51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 51:31–46

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا اے رسولو ! تمہارا کیا مطلب ہے۔

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

وہ بولے ہم کو گناہ گار لوگوں (قوم لوط) کی طرف بھیجا گیا ہے

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

کہ ہم ان پر مٹی کے (سلیں) برسادیں،

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جو آپ کے رب کی طرف سے حد سے تجاوز کرنے والے کو نامزد ہوچکے ہیں،

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

پھر ان بستیوں میں سے ہم نے اس کو جو ایمان دار تھا نکال لیا

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

اور ہم نے وہاں بجز لوط کے گھر کے اور گھر ایمانداروں کا نہ پایا

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور ہم نے ان بستیوں کو (ہلاک کرنے کے بعد) ان لوگوں کے لیے جو عذاب الیم سے ڈرتے ہیں کچھ نشانیاں باقی رکھ چھوڑی ہیں

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ کے قصے میں بھی (عبرت ہے) جبکہ ہم نے اس کو فرعون کی طرف کھلی ہوئی سند دے کر بھیجا،

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

پھر اس نے اپنے زور و طاقت کے گھمنڈ پر سرتابی کی اور کہہ دیا جادوگر یا دیوانہ ہے

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

پھر تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑ لیا۔ پھر ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ ملامت زدہ تھا

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور عاد کے حال میں بھی (عبرت ہے) جبکہ ہم نے ان پر سخت آندھی بھیجی،

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

جس چیز پر وہ گزرتی تھی تو اس کو چور ہی کر ڈالتی تھی

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور ثمود کے واقعہ میں بھی (عبرت ہے) جبکہ ان کو کہا گیا کہ ایک وقت تک برتنا ہے برت لو

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی پھر تو ان کو کڑک نے آلیا اور وہ دیکھتے رہ گئے۔

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

پھر تو وہ نہ اٹھ ہی سکے اور نہ بدلہ ہی لے سکے

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور نوح کی قوم کو ان سے پہلے (ہلاک کرچکے تھے) کیونکہ وہ بدکار قوم تھی۔

ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔ تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک شام میں آرہے تھے اور حضرت لوط ( علیہ السلام) جو ان کے بھتیجے تھے، وہ بھی ساتھ آئے تھے۔ پھر حضرت لوط ( علیہ السلام) سدوم و عمورہ وغیرہ بستیوں میں آرہے تھے جو جھیل مردار کے کنارہ آباد تھیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی چھیاسی برس کی عمر میں ان سے حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے، مگر سارہ [ بیوی کے بطن سے کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی اور وہ اسی امید میں بڑھیا ہوگئیں۔ اس بات کا ان کو بڑا غم رہتا تھا۔ ایک روز جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے خیمہ کے دروازہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ دوپہر کے وقت مہمانوں کی صورت میں چند فرشتے نظر آئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی عادت مہماں نوازی کے موافق ان کے کھانے کو تلا ہوا بچھڑا لائے۔ فرشتوں نے کھانے سے انکار کیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ڈرے کہ یہ دشمن ہیں، کیونکہ اس عہد میں دشمن اپنے دشمن کے گھر کا کھانا نہیں کھاتا تھا۔ (یہ نمک حرامی اسی عہد میں مروج ہوئی ہے) ۔ فرشتوں نے کہا نہ ڈر اور اس کو علمدار لڑکے کی بشارت دی۔ (اسحاق ( علیہ السلام) کے تولد کی) حضرت سارہ ( علیہ السلام) پیچھے کھڑی تھیں۔ یہ سن کر ہنسیں، بڑی خوشی سن کر ہنسی آنا طبعی بات ہے۔ صرۃ کے معنی ہیں۔ آواز اور چیخنے کے مگر مراد کھل کھلا کر ہنسنا ہے، کیونکہ قرآن میں دوسری جگہ آیا ہے۔ ضحکت اور تعجب سے ماتھا کوٹنے لگیں اور کہنے لگیں کیا بانجھ اور وہ بھی بڑھیا جنے گی ؟ فرشتوں نے کہا خدا کا یہی حکم ہے۔ بانجھ اور بڑھیا کو بچہ دینے کی حکمت و تدابیر اس کو خوب معلوم ہے۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے پوچھا کہ تم کدھر جاتے ہو انہوں نے کہہ دیا کہ لوط کی قوم کی طرف کہ ان پر پتھر برسادیں، چناچہ وہاں گئے اور وہ بستیاں ہلاک ہوئیں، اس کے بعد موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتا ہے کہ ہم نے اس کو فرعون کے پاس دلیل دے کر بھیجا (تولیٰ برکنہ) التولی الاعراض الرکن الجانب (قالہ الاخفش) تو اس نے اعراض کیا اور کہہ دیا جادوگر ہے یا دیوانہ پھر خدا نے اس کو مع لشکر کے غرق کیا، اس کے بعد عاد وثمود و قوم نوح کی ہلاکی بیان کرتا ہے کہ ان بدکاریوں سے ہلاک ہوئے۔
Ayahs 51:47–58

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور آسمان کو ہم نے قدرت سے بنایا اور ہم وسیع قدرت والے ہیں

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور ہم نے ہی زمین کو بچھایا، پھر ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہم نے ہی ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا شاید تم سمجھو

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

(پس اے نبی ! کہہ دو ) اللہ کی طرف دوڑو، میں تم کو اس کی طرف سے صاف صاف ڈر سنا نے والا

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

ہوں اور اللہ کے سوا اور کسی کو معبود نہ ٹھہرائو، میں تم کو اس کی طرف سے صفا صفا آگاہ کئے دیتا ہوں

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اسی طرح ان سے پہلوں کے پاس بھی جب کوئی رسول آیا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا ایک دوسرے سے یہی کہہ مرا تھا بلکہ وہ خود بھی سرکش تھے۔

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

پھر آپ تو ان سے منہ پھیر لیجئے، آپ پر کوئی الزام نہیں

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

اور ہاں سمجھاتے رہو کہ سمجھانا ایمان داروں کو نفع دیتا ہے

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

اور میں نے جن اور انسان کو جو بنایا ہے تو اپنی بندگی کے لئے

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

ہم ان سے کچھ روزینہ تو نہیں چاہتے اور نہ یہ کہ وہ مجھے کھانا کھلادیں

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

کیونکہ اللہ ہی بڑا روزی دینے والا زور آور ہے۔

ترکیب : والسماء منصوب علی شریطۃ التفسیر باید متعلق بالفعل و قیل حال من الفاعل و من کل شیء متعلق بخلقنا کذلک ای الامر کذلک المتین بالرفع علی النعت وقیل ھو خبر مبتداء محذوف ای ھو المتین (ابو البقاء) ۔ تفسیر : ان آیات میں اپنی خدائی کا ثبوت اور توحید اور مسئلہ رسالت اور گناہوں کا برا نتیجہ پیش آنا ثابت کرتا ہے۔ پہلی بات پر تین دلیلیں لایا۔ اول والسماء بنینہا کہ آسمان کو ہم نے قدرت کاملہ سے بنایا اور ہم بڑے وسعت والے ہیں، یعنی قدرت والے۔ دوم والارض فرشناھا زمین کو ہم نے فرش کردیا۔ یعنی بندوں کی سکونت کے قابل کیا۔ آسمان چھت اور زمین اس دار دنیا کا فرش ہے۔ سوم ومن کل شیء ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا، یعنی اس کی دوسری چیز مثل ہے، جنس میں یا فصل میں یا جوہر ہونے میں بےمثل وہی ہے۔ یہی دلیل ہے، اس کی خدائی ویکتائی پر۔ یہ چیزیں اس گھر کی زینت و آرائش کے سامان ہیں تاکہ تم سمجھو کہ یہ گھر چند روزہ ہے۔ اس کو مرنے سے پہلے چھوڑ کر اللہ کی طرف دوڑو جو تم کو اس سے عمدہ گھر میں آسائش دیوے یعنی اس کی طرف جلد رجوع کرو۔ میں اس کی طرف تم کو جلد متنبہ کرنے آیا ہوں، یہاں سے مسئلہ رسالت کا ثبوت کیا۔ اب توحید کا ثبوت کرتا ہے کہ جب وہی بےمثل اور اس گھر کا بنانے والا ہے۔ ولا تجعلون مع اللہ الہا آخر اس کے ساتھ اور کسی کو خدائی میں شریک نہ کرو، انہی باتوں کے بتانے کو میں دنیا میں تمہارے پاس آیا ہوں۔ پھر مسئلہ نبوت میں کلام شروع ہوتا ہے کہ تم جو مجھے نہیں مانتے یہ کوئی نئی بات نہیں، رسالت کا سلسلہ بھی مدت سے جاری ہے۔ جب کوئی رسول دنیا میں آیا لوگوں نے اس کو جادوگر اور دیوانہ بتایا۔ اس بات کو تعجب کے طور پر خدا تعالیٰ ذکر کرتا ہے کہ کیا وہ اگلے ان پچھلوں کو وصیت کرگئے اور کہہ گئے تھے کہ تم بھی رسول کو دیوانہ اور ساحر کہنا جو یہ ان کی تقلید کرتے ہیں ؟ پھر آپ ہی فرماتا ہے کہ وصیت تو نہیں کرگئے تھے، خود انہی کی ذات میں سرکشی کا مادہ ہے۔ پس اے رسول ! تم ان سے ہٹ آؤ تمہارا جو کام تھا وہ تم نے پورا کردیا۔ ہاں ایمان داروں کو نصیحت کرتے رہو کہ ان کو اس سے فائدہ ہوگا اور وہ فائدہ یہ ہے کہ ہم نے جن و انسان کو اپنی عبادت کے لیے بنایا ہے۔ وہ اس بات کو سمجھ کر خدا کی عبادات میں مصروف رہیں گے، اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہم نے یہ گھر بناکر جو تم کو اس میں بسایا ہے۔ شکر کرنے کے لیے نہ کہ نافرمانی و ناشکری کے لیے۔ اس شکر گزاری میں اللہ بندوں سے کوئی اپنا فائدہ رزق روزی کا نہیں چاہتا، جس لیے وہ ہٹتے ہیں، کیونکہ وہ خود رزاق و قوت والا زبردست ہے، یعنی غیر اس کے محتاج بلکہ اس لیے کہ ناشکری کا وبال بندے پر نہ پڑے، جیسا کہ اگلے لوگوں پر وبال آیا۔ پھر فرماتا ہے کہ حال کے منکروں کی بھی وہی نوبت ہے، پھر کیوں عذاب کی جلدی کرتے ہیں۔ یہ چوتھی بات کا ثبوت تھا۔
Ayahs 51:59–60

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

پس ان ظالموں کا بھی ویسا ہی پیمانہ (لبریز ہے) جیسا کہ ان کے اگلے یاروں کا تھا، پھر وہ مجھ سے (عذاب کی) جلدی نہ کریں۔

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

پھر کافروں پر ان کے اس روز بد کے سبب کہ جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے بڑی خرابی ہے۔

1 ؎ ذنوبا والذنوب الدلوا العظمیۃ ھذا تمثیل واصلہ تقسیم المار یکون لھذا ولو ولھذا ولو یعنی حالھم کما لھم من انمد العیش والغفلۃ محکما وقع علیھم نفع علی ھو ‘ لارو یمکن ان یکون الذنوب بمعنی المعاصی اے ان لھھو الاء القوم جرائم مثل جرائم اصحابھم الماضین۔ 12 منہ