50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 50:38–45

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے اندر کی چیزوں کو چھ روز میں بنایا اور ہم کو کچھ بھی تکان نہ ہوئی۔

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

پھر جو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور پاکیزگی بیان کر اپنے رب کی تعریف کے ساتھ دن نکلے سے پہلے اور دن چھپے سے پہلے

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور کچھ رات سے بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور نماز کے بعد بھی

وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 50:41 in the Quran reader

اور سن رکھو جس روز کہ پکارنے والا پاس سے پکارے گا۔

یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ Open ayah 50:42 in the Quran reader

جس روز کہ وہ ایک چیخ کو بخوبی سنیں گے، یہ دن ہوگا قبروں سے نکلنے کا،

اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ Open ayah 50:43 in the Quran reader

ہم زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہمارے پاس ہی پھر کر آنا ہے۔

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ Open ayah 50:44 in the Quran reader

جس دن کہ زمین پھٹ کر لوگ دوڑتے ہوئے نکل آئیں گے یہ لوگوں کا جمع کرنا ہم کو بہت آسان ہے،

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ Open ayah 50:45 in the Quran reader

ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ کہتے ہیں اور اب ان پر کچھ زبردستی کرنے والے نہیں۔ پھر آپ قرآن سے اس کو سمجھاؤ جو میرے عذاب سے ڈرتا ہے۔

ترکیب : من لغوب من زائدۃ لغوب تعب و اعیاء یقال لعب یلعب بالضم لغوباً من اللیل ای بعض اللیل فانہ مفعول لفعل مضمر معطوف علی سبح بحمد ربک یفسرہ فسبحہ و من للتبعیض۔ ادبارالسجودای سبحہ اعقاب اصلوٰۃ قرء الجمہور بفتح الھمزۃ جمع و بردقری بکسرھا علی المصدر من ادبرالشیء ادبارا۔ فھی ظرف لسبحہ۔ یوم یسمعون بدل من یوم ینادی یوم تشقق ظرف للضمیر او بدل من یوم الاول سراعا حال ای یخرجون مسرعین۔ واستمع ابرم نادی المناد فیہ ثلاثہ بوجہ اھما ان تبرک مفعولہ راسا وکیون المقصود کن سمنعاً ثانیھا استمع لما یوحی الیک وثالثھا استمع لکسناوی فعلی الاول العامل فی یوم ما یدل علیہ قولہ یوم الخر فی تقدیرہ یخرجون یوم ینادی المنادی۔ 12 منہ تفسیر : مسئلہ معاد کو تمام کرکے جس طرح کہ اس سے پہلے اس پر دلائل بیان کئے تھے، اسی طرح بعد میں دلیل ایک نئی طرز سے بیان کرتا ہے اور اس میں ابتدائِ آفرینش عالم کا حال بتاکر یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس جہان کو ہم نے چھ روز میں پیدا کیا تھا جس کی ہزاروں برس کی عمر ہے، پھر اس کو ہم یوں فنا کردیں گے اور پھر یوں بارد گر بناویں گے۔ فقال ولقد خلقنا السمٰوٰت والارض الخ کہ ہم نے نہ کہ کسی اور نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے اندر کی سب چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا تھا اور ہم کو اس پیدا کرنے میں کوئی تکان و ماندگی نہ ہوئی تھی، اس کی مفصل کیفیت ہم بیان کر آئے ہیں اور یوم سے مراد وقت ہے نہ دن کیونکہ ابھی سورج تو پیدا ہوا ہی نہ تھا، پھر دن جو سورج کے طلوع و غروب سے ہوتا ہے۔ کہاں سے ہوگیا تھا ؟ یوم بول کر وقت مراد لینا عرب کا محاورہ ہے اور جملہ مامسنا من لغوب میں یہود کے خیال باطل کا رد ہے جو وہ کہتے ہیں کہ ہفتہ کے روز ان سب چیزوں کے پیدا کرنے کے بعد خدا نے آرام کیا، چناچہ یہود کی کتاب الخروج کے بیسیویں باب کے گیارہویں درس میں یہ ہے۔ قولہ ” کیونکہ خداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین دریا اور سب کچھ جو ان میں ہے، بنایا اور ساتویں دن آرام کیا “۔ انتہٰی پھر جس نے بغیر تکان کے ان سب چیزوں کو ایک بار پیدا کردیا، کیا وہ باردگر پیدا نہیں کرسکتا ؟ کرسکتا ہے، اس میں ان کا بھی رد ہے جو عالم کو قدیم کہتے ہیں اور قدیم ہونے کے سبب اس کو قابل فنا نہیں کہتے، یعنی یہ عالم فنا نہ ہوگا، پھر جب فنا نہیں تو باردگر پیدا کرنا اور حشر کیسا ؟ یہ حکمائِ یونان و حکمائِ ہند کا قول ہے۔ اس یقینی مسئلہ کے خلاف میں مخالفین بھی طرح طرح کی حجتیں اور ان کے درمیان تکذیب و سخت گوئی بھی کرتے تھے جس سے جناب سرور کائنات (علیہ السلام) کو رنج پہنچتا تھا اور ممکن تھا کہ ان کے جواب میں کوئی سخت بات آپ سے سرزد ہو جو منصب نصیحت کے خلاف تھی، اس لیے آنحضرت ﷺ کو حکم دیتا ہے۔ فاصبر علٰی مایقولون کہ آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور یہ بھی ہے کہ ایسی نا ملائم باتیں سننے سے دل کو رنج اور آئینہ صافی پر کدورت پیدا ہوجاتی ہے، اس لیے یاد الٰہی کا اوقات مخصوصہ میں حکم دیتا ہے۔ یادِ الٰہی رنج و غموم اور کدورات کو دور کردیتی ہے اور روح پر نورانیت چمکنے لگتی ہے۔ فقال و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب ومن اللیل فسبحہ و ادبار السجود۔ مفسرین کے سبح کے لفظ میں کئی قول ہیں۔ بعض کہتے ہیں۔ سبح کے لفظی معنی تو تسبیح کرنا یعنی سبحان اللہ کہنا ہے مگر اس سے مراد نماز پڑھنا ہے، کیونکہ نماز میں تسبیح بھی ہوتی ہے اور ایک جزء سے کل کو خصوصاً نماز کو تعبیر کیا جاتا ہے، جیسا کہ رکوع اور سجدہ سے، پھر اس میں کلام ہے کہ کون سی نماز ؟ اکثر کہتے ہیں، فرائض، قبل طلوع الشمس سے مراد فجر کی نماز اور قبل الغروب سے عصر و ظہر کی نماز اور من اللیل سے تہجد کی نماز جو حضرت پر فرض تھی اور عشاء اور مغرب کی نماز کیونکہ یہ تینوں رات میں ادا کی جاتی ہیں۔ من اللیل کا لفظ تینوں کو شامل ہے اور ادبار السجود سے نوافل مراد ہیں جو فرض نماز کے بعد ادا کئے جاتے ہیں۔ ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے۔ حضرت علی ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے ادبار النجوم و ادبار السجود کے معنی دریافت کئے۔ فرمایا ادبار السجود سے مراد وہ دو رکعت ہیں، جو مغرب کے بعد پڑھی جاتی ہیں اور ادبار النجوم سے مراد نماز صبح سے پہلے کی دو رکعت (رواہ مسدد فی مسندہ و ابن المنذر و ابن مردویہ) اور اسی کے موافق ابن عباس ؓ کی وہ حدیث ہے جس کو ترمذی و حاکم وغیرہ نے نقل کیا ہے اور یہی قول عمر بن الخطاب ؓ و ابوہریرہ ؓ کا ہے، بعض نوافل مراد لیتے ہیں۔ مجاہد و دیگر علماء فرماتے ہیں کہ سبح سے مراد سبحان اللہ بحمدہ کہنا ہے۔ نمازوں کے بعد جیسا کہ صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ کہے اور اسی قدر الحمدللہ کہے اور اسی قدر اللہ اکبر اور اخیر میں لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شی قدیر کہے تو اس کے تمام گناہ بخشے جائیں گے، اگرچہ دریا کے کف کے برابر کیوں نہ ہوں۔ اس کے بعد مسئلہ حشر کا ذکر کرتا ہے اور اس کا آنا یقین بتاتا ہے کہ واستمع یوم ینادی المناد من مکان قریب یوم یسمعون الصیحۃ بالحق ذلک یوم الخروج کہ اے محمد ﷺ یا اے مخاطب تو اس آواز دینے والے کی آواز کا منتظر رہ جس دن کہ وہ بہت پاس سے پکارے گا، جس دن کہ چیخ کی آواز سنیں گے۔ یہ ہے قبروں سے باہر نکلنے کا دن۔ گویا وہ دن یقینی آنے والا ہے اور آپ اس کے منتظر رہیں۔ یہ سن کر گو اس میں شک کررہے ہیں، اس آواز سے مراد نفخ صور کی آواز ہے۔ صور میں پھونکنا ندا دینا ہے، کبھی نداء زبان سے دی جاتی ہے کبھی کسی آلہ سے اور اسی کو چیخ سے تعبیر کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں، اسرافیل صور پھونکیں گے۔ ایک بار تمام مخلوق فنا ہوجاوے گی۔ پھر دوسرے صور سے مخلوق باردگر موجود ہوگی، اس کے بعد حساب کے لیے جبرئیل یا کوئی اور فرشتہ آواز دے گا۔ گویا یہ آواز ایسی یقینا ہونے والی ہے کہ اے نبی یا اے مخاطب ! تو اس کی طرف کان لگا رکھ، پھر فرماتا ہے۔ نحن نحی و نمیت و الینا المصیر کہ دنیا میں ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری طرف پھر کر آنا ہے۔ یعنی یہ ایک سفر (جس کی ابتداء ہمارے ہاں سے ہوئی اور دنیا ایک منزل تھی، پھر وہاں سے کوچ کرکے اس جگہ آنا ہے) ہمارے ارادہ سے ہے، اس لیے حشرو قیامت کا ہونا ضروری ہے۔ یا دلیل اور واقعہ کو بیان کرکے اس کا اعادہ ہے۔ بطور نتیجہ کے ہم زندہ کریں گے بارِدِگر اور ہم دنیا میں مردہ کرتے ہیں اور حشر میں سب کو ہمارے پاس آنا ہے اور وہ کون سا دن ہے۔ یوم تشقق الارض عنہم سراعًا جس دن کہ زمین پھٹے اور لوگ اس میں سے جلد نکل آویں۔ ذلک حشر علینا یسیر یہ حشر ہم پر کچھ مشکل نہیں بلکہ آسان ہے۔ حشر و نشر بیان کرنے کے بعد کفار انکار کرتے تھے جس سے حضرت ﷺ کا دل آزردہ ہوتا تھا اس لیے آپ کو تسلی دیتا ہے۔ نحن اعلم بما یقولون و ما انت علیہم بجبار کہ ہم کو معلوم ہے جو کچھ وہ کہتے ہیں۔ اے محمد ﷺ تمہارا کام پہنچانے کا تھا۔ پہنچادیا، آپ ان پر جبر کرنے کے لیے نہیں بھیجے گئے کہ ان کو اس کے ماننے پر خواہ مخواہ مجبور کریں۔ آپ کا کام نصیحت کرنے کا ہے۔ فذکر بالقرآن من یخاف و عید جو میری سزا سے ڈرے اس کو قرآن کے ہدایت افزا مضامین سے نصیحت کرو، جو نہیں مانتے نہ مانیں۔ وعید اصل میں وعیدی تھا، حالت وقف میں ی کو حذف کردیا، کسرہ اس کی جگہ باقی رہ گیا۔ سورة کے اول میں بھی قرآن کا ذکر تھا۔ ق والقرآن المجید آخر میں بھی اس کا ذکر آیا تاکہ اول و آخر مل کر مضامین کا احاطہ کرکے ق محیط کی صورت پیدا کرے۔