Ayahs 51:1–161:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور والحارث بن ابی اسامہ وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری فی المصاحف والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والذریت ذروا '' (قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں) یعنی ہوائیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' (پھر ان بادلوں کی جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' (پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں) یعنی کشتیاں (آیت ) '' المقسمت امرا '' پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں) یعنی فرشتے۔
2:۔ البزار والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ صبیغ تمیمی حضرت عمر ؓ کے پاس آئے اور کہا مجھے بتایئے (آیت ) '' والذریت ذروا '' کے بارے میں فرمایا وہ ہوائیں ہیں اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہ سنا ہوتا تو میں نہ کہتا پھر پوچھا مجھے (آیت ) '' فالحملت وقرا '' کے بارے میں بتائیے، فرمایا اس سے بادل مراد ہیں اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے نہ سنا ہوتا تو یہ نہ کہتا پھر پوچھا (آیت ) '' فالجریت یسرا '' کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا کشتیاں مراد ہیں اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے نہ سنا ہوتا تو یہ نہ کہتا پھر پوچھا مجھے (آیت ) '' فالمقسمت امرا '' کے بارے میں بتائیے فرمایا وہ فرشتے مراد ہیں اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے نہ سنا ہوتا تو یہ نہ کہتا پھر حکم دیا کہ اس کو (یعنی صبیغ) تمیمی کو سوکوڑے مارو اور اس کو گھر میں رکھا جب وہ صحت یاب ہوگیا تو (پھر) ان کو بلوایا اور اسے دوسری بار سو کوڑے لگائے اور اس کو اونٹ پر سوار کیا اور ابوموسی اشعری ؓ کو لکھا کہ لوگوں کو اس کے پاس بیٹھنے سے روک دو ۔ وہ اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ وہ ابو موسیٰ ؓ کے پاس آیا اور انہوں نے سخت قسم کھائی کہا کہ وہ اپنے دل میں کئی چیز نہیں پاتا ان چیزوں میں سے جو کچھ وہ پہلے پاتا تھا چناچہ انہوں نے اس بارے میں عمرکو لکھا تو انہوں نے جواب بھیجا کہ فراست اور دانائی سے اس کا پتہ لگا لو کہ اس نے سچ کہا ہے پھر لوگوں کو اس کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت دے دو ۔
3:۔ الفریابی نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ صبیغ تمیمی (رح) نے عمر بن خطاب ؓ سے (آیت ) '' والذریت ذروا ''، والمرسلت عرفا، اور '' والنزعت غرقا ' کے بارے میں پوچھا تو حضرت عمر نے فرمایا نے فرمایا اپنے سر کو کھول دے تو آپ نے دیکھا سرکو اس کی دو منڈھیاں تھیں پھر عمر نے فرمایا اللہ کی قسم اگر میں تجھ کو سرمنڈا ہواپاتا تو تیری گردن ماردتیا پھر ابو موسیٰ اشعری ؓ کو لکھا کہ کوئی مسلمان اس کے قریب نہ بیٹھنے اور نہ کوئی اس سے بات کرے۔
4:۔ الفریابی (رح) وابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' الذاریات ذروا '' کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا اس سے ہوائیں مراد ہیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' سے مراد ہیں بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' سے کشتیاں مراد ہیں۔
5:۔ ابن جریر (رح) وابن نصر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون '' (کہ وہ رات کو کم سوتے تھے) سے مراد ہے کہ وہ رات کے وقت بہت کم سوتے تھے۔
Ayah 51:176:۔ ابوداؤد وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے اپنی سنن میں انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون '' سے مراد ہے کہ وہ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز (نفل) پڑھتے تھے اور اسی طرح یہ آیت بھی ہے (آیت ) '' تتجافی جنوبھم '' (کہ ان کے پہلو ان کی خوابگاہوں سے دوررہتے تھے)
7:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون '' سے مراد ہے کہ وہ عشاء کی نماز سے پہلے نہیں سوتے ہیں۔
8:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن نصر (رح) وابن المذر (رح) نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون '' یعنی (یہ اس وقت تھا کہ جب قیام اللیل کا حکم دیا اور ابوذر ؓ نے ایک لکڑی پر ٹیک لگائی اور دو ماہ اس حکم پر قائم رہے پھر رخصت نازل ہوئی اور فرمایا (آیت ) '' فاقرء وا ماتیسر من القران ' ' (المزمل آیت 30) پس پڑھو تم جتنا قرآن میں سے آسان ہے)
9:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں میں سے تھوڑے لوگ تھے یہ عمل کرتے تھے جب کہ یہ وہاں تھے۔
قیام اللیل کی پابندی کرنے والے :
10:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ متقی لوگ ہیں جو لوگوں میں سے تھوڑے ہیں۔
Ayah 51:18(آیت ) '' وبالاسحار ھم یستغفرون وفی اموالھم حق للسآئل والمحروم (19)
11:۔ ابن جریر (رح) ومحمد بن نصر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کانوا قلیلا '' یعنی وہ نیکی کرنے والے لوگ بہت کم ہیں (پھر فرمایا) یہ محسن کی تفصیل ہے پھر نئے سرے سے فرمایا (آیت ) '' من الیل ما یھجعون '' '' الھجوع '' سے مراد ہے نیند۔
12:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن نصر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ ساری رات نہیں سوتے تھے۔
13:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) '' کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون '' کے بارے میں روایت کیا کہ حسن ؓ فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو رات کے وقت بہت کم سوتے تھے اور مطرف بن عبداللہ (رح) فرماتے تھے کہ قلیل ہی کوئی رات ہے جس میں وہ مصیبت میں نہ پڑتے تھے اور محمد بن علی (رح) فرماتے تھے کہ وہ نہیں سوتے تھے یہاں تک کہ عشاء کی نماز نہ پڑھ لیتے تھے۔
14:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے الحسن کے طریق سے عبداللہ بن رواحہ (رح) سے (آیت ) '' کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون '' کے بارے میں روایت کیا کہ لوگ تھوڑا سوتے تھے پھر اس (جاگنے) کو سحری تک لمبا کردیتے تھے۔
15:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تہجد پڑھنا رات کے آخری حصے میں مجھے زیادہ محبوب ہے رات کے اول حصہ میں تہجد پڑھنے سے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) '' وبالاسحار ھم یستغفرون '' کہ وہ لوگ سحری کے وقت میں استغفار کرتے ہیں)
16:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (آیت ) '' وبالاسحار ھم یستغفرون '' یعنی (وہ لوگ سحری کے وقت میں) نماز پڑھتے ہیں۔
17:۔ عبدالرزاق (رح) وابن ابی شیبہ (رح) ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے (آیت ) '' وبالاسحار ھم یستغفرون '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ (سحری کے وقت میں) نماز پڑھتے ہیں۔
18:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن نصر (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ نماز پڑھو جب سحری کا وقت ہو تو استغفار کرو۔
Ayah 51:1919:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' وفی اموالھم حق '' (ان کے مالوں میں حق ہے) کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ زکوٰۃ کے علاوہ اس (مال) کے ذریعہ صلہ رحمی کرتے ہیں یا مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں یا اس کے ذریعہ غیر سائل کی مدد کرتے ہیں۔
20:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کہا کہ (آیت) '' وفی اموالھم حق '' سے مراد ہے کہ ان کے مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق تھا۔
21:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ اپنے مالوں میں زکوٰۃ کے علاوہ اور بھی حق کو دیکھتے ہیں۔
22:۔ سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے سائل اور محروم کے بارے میں پوچھا گیا فرمایا سائل وہ ہے جو لوگوں سے سوال کرتا ہے اور محروم وہ ہے جس کا مسلمان (کے مالوں) میں کوئی حصہ مقرر نہیں۔
23:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے حسن بن محمد حنیفہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فوجی دستہ بھیجا انہوں نے حملہ کیا اور غنیمت کا مال پایا تو کچھ لوگ آئے ان کے فارغ ہونے کے بعد (ان سے مانگنے کے لئے) تو (یہ آیت) نازل ہوئی۔ (آیت ) '' وفی اموالھم حق للسآئل والمحروم '' (اور ان کے مالوں میں حق ہے سائل اور غیر سوئل کا)
24:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ محروم سے مراد ہے بری قسمت والا انسان جو دنیا طلب کرتا ہے اور وہ اس سے دور ہٹ جاتی ہے اور وہ لوگوں سے سوال بھی نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ نے مومنین کو اس کی مدد کرنے کا حکم فرمایا۔
25:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے اس آیت میں محروم کے بارے میں پوچھا تو فرمایا ایسا بری قسمت والا آدمی کہ اس کا کمانا اس کے لئے آسانی اور سہولت مہیا نہ کرے۔
26:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ محروم وہ بری قسمت والا انسان ہے جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔
27:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ محروم وہ ہے اس کے لئے مال غنیمت میں کوئی چیز نہ ہو۔
28:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابراہیم (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
29:۔ ابن المنذر (رح) نے ابوقلابہ (رح) سے روایت کیا کہ یمامہ کا ایک آدمی تھا سیلاب آیا تو اس کا مال بہا کرلے گیا، نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی نے کہا یہ محروم ہے اس کو دو ۔
30:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ سائل وہ ہے جو اپنے ہاتھ پھیلا کر سوال کرتا ہے اور محروم وہ ہے جو اسی طرح مانگنے سے باز رہتا ہے۔ (یعنی لوگوں سے نہ مانگتا ہو )
31:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ محروم سے مراد ہے بےنصیب یعنی جس کی قسمت اس کا ساتھ نہ دے۔
32:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ محروم وہ بےنصیب ہے جس کے لئے مال ثابت نہ ہو۔
33:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ محروم وہ ہے کہ جس کے لئے قضائے الہی میں مال نہیں ہوتا (وہ ہمیشہ تنگ دست رہتا ہے۔
34:۔ عبد بن حمید (رح) نے عامر (رح) سے روایت کیا کہ محروم وہ ہے جس کی قسمت پھوٹی ہو یہ آیت تلاوت کی (آیت ) '' انا لمغرقون بل نحن محرومون '' (الواقعہ آیت 17) (کہ بیشک ہم پر تاوان پڑگیا بلکہ ہم بےنصیب ہوگئے) کہ تمہارے پھل ہلاک ہوگئے اور وہ اپنی زمین کی برکت سے محروم ہوگئے۔
35:۔ عبد بن حمید (رح) نے قزعہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابن عمر ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' وفی اموالھم حق للسآئل والمحروم '' کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا وہ زکوٰۃ مراد ہے اور اس کے علاوہ سب حقوق ہیں۔
36:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' للسآئل والمحروم '' میں سائل وہ ہے جو اپنا ہاتھ پھیلا کر سوال کرتا اور محروم سے مراد ہے بری قسمت والا۔
37:۔ عبد بن حمید (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ مجھے تھکا دیا اس بات نے کہ میں جان لوں کے محروم کون ہے۔
38:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابوبشر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے سعید بن جبیر (رح) سے محروم کے بارے میں پوچھا انہوں نے اس بارے میں کچھ نہ کہا پھر میں نے عطا (رح) سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد محدود ہے اور ان کا یہ گمان ہے کہ محدود سے مراد بری قسمت والا۔
صدقہ کے لئے مستحق تلاش کرنا :
39:۔ ابن جریر (رح) وابن حبان وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جس کے پاس ایک کھجور یا دو کھجوریں ہوں یا ایک لقمہ یا دو لقمے ہوں کھانے کے لئے صحابہ نے عرض کیا کہ پھر مسکین کون ہے ؟ فرمایا جس کے پاس اتنی بھی چیز نہ ہو جو اس کو غنی کردے اور اس کی جگہ معلوم ہو تو اس پر صدقہ کیا جائے یہ محروم ہے۔
40:۔ ابوبکر نے المواعظ میں وابن مرودیہ (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے انس (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) قیامت کے دن ہلاکت کا باعث ہوگا مال ان لوگوں کے لئے فقراء کی نسبت وہ کہیں گے اے ہمارے رب انہوں نے ہمارے ساتھ ہمارے ان حقوق میں زیادتی کی جو ہمارے لئے ان پر فرض کئے گئے تھے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! میں تم کو ضرور قریب کروں گا اور میں ضرور ان کو دور کردوں گا۔ انس نے کہا پھر رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) تلاوت فرمائی (آیت ) '' وفی اموالھم حق للسآئل والمحروم ''
41:۔ البیہقی (رح) نے اپنی سنن میں فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس آیت کے بارے میں (آیت ) '' و فی اموالھم حق للسآئل والمحروم '' مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے اور یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) '' لیس البران تولوا وجوھکم '' (یہ نیکی نہیں کہ تم اپنا منہ پھیر لو) سے لے کر (آیت ) '' وفی الرقاب واقام الصلوۃ واتی الذکوۃ '' (البقرۃ آیت 177) (اور گردنوں کے چھوڑانے میں اور نماز قائم کرنے میں زکوٰۃ دینے میں (اور یہ سب حقوق ہیں (واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم )
Ayah 51:201:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابوالشیخ نے العظمہ میں قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' وفی الارض ایت للموقنین '' (اور یقین لانے والوں کے لئے زمین میں بہت سے نشانیاں ہیں) یعنی معتبر نشانیاں اس شخص کے لئے جو اعتبار کرے (آیت ) '' وفی انفسکم '' (اور خود تمہاری ذات میں بھی) یعنی اس کی مخلوق میں بھی معتبر نشانیاں ہیں اس میں غوروفکر کرے۔
Ayah 51:212:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وفی انفسکم افلا تبصرون '' (اور خود تمہاری ذات میں بھی پھر کیا تم کو دکھائی نہیں دیتا) یعنی جس کسی نے اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں غور وفکر کیا تو وہ جان لے گا کہ اس کے جوڑ نرم کردیئے گئے ہیں عبادت کے لئے۔
3:۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وفی انفسکم افلا تبصرون '' سے مراد ہے کہ تم کو پاخانہ اور پیشاب کا راستہ نظر نہیں آتا۔
4:۔ الخرائطی نے مساوی الاخلاق علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وفی انفسکم افلا تبصرون '' سے مراد ہے کیا تم کو پاخانہ اور پیشاب کا راستہ نظر نہیں آتا۔
5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے (آیت ) '' وفی انفسکم افلا تبصرون '' کے بارے میں روایت کیا کہ کیا تم کو وہ راستہ نظر نہیں آتا جس میں تمہارا کھانا داخل ہوتا ہے اور جس سے خارج ہوتا ہے (واللہ اعلم )
Ayah 51:22قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' وفی السمآء رزقکم '' دو آیتیں۔
6:۔ ابن النفور والدیلمی (رح) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ (آیت ) '' وفی السمآء رزقکم وما تو عدون '' (تمہارا رزق اور جو کچھ تم سے وعدہ کیا جاتا ہے سب کا معین وقت آسمان میں ہے یعنی رزق سے بارش مراد ہے۔
7:۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ میں برف کو پہچانتا ہوں اور میری یہ رائے نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' وفی السمآء رزقکم وما تو عدون '' سے برف مراد ہے۔
8:۔ ابوالشیخ (رح) وابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وفی السمآء رزقکم '' سے مراد ہے بارش (آیت ) '' وما تو عدون '' (اس سے مراد جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے) اس سے مراد ہے جنت اور دوزخ۔
9:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جنت آسمان میں ہے اور جو کچھ وعدہ دیئے جاتے ہوں خیر میں سے اور شر میں سے۔
Ayah 51:2310:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے (آیت ) '' فورب السمآء والارض '' کے بارے میں روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان قوموں کو قتل کرے کہ جن کے لئے ان کے رب نے قسم کھائی پھر انہوں نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
11:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فورب السمآء والارض '' (اور قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی بلاشبہ وہ حق ہے۔ ) اس چیز کے بارے میں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں فرمایا۔
Ayahs 51:24–2512:۔ ابن ابی الدنیا وابن المنذر (رح) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' ھل اتک حدیث ضعیف ابرھیم '' (کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی حکایت آپ تک پہنچی ہے) سے مراد ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے بذات خود اپنے معزز مہمانوں کی خدمت کی۔
13:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے بچھڑے کے ساتھ ان کی مہمان نوازی کی۔
Ayahs 51:26–27ابراہیم (علیہ السلام) کی مہمان نوازی :
14:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فراغ الی اھلہ فجآبعجل سمین '' (پھر اپنے گھر کی طرف چلے اور ایک موٹا بچھڑا (تلاہوا) لائے یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کا عام مال گائے تھی۔
Ayah 51:2815:۔ عبد بن حمید (رح) اور ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وبشروہ بغلم علیم '' (اور ان کو ایک فرزند کی بشارت دی جو بڑا عالم ہوگا اور وہ اسماعیل (علیہ السلام) تھے۔
Ayahs 51:29–3516:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاقبلت امراتہ فی صرۃ '' (بی بی بولتی آئی پھر ماتھے پر ہاتھ مارا) سے مراد ہے کہ آپ کی بیوی چیختی چلاتی آئی '' فصکت '' یعنی اپنے چہرے پر تھپڑدے مارا۔
17:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی صرۃ '' یعنی چیختی ہوئی (آیت ) '' فی صرۃ فصکت وجھھا '' (پھر اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا) یعنی اپنے ماتھے پر اپنے ہاتھ کو مارا اور کہا ہائے افسوس ہائے ہلاکت۔
18:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے (آیت ) '' وعجوز عقیم '' سے مراد وہ عورت ہے جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور (آیت ) '' ریح عقیم '' سے مراد ہے وہ ہوا جس میں نہ کوئی برکت نہ نفع اور نہ کوئی پیوند لگانا ہو اور (آیت ) '' عذاب یوم عقیم '' سے مراد ہے وہ دن ہے جس کے لئے کوئی رات نہیں۔
Ayahs 51:36–3819:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فماوجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین '' (سو بجز مسلمان کے ایک گھر کے اور کوئی گھر (مسلمان کا) ہم نے نہیں پایا) میں مسلمین سے مراد لوط (علیہ السلام) آپ کی دو بیٹیاں۔
20:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ تیرہ افراد تھے۔
21:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ ر (رح) نے قتادہ (رح) سے (آیت ) '' فماوجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین '' کے بارے میں روایت کیا کہ اگر اس سے زیادہ (گھر) ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو ضرور نجات عطا فرماتے تاکہ وہ جان لیتے کہ ایمان اللہ کے نزدیک محفوظ ہے اور اس کا اپنے اہل پر کوئی نقصان نہیں۔
22:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وترکنا فیھا ایۃ '' (اور واقعہ میں ایسے لوگوں کے لئے ایک ایک عبرت رہنے دی) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس میں واضح اور ظاہر چٹانیں چھوڑ دیں۔
Ayahs 51:39–4023:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتولی برکنہ '' (سو اس نے مع اپنے ارکان سلطنت کے سرتابی کی) یعنی اس نے اپنی قوم کے ساتھ سرتابی کی۔
24:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتولی برکنہ '' سے مراد ہے (یعنی اس نے سرتابی کی) اپنی قوت اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ۔
25:۔ عبدالرزاق وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وھوملیم '' اور وہ ملامت کیا ہوا تھا) یعنی وہ ملامت کیا ہوا تھا اللہ تعالیٰ کے بندوں میں۔