51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 51:1–19

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

قسم ہے اڑنے والی ہوائوں کی

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر بوجھ اٹھانے والوں کی

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر نرم نرم چلنے والوں کی

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر حکم سے ایک چیز کو بانٹ دینے والوں کی

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

بیشک جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچ ہے

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور اعمال کی جزاء و سزا تو ہو کر رہے گی

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

اور قسم ہے آسمان کی جس میں ستاروں کے سبب رستے نمودار ہیں

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

البتہ تم پیچیدہ بات میں پڑے ہوئے ہو۔

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

قرآن سے تو وہی روکا جاتا ہے جو ازل سے برگشتہ ہو

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

اٹکل پچو باتیں بنانے والے غارت ہوں

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

وہ جو غفلت میں بھولے ہوئے ہیں۔

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں فیصلہ کا دن کب ہوگا

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

جس دن کہ وہ آگ پر بھونے جائیں گے

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا، اپنی شرارت کا مزہ چکھو، یہ وہی تو ہے جس کی تم جلدی کیا کرتے تھے

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

البتہ پرہیز گار باغوں اور چشموں میں

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

جو کچھ ان کو ان کا رب دے گا اس کو لے رے ہوں گے کیونکہ وہ اس سے پہلے نیک تھے

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

(عبادت کے سبب) رات میں بہت ہی کم سویا کرتے تھے

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور صبح کو معافی مانگا کرتے تھے

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مالوں میں سائل اور محتاج کا بھی حصہ لگا ہوا تھا۔

ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔ آخذین حال مایہجعون خبر کانوا قلیلا من اللیل ظرف ای فی قلیل من اللیل۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکیہ ہے۔ ابن عباس و ابن زبیر ؓ کا یہی قول ہے۔ اس میں بیشتر امہات المقاصد و اہم المسائل حشر و توحید و نبوت مذکور ہیں۔ سورة ق میں دلائل سے حشر کا اثبات کیا تھا، مگر جہلا کی عادت ہے کہ وہ دلائل میں غور نہیں کرتے، پھر ان کے یقین دلانے کے جو طرز ہیں اسی طور پر ان سے کلام کیا جاتا ہے۔ عرب میں گو صدہا عیب تھے، مگر ایک یہ ہنر بھی تھا کہ وہ جھوٹ بولنے کو اور خصوصاً قسم کھاکر جھوٹ بولنے کو بہت برا سمجھتے تھے اور ان کا یقین تھا کہ جو کوئی قسم کھاکر جھوٹ بولتا ہے برباد ہوجاتا ہے، اس لیے قسم کھاکر بات کہنے سے ان کو یقین آجاتا تھا، اس لیے ان مسائل کا خدا تعالیٰ ان چند چیزوں کی قسم کھاکر حق ہونا بیان فرماتا ہے اور قسم بھی ان چیزوں کی کھائی جو بنفسہ ایک ایک اثبات حشر کے لیے برہان قاطع ہو۔ فقال والذاریات ذرو افالحاملات و قراء فالجریات یسرًا فالمقسمات امرًا کہ ان چار چیزوں کی قسم ہے۔ انما تو عدوں لصادق وان الدین لواقع کہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، وہ سچ ہے اور جزاء و سزا کا دن یعنی قیامت کا ضرور آنے والا ہے۔ مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ چار چیزیں کیا ہیں ؟ بعض کہتے ہیں چاروں سے ایک ہی چیز اس کے صفات مختلفہ کے لحاظ سے مراد ہے، پھر اس میں بھی دو قول ہیں۔ بعض کہتے ہیں سب سے ہوائیں مراد ہیں۔ ذاریات وہ ہوائیں جو غبار اڑاتی ہیں، جن سے اخیر میں بادل پیدا ہوتے ہیں اور حاملات و قرا بوجھ اٹھانے والی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو لیے پھرتی ہیں، جو پانی کے خزانے ہیں اور اسی لیے بادلوں کو بوجھل کہا گیا اور الجاریات یسرا سے بھی وہ ہوائیں مراد ہیں جو پانی برسنے کے وقت نرم نرم چلا کرتی ہیں۔ المقسمات امرا سے بھی مراد وہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو برسنے کے بعد ادھر ادھر لے جاکر پانی تقسیم کردیتی ہیں، ان ہوائوں کی قسم کھانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ انتظام عالم جس نے ان سے اس طرح مربوط کیا ہے جو عقل میں نہیں آتا (کہ ہوائیں اجزائِ ارضیہ کو بکھیرتی ہیں اور پھر وہی جو سماء میں جمع کرتی ہیں۔ بادلوں کو پھر وہی نرم نرم چل کر موقع پر پہنچاتی ہیں۔ پھر وہی تفریق کرتی ہیں) وہ انسان کے اجزائِ متفرقہ جمع کرنے پر بھی قادر ہے۔ بعض کہتے ہیں سب سے ملائکہ مراد ہیں جو ان خدمات پر مامور ہیں اور ایک گروہ کہتا ہے ان چاروں سے چار جدا جدا چیزیں مراد ہیں۔ جن سے انتظام عالم مربوط ہے۔ ذاریات سے مراد ہوائیں حاملات و قرا سے مراد بادل، جاریات یسرا سے مراد کشتیاں جو دریا میں نرم نرم چلا کرتی ہیں۔ مقسمات امراء سے مراد ملائکہ ہیں۔ اس کے بعد کرئہ ارضی اور جمیع عناصر کو جو چیز محیط ہے اس کی قسم کھاکر ایک اور بات بیان فرماتا ہے۔ والسماء ذات الحبک حبک حبیکہ کی جمع ہے جس کے معنی طریق کے ہیں۔ قوی تر یہ ہے کہ آسمانوں میں جو ستاروں سے مختلف راہیں سی نظر آیا کرتی ہیں، وہ حبک ہیں۔ جال سے پڑے ہوئے دکھائی دیا کرتے ہیں کہ ایسے آسمان کی قسم اے کفار تم خود اختلاف میں پڑے ہوئے ہو، تم میں سے کوئی محمد ﷺ کو شاعر کہتا ہے، کوئی ساحر کوئی کاہن، کوئی دیوانہ جس طرح آسمان میں ستاروں سے مختلف رستے اور جال نظر آتے ہیں، اس طرح تمہاری باتیں مختلف ہیں۔ یہ لطیفہ ہے۔ ذات الحبک کہنے میں تمہارا یہ اختلاف ثابت کرتا ہے کہ تم کو کسی بات کا یقین نہیں۔ تمہاری تخمینی باتیں ہیں جو اوہام فاسدہ پر مبنی ہیں، پھر فرماتا ہے۔ یؤفک عنہ من افک قرآن یا نبی سے وہ ہی شبہ کرتا ہے، جس کو ازلی تقدیر نے شبہ کے ظلمات میں ڈال رکھا ہے۔ قتل الخراصون الذین ھم فی غمرۃ ساھون۔ خرص کھجور کے اوپر کے چھواروں کا اندازہ کرنا کہ اتنے من ہوں گے۔ اس جگہ مراد ہے۔ اٹکلیں دوڑانا۔ ابن الانباری کہتے ہیں جب قتل کا لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دیا جاوے تو اس کے معنی ہوں گے لعنت کے ‘ غمرہ غفلت۔ فرماتا ہے کہ ان اٹکل دوڑانے والوں پر لعنت ہے جو غفلت میں پڑے ہوئے آخرت کو بھولے ہوئے ہیں اور پوچھتے ہیں۔ ایان یوم الدین کب ہے۔ روز جزا ؟ بطور تمسخر کے، اب آپ ہی بتاتا ہے۔ یوم ھم علی النار یفتنون کہ وہ دن ہے کہ جس روز وہ آگ میں جلائے جاویں گے اور ان سے کہا جائے گا۔ ذوقوا فتنتکم ھذا الذی کنتم بہ تستعجلون اپنے عذاب کو چکھو یہ ہے وہ کہ جس کی تم دنیا میں جلدی کیا کرتے تھے۔ حشر کے برحق ہونے پر قسم کھاکر وہاں جو کچھ بدون خصوصاً منکرین حشر کا حال ہوگا۔ اس کو یہاں تک بیان فرمایا، اب نیکوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ ان المتقین فی جنات و عیون آخذین ما اتاھم ربہم کہ پرہیز گار لوگ ایسے باغوں میں ہوں گے کہ جن میں چشمے جاری ہیں، اپنے رب کی نعمتیں حاصل کریں گے، پھر اس کا سبب بیان فرماتا ہے کہ کس وجہ سے وہ اس سعادت کے مستحق ہوئے ؟ انہم کانوا قبل ذلک محسنین کہ وہ اس سے پہلے یعنی دنیا میں نیک تھے۔ احسان بڑا وسیع المعنی لفظ ہے جو ہر ایک قسم کی نیکی کو شامل ہے۔ ایمان سے لے کر اعمال صالحہ تک اور اللہ کی عبادت اور بندوں کے ساتھ بھلائی کرنے تک۔ اب قدرے ان کی نیکی کی شرح بھی کرتا ہے۔ کانوا قلیلا من اللیل مایہجعون (الہجوع النوم باللیل) یعنی رات کو عبادتِ الٰہی میں مصروف رہتے تھے، اس لیے بہت کم سوتے تھے، اس سے مراد یہ ہے کہ تہجد کی نماز پڑھتے تھے۔ رات بھر تو یہ کام کرتے تھے۔ و بالاسحارھم یستغفرون صبح کو خدا سے اپنے قصور عبادت کی بابت معافی مانگتے تھے، رات کی عبادت سے غرور نہیں کرتے تھے بلکہ اس پر بھی اپنے کو خطا وار سمجھتے تھے۔ بندگی اس عجز و نیاز کا نام ہے۔ یہ تو تعظیم امر اللہ تھی اور خلق اللہ کے ساتھ ان کا یہ حال تھا۔ و فی اموالہم حق للسائل و المحروم کہ ان کے مال میں سائل کا بھی حصہ تھا اور نہ مانگنے والے کا بھی یعنی سب کو للہ دیا کرتے تھے۔ محروم کے معنی ہیں ممنوع کے ‘ یہ لفظ عام ہے نہ سوال کرنے والے کو بھی اور آفت رسیدہ کو بھی اور اپاہج کو بھی اور جس کا کچھ حق نہیں اس کو بھی شامل ہے۔
Ayahs 51:20–30

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے قدرت کی نشانیاں ہیں

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تم میں بھی (موجود ہے) پھر کیا تم نہیں دیکھتے

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور آسمان میں تمہاری روزی ہے اور وہ بھی کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

پس قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی ! (یہ قرآن و یسا ہی) برحق ہے۔ جیسا تمہارا باہم باتیں کرنا (اس میں شبہ نہیں اسی طرح اس میں نہیں۔ )

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

کیا آپ کو ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ؟

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب ان کے پاس آئے تو کہنے لگے سلام۔ ابراہیم نے بھی کہا سلام۔ اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر ابراہیم اپنے گھر کی طرف متوجہ ہوئے تو تلا ہوا بچھڑا لائے۔

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

پھر ان کو ان کے پاس رکھ کر کہا، تم کھاتے کیوں نہیں ؟

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

(جب نہ کھایا) تو اس کو ان سے خوف معلوم ہوا۔ انہوں نے کہا خوف مت کرو اور ان کو ایک دانشمند لڑکے کی (پیدا ہونے کی) خوشخبری بھی دی

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

پھر ان کی بیوی (سارا) شور مچاتی ہوئی آگے بڑھیں اور اپنا ماتھا پیٹ کر کہنے لگیں کیا بڑھیا بانجھ جنے گی،

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

وہ بولے تیرے رب نے تو ایسا ہی فرمایا ہے۔ وہ جو ہے تو حکمت والا دانا ہے۔

ترکیب : مثل یقرء بالرفع علی انہ لغت لحق او خبرثان او علی انھما خبر واحد وما زائدۃ و یقرء بالفتح انہ حال من النکرۃ ومن الضمیر فیھا اوعلی اضماراعنی وما زائدۃ و قیل معرب و قیل مبنی علی انہ رکب مع ما کخمسۃ عشر۔ انکم موضعھاجر بالاضافۃ اذا جعلت ما زائدۃ اور فع علی تقدیر ھو۔ اذ ظرف الحدیث او لضیف والضیف مصدر یطلق علی الواحد والکثیر۔ سلام مبتدء علیکم خبرہ محذوف۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا یعنی اہل جنت کی عبادت کا تو یہ حال ہے اور ان کے افکار و خیالات ایسے پاکیزہ ہیں کہ زمین میں ہر شے ان کے نزدیک اس کی قدرت کا نمونہ ہے اور خود انہی کے اندر سینکڑوں نمونے ہیں یا کہو یہ بیان سابق کا بقیہ ہے، یعنی حشر کے امکان پر اور چند دلائل بیان فرماتا ہے کہ زمین کے اندر اس کے اشیائِ رنگا رنگ میں اور خود لوگوں کے اندر ہماری قدرت کی سینکڑوں نشانیاں ہیں۔ انسان اپنی پیدائش اور قویٰ اور اعضاء و صحت و مرض و تبدلات و تغیرات و جذبات باطنیہ میں غور کرے تو فوراً باور کرلے کہ وہ اس کی بےانتہا قدرتوں کا خزانہ ہے، اس لیے کہا گیا ہے کہ من عرف نفسہ عرف ربہ جس نے ان پر آپ کو جان لیا، اس نے خدا کو پہچان لیا، اس لیے فرماتا ہے۔ افلا تبصرون۔ پھر تم کیوں نہیں ان نشانات قدرت کو دیکھتے ؟ اور آسمان میں تمہاری روزی ہے، آسمان سے مراد بارش جو آسمان سے یعنی اوپر سے اترتی ہے، بارش سے انسان بلکہ حیوان کی روزی پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح جن چیزوں کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جنت و دوزخ ‘ خیر و شر سب اوپر سے ہے، یعنی تمہاری کوششوں سے اور تدابیر سے یہ سامان پیدا نہیں ہوتے بلکہ یہ سب کچھ آسمانی اسباب سے ہے۔ آسمان سے مراد اوپر کی جہت جس سے مقصود تقدیر ومشیتِ الٰہی، تقدیری باتوں اور مشیتی اسباب کو آسمانی کہا کرتے ہیں۔ شرف و فوقیت کے لحاظ سے پھر کہتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم یعنی روز جزا کا آنا ایسا ہی برحق ہے۔ جیسا کہ تمہارا باہم باتیں کرنا اس میں تم کو کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ ان دلائلِ حشر اور وہاں کی جزاء و سزا بیان کرنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ کرتا ہے جس سے یہ باتیں بتانی مقصود ہیں۔ (1) یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح مہمان نوازی کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ (2) دنیا میں کسی مراد کے دیر ملنے سے ناامید نہ ہونا چاہیے۔ خدا کا وعدہ برحق ہے، اس نے اخیر عمر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کو اولاد دی اسی پر اس کی سزائوں کو بھی خیال کرنا چاہیے کہ اگر دیر ہوجائے تو مغرور و غافل نہ ہوجائے کہ میرے اعمال بد کا برا ثمرہ مجھے نہ ملے گا۔ (3) چونکہ قوم لوط مدت سے اس بدکاری کی عادی تھی، پیغمبر ہرچند منع کرنا تھا، پر نہیں مانتے تھے۔ آخر ایک روز ایسا ہوا کہ ان کی بدکاری کا برا دن ان کے سامنے آیا۔ وہ بستیاں غارت ہوئیں، اے قریش مکہ ! تم بھی دلیر نہ ہوجائو۔