

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور آسمان سے ہم نے برکت والا پانی نازل کیا ، پھر اس سے باغ اور فصل کے غلے اور بلند وبالا کھجور کے درخت پیدا کر دئیے

تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (50 : 8) ” یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اس بندے کے لئے جو (حق کی طرف ) رجوع کرنے والا ہو ”۔ یہ بصیرت عطا کرنے والی باتیں ہیں۔ بصارت دینے والی باتیں ہیں اور دلوں کو قبولیت حق کے لئے کھولنے والی باتیں ہیں۔ اس مطالعہ سے انسانی دل و دماغ اور انسانی روح اس کائنات کے ساتھ جڑ جاتی ہے اور اس حکمت ، تربیت اور کمال تخلیق کو پا لیتی ہے جو اس کے اندر موجود ہے اور پھر جن لوگوں کا دل اپنے معبود کی طرف مائل ہوتا ہے وہ اپنے رب کے کمالات کو دیکھ کر لوٹ جاتا ہے۔ یوں انسانی دل اور اس عظیم اور خوبصورت کائنات کے درمیان اتحادو اتصال پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان کتاب کائنات کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کائنات سے متعارف ہوتا ہے اور انسانی دل اور انسانی سوچ پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ اور انسانی زندگی پر یہ تعلق اور رابطہ اثر انداز ہوتا ہے اور یہ وہ روابطہ ہے جو قرآن سائنس اور معرفت الٰہی کے درمیان پیدا کرتا ہے۔ یعنی اس معرفت کے درمیان جو انسان رکھتا ہے اور اس حقیقت کے درمیان جو سائنسی علم رکھتا ہے اور ہمارے دور میں علم کا جو سائنسی منہاج مروج ہے اس میں یہ حقیقت نہیں ہے۔ یہ رابطہ نہیں ہے۔ یوں اللہ نے انسانوں اور اس کائنات کے درمیان جس کے اندر وہ رہتے ہیں ایک تعلق پیدا کیا تھا اور جدید دور کے اہل علم اور سائنس دانوں نے یہ تعلق کاٹ دیا ہے۔ انسان اس کائنات کا حصہ ہے اور جب تک وہ اس کائنات کا ہمدم نہیں ہوگا اس وقت تک اس کی زندگی نہ مستحکم ہو سکتی ہے نہ مستقیم ۔ اور جب تک اس کے دل کی دھڑکن اور اس کائنات کی حرکت کے اندر ہم آہنگی نہ ہوگی ، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ستاروں اور سیارو ، آسمانوں اور فضاؤں ، نباتات اور حیوانات اس کائنات اور اس کی وسعتوں کے اندر انسان جس قدر بھی نئی دریافت کرے۔ وہ دریافت دل سے ہم آہنگ ہو۔ اور انسان اس نئی دریافت کردہ دنیا کا دوست ہو اور اس طرح وہ اس نتیجے تک پہنچے کہ انسان اور اس کائنات کا آخری خالق اور سبب اللہ تعالیٰ ہے۔ جب تک علم ، دریافت اور معرفت کی آخری منزل ، خالق کی منزل تک نہ پہنچ سکے اسے سمجھاجائے کہ وہ علم ناقص ہے۔ ایسی ہر تحقیق اور ایسی ہر تحقیق کے ہر نتیجہ بانجھ ہے ، بےمقصد ہے اور انسان کے لئے غیر مفید ہے۔ یہ کائنات سچائی کی کھلی کتاب ہے جسے ہر زبان میں پڑھا جانا ہے اور ہر ذریعہ سے اس کا ادراک کیا جاتا ہے۔ اسے ایک خیمے اور جھونپڑی کا باشندہ بھی پڑھ سکتا ہے اور نہایت ہی تعلیم یافتہ اور محلات میں رہنے والا بھی پڑھ سکتا ہے۔ ہر شخص اپنے قوت ادراک کے مطابق اسے پڑھتا ہے۔ ” ہر کسے از غن خود شد یاد من “ اسے اپنی صلاحیت کے مطابق اس کے اندر حق نظر آتا ہے۔ بشرطیکہ وہ اسے اس نیت سے پڑھ رہا ہو کہ وہ حق اور سچائی تک پہنچ جائے۔ یہ کتاب ہر حال میں قائم ہے اور ہر کسی کے سامنے کھلی ہے۔ تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (50 : 8) ” یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور نصیحت دینے والی ہر اس شخص کے لئے جو سچائی کا متلاشی ہو ”۔ لیکن جدید سائنسی علوم کو اس طرح مرتب کیا گیا ہے کہ ان سے یہ تبصرہ اور آنکھیں کھول دینے کی صلاحیت کو ختم کردیا گیا ہے ۔ انسان کے دل اور اس کی روح کا تعلق اس کائنات سے کاٹ دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ علم ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کے دل اندھے ہیں۔ اور ان کے سروں پر نام نہاد سائنسی انداز فکر سوار ہے۔ اور یہ سائنسی اندازیہ ہے کہ کائنات کا تعلق انسان کی روح سے کاٹ دیا جائے۔ لیکن کائنات کا ایمانی مطالعہ ان لوگوں کے نام نہاد سائنسی انداز میں بہرحال کوئی کمی نہیں کرتا بلکہ وہ اس پر یہ وظیفہ کرتا ہے کہ یہ کائناتی حقائق ایک دوسرے سے بھی مربوط ہیں اور پھر یہ حقائق ایک حقیقت کبریٰ سے بھی مربوط ہیں اور ان حقائق کو اس حقیقت کبریٰ سے مربوط کر کے پھر تمام حقائق کو انسانی ادراک اور انسانی شعور اور انسانی روح کے ساتھ یوں پیوست کرتا ہے کہ یہ انسان کو متاثر کریں۔ انسان کی زندگی کو متاثر کریں۔ یہ محض خشک معلومات ہی نہ ہوں جو ذہنوں میں دفن ہوں اور عملی زندگی میں ان کا کوئی مقصد نہ ہوگا بلکہ ان کو عملی زندگی پر ایمان کے راستے سے اثر انداز ہونا چاہئے اور ہماری تمام تحقیقات اور انکشافات کو ایمان کے راستے سے حقیقت کبریٰ سے جڑ کر انسان کی عملی زندگی پر اثر انداز ہونا چاہئے۔ اس طرح اس نکتے کی طرف توجہ مبذول کرانے کے بعد اب بحث اس کتاب کائنات کے اندر آگے بڑھتی ہے۔ پیش نظر یہی مضمون ہے کہ موت کے بعد حشر ونشر ہوگا اور حساب و کتاب ہوگا۔
Ayah 50:10

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

جن پر پھلوں سے لڈے ہوئے خوشے تہ بہ تہ لگتے ہیں۔

آسمانوں سے جو پانی نازل ہوتا ہے وہ مردہ زمین کو زندہ کرنے سے بھی پہلے مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور اس کا نزول ہی دلوں پر بہت ہی اچھا اثر ڈالتا ہے ۔ نہ صرف یہ کہ چھوٹے بچے ہی بارش سے خوش ہوتے ہیں اور اس کے لئے دوڑتے ہیں اس میں اچھلتے کودتے ہیں بلکہ معمر ہوگ جن کے اندر احساس جمال ہو وہ بھی بارش کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور ان کے دل بھی بارش میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ بچے تو ہوتے ہیں چھوٹے ہیں۔ یہاں بارش کے پانی کو ماء مبارک کہا گیا ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مختلف قسم کے پھلوں کے باغات اور کٹنے والی کھیتیاں تیار فرماتا ہے اور اسی کے ذریعہ کھجوروں کے اونچے درخت اور ان کے پختہ پھلوں اور خوبصورت درختوں کو اگایا جاتا ہے۔ والنحل بسقت لھا طلع نضید (50 : 10) ” بلند وبالا کھجور کے درخت پیدا کر دئیے ہیں جن پر پھلوں سے لدے ہوئے خوشے تہ بہ تہ لگتے ہیں “۔ خوشوں کے لئے تہ بہ تہ کی صفت لائی گئی ۔ اس سے بلند وبالا درخت کی خوبصورت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ جس کے اوپر تہ بہ تہ خوشے لگے ہوئے نظر آئیں۔ مضمون اور معنی کے اعتبار سے بھی یہ الفاظ مناسب ہیں کیونکہ بات حق و سچائی کی ہو رہی ہے۔ حق بلند وبالا بھی ہوتا ہے اور خوبصورت بھی اور اس کا بول بھی بالا ہونا چاہئے۔ اور انسان پر یہ مہربانیاں کر کے ، انسانی دل کے اندر ممنونیت پیدا کی جا رہی ہے کہ دیکھو یہ شفاف پانی ، یہ باغ و راغ ، یہ کھیت اور حیوانات اور یہ آسمانوں سے باتیں کرنے والے پھلوں سے لدے کھجور کے درخت ، یہ سب کچھ۔
Ayah 50:11

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

یہ انتظام ہے بندوں کو رزق دینے کا ۔ اس پانی سے ہم ایک مردہ زمین کو زندگی بخش دیتے ہیں ۔ (مرے ہوئے انسانوں کا زمین سے ) نکلنا بھی اسی طرح ہوگا۔

رزقا للعباد (50 : 11) ” یہ انتظام ہے بندوں کو رزق دینے گا “۔ اس رزق کے اسباب اللہ کہاں سے چلا کر لاتا ہے۔ پھر نباتات اگاتا ہے ، پھر ثمرات لگاتا ہے ، یہ سب کچھ بندوں کے لئے۔ اور اللہ ہی صحیح آقا ہے اور اس کا پورا پورا شکر ادا کرنے کی قدرت ہی یہ بندے نہیں رکھتے۔ اور اب یہ کہ یہ پوری کائنات اس ہدف کی طرف بڑھ رہی ہے۔ واحیینا بہ بلدۃ میتتا کذلک الخروج (50 : 11) ” اور اس پانی سے ہم ایک مردہ زمین کو زندگی بخش دیتے ہیں (مرے ہوئے انسانوں کا زمین سے نکلنا بھی اسی طرح ہوگا “۔ یہ عمل تمہارے ماحول میں رات دن دہرایا جا رہا ہے ، تم اس کے عادی ہوگئے ہو۔ دیکھتے ہو لیکن یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ہے اور پھر بھی تم اعتراض کرتے ہو۔ اگر تم غور کرتے تو تمہیں اپنا اعتراض عجیب لگتا۔ جس طرح موجودہ زمین پر لوگ پیدا ہورہے ہیں۔ اسی سہولت سے دوبارہ اٹھا لیے جائیں گے۔ قرآن کا انداز کیا ہی شاندار ہے۔ پہلے دلائل دے کر بعد دعویٰ ، کہ کائنات سے مختلف قسم کے دلائل اور موثرات کی ایک طویل فہرست دے کر آخر میں کہتا ہے کہ ” یوں “ ۔ اور اس انداز سے انسان بہت متاثر ہوتا ہے۔
Ayahs 50:12–13

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم ، اور اصحاب الرس اور ثمود

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد ، اور فرعون ، اور لوط کے بھائی ،

اب انسانی تاریخ کے طویل ریکارڈ سے کچھ عبرتیں اور نصیحتیں ، اس سے قبل پورے دلائل دئیے گئے تھے وہ اس کائنات کی کھلی کتاب سے تھے۔ اب کتاب تاریخ کے اوراق الٹئے ! اور دیکھئے کہ جن لوگوں نے آخرت کی جوابدہی کا انکار کیا ان کا انجام کیا ہوا۔ اپنے رویے پر ذرا غور کرو۔ انہوں نے بھی اسی طرح تکذیب کی جس طرح تم کر رہے ہو اور ان پر جو عذاب آیا کیا تم پر ایسا عذاب نہیں آسکتا ؟ کذبت قبلھم ۔۔۔ وثمود (12) وعاد وفرعون واخوان لوط (13) واصحب الایکۃ ۔۔۔۔۔۔ فحق وعید (14) افعیینا بالحلق ۔۔۔۔۔ جدید (50 : 12 تا 14) ” ان سے پہلے نوح کی قوم ، اور اصحاب الرس اور ثمود اور عاد ، اور فرعون ، اور لوط کے بھائی ، اور ایکہ والے اور تبع کی قوم کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں۔ ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور آخر کار میری وعید ان پر چسپاں ہوگئی۔ کیا پہلی بات کی تخلیق سے ہم عاجز تھے ؟ مگر ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اس کے معنی ہیں کنواں ، وہ کنواں جس کا من پتھروں سے بنا ہوا ہو ، اور ایکہ کے معنی ہیں درختوں کا جھنڈ۔ اصحاب الایکہ غالبا قوم شعیب ہے۔ اصحاب الراس کی تفصیلات قرآن میں وارد نہیں ہیں۔ تبع حمیری بادشاہوں کا لقب ہے۔ اور باقی اقوام جن کی طرف اشارہ کیا ہے وہ مشہور ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ یہاں اس سرسری اشارے سے مقصد ان اقوام کی تفصیلات دینا نہیں ہے۔ بلکہ صرف یہ بیان کرنا ہے کہ ان کو ہلاک کیا گیا۔ جب انہوں نے رب العالمین کے رسولوں کی تکذیب کی۔ قابل توجہ یہ فقرہ ہے۔
Ayah 50:14

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور ایکہ والے اور تبع کی قوم کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں۔ ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور آخر کار میری وعیدان پر چسپاں ہوگئی۔

کل کذب الرسل فحق وعید (50 : 14) ” ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا آخر کار میری وعید ان چسپاں ہوگئی “ ۔ اس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ رسول بھی ایک ہیں۔ ان کے منصب کی نوعیت بھی ایک ہے اور ان کا مقصد بھی ایک رہا ہے حالانکہ سب کے سب نے رسولوں کو نہ جھٹلایا تھا۔ بلکہ ایک رسول کو جھٹلایا لیکن ایک رسول کو جھٹلانا بھی دراصل سب کو جھٹلانا ہے۔ رسول سب بھائی ہیں اور رسالت ایک ہی شجرۂ نسب ہے جس کی جڑیں دور تک تاریخ میں چلی گئی ہیں اور اس شجرے کی ہر شاخ دراصل اس کی خصوصیات کی تلخیص ہے۔ اور اس کی ایک صورت ہے۔ ۔۔ جس نے ایک شاخ کو چھوڑ دیا اس نے پورے سلسلے کو پکڑ لیا۔ فحق وعید (50 : 14) ” پس ان پر میری وعید چسپاں ہوگئی ” ۔ جس کی تفصیلات سامعین کو معلوم ہیں۔ ان اقوام پر عذاب الٰہی تکذیب کی وجہ سے آیا اور تکذیب انہوں نے قیامت کی ، کی تھی ۔ تو اللہ کا سوال۔
Ayah 50:15

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا پہلی بار کی تخلیق سے ہم عاجز تھے ؟ مگر ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں

افعیینا بالخلق الاول (50 : 15) ” کیا پہلی بار کی تخلیق سے ہم عاجز تھے “۔ یعنی ان کے سامنے کیا یہ شہادت موجود نہ تھی ، تخلیق چونکہ موجود تھی اس لیے جواب نہ دیا۔ بل ھم فی لبس من خلق جدید (50 : 15) ” بلکہ ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے تھے “ ۔ یہ دیکھتے نہ تھے کہ ان کے سامنے یہ عمل موجود ہے۔ شہادت موجود ہے لہٰذا ان کا علاج ہی یہی تھا جو ہوا۔
Ayah 50:16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں ابھرنے والے وسوسوں تک کو ہم جانتے ہیں۔ ہم اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں ،

درس نمبر 248 ایک نظر میں یہ اس سورت کا دوسرا سبق ہے۔ اس میں بھی بعث بعد الموت کی بحث ہے جس طرح پہلے حصے کا موضوع بھی یہی تھا۔ تکذیب کرنے والوں کے سامنے کچھ مزید موثر دلائل رکھے گئے ہیں۔ لیکن یہ دلائل ذرا دھمکی آمیز انداز میں ہیں اور خوفناک مناظر پر مشتمل ہیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے جس طرح سورت کے آغاز میں تھا۔ پھر سکرات موت کا ذکر ہے ، پھر حساب و کتاب اور ہر کسی کے اعمال نامے کی پیشی کا ذکر ہے اور پھر جہنم کا منہ کھلا ہوگا اور جب بھی اس میں اس کی انسانی خوراک کی کوئی قسط پھینکی جائے گی تو وہ منہ چاٹ کر اور اسے چکھ کر کہے گی۔ ھل من مزید (50 : 30) ” کیا اور بھی ہے “۔ غرض یہ ایک ہی سفر ہے ، پیدائش سے شروع ہوتا ہے۔ موت کے سکرات سے گزرتا ہے اور حساب و کتاب پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ زندگی کا طویل سفر ہے ، باہم متصل اور مربوط ۔ اور اس منظر میں اسے مسلسل کڑیوں کی شکل میں قلم بند کیا گیا ہے جس کے اندر کوئی کڑی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہے۔ نہ کوئی کسی کڑی یا مرحلے سے بچ کر نہیں نکل سکتا ہے۔ اور انسان اس سفر کے آغاز سے انتہا تک اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ کسی جگہ یا مرحلے میں وہ اللہ سے آزاد نہیں ہے۔ ہر وقت اللہ کی نگرانی میں ہے۔ اس سورت میں اس سفر کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ خوفناک بھی ہے اور حیران کن بھی کہ ایک انسان اللہ قہار و جبار کے قبجہ قدرت میں سفر کے مراحل طے کر رہا ہے ، وہ اللہ جو دلوں کے تمام بھیدوں کو جاننے والا ہے۔ انسان کیا کرسکتا ہے جب اسے بلانے والا وحدہ لا شریک ہے ، نہ بھولتا ہے ، نہ سو تا ہے اور نہ کسی چیز سے غافل رہتا ہے۔ انسان تو اس وقت بھی بےحد ہراساں ہوجاتا ہے جب اسے احساس ہو کہ اس کے پیچھے کسی ارضی حکومت کی سی آئی ڈی لگی ہوئی ہے۔ زمین والوں کی حکومت کیا ہوگی اور ان کے جاسوس کیا ہوں گے۔ اگر کوئی خفیہ پولیس نگری کر بھی رہی ہے تو انسان کی ظاہری حرکت کی نگرانی کر رہی ہے۔ وہ اس پولیس سے گھر میں چھپ جاتا ہے جب وہ اپنے گھر کے اندر آکر اپنے پیچھے دروازہ بند کرے یا وہ اپنے منہ بند کر دے اور منہ سے لفظ تک نہ نکالے۔ لیکن اللہ جبار وقہار کی نگرانی بڑی سخت ہے۔ انسان جہاں بھی ہو ، جس حال میں بھی ہو اس کے کارندے ہر وقت لکھ رہے ہیں اور وہ دلوں کے بھیدوں تک کو جانتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی نگرانی کڑی نگرانی ہے۔ آیت کے آغاز میں ہے۔ ولقد خلقنا الانسان (50 : 16) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے “۔ یہاں اس عبارت کے ایک ضمنی مفہوم کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ یہ کہ کسی بھی چیز مشینری یا آلے کا بنانے والا اس کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے۔ حالانکہ وہ اس کا خالق نہیں ہوتا کیونکہ آلات اور مشینری کا مادہ تو اس نے نہیں بنایا اور اس کی تشکیل اور ترکیب میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا۔ جبکہ اللہ خالق بھی ہے موجد بھی اور انسان کو جوڑنے والا بھی ہے۔ یہ آغاز سے انتہا تک اللہ کے دست قدرت سے نکلا ہوا ہے۔ اس لیے اللہ کی اس حقیقت اور اس کے اسرارو رموز سے خوب واقف ہے۔ اس کے ماضی ، حال اور مآل سے وہ آگاہ ہے۔ ونعلم ما توسوس بہ نفسہ (50 : 16) ” اور اس کے دل میں ابھرنے والے وسوسوں تک کو ہم جانتے ہیں “۔ یوں انسان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کی ہر چیز اللہ کے سامنے ظاہر ہے۔ اس کے اور خالق کے درمیان پردہ نہیں ہے۔ اس کے دل کی خفیہ ترین امنگوں سے بھی خالق واقف ہے۔ اور یوم الحساب کے لئے تو ہر طرح کی تیاری ہو رہی ہے جس کا وہ منکر ہے۔ ونحن اقرب الیہ من حبل الورید (50 : 16) ” اور ہم اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں “۔ اس شہ رگ سے جس میں اس کا خون دوڑ رہا ہے۔ یہ اللہ کے قبضہ ملکیت کی ایک تصویر ہے۔ اور اللہ کی براہ راست نگرانی ہے۔ جب انسان اس حقیقت کا تصور کرتا ہے تو اس کارواں روان کانپ اٹھتا ہے۔ اگر انسان صرف اسی آیت کے مفہوم کو مستحضر رکھے تو وہ کبھی ایسی بات نہ کرے جس سے اللہ ناراض ہو بلکہ انسان غیر پسندیدہ خیالات کو اپنے دل ہی میں نہ لائے۔ صرف یہی آیت اس بات کے لئے کافی ہے کہ انسان ہر وقت محتاط رہے ، ہر وقت خائف رہے اور ہر وقت حساب و کتاب کے لئے بیدار رہے۔ قرآن کریم مزید اس نگرانی کی تشریح یوں کرتا ہے کہ انسان کی پوری زندگی ، ہر حرکت ، سونا کھانا ، پینا ، خاموش رہنا ، بات کرنا ، غرض سفر زندگی پورے کا پورا دو فرشتوں کے درمیان کٹ رہا ہے۔ یہ فرشتے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ اس کے ہر لفظ کو اس کے منہ سے نکلتے ہی ریکارڈ رکر لیتے ہیں۔
Ayahs 50:17–18

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

(اور ہمارے اس براہ راست علم کے علاوہ ) دو کاتب اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہر چیز ثبت کر رہے ہیں۔

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو۔

اذ یتلقی المتلقین عن الیمین وعن الشمال قعید (50 : 17) ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (50 : 18) ” دو کاتب اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہیں۔ ہر چیز ثبت کر رہے ہیں ۔ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لئے ایک حاضر باش نگران موجود نہ ہو “ ۔ یعنی جو نگران ہے وہ حاضر باش ہے۔ یعنی عتید رقیب کی صفت ہے۔ یہ مفہوم نہیں ہے جس طرح ذہن میں آتا ہے کہ دو نگرانوں میں سے ایک کا نام رقیب ہے اور دوسرے کا عتید ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کس طرح ریکارڈ کرتے ہیں ؟ اس سلسلے میں انسان کو اپنے تخیلات پیش نہ کرنا چاہئے ۔ یہ غیبی امور ہیں اور ان کو اسی طرح قبول کرنا چاہئے جس طرح قرآن میں مذکور ہیں۔ مفہوم پر ہمارا ایمان ہے اور کیفیت کا ہمیں پتہ نہیں ہے۔ اگر کیفیت کا پتہ لگ بھی جائے تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پھر بعض کیفیات ہمارے تجربات کے دائرے ہی میں نہیں ہوتیں اور ہم ان کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ آج کے دور جدید میں ریکارڈنگ کے وہ طریقے ہم نے دیکھ لیے ہیں جن کا تصور بھی ہمارے آباء و اجداد نہ کرسکتے تھے۔ ان طریقوں سے انسان کی ہر حرکت اور ہر لفظ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ آڈیو ، وڈیو ، ٹیپ ، سینما کی ریل ، اور ٹیلی ویژن کے ٹیپ (اور اب کمپیوٹر اور اس کا نیٹ ورک) یہ تو وسعت آگئی ہے انسانی دائرہ ریکارڈ میں۔ جہاں اللہ اور اس کے عملے کا تعلق ہے تو ان کے پاس ایسے ذرائع اور ایسے طریقے ہوسکتے ہیں جن کا ہم ابھی تک تصور ہی نہیں کرسکتے۔ بس اللہ نے جو اطلاع کردی ہے اس پر یقین کرو۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس حقیقت کے دائرے کے اندر زندہ رہیں جس کی تصویر کھینچ دی گئی ہے۔ اور اس شعور کو تازہ کریں کہ ہم جو بات بھی کرتے ہیں جس فعل کا ارتکاب بھی کرتے ہیں۔ ہمارے دائیں بائیں اللہ کے کارندے بیٹھے ہوئے ہیں اور لکھ رہے ہیں تا کہ یہ ریکارڈ قیامت میں ہمارے خلاف پیش ہو یا ہمارے حق میں پیش ہو۔ اور یہ حساب ایسا ہے کہ اس سے کوئی بات نہیں چھوٹتی۔ اور ہمیں چاہئے کہ اس حقیقت کو ذہن میں تازہ رکھتے ہوئے زندگی بسر کریں۔ بس یہی ہمارے لئے کافی ہے اس کی کیفیت ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو۔ جس شکل و صورت میں بھی ہو یہ ریکارڈ تیار ہو رہا ہے۔ اور ہم کسی طرح اس سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ اللہ نے پیشگی اطلاع ہمیں دے دی ہے تا کہ ہم اس کا خیال رکھیں۔ رہی یہ بات کہ اس کی کیفیت کیا ہے تو یہ ایک عبث جدو جہد ہوگی۔ جن لوگوں نے اس قرآن اور اس کے حقائق اور حضرت محمد ﷺ کی ہدایات سے فائدہ اٹھایا ، ان کا انداز اور طریقہ یہی تھا کہ شعور کو پختہ کرو اور عمل کرو فقط۔ امام احمد نے روایت کی ، ابو معاویہ سے ، انہوں نے محمد ابن عمر ابن علقمہ لیثی سے انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ان کے دادا سے اور انہوں نے حضرت بلال ابن حارث مزنی سے ، کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ایک آدمی ایک لفظ بولتا ہے جو اللہ کی رضا مندی کا لفظ ہوتا ہے۔ اسے یہ یقین نہیں ہوتا کہ اس لفظ پر اللہ اس سے اپنی رضا مندی لکھ دیتا ہے تاقیامت۔ اور ایک دوسرا شخص ایک لفظ بولتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کا سبب ہوتا ہے اور اس کو یقین نہیں ہوتا کہ یہ لفظ کہاں تک پہنچ گیا ۔ اللہ قیامت تک اس شخص سے ناراضگی لکھ دیتا ہے “۔ کہتے ہیں کہ علقمہ کہا کرتے تھے کہ کتنی ایسی باتیں ہیں جن کے کہنے سے میں بلال ابن حارث کی حدیث کی وجہ سے رک گیا۔ (ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ) ۔ امام احمد سے روایت ہے کہ وہ سکرات الموت میں فریاد کر رہے تھے انہوں نے سنا کہ یہ فریاد بھی لکھی جا رہی ہے تو خاموش ہوگئے اور ان کی روح پرواز کرگئی۔ یوں یہ حضرات قرآنی ہدایات کو لیتے تھے۔ اور یوں تھی ان کی زندگی۔
Ayah 50:19

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

پھر دیکھو ، وہ موت کی جان کنی حق لے کر آپہنچی ، یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا

یہ تو ہیں کتاب زندگی کے صفحات اور آخری صفحہ اس دنیا کی زندگی کا الٹایا جا رہا ہے۔ وجاءت سکرۃ ۔۔۔۔۔ منہ تحید (50 : 19) ” پھر دیکھو ، وہ موت کی جان کنی حق لے کر آپہنچی ، یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا “۔ موت وہ حقیقت ہے جس سے اللہ کی تمام مخلوقات ڈرتی ہے۔ اور ہر شخص موت کا تصور اپنے ذہن سے محو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن یہ کس طرح ممکن ہے۔ موت ایک ایسا طلبگار ہے جو مطالبے سے تھکتا نہیں۔ یہ اپنی رفتار سے انسان کے قریب ہوتی رہتی ہے۔ اور اس کے قدموں کی رفتار کبھی سست نہیں پڑتی ۔ اور اس کے مقررہ وقت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔ موت کے آخری لمحات جنہیں سکرات الموت کہا جاتا ہے۔ اس کے تصور ہی سے انسان کے اعجا کانپ اٹھتے ہیں۔ یہ موت کا منظر اسکرین پر ابھی پیش ہو رہا ہے کہ سوال ہوتا ہے۔ ذلک ما کنت منہ تحید (50 : 19) ” وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا “۔ انسان ابھی تک تو زندہ ہے اس دنیا میں ہے لیکن وہ اس سوال کو سن رہا ہے۔ لیکن جب وہ حقیقتاً جان کنی کے لمحات میں ہوگا اور اس وقت وہ یہ سوال سنے گا تو کیا حالت ہوگی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب آپ ﷺ پر سکرات الموت طاری ہوئے تو آپ ﷺ اپنے چہرۂ مبارک سے پسینہ پونچھ رہے تھے اور فرماتے تھے۔ ” سبحان اللہ فی الواقعہ جان کنی کے لمحات ہوتے ہیں “ ۔ آپ یہ کہہ رہے تھے حالانکہ آپ الرفیق الاعلیٰ کی طرف رواں تھے اور اللہ کے لقاء کے مشتاق تھے دوسروں کی حالت کیا ہوگی ؟ یہاں آیت میں ایک لفظ قابل توجہ ہے۔ وجاءت سکرۃ الموت بالحق (50 : 19) ” اور موت کی جان کنی حق لے کر آپہنچی “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان جب آخری لمحات میں ہوتا ہے تو اسے عالم آخرت نظر آجاتا ہے ۔ تمام حجابات ہٹ جاتے ہیں ، اب یہ جن باتوں سے جاہل تھا وہ اسے معلوم ہوجاتی ہیں۔ وہ بھی اس کے سامنے آجاتی ہیں جن کا وہ انکار کیا کرتا تھا۔ لیکن اب تو وقت گزر جاتا ہے۔ اب دیکھا تو مفید نہیں رہتا۔ اب علم و فضل اور حقائق کا ادراک کس کام کا ! کیونکہ اب توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ ایمان لانا اب مفید نہیں ہے۔ یہ وہ سچائی تھی جس کی وہ تکذیب کرتے تھے اور اس کے بارے میں سخت خلجان میں تھے۔ اب جبکہ انہوں نے اسے پا لیا ہے اور تصدیق کر رہے ہیں تو یہ ادراک اور تصدیق ان کے کسی کام کی نہیں ہے۔
Ayah 50:20

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور پھر صور پھونکا گیا ، یہ ہے وہ دن جس کا تجھے خوف دلایا جاتا تھا۔

اب سکرات الموت سے ذرا آگے میدان حشر میں حساب و کتاب کی ہولناکیاں ! یہ ایک ایسا منظر ہے کہ اس کا ذہن میں تازہ کرنا ہی کافی ہے۔ اگر یہ تازہ کرلیا جائے تو اس زمین کی پوری زندگی احتیاط ، ڈر اور انتظار میں کٹ جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں کس طرح عیش کرسکتا ہوں جب کہ سینگ والے نے سینگ منہ کے ساتھ لگایا ہوا ہے اور اپنے ماتھے کو جھکایا ہوا اور انتظار میں ہے کہ اسے حکم دیا جائے۔ صحابہ کرام ؓ نے فرمایا پس ہم کیا کہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ، کہو۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل لوگوں نے کہنا شروع کردیا۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل (ترمذی)
Ayah 50:21

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

ہر شخص اس حال میں آگیا کہ اس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا۔

وجاءت کل نفس معھا سائق وشھید (50 : 21) ” ہر شخص اس حال میں آگیا کہ اس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا “۔ وہ آیا ، وہ جس کا حساب کی جا رہا ہے ، جسے سزا ہونے والی ہے۔ ایک چلا کر لانے والا ہے اور ایک شہادت دینے والا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں لکھنے والے اور دنیا میں اس کی حفاظت کرنے والے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اور فرشتے ہوں۔ لیکن پہلی تفسیر راجح ہے۔ عدالت میں پیشی کا یہ بہترین طریقہ ہے لیکن یہ اللہ جبار کی عدالت ہے۔ ایسے مشکل وقت میں اسے یہ کہا جائے گا۔
Ayah 50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

اس چیز کی طرف تو غفلت میں تھا ، ہم نے وہ پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑ اہوا تھا اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے۔

لقد کنت فی ۔۔۔۔ الیوم حدید (50 : 22) ” اس چیز کی طرف سے تو غفلت میں تھا۔ ہم نے پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑا ہوا تھا ، اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے “ ۔ آج تیری نظر بڑی تیز ہے اور پردوں کو پار کر کے بھی دیکھ رہی ہے ۔ کام کرنے کی جگہ میں تو نے غفلت برتی۔ تو نے اس وقت کا خیال ہی نہ رکھا ۔ یہ ہے وہ انجام جس کی تو توقع ہی نہ رکھتا تھا۔ آج دیکھتا جاتا۔ آج تیری نظر تیز ہے۔ اب اس کا ساتھی آگے بڑھتا ہے۔ راجح یہ ہے کہ یہ وہ گواہ ہے جس کے پاس اس کا اعمال نامہ ہے۔
Ayah 50:23

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اس کے ساتھی نے عرض کیا یہ جو میری سپردگی میں تھا ، حاضر ہے۔

وقال قرینۃ ھذا ما لدی عتید (50 : 23) ” اس کے ساتھی نے عرض کیا ، یہ جو میری سپردگی میں تھا حاضر ہے تیار “۔ عتید کے معنی ہیں حاضر ، تیار۔ یعنی اب کوئی نئی چیز تیار نہیں کرتی ہے پہلے سے تیار ہے۔ یہاں اب اس ریکارڈ کو پڑھا نہیں جاتا ہے پس عدالت سے جلدی کے ساتھ ڈگری صادر ہوتی ہے اور نافذ ہوتی ہے۔ فوراً بارگاہ رب العزت سے اس سابق اور شہید کو حکم دیا جاتا ہے۔
Ayahs 50:24–26

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

حکم دیا گیا پھینک دو جہنم میں ہر کٹے کافر کو جو حق سے عناد رکھتا تھا ،

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

خیر کو روکنے والا اور حد سے تجاوز کرنے والا تھا ، شک میں پرا ہوا تھا

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو خدا بنائے بیٹھا تھا۔ ڈال دو اسے سخت عذاب میں۔

القیا فی جھنم کل کفار عنید (50 : 24) مناع اللخیر معتد مریب (50 : 25) الذی جعل ۔۔۔۔ العذاب الشدید ۔ (50 : 26) ” حکم دیا گیا ، پھینک دو جہنم میں ہر کٹے کافر کو جو حق سے عناد رکھتا تھا ۔ خیر کو روکنے والا اور حد سے تجاوز کرنے والا ، شک میں پڑا ہوا تھا اور اللہ کے سوا کسی دوسرے کو خدا بنائے بیٹھا تھا ، ڈال دو اسے سخت عذاب میں “۔ ان صفات کے ذکر سے ، اس مشکل وقت کی مشکلات میں گرفتار لوگوں کے خوف و ہراس میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ پہلے سے مشکل میں گرفتار مجرموں پر اللہ جبار وقہار کے غضب کا ڈر پیدا ہوجاتا ہے۔ کیونکہ یہ تمام صفات اس بات کی مستحق ہیں کہ مجرم کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔ سخت کافر ، عناد رکھنے والا ہر بھلائی سے روکنے والا ، ہر معاملے میں حد سے گزرنے والا اور غایب درجے کا شکی جس نے اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ بنا رکھے ہیں اور ان صفات کو گنوانے کے بعد پھر تاکید امر فالقیہ فی العذاب الشدید (50 : 26) ” ڈال دو اسے سخت عذاب میں “ یعنی جہنم کے عذاب میں جو شدید ہی ہوگا۔
Ayahs 50:27–29

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کے ساتھی نے عرض کیا ” خداوندا ، میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

جو اب میں ارشاد ہوا ” میرے حضور جھگڑا نہ کرو ، میں تم کو پہلے ہی انجام بد سے خبردار کرچکا تھا۔

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں

اس مقام پر اس شخص کے ساتھ بھی خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور کانپ اٹھتے ہیں اور جلدی سے اپنے بارے میں کسی الزام کے سائے کو رد کرتے ہیں ، محض اس بنا پر کہ یہ اس جہنمی کا ساتھی تھا۔ قال قرینہ ۔۔۔۔۔ ضلل بعید (50 : 27) ” اس کے ساتھ نے عرض کیا خدا وندا ، میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا “۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ساتھ وہ نہ ہو جس کا ذکر پہلے ہوا۔ جس نے اس مجرم کے کاغذات پیش کئے ۔ بلکہ اس سے مراد وہ شیطان ہو وج اس کے ساتھ اسے گمراہ کرنے کے لئے لگا ہوا تھا۔ اور اب وہ یہاں اپنے آپ کو بری الذمہ کرنے میں لگا ہوا ہے اور پورے قرآن مجید میں ایسے مشاہد اور مکالمے موجود ہیں جن میں گمراہ کرنے والے شیاطین اپنی برات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جیسا کہ یہاں ہے لہٰذا یہ بھی بعید از امکان نہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ قرین سے مراد اعمال نامہ تیار کرنے والا فرشتہ ہو اور اس ہولناک احکام الٰہی سے ڈر گیا ہو اور اپنی برات کا اظہار کر رہا ہو اور یہ بیان کر رہا ہو کہ بیشک میں تو اس بدبخت کا ساتھی تھا ، لیکن ان کی گمراہی میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے ، اس طرح اس بری الذمہ شخص کا اپنی برات ظاہر کرنا اس بات پر دلالت ہوگی کہ اس خوفناک اور کربناک منظر کو دیکھ کر فرشتے ساتھی نے یہ کہا۔ غرض اب آخری حکم آجاتا ہے اور بات ختم ہوجاتی ہے : قال لا تختصموا ۔۔۔۔۔ بالوعید (50 : 27) ما یبدل بظلام للعبید (50 : 29) ” ارشاد ہوگا ، میرے حضور جھگڑا نہ کرو میں تم کو پہلے ہی انجام بد سے خبردار کرچکا تھا “۔ میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں “۔ لہٰذا یہ جھگڑنے کی جگہ نہیں ہے ۔ اسے قبل تمہیں باربار خبردار کردیا گیا تھا کہ ہر عمل پر جزاء و سزا ملے گی ، تمام اعمال لکھ دئیے گئے ہیں۔ اب ان کے اندر کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ہر کسی کو اس کے اعمال نامے کے مطابق بدلہ ملے گا۔ کسی پر ظلم نہ ہوگا کیونکہ جزا دینے والا حاکم عادل ہے۔ اس پر حساب و کتاب کا یہ منظر اپنی تمام ہولناکیوں اور شدت کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے لیکن ابھی یہ بحث ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کا ایک خوفناک پہلو ابھی باقی ہے۔
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

وہ دن جبکہ ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کیا اور کچھ ہے ؟

یہ پورا منظر ہی سوال و جواب کا منظر ہے ، یہاں مکالمے کے لئے جہنم کو پیش کیا جاتا ، یوں یہ عجیب و غریب اور خوفناک منظر ہے۔ تمام کفار معاند ، بھلائی سے روکنے والے ، حد سے گزر نے والے اور قیامت میں شک کرنے والے موجود ہیں۔ یہ سب جہنم میں کثرت سے پھینکے جا رہے ہیں اور جہنم میں ان کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد جہنم سے کہا جاتا ہے کہ کیا تم بھر گئی ہو اور کیا یہ لوگ تمہارے لیے کافی ہے لیکن وہ بڑی سختی سے جوش میں آکر اور جلتے ہوئے کہے گی۔ ھل من مزید (50 : 30) (کیا اور کچھ ہے ؟ ) اس طرح جس طرح بھوکا خونخوار منہ کھولے ہوئے کوئی درندہ ہوتا ہے۔ کیا ہی خوفناک منظر ہے یہ !
Ayah 50:31

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور جنت متقین کے قریب لے آئی جائے گی ، کچھ بھی دور نہ ہوگی۔

اور دوسری طرف ایک دوسرا خوبصورت منظر ہے ، پر محبت جس میں ہر کوئی راضی ہے ، سب متقی ایک جگہ جمع ہیں ، جنت ان کے قریب کردی گئی ہے اور ہر طرف سے مرحبا مرحبا کی صدائیں ہیں۔ وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید (31) ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ (32) من خشی ۔۔۔۔ بقلب منیب (33) ادخلوھا ۔۔۔۔۔ الخلود (34) لھم ما یشاءون فیھا ولدینا مزید (50 : 31 تا 35) ” اور جنت متقین کے قریب لے آئی جائے گی ، کچھ بھی دور نہ ہوگی۔ ارشاد ہوگا ” یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ، ہر اس شخص کے لئے جو بہت رجوع کرنے والا ، اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا ، جو بےدیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا ، اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے۔ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ۔ وہ دن حیات ابدی کا دن ہوگا۔ وہاں ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ ان کے لئے ہے “۔ اس منظر کے مکالمات میں ہر کلمے میں تکریم اور عزت افزائی ہے۔ جنت کو اہل ایمان کے قریب کردیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس تک پہنچنے کے لئے ان کو کوئی سفر نہیں کرنا پڑتا بلکہ جنت خود چل کر آتی ہے ان کے قدموں میں۔ غیر بعید (50 : 31) ” کچھ دور نہ ہوگی “ ۔ اور دوسری نعمتوں کے علاوہ اللہ کی رضا مندی ہوگی اور کہا جائے گا۔
Ayahs 50:32–33

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

ارشاد ہوگا ” یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ، ہر اس شخص کے لئے جو بہت رجوع کرنے والا ، اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا ،

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو بےدیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا ، اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے۔

ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ (50 : 32) من خشی ۔۔۔۔۔ بقلب منیب (50 : 33) ” یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا ، جو بےدیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے “۔ تو عالم بالا سے ان کی یہ تعریف کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اللہ کے پیمانے کے مطابق یہ اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اور اپنے نفس کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ، یہ رحمان سے ڈرنے والے ہیں اور انہوں نے اسے کبھی دیکھا نہ تھا۔ اللہ کی طرف ان کے دل لگے ہوئے ہیں اور وہ اس کے مطیع فرمان ہیں۔
Ayah 50:34

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ “۔ وہ دن حیات ابدی کا دن ہوگا۔

اس کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ اور کبھی بھی اس سے تم نے نکلنا نہیں ہے۔ ادخلوھا بسلم ذلک یوم الخلود (50 : 34) ” داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ “۔ وہ دن حیات ابدی کا دن ہوگا۔ پھر عالم بالا میں ان کی عزت افزائی کے لئے اعلان ہوگا کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کے لئے ان کے رب کے نزدیک اور بہت کچھ ہے اور وہ غیر محدود ہے۔
Ayah 50:35

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

وہاں ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ ان کے لئے ہے

لھم م یشاءون فیھا ولدینا مزید (50 : 35) ” وہاں ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ ہے ان کے لئے “۔ وہ جس قدر چاہیں اللہ کے انعامات کی انتہا تک نہیں جاسکتے اور اللہ کے ہاں جو مزید ہے وہ لامحدود ہے ۔
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جو ان سے بہت زیادہ طاقتور تھیں اور دنیا کے ملکوں کو انہوں نے چھان مارا تھا۔ پھر کی وہ کوئی جائے پناہ پا سکے ؟

درس نمبر 249 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے ۔ گویا یہ آخری زمزمہ ہے اور نہایت ہی زور دار آواز میں بتایا جاتا ہے کہ سنو انسانی تاریخ میں امم سابقہ کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے۔ اس میں کائنات کی ایک جھلک بھی ہے اور حشر ونشر کے بارے میں بھی ایک منظر پیش کیا گیا ہے اور قرآن کے بارے میں بھی ہدایت ہے کہ آپ کام جاری رکھیں۔ قلب و نظر کے لئے بھی کئی ہدایات ہیں ، اس سبق میں۔ یہ تمام جھلکیاں اس پوری سورت میں بھی گزری ہیں لیکن آخر میں یہ ایک نئے ٹچ کے ساتھ دہرائی گئی ہیں ۔ نہایت تیزی کے ساتھ نکتہ وار ، انہی باتوں کو دہرایا گیا ہے لیکن ایک نئے ذوق اور نئے انداز میں اور یہی قرآن کا اعجاز ہے کہ وہ ایک بات کو جب ایک ہی سورت میں دہراتا ہے تو وہ نئی معلوم ہوتی ہے۔ پہلے کیا گیا۔ کذبت قبلھم ۔۔۔۔ وثمود (50 : 12) وعاد وفرعون واخوان لوط (50 : 13) واصحب الیکۃ ۔۔۔۔ فحق وعید (50 : 14) ” ان سے پہلے نوح کی قوم ، اصحاب الرس اور ثمود ، اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی اور ایکہ والے اور تبع کی قوم کے لوگ جھٹلا چکے ہیں ، ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور آخر کار میری وعید ان پر چسپاں ہوگئی “ ۔ اور یہاں کہا گیا : جس حقیقت کی طرف اشارہ مطلوب تھا وہ یہ ہے لیکن یہاں بالکل جدید انداز میں ہے اور پہلی آیت میں جو انداز ہے اس سے بالکل مختلف۔ یہاں اقوام کی ایک صفت کا اضافہ کردیا گیا کہ انہوں نے پوری دنیا میں نقب لگاکر اسے چھان مارا تھا۔ وہ ہر طرف دوڑے پھرتے تھے۔ اسباب حیات تلاش کرتے تھے لیکن جب ان کو پکرا گیا تو پھر کیا کوئی جائے فرار تھی ؟ ھل من محیص (50 : 36) ” پھر کیا وہ کوئی جائے پناہ پا سکے “ ۔ نہیں ! پیش ہے ایک اضافہ اور جس سے بات اور جاندار ہوجاتی ہے :
Ayah 50:37

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

اس تاریخ میں اس بات کا سبق ہے ہر اس شخص کے لئے جو دل رکھتا ہو ، یا جو توجہ سے بات کو سنے۔

امم سابقہ کے عروج وزوال میں بہت بڑی نصیحت ہے لیکن یہ صرف اس شخص کے لئے ہے جو دل و دماغ رکھتا ہو ، تاریخ امم جس دل کو حرکت نہیں دے سکتی وہ مردہ ہے ، یا وہ شخص دل و دماغ رکھتا ہی نہیں ہے۔ بلکہ نصیحت حاصل کرنے اور عبرت لینے کے لئے تو یہ بھی کافی ہے کہ انسان خاموشی سے داستان عروج وزوال امم سن لے۔ یہ داستان خود ہی بتا دے گی۔ سچ یہ ہے کہ یہ ایک عظیم حقیقت ہے۔ نفس انسانی پر امم ماضیہ کے قصص کا بہت ہی بڑا اثر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں معمولی سی بیداری اور معمولی سی قلبی کشادگی ہی یادوں اور تصورات سے اثر لیتی ہے اور انسان پر بہت اثر ہوتا ہے اور اس میں بہت سی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ اس سے قبل اس کائنات کی کتاب سے یہ صفحہ الٹا گیا تھا۔ افلم ینظروا ۔۔۔۔۔ من فروج (50 : 6) والارض مددنھا ۔۔۔۔۔ کل زوج بھیج (50 : 7) ” کیا انہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے۔ اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اس کے اندر ہر طرح کے خوش منظر نباتات اگا دیں “۔ اور یہاں یوں ہے۔
Ayah 50:38

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کردیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہوئی۔

ولقد خلقنا السموت ۔۔۔۔۔ من لغوب (50 : 38) ” ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کردیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہو “۔ تو پہلی بات پر یہاں ایک مزید حقیقت کا اضافہ کردیا گیا۔ وما مسنا من لغوب (50 : 38) ” اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی “۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ نے اس عظیم کائنات کو نہایت آسانی کے ساتھ پیدا کردیا۔ مردوں کا زندہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ان ہولناک آسمانوں کے مقابلے میں تو یہ ایک بہت چھوٹا کام ہے۔ ایک مزید ہدایت بطور سبق آموزی۔
Ayahs 50:39–40

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

پس اے نبی ﷺ ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو ، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کرو اور سجدہ ریزیوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی۔

فاصبر علی ما یقولون ۔۔۔۔۔۔ قبل الغروب (39) ومن الیل ۔۔۔۔ السجود (50 : 39 تا 40) ” پس اے نبی ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو ، اور پنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کرو اور سجدہ ریزیوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی “۔ سورج کا طلوع و غروب اور غروب کے بعد رات کا منظر ، یہ سب آسمان اور زمین کے مناظر اور حرکات کے ساتھ منسلک ہیں۔ تسبیح و ثنا اور رکوع و سجود کو ان کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور تلقین یہ کی گئی ہے کہ ان لوگوں کی باتوں پر صبر کرو ، کیونکہ یہ ناحق حشر ونشر اور دوبارہ زندہ کرنے کو جھٹلاتے ہیں۔ یہاں گویا رات اور دن کے تکرار میں ایک نئی بات داخل کی گئی ۔ حمدو ثنا اور کو ع اور سجود کو بھی اس کائنات کے مناظر سے منسلک کیا گیا ہے ۔ یوں جب بھی رکوع و سجود ہوگا یہ کائناتی مناظر بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔ سورج کے طلوع و غروب اور رات آنے کے مناظر۔