50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 50:1

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

قسم ہے اس قرآن بڑی شان والے کی1

1 یعنی قرآن کی بزرگی اور عظمت شان کا کیا کہنا جس نے آخر سب کتابوں کو منسوخ کردیا اور اپنی اعجازی قوت اور لامحدود اسرار و معارف سے دنیا کو محو حیرت بنادیا۔ یہ ہی بزرگی والا قرآن بذات خود شاہد ہے کہ اس کے اندر کوئی نقص و عیب نہیں نہ کہیں انگلی رکھنے کی جگہ ہے، لیکن منکرین پھر بھی اس کو قبول نہیں کرتے اس لیے نہیں کہ ان کے پاس اس کے خلاف کوئی حجت وبرہان ہے بلکہ محض اپنے جہل اور حماقت سے اس پر تعجب کرتے ہیں کہ ان ہی کے خاندان اور نسل کا ایک آدمی ان کی طرف رسول ہو کر آیا اور بڑا بن کر سب کو نصیحتیں کرنے لگا۔ اور بات بھی ایسی عجیب کہی جسے کوئی باور نہ کرسکے۔ بھلا جب ہم مر کر مٹی ہوگئے۔ کیا پھر زندگی کی طرف واپس کیے جائیں گے ؟ یہ واپسی تو عقل سے بہت دور اور امکان وعادت سے بالکل بعید ہے۔
Ayahs 50:2–3

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ انکو تعجب ہوا کہ آیا ان کے پاس ڈر سنانے والا انہی میں سے ہوگا تو کہنے لگے منکر یہ تعجب کی چیز ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

کیا جب ہم مر چکیں اور ہوجائیں مٹی یہ پھر آنا بہت دور ہے1

1 یعنی ساری مٹی نہیں ہوجاتی، جان سلامت رہتی ہے اور بدن کے اجزاء تحلیل ہو کر جہاں کہیں منتشر ہوگئے ہیں وہ سب اللہ کے علم میں ہیں۔ اس کو قدرت ہے کہ ہر جگہ سے اجزائے اصلیہ کو جمع کر کے ڈھانچہ کھڑا کر دے اور دوبارہ اس میں جان ڈال دے۔
Ayah 50:4

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

ہم کو معلوم ہے جتنا گھٹاتی ہے زمین ان میں سے2 اور ہمارے پاس کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے3

2 یعنی یہ نہیں کہ آج سے معلوم ہے بلکہ ہمارا علم قدیم ہے حتی کہ ان میں قبل و قوع ہی سب اشیاء کے سب حالات ایک کتاب میں جو " لوح محفوظ " کہلاتی ہے لکھ دیے تھے اور اب تک ہمارے پاس وہ کتاب موجود چلی آتی ہے۔ پس اگر علم قدیم کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو یوں ہی سمجھ لے وہ دفتر جس میں سب کچھ لکھا ہے حق تعالیٰ کے سامنے حاضر ہے۔ یا اس کو پہلے جملہ کی تاکید سمجھو۔ کیونکہ جو چیز کسی کے علم میں ہو اور قلمبند بھی کرلی جائے وہ لوگوں کے نزدیک بہت زیادہ مؤکد سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح یہاں مخاطبین کے محسوسات کے اعتبار سے متنبہ کردیا کہ ہر چیز خدا کے علم میں ہے اور اس کے ہاں لکھی ہوئی ہے جس میں ذرا کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

کوئی نہیں پر جھٹلاتے ہیں سچے دین کو جب ان تک پہنچا سو وہ بڑ رہے ہیں الجھی ہوئی بات میں4

4 یعنی صرف تعجب نہیں بلکہ کھلی ہوئی تکذیب ہے۔ حضرت ﷺ کی نبوت قرآن اور بعث بعد الموت، ہر چیز کو جھٹلاتے ہیں۔ اور عجب الجھی ہوئی باتیں کرتے ہیں۔ بیشک جو شخص سچی باتوں کو جھٹلاتا ہے۔ اسی طرح شک و اضطراب اور تردد و تحیر کی الجھنوں میں پڑجایا کرتا ہے۔
Ayah 50:6

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھتے آسمان کو اپنے اوپر کیسا ہم نے اس کو بنایا اور رونق دی اور اس میں نہیں کوئی سوراخ5

5 یعنی آسمان کو دیکھ لو، نہ بظاہر کوئی کھمبا نظر آتا ہے نہ ستون، اتنا بڑا عظیم الشان جسم کیسا مضبوط و مستحکم کھڑا ہے اور رات کو جب اس پر ستاروں کی قندیل اور جھاڑ فانوس روشن ہوتے ہیں تو کس قدر پر رونق اور خوبصورت نظر آتا ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں برس گزر گئے نہ اس چھت میں کہیں سوراخ ہوا، نہ کوئی کنکرہ گرا، نہ پلاسٹر ٹوٹا، نہ رنگ خراب ہوا، آخر کون سا ہاتھ ہے جس نے یہ مخلوق بنائی اور بنا کر اس کی ایسی حفاظت کی۔
Ayahs 50:7–8

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو پھیلایا اور ڈالے اس میں بوجھ اور اگائی اس میں ہر ہر قسم کی رونق کی چیز سمجھانے کو

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

اور یاد دلانے کو اس بندہ کے لیے جو رجوع کرے6

6 یعنی جو آدمی خدا کی طرف رجوع کرتا ہو محض ان ہی محسوسات کے دائرہ میں الجھ کر نہ رہ جائے اس کے لیے آسمان و زمین کی تخلیق و تنظیم میں دانائی و بینائی کے کتنے سامان ہیں جن میں ادنیٰ غور کرنے سے صحیح حقیقت تک پہنچ سکتا ہے۔ اور بھولے ہوئے سبق اس کو یاد آسکتے ہیں۔ پھر خدا جانے ایسی روشن نشانیوں کی موجودگی میں بھی یہ لوگ کیونکر حق کو جھٹلانے کی جرأت کرتے ہیں۔
Ayah 50:9

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی برکت کا پھر اگائے ہم نے اس سے باغ اور اناج جس کا کھیت کاٹا جاتا ہے7

7 اناج وہ ہے جس کے ساتھ اس کا کھیت بھی کٹ جائے اور باغ پھل ٹوٹ کر قائم رہتا ہے۔
Ayah 50:10

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور کھجوریں لمبی ان کا خوشہ ہے تہ پر تہ8

8 یعنی بڑی کثرت و افراط سے جن کا خوشہ دیکھنے میں بھی بھلا معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 50:11

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

روزی دینے کو بندوں کے اور زندہ کیا ہم نے اس ایک مردہ دیس کو یونہی ہوگا نکل کھڑے ہونا9

9 یعنی بارش برسا کر مردہ زمین کو زندہ کردیا۔ اسی طرح قیامت کے دن مردے زندہ کردیے جائیں گے۔
Ayahs 50:12–14

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

جھٹلا چکے ہیں ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم10 ان سب نے جھٹلایا رسولوں کو پر ٹھیک پڑا میرا ڈرانا11

10 ان اقوام کے قصے سورة حجر، فرقان، دخان وغیرہ میں گزر چکے ہیں۔ 11 یعنی تکذیب انبیاء پر جس انجام سے ڈرایا گیا تھا وہ ہی سامنے آکر رہا۔
Ayah 50:15

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

اب کیا ہم تھک گئے پہلی بار بنا کر کوئی نہیں ان کو دھوکا ہے ایک نئے بنانے میں1

1 یعنی دوبارہ نئے سرے سے پیدا کرنے میں انہیں فضول دھوکا لگ رہا ہے۔ جس نے پہلی بار پیدا کیا دوسری مرتبہ پیدا کردینا کیا مشکل ہے ؟ کیا یہ گمان کرتے ہو کہ (معاذ اللہ) وہ پہلی دفعہ دنیا کو بنا کر تھک گیا ہوگا ؟ اس قادر مطلق کی نسبت ایسے توہمات قائم کرنا سخت جہالت اور گستاخی ہے۔
Ayah 50:16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے بنایا انسان کو اور ہم جانتے ہیں جو باتیں آتی رہتی ہیں اس کے جی میں2 اور ہم اس سے نزدیک ہیں دھڑکتی رگ سے زیادہ3

2 یعنی اس کے ہر قول و فعل سے ہم خبردار ہیں حتی کہ جو وساوس و خطرات اس کے دل میں گزرتے ہیں ان کا بھی ہم کو علم ہے۔ " (اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ۭ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ ) 67 ۔ الملک :14) 3 گردن کی رگ مراد ہے جسے " شہ رگ " کہتے ہیں اور جس کے کٹنے سے انسان مرجاتا ہے۔ شاید یہ کنایہ ہو جان اور روح سے۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم (باعتبار علم کے) اس کی روح اور نفس سے بھی نزدیک تر ہیں۔ یعنی جیسا علم انسان کو اپنے احوال کا ہے ہم کو اس کا علم خود اس سے بھی زیادہ ہے۔ نیز علت اور منشاء کو معلول اور ناشئی کے ساتھ وہ قرب حاصل ہوتا ہے جو معلول اور ناشئی کو خود اپنے نفس سے بھی نہیں ہوتا۔ اس کا کچھ مختصر بیان (اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ ) 33 ۔ الاحزاب :6) کے حواشی میں ہوچکا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ اللہ اندر سے نزدیک ہے اور رگ آخر باہر ہے جان سے۔ " وَلَنِعْمَ مَاقِیْلَ ۔ جاں نہاں در جسم واو درجاں نہاں اے نہاں اندر نہاں اے جان جاں
Ayah 50:17

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب لیتے جاتے ہیں دو لینے والے داہنے بیٹھا اور بائیں بیٹھا4

4 یعنی دو فرشتے خدا کے حکم سے ہر وقت اس کی تاک میں لگے رہتے ہیں جو لفظ اس کے منہ سے نکلے وہ لکھ لیتے ہیں۔ نیکی داہنے والا، اور بدی بائیں والا۔
Ayah 50:18

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

نہیں بولتا کچھ بات جو نہیں ہوتا اس کے پاس ایک راہ دیکھنے والا تیار5

5 یعنی لکھنے کو تیار ہے (تنبیہ) دونوں فرشتے کہاں رہتے ہیں ؟ اور علاوہ اقوال کے کیا کیا کچھ لکھتے ہیں ؟ اس کی تفصیل احادیث و آثار سے ملے گی۔
Ayah 50:19

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور وہ آئی بیہوشی موت کی تحقیق6 یہ وہ ہے جس سے تو ٹلتا رہتا تھا7

6 یعنی لو ! ادھر مسل تیار ہوئی، ادھر موت کی گھڑی آپہنچی۔ اور مرنے والا نزع کی بیہوشیوں اور جاں کنی کی سختیوں میں ڈبکیاں کھانے لگا۔ اس وقت وہ سب سچی باتیں نظر آنا شروع ہوگئیں جن کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی تھی۔ اور میت کی سعادت و شقاوت سے پردہ اٹھنے لگا اور ایسا پیش آنا قطعی اور یقینی تھا۔ کیونکہ حکیم مطلق کی بہت سی حکمتیں اس سے متعلق تھیں۔ 7 یعنی آدمی نے موت کو بہت کچھ ٹلانا چاہا۔ اور اس ناخوشگوار وقت سے بہت کچھ بھاگتا اور کتراتا رہا پر یہ گھڑی ٹلنے والی کہاں تھی۔ آخر سر پر آکھڑی ہوئی کوئی تدبیر اور حیلہ دفع الوقتی کا نہ چل سکا۔
Ayah 50:20

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور پھونکا گیا صور یہ ہے دن ڈرانے کا8

8 چھوٹی قیامت تو موت کے وقت ہی آچکی تھی۔ اس کے بعد بڑی قیامت حاضر ہے۔ بس صور پھونکا گیا اور وہ ہولناک دن آموجود ہوا۔ جس سے انبیاء و رسل برابر ڈراتے چلے آتے تھے۔
Ayah 50:21

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور آیا ہر ایک جی اس کے ساتھ ہے ایک ہانکنے والا اور ایک احوال بتلانے والاف 9

9 یعنی محشر میں اس طرح حاضر کیے جائیں گے کہ ایک فرشتہ پیشی کے میدان کی طرف دھکیلتا ہوگا اور دوسرا اعمالنامہ لیے ہوگا۔ جس میں اس کی زندگی کے سب احوال درج ہوں گے۔ شاید یہ وہ ہی دو فرشتے ہوں جو " کراماً کاتبین " کہلاتے ہیں۔ اور جن کی نسبت فرمایا تھا۔ (اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ) 50 ۔ ق :17) اور ممکن ہے کوئی اور ہوں۔
Ayah 50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

تو بیخبر رہا اس دن سے اب کھول دی ہم نے تجھ پر سے تیری اندھیری سو تیری نگاہ آج تیز ہے10

10 یعنی اس وقت کہا جائے گا کہ دنیا کے مزوں میں پڑ کر تو آج کے دن سے بیخبر تھا اور تیری آنکھوں کے سامنے شہوات و خواہشات کا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ پیغمبر جو سمجھاتے تھے۔ تجھے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ آج ہم نے تیری آنکھ سے وہ پردے ہٹا دیے اور نگاہ خوب تیز کردی۔ اب دیکھ لے جو باتیں کہی گئی تھیں، صحیح ہیں یا غلط۔
Ayah 50:23

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور بولا فرشتہ اس کے ساتھ والا یہ ہے جو میرے پاس تھا حاضر11

11 یعنی فرشتہ اعمالنامہ حاضر کرے گا۔ اور بعض نے " قرین " سے مراد شیطان لیا ہے۔ یعنی شیطان کہے گا کہ یہ مجرم حاضر ہے جس کو میں نے اغواء کیا اور دوزخ کے لیے تیار کر کے لایا ہوں۔ مطلب یہ کہ اغواء تو میں نے کیا۔ مگر میرا ایسا زور تسلط نہ تھا کہ زبرستی اس کو شرارت میں ڈال دیتا۔ یہ اپنے ارادہ اختیار سے گمراہ ہوا۔
Ayahs 50:24–25

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

ڈال دو تم دونوں دوزخ میں ہر ناشکر مخالف کو

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

نیکی سے روکنے والا حد سے بڑھنے والا شبہ ڈالنے والاف 12

12 بارگاہ ایزدی سے یہ حکم دو فرشتوں کو ہوگا کہ ایسے لوگوں کو جہنم میں جھونک دو (اعاذنا اللہ منہا)
Ayah 50:26

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے ٹھہرایا اللہ کے ساتھ اور کو پوجنا سو ڈال دو اس کو سخت عذاب میں13

13 یعنی ایسے لوگ جہنم میں سخت ترین عذاب کے مستحق ہیں۔
Ayah 50:27

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

بولا شیطان اس کا ساتھی، اے رب ہمارے میں نے اس کو شرارت میں نہیں ڈالا پر یہ تھا راہ کو بھولا دور پڑا ہوا14

14 یعنی میری کچھ زبردستی اس پر نہ چلتی تھی۔ ذرا شہ دی تھی کہ یہ کم بخت خود گمراہ ہو کر نجات و فلاح کے راستہ سے دور جا پڑا۔ شیطان یہ کہہ کر اپنا جرم ہلکا کرنا چاہتا ہے۔
Ayah 50:28

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

فرمایا جھگڑا نہ کرو میرے پاس اور میں پہلے ہی ڈرا چکا تھا تم کو عذاب سے1

ف 1 یعنی بک بک مت کرو۔ دنیا میں سب کو نیک و بد سے آگاہ کردیا گیا تھا۔ اب ہر ایک کو اس کے جرم کے موافق سزا ملے گی۔ جو گمراہ ہوا اور جس نے اغواء کیا سب اپنی حرکتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔
Ayah 50:29

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

بدلتی نہیں بات میرے پاس اور میں ظلم نہیں کرتا بندوں پر2

2 یعنی ہمارے یہاں ظلم نہیں۔ جو کچھ فیصلہ ہوگا عین حکمت اور انصاف سے ہوگا۔ " اور بات نہیں بدلتی۔ " یعنی کافر بخشا نہیں جاتا۔ بھلا شیطان اکفر کی بخشش تو کہاں۔
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

جس دن ہم کہیں دوزخ کو تو بھر چکی اور وہ بولے کچھ اور بھی ہے3

3 یعنی دوزخ کا پھیلاؤ اس قدر لوگوں سے نہ بھرے گا اور شدت غیظ سے اور زیادہ کافروں اور نافرمانوں کو طلب کرے گی۔
Ayah 50:31

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور نزدیک لائی جائے بہشت ڈرنے والوں کے واسطے دور نہیں4

4 یعنی جنت اس سے دور نہ ہوگی۔ بہت قریب سے اس کی تروتازگی اور بناؤ سنگار دیکھیں گے۔
Ayahs 50:32–34

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہ ہے جس کا وعدہ ہوا تھا تم سے ہر ایک رجوع رہنے والے یاد رکھنے والے کے واسطے

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو ڈرا رحمان سے بن دیکھے اور لایا دل رجوع ہونے والا

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

چلے چاؤ اس میں سلامت5 یہ دن ہمیشہ رہنے کا6

5 یعنی جنہوں نے دنیا میں خدا کو یاد رکھا اور گناہوں سے محفوظ ہو کر اس کی طرف رجوع ہوئے، اور بےدیکھے اس کے قہرو جلال سے ڈرے اور ایک پاک و صاف رجوع ہونے والا دل لے کر حاضر ہوئے، اس جنت کا وعدہ ایسے لوگوں سے کیا گیا تھا وقت آگیا ہے کہ سلامتی و عافیت کے ساتھ اس میں داخل ہوں۔ فرشتے ان کو سلام کریں اور ان کے پروردگار کا سلام پہنچائیں۔ 6 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " اس دن جس کو جو کچھ ملا سو، ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس سے پہلے ایک بات پر ٹھہراؤ نہ تھا۔ "
Ayah 50:35

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان کے واسطے وہ جو وہاں چاہیں گے اور ہمارے پاس کچھ زیادہ بھی ہے7

7 یعنی جو چاہیں گے وہ ملے گا اس کے علاوہ وہ نعمتیں ملیں گی جو ان کے خیال میں بھی نہیں۔ مثلاً دیدارِ الٰہی کی لذت بےقیاس اور ممکن ہے " وَلَدَیْنَا مَزِیْد " سے یہ غرض ہو کہ ہمارے پاس بہت ہے، جنتی کتنا ہی مانگیں سب دیا جائے گا۔ اللہ کے ہاں اتنا دینے پر بھی کوئی کمی نہیں آتی، نہ اس کے لیے کوئی رکاوٹ ہے۔ پس اتنی بےحساب و بیشمار عطایا کو مستبعد نہ سمجھو۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور کتنی تباہ کرچکے ہم ان سے پہلے جماعتیں کہ ان کی قوت زبردست تھی ان سے پھر لگے کریدنے شہروں میں کہیں ہے بھاگ جانے کو ٹھکانہ8

8 پہلے کفار کی تعذیب اخروی کا بیان تھا۔ درمیان میں ان کے مقابلہ پر اہل جنت کے تنعم کا ذکر آگیا۔ اب پھر کفار کی سزا دہی کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی آخرت سے پہلے دنیا ہی میں ہم کتنی شریر و سرکش قوموں کو تباہ کرچکے ہیں جو زور و قوت میں موجود اقوام کفار سے بڑھ چڑھ کر تھیں۔ اور جنہوں نے بڑے بڑے شہر چھان مارے تھے۔ پھر جب عذاب الٰہی آیا تو بھاگ جانے کو روئے زمین پر کہیں ٹھکانہ نہ ملا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عذاب کے وقت اپنی بستیوں میں کھوج لگانے لگے کہ کہیں پناہ ملے۔ مگر کوئی ٹھکانہ نہ پایا۔ وہذا ہوالظاہر من الترجمۃ والا ول ما اختارہ جمہور المفسرین۔ واللہ اعلم۔
Ayah 50:37

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

اس میں سوچنے کی جگہ ہے اس کو جس کے اندر دل ہے یا لگائے کان دل لگا کر9

9 یعنی ان عبرتناک واقعات میں غور و فکر کر کے وہ ہی لوگ نصیحت حاصل کرسکتے ہیں جن کے سینہ میں سمجھنے والا دل ہو کہ از خود ایک بات کو سمجھ لیں، یا کم ازکم کسی سمجھانے والے کے کہنے پر دل کو حاضر کر کے کان دھریں۔ کیونکہ یہ بھی ایک درجہ ہے کہ آدمی خود متنبہ نہ ہو، تو دوسرے کے متنبہ کرنے پر ہوشیار ہوجائے۔ جو شخص نہ خود سمجھے نہ کسی کے کہنے پر توجہ کے ساتھ کان لگائے اس کا درجہ اینٹ پتھر سے زیادہ نہیں۔
Ayah 50:38

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور ہم نے بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں10 اور ہم کو نہ ہوا کچھ تکان11

10 اس کا بیان پہلے کئی جگہ گزر چکا ہے۔ 11 جب پہلی مرتبہ بنانے سے نہ تھکے تو دوسری مرتبہ کیوں تھکیں گے۔ اور تباہ و برباد کردینا تو بنانے سے کہیں آسان ہے۔
Ayah 50:39

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

سو تو سہتا رہ جو وہ کہتے ہیں اور پاکی بولتا رہ خوبیاں اپنے رب کی12 پہلے سورج کے نکلنے سے اور پہلے ڈوبنے سے

12 یعنی ایسی موٹی باتوں کو یہ لوگ نہ سمجھیں تو آپ غمگین نہ ہوں۔ بلکہ ان کی بیہودہ بکواس پر صبر کرتے رہیں۔ اور اپنے پروردگار کی یاد میں دل لگائے رکھیں جو تمام زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا اور ہر چیز کے بنانے اور بگاڑنے پر قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 50:40

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور کچھ رات میں بول اس کی پاکی1 اور پیچھے سجدہ کے2

1 یہ وقت اللہ کی یاد کے ہیں۔ ان میں دعاء اور عبادت بہت قبول ہوتی ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں آپ ﷺ پر تین ہی نمازیں فرض تھیں۔ فجر اور عصر اور تہجد، بہرحال اب بھی ان تینوں وقتوں کو خصوصی فضل و شرف حاصل ہے نماز یا ذکر و دعاء وغیرہ سے ان اوقات کو معمور رکھنا چاہیے۔ حدیث میں ہے۔ " عَلَیْکُمْ بالْغُدْوَۃِ وَالرُّوْحَۃٍ وَ شَیْ ءٍ مِّنَ الدُّلْجَتہِ ۔ " بعض نے کہا کہ " قَبْلَ الطُّلُوعِ " سے نماز فجر " قَبَلَ الْغُرُوْبِ " سے ظہر و عصر اور " مِنَ الَّیْلِ " سے مغرب و عشاء مراد ہیں۔ واللہ اعلم۔ 2 یعنی نماز کے بعد کچھ تسبیح و تہلیل کرنا چاہیے۔ یا نوافل مراد ہوں جو فرائض کے بعد پڑھے جاتے ہیں۔