50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 50:1–2

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق قرآن مجید کی قسم کہ محمد پیغمبر خدا ہے

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے تعجب کیا کہ ان ہی میں سے ایک ہدایت کرنے والا انکے پاس آیا تو کافر کہنے لگے کہ یہ بات تو (بڑی) عجیب ہے

(1۔ 2) ق۔ یہ دنیا میں سبز رنگ کا پہاڑ کا اس کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور قسم ہے قرآن مجید کی۔ قریش سے جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے تو اس پر ان لوگوں کو تعجب ہوا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ قسم کھا کر بیان کرتا ہے اور ان تعجب کرنے والوں میں ابی بن خلف، امیہ بن خلف، منبہ بن الحجاج اور نبیہ بن حجاج ہیں کہ ان لوگوں کو اس پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس ان کے خاندان میں سے ایک ڈرانے والا رسول ان کے پاس آیا۔
Ayah 50:3

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے (تو پھر زندہ ہونگے ؟) یہ زندہ ہونا (عقل سے) بعید ہے

اس پر کفار مکہ بالخصوص مذکورہ لوگ کہنے لگے کہ محمد جو کہتے ہیں کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، یہ عجیب بات ہے کہ جب ہم مرگئے اور مٹی و ریزہ ریزہ ہوگئے تو کیا دوبارہ زندہ ہوں گے، یہ محمد کی بات امکان سے بہت ہی بعید ہے۔
Ayah 50:4

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

انکے جسموں کو زمین جتنا (کھا کھا کر) کم کرتی جاتی ہے ہم کو معلوم ہے اور ہمارے پاس تحریری یادداشت بھی ہے

اللہ تعالیٰ ان کی اس بات میں فرماتا ہے کہ ہم ان کے ان اجزا کو جانتے ہیں جن کو ان کے مرنے کے بعد مٹی کھاتی اور کم کرتی ہے اور جو اجزا چھوڑتی ہے۔ اور ہمارے پاس ایسی کتاب جو شیطانی تصرفات سے محفوط یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے اس میں ان کا مرنا اور قید میں ٹھہرنا اور پھر قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونا سب لکھا ہوا ہے۔
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ (عجیب بات یہ ہے کہ) جب انکے پاس (دین) حق آپہنچا تو انہوں نے اسکو جھوٹ سمجھا تو یہ ایک الجھی ہوئی بات میں (پڑ رہے) ہیں

بلکہ یہ لوگ تو رسول اکرم اور قرآن کریم کو جبکہ محمد اسے ان کے پاس لے کر آئے جھٹلاتے ہیں۔ یہ قسم کا جواب ہے کہ محمد ان کے پاس قرآن کریم لے کر آئے بلکہ یہ گمراہی یا یہ کہ متزلزل حالت میں ہیں یا یہ مطلب ہے کہ ان کی حالت ہی مختلف ہے کہ بعض ان میں سے تکذیب کرتے ہیں اور بعض تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 50:6

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا اور (کیونکر) سجایا اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں

کیا ان کفار مکہ نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو بلا ستون کے کیسا اونچا بنایا ہے اور آسمان کو ستاروں سے آراستہ کیا ہے اس میں کوئی رخنہ اور پھٹن شگاف اور کوئی عیب تک نہیں۔
Ayahs 50:7–8

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو (دیکھو اسے) ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دئیے اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائیں

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

تاکہ رجوع لانے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں

(7۔ 8) اور زمین کو ہم نے پانی پر بچھایا ہے اور زمین پر پہاڑوں کو جما دیا جو اس کی میخیں ہیں تاکہ زمین ان کو لے کر حرکت نہ کرنے لگے اور اس میں ہر قسم کی خوشنما چیزیں لگائیں تاکہ یہ دیکھیں اور نصیحت حاصل کریں یا یہ کہ جو غوروفکر اور نصیحت کا ذریعہ ہے ہر اس بندے کے لیے جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاعت کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔
Ayahs 50:9–10

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور آسمان سے برکت والا پانی اتارا اور اس سے باغ و بستان اگائے اور کھیتی کا اناج

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا گھابہ تہ بہ تہ ہوتا ہے

(9۔ 10) اور ہم نے آسمان سے اگانے والا اور فائدہ والا پانی برسایا جس میں ہر ایک چیز کی زندگی ہے اور پھر اس پانی سے بہت سے باغات اگائے اور کئی قسم کی کھیتیوں کا غلہ اور لمبی لمبی کھجور کے درخت جن کے گچھے خوب گوندھے ہوتے ہیں۔
Ayah 50:11

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

(یہ سب کچھ) بندوں کو روزی دینے کے لئے (کیا ہے) اور اس (پانی) سے ہم نے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کیا (بس) اسی طرح (قیامت کے روز) نکل پڑنا ہے

مخلوق کو رزق دینے کے لیے ہم نے اس بارش سے مردہ اور بنجر زمین کو زندہ کیا اسی طرح تم لوگ زندہ کیے جاؤ گے اور قیامت کے دن قبروں سے نکالے جاؤ گے۔
Ayahs 50:12–14

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم (غرض) ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہماری وعید (عذاب) بھی پوری ہو کر رہی

(12۔ 14) اے محمد آپ کی قوم سے پہلے قوم نوح کی اور اصحاب الرس رس یمانہ کے قریب ایک کنواں ہے یعنی قوم شعیب، شعیب کی اور ثمود حضرت صالح کی اور عاد حضرت ہود کی اور فرعون اور اس کی قوم موسیٰ کی اور قوم لوط حضرت لوط کی اور اصحاب ایکہ بھی شعیب کی اور قوم تبع تکذیب کرچکے ہیں۔ تبع حمیر کے بادشاہ کا نم ہے ان کا نام اسعد اور کنیت ابو کرب ہے یہ مرد مسلم تھے ان کے پیرو کی کثرت کی وجہ سے ان کا یہ نام پڑا۔ جیسا کہ آپ کی قوم قریش آپ کی تکذیب کرتی ہے ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا لہذا اس تکذیب کی وجہ سے ان سب پر میری سزا محقق ہوگئی اور ان پر عذاب نازل ہوا۔
Ayah 50:15

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ از سر نو پیدا کرنے میں شک میں (پڑے ہوئے) ہیں

سو کیا ہم ان کو پہلی بار پیدا کرنے میں تھک گئے کہ جس کی وجہ سے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ نہ کرسکیں گے بلکہ یہ قریش مرنے کے بعد زندہ کرنے کے بارے میں فضول ہی شک میں پڑے ہوئے ہیں
Ayah 50:16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور ہم ہی نے انسان پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم انکو جانتے ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں

اور ہم نے تمام اولاد آدم کو یا یہ کہ ابو جہل کو پیدا کیا اور اس کے دل میں جو خیالات آتے ہیں ہم ان کو بھی جانتے ہیں سو ہم علم اور قدرت کے اعتبار سے انسان کے اس قدر قریب ہیں کہ اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ کیونکہ اس رنگ میں انسان کو بااعتبار روح کے قریب زائد ہوتا ہے اور اس کے کاٹنے سے انسان مرجاتا ہے اور حبل اور ورید دونوں ایک ہی ہیں۔
Ayah 50:17

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھتے ہیں لکھ لیتے ہیں

جب دو اخذ کرنے والے فرشتے انسان کے اعمال کو جو اس سے صادر ہوتے ہیں لکھتے رہتے ہیں جو اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے رہتے ہیں۔
Ayahs 50:18–19

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی بیہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا

(18۔ 19) کہ انسان کوئی لفظ بھی منہ سے نکالنے نہیں پاتا خواہ نیک ہو یا برا مگر اس کے پاس ایک تاک لگانے والا موجود رہتا ہے کہ دائیں طرف کا فرشتہ نیکی اور بایاں فرشتہ بدی لکھتا رہتا ہے موت کی سختی شقاوت اور سعادت کے ساتھ آپہنچی یہ وہ چیز ہے کہ جس سے تو اے انسان بدکتا اور بھاگتا تھا۔
Ayahs 50:20–23

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے گا یہی (عذاب کے) وعید کا دن ہے

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا ایک (فرشتہ) اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اسکے عملوں کی) گواہی دینے والا

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

(یہ وہ دن ہے کہ) اس سے تو غافل ہو رہا تھا اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اسکا ہم نشین (فرشتہ) کہے گا کہ یہ اعمال نامہ میرے پاس حاضر ہے

(20۔ 23) اور صور پھونکا جائے گا جس سے سب زندہ ہوجائیں گے یہی اولیں و آخریں کی وعید کا دن ہوگا جس میں سب جمع کیے جائیں گے اور میدان حشر میں قیامت کے دن ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے جن میں سے وہ فرشتہ جو اس کی برائیاں لکھتا تھا وہ اسے اپنے پروردگار کی طرف ساتھ لائے گا اور دوسرا فرشتہ جو اس کی نیکیاں لکھا کرتا تھا وہ پروردگار کے سامنے اس پر گواہ ہوگا خطاب ہوگا کہ اے انسان تو اس دن سے بیخبر اور غافل تھا سو اب ہم نے تیرے اعمال پر سے پردہ غفلت ہٹا دیا جو تیرے لیے دار دنیا میں حجاب بنا ہوا تھا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے یا یہ کہ بعث بعد الموت کے بارے میں آج تو تیرا علم بڑا وسیع ہے اور اس کے بعد فرشتہ کاتب اعمال جو اس کی نیکیاں یا یہ کہ اس کی برائیاں لکھا کرتا تھا کہے گا یہ ہے وہ روزنامچہ جس پر میں متعین تھا جو میرے پاس تیار ہے۔
Ayahs 50:24–26

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

(حکم ہوگا کہ) ہر سرکش ناشکرے کو دوزخ میں ڈال دو

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا شبہ نکالنے والا تھا

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے خدا کے ساتھ اور معبود مقرر کر رکھے تھے تو اس کو سخت عذاب میں ڈال دو

(24۔ 26) حکم الہی ہوگا ہر ایسے شخص مثلا ولید بن مغیرہ مخزومی کو دوزخ میں ڈال دو جو کہ کفر کرنے والا اور ایمان سے اعراض کرنے والا ہو اور اپنی اولاد در اولاد اور رشتہ داروں کو ایمان لانے سے روکتا ہو دھوکا باز اور ظالم ہو شبہ پیدا کرنے والا ہو اللہ تعالیٰ پر بہتان لگانے والا ہو جس نے معاذ اللہ اللہ کے لیے اولاد اور شریک تجویز کیا ہو پھر اس کاتب اعمال کو حکم ہوگا کہ ایسے شخص کو سخت عذاب میں ڈال دو۔
Ayah 50:27

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ آپ ہی راستے سے دور بھٹکا ہوا تھا

یہ سن کر وہ کافر کہے گا اے پروردگار اس فرشتے نے میری برائیاں لکھنے میں جلدی کی اور میرے کہنے اور کرنے ہی سے پہلے اس نے میرے نام پر برائیاں لکھ ڈالیں وہ کتاب سیئات فرشتہ کہے گا کہ پروردگار میں نے لکھنے میں کسی قسم کی کوئی جلدی نہیں کی جب تک کہ اس نے بات کہی اور کی نہ ہو یا یہ کہ اس قریب سے مراد وہ شیطان ہے جو اس کے ساتھ رہتا تھا وہ اپنے پروردگار کے سامنے معذرت پیش کرے گا کہ اے پروردگار میں نے اسے جبرا گمراہ نہیں کیا تھا لیکن یہ تو خود ہی حق و ہدایت سے دور دراز کی گمراہی میں تھا۔
Ayahs 50:28–29

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ ہمارے حضور میں ردوکد نہ کرو ہم تمہارے پاس پہلے ہی (عذاب کی) وعید بھیج چکے تھے

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے

(28۔ 29) اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے کہ میرے سامنے جھگڑے والی باتیں مت کرو میں تو پہلے ہی سے کتاب میں بذریعہ رسول تمہیں اس دن سے ڈرا چکا تھا میرے یہاں ان جھوٹی باتوں سے یہ وعید نہیں بدلی جائے گی یا یہ کہ آج کے دن میں اپنے بندوں پر جو فیصلہ کرچکا ہوں اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی یا یہ کہ میرے سامنے بار بار بات نہیں ہوگی اور بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں کہ بغیر جرم کے ان کی گرفت کروں۔
Ayahs 50:30–31

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی ؟ وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے ؟

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی (کہ مطلق) دور نہ ہوگی

(30۔ 31) جس دن ہم دوزخ سے کہیں گے کہ جیسا کہ تجھ سے بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے تو بھر گئی ! اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ کہے گی کہ میں بھر گئی ہوں باقی کچھ اور بھی ہے تو اس میں ایک فرد کی بھی جگہ باقی نہ ہوگی۔ اور جنت کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے قریب لائی جائے گی ان سے وہ کچھ دور نہ رہے گی۔
Ayahs 50:32–35

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یعنی) ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا رہا اور رجوع لانے والا دل لے کر آیا

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

وہاں وہ جو چاہیں گے انکے لئے حاضر ہے اور ہمارے ہاں اور بھی (بہت کچھ) ہے

(32۔ 35) اور ان سے کہا جائے گا یہ فضیلت وہ ہے جس کا تم سے دنیا میں اس طرح وعدہ کیا جاتا تھا کہ یہ ہر ایسے شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاع کی طرف رجوع ہونے والا ہو اور خلوت میں احکام خداوندی یا یہ کہ نمازوں کی پابندی کرنے والا ہو، غرض کہ جو شخص اللہ کی بغیر دیکھے عبادت کرتا ہوگا اور اللہ کے پاس خلوص والی عبادت اور توحید لے کر آئے گا ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جنت میں عذاب سے مامون و مطمئن ہو کر داخل ہوجاؤ۔ اور اہل جنت، جنت میں ہمیشہ رہیں گے ان کو جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے اور ان کو دیدار خداوندی بھی نصیب ہوگا یا یہ کہ ہر ایک دن اور ہر گھڑی پر ان کے ثواب اور فضیلت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے کئی امتیں ہلاک کر ڈالیں وہ ان سے قوت میں کہیں بڑھ کر تھے وہ شہروں میں گشت کرنے لگے کہ کیا کہیں بھاگنے کی جگہ ہے ؟

اور ہم آپ کی قوم سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں جو قوت میں آپ کی قوم سے کہیں زیادہ تھے اور اپنی تجارتوں کے سلسلہ میں تمام شہروں کا سفر کرتے اور ان کو چھانتے پھرتے تھے۔ لیکن جب ہمارا عذاب ان پر نازل ہوا تو انہیں کوئی جائے پناہ اور بھاگنے کی جگہ تک نہ ملی یا یہ کہ ان میں سے کیا کوئی باقی رہا۔
Ayah 50:37

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

جو شخص دل (آگاہ) رکھتا ہے یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے

ہلاک ہونے والوں کے اس واقعہ میں آپ کی قوم کے لیے بڑی عبرت ہے جس کے پاس فہیم دل ہو یا وہ کم از کم دل سے متوجہ ہو کر قرآن کریم سننے کی طرف کان ہی لگا دیتا ہو۔
Ayah 50:38

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے سب کو چھ دن میں بنادیا اور ہم کو ذرا بھی تکان نہیں ہوا

اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور تمام مخلوق کو چھ دن کی مقدار کے موافق زمانہ میں پیدا کیا ہر ایک دن ان ایام کے مطابق ہزار سال کے برابر تھا اول ان دنوں میں اتوار اور آخری جمعہ کا دن تھا اور ہمیں تھکاوٹ نے چھوا تک نہیں۔ جیسا کہ اللہ کے دشمن یہودی اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے کہ معاذ اللہ جب اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو پیدا کر کے فارغ ہوا تو اس نے ایک پیرو دوسرے پیر پر رکھا اور ہفتہ کے دن آرام کیا۔ شان نزول : وَلَــقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (الخ) امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے بیان کرتے ہیں کہ یہودی رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے انہوں نے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے بارے میں دریافت کیا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اتوار اور پیر کے دن زمین پیدا فرمائی اور منگل کے دن پہاڑوں کو اور جو کچھ ان میں منافع ہیں ان سب کو پیدا کیا اور بدھ کے دن درختوں اور پانی اور شہروں اور آبادیوں اور ویران مقامات کو پیدا کیا اور جمعرات کے دن آسمانوں کو پیدا کیا اور جمعہ کے دن کی جو تین ساعتیں باقی رہ گئی تھیں اس میں ستاروں، چاند، سورج اور فرشتوں کو پیدا کیا۔ چناچہ جمعہ کی پہلی ساعت میں مدتوں کو پیدا کیا تاکہ جسے مرنا تھا وہ مرگیا اور دوسری ساعت میں تمام ان چیزوں پر جن سے انسان فائدہ حاصل کرتے ہیں، آفتوں کو ڈالا اور تیسری ساعت میں آدم کو پیدا فرمایا اور ان کو جنت میں سکونت عطا کی اور ابلیس کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا اور اس آخری ساعت میں ان کو جنت سے نکالا یہ سن کر یہود بولے محمد پھر کیا ہوا، آپ نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ عرش پر قائم ہوا، یہودی بولے آپ نے صحیح فرمایا اگر آپ پوری بات بیان کرتے اور بولے کہ معاذ اللہ پھر اللہ تعالیٰ نے آرام فرمایا یہ سن کر رسول اللہ بہت سخت غصہ ہوئے اس پر یہ آیت مبا کہ نازل ہوئی۔
Ayah 50:39

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

تو جو کچھ یہ (کفار) بکتے ہیں اس پر صبر کرو اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اسکے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو

سو آپ ان یہودیوں کی باتوں پر یا ان پانچ مذاق اڑانے والے گروہوں کی باتوں پر جن کا ہم نے دوسرے مقام پر تذکرہ کیا ہے صبر کیجیے اور آپ اپنے پروردگار کے حکم سے نماز پڑھتے رہیے آفتاب نکلنے سے پہلے مثلا صبح کی نماز اور اس کے غروب ہونے سے پہلے یعنی ظہر و عصر۔
Ayah 50:40

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس (کے نام) کی تنزیہہ کیا کرو

اور رات کو بھی نماز پڑھتے رہا کیجیے یعنی مغرب و عشا یا یہ کہ تہجد اور فرض نمازوں کے بعد جیسا کہ مغرب کے بعد کی دو سنتیں ہیں۔