Ayahs 50:1–31:۔ ابن جریر ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ '' ق '' اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے پیچھے ایک سمندر کو پیدا فرمایا جو اس ساری زمین کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے پھر اس کے پیچھے پہاڑ کو پیدا فرمایا جس کو '' ق '' کہا گیا دنیا کا آسمان اس پر پھیلا ہوا ہے پھر اس پہاڑ کے پیچھے اس زمین سے سات گنا بڑی زمین پیدا فرمائی پھر اس کے پیچھے ایک سمندر کو پیدا کیا جو اس کو گھیرے ہوئے ہے پھر اس کے پیچھے ایک پہاڑ کو پیدا فرمایا اسے بھی (آیت ) '' ق '' اور دوسرا آسمان اس پر پھیلا ہوا ہے یہاں تک کہ آپ نے سات زمینیں اور سات سمندر اور سات پہاڑ اور سات آسمان شمار فرمائے اسی کو فرمایا (آیت ) '' والبحر یمدہ من بعدہ سبعۃ ابحر '' (لقمان آیت 27)
3:۔ ابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) وابوالشیخ والحاکم نے عبداللہ بن بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' ق '' سے مراد ہے زمرد کا پہاڑ جو ساری دنیا کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے اس پر آسمان کے کنارے ہیں۔
4:۔ ابن ابی الدنیا فی العقوبات وابوالشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک پہاڑ کو پیدا فرمایا جس کو (آیت) '' ق '' کہا جاتا ہے جو ساری دنیا کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے اور اس کی جڑیں اس چٹان تک گہری ہیں جس پر زمین ہے جس پر اللہ کسی بستی میں زلزلہ بھیجنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس پہاڑ کو حکم فرماتے ہیں کہ وہ اس رگ اور جڑ کو حرکت دے جو اس بستی کے ساتھ ملی ہوئی ہے، چناچہ وہ اس کو حرکت دیتا ہے اور زلزلہ برپا کردیتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض شہروں میں زلزلہ آتا ہے اور بعض شہروں میں نہیں آتا۔
5:۔ عبدالرزاق (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' ق '' سے مراد ہے ایک پہاڑ ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔
6:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' ق '' قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
7:۔ عبدالرزاق (رح) وعبدبن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' والقرآن المجید '' میں المجید سے مراد ہے کریم۔
8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) '' والقرآن المجید '' سے مراد ہے کہ کوئی چیز بھی قرآن مجید سے احسن اور افضل نہیں ہے۔
9:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' ذلک رجع بعید '' سے مراد ہے کہ انہوں نے دوبارہ اٹھنے سے انکار کیا اور کہنے لگے کہ کس کی طاقت ہے کہ وہ ہم کو مرنے کے بعد دوبارہ لوٹائے اور ہم کو زندہ کرے۔
Ayahs 50:4–510:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' قد علمنا ماتنقص الارض منہم '' (ہم جانتے ہیں کہ انمیں سے زمین کیا گھٹاتی ہے یعنی ان کے جسموں میں سے اور ان کے جو ان کے جسموں سے ضائع اور ختم ہوجاتا ہے)
11:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) '' قد علمنا ماتنقص الارض منہم '' سے مراد ہے کہ ہم خوب جانتے ہیں جو زمین گھٹاتی ہے ان کے گوشت سے ان کے بالوں سے اور ان کی ہڈیوں سے۔
12:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم خوب جانتے ہیں ان مردوں کو جن کو زمین کھاجائے گی جب وہ مرجائیں گے۔
13:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وعندنا کتب حفیظ '' اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں ان کی تعداد اور ان کے نام محفوظ ہیں۔
14:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) فی امر مریج '' سے مراد ہے مختلف (یعنی وہ میرے اختلاف میں پھنس چکے ہیں )
15:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابوحمزہ کے طریق سے ابو حمزہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' فی امرمریج '' کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ '' الشیء المریج '' سے مراد ہے منکر اور متغیر چیز کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔
فجالت والتمست بہ مشاھا فخر کانہ خوظ مریج ''
ترجمہ : اس نے چکر لگایا اور اس کے ذریعہ اپنی پناہ گاہ کو تلاش کیا پس وہ گرپڑا گویا کہ وہ الجھی ہوئی نرم ٹہنی ہے۔
16:۔ ابن جریر (رح) نے العونی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی امرمریج '' سے مراد ہے کہ وہ گمراہی میں پھنس گئے ہیں۔
17:۔ ابن الانباری نے کتاب الوقف میں والخطیب نے تالی التخلیص میں والطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ابن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' فی امرمریج '' کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا اس سے مراد ہے مختلط (یعنی وہ بہت بڑی الجھن میں پھنس گئے) پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا :
فراغت فانتفذت بہ حشاھا فخر کانہ خوط مریج۔
ترجمہ : وہ چپکے سے نکل گئی اور اس طرح اس نے اپنی پناہ میں ختم کردی اور وہ گرپڑا گویا کہ وہ ایک سبز شاخ ہے الجھی ہوئی۔
Ayahs 50:6–818:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی امرمریج '' میں مریج سے مراد ہے ملتبس (آیت ) '' ومالھا من فروج '' (اور اس میں کوئی شگاف نہیں یعنی دراڑیں)
19:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' من کل زوج بھیج '' کے بارے میں بتائیے فرمایا '' زوج '' سے مراد ہے واحد اور بھیج سے مراد ہے خوبصورت پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے اعشی کو نہیں سنا اور وہ کہتا ہے۔
وکل زوج من الدیباج یلبسہ ابوقدامہ محبوک یداہ معا :
ترجمہ : اور ریشم کا ہر وہ جوڑا جسے ابوقدام پہنتا ہے (وہ اور) اس کے ہاتھ دونوں تیری پسندیدہ ہیں۔
20:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کل زوج بھیج '' سے مراد ہے خوبصورت چیزیں '' تبصرۃ '' یعنی کتنا تبصرہ ہے بندوں کے لئے (آیت ) '' وذکری لکل عبد منیب '' ( اور نصیحت ہے ہر بندے رجوع کرنے والے کے لئے) میں منیب سے مراد ہے ہر بندہ جس کا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو۔
21:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' تبصرۃ '' سے بصیرت مراد ہے۔
22:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) اور عطا (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وذکری لکل عبد منیب '' سے مراد ہے عاجزی کرنے والا۔
Ayah 50:923:۔ الادب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب بارش ہوتی تو اپنی باندی سے فرماتے اے باندی میری زین باہر نکال میرے کپڑے باہر نکال اور یہ فرماتے (آیت ) '' ونزلنا من السمآء مآء مبرکا '' (اور ہم نے آسمان سے مبارک پانی نازل کیا)
24:۔ ابوالشیخ (رح) نے العظمہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ونزلنا من السمآء مآء مبرکا '' سے مراد ہے بارش۔
25:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وحب الحصید '' (کھیتی کا غلہ) سے مراد ہے گندم۔
26:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' وحب الحصید '' سے مراد ہے گندم اور جو۔
Ayahs 50:10–1427:۔ الحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے قطبہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو صبح کے وقت میں یہ پڑھتے ہوئے سنا جب آپ اس (آیت ) '' والنخل بسقت الھا طلع نضید '' پر پہنچے اور لمبے لمبے کھجور کے درخت جن کے گچھے خوب گوندے ہوئے ہیں) تو فرمایا قطبہ میں کہتا ہوں وہ کھجور کے درخت جن کو بہت لمبا بنایا گیا۔
28:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنخل بسقت '' سے مراد ہے لمبی کھجوریں۔
29:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عبداللہ بن عثمان بن خثیم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ ؓ سے (آیت ) '' والنخل بسقت '' کے بارے میں پوچھا میں نے کہا کہ اس کی بسوق کیا ہے ؟ فرمایا '' بسوقھا '' سے مراد ہے کھجور کا گچھا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بکری کے لئے کہا جاتا ہے جب اس کے بچے پیدا کرنے کا وقت قریب ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ '' بسقت '' عبداللہ بن عثمان نے کہا پھر میں نے سعید بن جبیر ؓ کی طرف لوٹ آیا میں نے ان سے (یہ بات) کہی تو انہوں نے فرمایا اس نے جھوٹ بولا '' بسقت الخل '' سے مراد کلام عرب میں اس کا لمبا اور طویل ہونا ہے کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' والنخل بسقت '' (لمبی لمبی کھجوریں) پھر فرمایا '' طلع نضید '' (پھل تہ بہ تہ)
30:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے عبداللہ بن شداد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنخل بسقت '' سے مراد ہے ان کا سیدھا کھڑا ہونا۔
31:۔ ابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ '' بسوقھا '' سے مراد ہے اس کا لپٹنا یعنی کھجوروں کا ایک دوسرے کے ساتھ ملا ہونا۔
32:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روا یت کیا کہ (آیت ) '' طلع نضید '' (اس کے پھل ہیں تہ بہ تہ) یعنی ان کے گچھوں میں پھل کا ایک دوسرے کے اوپر تہ بہ تہ ہونا۔
Ayah 50:15:۔ ابن المنذر (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فحق وعید '' (سو میری وعید یعنی عذاب ان پر واقع ہوگیا) یعنی وہ اس کے ذریعہ ہلاک نہیں ہو کئے گئے (صرف) ان کو ڈرانے کے لئے (ایسا فرمایا) (آیت) '' افعیینا بالخلق الاول '' (کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے تھک گئے) یعنی کیا ہم پر تھکان ہوگئی۔ جب ہم نے تم کو پیدا کیا (آیت) '' بل ھم فی لبس من خلق جدید '' (بلکہ یہ لوگ از سر نو پیدا کرنے کی طرف بلادلیل شبہ میں ہیں یعنی وہ شک کررہے ہیں موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے سے۔
2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' افعیینا بالخلق الاول '' یعنی ہم پہلی مرتبہ مخلوق کو پیدا کرنے سے نہیں تھکتے (آیت) '' بل ھم فی لبس من خلق جدید '' یعنی وہ شک میں ہیں موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے سے۔
Ayah 50:161:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان کو بلند ترین مقام عطا فرمایا اور وہ خود اس کی گردن کی رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں اور وہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور وہ ہر جانور کی پیشانی کے بالوں کو پکڑے ہوئے ہے اور وہ ان کے ساتھ ہیں جہاں بھی وہ ہوں۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے جویبر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ضحاک (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' ونحن اقرب الیہ من حبل الورید '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا ابن آدم سے کوئی چیز بھی زیادہ قریب نہیں اس کی گردن کی رگ سے اور اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ انسان کے قریب ہیں۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' من حبل الورید '' سے مراد ہے گردن کی رگ۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' من حبل الورید '' سے مراد ہے دل کی رگ اور جو کچھ وہ اٹھائے ہوئے ہے۔
5:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' من حبل الورید '' سے مراد ہے وہ رگ جو حلق میں ہوتی ہے۔
Ayah 50:171:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اذ یتلقی المتلقین '' (جب لینے والے دونوں فرشتے اس کے قول وعمل کو) لے لیتے ہیں یعنی ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں ایک فرشتہ اس کی داہنی طرف اور دوسرا بائیں طرف ہوتا ہے جو اس کے داہنی طرف ہوتا ہے وہ نیکیاں لکھتا ہے اور جو اس کے بائیں طرف ہوتا ہے وہ برائیاں لکھتا ہے۔
2:۔ ابونعیم والدیلمی (رح) نے معاذ بن جبل ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ دو حفاظت کرنے والے فرشتوں کو بہت لطیف بناتا ہے یہاں تک کہ اس نے ان دونوں کو دو داڑھوں پر بٹھا دیا ہے اور انسان کی زبان کو ان کی قلمیں اور اس کے لعاب کو ان کی روشنائی بنادیا ہے۔
3:۔ ابونعیم نے حلیہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ برائیوں کو لکھنے والے کا نام قعید ہے۔
4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے آیت کے بارے میں روایت کیا کہ دائیں جانب نیکیوں کو لکھنے والا ہے اور بائیں جانب برائیوں کو لکھنے والا ہے۔
زبان سے نکلنے والی ہر بات لکھی جاتی ہے :
Ayah 50:185:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مایلفظ من قول '' (آدمی کوئی بات منہ سے نکالنے بھی نہیں پاتا) یعنی لکھ لیا جاتا ہے ہر بات کو جو وہ بات کرتا ہے خیر میں سے یا شر میں سے یہاں تک کہ اس کمی بات بھی لکھ لی جاتی ہے کہ میں نے کھایا میں نے پیا میں گیا میں آیا میں نے دیکھا یہاں تک کہ جب خمیس کا دن ہوتا ہے اس کی بات کو اور اس کے عمل کو پیش کیا جاتا ہے اور جو کچھ اس میں خیر یا شر ہو اس سے اس کا اقرارلیا جاتا ہے پھر ان سب کو رکھ دیا جاتا ہے اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' یمحواللہ ما یشآء ویثبت '' (اللہ تعالیٰ مٹا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور باقی رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے ) ۔
6:۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) والحاکم (وصححہ) نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید '' (آدمی کوئی بات منہ سے نکالنے نہیں پاتا کہ ایک تاک لگانے والا فرشتہ اس کے لینے کو تیار بیٹھا ہوتا ہے) یعنی لکھا جاتا ہے خیر کو، شرکو یہ نہیں لکھا جاتا کہ اے لڑکے گھوڑے کو زین ڈال دے اور اے لڑکے مجھے پانی پلا دے۔
7:۔ ابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ وہی کچھ لکھا جاتا ہے جس پر اجر دیا جائے اور جس کے بارے میں پوچھا جائے گا اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی سے میرے پاس آتا کہ ہم ایسا اور ایسا کریں تو اس پر ایک چیز لکھ دی جاتی ہے۔
8:۔ ابن ابی الدنیا نے الفدیہ میں الکلبی کے طریق سے ابن عباس ؓ نے (آیت ) '' مایلفظ من قول '' (الآیہ) کے بارے میں روایت کیا کہ نیکیاں لکھنے والا اس کی داہنی جانب سے اس کی نیکیوں کو لکھتا ہے۔ اور برائیوں کو لکھنے والا اس کی بائیں جانب سے لکھنا ہے جب وہ کوئی نیک عمل کرتا ہے تو دائیں جانب سے اس کی نیکیوں کو لکھتا ہے۔ اور برائیوں کو لکھنے والا اس کی بائیں جانب سے لکھتا ہے جب وہ کوئی نیک عمل کرتا ہے تو دائیں طرف والا فرشتہ دس نیکیاں لکھتا ہے اور جب وہ برا عمل کرتا ہے تو دائیں طرف والا بائیں طرف والے کو کہتا ہے کہ اس کو چھوڑ دے یہاں تک کہ وہ تسبیح یا استغفار کرے جب خمیس کا دن ہوتا ہے تو لکھ دیا جاتا ہے جو اس کا بدلہ دیا جائے گا نیکی میں سے یا برائی میں سے اور جو کچھ اس کے علاوہ ہو اس کو پھینک دیا جاتا ہے پھر اسے ام الکتاب یعنی لوح محفوظ پر پیش کیا جاتا ہے تو وہ اس میں سب کچھ پالیتا ہے۔
9:۔ ابن ابی الدنیا نے الصمت میں علی ؓ سے روایت کیا کہ انسان کی زبان فرشتے کا قلم ہے اور اس کا تھوک اس کی روشنائی ہے۔
10:۔ ابن ابی الدنیا ابن المنذر (رح) نے احنف بن قیس (رح) سے (آیت ) '' عن الیمین وعن الشمال قعید '' کے بارے میں روایت کیا کہ دائیں طرف والا فرشتہ نیکی اور خیر کو لکھتا ہے اور وہ بائیں طرف والے پر امیر ہوتا ہے۔ اگر کوئی بندہ گناہ کرلیتا ہے تو دائیں طرف والا اس سے کہتا ہے رک جاؤ اگر وہ اللہ سے استغفار کرلیتا ہے تو اس کو لکھنے سے روک دیتا ہے اگر بندہ استغفار نہ کرے تو اس کو لکھنے پر اصرار کرتا ہے۔
11:۔ ابن المنذر (رح) وابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں ابن المبارک کے طریق سے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ دو فرشتے ہیں ایک ان میں سے اس کے داہنی طرف ہوتا ہے جو نیکیاں لکھتا ہے اور ایک فرشتہ اس کے بائیں طرف ہوتا ہے جو برائیاں لکھتا ہے پس وہ فرشتہ جو اس کے داہنی طرف ہوتا ہے وہ اپنے ساتھی کی گواہی کے بغیر لکھتا ہے۔ اگر کوئی بیٹھا ہوا ہو تو ایک ان میں سے داہنی طرف اور دوسرا بائیں طرف ہوتا ہے۔ اگر وہ چلتا ہے تو ان میں سے ایک آگے اور دوسرا پیچھے ہوتا ہے اور اگر وہ سوئے تو ان میں سے ایک اس کے سر کی جانب ہوتا ہے تو دوسرا اس کے پاؤں کے جانب، ابن مبارک (رح) نے فرمایا کہ انسان کو پانچ فرشتوں کے حوالے کیا گیا ہے دو فرشتے رات کو اور دو فرشتے دن کو ہوتے ہیں یہ دو دو آتے ہیں جاتے رہتے ہیں اور پانچواں فرشتہ نہ اس سے رات کے وقت جدا ہوتا ہے اور نہ دن کے وقت۔
12:۔ الفریابی وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' رقیب عتید '' سے مراد ہے '' رصید '' یعنی نگرانی کرنے والا اور تاک میں رہنے والا۔
13:۔ ابن المنذر (رح) وابوالشیخ (رح) نے حجاج بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابو معشر سے کہا کہ ایک آدمی اپنے دل میں اللہ کو یاد کرتا ہے فرشتے کس طرح لکھتے ہیں ؟ فرمایا وہ اس کی خوشبو کو پاتے ہیں۔
14:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزھد میں ابوعمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ فرشتے اپنی تحریروں کے ساتھ صف بناتے ہیں آسمان دنیا میں ہر شام کو عصر کے بعد ایک فرشتہ آواز لگاتا ہے کہ اس صحیفے کو رکھ دیئے اور دوسرا فرشتہ آواز لگاتا ہے اس صحیفہ کو رکھ دے اور وہ فرشتے کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ان لوگوں نے خیر اور بھلائی کی بات کی اور ہم ان پر حفاظت کرنے والے ہیں پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ ان لوگوں نے اس عمل سے میری رضامندی کا ارادہ نہیں کیا اور بلاشبہ میں قبول نہیں کرتا مگر وہ عمل کہ جس کے ساتھ میری رضامندی کا ارادہ کیا گیا ہو، پھر دوسرے فرشتے کو پکار کر کہتا ہے فلاں بن فلاں کے لئے اس طرح اور اس طرح لکھ تو وہ فرشتہ کہتا ہے کہ اے میرے رب (اس نے کام کا ارادہ کیا ہے لیکن ابھی) عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بیشک اس نے اس کی نیت کی ہے ْ
عمل کی قبولیت اخلاص پر موقوف ہے :
15:۔ ابن المبارک وابن ابی الدنیا نے اخلاص میں اور ابو الشیخ (رح) نے العظمہ میں ضمرہ بن حبیب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فرشتے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کے عمل کو لے کر اوپر چڑھتے ہیں اور وہ اسے کثیر قرار دیتے ہیں اور کا تذکیہ بیان کرتے ہیں یہاں تک کہ وہاں رہتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ اپنا غلبہ چاہے پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی فرماتے ہیں کہ تم میرے بندے کے عمل کی حفاظت کرنے والے ہو اور میں اس کا نگہبان ہوں اس چیز پر جو اس کے دل میں تھی بلاشبہ میرے اس بندے نے اپنے عمل کو میرے لئے خالص نہیں کیا اس کو سجین میں ڈال دو ۔ راوی نے کہا کہ (جب) فرشتے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کے عمل کرلے کر اوپر چڑھتے ہیں اور وہ اس (عمل) کو قلیل سمجھتے ہیں اور اس کو حقیر قرار دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ وہاں جاکر رکتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ اپنا غلبہ چاہے پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی فرماتے ہیں کہ بلاشبہ تم نے میرے رضامندی کی نیت کی تھی) اس کے لئے اس کے عمل کو دگناہ کردو اور اس کو علیین میں رکھ دو ۔
16:۔ الطبرانی وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے الشعب میں ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دائیں طرف والا فرشتہ امیر ہوتا ہے بائیں طرف والے پر جب کوئی بندہ نیک عمل کرتا ہے تو اس کے لئے اس کی مثل دس دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور جب وہ کوئی برا عمل کرتا ہے اور بائیں جانب والا فرشتہ اس کے لکھنے کا ارادہ کرتا ہے تو دائیں طرف والا کہتا ہے ٹھہر جا وہ چھ یا سات ساعتیں ٹھہرا رہتا ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرلیتا ہے تو اس پر کوئی چیز نہیں لکھی جاتی اور اگر وہ اللہ سے استغفار نہیں کرتا تو اس پر ایک گناہ لکھ دیا جاتا ہے۔
17:۔ الشیخ نے التفسیر میں حسان بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک مجلس مذاکرہ قائم کی جس میں مکحول اور ابن ابی زکریا رحمہا اللہ بھی تھے جب بندہ کوئی گناہ کا عمل کرے تو اس پر تین ساعتیں نہیں لکھا جاتا اگر اس نے اللہ سے استغفار کرلیا (تو ٹھیک) ورنہ اس پر (وہ گناہ) لکھ دیا جاتا ہے۔
فضول ولا یعنی باتوں سے پرہیز کرنا :
18:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عطا بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ فضول کام کروناپسند کرتے تھے کتاب اللہ کے علاوہ کہ وہ ایسے پڑھیں یا نیکی کا حکم دیں یا برائی سے روکیں اور یہ تو اپنی معیشت کے بارے میں اتنی گفتگو کرے تو تیرے لئے ضروری ہے۔ کیا تم انکار کرتے ہو کہ تم پر حفاظت کرنے والے کراما کاتبین (فرشتے) ہیں جو دائیں اور بائیں طرف بیٹھے ہوئے ہیں وہ اپنی زبان سے کوئی قول بھی نہیں نکالتا کہ نگہبان فرشتہ لکھنے کے لئے تیار ہوتا ہے کیا تم میں سے کوئی اس بات سے نہیں شرماتا اگر اپنے اس اعمال نامے کو کھولے جسے اس نے اپنے دن کے دوران بھرا اور اکثر اس میں وہ عمل ہیں جو نہ اس کے دین کے کاموں میں سے ہیں اور نہ اس کے دنیا کے کاموں میں سے ہیں۔
19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں میں اوزاعی کے طریق سے حسان بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ اس درمیان میں ایک آدمی گدھے پر سوار تھا کہ اچانک ٹھوکر کھا کر گرپڑاتو اس نے کہا (یہ گدھا) ہلاک ہوداہنی طرف والے فرشتے نے کہا یہ نیکی میں ہے کہ میں اس کو لکھوں اور بائیں طرف والے نے کہا یہ برائی میں ہے کہ میں اس کو لکھوں بائیں طرف والے کو آواز دی گئی کہ جو دائیں طرف نے چھوڑ دیا ہے تو اس کو لکھ لے۔
20:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے بکر بن ماعز (رح) سے روایت کیا کہ ربیع بن خیثم کی بیٹی آئی اور ان کے پاس ان کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے اس نے آتے ہی کہا اباجان میں کھیلنے جارہی ہوں انہوں نے کہاں نہیں (مت جاؤ) ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا اے ابو یزید (یہ ان کی کنیت ہے) کہ اس کو چھوڑ دو تو انہوں نے کہا میرے اعمال نامے میں یہ نہیں پایا جائے گا۔ بلاشبہ میں نے اس سے کہا کہ تو چلی جا اور کھیل لیکن یہ ہوگا کہ تو جا اور اچھی بات کہہ اور خیر کا کام کر۔
21:۔ البیہقی نے شعب میں حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ کلام کے ساتھ دروازے ہیں جب ان سے نکل آئے تو لکھ دیا جاتا ہے اور جب تک (کوئی بات) باہر نہ نکلے وہ نہیں لکھی جاتی۔ دل اور حلق کا کوا اور زبان اور دو جبڑے اور دو ہونٹ۔
22:۔ الخطیب نے روزی مالک میں وابن عساکر نے مالک ؓ سے روایت کیا کہ ان کو یہ پہنچی کہ ہر چیز لکھی جاتی ہے یہاں تک کہ مریض کا کراہنا بھی۔
23:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابن آدم پر ہر چیز لکھی جاتی ہے جو وہ بات کرتا ہے یہاں تک کہ اس مرض کی حالت میں کراہنا بھی لکھ دیا جاتا ہے۔
24:۔ ابن ابی الدنیا وابن عساکر (رح) نے فضیل بن عیسیٰ (رح) سے روایت کیا کہ جب کسی آدمی کی موت حاضر ہوتی ہے تو اس فرشتے کو کہا جاتا ہے جو اس کے اعمال لکھتا تھا تو رک جا تو وہ جواب دیتا ہے نہیں میں نہیں جانتا کہ وہ '' لا الہ الا اللہ '' کہہ دے تو میں اس کے لئے لکھ دوں گا۔
25:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ مریض کی ہر چیز لکھی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی بیماری میں اس کا کراہنا بھی۔
26:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عطاء بن یسار ؓ سے مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ آپ نے فرمایا جب کوئی بندہ بیمار ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کراما کاتبین سے فرماتے ہیں میرے بندے کے لئے اسی کی مثل عمل لکھتے رہو جیسے وہ عمل کیا کرتا تھا یہاں تک کہ میں اس کی روح قبض کرلوں یا اس کو عافیت دے دوں۔
27:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ جب بندہ بیمار ہوجاتا ہے ہے تو فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب آپ نے اپنے بندے کو اس طرح (بیماری میں) مبتلا کیا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب تک یہ میری رسی میں بندھا ہوا ہے (یعنی جب تک یہ بیمار ہے) تم اس کے لئے اس طرح کے عمل لکھتے رہو جیسے وہ کیا کرتا تھا۔
28:۔ ابن ابی شیبہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں معاذ ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو بیماری میں مبتلا فرماتے ہیں تو وہ بائیں طرف والے فرشتے سے کہتا ہے تو (اپنا قلم کو) اٹھالے اور دائیں طرف والے سے فرماتے ہیں میرے بندے کے لئے ہو سب کچھ لکھ دو جو وہ عمل کیا کرتا تھا۔
بیماری کے زمانے میں صحت کے زمانے کے اعمال کا ثواب ملتا ہے :
29:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے نصر بن انس (رح) سے روایت کیا کہ ہم پچاس سال سے یہ بیان کرتے تھے جب کوئی بندہ بیمار ہوجاتا تو اللہ تعالیٰ اس کے دونوں اعمال لکھنے والے فرشتوں سے فرماتے ہیں میرے بندے کے لئے وہ سب کچھ لکھ دو جو اپنی صحت میں کیا کرتا تھا۔
30:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوقلابہ (رح) سے روایت کیا جب کوئی آدمی نیک عمل کرتے ہوئے بیمار ہوجاتا ہے (یعنی بیماری کی وجہ سے نیک عمل نہیں کرسکتا) تو اس کے لئے (ان سب اعمال کا اجر) جاری کردیا جاتا ہے جو وہ اپنی صحت کی حالت میں کیا کرتا تھا۔
31:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ جب کوئی آدمی بیمار ہوجاتا ہے تو اس کے لئے ہر دن وہی عمل لکھا جاتا ہے جو ہو کیا کرتا تھا۔
32:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ثابت بن مسلم بن یسار رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ جب بندہ بیمار پڑجاتا ہے تو اس سے بہتر اس کے لئے لکھ دیا جاتا ہے جو وہ اپنی صحت کی حالت میں عمل کرتا تھا۔
33:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے الدارقطنی نے الافراد میں، الطبرانی والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی مسلمان کسی جسمانی بیماری میں مبتلا کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ حفاظت کرنے والے فرشتوں کو حکم فرماتے ہیں کہ میرے بندے کے لئے وہ سب کچھ لکھ دو جو وہ صحت کی حالت میں عمل کیا کرتا تھا۔ جب تک میرا یہ بندہ میری رسی میں بندھا ہوا ہے (یعنی جب تک وہ ایمان پر قائم ہے )
34:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوموسی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص بیمار ہوا یا اس نے سفر کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے وہی اعمال لکھ دیتے ہیں جو وہ صحت کی حالت میں اور گھر مقیم ہوتے ہوئے کیا کرتا تھا۔
35:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے واحمد والبیہقی (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کسی مومن کو اللہ تعالیٰ کسی جسمانی بیماری میں مبتلا فرماتے ہیں تو فرشتے سے فرماتے ہیں اس کے لئے وہ نیک عمل لکھ دو جو وہ عمل کیا کرتا تھا اگر اللہ تعالیٰ اس کو شفاعطا فرمادے تو اس کو غسل صحت کرادیتے ہیں اور اس کو (گناہوں سے) پاک کردیتے ہیں اور اگر اس کو موت دیتے ہیں تو اس کو بخشش دیتے ہیں اور اس پر رحم فرماتے ہیں۔
36:۔ ابوالشیخ فی العظمہ اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مومن بندے کے ساتھ دو فرشتوں کو مقرر فرماتے ہیں جو اس کے عمل کو لکھتے ہیں جب وہ مرجاتا ہے تو دونوں فرشتے کہتے ہیں جو اس پر مقرر کئے گئے ہیں کہ یہ (بندہ) مرگیا ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم آسمان کی طرف چڑھ جائیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے آسمان میرے فرشتوں سے بھرے ہوئے ہیں جو میری تسبیح بیان کرتے ہیں دونوں فرشتے عرض کرتے ہیں کیا ہم زمین میں مقیم رہیں گے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میری زمین میری ایسی مخلوق سے بھری ہوئی ہے جو میری تسبیح بیان کرتے ہیں تو دونوں فرشتے (پھر) عرض کرتے ہیں تو ہم کہاں جائیں ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے کی قبر پر کھڑے ہوجاؤ اور میری تسبیح اور میری حمد اور میری بڑائی بیان کرو اور یہ (سب کچھ) میرے بندے کے لئے قیامت کے دن تک اسے لکھتے رہو۔
37:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے واحمد فی الزھد والحکیم الترمذی نے عمر بن ذر (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر بات کرنے والے کی زبان کی پاس ہوتا ہے تو چاہئے کہ بندہ اللہ سے ڈرے اور چاہئے کہ وہ اس بات میں خوب غور وفکر کرے جو وہ کہہ رہا ہے۔
38:۔ الحکیم الترمذی نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Ayahs 50:19–201:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے بیان کیا کہ (آیت ) '' وجآءت سکرۃ الموت بالحق '' (اور موت کی سختی قریب آپہنچی سے مراد ہے موت کی شدت۔
رسول اللہ ﷺ پر موت کی سختی :
2:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والبخاری والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے آگے لکڑی یا چمڑے کا ایک برتن پڑا ہوا تھا جس میں پانی ہوتا تھا آپ اپنا ہاتھ مبارک پانی میں ڈالتے تھے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرہ مبارک پر پھیرتے تھے اور مسح کرتے تھے اور فرماتے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں بلاشبہ یہ موت کی سختیاں ہیں۔
3:۔ الحاکم (وصححہ) نے قاسم بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ (آیت ) '' وجآءت سکرۃ الموت بالحق '' تلاوت کی اور فرمایا کہ ام المؤمنین نے مجھ سے یہ بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور آپ موت کی حالت میں تھے اور ان کے پاس ایک پیالہ تھا جس میں پانی تھا اور آپ اپنے ہاتھ کو پیالے میں داخل فرماتے پھر وہ پانی اپنے چہرے مبارک پر مل دیتے پھر یہ دعا فرماتے '' اللہم اعنی علی سکرات الموت '' اے اللہ موت کی سختی پر میری مدد فرما۔
4:۔ ابن سعد نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ جب ولید بن ولید کو موت آئی تو ام سلمی ؓ روئی اور یہ کہا۔
یاعین فاب کی للولید بن الولید بن المغیرۃ
ترجمہ : اے آنکھ تو ولید بن ولید بن مغیرہ پر رو۔
کان الولید بن الولید اباالولید فتی العشیرۃ
ترجمہ : اس لئے کہ بن ولید خاندان کا مرد جوان ابوالولید تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ام سلمہ ایسا نہ کہو لیکن یوں کہو (آیت ) '' وجآءت سکرۃ الموت بالحق، ذلک ماکنت منہ تحید '' (اور موت کی سختی قریب آپہنچی یہ موت وہی ہے جس سے تو بچتا تھا)
5:۔ ابوعبیدہ فی فضائلہ وابن المنذر (رح) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب ابوبکر ؓ کی موت حاضر (قریب) ہوئی تو میں نے یوں کہا :
وأبیض یستسقی الغمام بوجہہ ثمال الیتامی عصمۃ للارامل
ترجمہ : اور سفید رنگت والا جس کے چہرے کی برکت سے بارش طلب کی جاتی ہے جو یتیموں کا ٹھکانا ہے اور جو بیوہ عورتوں کی ناموس کا محافظ ہے۔
(یہ سن کر) ابوبکر ؓ نے فرمایا بلکہ (آیت ) '' وجآءت سکرۃ الموت بالحق، ذلک ماکنت منہ تحید '' یعنی آپ نے اس آیت کے حق کو مقدم کیا اور موت کو بعد میں۔
6:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) نے الزھد میں ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ کا ساتھی بنا مکہ سے مدینہ کی طرف جب وہ کسی منزل پر اترے تو آدھی رات تک قیام کیا پوچھا گیا ان کی قرأت کیسے تھے ؟ کہا انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت ) '' وجآءت سکرۃ الموت بالحق، ذلک ماکنت منہ تحید '' وہ بڑی ترتیل کے ساتھ اسے پڑھتے رہے اور اس میں تسبیح بھی کثرت سے کرتے رہے۔
7:۔ احمد وابن جریر (رح) نے عبداللہ بن یمنی (رح) سے روایت کیا کہ جو زبیر بن عوام کے آزاد کردہ غلام تھے جب ابوبکر کو موت حاضر ہوئی تو عائشہ ؓ نے ان کو اس شعر کے ساتھ مثال بیان کی۔
عادل ما یغنی الحذار عن الفتی اذا حشر جت یوما وضاق بھا الصدر
ترجمہ : میں ملامت کرتی ہوں اس (وقت کو) جو اس نوجوان کو خوف سے دور کرتا ہے جبکہ اس وقت سانس غرغرانے لگی اور اس کے سبب سینہ تنگ ہوگیا۔
(یہ سن کر) ابوبکر ؓ نے فرمایا اے میری بیٹی ! ایسا نہیں ہے لیکن یوں کہہ (آیت ) '' وجآءت سکرۃ الموت بالحق، ذلک ماکنت منہ تحید ''
اما قولہ تعالیٰ : ماکنت منہ تحید :
موت سے بھاگنے والی کی مثال :
8:۔ الطبرانی (رح) نے سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی کی طرح سے ہے جسے زمین قرض (یعنی حق) کے لئے کرتی ہے کہ وہ دوڑتی ہوئی آتی ہے یہاں تک کہ جب وہ خوب تھک جاتی ہے اور ہانپنے لگتی ہے تو اپنے بل میں داخل ہوجاتی ہے تو زمین اس سے کہتی ہے اے لومڑی ! میرا حق (اداکر) پھر وہ ایک سوراخ سے نکل جاتی ہے وہ برابر اس طرتی کرتی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی گردن ٹوٹ جاتی ہے اور وہ مرجاتی ہے۔
Ayah 50:21اما قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' وجآءت کل نفس معھا سآئق وشھید ''
9:۔ عبدالرزاق (رح) والفریابی و سعید (رح) بن منصور (رح) وابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم فی الکنی وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) فی البعث والنشور وابن عساکر نے عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ (آیت) پڑھی '' وجآءت کل نفس معھا سآئق وشھید '' (اور ہر شخص اس طرح میدان قیامت میں) آئے گا ایک فرشتہ اس کو بہکا کر لانے والا ہوگا اور ایک اس کے اعمال پر گواہی دینے والا ہوگا) فرمایا کہ ایک ہانکنے والا ہے جو اس کو اللہ کے حکم کی طرف ہانکتا ہے اور رغبت دلاتا ہے اور شہید سے مراد ہے جو اس کے خلاف شہادت دے گا جو اس نے عمل کیا۔
10:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (رح) نے الکنی میں وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے (آیت ) '' وجآءت کل نفس معھا سآئق وشھید '' کے بارے میں روایت کیا کہ السائق سے مراد ہے فرشتہ اور '' وشھید ' ' سے مراد ہے عمل۔
11:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' سآئق وشھید '' کے بارے میں روایت کیا کہ '' سآئق '' فرشتوں میں سے ہے اور (آیت ) '' الشھید '' وہ ہے جو اس پر گواہی دے گا اس کی ذات میں سے۔
12:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) '' سآئق وشھید '' کے بارے میں روایت کیا کہ '' سائق '' فرشتوں میں سے ہے اور '' شھید '' سے مراد اس کی اپنی ذات سے شہادت دینے والے جیسے ہاتھ پاؤں اور فرشتے بھی ان پر گواہی دیں گے۔
13:۔ الفریابی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' سآئق وشھید '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ دو فرشتے ہیں : ایک لکھنے والا اور ایک گواہی دینے والا ہے۔
پیدائش سے پہلے رزق لکھ دیا جاتا ہے :
14:۔ ابن ابی الدنیا نے ذکر الموت میں وابن ابی حاتم وابو نعیم فی الحلیہ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آدم کا بیٹا غفلت میں ہے اپنے اس چیز سے جس کے لئے پیدا کیا گیا اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو فرشتے کو حکم دیتے ہیں کہ اس کا رزق لکھ دو اس کی عمر لکھ دو اس کی موت کا وقت لکھ دو اور بدبخت یا نیک بخت ہونا بھی لکھ دو پھر وہ فرشتہ اوپر جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ دوسرے فرشتے کو بھیجتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ قوت ادراکو پہنچ جاتا ہے پھر وہ فرشتہ اوپر چلا جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس پر دو فرشتوں کو مقرر فرماتے ہیں جو اس کی نیکیوں اور اس کی برائیوں کو لکھتے ہیں جب اس کو موت حاضر ہوتی ہے تو دونوں فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آجاتے ہیں تاکہ اس کی روح کو قبض کریں جب اس کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو روح کو جسم میں واپس لوٹادیا جاتا ہے (پھر) قبر کے فرشتے آتے ہیں اور اس کا امتحان لیتے ہیں پھر وہ دونوں اوپر چلے جاتے ہیں جب قیامت قائم ہوگی تو اس پر نیکیوں کو لکھنے والافرشتہ اور برائیوں کو لکھنے والا فرشتہ نیچے اتر آتا ہے اور اس کے اعمال نامے کو کھول کر اس کی گردن میں باندھ دیتے ہیں پھر دو فرشتے اس کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں ایک ہانکنے والا اور دوسرا گواہی دینے والا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک تمہارے سامنے ایک عظیم اور مشکل کام ہے کہ تم اس کا اندازہ نہیں کرسکتے پس تم اللہ کی عظیم ذات سے مدد مانگو۔
Ayah 50:2215:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لقد کنت فی غفلۃ من ھذا '' (کہ تو اس سے غفلت میں تھا یعنی کافر سے کہا جائے گا)
16:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکشفنا عنک غطآءک '' (کہ ہم تجھ سے اپنے پردے کو کھول دیں گے) سے موت کے بعد زندگی مراد ہے۔
17:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکشفنا عنک غطآءک '' (اب ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے) یعنی اس نے آخرت کو دیکھا اور اس چیز کی طرف دیکھے گا جو اللہ تعالیٰ نے اس سے وعدہ کیا تھا تو اس کو اسی طرح پائے گا۔
18:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فبصرک الیوم '' (سو آج تیری نگاہ تیز ہے) یعنی آج تو اپنی تیز نگاہ کے ساتھ ترازو کے درمیان ہوئے اس لوہے کو دیکھے جو دائیں بائیں جھکتا ہے پھر فرمایا جید سے مراد ہے نظر کا تیز ہونا۔
Ayah 50:2319:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقال قرینہ '' (اس کا ساتھی کہے گا) یعنی شیطان۔
20:۔ الفریابی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقال قرینہ '' یعنی وہ شیطان کہے گا جو اس کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔
21:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقال قرینہ '' (یعنی اس کا ساتھی) اس کا فرشتہ (آیت ) '' ھذا ما لدی عتید '' (یہ وہ اعمال نامہ ہے جو میرے پاس تیار ہے) یعنی جو میرے پاس تیار ہے انسان کے لئے میں نے اس کی حفاظت کی یہاں تک کہ میں اس کو لے آیا (آیت ) '' وقال قرینہ ھذا ما لدی عتید '' (وہ شیطان جو اس کا ساتھی تھا کہے گا اے ہمارے رب میں نے اس کو زبردستی گمراہ نہیں کیا یہاں قرین سے مراد شیطان ہے۔
Ayahs 50:24–2722:۔ ابن المنذر (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کل کفار عنید '' (ہر کفر کرنے والا حق سے ضد رکھنے والا) سے مراد ہے حق سے دور بھاگنے والے۔
23:۔ سعید بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' القیا فی جھنم کل کفار عنید '' (ہر ایسے شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کفر کرنے والا ہو حق سے ضد رکھتا ہو) یعنی جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کرنے والے تھے جو اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری سے سرکشی اختیار کرنے والے تھے نیکی سے روکنا اس کا حق تھا پھر فرمایا فرض زکوٰۃ میں حد سے بڑھنے والا (آیت ) '' معتد مریب '' (حق عبادت سے باہر جانے والا اور دین میں شک کرنے والا) یعنی اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا اور اپنے رب کے بارے میں گناہ کا ارتکاب کرنے والا تھا پھر فرمایا یہ وہ منافق ہے جس نے اللہ کے ساتھ دوسرے کو معبود بنارکھا پس یہ مشرک ہے۔
Ayah 50:28:۔ عبد الرزاق وابن المنذر (رح) نے منصور (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی انسان نہیں ہے مگر اس کے ساتھ اس کا ساتھی خیانت میں سے مقرر کیا گیا ہے۔ صحابہ نے پوچھا اور آپ بھی (ساتھی کے بغیر) نہیں ہیں فرمایا اور میں بھی (ساتھی کے بغیر) نہیں ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہوگیا اب وہ مجھے نیکی کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا۔
25:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لاتختصموا '' (ارشاد ہوگا میرے سامنے جھگڑے کی باتیں نہ کرو) یعنی وہ بغیر عذر کے معذرت پیش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کی حجت کو باطل کردے گا اور ان کی بات کو ان پر رد کردے گا۔
26:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' قال لاتختصموا لدی '' یعنی میرے پاس (نہ جھگڑو) (آیت ) '' وقد قدمت الیکم بالوعید '' (میں پہلے ہی سے تمہارے پاس وعید بھیج چکا تھا یعنی رسولوں کی زبان پر کہ جو میری نافرمانی کرے گا میں اس کو عذاب دوں گا)
27:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابو العالیہ (رح) سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' قال لاتختصموا لدی وقد قدمت الیکم بالوعید '' اور فرمایا (آیت ) '' ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون '' (پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑوگے) یہ کیسے ہوگا فرمایا ہاں (اس طرح ہوگا) اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت ) '' لا تختصموالذی '' یہ سب لوگ شرک والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت ) '' ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون '' یہ سب اہل قبلہ ہیں جو اپنے مظالم کے بارے میں جھگڑیں گے۔
Ayah 50:2928:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مایبدل القول لدی '' (میرے ہاں وہ بات نہیں بدل جائے گی) تحقیق میں نے وہ فیصلہ کردیا ہے جو میں فیصلہ کرنے والا تھا۔
29:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مایبدل القول لدی '' یہاں قسم مراد ہے۔
30:۔ عبد الرزاق والبخاری ومسلم والنسائی وابن ماجہ وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ معراج کی رات میں نبی کریم ﷺ پر پچاس نمازیں فرض کی گئی تھیں پھر کم کی گئیں یہاں تک کہ پانچ باقی رہ گئیں پھر آواز دی گئی اے محمد ﷺ میرے نزدیک حکم نہیں بدلتا اور بلاشبہ تیرے لئے ان پانچ کے بدلے میں پچاس (کا ثواب) ہوگا۔
31:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وما انا بظلام للعبید '' (اور میں بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں یعنی میں عذاب نہیں دوں گا جس نے جرم نہ کیا (واللہ تعالیٰ اعلم )
Ayah 50:30اما قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' یوم نقول لجھنم ھل امتلات وتقول ھل من مزید ''
32:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے فرمایا (آیت ) '' یوم نقول لجھنم ھل امتلات وتقول ھل من مزید '' (جس روز ہم دوزخ سے کہیں گے تو بھر گئی اور وہ کہے گی کیا کچھ اور ابھی ہے) یعنی جہنم کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔
33:۔ سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) نے آیت کے بارے روایت کیا کہ یہاں تک کہ وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔
34:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ اس کو ضرور ضرور بھرے گا اور فرمایا میں تجھ سے وعدہ کو ضرور پورا کروں گا تو جہنم نے کہا کیا اور کوئی راستہ ہے۔
35:۔ احمد والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم میں برابر ڈالا جاتا رہے گا اور وہ کہتی رہے گی کیا کچھ اور بھی ہے آخرت رب العزت اپنا قدم اس میں رکھ دے گا تو دوزخ کے بعض حصے بعض کی طرف سمٹ جائیں گے اور وہ کہے گی بس بس تیری عزت اور کرم کی قسم (میں بھر گئی) اور جنت میں فالتو جگہ برابر خالی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک دوسری مخلوق کو پیدا کرے گا اور ان کو جنت کے محلات میں ٹھہراے گا۔
36:۔ البخاری وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ جہنم سے کہا جائے گا کیا تو بھرگئی اور ہو کہے گی کیا کچھ اور ہے تو رب تعالیٰ اپناقدم اس میں رکھ دیں گے تو وہ کہے گی بس بس (میں بھرگئی)
37:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والبخاری ومسلم وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت اور دوزخ نے آپس میں جھگڑا کیا دوزخ نے کہا میں متکبر اور ظالم لوگوں کے ساتھ ترجیح دی گئی جنت نے کہا مجھ میں تو صرف کمزور لوگ اور نامکمل بچے ہی داخل ہوں گے اللہ تبارک وتعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعہ رحم کروں گا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا اور دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے میں تیرے ذریعہ عذاب دوں گا۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا لیکن تم میں سے ہر ایک کو بھردوں گا لیکن دوزخ نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں اس میں رکھیں گے تو وہ کہے گی بس بس اس وقت وہ بھرجائے گی اور اس کے بعض حصے بعض کی طرف سکڑ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں فرمائیں گے اور جنت (کو بھرنے) کے لئے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کو پیدا فرمادیں گے۔
38:۔ احمد وعبد بن حمید وابن مردویہ (رح) نے ابو سعید خدری ؓ روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت اور دوزخ نے آپس میں فخر کیا دوزخ نے کہا اے میرے رب میرے اندر جابروں ظالم اور متکبر اور بادشاہ اور بڑے بڑے سردار مجھ میں داخل ہوں گے جنت نے کہا اے میرے رب، میرے اندر ضعفاء فقیر اور مسکین لوگ داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب تیرے ذریعے جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا اور جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جو ہر چیز سے زیادہ ہے اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھرنا ہے۔ اور ہر ایک میں اس کے اہل اور مستحق ڈالے جائیں گے دوزخ کہے گی کیا اور کچھ بھی ہے پھر اس میں اور ڈالے جائیں گے پھر وہ کہے گی اور کچھ بھی ہے یہاں تک کہ اللہ اس کے پاس تشریف لائیں گے اور اپنے قدم کو اس میں رکھیں گے تو وہ سکڑ جائے گی اور کہے گی میرے لئے کافی ہے میرے لئے کافی ہے لیکن جنت میں جو اللہ تعالیٰ چاہیں گے اس میں داخل فرمالیں گے اور اس (کو بھرنے) کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا فرمادیں گے جتنی چاہیں گے۔
39:۔ ابویعلی ابن مردویہ (رح) نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن مجھے اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی معرفت عطا فرمائیں گے اور میں اس کو ایسا سجدہ کروں گا جس کے ذریعہ وہ مجھ سے راضی ہوجائیں گے پھر میں اس کی ایسی تعریف کروں گا جس کے ذریعہ وہ مجھ سے راضی ہوجائیں گے پھر میرے لئے بات کرنے کی اجازت دی جائے گی پھر میری امت کو پل صراط سے گزارا جائے گا جو دوزخ کی پشت پر بچھائی جائے گی پس کچھ لوگ آنکھ کے جھپکنے اور تیر نکلنے سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ گزریں گے اور (کچھ لوگ) تیز رفتار گھوڑے سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ گزریں گے یہاں تک کہ ایک آدمی اس میں سے گھسٹتے ہوئے نکلے گا اور اس کا انحصار اعمال پر ہے اور دوزخ مزید اضافے کا سوال کرے گی یہاں تک کہ اس میں (اللہ تعالیٰ ) اپنے قدم رکھیں گے تو اس کے بعض حصے بعض کی طرف سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی بس بس (کافی ہے)
آپ ﷺ سے حوض کوثر پر ملاقات ہوگی :
40:۔ الحکیم الترمذی نے نودرالاصول میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے مجھے قیامت کے دن پکارا جائے گا میں کھڑا ہوں گا اور لبیک کہوں گا پھر مجھے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی تو میں ایسا سجدہ کروں گا جس کے ذریعہ وہ مجھ سے راضی ہوجائیں گے پھر مجھے اجازت دی جائے گی تو میں اپنے سر کو اٹھاؤں گا اور میں ایسی دعا کروں گا جس سے وہ راضی ہوجائیں گے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ قیامت کے دن آپ کس طرح اپنی امت کو پہچانیں گے ؟ آپ نے فرمایا وہ پہچانیں جائیں گے سفید پیشانی سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ وضو کے اثر سے اور وہ حوض پر آئیں گے جو عدن کے درمیان سے عمان بھری کے درمیان ہوگا اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا اور کستوری سے زیادہ خوشبودار ہوگا اس میں آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر برتن ہوں گے جو اس میں آئے گا اور اس میں سے پیئے گا تو اس کے بعد وہ کبھی پیاسہ نہ ہوگا اور جو اس سے پھر گیا (یعنی پانی پیئے بغیر چلا گیا) اس کے بعد وہ کبھی سیراب نہ ہوگا پھر لوگوں کو پل صراط پر لایاجائے گا تو پہلا گروہ بجلی کی طرح اس سے گزر جائے گا پھر کچھ ہوا کی طرح گزریں گے پھر کچھ اصل گھوڑے کی طرح سے گزریں گے پھر کچھ عمدہ گھوڑوں اور سواروں کی رفتار سے گزریں گے اور ہر حال کا دارومدار اعمال پر ہے اور فرشتے پل صراط کی دو جانبوں میں ہوں گے اور وہ کہہ رہے ہوں گے '' یارب سلم سلم '' اے رب ان کو سلامتی سے گزار دے سوسلامت رہنے والے سلامت رہنے والے نجات پانے والا ہے اور جس کو خراشیں لگیں وہ بھی نجات پانے والا ہے اور جو پھنس گیا وہ جہنم میں ہوگا اور جہنم کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے یہاں تک کہ رب العالمین اس میں وہ کچھ رکھیں گے جو رکھنا چاہیں گے پس وہ سکڑ جائیں گے اور وہ غر غر کرے گی جیسے نئے چھاگل غر غر کرتی ہے جب پانی سے بھرجائے اور وہ کہے گی بس بس (یعنی کافی ہے )
Ayah 50:311:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وازلفت الجنۃ '' (اور جنت قریب لائی جائے گی) یعنی جنت کو سجایا جائے گا۔
2:۔ ابن جریر (رح) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں تمیمی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' اواب حفیظ '' کے بارے میں پوچھا فرمایا جس نے اپنے گناہوں کی حفاظت کی یہاں تک کہ ان سے رجوع کرلیا (یعنی گناہوں سے باز آگیا)
Ayahs 50:32–343:۔ البیہقی (رح) نے شعب الایمان میں سعید بن سنان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لکل اواب حفیظ '' (ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا پابندی کرنے والا ہو کہ جس نے اپنے گناہوں کی حفاظت کی اور پھر ان سے ایک ایک کرکے توبہ کرلی۔
4:۔ سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اواب '' وہ ہے جو گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کا خاتمہ توبہ کے ساتھ کرتا ہے۔
گناہ یاد کرکے استغفار کرنا :
5:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے انس بن خباب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو مجاہد نے کہا کیا میں تجھ کو (آیت ) '' اواب حفیظ '' کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ (پھر فرمایا) اس سے مراد وہ آدمی ہے جو اپنے گناہ کو یاد کرتا ہے جب اکیلا ہوتا ہے پھر اس کے لئے استغفار کرتا ہے۔
6:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عبید بن عمیر (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔
7:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) نے عبیدبن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ ہم (آیت ) '' اواب حفیظ '' سے شمار کرتے تھے جو مجلس میں ہوتا تھا پھر جب وہ کھڑا ہونے کا ارادہ کرتا تو کہتا '' اللہم اغفرلی ما اصبت فی مجلس ھذا '' (اے اللہ ! میری مغفرت کر جو کچھ مجھے اس مجلس میں پہنچا)
8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اواب حفیظ '' (ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا ہو) یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے اطاعت کرنے والا (آیت ) '' حفیظ '' یعنی جو حفاظت کرتا ہے ان امانتوں کی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حق اور نعمتوں میں سے ودیعت کی ہیں (آیت ) '' وجآء بقلب منیب '' (اور رجوع ہونے والا دل لے کر آیا) یعنی جو رجوع کرنے والا ہے اللہ کی طرف (آیت ) '' ادخلوھا بسلم '' (سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ) یعنی وہ سلامت ہوگئے اللہ کے عذاب سے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر سلام فرمایا (آیت ) '' ذلک یوم الخلود '' (یہ ہے دن ہمیشہ رہنے کا) یعنی وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ کی قسم ان کو کبھی موت نہیں آئے گی۔
9:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' من خشی الرحمن بالغیب '' جو شخص بغیر دیکھے رحمن سے ڈرتا ہو یعنی ڈرتا اور اللہ تعالیٰ کو دیکھتا نہیں ہے۔