Ayahs 50:1–15ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق الاول بل ھم الخ۔
تفسیر : یہ سورة مکیہ ہے جیسا کہ حسن وعکرمہ و جابر و ابن عباس ؓ فرماتے ہیں صحیح مسلم وغیرہ کتب حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ اس سورة کو صبح کی اول رکعت میں پڑھا کرتے تھے اور عید میں بھی پڑھتے تھے اور جمعہ کے خطبہ میں بھی پڑھتے تھے یہاں سے سورة مفصلات شروع ہوتی ہیں بعض کہتے ہیں حجرات سے پچھلے سورة میں انسان کی سعادت کے متعلق بارہ احکام تھے اور احکام کی پابندی اس بات کو ضرور چاہتی ہے کہ اگر مخالفت کریں گے تو سزا ملے گی اور تعمیل پر ثواب و اجر کے مستحق ہوں گے اور یہ بھی بدیہی بات ہے کہ دنیا سزاء و جزا کا گھر نہیں کس لیے کہ صدہا بدکار اخیر عمر تک عیش و کامرانی میں رہے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ اس کے لیے ایک اور ہی جگہ ہے اور وہ دارآخرت ہے۔ اس لیے اس سورة میں حشر کا ذکر کیا گیا اور اس کے امکان پر اس عالم سے چند نظائر پیش کئے گئے جن سے اس کی قدرت کاملہ اور حکمت کا بخوبی ثبوت ہوتا ہے۔ اور حشر کے مسئلہ سے پہلے نبوت کا مسئلہ ثابت کیا گیا کس لیے کہ حشر کے ثبوت کے لیے دلائل کے سوا کسی مخبر صادق کی شہادت درکار ہے اور مخبر صادق یا رسول ہے یا اس کی کتاب جو رسول کی معرفت دنیا میں نازل ہوئی فقال ق والقرآن المجیدق کے معنی میں علماء کے کئی قول ہیں۔
ابن عباس ؓ سے جو روایت ہے کہ ق ایک عظیم الشان پہاڑ ہے اگر یہ تسلیم بھی کرلے جاوے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اس سورة میں جوق ہے اس سے وہ کوہ قاف مراد ہے۔ 1 ؎ صحیح تر یہی بات ہے کہ یہ حرف ابتدائِ کلام میں کسی خاص رمز کے لیے بولا گیا ہے جس کو اس کا رسول ہی جانتا تھا اور ان کو بھی معلوم کرایا گیا ہو تو ممکن ہے۔ فقیر کہتا ہے ق سے اس کی قدرت کی طرف اشارہ ہے اور قہر و جبروت کی طرف بھی جو قاف کی طرح محیط ہے اور تمام ممکنات کو احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس طرف بھی کہ اس رمز کو قلب والا بھی سمجھتا ہے۔ فتادہ کہتے ہیں یہ قرآن کا ایک نام ہے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں اللہ کا نام ہے بعض علماء کہتے ہیں یہ کسی کلمہ کا مخفف ہے۔ 2 ؎
الحاصل ق سے کسی رمز خاص کی طرف اشارہ کر کے قرآن مجید کی قسم کھاتا ہے اور قرآن کو مجید یعنی ذی عزت کہہ کر یہ بات بتلاتا ہے کہ اس کی عزت اس کا مجد اس کی صداقت ومنجانب اللہ ہونے کی شہادت دے رہا ہے اور اس کی قسم کھانا بھی یہ بات بتلا رہا ہے کہ کسی پیاری یا محترم چیز کی قسم کھایا کرتے ہیں جیسا کہ عرب کا دستور تھا۔ پس اس سے ثبوت دیا جاتا ہے کہ یہ جھوٹی کتاب نہیں بلکہ خدا کے نزدیک محترم و محبوب ہے۔ قسم کا جواب ذکر نہیں کیا۔ کس لیے کہ جس چیز کا مخالف انکار کرتے تھے اسی کے ثبوت پر قسم ہے اس بات کو مخاطب سمجھتا تھا اس لیے اس کا ذکر کرنا بےفائدہ تھا۔ اور وہ حضرت ﷺ کی نبوت اور قیامت کا زیادہ انکار کرتے تھے اس لیے پھر انہیں دونوں باتوں کو ثابت کرتا ہے فقال بل عجبوا ان جاء ھم منذرمہنم فقال الکافرون ھذا شیء عجیب یعنی وہ ایمان کیا نہیں لاتے بلکہ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ ان میں سے ایک شخص کو خدا نے رسول کیونکر بنا دیا جو برے افعال کے نتائجِ بد سے ڈراتا ہے۔ کفار اس بات کو عجیب بات کہتے تھے۔ یہاں تک مسئلہ نبوت کا ثبوت تھا اور اس کے ضمن میں قرآن مجید کا منجاب اللہ ہونا بھی ثابت کیا گیا اس کے بعد مسئلہ حشر کو شروع کرتا ہے اذا متنا وکنا ترابا بذلک رجع بعید کہ کفار کہتے ہیں کیا جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے تو پھر جئیں گے یہ بہت دور ہے یعنی ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے قد علمنا ما تنقص الارض منہم وعندنا کتاب حفیظ کہ ہم کو معلوم ہے زمین جس قدر ان کے جسموں کو کھاتی ہے۔ سدی کہتے ہیں نقص سے مراد اس جگہ موت ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ جس قدر لوگ ان میں سے مرتے ہیں وہ ہم کو معلوم ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں ہمارے پاس ایک دفتر ہے جس میں ہر بات ہے اور وہ ہر بات کا محافظ ہے۔ یا وہ دفتر محفوظ ہے اس میں کمی زیادتی نہیں ہونے پاتی۔
غرض یہ کہ ہمارے علم کے احاطہ سے انسان کا جسم مر کر باہر نہیں ہوجاتا اس کے اجزاء کہیں کیوں نہ جاویں ہم کو معلوم ہیں۔ یہاں تک علم ثابت کیا تھا۔ افلم ینظروا الی السماء سے بلدۃ میتا تک اپنی قدرت کاملہ کا اظہا کیا پس جب علم بھی اور قدرت بھی ہے تو پھر باردگر جی اٹھنے میں کیا تعجب ہے ؟ بلکہ اس کو حق مان لینا چاہیے اس لیے قدرت ثابت کرنے سے پہلے کفار کو الزام دے کر فرماتا ہے بل کذبوا بالحق لماجاء ھم وہ تعجب کیا کرتے ہیں بلکہ حق بات کو جھٹلاتے ہیں جو ان سے بیان کی گئی فہم فی امر مریج پس وہ خلجان میں پڑے ہوئے ہیں۔ یا غلط خیال میں مبتلا ہیں۔ (مریج مضطرب ‘ ملتبس، فاسد (
مخلوقات میں سے اپنی قدرت کاملہ ثابت کرنے کے لیے یہ چند دلائل بیان کرتا ہے اول آسمان کی پیدائش اور اس کی ایسی محفوظ و مستحکم بناوٹ اور اس کی ستاروں سے آرائش۔ ومالہامن فروج جمع فرج شگاف یا دراڑ۔ آسمانوں کی بابت کئی جگہ ہم بحث کرچکے ہیں کہ جس قدر سے خدا تعالیٰ کی قدرت کا اثبات مقصود ہے۔ اس کا نہ حکمائِ قدیم کا مذہب مخالف ہے نہ جدید کا۔ اس سے یہ شبہ پیدا کرنا کہ جب آسمانوں میں کوئی شگاف نہیں تو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) جو تھے آسمان کے اوپر کیوں کر پہنچے اور حضرت الیاس ( علیہ السلام) کس طرح گئے اور جناب خاتم الانبیاء ﷺ شب معراج میں سب کو کیونکر طے کر گئے ؟ محض خام خیال ہے کس لیے کہ ان حضرات کا جسم اطہر روحانیت سے مبدل کردیا گیا تھا جس کے نکل جانے کو جسم مانع نہیں۔ اور شگاف اور چیز ہے صانع کی طرف سے کھڑکی یا دروازہ ہونا اس کے منافی نہیں جیسا کہ ابواب السماء آیا ہے پس یہ بھی ممکن ہے کہ ان دروازوں سے گئے ہوں۔
دوم زمین کی بناوٹ اور اس کی وسعت اور اس میں پہاڑوں کا ہونا اور ہر قسم کی جڑی بوٹی مختلف رنگ و مختلف تاثیر کی پیدا کرنا جو صاحب بصیرت اور خدا کی طرف متوجہ ہونے والوں کے لیے ایک تبصرہ یعنی آئینہ ہے جس میں غور و فکر کی نگاہ کرنے سے وہ خدائے ذوالجلال کی بےانتہاء قدرت وکبریائی کو دیکھ سکتا ہے۔ سوم آسمانوں سے پانی اتارنا اور اس ایک پانی سے باغ اور کھیتیاں اگانا اور بلند بلند کھجور کے درخت پیدا کردینا جن کے تہ بہ تہ تابھے اور پکے ہوئے پھل لٹکا کرتے ہیں اور ان چیزوں سے بندوں کو روزی دی جاتی ہے۔ اور اس پانی سے مردہ یعنی خشک طرح سے ہوگا یعنی جس نے اگلے سال کی مردہ جڑی بوٹیوں کو زندہ کردیا وہ انسانوں کو بھی زندہ کر دے گا کیا جو نباتات پر قادر ہے وہ حیوانات پر قادر نہیں ؟ کیا مرے ہوئے انسان اس کے احاطہ قدرت کاملہ سے باہر ہیں ؟ ہرگز نہیں حشر کا مسئلہ ثابت کر کے یہ بات بتلاتا ہے کہ اس مسئلہ کا انکار نئی بات نہیں ہے ان قریش سے پہلے بھی بہت سی قومیں جن کو قوائے بہیمیہ و شہوانیہ کے ظلمات و حجابات نے اندھا کردیا تھا اس کے منکر تھے کیونکہ ان کی کوتاہ نظر میں اسی عالم کے تجملات تھے اور یہ طبعی بات ہے۔ ملزم و مجرم بوقت ارتکاب جرم عدالت کے ذکر سے بھی نفرت کرتا ہے۔ پھر ان نام آور قوموں کے نام گنواتا ہے فقال کذبت قبلہم قوم نوح کہ ان سے پہلے نوح ( علیہ السلام) کی قوم نے جھٹلایا تھا اور اصحاب الرس نے اصحاب الرس کی تحقیق صراح میں ہے رس چاہ بسنگ برآور وہ ونام چاہ بقیہ ثمود ونام وادی و نام آبے و چاہ کندن پختہ کنوئیں کو رس کہتے ہیں۔ صحیح تر یہی ہے کہ اس سے مراد حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی قوم ہے جن کے ہاں ایک پختہ کنواں تھا جس سے وہ مویشی کو پانی پلاتے تھے پیغمبر کی نافرمانی اور اپنی بدکرداری سے ہلاک ہوئے۔ بعض کہتے ہیں قوم ثمود مراد ہے ان کے ہاں بھی ایک بڑا عمیق پختہ کنواں تھا بعض کہتے ہیں ایک اور قوم اس وادی رس میں تھی۔ وثمود وعاد و فرعون و اخوان لوط یعنی لوط ( علیہ السلام) کی قوم جو شام میں جھیل مردار کے کنارے رہتے تھے و اصحاب الایکۃ اور ایکہ والے۔ ایکہ بن کو کہتے ہیں یہ قوم جہاں تھی وہاں درختوں کے بڑے جھنڈ تھے ان کے نبی بھی حضرت شعیب ( علیہ السلام) تھے و قوم تبع اور تبع حمیری کی قوم۔ تبع مذکور ایک نبی یا باخدا شخص تھا یمن میں۔ فرماتا ہے کل کذب الرسل ہر ایک نے اپنے اپنے رسول کو جھٹلایا حشر کے بارے میں اور توحید و دیگر امور میں فحق وعید۔ پس ان پر ہمارا عذاب ثابت ہوگیا ہر ایک برباد و ہلاک ہوا اس کے بعد پھر اصل مسئلہ حشر کی طرف رجوع کرتا ہے۔ افعیینا بالخلق الاول کہ کیا ہم اول بار کے پیدا کرنے سے تھک گئے ہیں ؟ نہیں ہرگز نہیں پھر کیوں وہ باردگر پیدا کرنے میں شبہ کرتے ہیں جو ایک بار پیدا کرسکتا ہے وہ اس کو مٹا کر باردگر بھی پیدا کرسکتا ہے۔
Ayahs 50:16–19ترکیب : ونعلم حال مقدرۃ بتقدیرنحن ویجوزان یکون مستانفاً ، والضمیر فی بہ یرجع الی ما ان جعلت موصولۃ والباء زائدۃ کمافی قولہ صوت بکذا اوللتعدیۃ او یرجع الی الانسان ان جعلت مامصدریہ۔ والباء للتعدیۃ۔ والوسوستہ الصوت الخفی والمراد بھاھھنامایتختلج فی قلبہ اذا مقدرباذکر اومتعلق باقرب اوبنعلم قعید فعیل یطلق علی الواحد والمتعدد۔ مبتدء عن الیمین عن الشمال خبرہ۔ بالحق حال او مفعول۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا۔ انسان کے حال سے اب اپنے بےانتہا علم وقدرت پر دلیل لاتا ہے۔ انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اس لیے آسمانوں و زمین کو ایک جگہ اور ان کے مقابلہ میں دوسری جگہ اس کو ذکر کیا۔ اور درحقیقت انسان خدائے لایزال کی بےانتہا قدرتوں کا ایک بڑا خزانہ ہے اگر یہ اپنے حالات میں غور کرے تو اس کو بیشمار دلائل صاف صاف یہ کہہ دیں گے کہ خدا تعالیٰ کی قدرتیں اور اس کا علم بےانتہا ہے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ فقال ولقدخلقناالانسان کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے نہ کسی اور نے نہ یہ آپ سے آپ پیدا ہوگیا یہ ہماری قدرت دیکھو ونعلم ماتوسوس بہ نفسہ اور ہم اس کے دلی ارادوں اور خطرات سے بھی واقف ہیں یہ ہمارا علم دیکھو۔ اور ہم کو اس کے خطرات پر کیوں علم نہ ہو۔ ونحن اقرب الیہ من حبل الورید اور ہم انسان سے اس کی رگ گردن سے بھی قریب تر ہیں۔ حبل رسی سے مراد رگ ‘ ورید خاص رگ کا نام ہے ‘ گلے کی رگ جس کو شاہ رگ کہتے ہیں وہ دو رگیں ہیں جو سر سے آتی ہیں اور اس کے گردن کے اگلے رخ کو گھیرتی ہیں دل کی رگ سے جا ملتی ہیں جن کے کٹنے سے مرجاتا ہے۔ پس یہ اضافت حبل کی ورید کی طرف اضافہ بیانیہ ہے خدا تعالیٰ علت العلل ہے علت کو اپنے معلول کا علم حضوری ہے اس لیے وہ شاہ رگ سے بھی قریب ہے کیونکہ ورید کو تو اجزائِ لحمیہ حاجب ہیں خدا کا قرب مکانی قرب نہیں بلکہ ذاتی ہے کیونکہ انسان اس کے وجود اصلی کا ایک ظل ہے اور اس کے وجود مطلق کا تعین۔ وہ اس کے ساتھ حلول و اتصال صوری سے اقرب نہیں اور نہ اتحاد سے۔ ابن کثیر کہتے ہیں نحن اقرب سے مراد یہ ہے کہ ہمارے فرشتے اس کی رگ گردن سے بھی قریب ہیں کیونکہ ان کا تعلق قلب سے ہے اور وہ ملہم ہیں۔ 1 ؎ اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے اذیتلقیٰ المتلقیان جبکہ دو ملنے والے انسان کے دائیں بائیں سے آتے اور ملتے ہیں اور اس کی دونوں طرف آ بیٹھتے ہیں یعنی ہم تو اس کے خطرات کو جانتے ہیں اور دو شخص بھی اس کے دونوں طرف لکھنے والے بیٹھے ہیں اس پر حجت قائم کرنے کے لیے جمہور مفسرین کہتے ہیں کہ ان دونوں شخصوں سے دو فرشتے دائیں طرف اور بدی کا لکھنے والا بائیں طرف بیٹھا رہتا ہے۔ جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے کر اما کاتبین یعلمون ماتفعلون اور رات کے اعمال لکھنے والے فرشتے صبح ہوتے ہی چلے جاتے ہیں صبح کو دن کے اعمال لکھنے والے آتے ہیں پھر بدلتا رہتا ہے یہ ہیں یتلقی المتلقیان کے معنی۔ مایلفظ من قول جو بات انسان منہ سے نکلتا ہے ان میں سے ایک اس کو لکھ لیتا ہے نیک ہے تو دائیں طرف والا بد ہے تو بائیں طرف والا جو اس کا رقیب یعنی محافظ اور عتید یعنی اس کام کے لیے مہیاوتیا رہے اس سے معلوم ہوا کہ دل کے خطرات نہیں لکھتے صحیحین میں
ا ؎۔ کیا خوب کہا ہے سعدی نے اس قرب کے معنی میں ؎ یازنزویک ترازمن عین است۔ دین عجب ترکہ من ازوے۔ 12
ایک حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے خطرات معاف کردیے جب تک کہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل میں نہ لائیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہی الفاظ و اعمال لکھتے ہیں جن میں ثواب و عذاب ہے پانی پلانا ‘ کھانا کھلانا ‘ ان باتوں کو نہیں لکھتے مگر الفاظِ آیت میں عموم ہے۔
Ayahs 50:20–29ترکیب : مالدی ان جعلت ماموصوفہ فعتید صف تھا وان جعلت موصولۃ فبدلھا اوخبر بعد خبر او خبر محذوف الذی جعل مبتداء متضمن معنی الشرط فالقیاہ خبرہ او بدل من کل کفار۔
تفسیر : علامہ محی الدین ابن العربی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ دائیں طرف بیٹھنے والے سے مراد اس کی وہ قوت ہے جو اس کو نیک اعمال پر آمادہ کرتی ہے اور بائیں طرف والے سے مراد وہ قوت جو شر کی طرف بر انگیختہ کرتی ہے۔ یہ خدا کی طرف کے دو موکل ہیں جو ہر روز ملتے ہیں، یعنی ان کا مقابلہ رہتا ہے اور ان دونوں قوتوں سے جو جو خطرات اس کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ان کو ہم جانتے ہیں، کیونکہ اس کی رگ گردن تو اس کے دل سے دور ہے اور ہمارا اس کے دل سے تعلق ہے۔ واللہ اعلم۔
یہاں تک تو انسان کی حالت دنیاوی کا بیان تھا، اب یہ ایک اور عالم میں جاتا ہے۔ یہ عالم تو اس کی ایک منزل یا ایک شب باش کی مہمان سرائے تھی یا اس کی تجارت کا بازار تھا، اب جو کچھ کیا تھا اس کا پشتارا یا سہارا اس کے ساتھ ہے اور اب یہ اور جگہ چلے و جاءت سکرت الموت بالحق اور موت جو برحق ہے جس میں کسی کو بھی کلام و شبہ نہیں، اس کی بےہوشی طاری ہوئی اور موت کے غش نے اس کو حق دکھادیا جن باتوں میں شبہ کرتا تھا اب اس کو آنکھ سے دکھائی دینے لگے۔ ادھر سے آنکھوں پر پردہ پڑا دوسرا عالم اس پر منکشف ہوا۔ ذالک ماکنت منہ تحید۔ یہ وہ چیز ہے کہ اے انسان ! اس سے تو بڑا ناخوش ہوتا تھا اور بھاگتا پھرتا تھا۔ دنیا سے اٹھ گیا اور وہ دوسرے عالم میں پہنچا ایک مدت تک وہاں رہا۔ پھر حشر کا دن شروع ہوتا ہے، جو ظہور کلی ہے۔ فقال و نفخ فی الصور اور صور پھونکا جاوے گا، یہ وہ دن مقرر ہے وجاءت کل نفس معہا سائق و شہید یہاں سے لے کر لہم مایشائون فیہا ولدینا مزید تک نیکوں اور بدوں کا انجام جنت و جہنم بیان فرماتا ہے۔ سبحان اللہ کس لطف کے ساتھ انسان کی ابتداء اور انتہا اور اس کے اعمال کا نتیجہ اور موت کی کیفیت اور حشر کا حال بیان فرمادیا اور انسان کے حالات سے حشر کے امکان پر دلائل قائم کرنے میں کلام شروع ہوا تھا۔ یہ بلاغت طاقت بشریہ سے باہر ہے۔ اب ہم الفاظ آیات کی شرح کرتے ہیں، سائق ہانکنے والا شہید گواہ ضحاک کہتے ہیں۔ سائق فرشتہ اور گواہ انسان کے ہاتھ پائوں فرشتہ اس کو کھینچ کر عدالت میں لے جائے گا۔ حسن و قتادہ کہتے ہیں دونوں فرشتے ہوں گے، بعض عرفاء کہتے ہیں۔ سائق دو قسم کے ہوں گے۔ اگر نیک ہے تو اس کا سائق شوق و جذبہ ہے جو اس کو حضرت کبریائی میں لے جائے گا اور بد ہے تو اس کی غفلت و نحوست جو اس کو مورد عتاب میں کشاں کشاں لے جائے گی اور شہید اس کی حالت دربار میں کہا جائے گا۔ لقد کنت فی غفلۃ من ھذا کہ تو اس سے غافل تھا سو آج تیری آنکھیں کھلیں۔ وقال قرینہ ھذا مالدی عتید اب حساب شروع ہوتا ہے۔ انسان کا مصاحب وہی فرشتہ جو اس کی نیکی اور بدی لکھنے کے لیے مقرر ہوا تھا، یہ عرض کرے گا میرے پاس اس کے اعمال کا یہ ذخیرہ اور دفتر حاضر ہے۔ قرین جنس ہے، ایک کو بھی شامل ہے اور دو کو بھی مگر مراد اسی جگہ وہی دو فرشتے ہیں۔ نیکی بدی لکھنے والے ان کو کبھی جنس کے لحاظ سے مفرد صیغوں سے تعبیر کیا جاتا ہے، کبھی تثنیہ سے۔
حکم ہوگا۔ القیافی جہنم کل کفار عنید۔ القیا کے صیغہ میں دو قول ہیں، بعض کہتے ہیں۔ تثنیہ کا صیغہ ہے، یعنی دو فرشتوں کو حکم ہوگا، وہ دو فرشتے یا وہی نیکی بدی لکھنے والے ہیں کہ اس کافر سرکش کو جہنم میں ڈال دویا، وہ فرشتے جہنم کے داروغہ ہیں۔ بعض کہتے ہیں، یہ مفرد کا صیغہ القین تھا نون تاکید کو الف سے بدل لیا جیسا کہ قض کو قضا کرلیا کرتے ہیں۔ تب ایک فرشتہ کو خطاب ہے جو اسی کام پر متعین ہے، جن کو جہنم میں ڈالنے کا حکم ہوگا، ان کے یہ اوصاف ہیں۔ کفار ہر کافر عنید سرکش مناع للخیر نیک بات سے اوروں کو بھی روکنے والا معتد ظالم مریب خدا تعالیٰ کی باتوں میں شک کرنے والا الذی جعل مع اللہ الہا آخر خدائی میں اوروں کو شریک سمجھنے والا جس میں یہ اوصافِ بد ہیں، وہی جہنمی ہے انسان کو ان اوصاف سے بچنا چاہیے۔
اس کے بعد اس کے مضل یعنی بہکانے والے ساتھی شیطان کا کیا فیصلہ ہوگا ؟ اس کو ذکر کرتا ہے، قال قرینہ ربنا ما اطغیتہ ولکن کان فی ضلال بعید اس کا قرین یعنی ساتھی جس سے مراد شیطان ہے۔ یہ عذر کرے گا کہ الٰہی میں نے تو اس کو گمراہ نہیں کیا تھا، یہ خود ہی بڑی گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔ وہ مردود اپنی برأت کرے گا۔ خدا تعالیٰ فرما وے گا۔ لا تختصموا لدی و قد قدمت الیکم بالوعید میرے روبرو جھگڑا نہ کرو، میں رسولوں کی معرفت تم کو سزا پہلے سنا چکا ہوں کہ نافرمانیوں کا یہ نتیجہ ہوگا۔ اس میں شیطان کچھ باتیں بنائے گا اور اس کے در جواب کافر و گمراہ جھوٹے عذرات پیش کرے گا کہ اس نے مجھے یوں کہا تھا، یعنی میرے دل میں یہ باتیں ڈالی تھیں۔ خدا تعالیٰ فرماوے گا مایبدل القول لدی میرے سامنے بات نہیں بدل سکتی، یعنی جھوٹی بات نہیں چلتی کہ بدل کر کوئی کچھ کہے اور میں اس کے بدلنے کو مان لوں۔ وما انا بظلام للعبید اور نہ میں کسی بندہ پر ظلم کرتا ہوں، ظلام اسی جگہ بمعنی ظالم ہے، اس سے یہ بات نکالنا کہ بڑا ظالم نہیں، کیونکہ ظلام مبالغہ کا صیغہ ہے۔ تھوڑا ظالم ہے۔ غلط خیال ہے، اس کا مفہوم مخالف نہیں۔
Ayahs 50:30–37تفسیر : جب دوزخیوں کو دوزخ میں ڈال چکے گا تو دوزخ سے پوچھے گا، ہل امتلئت کیا تو بھرگئی، وہ کہے گی اور کچھ ہے ؟ یعنی اور بھی ہو تو لایئے بخاری و مسلم ترمذی وغیرہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ جہنم ہل من مزید ہل من مزید کہے گی، یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا پائوں رکھ دے گا تو کہے گی۔ بس بس۔ قدم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ خود اس کی اشتہاء کو فرو کردے، یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ یہاں تک دوزخیوں کا حال تھا، اب جنتیوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید کہ پرہیز گاروں کے سامنے جنت لائی جاوے گی، جس کو وہ عرصات میں آنکھوں سے سامنے دیکھیں گے، فرمایا جاوے گا یہ وہ ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اور یہ کس کے لیے ہے ؟ لکل اواب حفیظ یہ ہر ایک رجوع کرنے والے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرے اور احکامِ الٰہی کی محافظت کرے اور غائبانہ اللہ سے ڈرے اور خالص دل نیاز مند اللہ کی طرف رکھے۔ حکم ہوگا ان نیک بندوں کو اس میں داخل کرو، ہمیشہ سلامتی سے اس میں رہیں گے۔ ان کے بدلہ اعمال کے سوا ہم اپنی طرف سے ان کو اور بہت کچھ دیں گے۔ اس ذکر کو تمام کرکے پھر کفار مکہ کی طرف روئے سخن کرتا ہے کہ ان سے پہلے ہم نے بہت سی جماعتیں اور زمانے کے لوگ ہلاک کردیے جو ملک میں پھیلے ہوئے تھے، پھر بتاؤ کہ ان کے لیے کہیں بھاگنے اور بچنے کی جگہ بھی ملی ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ پھر فرماتا ہے اس میں اہل دل کے لیے عبرت ہے۔