Ayah 50:1ق حروق مقطعات میں سے ہے اور قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے
1 ۔ (ق) حروف مقطعات میں سے ہے اور حرف مقطعات کی بحث سورة البقرہ کی آیت اول میں گزر چکی ہے وہیں سے دیکھ لی جائے تو زیدہ صحیح ہے بار بار اس کی بحث کی ضرورت نہیں۔ (ق) کے حروف پر مفسرین نے بہت طول کلامی کی ہے کسی نے اس کو القدیر ، القادر اور القھار کا مخفف قرار دے کر طرح طرح کے استد لال قائم کیے ہیں اور کسی نے اللہ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے درمیان راز و نیاز قرار دیا ہے کسی نے اس کو نبی کریم ﷺ کے دل کی قوت قرار دیا ہے اور عین حق کا شاہد بھی کہا گیا ہے اور بعض نے اس کو ” کوہ قاف “ قرار دیا ہے جو ایک پہاڑ بتایا جاتا ہے اور پھر اس پہاڑ کے عجائب وغرائب میں بہت بڑی بحث کی ہے کہ وہ زہر کا بنا ہوا اور یہ کہ آسمان کی نیلاہٹ اسی کے اثر سے ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اسرائیلی خرافات ہیں اور وہیں سے لے کر اہل اسلام نے ادھر منتقل کردیا ہے اور اب یہ بہت سی دوسری روایات کی طرح اسلام کی روایات تسلیم کی جاتی ہیں حالانکہ اس میں کوئی بھی صحت ہے اور اب یہ بہت سی دوسری روایات کی طرح اسلام کی روایات تسلیم کی جاتی ہیں حالانکہ اس میں کوئی بات بھی صحت و صفائی کے ساتھ بیان نہیں کی گئی سب بازاری روایتیں ہیں یہ بات ہم نے قبل ازیں واضح کی ہے کہ جہاں کہیں بھی قرآن کریم میں قسمیہ حروف آئے ہیں وہاں (رب) کا لفظ محذوف ہے ” وائو “ قسمیہ حرف ہے اور مفہوم وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے کہ قرآن کریم نازل کرنے والے رب کی قسم جو کچھ محمد رسول اللہ ﷺ نے پیش کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کا وہ کلام ہے اور اس کلام کی بزرگی میں کوئی شبہ نہیں ہے مجید قرآن کریم کی صفت ہے اور لاریب یہ بات صحیح ہے وضاحت اس کی پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد ہفتم میں سورة (ص) کے شروع میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 50:2کفار کو اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ ڈرانے والا ان ہی میں سے ایک انسان ہے
2 ۔ گزشتہ آیت میں قسم کھا کر کہا گیا ہے کہ یہ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس قسم کے کھانے کی ضرورت کیا پیش آئی اور یہ بات کس نے کہی ہے کہ یہ کتاب یعنی قرآن کریم اللہ کی کتاب نہیں ہے ؟ زیر نظر آیت نے اس کی وضاحت فرما دی کہ یہ کن لوگوں کو جواب دیا گیا ہے اور کیوں دیا گیا ہے ؟ فرمایا یہ لوگ یعنی کفار مکہ اس بات پر تعجب کر رہے ہیں کہ ایک ڈرانے والا ان ہی کی قوم میں سے ایک انسان ہے اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ ہم جیسے انسانوں میں سے ایک انسان ہو کر رسول بن جائے اور پھر اسی پر اللہ کی طرف سے کتاب بھی اترنی شروع ہوجائے معلوم ہوگیا کہ قرآن کریم پر ان کو جو تعجب ہوا تھا وہ محض نبی اعظم و آخر ﷺ کی وجہ سے ہوا تھا کہ انہوں نے آپ ﷺ کو شکل و صورت اور جنس کے لحاظ سے انسان پایا جیسا کہ وہ خود انسان تھے تو ان کو تعجب ہوا کہ ہم میں سے ایک انسان کو رسول بنا دیا گیا ہے اور پھر اس پر وحی کا نزول شروع ہوگیا اور اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم میں سے کسی اور پر فرشتہ کیوں نہیں نازل ہوا اور وہ کیوں نہیں رسول بنا دیا گیا حالانکہ مکہ اور طائف دونوں بڑی بستیوں میں بڑے بڑے نام آور لوگ موجود تھے جن کی باتوں پر لوگ کان دھرتے اور ان کی باتوں کو سننے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے کفار مکہ کا یہ نظریہ قرآن کریم نے بار بار بیان کیا ہے اور ان کو بتایا ہے کہ رسالت کے لیے جو معیار ہے وہ مال و دولت اور دنیوی عرت و احترام نہیں بلکہ وہ اخلاق و کردار کا اعلیٰ معیار ہے اور یہ بھی کہ یہ کوئی کسی چیز نہیں بلکہ ایک وہیی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ اس کو اپنی رسالت جیسی وہبی چیز کو کہاں رکھنا ہے اور کس کو رسول بنانا ہے یہ بات انسانوں میں سے کوئی بھی نہیں جانتا یہاں تک کہ رسول بنائے جانے والے انسان کو بھی اس بات کا علم نہیں ہوت اس کی وضاحت پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد ہفتم میں سورة الزخوف کی آیت 31 میں بیان کرچکے ہیں ، وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 50:3ان کو ایک سے بڑھ کر دوسری بات پر تعجب ہے آخر ان کے کس کس تعجب کو دور کیا جائے ؟
3 ۔ فرمایا جارہا ہے کہ ان کے تعجب کی حالت پر تعجب یہ ہے کہ ان کو ایک طرح کا تعجب نہیں بلکہ ایک تعجب سے بڑھ کر دوسری بات پر تعجب ہے اور جن جن باتوں پر تعجب ہے وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ و پیوستہ ہیں ان کا ایک تعجب دور ہوگا تو سارے ہی دور ہوتے چلے جائیں گے یہ تعجب کی تسبیح جب ٹوٹے گی تو کوئی تعجب بھی باقی نہیں رہے گا قرآن کریم پر ان کو تعجب ہے نبی اعظم و آخر ﷺ پر ان کو تعجب ہے اور پھر جو کچھ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے اس پر ان کو تعجب ہے کیونکہ قرآن کریم بار بار مرنے کے بعد جی اٹھنے کی بات کرتا ہے اور ان کو تعجب ہے کہ ایسا کیونکر ہوسکتا ہے کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کردیئے جائیں خصوصاً جب کہ ہماری ہڈیاں بھی بھر بھری ہوجائیں گی اور اجسام بھی کھائے جاچکے ہوں گے ان کو ایک بار نہیں بار بار سمجھایا گیا کہ یہ بات تو کوئی تعجب کی نہیں ہے اس لیے کہ ہر ایک چیز کی پہلی ایجاد ہی مشکل ہوتی ہے جب ایک بار ایک چیز کی ایجاد ہوگئی تو دوسری بار اس چیز کو ایسا ہی بنا دینا اتنی کمال کی بات نہیں جتنی پہلی بار ایجاد کرنے کی یا بنانے کی ، اور پہلی بر بنائے ہوئے جانے کی تم خود زندہ وجاوید دلیل ہو اور تمہارے پہلی بار پیدا ہونے میں کیا کوئی شک و شبہ ہے ؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر تم کو اس پہلی بار پیدا ہونے پر زیادہ تعجب ہونا چاہیے تھا جب کہ تم اس پر کسی تعجب کا اظہار نہیں کر رہے تو پھر دوسری بار پیدا ہونے پر تم کو کیوں تعجب ہے جب کہ تم مانتے اور تسلیم بھی کرتے ہو کہ پہلی بار کی ایجاد دوسری بار کی ایجاد سے زیادہ مشکل اور زیادہ تجعب خیز ہوتی ہے پھر جس اللہ رب ذوالجلال والا کرام نے تم کو پہلی بار پیدا کیا ہے وہی تم کو دوسری بار بھی پیدا کرے گا اور وہ زندگی بھی بعینہ ایسی ہی زندگی ہوگی اور جس بات کو تم بعیداز عقل و قیاس قرار دے رہے ہو وہ بعیداز قیاس نہیں بلکہ بعید از قیاس تو یہ زندگی ہے جس زندگی میں تم اس وقت موجود ہو کیونکہ تمہارا پہلی بار کا پیدا ہونا خود تمہارے نظریہ کے مطابق زیادہ تعجب کی بات تھی لیکن تعجب ہے تم پر کہ تم کہتے کچھ ہو اور سمجھتے کچھ ہو۔ اچھا ! تمہارا یہ تعجب جب دور ہوگا جب تم پر تمہاری جلدیں اور تمہارے ہاتھ ، پائوں اور تمہار ایک ایک جوڑ اور بند گواہی کے لیے کھڑا ہوگا پھر تم اس تعجب کو بھول جائو گے اور اس وقت تم تعجب ہی سے یہ بات کہو گے ( لم شھد تم علینا) ” تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ “ اور اس وقت تمہارا جوڑ جوڑ بول اٹھے گا کہ ” ہمیں اس اللہ نے گویائی دی ہے جس نے اس وقت ہر ایک چیز کو گویا کردیا ہے۔ اسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے “ اور تم کو کہا جائے گا کہ ” تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو م ہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو خبر نہیں ہے۔ تمہارا یہی گمان جو تم نے اللہ کے ساتھ کیا تھا تمہیں لے ڈوب اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑگئے ؟ (23 , 21:41) اس کی وضاحت اس سے قبل عروۃ الوثقیٰ جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 98 , 51 , 49 ، جلد ششم سورة المومنون آیت 83 , 82 , 38 , 35 سورة النور آیت 24 ، جلد ہفتم سورة السجدہ آیت 10 ، سورة یٰسین آیت 79 , 78 , 65 ، سورة الصافات 18 , 16 میں گزر چکی ہے وہاں سے بھی ایک نظر دیکھ لیں۔
Ayah 50:4جو کچھ زمین کم کررہی ہے وہ ہمارے علم میں ہے اور ان کا کیا بھی ہمارے پاس محفوظ ہے
4 ۔ تم اس وقت زندہ وجاوید بحث و مباحثہ میں مصروف ہو اور تم کو تمہاری اس زندگی پر ذرا تعجب نہیں لیکن آئو ہم تم کو بتائیں کہ ہم نے تم کو اس زمین سے پیدا کیا ہے کیا تم اپنے پیدا کیے جانے کی حقیقت کو جانتے ہو ؟ پھر تمہارے مرنے کے بعد تم کو اسی زمین میں لوٹایا جائے گا کیا تم اپنے لوگوں کو اس میں لوٹایا جانا دیکھتے ہو یا نہیں ؟ پھر ایک وقت آئے گا کہ ہم تم کو اس زمین سے دوبارہ پیدا کرکے کھڑا کردیں گے پہلی دو باتوں پر تم کو ذرا تعجب نہیں ہے اور اس آخری تیسری بات پر تم کو بہت تعجب ہے اس کی وضاحت ہم پیچھے جلد پنجم سورة طحٰہ کی آیت 55 ، جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 104 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔
زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اگر ان کے اجسام کو زمین کھا رہی ہے تو لاریب یہ بات ہمارے علم میں موجود ہے ہم بھی اچھی طرح اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس زمین کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ جو اس کے پیٹ میں پڑے اس کو ہضم کرجائے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ ان انسانوں کے مردہ اجسام کو بھی کھائے چلی جارہی ہے لیکن جب ہم اس کو حکم دیں گے تو ان کے اجسام کو واپس بھی کردے گی جس طرح ہم نے ان کو پہلی بار اس زمین سے پیدا کیا تھا یہ تو ان کے جسام کی صورت ہوگی اور رہے ان کے اعمال تو ان کی ہر حرکت کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے اعمال و افعال تو اپنی جگہ پر رہے ان کی حرکات و سکنات بھی ہمارے پاس محفوظ ہیں ہم جب قیامت کے روز ان کے اعمال نامے ان کے داہنے اور بائیں ہاتھ میں تھمائیں گے تو بات صاف ہوجائے گی لیکن اگر کسی کو کوئی اعتراض ہوا تو اس کو دیکھنے کے لیے بھی ان سے کوئی فیس نہیں طلب کی جائے گی بلکہ اس وقت بٹن پر ایسا ہاتھ رکھا جائے گا کہ ان کی ایک ایک حرکت ان کی آنکھوں کے سامنے سے گزرتی جائے گی اور پھر وہی نہیں ان کو کرتے ساری دنیا دیکھے گی اور ہر بات کھل کر ان کے سامنے آجائے گی اور اس طرح کسی چیز میں کوئی ابہام باقی نہیں رہے گا قرآن کریم نے انسانوں کو تفہیم کے لیے کہیں تو یہ استعارہ استعمال کیا کہ دو فرشتے کراماً کاتبین ہر وقت ہر ایک انسان کے ساتھ ہیں جو اس کی ہر حرکت کو اور ہر عمل کو دیکھتے جا رہے ہیں اور اس طرح ان کا پورا ریکارڈ تیار کیا جارہا ہے اور کسی جگہ اعضا کی شہادت اور چمڑوں کی گواہی کا ذکر کرکے وضاحت کردی اور مقصود ان سب استعارات و اشارات سے ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانوں کا ہر ایک فعل و عمل اللہ رب ذوالجلال والا کرام کے پاس محفوظ ہے اور کوئی چیز بھی ان کی پوشیدہ نہیں ہے ان کا عمل اچھا ہے یا برا اس کا نتیجہ جب ان کے سامنے پیش آئے گا تو وہ خودبخود ان کے کیے پر منطبق ہوتا چلا جائے گا اور ان کے اجسام تو اس دنیا میں بھی مبدل تھے لٰہذا وہ بولتے رہے ہیں اور جو عمل انہوں نے جس جسم کی شکل و صورت میں کیا ہوگا وہ اسی شکل و صورت میں ان کے سامنے آجائے گا ایسا نہیں ہوگا کہ عمل تو کیا تھا 28 , 27 سال کی جوانی میں اور جب نتیجہ کا وقت آئے تو وہ نوے پچانویں سال کے بوڑھے کو پیش آئے نہیں وہ اسی طاقت و قوت والے نوجوان کے سامنے آئے گا جس سے صاف ظاہر ہوگا کہ یہ اسی وقت کے ریکارڈ کے مطابق کسی کی کیسٹ میں محفوظ کرلیا گیا جب و پریکٹیکل کے طور پر کیا جارہا تھا اور جس طاقت و قوت والے جسم کے ساتھ اس کو کیا گیا تھا اسی کے ساتھ اس کو دکھا دیا جائے گا شاید اس کا سمجھنا اس وقت مشکل تھا اس لیے فرشتوں کے لکھنے سے اس کو موسوم کیا گیا اور اسی لیے ہم نے اس کو استعارہ و اشارہ قرار دیا ہے اور اس وقت اس کا سمجھنا ذرا بھی مشکل نہیں رہا اور امید ہے کہ ابھی اس کی مزید وضاحت بھی سامنے آئے گی جس سے اس کا سمجھنا مزید آسان ہوجائے گا اس جگہ بعض مفسرین نے انبیاء کرام رسل عظام (علیہ السلام) کے اجسام کے نہ کھانے کی دلیل بھی دی ہے لیکن یہ بات قرآن کریم کی آیت سے متعلق نہیں ہے۔
Ayah 50:5جب حق ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو وہ اس کا صاف انکار کردیتے ہیں
5 ۔ یہ لوگ جن جن باتوں پر حیرت واستعجاب کر رہے ہیں ہم ان کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کرتے چلے جا رہے ہیں جب کوئی انسان اصل پٹڑی سے اتر جاتا ہے تو وہ دور سے دور ہی ہوتا چلا جاتا ہے کیونکہ وہ ہر وادی میں ٹکریں مارتا پھرتا ہے اور اصل راہ اس سے گم ہوجاتی ہے یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ جب انہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کا انکار کیا تو اس پر اتارے گئے کلام کو اللہ کا کلام کیونکر مانتے اور جب انہوں نے اللہ کے کلام کو بھی اللہ تعالیٰ کا کلام نہ مانا تو وہ آخرت کا اقرار کیونکر کرتے ہیں اس طرح گویا انہوں نے ایک حق بات کا انکارک رکے ہر حق بات سے انکار کی ٹھان لی اور اس طرح کرتے کرتے وہ راہ سے بہت دور جاچکے ہیں اب حق کو جھٹلانا ان کا شیوہ ہو کر رہ گیا ہے اس لیے وہ جب بھی حق کو دیکھیں گے تو اس کا انکار ہی کریں گے لکین کیا تکذیب حق کے بعد ان کے دلوں کو قرار نصیب ہے ؟ کیا ان کے ذہنوں نے اپنی اس بات کو درست سلیم کرلیا ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں ! اس حق کی تکذیب کی وجہ سے تو ان کا ذہنی سکون برباد ہوگیا ہے ان کے دل مضطرب اور بےچین ہیں ان کو کسی پہلو بھی چین نہیں اور کسی ایک بات پر ان کے قدم نہیں جمتے اور ان کا شک و شبہ کبھی زائل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوسکتا ہے اور ان کے اس شک کی واضح دلل یہ ہے کہ وہ کبھی نبی کریم ﷺ کو شاعر کہتے ہیں اور کبھی ساحر ماننے لگتے ہیں اور پھر بولتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ نہیں یہ تو خود سحر زدہ ہے اور پھر اپنی اس بات کی خود ہی تردید کرتے ہوئے کاہن کے نام سے موسوم کرنے لگتے ہیں اور پھر بولتے ہیں کہ نہیں یہ تو کوئی دیوانہ ہے پھر ان کو اس بات پر بھی اطمینان نہیں ہوتا تو کہتے ہیں کہ ہو نہ ہو یہ تو ایک مفتری ہے لاریب یہ بات اپنی جگہ سو فیصد درست ہے کہ جوش خص حق کا انکار کرتا ہے اس سے سکون وقرار چھن جاتا ہے اور پھر عمر بھر اس کو قلق و اضطراب کی موجیں تنکوں کی طرح ادھر سے ادھر سے ادھر پھینکتی رہتی ہیں اور وہ (لالی الیٰ ھولاء ولا الی ھولاء ) کی صورت سے کبھی نہیں نکل سکتا اور اسی تذبذب میں اپنی پوری زندگی گزار دیتا ہے۔
Ayah 50:6کیا انہوں نے اپنی نظروں کو آسمان کی طرف کبھی نہیں اٹھایا کہ وہ ان پر غور وفکر ہی کرلیتے
6 ۔ قرآن کریم نے بار بار اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جو تلاش کرتا ہے اسی کو ملتا ہے اور جو تلاش نہیں کرتا وہ محروم رہتا ہے اس تلاش کے سلسلہ میں بات کی جارہی ہے کہ ان لوگوں نے کبھی آسمان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا جو ان کے سروں پر ہے اگر وہ دیکھتے تو اس آسمان کی کشش ہی شاید ان کو اپنی طرف کھینچ لیتی اور اللہ تعالیٰ کی حکمت و ربوبیت کے بدیہی نشانات وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورج ، چاند اور ستاروں کو کس طرح آویزاں کردیا اور وہ باوجود مسلسل گردش میں رہنے کے کبھی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ٹکراتے اور کس انداز میں ان کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے پھر یکھنے والوں کے دلوں کو وہ کس طرح لبھاتے ہیں اور کس طرح ہماری زمین پر اور ہماری زمین ان پر اپنا اثر ڈال رہی ہے اور ایک دوسرے کے کام آرہے ہیں وہ کون ہے جس نے اس طرح کے پختہ بندھن میں ان کو باندھ دیا ہے کہ کروڑوں سال گزرنے کے باوجود وہ اپنی اس گردش میں گرداں ہیں پھر جس ذات خدا وندی نے اس سارے نظام کو اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ باقاعدگی کے ساتھ جوڑ دیا ہے کہ وہ لوگوں کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے اٹھا نہیں سکتا ؟ کیا اس نظام کو اس طرح چلانا زیادہ مشکل نظر آتا ہے یا ایک زندہ چیز کو مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردینا زیادہ مشکل نظر آتا ہے یہ مشکل نظر ہونا تو ان کے لحاظ سے ہے ورنہ اللہ رب کریم کے لیے کسی بات کے مشکل ہونے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ان مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کا دعویٰ کسی ایین ہستی نے کیا ہوتا جو کمزور ، بےبس اور ناتواں ہوتی تو اس دعویٰ کے انکار کا ان کو حق پہنچتا تھا لیکن یہ دعویٰ جس رب ذوالجلال والا کرام نے کیا ہے یہ بلندیاں اور پستیاں تو سب کی سب اسی کے زیر فرمان ہیں آج انسان نے ترقی کی اور وہ ان فضائوں میں کہاں سے کہاں نکل گیا کیا اب بھی اس کے لیے قدرت خدا وندی کی اس وسعت میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ رہ گیا ابھی وہ یہ بات بتانے سے قاصر ہے کہ ان فضائوں کی حدود کہاں تک ہیں اور ان کی وسعت کا کیا عالم ہے اور یہ کہ اس فضا کے اندر بیسیوں قسم کی گیسیں پھر رہی ہیں اور سورج کی کرنیں ان کو کس طرح گردش میں رکھ کر کیا سے کیا بنا رہی ہیں اور پھر کتنی ہیں جو ایک دوسرے کے بالکل مخالف ہیں لیکن اس کے باوجود آپس میں مل بھی نہیں رہیں اور وہ کون ہے جس نے ان کو ایک دوسرے سے الگ کررکھا ہے اور عربوں اور کھربوں ٹن پانی کس طرح ان فضائوں میں پھیلا دیا گیا ہے اور وہ اس طرح اڑتا پھر رہا ہے کہ اس کو نظریں بھی نہیں چھو سکتیں اور وہ کون ہے جو اپنے قانون کے مطابق ایک حد فاصل پر لا کر پانی کو بادل کی صورت میں دکھانے لگتا ہے اور پھر بادلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تہ بہ تہ جوڑ کر زمین پر برسانا شروع کردیتا ہے یہ سارے کام کرنے والی ہستی کے لیے اگر ممکن نہیں تو صرف یہی نہیں کہ وہ مرنے والے انسانوں کو دوبارہ زندہ کرکے ان کے اعمال کے نتائج سے ان کو دو چار کردے آخر اس میں مشکل کیا ہے ؟ پھر یہ لوگ اس سے مسلسل انکار کیوں کیے جا رہے ہیں۔
Ayah 50:7کیا ہم نے اس زمین میں پہاڑوں کو نہیں گاڑ دیا اور اس میں طرح طرح کی چیزیں نہیں اگائیں
7 ۔ کیا ان لوگوں نے اپنے پائوں کی طرف کبھی نہیں دیکھا اور غور کیا کہ ان کے پائوں تلے جو زمین نظر آرہی ہے اس زمین کو پیدا کرنے والا اس کو اس طرح پھیلانے والا اور پھر اس میں ان چیزوں کے پیدا ہونے کی صلاحیت رکھنے والا کون ہے ؟ لاریب وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اس کو پیدا کیا اور اس میں پہاڑ بھی گاڑ دیئے تاکہ یہ اپنی جگہ سے ہلنے نہ پائے اور اس کا توازن قائم رہے اور پھر یہی نہیں بلکہ ان پہاڑوں کے اندر بیسیوں قسم کی دھاتیں تیار کردی ہیں نمک اور کوئلے کی کانوں سے لے کر ہیرے جواہرات اور سونے تک کی کانیں انہی پہاڑوں کے اندر مخفی کردی گئی ہیں اور کروڑوں سال گزر چکے ہیں کہ ان کو اس طرح محفوظ کرکے رکھ دیا گیا ہے کہ ان کے اندر ہی اندر سینکڑوں قسموں کی مزید چیزیں تیار ہورہی ہیں جن کے نام بھی انسانوں کو معلوم نہیں ہیں بلکہ ان کے نام رکھے جائیں گے اور ان کے کام معلوم کیے جائیں گے لاریب بہت کچھ ہوچکا ہے لیکن ابھی بہت کچھ ہونے والا ہے کیا ان لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا بڑا ہی مشکل کام ہے ؟ کیا ان لوگوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ ان آسمانوں اور زمین کا وسیع و عریض اور پیچیدہ نظام پیدا کرنے کے بعد ہم تھک گئے ہیں ؟ اور اب ہم میں یہ سکت نہیں رہی کہ ان کو ازسرنو دوبارہ زندہ کرسکیں ؟ اگر بات ایسی ہی ہے تو تم سمجھ لو کہ کس طرح کی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو اس کی مزید تشریح دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد پنجم سورة النحل کی آیت 16 , 15 ، جلد ششم سورة النمل کی آیت 62 , 61 , 60 جلد ہذا سورة الزخرف کی آیت 10 ملاحظہ کریں۔
Ayah 50:8یہ سب باتیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ، ان کے لیے جو رجوع کرتے ہیں
8 ۔ نصیحت بلاشبہ نصیحت ہی ہے لیکن کس کے لیے ؟ جو نصیحت حاصل کرنا چاہے اور آنکھیں کھولے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اس کے لیے تو اس کائنات کی ہرچیز قدرت الٰہی کی نشانیاں کھول کھول کر واضح کررہی ہے اور جو آنکھیں کھولنے کی کوشش نہ کرے بلکہ ان کو بند کرے اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس لے اس کے لیے کچھ بھی نہیں ۔ اسی کو کہتے ہیں بھینس کے آگے بین بجانا۔ جن لوگوں پر کوئی نصیحت بھی اثر نہیں کرتی۔
زیر نظر آیت کے آخر میں (عبدٍ منیب) کے الفاظ لاکر واضح کردیا کہ قرآن کریم کی اصطلاح میں (عبدٍ منیب) وہی ہے جو ان آسمانوں اور زمین پر غور و فکر کرے کہ آسمانوں کی وسعتیں اور فضائیں اس کے لیے ددرس دے رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہے ، اور اسی نے اس نظام کو ایک خاص بندھن میں باندھ دیا ہے اور اس کرہ زمین کی طرف چشم ہوش سے دیکھے کہ یہ کرہ ارض کتنا وسیع اور کشادہ ہے اور اللہ رب ذوالجلال والا کرام نے کس طرح اس کو دور دور تک پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس کے اندرسربفلک پہاڑ گاڑ دیئے ہیں اور پھر اس زمین کی مٹی میں کس طرح روئیدگی کی بےپناہ قوت و دیعت کردی ہے کہ ہر قسم کے درخت ، پھل اور پودے ، پھول ، اناج اور جڑی بوٹیاں اس کے اندر اگ رہی ہیں پھر اس کے اندر خود فکر کرکے ان سینکڑوں سے بھی متجاوز چیزوں کا تجزیہ کرتے چلے جائو اور ایک ایک چیز پر بحث کرتے چلے جائو تم کو اللہ رب کریم کی توحید و یگانگت کے ہزاروں دتلائل ملتے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی پہچان اور شناخت ہوتی چلی جائے گی اور اس طرح تمہاری عبدیت اور منیبیت کی حقیقت خودبخود کھلتی چلی جائے گی اور تم قرآن کریم کے (عبدٍ منیب) ہوتے چلے جائیں گے لیکن افسوس کہ لوگوں نے حق حق اور ہو ہو کی ضربیں لگا کر جلیاں اور حال کھیل کر ، گردن میں دانوں اور منکوں کی تسبیحیں ال کر ، ناچ کر اور گا کر (عبدٍ منیب) بننے کی کوشش شروع کردی اور پیروں ، مرشدوں کے بنائے ہوئے وظیفے پڑھ کر (عبدٍ منیب) بننا شروع کردیا اور کسی کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ قرآن کریم نے جو (عبدٍ منیب) کی تعریف کی ہے اس کے خلاف کرنے سے کبھی انسان (عبدٍمنیب) نہیں بن سکتا بلکہ شیطان کا بندہ اور غلام بن سکتا ہے خیال رہے کہ اس کائنات پر غور و فکر کرکے قدرت خدا وندی کا مشاہدہ کرکے رب ذوالجلال والا کرام کی پہچان کرکے قیامت اور آخرت پر ایمان لانا اور اس کے بعد وہ اعمال کرنا جو قیامت اور آخرت میں کام آنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دین و دنیا کی بھائی طلب کرنا ہی (عبدٍ منیب) ہونا ہے اگر اللہ توفیق عطا فرمائے۔
Ayah 50:9اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں سے پانی نازل کرنے والا اور باغات و غلہ جات کا پیدا کرنے والا ہے
9 ۔ توحید الٰہی کے اثبات اور قیامت کے آنے کی یقین دہانی دونوں باتوں کے لیے یک ہی طرح کے دلائل پیش کئے گئے ہیں اور ان سے استد لال کیا گیا ہے کہ تم لوگ قیامت کے وقوع ہونے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت دونوں میں شک کرتے ہو اور شک کیے ہی چلتے جاتے ہو حالانکہ تم ان دلائل کا روزمرہ زندگی میں بار بار استعمال کر رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس کی ربوبیت کی کرشمہ سازیاں تم کو نظر آرہی ہیں تم نے کتنی بار اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ جب بہار کا وقت آتا ہے تو ہر طرف ہریاول نظر آنے لگتی ہے اور پھر بہار کا موسم گزر جاتا ہے تو زمین ایک بار پھر چٹیل میدان کی طرح (قاعاً صفصفا) نظر آنے لگتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے مطابق اس چٹیل زمین پر پانی برسا دیتا ہے اور اس پانی کے پڑنے کی دیر ہوتی ہے کہ وہ ساری جڑی بوٹیاں اور بڑے بڑے تناور درخت جو سوکھے ہوئے ڈھینگر نظر آرہے تھے دیکھتے ہی دیکھتے ہرے بھرے ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور ہر سو سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگتا ہے غور کرو کہ یہ روئیدگی کی خفتہ صلاحیتیں یکدم بیدار ہوجاتی ہیں ان کو کون بیدار کردیتا ہے ؟ لاریب وہ اللہ تعالیٰ ہی تو ہے کہ جس نے مینہ برسا کر اس مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کردیا اور پھر جس طرح تم اپنی زندگی میں اس عمل کو بار بار دیکھ رہے ہو اس طرح اللہ تعالیٰ کا جب حکم اس زمین کو ہوگا تو وہ جس چیز کو ہضم کرچکی ہوگی اس کو فوراً اگل دے گی تعجب ہے تم پر کہ تم زمین کے اس نگلنے پر ایمان رکھتے ہو اور اگلنے پر ایمان لانا تم کو بعدب از عقل نظر آرہا ہے اور پھر اس پر مزید تعجب اس لیے ہے کہ تم اس کے نگلنے اور اگلنے کی حالت کو زندگی میں کئی مرتبہ ان آنکھوں سے دیکھ بھی چکے ہو اگر فرق ہے تو صرف اتنا ہی ہے کہ یہ نگلنا اور اگلنا چیزوں کی زندگی پر دال ہے اور آخرت کو اگلنا تم انسانوں کو اگلنا ہے جن کو زمین باری باری اللہ کے حکم کے مطابق نگل رہی ہے۔
Ayah 50:10کبھی ان کھجوروں کے درختوں اور ان کے گندھے ہوئے پھلوں پر ہی نظر کرلیا کرو
10 ۔ فرمایا یہ کھجوروں کے درخت ہو تم کو لمبے لمبے اور بےڈھنگے سوکھے ہوئے تنے اور ان پر جھاڑ کے سے پتے نظر آرہے ہیں ان پر غور کرو اور ان کے پکنے کے قریب گندھے ہوئے گچھوں پر نظر کرو اور پھر اس درخت کے نیچے کی زمین کو بھی ایک بار دیکھ لو کیا ان میں کوئی مشابہت تم کو نظر آتی ہے ؟ اچھا ذرا اس کو ایک بار چکھ کر بھی دیکھو سبحان اللہ ! یہ تازہ کھجوریں اور یہ کھجور کا درخت اور پھر اس کا تنا اور اس کے پائوں کی زمین ، وہ کون ہے جس نے اس شور زمین سے میٹھا رس نچوڑ کر اس تازہ کھجور کے اندر بھر دیا ہے جو خود بھی میٹھا ہے اور پھر اتنا میٹھا ہے کہ اپنے سے بہت زیادہ چیزوں کو بھی میٹھا کردیتا ہے اور تم اس مٹھاس سے کتنے ہی کام ہیں جو ذرا عقل و فکر سے کام لے کر کر رہے ہو کیا اس سے توحید الٰہی اور ربوبیت خدا وندی کے دلائل حاصل کرنا چاہو تو نہیں حاصل کرسکتے (بٰسقت) باسقۃ کی جمع ہے ، بسوق سے جس کے معنی بلند اور لمبا ہونے کے ہیں اسم فاعل کا صیغہ جمع مونث غائب (طلع ) خوشہ ، گچھا اور گابھا اور اصل (طلع) کے معنی نکلنے کے ہیں اور کھجور کا پہلا شگوفہ جس پر پھل آتا ہے جب ظاہر ہوتا ہے یا باہر نکلتا ہے تو (طلع) کہلاتا ہے جس کا واحد طلعۃ ہے نضید صفت مشبہ بمعنی اسم مفعول (نضد) مصدر ، گندھے ہوئے یا تہ بہ تہ ایک دوسرے کے ساتھ نہایت ہی پیوست ، ایسے خوبصورت کہ آنکھ دیکھ کر اور جی چکھ کرلینے اور حاصل کرنے کے لیے لپک پڑے۔
Ayah 50:11غور کرو کہ لوگوں کو رزق دینے کے لیے ہم نے اپ سانی سے کیا چیز زندہ کردی
11 ۔ یہ کھجوروں کے گچھے کیا ہیں ؟ اور یہ تہ بہ تہ پھل جو تم کو نظر آرہے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے ؟ فرمایا لوگوں کے لیے پکا پکایا تیار رزق ہے اور یہ ان لوگوں کو اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ اس کو حاصل کرکے اس سے کھا کر اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی قدرت کو پہچانیں اور اس کی ربوبیت کا اعتراف کریں اور جس طرح ہم ایک مردہ زمین کو ، مردہ علاقہ کو یا مردہ شہر کو پانی نازل کرکے زندہ کردیتے ہیں اسی طرح یہ لوگ یقین کرلیں کہ ان کو دوبارہ زندہ کرکے زمین سے نکال لیاجائے گا اب اگر تم لوگوں کو یقین نہیں آتا تو تمہارے یقین کے لیے ایک دن مقرر کردیا گیا ہے اگرچہ تم اس دن کے ماننے سے بھی انکاری ہو لیکن جب جو کچھ ہونا ہے وہ ہوجائے گا تو انکار کرنے والے خود سمجھ لیں گے کہ وہ جس چیز کا انکار کرتے رہے تھے وہ ان کے سروں پر موجود کھڑی ہے اگر اس کی مزید تشریح چاہتے ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد ششم سورة النحل آیت 64 , 61 , 60 جلد ہفتم سورة الروم آیت 24 , 23 , 19 سورة یٰسین آیت 35 , 34 کی تفسیر ملاحظہ کریں۔
Ayah 50:12اگر ان لوگوں کو جھٹلانا ہی آتا ہے تو ان سے پہلے قوم نوح ، اصحاب الرس اور ثمود جھٹلا چکے ہیں
12 ۔ فرمایا ان لوگوں نے اگر جھٹلانے کی قسم کھائی ہے کہ دلائل کا خواہ کتنا ہی انبار لگایا جائے اور ہمارا ہاتھ پکڑ پکڑ کر اور کندھا ہلا ہلا کر باور کرایا جائے لیکن جب ہم نے انکار ہی کیے جانا ہے تو آخر کون ہے جو ہم کو منوالے گا ؟ تو اسے ہی لوگوں کو باور کرانے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ سے ارشاد فرما رہا ہے کہ ان لوگوں کی یہ ہٹ دھرمی کوئی نئی بات نہیں ہے ان سے قبل بہت سے لوگ جھٹلا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے رسول ان کو درس توحید دیتے رہے اور آخرت کا سبق یاد دلاتے رہے اور ان کی مخالفت میں انہوں نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ آپ ﷺ بھی اے پیغبر اسلام ! جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں ان کی ڈینگیں سنتے جائیں اور اپنا فرض ادا کرتے جائیں اور ان کو بتا دیں کہ اگر آج تم مجھے جھٹلا رہے ہو تو گزشتہ جھٹلانے والوں کا انجام نگاہ میں رکھو اور تم اکثر شاہراہوں سے گزرتے ہی رہتے ہو ذرا قوم نوح ، اصحاب الرس اور ثمود کے علاقوں پر آتے جاتے نگاہ پھیرلینا اور اپنی حالت پر بھی غور کرلینا پھر سنت اللہ کو بھی اپنی نظر میں رکھو اگر ان کی بستیاں آج اجاڑ پڑی ہیں اور ان پر الو بول رہے ہیں اور ان کو دیکھ کر دل دہل جاتے ہیں تو کل تمہارا حال بھی اسی طرح ہوسکتا ہے ذرا ان قوموں کا حال بھی پڑھ کر دیکھو کہ انہوں نے اس دھرتی پر کیا کیا کلدہائے نمایاں کیے تھے اور کیا کیا ترقیاں کی تھیں لیکن جب ان کی ہلاکت کا وقت آیا تو ان کی کوئی ترقی بھی عذاب الٰہی سے ان کو نہ بچا سکی ذرا غور کرکے دیکھو کہ ان کی اس حرکت کا باعث کون ہوا ؟ اور وہ کس چیز کی پاداش میں تباہ و برباد کردیئے گئے اور اگر مزید غور و فکر کی ضرورت ہو تو ذرا آنے والی آیت پر مزید نظر ڈال لو۔
Ayahs 50:13–14عاد ، فرعون اور لوط کے بھائی ، اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے جھٹلا کر کیا حاصل کیا ؟
14 ۔ 13 ۔ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ فرعون ، موسیٰ (علیہ السلام) کا ہم عصر تھا اور آپ ہی کو فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا اور عاد صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی جن کا تفصیلی تذکرہ سورة ہود میں گزر چکا اور اسی طرح ثمود کا حال ہوا جو ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی اور لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کا تذکرہ بھی آپ پڑھ چکے کہ کس طرح ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی اور زلزلہ اور آندھی نے ان کو آلیا ان کی بستیوں کا اوپر کا حصہ نیچے کو دبا کر رکھ دیا اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم جو ایک کے بعد دوسری قوم کی طرف معبوث کئے گئے اور اسی طرح قوم تبع جو اصحاب الاخدود کے نام سے معروف ہوئے جن کا ذکر سورة البروج میں آئے گا اور وہیں ان کا تفصیلی ذکر بھی کریں گے ان میں سے ہر ایک کو سنت اللہ کے مطابق مہلت دی گئی لیکن یہ لوگ فسق و فجور اور فتنہ و فساد سے باز نہ آئے اور ان کے انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کی تنبیہہ نے انہیں کچھ فائدہ نہ دیا اور انجام کار باری باری ان سب کو حرف غلط کی طرح مٹا کرر کھ دیا گیا اور اے اہل مکہ ! اگر تم پر ہمارے رسول نبی رسول اللہ ﷺ کی تنبیہہ نے کچھ اثر نہ کیا تو تمہارا بھی وہی حشر ہوگا جو ان قوموں کا ہوچکا۔
Ayah 50:15کیا ہم سب کو پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ہیں یا ان کفار کا شک ہی نکل نہیں رہا ؟
15 ۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اپنے ان ہم وطنوں اور ہم قوم لوگوں سے ذرا دریافت تو کریں کیا ہم ان سارے لوگوں کو پیدا کرکے تھک چکے ہیں کہ اب ہم ان کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتے اور اب ہم نے یہ کام دوسروں کے سپرد کردیا ہے یا یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کا شبہ ہی زائل نہیں ہورہا ہے ؟ آخر کوئی بات تو ہے جس نے ان کو بدستور شک میں ڈال رکھا ہے ۔ ہاں ! جو کچھ تم نے سمجھا ہے اس کے متعلق اپنی وضاحت تم کردو تمہارے سامنے وقوع قیامت پر اور اللہ تعالیٰ کی توحید و ربوبیت پر قابل تردید دلائل پیش کئے جاچکے ہیں اور تم میں نہ تو اس بات کی سکت ہے کہ تم نہ کی تردید کرسکو اور نہ ہی تم میں یہ جرات ہے کہ تم حق کے سامنے سرتسلیم خم کردو اور قیامت پر ایمان لائو اس طرح تم کو شک و شبہ نے ایسا گیھرا ہے کہ تم کسی کام کے نہیں رہے نہ ادھر کے اور نہ ادھر کے یعنی نہ تو دلائل ہی نے تمارا ساتھ دیا اور نہ ہی تم ضد سے باز آنے والے ہو۔
Ayah 50:16ہم ہی نے تو انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اس کے وساوس سے بھی اچھی طرح واقف ہیں
16 ۔ انسان کیا ہے ؟ ہماری تخلیق ہی تو ہے یعنی ہم نے اس کو پیدا کیا انسان اول آدم (علیہ السلام) کو بھی اور اس کی نسل کو بھی پھر کیا ہم اس کی حقیقت کو نہیں جانتے کہ وہ کیا چیز ہے ؟ نہیں نہیں ہم تو اس کے دل کے رازوں اور دماغ کے احساسوں سے بھی واقف ہیں اور اس کے اندر جو تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں اور وہ اپنے کیے کو بھول جاتا ہے ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ بھول سکتا ہے اور اس کے نفس کے کتنے ہی گوشے ہیں جو اس کی اپنی نگاہ سے بھی اوجھل رہ سکتے ہیں لیکن ہمارا علم اس کے ظاہر اور باطن پر حاوی ہے افسوس کہ اتنے قرب کے باوجود وہ ہم سے غافل اور بیخبر ہے اور پھر اس کو عویٰ بھی ہے کہ میں رب کریم کی تلاش میں ہوں اگر وہ اس بات میں سچا ہوتا تو اس کو در در کی ٹھوکریں کھانے کی کیا ضرورت تھی کیا اس میں اور ہم میں کوئی فاصلہ موجود ہے ؟ ہرگز نہیں صرف اس کے نفس ہی کا حجاب اکبر ہے کہ وہ ایک دیکھی جانے والی چیز کو دیکھنے کی کوشش میں ہے حالانکہ اس معاملہ میں اس کی ہر کوشش بےفائدہ اور فضول ہے لیکن عنقریب اس کو معلوم ہوگا کہ ؎
آخر زندگی کھلا یہ راز
آپ کتنے قریب رہتے ہیں
اگر اس کے شعور میں موجود ہے کہ میرا ایک تحت الشعور بھی ہے اور لاشعور بھی تو کیا وہ یہ بات بھول گیا ہے کہ اس کے شعور ، تحت الشعور اور لاشعور کا پیدا کرنے والا بھی کوئی موجود ہے تعجب ہے اس پر کہ لڑکا بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں ۔ اس کو سمجھ آئے یا نہ آئے ہم تو بہرحال اس سے کہے جائیں گے کہ ؎
یہ رگ تو بہت دور ہے اے جان تمنا
آ میرے قریں اور قریں اور قریں اور
انسان کے جسم کے حصوں میں سب سے قریب کا حصہ گردن ہے جو اس کے دل و جان کے بھی قریب ہے اور اس گردن میں اس کی وہ حبل الورید بھی مخفی رکھی گئی ہے جس پر ان کی جان کا انحصار ہے اس لیے غور کرے تو ہم میں اور اس میں کوئی فاصلہ موجود نہیں ہے بس صرف قرب اتنا ہے کہ اتنا قریب وہ دیکھ نہیں سکتا شیخ سعدی (رح) نے خوب فرمایا ہے ؎
دوست نزدیک تر از من بمن ست
دیں عجیب تر کہ من از دے دو دم
چہ کنم جا کہ تواں گفت کہ او
درکنار من و من مہجورم
میرا دوست مجھ سے بھی بہت زیادہ قریب ہے تعجب تو اس پر ہے کہ میں اس سے دور ہوں میں کیا کروں اور کس سے یہ بات کہوں کہ محبوب تو میرے آغوش میں ہے اور میں ہوں کہ ہجر کی سختیاں برداشت کررہا ہوں۔
خیال رہے کہ یہ حبل الورید کا ایک استعارہ ہے اور استعارات محض تفہیم کے لیے ہوتے ہیں اور پھر جس کی تفہیم مشاہدہ میں نہ آسکنے والی ہو اس کی تفہیم کیا ہوگی ؟ بس اس کے لیے استعارہ بھی ایک استعارہ ہی ہوگا یہی بات ہے کہ قرآن کریم نے حبل الورید سے اقرب کہا ہے اور (الیہ) میں اشارہ الانسان سے ہے جس پر الف لام جنس کا ہے گویا یہ قرب اور یہ نزدیکی ہر ایک انسان سے ہے نہ کہ کسی خاص انسان سے یعنی انسان جس میں ذرا بھی عقل و شعور ہے خواہ وہ ہندو ہے یا مسلمان ، نیک ہے یا بد ، اچھا ہے یا برا ، عالم ہے یا جاہل جوں جوں غور کرتے جائو گے تو اس کی وضاحت خودبخود ہوتی چلی جائے گی۔
Ayah 50:17دو ملاقات کرنے والے اس کے دائیں اور بائیں موجود بیٹھے ہیں
17 ۔ (یتلقیٰ ) واحد مذکر غائب ” لے لیتا ہے “ یا ” ملاقات کرتا ہے “ (المتلقیان) اسم فاعل تثنیہ مذکر مرفوع ” دو لینے والے “ یا ” دو ملاقات کرنے والے “ ان کا صل ل ق ی ہے۔ المتلقیان۔ الملکان المر کلان بمراقبۃ العمرء و تسجیل ما یا خذانہ عنہ من اقوال و افعال اس جگہ اعمال لکھنے والے دو فرشتے مراد ہیں جو انسان کے سارے اعمال و اقوام ضبط کرلیتے ہیں جس طرح اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ یہ سب استعارات ہیں جو محض تفہیم کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں انسانوں میں مختلف ذہن و فکر کے لوگ ہوتے ہیں اور جو آدمی جس ذہن کا ملک ہو اس کو اس کے ذہن کے مطابق تفہیم کرائی جائے تو ہی اس کے دل و دماغ میں کسی چیز کے بیٹھنے کی توقع کی جاسکتی ہے اور اس جگہ مقصود تفہیم کرانا ہی ہے اگر کوئی تفہیم کے لیے تیارہ گزشتہ آیت میں اللہ رب ذوالجلال والا کرام کے قرب کی بات تھی کہ وہ اتنا قریب ہے جتنا کہ انسان کے قریب اس کی شہ رگ بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب اور مقصود یہی تھا کہ جو کچھ انسان عمل کرتا ہے اچھا یا برا اس کے ہر قول و فعل کو اللہ تعالیٰ جانتا اور دیکھتا ہے اور زیر نظر آیت میں بتایا جارہا ہے کہ انسان کے ساتھ ہم نے دو فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو آپس میں ملاقات بھی کرتے رہتے ہیں اور اس شخص کے ہر عمل و فعل اور قول کو ضبط تحریر میں بھی لا رہے ہیں تاکہ اس کی ہر حرکت اور ہر قول و فعل کو محفوظ رکھا جائے گویا جو کچھ انسان کرتا ہے اس کو خاموشی کے ساتھ وہ ریکارڈ کر رہے ہیں جو قیامت کے روز انسان کے سامنے پیش کردیا جائے گا اور اس کی کوئی بات مخی نہیں رہے گی ثمال یمین کے مقابل پر ہے جس کی جمع شمائل ہے جس طرح شیطان کے دائیں بائیں ، آگے پیچھے سے گھیرنے کا ذکر کیا گیا جیسا کہ سورة النحل کی آیت 48 ، سورة الاعراف کی آیت 17 میں ذکر کیا گیا ہے شیطان انسان کے گمراہ کرنے کے لیے انسان کے اردگرد گھیرا ڈالے ہوئے ہے تاکہ اس کو ورغلانے کی پوری پوری کوشش کرسکے اور زیر نظر آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے ساتھ دو فرشتے اس کے ہر فعل اور ہر قول و عمل کو محفوظ کرنے کے لیے لگا دیئے گئے ہیں جن کے ریکارڈ میں اس کی ہر حرکت محفوظ رکھی جارہی ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے سورة الانفطار میں (کراماً کاتبین 0 یعلومن ماتفعلون) (12 , 11:82) ” دو بزرگ فرشتے ایسے معزز کاتب جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں “ ظاہر ہے کہ ان کا لکھنا بس محفوظ کرلینا ہے جیسا کہ آگے خود قرآن کریم نے اس کی وضاحت کردی ہے (قعید) صیغہ واحد کا ہے لیکن اس کا طلاق جمع پر بھی ہوتا ہے اور مراد اس سے بیٹھ رہنا نہیں ہے بلکہ نگرانی کرنا ہے جیسے ہماری زبان میں کہا جاتا ہے کہ فلاں آدمی ہر قیمت میرے سر پر سوار ہے اور کوئی نہیں سمجھتا کہ کہنے والے کے سر پر تو کچھ بھی سوا نہیں پھر کیا وہ جھوٹ بول رہا ہے نہیں ! بلکہ یہ بات استعارہ کے طور پر کہی جاتی ہے جس سے مراد پیچھا کرنا اور ٹوہ لگانا ہے۔
Ayah 50:18جونہی اس کی زبان سے کچھ نکلا تو گویا محفوظ کرنے والے نے اس کو محفوظ کرلیا
18 ۔ آج اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں رہا کہ انسان کی سری حرکات و سکنات کس طرح محفوظ ہوتی چلی جارہی ہیں اس کو استعارات اور اشارات میں سمجھایا گیا لیکن آج یہ استعارات و اشارات اس کے مشاہدہ میں آچکے ہیں للہ رب ذوالجلال والا کرام کا کامل علم اپنی جگہ محفوظ ہے اور پھر گواہی دینے کے لیے دو گواہ ہر ایک انسان پر مقرر کیے گئے ہیں جو اس کی حرکات و سکنات اور اس کی ساری ہوں ہاں کو محفوظ کر رہے ہیں اور جب انسان کو عدالت الٰہی میں پیش کیا جائے گا تو ضرورت ہوئی تو یہ ساری گواہیاں اور شہادتیں بھی اس پر پیش کردی جائیں گی اور اس کی زبان کا ایک ایک بول جو محفوظ کرنے والا محفوظ کررہا ہے اور پھر اس محفوظ کرنے والے کے متعلق جو ارشاد فرمایا وہ یہ ہے کہ وہ رقیب بھی ہے اور عقید بھی۔ اب قابل غور ہے کہ (رقیب) کیا ہے ؟ رقیب نگہبان ، خبر رکھنے والا ، محافظ ، منتظر ، راہ دیکھنے والا صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ کہا گیا ہے کہ (رقیب) وہ نگران ہے جس سے کوئی چیز غائب نہ ہو (الرقیب) اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام بھی ہے اور (عتید) کی ہے ؟ (عتید) تیار یا حاضر کو کہتے ہیں۔ والعتید المتد) کے معنی ہیں تیار کرنے والا اور تیار کردہ شے ۔ ایک تیار رہنے والا حاضر باش چوکنا ہے کہ جو نہی زبان سے کچھ نکلا بس تحریر یا ضبط ہوگیا۔
Ayah 50:19موت کی بےہوشی تو ہر حال میں آکر رہے گی اور یہ وہی ہے جس کا تو انکار کرتا تھا
19 ۔ موت انسان کا وہ ساتھی ہے جو پیدا ہوتے ہی اس کے ساتھ موجود ہے اور ہر حال موجود رہتا ہے تا آنکہ اس کے ظاہر ہونے کا وقت جو مقرر ہے آجاتا ہے اور اس کو اللہ کے حکم سے دبوچ لیتا ہے اور اس دبوچ لینے کی سختی اور شدت کو (سکرۃ الموت) کا نام دیا گیا ہے اور اس کو ” جان کنی “ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اس کے اچانک آجانے کا وقت کتنا ہی کم کیوں نہ ہو تاہم ایک لحظ بھی نہایت شدت کا لحظ ہوتا ہے اور اگر ٹائم ذرا لمبا ہوجائے تو جو کیفیت ہوتی ہے وہ بھی بیان اور تحریر میں احاطہ نہیں کی جاسکتی ۔ ( جاء ت) ماضی ہے اور یہ واقعہ مستقبل کا ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ جو با یقینی ہو اس کے لیے ماضی کا صیغہ استعمال کرنا عام قاعدہ ہے پھر جس معاملہ میں بات کی جارہی ہے اس کے یقینی ہونے میں کیا شک ہے موت کی مدہوشی آنا یقینی ہے لہٰذا اس وقت اس کو کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جس سے تو دور بھاگتا تھا اور اس کا آنا تو یقینی خیال نہیں کرتا تھا (تحید) کا مادہ ح ی د ہے اور حید کے معنی کفارہ کرنے اور مٹنے کے ہیں اس کو کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جس سے تو کنارہ کش ہوگیا تھا اور جس کو ماننے کے لیے تو تیار نہیں تھا (بالحق) کے لفظ نے ثابت کردیا کہ دنیا اور دنیا کی ہرچیز ایک سراب ہے اور بےاصل ہے جس کی آخرت کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں اور جو آخرت میں پیش آنے والا ہے وہ بلاشبہ مبنی برحقیقت ہے اور محقق ہے جس کے خلاف ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔
Ayah 50:20صور پھونکا جائے گا یہ وہ دن ہے جس کا خوف دلایا جاتا تھا
20 ۔ جب وہ گھڑی قریب آگئی جس کو قیامت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے تو ایک بگل بجایا جائے گا جس کو نرسنگھا اور صور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے اور یہ علامت ہوگی اسی دن کی جس دن کے آنے سے وہ انکار کرتے تھے اور مسلسل لوگ تکذیب کیے چلے جا رہے تھے اور اس کے قطعی اظہار کے لیے ہر جگہ ماضی کے صیغے استعال کئے گئے ہیں جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے بس جوں ہی صور پھونکا جائے گا اور وہ دن ظاہر ہوجائے گا جس دن سے آج تک کو ڈرایا جارہا ہے اور تم اس کا مسلسل مذاق اڑاتے چلے جا رہے ہو اور تم کو خیال ہے کہ یہ سب کچھ من گھڑت باتیں ہیں جن کا کوئی سر اور پیر نہیں ہے حالانکہ یہ ایک حقیقی بات ہے جس کا ثبوت خود انسانی زندگی دے رہی ہے کہ اگر انسان ہے تو موت بھی ہے اور ہماری آنکھوں کے سامنے موت سے ہم دو چار بھی ہو رہے ہیں اور یہ الوداعی ایسی ہے کہ اس کے بعد دوبارہ کسی کا لوٹ آنا دنیا کی طرف نہ صرف نامکن ہے بلکہ محال بھی ہے ہاں ! اس کے بعد دوبارہ زندہ ہونا اور اپنے اعمال کا بدلہ حاصل کرنا سب کے لیے لازم و ضروری ہے فرمایا جب صور پھونکا جائے گا تو ساتھ ہی اعلان کرنے والا اعلان بھی کردے گا کہ یہ وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اور یہ صور پھونکنا پہلی بار کا صور پھونکنا نہیں ہوگا بلکہ دوسری بار کا صور پھونکنا ہوگا جس سے مرنے کے بعد سارے انسانوں کو دوبارہ زندگی دے کر اٹھ کھڑے ہونے کا حکم ملے گا اور میدان حشر میں لاکر کھڑا کردیاجائے گا۔
Ayah 50:21ہر ایک کے ساتھ اس کا ہانگ کر لانے والا فرشتہ اور گواہی دینے والا موجود ہوگا
21 ۔ گزشتہ آیت میں نفخ صور کا ذکر تھا اور زیر نظر آیت میں نفخ صور کے بعد کا مرحلہ ذکر کیا جارہا ہے کہ جونہی صور پھونکا جائے گا تو ہانک کر لانے والے فرشتے اور گواہی دینے والے سب کے سب کھڑے ہوں اور اس جگہ ان کو (سائق) اور (شہید) کے نام سے موسوم کیا گیا۔ (سائق) ہانکنے والا سوق سے جس کے معنی ہانکنے کے ہیں اسم فاعل کا صیغہ واحد اور مذکر ۔ یہاں وہ فرشتہ مراد ہے جو حشر میں کھینچ کر لائے گا یا ہانک کر لانے والا ہے ( شہید ) گواہ ، شاہد ، نگران ، احوال کہنے والا ، اقرار کرنے والا۔ شہید ، شاہد کو بھی کہتے ہیں اور کسی چیز کا مشاہدہ کرنے والے کو بھی اور اس جگہ وہ فرشتہ مراد ہے جو قیامت کے دن خلق پر گواہ ہوگا (النھایہ باب الشین) استعارتاً برائیاں لکھنے والے کو سائق اور نیکیاں لکھنے والے کو شہید کہا گیا ہے تو یہ بات بھی صادق آتی ہے حقیقت حال اللہ ہی کو معلوم ہے۔
Ayah 50:22اس بات سے تو غفلت میں تھا لیکن اب تیری آنکھوں سے ہم نے پردہ ہٹا دیا
22 ۔ اس روز اس کو کہا جائے گا کہ ارے صاحب ! دنیا میں جس چیز کا تم کو یقین نہیں آرہا تھا یہ وہی دن ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے اور اس کو تسلیم کرنے کے لیے تم تیار نہیں تھے اب بتائو اب بھی یقین آیا ہے یا نہیں ؟ ذرا جاگ کر بتائو کہ ابھی سوئے ہوئے ہو یا ندنو آپ کی کھل گئی ہے اچھی طرح آنکھیں کھولو اور غفت کی چادر اتارو ہم نے تمہاری انکھ سے تمہاری غفلت کے پردے کو ہٹا دیا ہے اور آج آپ کی بینائی کو تیز کردیا ہے گویا تمہارے چودہ طبق روشن ہوچکے ہیں اور تم کو دور دور تک انسان ہی انسان نظر آرہے ہیں ہاں ! تم تو انکار کرنے کے بڑے ماہر تھے اگر انکار کی کوئی گنجائش ہے تو اب بھی کردو (حدید) کے معنی تیز کے بھی ہیں اور لوہے کے بھی اور ہر وہ چیز جو بہت باریک ہو خواہ باعتبار خلقت کے خواہ باعتبار معنی کے اور (حدید) حدۃ سے بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی تیز ہونے کے ہیں بروزن فیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور زیر نظر آیت میں تزچ نظر ہی کہا گیا ہے۔
Ayah 50:23اس کا ساتھی کہے گا کہ یہ جو میری سپردگی میں تھا وہ حاضر ہے
23 ۔ (قرین) کے معنی ساتھی کے ہیں لیکن اس جگہ کون سا ساتھی مراد ہے ؟ اس میں تین طرح کے احتمال بیان کیے گئے ہیں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہی فرشتہ ہے جس کو دوسری جگہ (سائق) کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جو ہر انسان کے ساتھ اس کے برے اعمال لکھنے پر مقرر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ فرشتہ ہے جس کو شہید کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور جس کا بیان آیت 21 میں گزر چکا ہے اور وہ کہے گا کہ یہ وہ شخص ہے جس کا اعمال نامہ میرے پاس تیار ہے اور بعض دوسرے مفسرین نے اس جگہ قرین سے مراد وہ شیطان لیا ہے جو انسان کو برائی پر آمادہ کرتا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ قیامت کے روز اس کے ساتھ ہی اٹھایا جائے گا اور وہ عرض کرے گا کہ یہ ہے وہ شخص جس کو میں نے اپنے قابو میں کرکے جہنم کے افعال پر مجبور کیا تھا اور اب وہ میرا کہا مان کر دوزخ کے لیے تیار کرکے لایا گیا ہے لیکن دل کو زیادہ لگنے والی بات اور گزشتہ مضمون کے زیادہ قریب وہی بات ہے جو سب سے پہلے بیان کی گئی ہے کہ اس قرین سے مراد وہ فرشتہ ہے جس کو آیت 21 میں (سائق) کے نام سے موسوم کیا گیا ہے کیونکہ انسان کو ترغیب دینے والا خود انسان کا اپنا فنس ہی ہے اور کوئی شیطان انسان کو مجبور کرکے برائی پر نہ تو آمادہ کرتا ہے اور نہ ہی کسی شیطان میں انسان کو مجبور کرکے کچھ کرانے کی طاقت رکھی گئی ہے اور نہ ہی اس طرح مجبور کیے جانے والا آدمی مجرم و گناہگار قرار دیا جاسکتا ہے یہ بات جس نے بھی کہی ہے خلاف واقعہ ہے ترغیب دینا اور مجبور کرنا دو الگ الگ باتیں ہیں ان کو ایک نہیں کہا جاسکتا اس لیے یہ بیان اس (سائق) ہی کا ہوسکتا ہے کہ وہ عرض کرے گا یہ وہ شخص ہے جو میری سپردگی میں تھا اور اس وقت حاضر ہے جو میں ہان کر لایا ہوں۔
Ayah 50:24حکم الٰہی ہوگا کہ اس کو جہنم میں پھینک دو کہ یہ کفر کرنے والا اور عناد رکھنے والا تھا
24 ۔ (القیا) تثنیہ کا صیغہ ہے یعنی تم دونوں ہی اس کو اٹھا کر دوزخ میں پھینک دو اور اس طرح گویا تم نے جو ذمہ داری اپنے ذمہ لی تھی یا جو ذمہ داری تم دونوں کے ذمہ لازم کی گئی تھی اس کو پورا کردیا اور اب تمہاری ذمہ داری سے وہ نکل کر دربان دوزخ کی ذمہ داری میں چلا گیا اس سے بھی یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ گزشتہ آیت میں بھی وہی فرشتہ مراد تھا جس کو آیت 21 میں (سائق) کہا گیا تھا اور اب جبکہ اس کو دوزخ مںٓ پھینکنے کا حکم دیا گیا تو بھی انہی دونوں کو دیا گیا جو انسان کے نامہ اعمال لکھنے کے لیے مقرر کئے گئے ہیں اور پھر اس کی وضاحت بھی فرما دی کہ اس کو دوزخ میں کیوں پھینک دو ؟ فرمایا اس لیے کہ یہ آدمی بہت ہی کفر کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے والا تھا اور حق سے اس کو سخت عناد تھا یعنی حق سے جان بوجھ کر ہٹ گیا تھا اور جو مخالفت اس نے کی وہ اچھی طرح سوچ سمجھ کر کی تھی یہ نہیں کہ اتفاق ہوگیا تھا۔
Ayah 50:25یہ خیر کو روکنے والا ، حد سے بڑھنے والا اور شک میں پڑنے والا تھا
25 ۔ یہ وہ شخص ہے جو بھلائی سے روکنے والا تھا اور جو فرائض اس کے ذمہ لازم و ضروری قرار دیئے گئے تھے ان حقوق کو وہ پورا نہیں کرتا تھا اور پھر صرف یہی نہیں کہ خود پورا نہیں کرتا تھا بلکہ دوسروں کے دلوں میں بھی شکوک و شبہات پیدا کرتا تھا اور ہاتھ سے دینا تو اس کے لیے حرام تھا اور فرائض کی کوئی اہمیت اس کے دل میں موجود ہی نہ تھی ظالم تھا کہ حد سے تجاوز کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا (معتد) اسم فاعل واحد مذکر اور اص ل میں معتدی تھا (اعتداء) مصدر یعنی حد سے تجاوز کرنے والا۔ حد سے آگے بڑھنے والا اور دشمن اور ظالم کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا سب سے بڑا ظلم ہے اس لیے اس سے مراد توحید الٰہی کا اقرار نہ کرنے والے کے بھی ہوسکتے ہیں (مریب) وہ جو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کے دین میں شک کرنے والا ہے اور مزید وضاحت آنے والی آیت کررہی ہے۔
Ayah 50:26یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو معبود بنائے بیٹھا تھا اس کو سخت عذاب میں ڈال دو
26 ۔ یہ وہی شخص تو ہے جو اللہ تعالیٰ کے دوسروں کو معبود بنائے ہوئے تھا اور شرک کرنے میں بہت تیز گام تھا شرک کا نام آتے ہی یہ معلوم ہونے لگتا ہے کہ جو شخص مشرک ہے وہ تمام دین اسلام کا منہدم کرنے والا ہے اور بلاریب شرک تمام فساد فی الارض کی جڑ ہے اور تمام اچھے اعمال کس طرح برباد ہوجاتے ہیں اگر اس کی تفصیل دیکھنا چاہیں تو جلد ہفتم میں سورة الزمر کی آیت 65 کی تفسیر دیکھیں فرمایا پس دونوں اس کو اٹھا کر سخت عذاب میں پھینک دو کہ اس عذاب سے کبھی نکلنے والا نہیں ہے آیات 19 تا 26 پر ذرا غور کرو تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کے وہ اوصاف ذکر کردیئے ہیں جو انسان کو دوزخ تک پہنچانے کا سبب بنتے ہیں اور پھر ظاہر ہے کہ وہ جو شخص ان صفات سے مکمل طور پر بچنے کی کوشش کرے گا اور اپنے آپ کو ان صفات کا حامل نہیں بتلائے گا وہ یقیناً جنت کا مستحق قرار پائے گا ان صفات میں سے ایک ایک پر غور کرو اور ان سے بچنے کی مکمل کوشش کرو تاکہ عذاب الٰہی کی گرفت سے بچ سکو وہ صفات کیا ہیں ؟ فرمایا : 1 ۔ انکار حق ہے۔ 2 ۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور اس کی ناشکری کرنا ہے۔ 3 ۔ حق کے ساتھ عناد رکھنا ہے یعنی حق سے خود رکنا اور دوسروں کو روکنے کی کوشش کرنا۔ 4 ۔ بھلائی کی راہ نہ خود اختیار کرنا اور نہ ہی دوسروں کو کرنے دینا۔ 5 ۔ اپنے مال سے حقوق اللہ کو نہ ادا کرنا اور نہ دوسروں کو ادا کرنے دینا۔ 6 ۔ اپنے معاملات میں حدود سے تجاوز کرنا۔ 7 ۔ لوگوں پر ظلم اور زیادتیاں کرنا۔ 8 ۔ دین اسلام کی صداقتوں پر شک کرنا اور دوسروں کو شکوک و شبہات میں ڈالنا۔ 9 ۔ قیامت سے مسلسل انکار کیے جانا اور اس کے اثبات میں پیش کئے گئے دلائل کی پرواہ نہ کرنا۔ 10 ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا خواہ قول سے ہو یا عمل سے ، اور یہ آخری صورت انسان کو ابدی طور پر دوزخ کا ایندھن بنا کر رکھ دیتی ہے۔