50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 50:1

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق۔ۤ قسم ہے قرآن مجید کی،

اللہ تعالیٰ کی شان تخلیق کا بیان، نعمتوں کا تذکرہ منکرین بعث کی تردید یہاں سے سورة ٴ ق شروع ہو رہی ہے۔ اس میں دلائل توحید اور وقوع قیامت اور قیامت کے دن کے احوال اور مومنین و کافرین کا انجام بتایا ہے۔ درمیان میں باغی اور طاغی قوموں کی ہلاکت کا تذکرہ بھی فرما دیا ہے۔ قٓ یہ حروف مقطعات میں سے ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہوا ہے۔ ﴿قٓ1ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِۚ001﴾ (قسم ہے قرآن مجید کی) تم ضرور اٹھائے جاؤ گے اور قیامت کے دن حاضر ہو گے یہ جواب قسم لتبعثن محذوف کا ترجمہ ہے۔
Ayahs 50:2–4

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ایک ڈرانے والا آگیا، سو کافر لوگ کہنے لگے کہ یہ عجیب بات ہے،

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے تو کیا دوبارہ زندہ ہونگے، یہ دوبارہ زندہ ہونا بہت ہی بعید بات ہے،

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

ہم ان کے ان اجزاء کو جانتے ہیں جن کو زمین کم کرتی ہے ہمارے پاس کتاب محفوظ ہے،

پھر فرمایا ﴿ بَلْ عَجِبُوْۤا ﴾ (الاٰیات الثلاث) بل کا عطف کس پر ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : فکانہ قیل انا انزلناہ لتنذر بہ الناس فلم یومنوا بہ بل جعلوا کلا من المنذر والمنذر بہ عرضة للتکبر والتعجب (یعنی ہم نے یہ قرآن نازل کیا تاکہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو ڈرائیں لیکن وہ لوگ اس پر ایمان نہ لائے انہوں نے ڈرانے والے کو بھی جھٹلایا اور جس چیز سے ڈرایا اس کو بھی جھٹلایا، حق کو نہ مانا تکبر اختیار کیا اور تعجب کرنے لگے) کیا ہم ہی میں سے ڈرانے والا آگیا ؟ اور کہنے لگے کہ یہ تو عجیب چیز ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے پھر زندہ ہو کر اٹھیں گے یہ تو بہت ہی بعید بات ہے ہماری سمجھ سے باہر ہے ہمارے نزدیک تو ایسا نہیں ہوسکتا، ان لوگوں نے جو موت کے بعد واپس ہونے کو بعید کہا اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : ﴿ قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ 1ۚ ﴾ کہ ہم جانتے ہیں زمین جو ان کے اعضا کو کم کرتی ہے یعنی ان کے گوشتوں کو اور ہڈیوں کو اور بالوں کو زمین جو کم کردیتی ہے ہمیں اس سب کا علم ہے ﴿ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِيْظٌ004﴾ اور ہمارے پاس کتاب ہے جس نے ان سب چیزوں کو محفوظ کر رکھا ہے (زمین نے جو جزو کم کیا، ہڈیوں کی مٹی بن گئی جانوروں کی غذا ہوگئی) ان سب کا ہم کو پتہ ہے۔ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ چیزیں زندہ ہوجائیں گی، اجسام تیار ہو کر روح داخل ہوجائیں گی اور مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجائیں گے، جو پیدا کرنے والا ہے وہی موت دینے والا ہے، وہی موت کے بعد زندہ فرمائے گا، اس کو سب کا علم ہے اور دوبارہ زندہ کرنا اس کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ جو لوگ دفن کیے جاتے ہیں ان کی سب چیزیں گل جاتی ہیں یعنی مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتی ہیں سوائے ایک ہڈی کے وہ باقی رہ جاتی ہے یعنی ریڑھ کی ہدی کا تھوڑا سا حصہ قیامت کے دن اسی سے نئی پیدائش ہوگی۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 421)
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ سچی بات کو جب کہ وہ ان کو پہنچی ہے جھٹلاتے ہیں غرض یہ کہ وہ ایک متزلزل حالت میں ہیں،

﴿بَلْ كَذَّبُوْا بالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ ﴾ (بلکہ بات یہ ہے کہ انہوں نے حق کو جھٹلایا جبکہ ان کے پاس آگیا) موت کے بعد زندہ ہونا ان کی سمجھ میں نہیں آتا اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو بھیج دیا اور آپ کی نبوت کے دلائل اور معجزات سامنے آگئے تو وہ اس کے بھی منکر ہوگئے، وقوع قیامت کا انکار بھی گمراہی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات شریفہ سامنے ہوتے ہوئے معجزات و دلائل کو دیکھتے ہوئے آپ کی نبوت کو نہیں مانتے یہ بھی گمراہی ہے اور شناعت و قباحت میں پہلے تعجب سے بڑھ کر ہے۔ ﴿فَهُمْ فِيْۤ اَمْرٍ مَّرِيْجٍ 005﴾ (سو یہ لوگ ایک متزلزل حالت میں ہیں) کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ بشر نبی ہو ہی نہیں سکتا کبھی کہتے ہیں مالدار اور قوم کا بڑا آدمی نبی ہونا چاہیے، کبھی صاحب نبوت کو جادوگر بتاتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ وہ شاعر ہیں وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 50:6

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو کیسا بنایا اور اس کو آراستہ کیا اور اس میں کوئی رخنہ نہیں،

اللہ تعالیٰ شانہ ٗنے ان کا اعجاب دور کرنے کے لیے مزید فرمایا ﴿ اَفَلَمْ يَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ ﴾ (الآیۃ) کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا ہم نے اسے کیسا بنایا ہے (بغیر کسی ستون کے کھڑا ہے) اور ہم نے اسے زینت دی ہے یعنی ستاروں کے ذریعے اس کو مزین کردیا ہے۔ ﴿وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ 006﴾ (اور آسمانوں میں شگاف نہیں ہے) ۔
Ayah 50:7

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑوں کو جما دیا اور اس میں ہر قسم کی خوشنما چیزیں اگائیں

﴿وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا ﴾ (اور ہم نے زمین کو پھیلا دیا) ﴿ وَ اَلْقَيْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ ﴾ (اور ہم نے زمین میں بوجھل چیزیں یعنی پہاڑ ڈال دیئے) ۔ ﴿ وَ اَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِيْجٍۙ007﴾ اور ہم نے زمین میں ہر قسم کے پودے اور درخت پیدا کردیئے جو دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں
Ayah 50:8

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

جو ذریعہ ہے دانائی کا اور نصیحت کا ہر رجوع ہونے والے بندہ کیلئے

﴿ تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ 008﴾ ہم نے ان سب چیزوں کو بصیرت اور نصیحت کا ذریعہ بنا دیا جو بھی بندہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو وہ اس کے مظاہر قدرت میں غور و فکر کر کے اللہ کی معرفت حاصل کرے گا۔
Ayah 50:9

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی برسایا پھر اس سے بہت سے باغ اگائے اور کھیتی کا غلہ

﴿ وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا ﴾ (اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی نازل کیا) ۔ ﴿فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِيْدِۙ009﴾ (سو ہم نے ان کے ذریعہ باغیچے اگا دیئے اور ایسی کھیتی اگا دی جسے پک جانے کے بعد کاٹ کر دانے نکالے جاتے ہیں
Ayah 50:10

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور لمبے لمبے کھجور کے درخت جن کے گچھے خوب گندھے ہوئے ہوتے ہیں،

﴿ وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيْدٌۙ0010 ﴾ اور ہم نے کھجور کے درخت اگائے جو لمبے ہیں اپنے تنے پر کھڑے ہیں۔ ان کھجوروں کے درختوں سے گچھے نکلتے ہیں جو ترتیب سے دیکھنے میں ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں
Ayah 50:11

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

بندوں کو رزق دینے کے لیے اور ہم نے اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو زندہ کیا، اسی طرح نکلنا ہوگا۔

﴿ رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ 1ۙ﴾ یہ سب چیزیں بندوں کے رزق کے لیے پیدا فرمائی ہیں ﴿ وَ اَحْيَيْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا 1ؕ﴾ (اور ہم نے اس بارش کے ذریعہ زمین کے مردہ ٹکڑوں کو زندہ کردیا) ۔ ﴿كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ 0011﴾ (اسی طرح قبروں سے نکلنا ہوگا) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے نکال دے گا جیسا کہ مرد زمین کو زندہ فرما کر اس سے مذکورہ چیزیں نکالتا ہے، اس آخری جملہ سے پوری آیت کا ماسبق سے ارتباط سمجھ میں آگیا یعنی منکرین بعث وقوع قیامت کو نہیں مانتے حالانکہ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر ہیں جیسے وہ ان چیزوں پر قادر ہے ایسے ہی مردوں میں جان ڈال کر اور قبروں سے نکال کر میدان حشر میں جمع کرنے پر بھی قادر ہے سورة ٴ الروم میں فرمایا ﴿فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَيْفَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا 1ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْيِ الْمَوْتٰى1ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ0050﴾ (سو اللہ کی رحمت کے آثار دیکھو کہ اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد کسی طرح زندہ کرتا ہے کچھ شک نہیں کہ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے) ۔
Ayahs 50:12–15

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اور اصحاب رس نے اور ثمود نے

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد نے اور فرعون نے اور لوط کی قوم نے

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور ایکہ والوں نے اور تبع کی قوم نے جھٹلایا ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا سو میری وعید ثابت ہوگئی،

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے تھک گئے ؟ بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شبہ میں ہیں۔

اقوام سابقہ ہالکہ کے واقعات سے عبرت حاصل کریں ان آیات میں قرآن کریم کے مخاطبین کو تنبیہ فرمائی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ اپنے کفر اور تکذیب کے باوجود یہ لوگ مطمئن ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم صحیح راہ پر ہیں اور ہمارا مواخذہ نہ ہوگا یہ ان لوگوں کی غلطی ہے ان سے پہلے کتنی قومیں گزر چکی ہیں۔ جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا (جس میں وقوع قیامت کا انکار بھی تھا لہٰذا یہ لوگ ہلاک کردیئے گئے) جن لوگوں کی ہلاکت و بربادی کا اجمالی تذکرہ فرمایا ہے ان کی ہلاکت کے تفصیلی حالات متعدد سورتوں میں گزر چکے ہیں۔ اصحاب الرس کا تزکرہ سورة ٴ فرقان میں اور اصحابہ الایکہ کا تذکرہ سورة ٴ الشعراء میں اور قوم تبع کا ذکر سورة ٴ الدخان میں گزر چکا ہے ارشاد فرمایا ﴿ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيْدِ 0014﴾ (ان لوگوں نے نبیوں کو جھٹلایا لہٰذا ان پر میری وعید ثابت ہوگئی) یعنی ان کو جو پیشگی متنبہ کردیا گیا تھا کہ ایمان نہ لانے پر مبتلائے عذاب ہوں گے اس وعید کے مطابق ان کو ہلاک کردیا گیا۔ یہ لوگ جو کہتے تھے کہ ہم مر کھپ جائیں گے اور ہماری ہڈیاں اور گوشت پوست مٹی بن جائے گا تو پھر کیسے زندہ ہوں گے ان کے تعجب کو دفع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ اَفَعَيِيْنَا بالْخَلْقِ الْاَوَّلِ 1ؕ﴾ (کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے تھک گئے) مطلب یہ ہے کہ جس نے تمہیں اور دوسری مخلوقات کو پیدا کیا جس میں زمین و آسمان بھی ہیں وہ قادر مطلق کیا پہلی بار پیدا کرنے سے تھک گیا ہے ؟ ہرگز نہیں وہ ہرگز نہیں تھکا، اسے ہمیشہ پوری پوری قدرت ہے جس نے پہلی بار پیدا فرمایا وہی دوبارہ بھی پیدا فرما دے گا ﴿بَلْ هُمْ فِيْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ (رح) 0015﴾ (بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شبہ میں ہیں) ۔ دلائل عقلیہ تو ان کے پاس ہیں نہیں جن کی بنیاد پر دوبارہ پیدا کرنے کے عدم وقوع کو ثابت کرسکیں، ان کے پاس بس شبہ ہی شبہ ہے اسی شبہ کو بنیاد بنا کر انکار کرتے رہتے ہیں جس کا ازالہ بار بار کیا جا چکا ہے۔
Ayah 50:16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں ان وسوسوں کو جو اس کے جی میں آتے ہیں اور ہم اس کی گردن کی رگ سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں

اللہ انسان کے وساوس نفسانیہ سے پوری طرح واقف ہے اور انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے یہ چار آیتوں کر ترجمہ ہے پہلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے جی میں جو وسوسے آتے رہتے ہیں (جو بہت ہی زیادہ مخفی چیز ہے) ہم ان سب کو جانتے ہیں، پھر فرمایا کہ انسان کی گردن کی جو رگ ہے ہم انسان سے اس سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ مطلب یہ ہے ہم انسان کے تمام احوال سے باخبر ہیں اس کی کوئی بھی حالت جو پوشیدہ سے پوشیدہ ہو اور اس کی بات جو آہستہ سے بھی آہستہ ہو اس میں سے کچھ بھی ہم پر پوشیدہ نہیں ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت علم کو بیان فرمایا ہے ﴿ حَبْلِ الْوَرِيْدِ 0016﴾ گردن کی رگ کو کہا جاتا ہے۔ یہ وہ رگ ہے جس کے کٹ جانے سے انسان کی زندگی باقی نہیں رہتی۔
Ayah 50:17

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب کہ دو لینے والے لے لیتے ہیں جو داہنی طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہوئے ہیں

انسانوں پر اعمال لکھنے والے فرشتے مقرر ہیں : دوسری آیت میں اعمال نامے لکھنے والے فرشتوں کا تذکرہ فرمایا اور اس میں یہ بتایا کہ انسان کی طبیعت اور احوال کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ہی اس علم کے ساتھ ساتھ اس نے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے بھی مقرر فرما رکھے ہیں جو انسان کے اعمال کو لکھتے ہیں جیسے ہی کوئی بات کرتا ہے یا کوئی عمل کرتا ہے اسے لے کر فرشتے لکھ لیتے ہیں ایک فرشتہ دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے۔ سورة الانفطار میں فرمایا ہے ﴿وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَۙ0010 كِرَامًا كَاتِبِيْنَۙ0011 يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ 0012 ﴾ (اور تمہارے اوپر یاد رکھنے والے معزز لکھنے والے مقرر ہیں جو تمہارے سب افعال کو جانتے ہیں) یہ اعمال نامے جو فرشتے تیار کرتے ہیں قیامت کے دن انسان کے سامنے آجائیں گے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا ﴿ هٰذَا كِتٰبُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بالْحَقِّ ﴾ (یہ ہمارا لکھا ہوا نوشتہ ہے جو تم پر حق کے ساتھ بولتا ہے) ﴿ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 0029﴾ (بےشک ہم لکھوا لیتے تھے جو عمل تم کرتے تھے) ۔
Ayah 50:18

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

وہ کوئی بات منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگران تیار ہے

تیسری آیت میں فرمایا کہ انسان جو بھی کوئی لفظ بولتا ہے اس کے پاس انتظار کرنے والا فرشتہ تیار رہتا ہے جو منہ سے نکلتے ہی لکھ لیتا ہے اگر کلمہ خیر ہو تو دائیں طرف والا فرشتہ لکھتا ہے اور اگر شر ہو تو بائیں طرف والا فرشتہ لکھ لیتا ہے۔ الفاظ کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر عمل لکھا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ فرشتے خیر اور شر کی باتیں لکھتے ہیں جن پر عقاب وثواب کا دار و مدار ہوتا ہے، مباحات کو نہیں لکھتے اور حضرت ابن عباس ؓ کا ایک یہ قول ہے کہ لکھا تو سب کچھ جاتا ہے پھر ہر جمعرات کو بارگاہِ الٰہی میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں خیر اور شر کو باقی رکھا جاتا ہے باقی اعمال یعنی مباح کو ختم کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے سورة ٴ رعد کی آیت ﴿ يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ ﴾ تلاوت فرمائی۔ آیت کے عمومی الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے اعمال بھی لکھے جاتے ہیں۔ صاحب روح المعانی نے یہ باتیں لکھی ہیں پھر شرح جو ہرہ سے نقل کیا ہے کہ بچہ کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دیوانہ پر لکھنے والے فرشتے مقرر نہیں ہیں۔ جنات پر فرشتے مقرر ہیں یا نہیں ؟ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ ان پر بھی مقرر ہیں، پھر لکھا ہے کہ اس بارے میں کوئی بات منقول نہیں ہے۔ (روح المعانی 180 ج 46)
Ayah 50:19

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی سختی حق کے ساتھ آگئی یہ وہ ہے جس سے تو ہٹتا تھا۔

موت کی سختی کا تذکرہ : چوتھی آیت میں موت کی سختی کا تذکرہ فرمایا ہے ﴿ وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بالْحَقِّ 1ؕ﴾ (اور حق کے ساتھ موت کی سختی آجائے گی) ۔ ﴿ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ 0019﴾ (نافرمان لوگ جو موت سے گھبراتے ہیں ان سے کہا جائے گا دیکھو یہ وہ موت ہے جس سے تم بچتے اور گھبراتے تھے آخر اس نے تمہیں پکڑ ہی لیا، اللہ تعالیٰ نے جو موت آنے کا فیصلہ فرما دیا ہے اس سے کسی کو چھٹکارہ نہیں اس کے بعد جو برزخ اور حشر کے احوال ہیں وہ بھی انسانوں پر گزریں گے ان سے بھی چھٹکارہ نہیں آئندہ آیات میں ایام قیامت کے بعض مظاہر بیان فرمائے ہیں۔
Ayahs 50:20–21

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے گا، یہ وعید کا دن ہے،

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص اس طرح سے آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک سائق اور ایک شہید ہوگا

نفخ صور اور میدان حشر میں حاضر ہونے والوں کا ذكر ان آیات میں نفخ صور اور اس کے بعد کے بعض حالات ذکر فرمائے ہیں ارشاد فرمایا ﴿ ذٰلِكَ يَوْمُ الْوَعِيْدِ 0020﴾ (یہ وہ دن ہوگا جس میں وعید کا ظہور ہوگا) یعنی دنیا میں جو وعیدیں بتادی گئی تھیں آج ان کا ظہور ہوگا۔ ﴿ وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآىِٕقٌ وَّ شَهِيْدٌ0021﴾ (اور ہر شخص اس حالت میں حاضر ہوگا کہ اس کے ساتھ ایک سائق اور ایک شہید ہوگا) سائق ساتھ لانے والا فرشتہ اور شہید گواہی دینے والا فرشتہ۔ صاحب روح المعانی نے یہ تفسیر حضرت عثمان ؓ سے نقل کی ہے اور حافظ ابو نعیم کی کتاب حلیۃ الاولیاء سے حدیث مرفوع نقل کی ہے کہ یہ وہی دو فرشتے ہوں گے جو اعمال نامے لکھا کرتے تھے ان میں سے ایک سائق اور ایک شہید ہوگا۔
Ayah 50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

واقعی بات یہ ہے کہ تو اس کی طرف سے غفلت میں تھا سو ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا سو آج تیری نگاہ تیز ہے

اس دن اس سے خطاب کر کے کہا جائے گا ﴿ لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا ﴾ (تو اس دن کے واقع ہونے کی طرف سے غافل تھا) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ خطاب کافر کو ہوگا۔ ﴿فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ ﴾ (سو ہم نے تیرا پردہ اٹھا دیا) جس نے تجھے ڈھانک رکھا تھا۔ ﴿فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ0022﴾ (سو اج تیری نظر تیز ہے) دنیا میں جو کچھ ایمان کی طرف دعوت دی جاتی تھی اور کفر و شرک سے روکا جاتا تھا اور معاصی کا عذاب بتایا جاتا تھا تو، تو متوجہ نہیں ہوتا تھا اور غفلت کے پردوں نے تجھے ڈھانپ رکھا تھا آج وہ پردے ہٹ گئے جو کچھ سمجھایا بتایا جاتا تھا سامنے آگیا۔
Ayah 50:23

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اس کا ساتھی کہے گا یہ وہ ہے جو میرے پاس تیار ہے،

﴿وَ قَالَ قَرِيْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيْدٌؕ0023﴾ (اور اس کا ساتھی کہے گا کہ یہ وہ ہے جو میرے پاس تیار ہے) قرین یعنی ساتھی سے کون مراد ہے ؟ اس کے بارے میں حضرت حسن (بصری) نے تو یہ فرمایا کہ اس سے اس کی برائیوں کا لکھنے والا کاتب مراد ہے وہ اپنے لکھے ہوئے صحیفہ کی طرف اشارہ کر کرے کہے گا کہ یہ اس کے اعمال ناموں کا کتابچہ ہے جو میرے پاس لکھا ہوا تیار ہے اور حضرت مجاہد نے فرمایا کہ اس سے وہ شیطان مراد ہے جو ہر انسان کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ تم میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس کا ایک ساتھی جنات میں اور ایک ساتھی فرشتوں میں سے مقرر نہ کیا گیا ہو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے آپ نے فرمایا ہاں میرے ساتھ بھی اسی طرح تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی چناچہ وہ مسلمان ہوگیا اب وہ مجھے صرف خیر کا حکم کرتا ہے۔ اس قول کی تائید سورة ٴ حم سجدہ کی آیت شریفہ ﴿ وَ قَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ ﴾ سے بھی ہوتی ہے اور آئندہ آیت بھی اس کی موید ہے۔
Ayahs 50:24–26

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

ڈال دو ، ڈال دو جہنم میں ہر کفر کرنے والے ضدی کو،

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

خیر سے منع کرنے والے کو، حد سے بڑھنے والے کو، شبہ میں ڈالنے والے کو

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا معبود تجویز کردیا، سو اسے سخت، عذاب میں ڈال دو ،

ہر ضدی کافر کو دوزخ میں ڈال دو : مزید ارشاد فرمایا ﴿ اَلْقِيَا فِيْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍۙ0024 مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيْبِۙ0025 ا۟لَّذِيْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ یعنی ہر کافر کو ضرور دوزخ میں ڈال دو جو حق کو قبول نہیں کرتا تھا خیر کو روکنے والا تھا (یعنی دوسرے لوگوں کو اسلام لانے سے روکتا تھا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ زکوٰۃ نہیں دیتا تھا) حد سے بڑھ جانے والا تھا شک میں ڈالنے والا تھا اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں اور اس کے دین کے بارے میں اور قیامت واقع ہونے کے بارے میں لوگوں کو شک میں ڈالتا تھا اور مشرک بھی تھا۔ جس نے اللہ کے ساتھ دوسروں کو معبود اور شریک ٹھہرا رکھا تھا۔ ﴿ فَاَلْقِيٰهُ فِي الْعَذَاب الشَّدِيْدِ 0026﴾ (سو اسے ضرور ضرور سخت عذاب میں ڈال دو ) ۔ قال صاحب الروح : خطاب من اللہ تعالیٰ للسائق والشھید بناء علی انھما اثنان لا واحد جامع للوصفین او للملکین من خزنة النار، او لواحد علی ان الالف بدل من نون التوکید علی اجراء الوصل مجری الوقف واید بقرأة الحسن (القین) بنون التوکید الخفیفة، وقیل ان العرب کثیرا ما یرافق الرجل منھم اثنین فکثر علی السنتھم ان یقولوا خلیلی وصاحبی قفا واسعدا حتی خاطبوا الواحد خطاب الاثنین، وما فی الاٰیة محمول علی ذلک کما حکی عن الفراء او علی تنزیل تثنیة الفاعل منزلة تثنیة الفعل بان یکون اصلہ الق الق ثم حذف الفعل الثانی وابقی ضمیرہ مع الفعل الاول فثنی الضمیر للدلالة علی ما ذكر۔
Ayah 50:27

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ساتھی کہے گا کہ اے ہمارے رب میں نے اسے گمراہ نہیں کیا لیکن یہ دور کی گمراہی میں تھا،

﴿ قَالَ قَرِيْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَيْتُهٗ ﴾ کافر کو جب دوزخ میں داخل کیے جانے کا حکم ہوگا تو اس کا قرین یعنی اس کا ساتھی (جس کے ساتھ رہنے اور برے اعمال کو مزین کرنے کی وجہ سے گمراہ ہوا اور دوزخ میں جانے کا مستحق ہوا) یوں کہے گا کہ اے میرے رب میں نے اسے گمراہ نہیں کیا یعنی میں نے اسے جبراً قہراً زبردستی کافر نہیں بنایا بلکہ بات یہ ہے یہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا اگر اس کا مزاج گمراہی کا نہ ہوتا اور اس کو گمراہی پسند نہ ہوتی تو میری مجال نہ تھی کہ میں اس کو کفر پر ڈالتا اور جمائے رکھتا، جب یہ گمراہ تھا تو میں نے اس کی گمراہی پر مدد کردی۔ قال صاحب الروح : فاعنتہ علیہ بالاغواء والدعوة الیہ من غیر قسر ولا الجاء فھو نظیر ” وما کان لی علیکم من سلطان۔ “ کافر کا جو قرین ہوگا وہ بھی کافر ہی تھا وہ دوزخ سے بچ جائے اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر اس کے ما اطغیتہ کہنے کا کیا مقصد ہوگا ؟ اس کے بارے میں بعض اکابر نے فرمایا کہ وہ یہ چاہے گا کہ میری گمراہی کا اثر صرف مجھ پر پرے اور مزید فرد جرم مجھ پر نہ لگے اور دوسروں کی گمراہی کی وجہ سے عذاب میں اضافہ نہ ہو، لیکن ایسا نہ ہوگا۔ دوسروں کو گمراہ کرنے کی سزا بھگتنی ہوگی۔
Ayah 50:28

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا میرے سامنے جھگڑا مت کرو اور میں نے تمہارے پاس پہلے سے وعید بھیج دی تھی،

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا ﴿ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَيَّ ﴾ (میرے سامنے جھگڑا نہ کرو) ﴿ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَيْكُمْ بالْوَعِيْدِ 0028﴾ (اور میں نے تو پہلے ہی ہر کافر اور کافر گر کے بارے میں وعید بھیج دی تھی کہ یہ سب دوزخ کے مستحق ہیں، ابلیس کو خطاب کر کے اعلان کردیا تھا ﴿لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِيْنَ 0085﴾ (میں ضرور ضرور تجھ سے اور تیرا اتباع کرنے والے سے دوزخ کو بھر دوں گا) ۔
Ayah 50:29

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

میرے پاس بات نہیں بدلی جاتی اور میں بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔

﴿مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ (رح) 0029﴾ (میرے پاس بات نہیں بدلی جاتی اور میں بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں) اب وعید کے مطابق تمہیں سزا ملنا ہی ہے اور دوزخ میں جانا ہی ہے۔ فائدہ : شب معراج میں اللہ تعالیٰ نے پچاس نمازیں فرض فرمائی تھیں پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی توجہ دلانے پر رسول اللہ ﷺ نے بار گاہ الٰہی میں کم کرنے کی درخواست کی تو پانچ رہ گئیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ گنتی میں پانچ ہیں اور ثواب میں پچاس ہی رہیں گی کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا کردیا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ﴾ (میرے سامنے بات نہیں بدلی جاتی) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 529، عن البخاری)
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی اور وہ کہے گی کہ کیا کچھ اور بھی ہے ؟

دوزخ سے اللہ تعالیٰ کا خطاب ! کیا تو بھر گئی ؟ اس کا جواب ہوگا کیا کچھ اور بھی ہے ان آیات میں جنت اور دوزخ کا حال بتایا ہے دوزخ کی وسعت اور لمبائی، چوڑائی اور گہرائی مجموعی حیثیت سے اتنی زیادہ ہوگی کہ کروڑوں افراد جنات میں سے اور انسانوں میں سے داخل کیے جانے کے بعد بھی خالی ہی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا ﴿ھَلِ امْتَلاَْتِ﴾ (کیا تو بھر گئی) اس کا جواب ہوگا کیا کچھ اور بھی ہے ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت اور دوزخ میں آپس میں مباحثہ ہوا دوزخ نے (فخر کے طور پر) کہا کہ تکبر والے اور تجبر والے میرے اندر داخل ہوں گے، اور جنت نے کہا کیا بات ہے کہ میرے اندر صرف کمزور لوگ اور گرے پڑے اور بھولے بھالے لوگ داخل ہوں گے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا تو میری رحمت ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں تیرے ذریعہ رحم کروں گا اور دوزخ سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں عذاب دوں گا اور تم دونوں سے بھر دینے کا وعدہ ہے۔ (رواہما البخاری و مسلم کما فی المشکوٰۃ صفحہ 505) اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جہنم میں برابر دوزخیوں کو ڈالا جاتا رہے گا اور وہ ہل من مزید کہتی رہے گی یعنی یوں کہتی رہے گی کیا کچھ اور بھی ہے کیا کچھ اور بھی ہے۔ یہاں تک کہ رب العزت شانہٗ اس میں اپنا قدم رکھ دیں گے اور وہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس میں آپ کی عزت و کرم کا واسطہ دیتی ہوں اور جنت میں بھی برابر جگہ خالی بچتی رہے گی اسے بھرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نئی مخلوق کو پیدا فرمائے گا اور اس خالی جگہ میں ان کو آباد فرما دے گا۔ یہ جو اللہ تعالیٰ شانہٗ کے قدم کا ذکر آیا ہے یہ متشابہات میں سے ہے اس کا معنی سمجھنے کی فکر میں نہ پڑیں اللہ تعالیٰ شانہٗ اعضاء وجوارح سے پاک ہے۔ وقد استشکل بعض العلماء بان اللہ تعالیٰ قال لابلیس ” لاملئن جھنم منک و ممن تبعک منھم اجمعین “ فاذا امتلات بھٰولاء فکیف تبقی خالیا ؟ وقد الھمنی اللہ تعالیٰ جواب ھذا الاشکال انہ لیس فی الآیة انھا تملاء کلھا بالانس والجن فان الملاء لا یستلزم ان یکون کاملا لجمیع اجزاء الاناء۔ یہ جو جنت میں خالی جگہ بچنے کی وجہ سے نئی مخلوق پیدا کر کے بسائی جائے گی اس کے بارے میں بعض اکابر سے کہا گیا کہ وہی مزے میں رہے کہ پیدا ہوتے ہی جنت میں چلے گئے۔ انہوں نے فرمایا انہیں جنت کا کیا مزہ آئے گا انہوں نے دنیا نہیں بھگتی، تکلیف نہیں جھیلی، مصیبتیں نہیں کاٹیں، انہیں وہاں کے راحت و آرام کی کیا قدر ہوگی ؟ مزہ تو ہمیں آئے گا، آرام کی قدر ہم کریں گے جو دنیا کی تکلیفوں سے دوچار ہوئے اور مشقت و دکھ تکلیف کو دیکھا اور سہا، جھیلا اور بھگتا۔
Ayahs 50:31–35

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور متقیوں کے لیے جنت قریب کی جائے گی دور نہ رہے گی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہ وہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر ایسے شخص کے لیے جو رجوع کرنے والا پابندی کرنے والا ہو،

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو بغیر دیکھے رحمن سے ڈرا اور رجوع کرنے والا دل لے کر آیا،

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یہ ہمیشگی والا دن ہے

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس اور بھی زیادہ ہے۔

جنت اور اہل جنت کا تذکرہ : اس کے بعد جنت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ متقیوں سے قریب کردی جائے گی کچھ دور نہ رہے گی پھر وہ جنت میں داخل کردیئے جائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتوں اور لذتوں کی وہ جگہ ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا رہا، یہ وعدہ ہر اس شخص سے تھا جو اواب یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف خوب رجوع کرنے والا ہے اور حفیظ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا خاص دھیان رکھنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگا رہتا تھا۔ اہل جنت کی مزید صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ بن دیکھے اللہ سے ڈرتے تھے۔ دنیا میں اس حالت پر رہے اور یہاں جو پہنچے تو قلب منیب لے کر آئے ان کا دل اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رہتا تھا اللہ کی یاد میں اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی فکر میں رہتے تھے اور متقیوں سے کہا جائے گا کہ اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ آج وہ دن ہے جس میں ہمیشگی کا فیصلہ کردیا گیا یعنی تم لوگ اس جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو۔ جنت میں دریدارِ الٰہی : پھر فرمایا کہ جنت میں داخل ہونے والوں کے لیے وہاں سب کچھ ہوگا جس کی انہیں خواہش اور چاہت ہوگی اور نہ صرف ان کی خواہش کے مطابق نعمتیں ملیں گی بلکہ ان کی خواہشوں سے زیادہ انہیں وہ وہ نعمتیں ملیں گی جہاں ان کی خواہش بھی نہ پہنچے گی۔ علاقہ قرطبی ؓ نے حضرت جابر اور حضرت انس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مزید سے مراد باری تعالیٰ شانہٗ کا دیدار ہے۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے جو حضرت صہیب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اہل جنت، جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ سوال فرمائیں گے کیا تم اور کچھ چاہتے ہو جو میں تمہیں مزید دے دوں یہ سن کر اہل جنت کہیں گے کیا آپ نے ہمارے چہرے روشن نہیں فرما دیئے کیا آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا کیا آپ نے ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دی (ہمیں اور کیا چاہیے) اس کے بعد پردہ اٹھا دیا جائے گا پھر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دیدار میں مشغول ہوجائیں گے اپنے رب کے دیدار سے بڑھ کر انہیں عطا کی گئی چیزوں میں سے کوئی چیز محبوب نہ ہوگی اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے سورة ٴ یونس کی آیت کریمہ ﴿ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ ﴾ تلاوت فرمائی۔ (مشکوٰۃ المصابیح : ص 5) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے دل پر ان کا گزر ہوا۔ پھر فرمایا کہ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ﴿ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ﴾ (سو کسی شخص کو علم نہیں جو ان لوگوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ وجعلنا اللہ من اھلھا وادخلنا فیھا
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کر دیاجو گرفت کرنے میں ان سے زیادہ سخت تھیں، سو وہ شہروں میں چلتے پھرتے رہے کیا بھاگنے کی کوئی جگہ ہے،

گزشتہ امتوں کی ہلاکت سے عبرت حاصل کرنے کا حكم اول تو ان آیات میں گزشتہ اقوام کی بربادی کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے قرآن کے مخاطبین سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا وہ لوگ گرفت کرنے میں ان لوگوں سے زیادہ سخت تھے، جیسا کہ قوم عاد کے بارے میں فرمایا ﴿ وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَۚ00130﴾ (اور جب تم پکڑتے ہو تو بڑے جابر بن کر پکڑتے ہو) ۔ اور سورة ٴ محمد میں فرمایا ﴿ وَ كَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِيَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْۤ اَخْرَجَتْكَ 1ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ 0013﴾ (اور بہت سی بستیاں ایسی تھیں جو قوت میں آپ کی اسی بستی سے بڑھی ہوئی تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو گھر سے بےگھر کردیا ہم نے ان کو ہلاک کردیا سو ان کا کوئی مددگار نہیں ہوا) ۔ ﴿فَنَقَّبُوْا فِي الْبِلَادِ 1ؕ هَلْ مِنْ مَّحِيْصٍ 0036﴾ (سو وہ لوگ شہروں میں چلتے پھرتے رہے جب ہلاک ہونے کا وقت آیا تو ان کی قوت اور سیر و سیاحت نے انہیں کچھ بھی نفع نہ پہنچایا، عذاب آنے پر کہنے لگے کہ کیا کوئی بھاگنے کی جگہ ہے) لیکن بھاگنے کا کوئی موقعہ نہیں ملا اور بالآخر ہلاک ہوگئے۔ صاحب روح المعانی نے ایک قول یہ لکھا ہے کہ فنقبوا کی ضمیر اہل مکہ کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ اہل مکہ سے پہلے جو قومیں ہلاک ہوچکی ہیں یہ لوگ اپنے اسفار میں ان تباہ شدہ شہروں سے گزرتے ہیں کیا انہیں کوئی ایسی صورت نظر آتی ہے کہ عذاب آئے تو بھاگنے کی جگہ مل جائے جس کی وجہ سے اپنے بارے میں گمان کرتے ہیں کہ ہم بھی انہیں کی طرح راہ فرار حاصل کرلیں گے (یعنی ایسا نہیں ہے) جب ایسا نہیں ہے تو یہ لوگ کفر پر کیوں جمے ہوئے ہیں ؟
Ayahs 50:37–38

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جس کے پاس دل ہو یا جو ایسی حالت میں ہو کہ کان لگائے ہوئے حاضر ہو،

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا اور ہم کو تھکن نے چھوا تک نہیں،

اس کے بعد فرمایا ﴿ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِيْدٌ0037﴾ (یہ جو کچھ سابق مضمون بیان کیا گیا اس میں اس شخص کے لیے نصیحت ہے جس کے پاس دل ہو جو سمجھتا ہو اور حقائق سے آگاہ ہو یا ایسی حالت میں کان لگاتا ہو کہ وہ وہاں اپنے دل سے حاضر ہو) یہ بطریقہ مانعۃ الخلو ہے، جو لوگ نصیحت حاصل کرنے والے دل نہیں رکھتے اور صحیح طریقہ پر حضور قلب کے ساتھ بات نہیں سنتے ایسے لوگ عبرت اور نصیحت حاصل کرنے سے دور رہتے ہیں۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان دوسری مخلوق ہے ان سب کو چھ دن میں پیدا فرمایا اور ذرا سی بھی تھکن نے ہمیں نہیں چھوا، جو کمزور ہوتا ہے وہ کام کرنے سے تھک جاتا ہے اللہ جل شانہٗ قوی قادر مقتدر ہے اسے ذرا بھی تھکن نہیں پہنچ سکتی، صاحب روح المعانی نے حضرت قتادہ کا قول نقل کیا ہے اس میں جاہل یہودیوں کی تردید ہے جو یوں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے سنیچر کے دن پیدا فرمانا شروع کیا اور جمعہ کے دن فارغ ہوا اور سنیچر کے دن آرام کیا (العیاذ باللہ) یہ ان لوگوں کی جہالت ہے اور کفر ہے۔
Ayah 50:39

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

سو آپ ان باتوں پر صبر کیجئے جو یہ لوگ کہتے ہیں اور آفتاب نکلنے سے پہلے اور غروب سے پہلے اپنے رب کی تسبیح وتحمید بیان کیجئے

﴿فَاصْبِرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ0039﴾ (اور اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے جس کے ساتھ حمد بھی ہو سورج نکلنے اور سورج چھپنے سے پہلے) مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے فجر اور عصر کی نماز مراد ہے ان دونوں کی حدیث مبارکہ میں خاص فضیلت وارد ہوئی ہے، عمارہ بن روبیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی ایسا شخص دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور چھپنے سے پہلے نماز پڑھی۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 62)
Ayah 50:40

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات کے حصہ میں بھی اس کی تسبیح بیان کیجئے اور سجدوں کے بعد بھی۔

﴿ وَ مِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ ﴾ (اور رات کو اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے) علماء نے فرمایا ہے کہ اس سے قیام اللیل یعنی رات کو نماز پڑھنا مراد ہے ﴿وَ اَدْبَار السُّجُوْدِ 0040﴾ (اور سجدوں کے بعد اللہ کی تسبیح بیان کیجئے) اس سے فرض نماز کے بعد نفل پڑھنا مراد ہے اور بعض حضرات نے نماز کے بعد تسبیحات پڑھنا مراد لیا ہے۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ قبل الطلوع سے نماز فجر اور قبل الغروب سے ظہر اور عصر اور من اللیل سے مغرب اور عشاء اور ﴿وَ اَدْبَار السُّجُوْدِ﴾ سے فرضوں کے بعد کے نوافل مراد ہیں۔