Ayah 50:35اماقولہ تعالیٰ : (آیت ) '' لہم ما یشآء ون فیھا ولدینا مزید ''
10:۔ البزار وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) واللالکانی فی سننہ اور بیہقی (رح) نے البعث والنشور میں انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ولدینا مزید '' (اور ہمارے پاس اور بھی زیادہ نعمت ہے) یعنی ان کے لئے رب عزوجل تجلی فرمائیں گے۔
11:۔ الشافعی فی الام وابن ابی شیبہ والبزار وابو یعلی وابن ابی الدنیا فی صفۃ الجنۃ وابن جریر (رح) وابن المنذر والطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ والآجری فی شریعۃ والبیہقی (رح) نے الرؤیہ واب النصر السجزی فی الابانۃ جیدہ طرق سے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور ان کے ہاتھ میں سفید شیشہ تھا جس میں کالا نکتہ تھا میں نے کہا اے جبرئیل یہ کیا ہے، فرمایا یہ جمعہ ہے اس کے ذریعہ آپ کو اور آپ کی امت کو فضیلت دی گئی اور تمہارے لئے اس میں لوگوں کا جمع ہونا یہود و نصاری کی اتباع ہے اور تمہارے لئے اس میں خیر ہے اور اس میں خیر ہے اور اس میں ایک ایسی گھڑی ہے اس میں مومن بندہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی خیر بھلائی مانگے اسے قبول کرلیا جاتا ہے۔ اور یہی ہمارے نزدیک یوم المزید ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے جبرئیل وہ مزید کا دن کیا ہے ؟ فرمایا بلاشبہ تیرے رب نے جنۃ الفردوس میں ایک وادی بنائی ہے اس میں کستوری کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں جب جمہ کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ساتھ جسے چائیں گے اتاریں گے اور ان کے اردگرد سونے کی کرسیوں کے ساتھ گھیرے ہوں گے جو یاقوت اور زبرجد کے ساتھ جڑی ہوئی ہوں گے ان پر شہداء اور صدیقین بیٹھیں گے پھر جنت والے آئیں گے اور ان کے پیچھے ان ٹیلوں پر بیٹھ جائیں گے۔ رب تبارک وتعالیٰ ان کے لئے تجلی فرمائیں گے یہاں تک کہ وہ ان کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھیں گے اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں تمہارا رب ہوں تحقیق میں نے تمہارے ساتھ سچ کردیا ہے پس تم مجھ سے سوال کرو میں تم کو عطا کروں گا وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے رب ہم آپ سے آپ کی رضامندی کا سوال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں تم سے راضی ہوچکا مجھ سے اور مانگو پھر وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے کچھ عرض کریں گے یہاں تک کہ ان کی رغبت ختم ہوجائے گی پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تمہارے لئے وہ سب کچھ ہے جو تم خواہش کرو گے (آیت) '' ولدینامزید '' اور مزید میرے پاس اور بھی ہے پس وہ محبت کرتے ہیں جمعہ کے دن اور اسے پسند کرتے ہیں کیونکہ اس میں ان کا رب ان کو خیر و بھلائی عطا فرمائے گا اور یہی وہ دن ہے جس میں تمہارے رب نے عرش پر قرار پکڑا اور اس میں آدم کو پیدا کیا گیا اور اس میں قیامت قائم ہوگی۔
جنتی بیوی کے اوصاف :
12:۔ احمد وابویعلی وابن جریر (رح) نے حسن سند کے ساتھ ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی جنت میں ستر سال تک تکیہ لگائے گا اپنی کروٹ بدلنے سے پہلے پھر اس کے پاس اس کی بیوی آئے گی وہ اس کے کندھے پر مارے گی اور وہ آدمی اس کے رخسار میں جو شیشہ سے زیادہ سفید ہوگا اپنا چہرہ دیکھ لے گا اور اس پر ایک ادنی موتی (ایسا چمکدار ہوگا) کہ مشرق اور مغرب کے درمیان روشن کر دے گا وہ اس کو سلام کرے گی تو وہ سلام کا جواب دے گا اور اس سے پوچھے گا تو کون ہے ؟ وہ کہے گی میں مزید میں سے ہوں اور اس پر ستر جوڑے ہوں گے ان میں سے سب سے ادنی جوڑا انتہائی پاکیزہ اور عمدہ کپڑے کی طرح ہوگا پس اس کی نظر اس سے پار نکل جائے گی یہاں تک کہ اندر سے اس کی پنڈلی کے گودے کو بھی دیکھ لے گا اور اس پر ایسا تاج سجا ہوگا جس کا ادنی موتی مشرق ومغرب کے درمیان کو روشن کردے گا ،۔
13:۔ ابن جریر (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ جب جنت والوں کو جنت میں اور دوزخ والوں کو دوزخ میں ٹھہرائے گے پھر اپنی شان کے مطابق جنت کی وسیع سرسبز شاداب وادی کی طرف نزول فرمائیں گے تو اس کے اور اس کی مخلوق کے درمیان موتیوں اور نور کے حجاب پھیل جائیں گے، پھر نور کے منبر اور نور کی مسہریاں اور نور کی کرسیاں رکھی جائیں گے پھر ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ پر حاضر ہونے کی اجازت دی جائے گی اس کے سامنے نور کے پہاڑ ہوں گے اور وہ اس کے ساتھ فرشتوں کی تسبیح کی بھنبھاہٹ کو سنے گا اور ان کے پروں کی پھر پھڑاہٹ کو بھی سنے گا جنت والے اپنی گردنوں کو لمبا کریں گے اور کہا جائے گا یہ کون ہے جس کو اللہ کے سامنے پیش ہونے کی اجازت دی گئی تو کہا جائے گا یہ وہ ہے جس کا مجسمہ رب تعالیٰ کے دست قدرت سے بنایا گیا اور اس کو اسماء کا علم عطا فرمایا گیا پھر فرشتوں کو حکم کیا گیا تو انہوں نے ان کے لئے سجدہ کیا اور جس کے لئے جنت مباح کی گئی وہ آدم (علیہ السلام) ہیں جن کو اللہ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت دی گئی پھر ایک دوسرے آدمی کو اجازت دی جائے گی۔ اس کے سامنے نور کے پہاڑوں کی طرح نور ہوگا وہ فرشتوں کی تسبیح کی بھنبھناہٹ کو سنے گا اور ان کے پروں کی بھنبھناہٹ کو بھی جنت والے اپنی گردن کو بلند کریں گے تو کہا جائے گا کون ہے جس کو اللہ کے پاس حاضری کی اجازت دی گئی تو کہا جائے گا یہ وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خلیل بنایا اور ان پر آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی والا بنایا یہ ابراہیم (علیہ السلام) ہیں کہ ان کو اللہ کے پاس حاضری کی اجازت دی گئی پھر ایک اور آدمی کو اللہ کے پاس حاضری کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے آگے پہاڑوں کی طرح نور ہوگا۔ وہ فرشتوں کی تسبیح کی بھنبھناہٹ کو سنے گا اور ان کے پروں کی پھر پھراہٹ کو بھی جنت والے اپنی گردنوں کو بلند کریں گے تو کہا جائے گا کون ہے جس کو اللہ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت دی گئی کہا جائے گا یہ وہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لئے چن لیا اور ان کو سرگوشی کرتے ہوئے قریب کیا اور ان سے کلام فرمایا یہ موسیٰ (علیہ السلام) ہیں پھر ایک اور آدمی کو اللہ کے پاس حاضری کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے پہلے سب انبیاء (علیہم السلام) کی سواریاں ہوں گی اس کے سامنے پہاڑوں کی طرح نور ہوگا۔ وہ فرشتوں کی تسبیح کی بھنبھناہٹ کو سنے گا اور ان کے پروں کی پھر پھراہٹ کو بھی جنت والے اپنی گردنوں کو بلند کریں گے اور پوچھیں گے یہ کون ہے جس کو اللہ کے پاس حاضری کی اجازت دی گئی ؟ یہ وہ ہیں جو سب سے پہلے سفارش کریں گے سب سے پہلے جن کی سفارش قبول کی جائے گی اور سب سے زیادہ لوگوں کو ساتھ لانے والے ہیں اور وہ سردار ہیں آدم (علیہ السلام) کی اولاد کے اور وہ پہلے آدمی ہیں جن کے لئے زمین پھٹے گی ان کے مزار اقدس سے۔ آپ جھنڈے والے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضری کی اجازت دی گئی اور انبیاء نور کے منبروں پر بیٹھیں گے اور صدیقین نور کی مسہریوں پر اور شہداء نور کی کرسیوں پر باقی سارے لوگ مشک سفید ٹیلوں پر بیٹھیں گے پھر رب تعالیٰ ان کو پروں کے پیچھے سے آواز دیں گے مرحبا خوش آمدید میرے بندوں اور میری ملاقات کو آنے والوں میرے پڑوسیوں اور میری جماعت اے میرے فرشتو ! کھڑے ہوجاؤ۔ میرے بندوں کی طرف ان کو کھانا کھلاؤ فرشتے انکی طرف پرندوں کا گوشت لائیں گے گویا کہ وہ بختی اونٹ ہیں نہ ان کے بال ہیں اور نہ کوئی ہڈی تو وہ لوگ اسے کھائیں گے پھر رب عزوجل پردے کے پیچھے سے ان کو آواز دیں گے مرحبا خوش آمدید میرے بندو میری زیارت کرنے والو ! میرے پڑوسیو اور میری جماعت تم کھاچکے ہو اب ان کو خوب پلاؤ تو انکی طرف غلمان کھڑے ہوں گے اتنے خوبصورت گویا کہ وہ موتی ہیں چھپائے ہوئے ان کے پاس سونے اور چاندی کے برتن ہوں گے جن میں مختلف لذیذپینے کی چیزیں ہوں گی، ان کے آخری (گھونٹ) کی لذت پہلے (گھونٹ) کی طرح ہوگی۔ (آیت ) '' لایصدعون عنہا ولا ینزفون '' (نہ اس سے ان کو درد سر ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا) پھر رب عزوجل ان کو پردے کے پیچھے سے آوازیں دیں گے، خوش آمدید میرے بندوں میری زیارت کرنے والو میرے پڑوسیوں اور میرے لوگوں کی جماعت تم نے کھانا کھالیا اور پی لیا (اب) ان کو پھل کھلاؤ بڑی بڑی پلیٹیں ان کے قریب آجائیں گی جو کہ یاقوت اور مرجان سے آراستہ ہوں گی ان میں پکی اور تازہ کھجوریں ہوں گی جن کو اللہ تعالیٰ نے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا بنایا ہے چناچہ وہ ان کو کھائیں گے پھر رب تعالیٰ پردے کے پیچھے سے ان کو آوازیں دیں گے۔ خوش آمدید میرے بندوں میری زیارت کرنے والو میرے پڑوسیوں اور میرے لوگوں کی جماعت تم نے کھانا کھالیا اور پی لیا اور پھل بھی کھالیا اب ان کو کپڑے پہناؤ تو ان کے لئے جنت کے پھل ایسے حلوں کے ساتھ کھولیں جائیں گے جن کو زخمی کے نور سے صیقل کیا گیا ہوگا پس وہ اس کو پہن لیں گے پھر رب عزوجل ان کو پردے کے پیچھے سے آوازیں دیں گے خوش آمدید میرے بندوں میری زیارت کرنے والو میرے پڑوسیوں اور میرے لوگوں کی جماعت تم نے کھالیا اور پی لیا پھل بھی کھالئے اور کپڑے بھی پہن لئے اب ان کو خوشبو لگاؤ تو ان پر ایک تیز ہوا چلے گی جس کو مشیرہ کہا جائے گا اس میں سفید اور سبز مشک کے برتن ہوں گے وہ ہوا ان کے چہروں پر پھونک ماردے گی بغیر غبار اور بغیر سیاہی کے پھر رب عزوجل ان کو پردے کے پیچھے آوازیں دیں گے خوش آمدید میرے بندوں میری زیارت کرنے والو میرے پڑوسیوں اور میرے لوگوں کی جماعت تم نے کھالیا اور پی لیا پھل بھی کھالئے کپڑے پہن لئے اور خوشبو بھی لگالی میری عزت کی قسم میں ضرور ان کے لئے تجلی کروں گا یہاں تک کہ وہ مجھے دیکھیں گے یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کی انتہا ہے اور مزید فضل ہے، تو رب تعالیٰ ان کے لئے تجلی فرمائیں گے (یعنی ان کو اپنادیدار کرائیں گے پھر فرمائیں گے میرے بندو ! تم پر سلام ہو میری طرف دیکھومیں تم سے راضی ہوگیا جنت کے محلات اور اس کے درخت پکاریں گے (اے اللہ) تیری ذات پاک ہے چار مرتبہ کہیں گے اور قوم سجدے میں گرپڑے گی پھر رب تعالیٰ ان کو آواز دیں گے اے میرے بندو اپنے سروں کو اوپر اٹھاؤ بلاشبہ (یہ) گھر عمل کا نہیں ہے اور نہ تکلیف کا گھر ہے بلاشبہ یہ گھر بدلے اور ثواب کا ہے اور مجھے میری عزت کی قسم میں نے اس (جہاں) کو نہیں پیدا کیا مگر صرف تمہارے لئے اور کوئی گھڑی ایسی نہیں گزری کہ جس میں تم نے دنیا کے گھر میں مجھے یاد کیا مگر میں نے تم کو اپنے عرش کے اوپر یاد کیا۔
14:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے جبرئیل (علیہ السلام) نے بیان کیا کہ ایک آدمی حور کے پاس آئے گا وہ اس کا استقبال کرے گی اس کے ساتھ معانقہ اور مصافحہ کرے گی پھر ایسے پوروں کے ساتھ اس کی خدمت بجالائے گی کہ اگر ان میں سے کوئی پورا ظاہر ہوجائے تو اس کی روشنی سورج اور چاند کی روشنی پر غالب آجائے اور اگر بالوں کا ایک مٹھا ظاہر ہوجائے تو وہ اپنی پاکیزہ خوشبو سے مشرق اور مغرب کے درمیان (جگہ) کو بھر دے۔ اس درمیان کہ وہ اس کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا ہوگا اپنے پلنگ پر اچانک اس کے اوپر سے نور چمکے گا تو وہ یہ گمان کرے گا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر ظہور فرمانے والا ہے اچانک وہ حوریں ہوں گی جو اسکو آواز دے رہی ہوں گی اے اللہ کے دوست ! کیا ہمارے لئے تجھ میں کوئی حصہ نہیں تو وہ کہے گا اے آواز دینے والی تو کون ہے تو وہ کہے گی میں ان حوروں میں سے ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' ولدینا مزید '' (اور ہمارے پاس مزید انعام ہوگا) چناچہ وہ اس کی طرف پھر جائے گا اور اس میں اتنا حسن و جمال اور کمال ہوگا وہ پہلے والوں کے پاس نہ ہوگا اس درمیان وہ تکیہ لگائے ہوئے ہوگا اپنے پلنگ پر اچانک اس کے اوپر سے ایک نور ظاہر ہوگا اچانک وہ دوسری حوریں ہوں گی جو اس کو آواز دیں گی اے اللہ کے دوست ! کیا ہمارے لئے تیرے پاس کوئی باری نہیں تو ہو پوچھے گا اے پکارنے والے تو کون ہے ؟ وہ کہے گا میں ان میں سے ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' فلاتعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین، جزآء بما کانوا یعملون '' (السجدہ آیت 17) (اور کوئی نہیں جانتا کیا ان کے لئے چھپایا گیا ہے آنکھوں کی ٹھنڈک سے یہ بدلہ ہے جو وہ عمل کرتے تھے) وہ مسلسل بدلتا رہے گا ایک بیوی سے دوسری بیوی کی طرف۔
15:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لھم مایشآء و ن فیھا ولدینا مزید '' (ان کو جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جو کچھ چاہیں گے اور ہمارے پاس وہ بھی زیادہ نعمت ہے) اگر ادنی اہل جنت کے پاس سارے جنت والے لوگ اتر پڑیں یعنی ان کے مہمان بن جائیں وہ ان سب کو کھانے پینے اور پینے کی جگہوں اور خادموں کے اعتبار سے زیادہ وسعت والا ہوگا۔ (یعنی ایک ہی جنتی سب جنت والوں کی وسیع پیمانے پر مہمان نوازی کرے گا)
16:۔ ابن ابی حاتم نے کثیر بن مرہ (رح) سے روایت کیا کہ مزید نعمتوں میں سے یہ ہوگا کہ ایک بادل جنت والوں کے پاس گزرے گا اور کہے گا تم کیا ارادہ رکھتے ہو میں تمہارے لئے بارش برساؤں گا اور وہ جو چیز بھی طلب کریں گے وہ ان پر اس کی بارش کردے گا (واللہ تعالیٰ اعلم )
Ayahs 50:36–37:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فنقبوافی البلاد '' (شہروں میں گھومتے پھرتے تھے) یعنی وہ شہروں میں رہنے کو ترجیح دیتے تھے (کبھی اس شہر کو ترجیح دی اور کبھی اس شہرکو)
2:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' فنقبوافی البلاد '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ یمن کی لغت میں اس کا معنی ہے ہدبوا یعنی وہ شہروں میں گھومتے پھرتے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے عدی بن زید کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
نقبوافی البلاد من حذرالموت وجالوافی الارض ای مجال :
ترجمہ : وہ لوگ شہروں میں بھاگ کھڑے ہوئے موت کے ڈر سے اور وہ زمین میں گھومتے جو بھی گھومنے کی جگہ ہے۔
3:۔ الفریابی وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فنقبوافی البلاد '' سے مراد ہے کہ وہ زمین میں گھومتے رہے۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' ھل من محیص '' (کیا ان کے لئے کوئی بچاؤ کی جگہ ہوئی) یعنی کیا کوئی جگہ ہے پناہ لینے کی بھاگ کر جس کی طرف وہ موت سے بھاگ جائیں۔
5:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فنقبوافی البلاد، ھل من محیص '' کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کے دشمن (شہروں) میں گھومے پھرے (مگر) انہوں نے جان لیا کہ اللہ کا حکم ان کو پا کررہے گا (یعنی وہ اللہ کے حکم سے نہیں بھاگ سکتے)
6:۔ ابن مردویہ (رح) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ان فی ـذلک لذلکری لمن کان لہ قلب '' (بلاشبہ اس میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو سمجھدار دل رکھتا ہو) سے مراد ہے منافق رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے پھر باہر نکل کر کہتے تھے ابھی آپ نے کیا فرمایا (گویا) ان کے ساتھ دل نہیں ہے۔
7:۔ البخاری (رح) نے الادب میں والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی بات کو دل سے سنتے اور سمجھتے عقل دل میں ہے، رحمت جگر میں ہے، نرمی تلی میں ہے۔ عظمت اور ہمت گردوں میں ہے۔
8:۔ البیہقی (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ توفیق بہترین قائد ہے اور اچھا اخلاق بہترین ساتھی ہے اور عقل بہترین دوست ہے اور ادب بہترین ترازو ہے۔ اور خودپسندی سے بڑھ کر کوئی وحشت نہیں ہے۔
9:۔ الفریابی (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اوالقی السمع '' (یا متوجہ ہو کر بات کی طرف کان لگائے) یعنی اس کا دل اس کے بغیر بات نہیں کرتا یعنی وہ دل جو حقائق پر غور کرتا ہے (آیت ) '' وھو شھید '' اور دل کے ساتھ حاضر ہے۔
10:۔ ابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اوالقی السمع وھو شھید '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ سنتا ہے اس حال میں کہ اس کا دل حاضر ہو اور اس کا دل دوسری جگہ نہ ہو۔
11:۔ عبدالرزاق وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے (آیت ) '' اوالقی السمع وھو شھید '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آدمی اہل کتاب میں سے ہے جو کان لگا کر سنتا ہے قرآن کو اور وہ حاضر ہوتا ہے اس پر جوا سکے ہاتھ میں ہے اللہ کی کتاب میں سے تو وہ یقینی طور پر النبی محمد ﷺ کو لکھا ہوا پالے گا۔
Ayahs 50:38–391:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اتوار، پیر، منگل، بدھ، خمیس، اور جمعہ کو پیدا فرمایا اور ہفتہ کے دن آرام فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی '' ولقد خلقنا السموت والارض وما بینہما فی ستۃ ایام، وما مسنا من لغوب '' (اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور ہم کو تھکان نے چھوا تک نہیں۔
اللہ تعالیٰ ضعف و کمزوری سے پاک ہے :
2:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور جمعہ کے دن پیدا کرنے سے فارغ ہوئے اور ہفتہ کے دن آرام فرمایا اور اس بارے میں ان کی بات کو جھٹلاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) '' وما مسنا من لغوب '' (اور ہم تھکان نے چھوا تک نہیں ) ۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' وما مسنا من لغوب '' میں لغوب سے مراد ہے تھکاوٹ۔
4:۔ آدم بن ابی یاس الفریابی وابن جریر (رح) والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' وما مسنا من لغوب '' میں لغوب سے مراد ہے تھکاوٹ یہودی کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تھک گئے ان دونوں (یعنی آسمان و زمین) کے پیدا کرنے کے بعد۔
5:۔ الخطیب نے اپنی تاریخ میں عوام بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابومجلز سے سوال کیا ایسے آدمی کے بارے میں جو ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھ کر بیٹھتا ہے، تو فرمایا کوئی حرج نہیں اس کو صرف یہودیوں نے ناپسند کیا اور انہوں نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا پھر ہفتہ کے دن آرام فرمایا وہ اسی حالت میں بیٹھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی '' ولقد خلقنا السموت والارض وما بینہما فی ستۃ ایام، وما مسنا من لغوب ''
قولہ تعالیٰ : فاصبر علی مایقولون '' (الآیہ )
6:۔ الطبرانی فی الاوسط وابن عساکر (رح) نے جریربن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے (آیت ) '' وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب '' (اور اپنے رب کی تسبیح اور حمد کیا کیجئے، سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے) کے بارے میں فرمایا کہ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے فجر کی نماز اور غروب سے پہلے عصر کی نماز ہے۔
Ayah 50:40اماقولہ تعالیٰ : (آیت ) '' ومن الیل فسبحہ وادبار السجود ''
7:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ومن الیل فسبحہ '' (یعنی رات میں اس کی تسبیح بیان کرو) مراد عشاء کی نماز سے (آیت) '' وادبار السجود '' اور (سجدوں کے پیچھے سے) مراد نوافل ہیں۔
8:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ (آیت) '' وادبار السجود '' سے مراد ہے ساری رات۔
9:۔ الترمذی (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس رات گزاری آپ نے فجر کی نماز سے پہلے دو ہلکی سی رکعتیں پڑھیں پھر نماز کی طرف تشریف لے گئے پھر آپ نے فرمایا اے ابن عباس ؓ ! فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھنا ستاروں کے پیچھے اور مغرب کے بعد دو رکعتیں پڑھنا مسجدوں کے پیچھے ہے (یعنی مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتیں)
10:۔ مسدد نے اپنی مسند میں وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ادبار النجوم والسجود کے بارے پوچھا تو آپ نے فرمایا (آیت ) '' وادبارالسجود '' سے مراد ہے مغرب کے بعد دورکعتیں اور (آیت ) '' وادبارالسجود '' سے مراد ہے صبح کی نماز سے پہلے دو رکعتیں۔
11:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ نے نفل کی دس رکعات یاد کی ہیں ان میں سے چار کا ذکر اللہ کی کتاب میں ہے یعنی (آیت) '' ومن الیل فسبحہ وادبارالسجود '' فرمایا اس سے مراد مغرب کے بعد دو رکعتیں ہیں۔
12:۔ ابن المنذر (رح) محمد بن نصر نے الصدی میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وادبارالسجود '' سے مراد ہے مغرب کے بعد دو رکعتیں (آیت ) '' وادبارالنجوم '' سے مراد ہے فجر سے پہلے دو رکعتیں۔
13:۔ ابن المنذر (رح) وابن النصر (رح) سے ابوتمیم الجیشانی (رح) روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت ) '' وادبارالسجود '' سے مغرب کی دو رکعتیں مراد ہیں۔
14:۔ ابن جریر (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا ہے کہ (آیت ) '' وادبارالسجود '' سے مغرب کے بعد دو رکعتیں مراد ہیں۔
15:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وادبارالسجود '' سے مغرب کے بعد دورکعتیں مراد ہیں۔
16:۔ قتادہ ؓ شعبی (رح) اور حسن (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا۔
17:۔ ابن جریر (رح) نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ ان سے مغرب کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا وہ دونوں رکعتیں اللہ کی کتاب میں ہیں، یعنی (آیت ) '' وادبارالسجود ''۔
18:۔ البخاری (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) ابن نصر وابن مردویہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا (آیت ) '' وادبارالسجود '' سے مراد ہے نماز کے بعد تسبیح پڑھنا اور بخاری کے الفاظ (اس طرح) ہیں کے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمایا کہ سب نمازوں کے بعد تسبیح بیان کیا کریں۔ (دو رکعت نفل پڑھیں )
Ayahs 50:41–4519:۔ ابن جریر ـرحمہ اللہ علیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' واستمع یوم یناد المناد '' (اور سن رکھو کہ جس روز ایک پکارنے والا پاس کے مقام سے پکارے گا یعنی وہ چیخ ہوگی۔
20:۔ ابن عساکر (رح) والواسطی فی فضائل بیت المقدس یزید بن جابر (رح) سے (آیت ) '' واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس اسرافیل (علیہ السلام) بیت القدس کی چٹان پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیوپھٹے ہوئے بکھرے ہوئے جسمو، اے کٹے ہوئے بالو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو حکم فرماتے ہیں کہ حساب کے فیصلے کے لئے اکٹھے ہوجاؤ۔
21:۔ ابن جریر (رح) نے کعب ؓ سے (آیت ) '' واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب '' کے بارے میں روایت کیا کہ ایک فرشتہ بیت المقدس کی چٹان پر کھڑے ہو کر آواز دے گا اے بوسیدہ ہڈیو اور اے کٹے ہوئے بدن کے جوڑو اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ قضا کے فیصلے کے لئے جمع ہوجاؤ۔
22:۔ ابن جریر (رح) نے بریدہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک فرشتہ بیت المقدس کی چٹان پر کھڑا ہوگا اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں رکھے گا اور آواز دے گا اے لوگو ! حساب کی طرف آجاؤ۔
23:۔ ابن جریر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) اور واسطی (رح) سے روایت کیا کہ (فرشتہ) اپنی انگلیوں کو کانوں میں ڈال کر آواز دے گا اے لوگو ! حساب کے لئے آجاؤ۔
24:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم والواسطی نے قتادہ (رح) سے (آیت ) '' واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب '' کے بارے میں روایت کیا کہ ہم یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ (فرشتہ) آواز دے گا بیت المقدس کی چٹان سے اور وہ زمین کا وسط ہے اور ہم نے یہ بھی بیان کیا کہ کعب ؓ نے فرمایا کہ صخرہ بیت المقدس زمین کی نسبت اٹھارہ میل کے زیادہ قریب ہے۔
25:۔ الواسطی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یوم یناد المناد من مکان قریب '' سے مراد ہے کہ پکارنے والا بیت المقدس کی چٹان سے پکارے گا۔
26:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' یوم یسمعون الصیحۃ بالحق '' سے مراد ہے کہ وہ صور کی آواز کو قریب اور دور والے سب سنیں گے۔
27:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذلک یوم الخروج '' (یہ دن ہوگا نکلنے گا) یعنی اس دن لوگ قبروں سے دوبارہ زندہ ہو کر نکلیں گے۔
28:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یوم تشقق الارض عنہم سراعا '' (جس دن زمین ان قبروں پر کھل جائے گی یعنی آسمان سے ان پر بارش ہوگی یہاں تک کہ ان سے زمین پھٹ جائے گی۔
29:۔ الحاکم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں پہلا آدمی ہوں گا جس سے زمین پھٹ جائے گی پھر ابوبکر سے پھر عمر سے پھر میں بقیع والوں کے پاس آؤں گا ان کو میرے ساتھ اٹھایا جائے گا پھر میں مکہ والوں کا انتظار کروں گا۔ اور ابن عمر نے یہ (آیت ) '' یوم تشقق الارض عنہم سراعا '' (الآیہ)
30:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وما انت علیہم بجبار '' (اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں) یعنی آپ ان پر جبرنہ کیجئے۔
اسلام میں جبرواکراہ نہیں :
31:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وما انت علیہم بجبار '' یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کے لئے جبر کو ناپسند فرمایا اور اس سے منع فرمایا کہ اس میں آگے بیان فرمایا (آیت ) '' فذکر بالقران من یخاف وعید '' (اور آپ قرآن کے ذریعے سے ایسے شخص کو نصیحت کرتے رہے جو میرے (عذاب) کی دھمکی سے ڈرتا ہو)
32:۔ الحاکم نے جریر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تو اس کے مونڈھے اور پسلیوں کے درمیان کا گوشت کانپ رہا تھا آپ نے فرمایا اپنا غم غلط کرو بلاشبہ قریش میں سے میں ایک عورت کا بیٹا ہوں وہ اس بطحاء میں خشک گوشت کے ٹکڑے کھاتی تھی پھر جریر نے یہ (آیت ) '' وما انت علیہم بجبار '' (اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں۔
33:۔ الحاکم (وصححہ) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مریض کی عیادت کرتے تھے آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور اس کی لگام کھجور کی چھال سے بنی ہوئی رسی تھی اور اس کے نیچے پالان بھی کھجور کی چھال کا تھا۔
34:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ ! اگر آپ ہم کو ڈراتے تو یہ (آیت) نازل ہوئی۔ '' فذکر بالقران من یخاف وعید ''
الحمد للہ سورة ق مکمل ہوئی :