50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 50:1

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

قٓ قسم ہے اس قرآن کی جو بڑا ہی عزت و شان والا ہے1

[ 1] قرآن اپنی صداقت و حقانیت پر خود گواہ : سو ارشاد فرمایا گیا " قسم ہے اس قرآن بزرگ و برتر اور باعظمت کی "۔ جس کی عزت و شان سب سے برھ کر ہے۔ اسی لئے یہ سابقہ آسمانی کتابوں کے لئے ناسخ ہے۔ پس جو اس پر ایمان لائے گا اس کو پڑھے گا اور سیکھ کر عمل کرے گا، وہ بھی بڑی عزت اور شان پائے گا، اس دنیا میں بھی اور اس کے بعد کی دائمی زندگی میں بھی۔ جعلنا اللّٰہ منھم ووفقنا لما یحب ویرضی سبحانہ وتعالیٰ ۔ نیز یہ قرآن جو اس شان والا ہے اس نبیء امی کی حقانیت و صداقت کی ایک قطعی اور واضح دلیل ہے کہ جس پر نازل ہوا اور جس نے اس دنیا کے سامنے پیش فرمایا وہ قطعی طور پر سچا اور برحو ہے۔ صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ۔ اس قسم کا جواب محذوف ہے جو فحویء کلام سے خود مفہوم ہوتا ہے، اور علماء کرام سے اس کی مختلف تقدیرات منقول ہیں، مثلا یہ کہ لتبعثن کہ " تم لوگ ضرور اٹھائے جاؤ گے " یا " انا ارسلنا " کہ یقینا ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے " انک لعلی الحق وانھم مبعوثون وغیر ذالک من العبارات والتقریرات والحذف یعم ھذا کلہ " بہرکیف اس قرآن مجید کی قسم کھا کر واضح فرما دیا گیا کہ جو کچھ اس میں ثبت و مندرخ میں ہے اور جو کچھ محمد رسول اللہ ﷺ کہہ رہے ہیں اور جس حشر و نشر کی خبر وہ دے رہے ہیں، وہ سب قطعی طور پر حق اور سچ ہے، اور اس کی صداقت و حقانیت کے لئے یہ کتاب مجید خود ایک قطعی ثبوت اور واضح دلیل ہے، مجید کا یہ کلمہ کریمہ جو یہاں پر قرآن کریم کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ یہ دوسرے مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ کی صفات کے طور پر بھی آیا ہے، اور یہ اسلئے کہ ہر کلام متکلم کی صفات کا مظہر اور اس کا عکس ہوتا ہے۔ سو جس طرح اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر ہے اسی طرح اس کا یہ کلام بھی بزرگ و برتر ہے، اور اس کی یہ بزرگی اور برتری اس کی ایک ایک آیت کریمہ سے ظاہر وعیاں ہے۔ اگر کوئی اس کی عظمت شان اور جلالت قدر سے متاثر نہیں ہوتا تو وہ یا تو نہایت ہی پلید ہے یا اس کا دل بالکل سیاہ ہوچکا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ ورنہ یہ قرآن تو وہ کتاب ہے کہ اگر اس کو پہاڑوں پر اتارا جاتا تو وہ بھی پارہ پارہ ہوجاتے جیسا کہ اس کی تصریح خود قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر فرمائی گئی اور یہاں پر اس کتاب مجید کی قسم کھا کر اس اہم اور بنیادی حقیقت کو ظاہر فرما دیا گیا کہ یہ قرآن اپنی صداقت و حقانیت پر خود گواہ ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال،
Ayah 50:2

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

(ان لوگوں کا انکار کسی بنیاد پر مبنی نہیں) بلکہ ان کو تعجب اس بات پر ہوا کہ ان کے پاس ایک خبردار کرنے والا آگیا خود انہی میں سے جس پر یہ کافر کہنے لگے کہ یہ تو بڑی عجیب بات ہے

[ 2] منکرین کے بشریت پیغمبر (علیہ السلام) پر اچنبھے کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کو پیغمبر کی بشریت سے اچنبھا اور اس پر تعجب تھا۔ جس پر انہوں نے کہا ایک ہم ہی میں سے، اور ہم ہی جیسا ایک انسان نبی و رسول کس طرح ہوسکتا ہے ؟ یعنی وہ لوگ بنوت و رسالت اور بشریت کے درمیان منافات سمجھتے تھے۔ اس لیے انہوں نے پیغمبر (علیہ السلام) کی بشریت کو دیکھتے ہوئے ان کی نبوت و رسالت کا انکار کردیا، اور اس طرح انہوں نے کفر کا طوق اپنے گلوں میں ڈال دیا۔ افسوس کہ قرآن و سنت کی ایسی بیشمار اور واضح تعلیمات و تاکیدات کے باوجود یہی غلط فہمی آج بھی بہت سے مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اور بہت سے لوگ کلمہ گو مسلمانوں میں سے بھی آج ایسے موجود ہیں جو کھلم کھلا اور اعلانیہ طور پر کہتے ہیں کہ نبی بشر نہیں ہوتا، غلط فہمی اور بیماری کل کے ان منکروں اور آج کے ان غفلت شعاروں کے درمیان ایک ہی رہی ہے، کہ ایسے لوگ نبوت و رسالت اور بشریت میں منافات سمجھتے ہیں، کہ جو بشر ہوگا وہ نبی و رسول نہیں ہوگا، اور جو نبی و رسول ہوگا وہ بشر و انسان نہیں ہوسکتا، بلکہ نور اور مافوق البشر ہوگا، اسی غلط فہمی کی بناء پر کل کے ان اعجوبہ پرستوں نے حضرت انبیاء و رسل (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا انکار کیا، اور آج کے یہ عجوبہ پرست نبوت و رسالت پر ایمان کے دعویدار بن کر آپ ﷺ کی بشریت طاہرہ کا انکار کرتے ہیں، غلط فہمی دونوں جگہ بہرحال ایک ہی رہی ہے، کہ ان لوگوں کے نزدیک بشریت و نبوت دونوں آپس میں جمع نہیں ہوسکتیں، جب کہ قرآن و سنت کی نصوص قطیعہ یہ بتارہی ہیں کہ یہ دونوں صفتیں نہ صرف یہ کہ آپس میں جمع ہوسکتی ہیں، بلکہ ہمیشہ جمع رہی ہیں، اور جو بھی پیغمبر تشریف لائے وہ بشر ہی تھے اور اسی کی گواہی ہر مسلمان اپنے کلمہء شہادت میں عبدہ و رسولہ کہہ کردیتا ہے، بلکہ عبدیت و بشریت تو پہلے ہے اور نبوت و رسالت بعد میں، کہ وہ نبوت و رسالت آپ کو چالیس سال کی عمر شریف کے بعد عطا فرمائی گئی تھی، جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر خود ارشاد فرمایا کنت عبداً قبل ان اکون رسولاً [ مؤطا ] یعنی میں عبد اور بشر تو پہلے تھا اور رسول بعد میں بنا۔ صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ وعلیم اجمعین۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ منکروں نے پیغمبر کی بشریت کی بناء پر ان کی نبوت کا انکار کردیا اور محرومی میں مبتلا اور فی النار والسقر ہوگئے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے راہ حق و ہدایت پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 50:3

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

کیا جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے (تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ ) یہ لوٹنا تو بہت بعید (از عقل) ہے

[ 3] منکرین کے بعث بعد الموت پر اچنبھے کا ذکر وبیان : سوا رشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک عجیب بات ہے۔ یعنی اول تو ایک بشر کا نبی و رسول بن جانا بجائے خود ایک باقابل قہم معاملہ ہے۔ اور پھر اس پر مزید یہ کہ اس نے جو پیغام سنایا وہ بھی ناقابل یقین اور بڑا عجیب ہے کہ ناقابل یقین اور بڑا عجیب ہے کہ ہم مرکز مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جائیں گے، بھلا یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے، یہ تو ایک انہونی اور ناقابل فہم بات ہے، بھلا جب ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور گل سڑ کر ختم ہوجائیں گے اور نام ونشان تک مٹ جائے گا، تو اس کے بعد ہم دوبارہ کس طرح زندہ ہوجائیں گے ؟ سو بعث بعد الموت کا معاملہ چونکہ خالص غیب کا معاملہ ہے اس کو وحی کے ذریعے جاننے کے سوا اور کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں، اس لئے جو لوگ وحی اور رسالت کے منکر ہیں ان کے لئے آخرت کے اس عقیدے کو ماننا اور اس پر ایمان لانا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے، اس لئے ایسے منکر موگوں نے عقیدہ آخرت کے بارے میں ہمیشہ ایسے ہی تعجب اور انکار کا اظہار کیا، کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے، یہ بات چونکہ ان کی عقل ناقص کے محدود دائرے میں نہیں آسکتی اس لئے وہ اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے، والعیاذ باللّٰہ، حالانکہ ایسے لوگ اگر خود اپنے باوجود میں ہی صحیح طور پر غور کرلیں تو اس حقیقت کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں رہتا بھلا جس نے ان کو پہلی مرتبہ وجود بخشا نیست سے ہست کیا اس کے لئے ان کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ اسی حقیقت کو ایک دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا { قل یحییھا الذی انشاھا اول مرۃ ط وھو بکل خلق علیم }[ یٰسین : 9 پ 23] یعنی ان گلی سڑی اور بوسیدہ ہڈیوں کو وہی دوبارہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ کمال و ایمان و یقین سے بہرہ مند و سرفراز رکھے، اور شک وریب کے ہر شائبے سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا اکرم الاکرمین،
Ayah 50:4

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

حالانکہ ہمیں پوری طرح معلوم ہے وہ سب کچھ جو کہ زمین کھاتی ہے ان کے جسموں میں سے اور ہمارے پاس ایک ایسی کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے

[ 4] منکرین کے شبہات کے جواب کا ذکر وبیان : سو منکرین کے شبہات کے جواب کے لئے اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ جو کچھ زمین ان میں سے کھاتی ہے۔ یعنی اول تو زمین سب کچھ نہیں بلکہ ان میں سے کچھ ہی کھاتی ہے۔ کیونکہ روح تو پہلے ہی ان سے منتقل ہوجاتی ہے، اور پھر جسم میں سے بھی جیسا کہ حدیث میں ثابت ہے کہ عجب الذنب کی وہ چھوٹی سی ہڈی باقی رہتی ہے جس سے آدمی کے جسم کی ترکیب ہوتی ہے [ جامع البیان، الوجیز وغیرہ ] اور پھر جو بھی کچھ زمین کھاتی ہے، وہ بھی ہمارے علم سے باہر نہیں، بلکہ ہمیں اس کا پوری طرح علم ہے، تو پھر ہمارے لیے ان کو دوبارہ زندہ کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو تم لوگ اگر خداوند قدس کے علم محیط اور قدرت مطلقہ کو اپنے ناقص علم اور نا قص قدرت پر قیاس کرکے غلط فہمی کا شکار ہوتے ہو تو یہ تمہارا اپنا قصور ہے، جس کا بھگتان تم کو خود ہی بھگتنا ہوگا ورنہ امر واقع تو تمہارے اس تصور سے یکسر مختلف ہے، سو منکروں کو مغالطہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم کو اپنے علم پر قیاس کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے، جسم انسان کے جن اجزاء کو زمین تحلیل کرتی ہے ان سب کو وہ پوری طرح جانتا ہے، کوئی چیز اس سے مخفی اور اچھل نہیں ہوسکتی، بھلا جو ہر چیز کا خالق ہو اور جس کے حکم سے ہر چیز پر موت طاری ہوتی ہو، اس سے کوئی چیز مخفی کس طرح رہ سکتی ہے ؟ اور جب وہ ہر ہر چیز کو جانتا ہے اور اس کی قدرت بھی کامل اور لامحدود ہے تو وہ جب چاہے گا تمام اجزاء کو اکھٹا کرکے ازسرنو زندہ کر دے گا، سبحانہ وتعالیٰ ، اور پھر وہاں پر بات اسباب و وسائل کی نہیں بلکہ محض اس کے اشارہ اور حکم و ارشاد کی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { فانما ہی زجرۃ واحدۃ فاذاھم بالساھرۃ۔ [ النزعت : 13-14 پ 30] یعنی وہ تو محض ایک ڈانٹ اور ایک جھڑکی ہوگی جس کے نتیجے میں یہ سب کے سب کھلے میدان میں آموجود ہوں گے سو اس قادر مطلق کی قدرت بےپایاں اور اس کا ہر کام بےمثال ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ [ 5] اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ریکارڈ کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہمارے پاس ایک ایسی کتاب بھی ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے۔ یعنی حفیظ یہاں پر " حافظ " کے معنی میں ہے، یعنی اس کتاب میں ان کے نام ان کی تعداد اور ان کے جملہ کوائف محفوظ ہیں، نیز یہ کلمہ محفوظ کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے، یعنی وہ کتاب ہر طرح کے تغییر و تبدیل سے محفوظ ہے، مراد ہے لوح محفوظ جو اللہ پاک کے علم ازلی وابدی سے کنایہ ہے، جس کو تمثیل میں اس طرح ادا فرمایا جاتا ہے، کہ جیسے اس طرح کی کسی جامع و محفوظ کتاب کا علم محیط اور محفوظ ہوتا ہے اسی طرح اللہ پاک کا علم مطلق و بیکراں بھی سب کو محیط بھی ہے اور طرح سے محفوظ و مصون بھی [ محاسن التاویل، جامع البیان، المدارک، الخازن وغیرہ ] سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذاتی علم کے علاوہ ہر چیز کا سارا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لئے ایک ایسا عظیم الشان دفتر بھی قائم کر رکھا ہے جس میں ہر چیز اور ہر شخص کے بارے میں پوری تفصیل درج ہے کہ کون کہاں اور زمین کی کس پہنائی میں دفن ہے۔ اور اس کے جسم کے اجزاء کہاں کہاں اور کس کس شکل میں ہیں اور ہر شخص کے اقوال و افعال کا پورا پورا بھی اس میں درج موجود ہے تاکہ ہر کوئی اپنی زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ وبدلہ پاس کے اور اس طرح عدل و انصاف پورے ہوسکیں، اور تمام و کمال پورے ہو سکیں۔ سو اس قادر مطلق کے لئے نہ انسان کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھانا کچھ مشکل ہے اور نہ اس سے حساب لینا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

(اور تعجب ہی نہیں) بلکہ انہوں نے صاف (اور صریح) طور پر جھٹلا دیا حق کو جب کہ وہ ان کے پاس پہنچ گیا جس کے باعث یہ لوگ ایک بڑے ہی الجھن والے معاملے میں پڑے ہیں

[ 6] جرم انکار کی شدت اور سنگینی کا اظہار وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے جھٹلایا دیا حق کو جب کہ وہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ یعنی قرآن حکیم کو۔ جس کی تکذیب و انکار پورے دین اور پیغمبر (علیہ السلام) سب کی تکذیب ہے، اور جو خرابیوں کی خرابی، تباہیوں کی تباہی اور دارین کی ہلاکت و بربادی کا پیش خیمہ ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم حق سے یہاں پر مراد قرآن مجید ہے جو لوگوں کو قیامت سے آگاہ کر رہا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے اس کی تکذیب کردی جبکہ وہ ان کے پاس پہنچ گیا، سو اول تو ان لوگوں نے اس بدیہی حقیقت کا انکار کیا جس کے انکار کے لئے ان کے پاس نہ کوئی معقول وجہ تھی اور نہ ہی اس کے لئے کوئی معقول وجہ ہوسکتی ہے اور پھر اس پیغام حق کا انکار بھی اس وقت کیا جب کہ وہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ یعنی اس کے آنے سے پہلے تو پھر بھی ان کیلئے انکار کی گنجائش ہوسکتی تھی کہ اس وقت یہ لوگ جاہل اور بیخبر تھے لیکن جب کہ وہ ان کے پاس پہنچ گیا، اور حق اور حقیقت کی وضاحت پوری طرح ہوگئی تو اب کے اس انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ آفتاب نصف النہار کا انکار ہے۔ جس کی حماقت محتاج بیان نہیں سو ایسے میں ان اس جرم انکار کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے ؟ اور ایسوں کی بگڑی آخر کیسے بن سکتی ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ [ 7] انکار حق کا نتیجہ الجھن والتباس، والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس یہ لوگ ایک بڑے ہی الجھن والے معاملے میں پڑے ہیں۔ کبھی یہ پیغمبر کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ شخص ہم ہی جیسا ایک انسان اور بشر ہے، جو یہ پیغمبر کیسے ہوسکتا ہے، اور کبھی کہتے ہیں کہ نبوت کسی بڑے دنیا دار اور دولت مند شخص کو ملنی چاہیے تھی، کبھی کہتے ہیں کہ یہ شاعری ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ کہانت ہے، پیغمبر کو کبھی جادو گر قرار دیتے ہیں اور کبھی مجنون، کبھی کہتے ہیں کہ زندگی تو بس یہی دنیاوی زندگی ہے، اور کبھی کہتے ہیں کہ دوسرے جیون میں پھر آئیں گے اور دوسری زندگی ملے گی وغیرہ ذالک من الخرافات، پس اس سے بڑھ کر اضطراب اور اس سے زیادہ بری الجھن اور کیا ہوگی ؟ جس میں یہ لوگ مبتلا ہیں، معلوم ہوا کہ اللہ پاک اور اس کے رسول کریم ﷺ کی بتائی ہوئی راہ حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی اور اس سے محرومی کے بعد انسان کو حقیقی امن و اطمینان اور سکون وقرار کی دولت کبھی نہیں مل سکتی۔ { فالحمدللّٰہ الذی شرفنا بھذا الذین العظیم وبالایمان اللّٰہم فزدنا ایمانا بک ویقینا وحبا فیک وامتثالا لامرک } سو راہ حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی کا اثر و نتیجہ بہرحال الجھاؤ اور اضطراب میں گھرنا ہے، والعیاذ باللہ، اور اسی اضطراب اور الجھاؤ کے نتیجے میں یہ لوگ ایک صریح قسم کے تضاد فکر میں مبتلا ہیں کہ ایک طرف تو یہ لوگ خداوند قدوس کی ان تمام صفات کا قرار کرتے ہیں جو قیامت کو لازم کرتی ہیں، اور دوسری طرف یہ قیامت کا انکار کرتے ہیں جو اس اقرار کا بدیہی نتیجہ اور لازمی تقاضا ہے، اور اس طرح یہ لوگ ایسی ذہنی الجھن میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے نکلنے اور خلاصی پانے کی کوئی راہ ان کو سجھائی نہیں دیتی۔ ان لوگوں کے اسی تضاد فکر کی طرف سورة ذاریات کی آٹھویں آیت میں اس طرح اشارہ فرمایا گیا ہے { انکم لفی قول مختلف } یعنی تم لوگ یقینا ایک سخت قسم کے تناقض میں مبتلا ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے اور فکر و عمل کی ہر کنجی اور انحراف سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،
Ayah 50:6

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

تو کیا انہوں نے کبھی دیکھا نہیں اپنے اوپر (تنے ہوئے) اس آسمان کو کہ کس طرح بنایا ہم نے اس کو (مضبوطی اور حکمت کے ساتھ) اور اس کو مزین (و آراستہ) کردیا (ستاروں کے ان عظیم الشان چراغوں کے ساتھ) اور (اس طور پر کہ) اس میں کوئی رخنہ تک نہیں

[ 8] آسمان میں غور و فکر کی دعوت کا ذکر وبیان : سو آسمان اور اس میں موجود سامان عبرت و بصیرت میں غور وفکر کی دعوت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر تنی ہوئی آسمان کی اس عظیم الشان چھت میں کبھی غور نہیں کیا کہ ہم نے اس کو کس پُر حکمت طریقے سے بنایا اور یہ کہ ہم نے اسے عظیم الشان چراغوں کے ذریعے مزین کیا۔ جن جیسے دوسرے کوئی عظیم الشان چراغ انسان نے نہ کبھی دیکھے ہیں، اور نہ ہی وہ ایسا سوچ ہی سکتا ہے، اور جب ان کو ظاہری روغن و اسباب کے بغیر ہم نے اس طرح روشن ومنور کردیا تو پھر ہمارے لئے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے، نیز اس میں یہ درس بھی ہے کہ عظیم الشان کارخانہء قدرت بیکار اور بےمقصد نہیں ہوسکتا کہ یونہی ختم ہوجائے، { ربنا ما خلقت ھذا باطلا فقنا عذاب النار }۔ سو جس قادر مطلق نے آسمان و زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو پیدا فرما دیا، اس کیلئے اس چند فٹ کے انسان کو دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس انسان نے بہرحال دوبارہ اٹھنا اور اپنے کئے کرائے کا صلہ و بدلہ پانا ہے۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور تمام و کمال پورے ہوں۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 50:7

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین (کے اس عظیم الشان کرے) کو بھی ہم ہی نے بچھایا ہے اور اس میں (پہاڑوں کے) عظیم الشان لنگر بھی ہم ہی نے ڈالے ہیں اور ہم ہی نے اس میں اگائی ہر قسم کی (عمدہ اور) خوشنما پیداوار

[ 9] کُرہ ارضی میں دعوت غور و فکر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے بچھایا زمین کے اس عظیم الشان کرے کو اور اس کے اندر عظیم الشان لنگر ڈال دیے پہاڑوں کے۔ تاکہ تم اس میں امن و سکون کے ساتھ رہ بس سکو اور یہ کرہ ارضی تمکو لے ڈولنے نہ لگے، تو کیا یہ سب کچھ یونہی بےکار اور بےمقصد ہوسکتا ہے ؟ { تعالیٰ اللّٰہ عما یقولون علوا کبیراً }۔ بہرکیف اس ارشاد میں مکذبین و منکرین قیامت کے لئے آسمان و زمین میں پائے جانے والے عظیم الشان نشانہائے قدرت و ہدایت میں دعوت غور و فکر ہے، سو اگر یہ لوگ اپنے پاؤں تلے بچھے ہوئے اس کرہء ارضی اور اس میں پائے جانے والے سامان عیش وقرار ہی میں غور کرلیں اور اگر اپنے سروں کے اوپر تنے ہوئے اس آسمان ہی میں نگاہ عبرت ڈال لیں تو ان کی آنکھیں کھل جائیں اور ان کو اپنے خالق ومالک کی معرفت اس کی قدرت و حکمت سے آگہی نصیب ہوجائے اور یہ نور ایمان و یقین اور راہ حق و صواب سے سرفراز ہوجائیں۔ مگر یہ لوگگ غور کرتے ہی نہیں۔ [ 10] اسباب معیشت میں گور و فکر کی دعوت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے اگائی زمین کے اندر ہر قسم کی عمدہ پیداوار تمہارے بھلے اور فائدے کے لئے اے لوگو ! اور ایسی عمدہ کہ اس کا منظر بھی نہایت خوبصورت اور دلربا ہے، اور اس کے اندر تمہارے لئے طرح طرح کے عظیم الشان فوائد و منافع بھی ہیں، ان میں تمہاری خوراک اور ضرورت زندگی کا سامان بھی ہے جس سے تم لوگ دن رات طرح طرح سے مستفید ہوتے ہو۔ اور جن کی خوش منظری اور ان کا حسن و جمال تمہاری باصرہ نوازی اور ذوق جمال کی تسکین کے بھی کام آتا ہے۔ سو جس قادر مطلق کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کے یہ عظیم الشان مظاہر تم لوگ ہر طرف پھیلے بکھرے دیکھتے ہو، کیا اس کو اس کے بارے میں کبھی باز پرس نہیں کرنی چاہئے ؟ اور کیا وہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا ؟ اور کیا کوئی عقل سلیم اس بات کو تسلیم کرسکتی ہے کہ جس پروردگار نے انسان کی اور اس کی زیست وبقاء کیلئے ایسے حکمتوں بھرے انتظامات فرمائے ہیں، کیا وہ اس کو یونہی چھوڑ دیگا ؟ اور اس سے کوئی حساب نہیں لیگا ؟ یہ بات تو اس خالق حکیم اور مالک مطلق کے تقاضائے عدل و حکمت کے خلاف ہے۔ ایحسب الانسان ان یترک سُدًی ؟ یعنی کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس کو یونہی بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ سو نہیں، اور ہرگز نہیں بلکہ تم لوگوں کو یقینا اور بہرحال دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا اور اپنے خالق ومالک کے حضور پیش ہونا اور اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں، اور علی وجہ التمام والکمال پورے ہوسکیں۔
Ayahs 50:8–10

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

سامان بصیرت اور یاد دہانی کے طور پر ہر اس بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہوف 2 (حق اور حقیقت کی طرف)

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور ہم ہی نے اتارا آسمان سے برکتوں بھرا پانی پھر اس کے ذریعے ہم نے اگائے طرح طرح کے باغات اور غلے کھیتوں کے

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور کھجوروں کے ایسے لمبے لمبے درخت بھی جن کے خوشے تہ بہ تہ لگے (اور خوب گندے ہوئے) ہوتے ہیں

[ 11] درس گاہ کائنات میں غور و فکر کی دعوت کا ذکر وبیان : سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ زمین و آسمان کی اس کھلی کتاب میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ ہم نے ایک عظیم الشان سامان عبرت و بصیرت و تذکیر و یاددہانی کے طور پر پیدا کیا ہے ہر اس بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہو حق اور ہدایت کی طرف۔ سو معلوم ہوا کہ حکمت بھری یہ کائنات ساری ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جس کی ایک ایک چیز گویا ایک کھلا ورق اور عظیم الشان ہے جس میں قدرت کی نشانیاں جھلمل جھلمل کرتی نظر آتی ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ خود انسان کے اندر طلب و جستجو پائی جاتی ہو اور وہ استاذ کامل۔ محمد عربی ﷺ کی تعلیمات و ہدایات کے مطابق اس میں غور وفکر سے کام بھی لے، سو کائنات کی اس کھلی کتاب اور آسمان و زمین کے چپے چپے کو ان گوناگوں اور عظیم الشان نشانہائے قدرت سے بھر دیا گیا ہے، جو آنکھوں کے پردے اٹھانے اور دلوں کو جھنجھوڑنے جگانے کیلئے کافی ودافی ہیں، لیکن یہ کرشمائے قدرت موثر اور کارگر انہی لوگوں کیلئے ہوسکتے ہیں جن کے اندر اثر پذیری کی حس اور اس کی اہلیت اور قدرت موجود ہو، پس جو لوگ محسوس پرستی کے روگ کی بناء پر اپنی اس حس لطیف کو مردہ کرچکے ہوتے ہیں ان کے لئے یہ ساری کائنات ہی ایک عالم ظلمات ہے، اور وہ ان مظاہر و اور نشانہائے قدرت سے سبق لینے کی بجائے الٹے اوندھے ہوجاتے ہیں، اور ہلاکت و تباہی کے نہایت ہولناک گڑھوں میں جاگرتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ، چناچہ وہ انہیں حسی طور پر و مظاہر کے آگے جھک اور ان کیلئے سجدہ ریز ہو کر اپنے ہاتھوں اپنی تحقیر و تذلیل اور ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں، اور وہ اپنے اس اندھے اور اوندھے پن کا اور پکا اور سخت کرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا ارحم الراحمین۔
Ayahs 50:11–12

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

روزی دینے کے لئے اپنے بندوں کو اور اسی (پانی) کے ذریعے ہم زندگی بخش دیتے ہیں کسی مردہ پڑی ہوئی زمین کو اسی طرح ہوگا نکلنا (مردوں کا اپنی قبروں سے اپنے وقت مقرر پر)

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

(اسی طرح) جھٹلایا (حق اور حقیقت کو) ان سے پہلے قوم نوح نے اور کنوئیں والوں نے اور قوم ثمود نے

[ 12] رزق و روزی کی بہم رسانی میں سامان غور و فکر : سو اس سے بندوں کی روزی کیلئے حکمتوں بھرے نظام میں سامان غور و فکر کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آسمان سے برکتوں بھرا پانی اتارا۔ پھر اس کے ذریعے ہم نے اس میں طرح طرح کے باغات بھی اگائے اور کاٗی جانے والی فصلیں بھی۔ جیسے گندم، جو، چنے اور چاول وغیرہ وغیرہ جن کی کھیتیاں کاٹی جاتی ہیں، اور ان میں انسانی ضروریات کی تکمیل کیلئے قسما قسم کے سامان بھی ہیں، اور ان میں سے ایک ایک چیز میں قدرت کی عظیم الشان نشانیاں بھی، اس طرح اگر انسان انہی چیزوں میں غور و فکر سے کام لے تو یہ چیزیں اس کی جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کے علاوہ اس کی روحانی غذا کیلئے بھی سامان مہیا کرتی ہیں نیز ان چیزوں کی پیدائش میں آسمان اور زمین اور انکے اندر پائی جانے والی دوسری مختلف چیزوں کے درمیان جو حیرت انگیز توافق پایا جاتا ہے وہ اس خالق ومالک کی قدرت کاملہ، رحمت شاملہ اور حکمت بالغہ کے علاوہ اس کی توحید اور وحدانیت مطلقہ کا بھی قطعی اور کھلا ثبوت ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ کہ زمین و آسمان کی اس پوری کائنات میں ایک ہی ارادہ کار فرما ہے، تب ہی تو آسمان اور زمین کی اس وسیع کائنات میں پائی جانے والی تمام چیزیں باہمی تضاد اور منامات کے باوجود اس قدر حیرت انگیز توافق کے ساتھ انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ سو اگر اس کائنات میں رحمتوں اور حکمتوں بھرا ایک ہی ارادہ کار فرما نہ ہوتا تو یہ متضاد اشیاء اس قدر کمال حکمت اور بےمثال توافق کے ساتھ انسان کی خدمت میں کس طرح لگ سکتی تھیں، اور یہ حکمتوں بھرا نظام آخر کس طرح قائم رہ سکتا تھا ؟ سو یہ امر اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ کائنات کا خالق ومالک ہے۔ [ 13] پانی کے جوہر حیات آفریں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی اس پانی کے ذریعے زندہ کردیتے ہیں مردہ پڑی ہوئی زمین کو تاکہ تم لوگ طرح طرح کے فوائد و منافع سے بہرہ ور رہو سکو۔ تو جب تمہاری جسمانی ضرورتوں کی تکمیل و تحصیل کے لئے ہم نے اس قدر عجیب و غریب انتظام کیا ہے تو کیا ہم تمہاری روحانی غذا کا سامان نہیں کریں گے ؟ یہ کس طرح ہوسکتا ہے ؟ جبکہ اصل چیز روح ہی ہے، سو آسمان سے اتارے جانے والے برکتوں بھرے پانی کے یہ مظاہر اور نمونے اگر تم لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو، اور ہمیشہ اور بار بار دیکھتے ہو، بارش کی یہ گونا گوں برکتیں تم لوگ باربار دیکھتے ہو، سو یہ اسی بارش کا کرشمہ ہے کہ زمین جو بالکل مردہ اور خشک پڑی ہوتی ہے وہ ایسی بےآب وگیاہ ہوتی ہے کہ اس کے کسی گوشے میں کسی سبزے یا روئیدگی کا کوئی نام ونشان تک نہیں ہوتا لیکن بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی اس میں ایک نئی زندگی اور تازہ بہارابھر آتی ہے، اور وہ یکایک لہر اٹھتی ہے، سو یہ سب کچھ نہ خودبخود ہوسکتا ہے اور نہ ہی یہ بےمقصد اور بےکار ہوسکتا ہے۔ سو خالق نے انسان کو جو ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازا ہے تو اس کا حق یہ ہے کہ بندہ ان میں غور و فکر سے کام لیکر اپنے خالق ومالک کی معرفت سے سرشار ہو کر اور اسی کے آگے جھک کر اور اس کی عبادت و بندگی سے سرشار ہو کر اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کریں۔ کہ خداوند قدوس کے انعامات کا یہی تقاضا ہے۔ [ 14] بعث بعد الموت کے لئے استدلال کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جس طرح زمین سے یہ طرح طرح کی انگوریاں نکلتی ہیں اسی طرح ہوگا مردوں کا نکلنا ان کی قبروں سے۔ یعنی جس طرح یہ مردہ پڑی ہوئی زمین تمہارے سامنے زندہ ہوتی ہے اور اس سے قسما قسم کی پیداواریں نکلتی ہیں، اسی طرح ہم قیامت کے روزمرُدوں کو زندہ کرکے نکالیں گے، اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں نے اس سے یہ استنباط کیا ہے کہ قیاس سے عقیدے کا ثابت کرنا درست ہے، حالانکہ یہاں قیاس سے عقیدہ ثابت نہیں کیا جارہا، بلکہ ایسے قطعی طور پر ثابت شدہ عقیدے کی تائید کی جارہی ہے، جو کہ نصوص قطعیہ سے ثابت ہے نہ کہ محض قیاس سے جس طرح اس بدعتی ملاّ نے کہا، قرآن و سنت کی کتنی ہی قطعی اور صریح نصوص ہیں جن میں بعث بعد الموت کے عقیدہ کو صاف اور صریح طور پر بیان فرمایا گیا ہے، تو پھر اسے قیاس سے ثابت کرنے کی آخر تک ہی کیا، اور اس کی ضرورت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح یہ مراد پڑی ہوئی زمین باران رحمت سے زندہ ہوجاتی ہے اور اس سے قسما قسم کی پیداواریں نکلتی ہیں۔ اسی طرح تم لوگ بھی قیامت کے روز دوبارہ زندہ ہو کر اٹھو گے اور اپنی اپنی قبروں سے نکلو گے۔ اور جس طرح مردہ زمین سے نکلنے والی ان طرح طرح کی پیداواروں کے بارے میں کسی شک کی گنجائش نہیں، اسی طرح بعث الموت کے بارے میں بھی کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔
Ayah 50:13

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور قوم عاد اور فرعون نے اور لوط کے بھائیوں نے

[ 15] منکرین سابقین کی تاریخ کا حوالہ : سوا رشاد فرمایا گیا کہ ان سے پہلے نوح اور دوسرے منکروں نے بھی جھٹلایا حق کو۔ سو یہ تاریخ کے حوالے سے درس دیا جا رہا ہے کہ دور حاضر کے ان کفار سے پہلے کی قومیں تکذیب حق کی پاداش میں جس انجام سے دوچار ہوچکی ہیں، وہ آج کے ان کفار کو بھی پیش آسکتا ہے، کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لئے ایک ہے، نیز اس میں آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی کا سامان بھی ہے کہ جس کفر و تکذیب سے آج آپ ﷺ کو سابقہ پیش آرہا ہے، یہ کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی یہی کچھ ہوتا آیا ہے، اور اللہ پاک نے ہمیشہ اپنے رسولوں اور ان کی اتباع و پیروی کرنے والوں کی مدد فرمائی، ماضی میں بھی اس نے ان کی مدد فرمائی اور مستقبل میں بھی وہ آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کے سچے پیروکاروں کی مدد فرمائے گا، اور اس جہاں رنگ و بو کے بعد آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی فرمائے گا جس کی زندگی حقیقی اور ابدی زندگی ہوگی، اور جہاں کی کامیابی بھی حقیقی اور ابدی کامیابی ہوگی، اور جہاں ناکامی بھی سب سے بڑی اور سب سے ہولناک ناکامی ہوگی، والعیاذ باللّٰہ العظیم جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے { انا لننصررسلنا والذین اٰمنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشھاد } [ المومن : 51 پ 24] سو کوئی مانے یا نہ مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے، حق اور حقیقت بہرحال یہی اور صرف یہی ہے کہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی کامیابی دین حق پر سچے پکے ایمان اور یقین اور اس کی مقدس تعلیمات کی پیروی و اتباع میں ہے، اللہم ارزقنا التوفیق لذالک والصبر والثبات علیہ اور تکذیب حق کا انجام ہولناک تباہی ہے جس نے اپنے وقت پر ہر حال واقع ہو کر رہنا ہے، پس منکرین و مکذبین کو جڈھیل ملتی ہے اس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ کہ وہ بہرحال ایک ڈھیل ہے جس نے بالآخر ختم ہو کر رہنا ہے۔ [ 16] اخوان لوط کی تکذیب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور لوط (علیہ السلام) کے بھائیوں نے بھی، یعنی انہوں نے بھی حق کی تکذیب کی جس کے نتیجے میں آخر کار وہ بھی اپنے انتہائی ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے، یہاں پر اخوان سے مراد آنجناب کے قومی بھائی ہیں جن کو ہم قوم بھی کہا جاتا ہے۔ حالانکہ اس قوم میں سوائے حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھرانے سے کوئی گھرانا مسلمان نہیں تھا جیسا کہ سورة ذاریات کی آیت نمبر 36 میں اس کی تصریح موجود ہے، ارشاد فرمایا گیا ہے کہ { فما وجدنا فیہا غیربیتٍ من المسلمین } مگر اس کے باوجود آیت کریمہ میں ان لوگوں کو حضرت لوط (علیہ السلام) کا بھائی فرمایا گیا ہے، سو اس سے معلوم ہوا کہ امتیوں کو پیغمبر کا بھائی کہنا نہ ممنوع ہے نہ خلاف ادب، اور قرآن و سنت کی بیشمار نصوص میں اس کا ثبوت موجود ہے، پس اہل بدعت کا اس پر بدکنا اور اس بناء پر اہل حق کی توہین و تکفیر کرنا، خود ان کی اپنی جہالت و سفاہت اور عناد و ہٹ دھرمی کا ثبوت ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم بہرکیف حضرت لوط (علیہ السلام) کے ان بھائیوں سے مراد سدوم وغیرہ بستیوں کے وہی کافر لوگ ہیں جن کی طرف حضرت لوط (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا گیا تھا [ ابن کثیر وغیرہ ] اور یہ لوگ بھی اپنے جرم تکذیب و انکار کے نتیجے میں آخر کار اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے کہ حق کے انکار اور اس کی تکذیب کا نتیجہ و انجام بہرحال یہی ہے خواہ ایسے لوگوں کو کتنی ہی مہلت اور ڈھیل نہ ملے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس کے قصے میں بڑا درس عبرت و بصیرت ہے۔ ہر اس شخص کیلئے جو درس عبرت لینا چاہئے۔ [ 17] تکذیب رسل کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب نے جھٹلایا اللہ کے رسولوں کو جس کے نتیجہ میں آخر کار ان پر چسپاں ہو کر رہا میرا عذاب۔ کیونکہ ایک رسول کی تکذیب، اور ایک کا انکار سب کا انکار ہوتا ہے کہ ان سب کا پیغام ایک ہی تھا اور سب کا مشن و مقصد مشترک تھا، سو ان لوگوں نے سب کی تکذیب کی جس کے بعد ان کو ڈھیل تو ملی، جتنی حضرت قادر مطلق جل و علا شانہ نے اپنے قانون قدرت کے مطابق ان کو دینا تھی، لیکن جب وہ باز نہ آئے تو آخر کار اللہ پاک نے ان کو اپنے " بطش شدید " میں لیا، اور ایسا کہ پھر ان کے چھوٹنے اور بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں رہی، اور یہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے، اور ان کو ہمیشہ کے لئے عذاب الیم و مہین میں دھرلیا گیا اور یہی ہوتا ہے نتیجہ و انجام انکار و تکذیب حق کا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین۔
Ayah 50:14

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور ایکہ والوں نے اور تبع کی قوم نے بھی ان سب نے جھٹلایا ہمارے رسولوں کو آخرکار (ان پر) چسپاں ہو کر رہی میری وعید

[ 18] منکرین کے دلوں پر ایک دستک کا ذکر وبیان : سو بعث بعد الموت کے منکروں کے دلوں پر دستک دینے اور ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کیلئے ان سے سوال کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم عاجز آگئے پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں، تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کردینا ہمارے لئے آخر کیا اور کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو تمہارا بھلا اور تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ تم لوگ ایمان و یقین کی دولت سے سرشار ہو کر حیات بعد الممات کیلئے تیاری کرو اور ابدی خسارے اور دائمی نقصان سے بچ جاؤ، کہ زمین و آسمان کا یہ سارا کارخانہء ہست و بود تمہارے سامھے موجود ہے، اور نہایت ہی منظم اور پر حکمت طریقے سے مسلسل اور لگاتار چل رہا ہے، یہ آپ ہی اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ اس کا خالق ومالک جب ہمیں اور اس پوری کائنات کو پیدا کرنے سے عاجز نہیں تھا، تو آخر وہ قیامت قائم کرنے اور اس انسان کو دوبارہ پیدا کرنے اور ایک نیا جہاں بپا کرنے سے کیوں عاجز رہے گا ؟ جبکہ عام انسانی عقل و تجربہ کے مطابق دوبارہ پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوتا ہے، تو پھر منکریں کو بعث بعد الموت سے آخر اس قدر اچنبھا اور تعجب کیوں ؟ حالانکہ عام قاعدہ یہی ہے کہ نقاش نقش ثانی کو پہلے سے بھی بہتر بناتا ہے جب کہ یہاں پر معاملہ اس خالق ومالک قادر مطلق ہے جس کی شان کن فیکون کی شان ہے۔ یعنی وہ جب کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے صرف اتنا فرماتا ہے کُن [ ہوجا ] تو وہ ہوجاتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو جو لوگ بعث بعد الموت کے منکر ہیں وہ دراصل اپنی ہی تنگ ظرفی اور کم عقلی کا ثبوت دے رہے ہیں ورنہ بعث الموت عقل و نقل اور فطرت سلیمہ سب کا تقاضا ہے اور یہ کائنات اور اس کی ایک ایک چیز اپنی زبان حال سے اسکا اعلان اظہار کرتی ہے بشرطیکہ انسان صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء الصراط، ملہم الصدق والصواب، فبہ الثقۃ وعلیہ الاعتماد، فی وجہ کل شروفساد، ودفع کل ظلم وعناد، جل جلالہ، وعم نوالہٗ ، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 50:15–16

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

تو کیا ہم عاجز ہوگئے پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے ؟ (کچھ بھی نہیں) بلکہ یہ لوگ شک (اور شبھے) میں پڑے ہیں نئی پیدائش کے بارے میں

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا ہے انسان کو اور ہم پوری طرح جانتے ہیں اس کے ان وسوسوں کو جو اس کے دل میں گزرتے ہیں اور ہم اس سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں1

[ 19] منکرین کے سبب انکار کی تعیین و تشخیص کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے سبب انکار کی تشخیص کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ دراصل نئی پیدائش کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ یعنی نہ تو یہ لوگ ہماری قدرت کا انکار کرسکتے ہیں، اور نہ ہی ان کا انکار کسی اساس و بنیاد پر قائم ہوسکتا ہے، کہ حق و حقیقت کے انکار کی کوئی اسا و بنیاد ہو ہی نہیں سکتی، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ نئی پیدائش کے بارے میں شک میں پڑے ہیں، کہ اس کا کوئی حسی اور ظاہری نمونہ اس کے سامنے موجود نہیں، اس لئے یہ شکوک و شبہات کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہ لوگ یہ کہنے کی تو جرات نہیں کرسکتے کہ ہم پہلی بار آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو بنانے، اور اس کو چلانے سے عاجز اور قاصر رہ گئے کہ یہ تو ایک بدیہی اور جلی حقیقت ہے اور ان کو خود اسکا اقرار و اعتراف ہے، کہ آسمانوں اور زمین کی اس ساری کائنات کے خالق ہم ہی ہیں، مگر اس کے باوجود ان کو اس بات میں تردد ہے کہ ہم ان کو ازسرنو دوبارہ پیدا کرسکتے ہیں، حالانکہ دوسری بار بنانا اور پیدا کرنا پہلی بار بنانے اور پیدا کرنے کی نسبت عام ضابطہ اور تجربہ کے مطابق میں زیادہ آسان ہوتا ہے، سو اس کے باوجود انکار آخرت ان لوگوں کی حماقت و بلادت اور ان کی مت ماری کا ثبوت ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ ورنہ جب اس کائنات کے خالق مالک کو یہ مانتے ہیں تو پھر اس کے دوبارہ پیدا کرنے کو کیوں بعید سمجھتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، اللّٰھم احفظنا منھا بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین۔ [ 20] اللہ تعالیٰ کے کمال علم وقدرت کے ایک پہلو کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا اپنی قدرت کے شاہکار اس انسان کو اور یقینا ہم ان وسوسوں کو بھی جانتے ہیں جو اس کے دل میں آتے ہیں۔ تو پھر ہم نے ان کی کوئی بھی چیز آخر چھپی کس طرح رہ سکتی ہے ؟ اور کوئی بھی اپنے کئے کے انجام اور وبال سے بچ کس طرح سکتا ہے ؟ سو یہیں سے یہ انداز بھی کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر غلط سوچ اور الٹی کھوپڑیوں والے ہیں وہ لوگ جو اس وحدہ لاشریک کو جس کی یہ شان ہے کہ دلوں کی وسوسہ اندازی بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔ اس کو یہ لوگ دنیاوی بادشاہوں وغیرہ پر قیاس کرکے اس کیلئے طرح طرح کے واسطے اور وسیلے گھڑتے ہیں، اور اس طرح یہ کئی قسم کی شرکیات کا ارتکاب کرتے، اور شرک کے نت نئے دروازے کھولتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کی خلوت و جلوت، اور اس کے ظاہر و باطن کی کوئی بھی حالت اور کیفیت اس وحدہ لاشریک سے مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی، اور اس کیلئے انکے اقوال و افعال کا ریکارڈ رکھنا کچھ مشکل اور بعید نہیں ہوسکتا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب تمام مخلوق کے مخدوم اور حضرت خالق جل جلالہ کی قدرت و عنایت کے شاہکار اس انسان کا خالق وہی وحدہ لاشریک ہی ہے اور اس کے ہر ہر جوڑ اور بند کو اس قادر مطلق نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے استوار کیا ہے تو پھر کسی طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ قادر مطلق اس کے کل پرزوں کے دروبست اور ان کے عمل سے پوری طرح آگاہ نہ ہو ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { الایعلم من خلق وھو الطیف الخبیر } [ سورة الملک : 14 پ 29] یعنی کیا وہی نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا جبکہ وہ بڑا ہی باریک بین انتہائی باخبر ہے۔ سو خالق اپنی مخلوق کی تمام جزئیات سے باخبر ہے اور پوری طرح باخبر ہے ورنہ وہ اس پر حکمت طریقے سے اس کی تخلیق اور اس کی حفاظت و بقا کا انتظام کس طرح کرسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ، اللہم فکن لنا واجعلنا لک بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیوۃ۔
Ayahs 50:17–18

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

(اور ہمارے اس براہ راست علم کے علاوہ یہ حقیقت بھی دھیان میں رہے کہ) جب اخذ کر رہے ہوتے ہیں دو اخذ کرنے والے (ان میں سے) ایک داہنے بیٹھا ہوتا ہے اور ایک بائیں

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

وہ منہ سے کوئی بات بھی نکالنے نہیں پاتا مگر اس کے پاس ایک حاضر باش نگران موجود رہتا ہے

[ 23] نگران فرشتوں کے بارے میں تنبیہ و آگہی : سو اس سے نگرانی کرنے اور ریکارڈ تیار کرنے والے فرشتوں کے بارے میں تنبیہ و آگہی فرما دی گئی۔ سو ریکارڈ تیار کرنے والے ان دو فرشتوں کی موجودگی کے بارے میں آگہی بخشے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے ایک اس کے دائیں بیٹھا ہوتا ہے اور دوسرا اس کے بائیں۔ یعنی دائیں اور بائیں جانب کے دو فرشتے جن میں سے دائیں طرف والا فرشتہ نیکیاں لکھنے پر مامور ہوتا ہے، اور بائیں طرف والا اس کی برائیوں کو قلم بند کرنے کے لئے، [ روح، خازن، مدارک وغیرہ ] اور پھر کرم بالائے کرم ملاحظہ ہو کہ حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دائیں طرف والا فرشتہ بائیں طرف والے فرشتے کا امیر ہوتا ہے، چناچہ بندہ جب کوئی نیکی کرتا ہے تو فرشتہ اس کو فوراً لکھ لیتا ہے اور ایک کی بجائے دس نیکیاں لکھتا ہے، لیکن جب وہ شخص کوئی برائی کرتا ہے والعیاذ باللّٰہ تو دائیں طرف والا فرشتہ بائیں طرف والے فرشتے سے کہتا ہے کہ اس کو ابھی سبع ساعات [ سات گھنٹے تک ] تک مہلت دو کہ شاید توبہ و استغفار کرلے [ مراغی، ابن کثیر وغیرہ ] نہیں تو اس کے بعد اس کی وہ برائی لکھی جائے گی۔ یہاں پر الفاظ کا ذکر فرمایا ہے اعمال کے نوٹ کیے جانے کا ذکر اگرچہ لفظوں میں موجود نہیں لیکن علی سبیل التغلیب وہ بھی اس میں داخل سمجھے جائیں، اس لیے کہ جب زبان سے نکلے ہوئے ہر لفظ نوٹ کیے جانے کیلئے اس قدر اہتمام فرمایا گیا ہے تو ہاتھ پاؤں سے صادر ہونے والے اعمال کے نوٹ کیے جانے کا اہتمام تو بریق اولیٰ ہونا چاہئے اس لئے انسان کو قول و فعل کے ہر معاملے کے بارے میں پوری طرح محتاط رہنا چاہئے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ [ 24] انسان کے منہ سے نکلنے والے ہر لفظ کی حفاظت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ جو بھی کوئی لفظ انسان منہ سے نکالتا ہے اس کے پاس ایک حاضر باش و مستعد نگران موجود رہتا ہے جو اس کی ہر بات کو لکھتا جاتا ہے، کما قالہ ابن عباس وغیرہ وھو الراحج۔ پہلے زمانے میں تو شاید یہ بات سمجھنا لوگوں کیلئے مشکل ہوا ہو، مگر اب تو اس کے نمونے ہماری آنکھوں کے سامنے اس دنیا میں ایسے پائے جاتے ہیں کہ آپ کو یہ سمجھنا بھی مشکل ہیں جیسا کہ ایک ٹیپ ریکارڈ سب کچھ ریکارڈ کرلیتا ہے اور ایک کمیرہ سب کی پوری فلم تیار کرلیتا ہے وغیرہ وغیرہ تو جب اس ناقص و ضعیف البنیان انسان نے اتنا کچھ کرلیا ہے تو پھر قادر مطلق نے جو کچھ کیا ہوگا اس کے کہنے ہی کیا ؟ سبحانہ و تعالیٰ ، اس آیت کریمہ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ آدمی کے وساوس و خطرات ان فرشتوں کی دسترس سے باہر ہیں۔ غیب صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور یہ اس کی ستاری اور کریمی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے دلوں کے بھیدوں کا علم اپنے ہی تک محدود رکھا۔ سبحانہ وتعالیٰ ، اور اس اہتمام کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے اعمال کے ریکارڈ کا ایک اور اہتمام بھی اتمام حجت کیلئے فرما رکھا ہے وہ یہ کہ اس کے ہاتھ پاؤں اور کان آنکھ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے اسی کے اعمال و اقوال کی گواہی دیں گے اور اس طرح اس کے اعمال اور اس کی جملہ حرکات و سکنات کے بارے میں وہ زمین بھی گواہی دے گی جس پر اس نے ایسے اعمال کیے ہوں گے خواہ وہ خیر ہوں یا شر جیسا کہ سورة زلزال میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ یعنی اس دن زمین خبریں بیان کرے گی اور صحیح حدیث میں " اخبارھا " [ اس کی خبروں کا ] مطلب یہی بیان فرمایا گیا ہے کہ اس روز زمین ہر مرد اور عورت کے بارے میں یہ گواہی دے گی کہ تو نے میری پشت پر فلاں اور فلاں دن یہ اور یہ کام کیے تھے۔ سو انسان کے اعمال اور اس کے اقوال و افعال کی ریکارڈنگ کا اس قدر انتظام موجود ہے لیکن انسان پھر بھی غافل ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 50:19

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور (یہ لو) آپہنچی سختی موت کی حق کے ساتھ (تب کہا جائے گا اس غافل انسان سے کہ) یہ ہے وہ چیز جس سے تو بھاگتا تھا

[ 25] " سکرَۃُ الْمَوْت " کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے موت کی تذکیر و یاددہانی اور اس وقت انسان کی حالت کا ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ غافل و بےفکر انسان چونک کر اٹھ کھڑا ہو اور اس کے لئے تیاری کی فکر و کوشش میں لگ جائے، سو ارشاد فرمایا گیا اور آگئی موت کی سختی حق کے ساتھ اور اس وقت منکر انسان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس سے تو بھاگتا اور کترایا کرتا تھا اور تو چاہتا تھا کہ موت نہ آئے اور تو اسی طرح دنیا کے مزے اڑاتا اور خرمستیاں کرتا رہے، اور ہر کافر و منکر اور دنیا دار انسان کا یہی حال ہوتا ہے کہ یہ دنیا ہی اس کیلئے جنت ہے، بخلاف مومن صادق کے، کہ اس کیلئے یہ دنیا تو ایک قید خانہ ہے جس سے وہ جلد نکل کر جنت کی وسعتوں اور اپنے رب کی رحمتوں میں جانا چاہتا ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں حضرت نبی (علیہ السلام) سے وارد و منقول ہے کہ یہ دنیا مومن کیلئے سجن [ قید خانہ ] ہے اور کافر کیلئے جنت۔ اور جنت سے سرفرازی کا ذریعہ یہی موت ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ موت ایک پل ہے جو کہ محبوب کو محبوب سے ملاتا ہے [ الموت جسر یوصل الحبیب الی الحبیب ] مگر کافر اس سے بھاگتا ہے جیسا کہ پ 28 سورة جمہ کی آیت نمبر 8 میں ارشاد فرمایا گیا ہے { قل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملقیکم ثم تردون الیٰ علم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون } مگر موت سے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ اس نے تو اپنے وقت پر بہرحال آکر ہی رہنا ہے اسلئے اس سے بھاگنے کی بجائے اس کیلئے کوشش اور تیاری کرنی چاہئے۔ اللہم ارزقنا التوفیق لذالک والسداد والثبات علیہ وذالجلال والاکرام۔ بہرکیف اس ارشاد سے موت کی سختی کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے تاکہ انسان غفلت سے چونک سکے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، سبحانہ وتعالیٰ ۔ [ 26] " نفخ صور " کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور پھونک ماردی جائے گی صور کے اندر۔ نفخ ماضی مجہول کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں پھونک دیا گیا یا پھونک ماری گئی، حالانکہ ایسا ابھی تک ہوا نہیں بلکہ آئندہ ہوگا اور صور ابھی تک پھونکا نہیں گیا بلکہ پھونکا جائے گا مگر چونکہ یہ امر اس قدر قطعی اور یقینی ہے کہ گویا کہ واقع ہوچکا ہے اس لیے تحقیق وقوع کی بناء پر اس کو مضارع کی بجائے ماضی کے صیغے میں تعبیر فرمایا گیا ہے جو کہ بلاغت کا ایک معروف اسلوب ہے۔ بہرکیف اس کی قطیعت کے اظہار کیلئے اس کو اس طرح تعبیر فرمایا گیا ہے تاکہ وہ ہولناک منظر نگاہوں کے سامنے رہے یعنی اس کے بعد اب صور کے پھونک دیئے جانے ہی کا مظہر باقی رہ گیا ہے جونہی صور پھونکا جائے گا وہ دن آموجود ہوگا جس سے تم لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے، سو کوئی اس مغالطے میں نہ رہے کہ زندگی بھر موت، پھر برزخ اور پھر حشر و نشر بہت دور کی بات ہے جب صور پھونکا جائے گا تو تمہیں یوں محسوس ہوگا کہ جس مدت کو تم لوگ بہت زیادہ سمجھتے ہیں وہ پلک جھپکتے ہی ختم ہوگئی پس اس وقت اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ یار دکھو۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
Ayah 50:20

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور پھونک مار دی جائے گی صور میں (دوسری مرتبہ جس سے سب از سر نو زندہ ہوجائیں گے) یہ ہے وہ دن جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا (دنیا میں)

[ 27] یوم الوعید کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ صور میں پھونک دیا جائے گا اور وہ یوم وعید ظاہر ہوجائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جن جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا۔ حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے، اس کی رحمت و عنایت کی بناء پر، تاکہ تم لوگ اس کے لئے تیاری کرسکو، مگر تم نے حق کو سن کر ہی نہ دیا، سو اب تم لوگ چکھو مزہ اپنے کئے کرائے کا، اور ہمیشہ کے لئے چکھتے رہو۔ والعیاذ باللّٰہ کیونکہ اس کے بعد کمائی اور تلافیء مافات کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی، کیونکہ وہ جہاں کمائی کا نہیں بدلے اور جزا و سزا کا جہاں ہوگا اور دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو کمائی کیلئے مرحمت فرمائی گئی ہے اس وقت پاتھ سے نکل چکی ہوگی، سو اب اس میں لوٹنا اور اس موقع کو دوبارہ پانا بھی ممکن نہ ہوگا، اس لئے اس کے بعد ایسے بدبختوں اور محروموں کیلئے ہمیشہ کا عذاب ہوگا اور یہی ہے وہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ جس کی تلافی اور تدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل نوعٍ من انواع الخسران۔
Ayah 50:21

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور آگیا ہر شخص (میدان حشر میں اپنے کئے کرائے کا حساب دینے کو) اس حال میں کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا اور ایک گواہ

[ 28] روز قیامت کی پیشی کی تصویر : سو اس روز مہیب یعنی روز قیامت کی حاضری کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ حاضر ہوگیا ہر شخص اس حال میں کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا اور ایک گواہ۔ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق یہ دونوں فرشتے ہوں گے، ایک محشر کی طرف ہانک کرلے جانے کے لئے، اور دوسرا گواہی دینے کے لئے اور طبری و ابن کثیر وغیرہ نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ [ ابن کثیر، صفوۃ وغیرہ ] یہ نفخ صور کے بعد کے مرحلے کا بیان ہے سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز ہر شخص اپنے رب کے حضور پیشی کیلئے اس طرح حاضر ہوگا کہ ایک فرشتہ اس کو پیچھے سے ہانکنے کیلئے مامور ہوگا اور دوسرا اس کے اعمال و اقوال کے ریکارڈ کے ساتھ گواہی دینے کے لئے، یہی مفہوم اس آیت کریمہ کا ظاہر اور متبادر بھی ہے، اور یہی سلف سے منقول بھی ہے، اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے جو دوسرے مفاہیم بیان کئے ہیں وہ تبادر کے خلاف اور مرجوح ہیں۔ بہرکیف اس ارشاد سے نفخ صور کے بعد ہر شخص کی اللہ تعالیٰ کی عدالت میں حاضری کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے حضور اس طرح حاضر ہونا ہوگا کہ اس کے ساتھ ایک سائق ہوگا اور ایک گواہ۔ فاحسن اللّٰہم منارجوعنا الیک، والوقوف بین یدیک، یوم العرض علیک، وخذنا بنواصینا الی مافیہ حبک والرضا بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من مواطن فی الحیاۃ، یاذالجلال والاکرام، یامن بیدہ ملکوت کل شیئ۔ وھو یجیر ولا یجار علیہ، سبحانہٗ وتعالیٰ ۔ [ 29] غافل انسان کی تفضیح و تذلیل کا ایک منظر۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو اس سے پیشی کے وقت مجرم و غافل انسان کی تفضیح و تذلیل کا ایک منظر پیش فرمایا گیا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر مجرم اور غافل انسان سے کہا جائے گا کہ تو اس سے غفلت میں تھا لیکن آج تیری نگاہیں بڑی تیز ہیں۔ واضح رہے کہ یہاں اس پر اس غفلت سے مراد بیخبر ی نہیں۔ کیونکہ خبر تو پیغمبروں کے ذریعے سب کو دے دی گئی تھی، بلکہ اس غفلت سے مراد وہ لاپرواہی اور بےتوجہی ہے، جس کی بناء پر ایسے منکر لوگوں نے حق کی آواز پر کان نہیں دھرا، اور وہ پیغام حق و ہدایت کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوئے، بہرکیف اس وقت ان کی تحقیر و تذلیل اور ان کی تفضیح و تخجیل کے لئے ان سے کہا جائے گا اور ایک ایک سے کہا جائے گا، اور صریح طور پر کہا جائے گا یا یہ صورتحال کی تصویر اور اس کی عکاسی ہے، دونوں احتمال موجود ہیں بہرکیف اس سے کہا جائے گا کہ اس دن اور اس کے تقاضوں سے تم لوگوں کو دنیا میں طرح طرح سے سنایا، بتایا، اور خبردار کیا جاتا تھا مگر تم اپنی غفلت و لاپرواہی کے باعث اس کو سننے ماننے اور اس پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہوتے تھے سو اس سے ایسے لوگوں کی آتش یاس و حسرت میں اور اضافہ ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت ایسے لوگوں سے کہا جائے گا کہ دنیا کے دارالعمل میں تو تم لوگ اس بارے غفلت و لاپرواہی میں غلطاں و پیچاں تھے مگر آج ہم نے تمہاری نگاہوں سے غفلت و لاپرواہی کے وہ سب پردے ہٹا دیے تو اب وہ سب کچھ تمہاری نگاہوں کے سامنے موجود ہے جس کو تم لوگ دنیا کے اس دار الامتحان میں حضرات انبیاء و رسل کے بتانے سے ماننے کو تیار نہیں تھے سو آج تمہاری نگاہیں بہت تیز ہیں اور دنیا میں غیب کے جن حقائق کو تم ناممکن سمجھ رہے تھے اب وہ اپنی اصل اور حقیقی شکل و صورت میں تمہارے سامنے موجود ہیں اور ان کا ایک ایک گوشہ تمہارے سامنے بےنقاب ہوگیا ہے۔ سو اب تم لوگ بھگتو اور بھگتتے رہو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے اور اپنے کفر و انکار کے نتیجہ و انجام کو، کہ یہی تقاضا ہے یوم جزا کا، اور اللہ تعالیٰ کی صفت عدل و حکمت کا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں ہر طرح سے اپنی پناہ میں رکھے، اور اپنی رضا کی راہوں پر ہی چلنا نصیب فرمائے، اور نفس شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین۔
Ayah 50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

(کہا جائے گا کہ) تو تو اس سے بالکل غفلت میں تھا پس ہٹا دیا ہم نے تجھ سے تیرا پردہ سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے

[ 31] منکرین کی قیامت کے روز کی تیز نگاہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد کیا گیا کہ اس روز ایسے منکر سے کہا جائے گا کہ آج تو تمہاری نگاہ بڑی تیز ہے۔ اور آج ان غیبی حقائق کو تو اپنی آنکھوں سے خود دیکھ رہا ہے جن کا دنیا میں تو انکار کرتا رہا تھا بلکہ تو ان کو ناممکن سمجھتا تھا۔ مگر آج کے اس دیکھنے اور جاننے اور ماننے سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا کہ یہ ایمان بالشہود یعنی دیکھنے کے بعد کا ایمان ہے، جب کہ اصل مطلوب ایمان بالغیب تھا اور اس کا وقت گزر چکا، معلوم ہوا کہ اس روز اہل کفر کی نگاہیں بھی بہت تیز ہوجائیں گی۔ جیسا کہ سورة مریم میں بھی ارشاد فرمایا گیا { اسمع بھم وابصر یوم یاتوننا لکن الظلمون الیوم فی ضلل مبین } [ مریم : 38 پ 16] یعنی " اس روز یہ لوگ کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے جس روز یہ ہمارے پاس آئیں گے۔ لیکن یہ ظالم آج کھلی گمراہی میں پڑے ہیں "۔ اور کشف حقائق کے اس منظر رہیب و مہیب کے بعد ایسے تمام منکر چیخ چیخ کر کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب اب ہمیں پورا یقین آگیا اور ہم نے مان لیا ہے پس اب تو ہمیں واپس بھیج دے تاکہ اب ہم دنیا میں جاکر نیک اعمال کی پونچی کما کر لائیں، جیسا کہ سورة سجدہ میں اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا { ولو تری اذا المجرمون ناکسوا رؤوسھم عند ربھم ط ربنا ابصرنا و سمعنا فارجعنا نعمل صالحا انا موقنون } [ السجدہ : 12 پ 21] مگر تب ان کے لئے اس کا موقع کہاں ؟ { وقالوا اٰمنا جوانی لہم التناوش من مکانٍ م بعیدٍ ۔ [ سبا : 52 پ 22] لیکن اتنی فور کی جگہ سے ان کے لئے ایمان کا پالینا کیسے اور کیونکر ممکن ہوگا ؟ و کتنا احسان ہے اس کتاب حکیم کا بنی نوع انسان پر، کہ اس نے قیامت میں پیش آنے والے ان عظیم الشان حقائق و وقائع سے لوگوں کو اس صراحت و وضاحت کے ساتھ اسی دنیا میں آگاہ فرما دیا، تاکہ جو بچنا چاہے بچ جائے، مگر کتنا ظالم اور کس قدر بےانصاف ہے یہ انسان جو اس سب کے باوجود اس سے منہ موڑے ہوئے ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، اللھم فخذنا بنواصینا الیٰ ما فیہ حبک والرضا بہرکیف اس روز ایسے لوگوں کی تفضیح و تذلیل کیلئے ان سے کہا جائے گا کہ آج تو تمہاری نگاہیں بہت تیز ہیں، دنیا میں جس چیز کا تم کو دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا، آج اس کا ہر گوشہ تمہارے سامنے روشن اور بےنقاب ہوگیا ہے کہ تم اس طرح چیخ چیخ کر اس کو ماننے کا اعلان و اقرار کر رہے ہو، جبکہ دنیا میں تم لوگ خود ماننا تو درکنار ماننے والے کے وجود تک کو برداشت کرنے کے روادار نہیں تھے، اور ان کے وجود کو مٹا دینے کے درپے تھے، جس طرح آج جبکہ یہ راقم یہ سطور تحریر کر رہا ہے امریکہ کی سب سے بڑی شیطانی سپر پاور افغانستان کے نہتے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور طالبان کی اسلامی حکومت کو ختم کرنے کے لئے دن رات لگاتار ان پر آگ برسا رہی ہے، جبکہ ان مظلوموں کا جرم اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور بس، اللہ امریکہ کو اور دوسرے ایسے تمام ظالموں کو تباہ و برباد اور نیست و نابود کرے، { اللّٰہم انا نجعلک فی نحورھم ونعوذبک من شرورھم } آمین ثم آمین یا رب العالمین۔