Ayah 50:27اس کا ساتھی کہے گا اے اللہ ! میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا یہ خود ہی گمراہی میں پڑا تھا
27 ۔ ان آیات میں (قرین) کا لفظ دوسری بار آیا ہے اس لیے جو مراد پہلے قرین سے لی گئی ہے وہی دوسرے قرین سے بھی لینا صحیح ہے پہلا قرین کا لفظ آیت 23 میں مذکور ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے اس جگہ قرین سے مراد اس کا ساتھی فرشتہ بھی لیا ہے اور خصوصاً وہ فرشتہ جو اس کے برے اعمال لکھنے پر متعین ہے اور جس کو پیچھے (سائق) کے لفظ سے بھی ذکر کیا گیا ہے اس جگہ خطاب تو یہ تھا کہ تم دونوں فرشتے یعنی سائق و شہید اٹھا کر اس کو دوزخ میں پھینک دو اور معلوم ہوتا ہے کہ ایسے وقت میں جب وہ اس کو اٹھا کو دوزخ میں پھینکنے لگیں گے تو وہ ایک بار اپنا قضیہ پھر پیش کرے گا کہ اس میرے ساتھی (سائق) نے میرا رزلٹ غلط تیار کیا ہے کیونکہ جس کو جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے وہ کسی موقع پر بھی اس سے باز نہیں آتا اور دوسرے پر الزام دھرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے گزشتہ آیت کے الفاظ (فالقہ ال عذاب الشدید) ” ڈال دو اس کو سخت عذاب میں “ اور آگے (قال قرینہ ربنا ما اطغیتہ) ” اس کا ساتھی کہے گا اے میرے رب ! میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا تھا “ کے درمیان ایک خلا ہے جو دونوں عبارتیں واضح کررہی ہیں اور وہ یہی ہے کہ اس کو عذاب میں جب ڈالا جانے لگا تو وہ الزام دھرنے لگا اور اس کے جواب میں اس کا وہ ساتھی جو اس کے برے اعمال کو لکھنے والا تھا بول اٹھے گا کہ اے ہمارے رب ! میں نے تو اسے سرکش نہیں بنایا تھا یہ خود ہی گمراہی میں دور تک چلا گیا اور چونکہ یہ بات اس نے فیصلہ صادر ہونے کے بعد کی اس لیے اس کا یہ عذر قابل قبول نہیں ہوگا اگر اس کو عذر پیش کرنا تھا تو وہ فیصلے صادر ہونے سے پہلے کرنا چاہیے تھا اس لیے اس کو رب ذوالجلال والا کرام کی طرف سے جھڑکی دی جارہی ہے اور ایک طرح کی ڈانٹ پلائی جارہی ہے کہ اب میرے پاس جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
خیال رہے کہ مفسرین نے اس جگہ (قرین) سے مراد شیطان لی ہے لیکن آیت 23 میں (ملک الموکل) یعنی وہ فرشتہ جو ہر انسان کے برے اعمال لکھنے پر مقرر کیا ہوا ہے اور ہر آدمی کے ساتھ وہ موجود رہتا ہے مراد اس (قرین) سے اگر شیطان ہی لینا ہے تو دونوں جگہ لیا جاسکتا ہے اس لیے اس مضمون کو آیت 23 کے ساتھ ملا کر دیکھ لیا جائے اور جو بات سمجھ میں آئے وہ اختیار کرلی جائے لیکن شیطان کے ورغلانے کا اعتراف پیچھے بھی گزر چکا ہے مثلاً عروۃ الوثقیٰ جلد پنجم سورة ابراہیم کی آیت 22 میں اور جلد ہذا سورة حم کی آیت 25 میں اور اس کا کوئی بیان بھی آیت 23 سے نہیں ملتا اور اس جگہ چونکہ قاری کے ذہن میں آیت 23 کا لفظ آیا ہے وہ بالکل تازہ اور اسی نہج پر ہے جس پر زیر نظر آیت 27 میں ہے لہٰذا ہمارے خیال میں ضروری ہے کہ دونوں جگہ پر ایک لفظ سے ایک ہی مفہوم مراد لیا جائے اگرچہ الگ الگ مفہوم مراد لینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ ہمارے لیے زیادہ مفدذ مطلب ہے جیسا کہ ہم نے سورة یوسف میں (رحل) کے مفہوم میں الگ الگ مطلب و مفہوم لیا ہے اگرچہ مفسرین نے اس جگہ (رحل) کا مفہوم صرف بوجھ اور سامان ہی لیا ہے اگر ذہن میں با تکو تازہ کرنا ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد چہارم تفسیر سورة یوسف کی آیت 70 اور 75 میں (رحل) کا لفظ آیا ہے۔
Ayah 50:2828 ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوگا کہ اب میرے پاس تمہارے اس جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے میں نے تمہارا فیصلہ تمہارے اعمال کے مطابق تم کو دکھا کر اور تم پر واضح کرکے آرڈر کردیا ہے اس طرح کے جھگڑوں کا کوئی فائدہ ؟ غور کرو کہ یہ (لدی) کے الفاظ اس طرح اس بات کی بول بول کر تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ استغاثہ ان کا اسی وقت شروع ہوا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم صادرہوگیا کہ (القیہ فی ال عذاب الشدید) ” اس کو سخت عذاب میں ڈال دو “ گویا جب تک رزلٹ اس پر واضح نہیں ہوا تھا وہ خاموش رہا اور اپنی آنکھوں سے اپنی کارستانیوں کی پوری فلم دیکھتا رہا لیکن جونہی فیصلہ صادر ہوا تو وہی پرانی عادت ، کسر باقی رہ گئی اور فیصلہ صحیح نہیں ہوا۔
Ayah 50:2929 ۔ یہ ان کے اس ناجائز اور بےوقت استغاثہ کا جواب ہے کہ تمہاری حالت بھی اپنی جگہ اتنی پختہ ہے کہ جھوٹ بولنا ہے اور بولتے ہی چلے جانا ہے اور جب تک فیصلہ تمہارے حق میں نہ ہوجائے تم کو تسلیم نہیں گویا تم نے حق کو حق تسلیم نہ کرنے کی قسم کھائی ہے اور ادھر میرا حال بھی یہ ہے کہ میں نے دنیا میں بھی بار بار اعلان کیا جیسا کہ قرآن کریم میں جگہ جگہ موجود ہے کہ میں اپنے وعدہ کا کبھی خلاف نہیں کرتا اور نہ ہی سونے دیتا ہوں اور تم لوگوں پر یہ بات بڑی شاق گزرتی ہے کہ اللہ اور وعدہ کا پابند کیوں ؟ اس لیے کہ تمہارا جن وڈیروں کے ساتھ واسطہ رہا اور جن کو تم نے و ڈیرے خیال کیا اور مان لیا ان کی عادت میں یہ داخل تھا کہ وہ کسی وعدہ کے پابند نہیں ہوتے اور نہ ہی انہوں نے اپنے وعدوں کو کبھی یاد رکھا ہے اور نہ ہی وہ وعدہ کو پورا کرنے کے لیے کبھی وعدے کرتے ہیں ان کی زبان سے جو نکل گیا بس نکل گیا وہ کسی قانون کے پابند نہیں رہنا چاہتے ان بےاصولوں اور بےغیرتوں کو تم نے دنیا میں و ڈیرے مانا اور تسلیم کیا اس لیے تم اس بات کے عادی ہوگئے کہ شاید کوئی وڈیرا بھی اپنے وعدے کا پابند نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کو وعدہ کی پابندی کوئی شخص یاد دلا سکتا ہے کیونکہ ان کے سارے وعدے دفع الوقتی کے لیے ہوتے ہیں اس لیے تم نے اللہ کو وڈیرا سمجھ کر یہ تصور قائم کرلیا کہ وہ تو سارے بڑوں سے بڑا ہے لہٰذا اس کے وعدہ کا پابند ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تم نے جو سمجھا بالکل غلط اور سراسر زیادتی ہے میں اللہ تم کو اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرے سے زیادہ کوئی بھی وعدہ کا پابند نہیں ہوسکتا اور میرے پاس بات صرف اور صرف ایک بار ہوتی ہے اور میں نے کبھی اپنے فیصلہ پر نظرثانی نہیں کی (ما یمدل القول لدی) ” میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور نہ ہی کبھی پلٹی جاتی ہے “ (وما انا بظلام للعبید) ” اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں “ اور ” اپنے بندوں “ سے مراد سارے انسان ہیں خواہ وہ کافر ہوں یا مسلمان یا چاہے وہ جو کچھ بھی ہوں کیونکہ بندے ہونے کے لحاظ سے تو سب بندے اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں اور ان میں سے کسی پر بھی کسی طرح کا کوئی ظلم روا نہیں رکھا جائے گا زیر نظر آیت میں جو (تختصموا) اور (الیکم) جمع کے صیغے آئے ہیں ان کے آنے سے کسی کو شبہ نہ ہو کہ قرآن کریم میں واحد کا مضون بیان کرتے ہوئے جمع کی طرف منتقل کردینا اور جمع کے صیغوں سے مضمون بیان کرتے کرتے واحد کی طرف منتقل کردینا اسی طرح حاضر کے صیغے بیان کرتے کرتے غائب کے صیغوں کو استعمال کرنے لگنا اور غائب کے صیغے بیان کرتے کرتے متکلم یا حاضر کے صیغے استعمال کرنے لگنا بالکل عام بات ہے اور یہ ہمارے بنائے ہوئے اختراعی اصول و ضوابط قرآن کریم پر نہیں چلتے بلکہ غور سے دیکھا جائے تو کوئی زبان بھی گرائمر کی پابند نہیں ہوتی بلکہ گرائمر زبان کی پابند ہوتی ہے اس لیے جن لوگوں کو گرائمر کا ہیضہ ہوجاتا ہے وہ بات کو سمجھنے کی بجائے الجھنے لگتے ہیں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ زبان اور گرائمر میں سے اصل کیا ہے ؟ اگر اس بات پر غور کریں تو ان کو معلوم ہوجائے کہ زبان اصل ہے اور گرائمر اس اصل کی ایک فرع ہے لیکن فروعات پر لڑنے مرنے والے اس بات کو اگر تسلیم کرلیں تو ان کی لڑائی ختم ہوجاتی ہے اور وہ لڑائی کو چھوڑنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے کیونکہ ان کی زندگی کا سارا لطف اسی لڑائی کے اندر مخفی ہے وہ گھوڑے کے دانتوں پر بحث و تکرار کرسکتے ہیں ، دلائل پیش کرسکتے ہیں ، دلائل سننے کے لیے تیار ہوسکتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص گھوڑا لاکر ان کے سامنے کھڑا کردے کہ صاحب اس کے دانت گن لو تو وہ گھوڑا لانے والے پر کفر کا فتویٰ صادر کرکے اس کی وہ گت بتاتے ہیں کہ اس کو نہ گھوڑا یاد رہتا ہے اور نہ ہی اپنے آپ کی ہوش رہتی ہے۔
Ayah 50:30اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی ؟ وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے ؟
30 ۔ غور کرو کہ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے واحد کے صیغے استعمال کیے گئے تھے اور زیر نظر آیت میں جمع کے صیغے استعمال کیے جا رہے ہیں جس سے کیا واضح ہوتا ہے یہی کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس وحدہ لاشریک لہ ہے اور وہ صیغوں کا پابند نہیں بلکہ صیغے اس کی ذات کے پابند ہیں اور ان کی پابندی یہی ہے کہ وہ چاہے تو واحد غائب سے چاہے تو واحد متکلم سے اور چاہے تو جمع متکلم یا جمع حاضر سے اپنی ذات کا ذکر کرے اس کی وحدانیت میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور یہ وہ زبان کا مسئلہ ہے کہ زبان گرائمر کی پابند نہیں بلکہ گرائمر ہی زبان کی پابند ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے فرمایا وہ دن کہ ہم اس سے کہیں گے کہ کیا تو بھر گئی ؟ اس سے گرائمر کی یہ بحث شروع کردینا کہ آیا وہ دوزخ ذوی العقول ہے یا نہیں ؟ وہ بولتی ہے تو اس کا بولنا کیسا ہے جیسے آپ اور میں بولتے ہیں ؟ پھر کیا وہ عربی بولتی ہے یا فارسی یا کوئی دوسری زبان تو یہ سب باتیں فضول اور لغو ہیں لاریب یہ اسی طرح بولے گی جس طرح انسانوں کے ہاتھ پائوں اور کھالوں کو بولنا قرآن کریم میں مذکور ہے یہ اس طرح بات کرے گی جس طرح آسمان اور زمین اللہ سے باتیں کرتے ہیں یہ اس طرح باتیں کرے گی جس طرح دنیا و آخرت کی ہرچیز کی باتیں قرآن کریم مذکور ہیں ہرچیز کی تسبیح وتحمید اور تہلیل کرنا موجود ہے جس طرح ہرچیز کا سجدہ کرنا اور فرمانبردار ہونا موجود ہے فرمایا ہم دوزخ سے کہیں گے کہ کیا تو بھر گئی ؟ لیکن وہ اس قدر بپھر چکی ہوگی اور اس طرح کافروں ، مشرکوں اور اسلام کو تسلیم کرنے کے بعد اس کی تعلیمات کی مخالفت کرنے والے منافقوں نے جو بڑے سڑے دعویٰ کرنے والے اور باپ دادا والے لوگ ہوں گے ان کو چونکہ بھسم کررہی ہوگی اس کے شعلے دور دور تک دکھائی دے رہے ہوں گے اس لیے وہ بھڑک کر بولے گی اور کہے گی کہ کیا کچھ اور بھی ہے ؟ (وتقول ھل من مزید) اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے کے مفہوم بیان کیے جاسکتے ہیں ایک یہ کہ ” اب میرے اندر مزید آدمیوں کی گنجائش نہیں ہے “ اور دوسرا یہ کہ ” جتنے مجرم ہیں انہیں جلدازجلد میرے اندر پھینک دو تاکہ میں انہیں بھسم کروں “ اور ہمارے نزدیک یہ دوسرا مطلب ہی قرین قیاس ہے اور احادیث کی زبان بھی اس مطلب ہی کی تصدیق کرتی ہے اگر کسی چیز کی حالت کی بات پر دلالت کرے تو اس پر بھی قول کا لفظ بولا جاتا ہے اس کی حالت مزید طلب کی ہے نہ کی نفی طلب کی۔ بلاشبہ استفہام زیادتی کی طلب کو ظاہر کررہا ہے اور بخاری و مسلم کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جہنم کے اندر برابر مسلسل مخلوق ڈالی جاتی رہے گی اور وہ کہتی رہے گی کہ (ھل من مزید) کیا بھی کچھ اور بھی ہے گویا وہ بھرے گی نہیں اور مزید طلب کرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم جاری کرے گا تب وہ جا کر کہے گی کہ بس بس “ (بخاری و مسلم عن انس ؓ بحوالہ مظہری)
سیدنا انس ؓ کے الفاظ جو انہوں نے آپ ﷺ سے روایت کیے ہیں وہ اس طرح ہیں کہ (حتی یضع قدمہ فتقول قط قط) ” یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا تب وہ کہے گی بس بس “ ہم نے ان الفاظ کا مفہوم اوپر ذکر کردیا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ اپنا حکم جاری کرے تب وہ کہے گی کہ بس بس “ یہ بات ہم قبل ازیں بہت سے مقامات پر واضح کرے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات جسمانی نہیں بلکہ وہ مرئی جسم سے پاک ہے جب اس کے ہاتھ پائوں او دوسرے اعضا کا ذکر آتا ہے تو اس سے مراد اس کی وہ صفت ہوتی ہے جو اس عضو کے متعلق ہوتی ہے نہ کہ اس عضو کا جسم۔ اور یہ بات ہم اپنی زبان میں عام بولتے ہیں کہ ” جب تک فلاں آدمی کا قدم نہیں پڑا بات ختم نہیں ہوئی “ ” میں قدم رکھوں گا تو تمہارا معاملہ ان شاء اللہ حل ہوجائے گا “ ” اس نے قدم رکھا تو ہماری جان چھوٹی “ اور ظاہر ہے کہ اس قدم رکھنے سے مراد مداخلت کرنا ہے ، درمیان میں آنا ہے اور اس کو ہم نے حکم سے تعبیر کیا ہے اس لیے اس سے مراد سچ مچ کا قدم لینا کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے کہ قرآن کریم نے دوسری جگہ خود وضاحت کردی ہے کہ (لیس کمثلہ شی) اس لیے اللہ تعالیٰ کی ذات سے حقیقی تشبیہ ناجائز ہی نہیں بلکہ حرام ہے علمائے اسلام نے اس کی جو وضاحت کی ہے وہ بھی یہی ہے جو ہم نے عرض کی ہے چناچہ نھایہ اور لسان العرب میں ہے کہ حتی یضع اللہ فیھا قدمہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں ان لوگوں کو ڈالے گا جنہیں اپنی بدترین مخلوقات میں سے آگ کے لیے پہلے بھیج رکھا ہے کہ الذین قدمھم لھا من شرار خلقہ وہ اللہ کا قدم آگ کے لیے ہیں فھم قدم اللہ للنار اور جسال کہ مسلم اس کا قدم جنت کے لیے ہیں اور (قدم) ہر ایک وہ چیز ہے جسے تم یا شر سے آگے بھیجو۔
Ayah 50:31جنت پرہیز گاروں کے قریب کردی گئی کچھ بھی ان سے دور نہیں
31 ۔ گزشتہ آیت میں اہل دوزخ کا ذکر کیا گیا تھا اس لیے زیر نظر آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو متقی اور پرہیز گار تھے یعنی وہ لوگ جنہوں نے ہم سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی اور تمام عمر ہمارے احکام کی پیروی کرتے رہے قیامت کے روز ان کی یقیناً عزت افزائی اور پذیرائی کی جائے گی ان کو جنت میں داخل ہونے کا اذن ملے گا تو جنت تک کوئی لمبا چوڑا فاصلہ طے کرکے ان کو نہیں جانا پڑے گا بلکہ جنت ان کے قدموں میں پیش کردی جائے گی اور یہ ان کی عزت افزائی اور پذیرائی کا بیان ہے اور غور کرو کہ پیرایہ بیان کیا اختیار کیا گیا یہ نہیں فرمایا گیا کہ وہ لوگ جنت کے قریب کردیئے جائیں گے بلکہ ارشاد فرمایا کہ جنت ان کے قریب کردی جائے گی گویا ان لوگوں نے دنیا میں جو کچھ کیا وہ جنت کی طلب کے لیے نہیں بلکہ رضائے الٰہی کے لیی کیا اور رضائے الٰہی کا صلہ جنت ہے اس لیے اب بھی اہل جنت کو جنت کی طلب نہیں بلکہ جنت کو اہل جنت کی طلب ہے کیونکہ جنت صلہ ہے رضائے الٰہی کی طلب کا۔ اس میں اہل جنت کی پذیرائی اور عزت افزائی کا بیان آگیا کہ اہل جنت کے لیے جنت کو قریب کردیا جائے گا یہ تمام باتیں خواہ اہل دوزخ کی ہیں اور خواہ اہل جنت کی ان کا تعلق عالم آخرت سے ہے نہ کہ عالم دنیا سے لیکن ہمارے بعض بزرگوں نے اس طرح کے استدلال کیے ہیں کہ اہل اللہ کو یہ سب کچھ دنیا ہی میں میسر آجاتا ہے حالانکہ اس دنیا کی کسی نعمت کو آخرت کی نعمت کے ساتھ سوائے نام کے کوئی مماثلت نہیں ہے اور وہ نام بھی تعبیر ہیں اس بات کی کہ انسان کے ذہن و دماغ میں عذاب و صواب کی باتوں کا صحیح مفہوم بیٹھ جائے اور اس کی طلب کے مطابق اس سے بات کی جائے ورنہ اس وقت کی طلب کیا ہوگی ؟ اللہ ہی اس حقیقت کو جانتا ہے عالم آخرت کی باتیں عالم دنیا میں اس رنگ میں کی جاسکتی ہیں اور انہی الفاظ سے ان کو بیان کیا جاسکتا ہے لیکن وہاں کا سارا نظام ہی اس نظام سے بالکل الگ ہے نہ یہ زمین ہوگی اور نہ یہ آسمان اور نہ ہی اس طرح کا نظام پھر جہاں کا معلہ ہی اس سے الگ ہے اس کی بات جب بھی کی جائے گی تو سوائے الفاظ کے اس میں کیا مماثلت رہ گئی۔
Ayah 50:32اہل جنت سے کہا جائے گا کہ یہ وہ جنت ہے جس کا ماتم سے وعدہ کیا گیا تھا
32 ۔ اہل جنت کو جب جنت پیش کی جائے گی اور اس کو ان کے قدموں کے قریب کردیاجائے گا تو ساتھ ہی ان کے کانوں میں یہ بات بھی ڈال دی جائے گی کہ یہ وہ چیز ہے جس کا تم سے دنیا کی زندگی میں وعدہ کیا گیا تھا اور اس وقت بلاشبہ ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دنیا کی زندگی بسر کرتا رہا اور اپنی زندگی کی پوری نگرانی اس نے کی اور کوئی کام اس نے اپنی زندگی میں ایسا نہ کیا جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا کام تھا بلکہ اس نے دریا میں رہ کر مگرمچھوں سے بیر رکھا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ان کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتا رہا اس جگہ جو اہل جنت کا وصف بیان کیا گیا ہے وہ (اواب) ہے اس کی اصل اوب ہے جس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں مبالغہ کا صیغہ ہے بروزن فعال ہے اور اس جگہ اپنے تمام اقوال و افعال اور حرکات و سکنات میں اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی طرف رجوع ہونا مراد ہے ابن عمر ؓ سے (اواب) کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ (اواب) وہ ہے جو تنہائی میں اپنے گناہوں اور کمزوریوں کو یاد کرکے اللہ تعالیٰ سے خواستگار ہو (ویلمی عن مجاہد) اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے اس کی تفسیر میں مسبح یعنی تسبیح کرنے والا کے نقل کیے ہیں ( طبری) اور بعض نے پختہ یقین رکھنے والے کے معنی بھی بیان کیا ہیں (البحرالمحیط ج 5 ص ضڈٰ طبع مصر عن عبد بن حمید) اور کہا گیا ہے کہ (اواب) اسی وقت ہوگا جب اس میں تمام صفات پائی جائیں اوابین اس کی جمع ہے اور سعید بن منصور ، ہناد ، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے ضحاک سے نقل کیا ہے کہ (اوابین) وہ ہیں جو گناہ سے توبہ کی طرف اور برائیوں سے اچھائیوں کی طرف رجوع کریں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اطاعت گزار اور نیکو کار اس سے مراد ہیں اور بیہقی نے شعب ال ایمان میں اس کی وضاحت توابین سے کی ہے جس کے معنی ہیں کہ کثرت سے توبہ و استغفار کرنے والے ۔
(فتح القدر ج 4 ص 415 طبع مصر)
زیر نظر آیت میں (اواب) کے ساتھ حفیظ کی صفت بھی بیان کی گئی ہے اور حفظ نسیان کی ضد ہے اور اس جگہ (اواب) کے ساتھ (حفیظ) کا لفظ لاکر اس کی مزید وضاحت کردی ہے کہ یہ لوگ وہ ہیں جو احکام الٰہی اور حدود اللہ کی حفاظت کرنے والے اور حدود اللہ کی نگہداشت کرنے والے ہیں (اواب حفیظ) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ، حدود اللہ کی حفاظت و نگہداشت کرنے والا۔
Ayah 50:33وہ شخص جو رحمٰن سے ڈرنے والا اور رجوع کرنے والے دل کے ساتھ آتا ہے
33 ۔ رحمن کے نام سے مکہ کے لوگ اور خصوصاً قریش مکہ بہت الرجک تھے اس کی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد ششم سورة الفرقان کی آیت 60 میں کرچکے ہیں اور یہ بات بھی بتا چکے ہیں کہ مکہ والوں نے چونکہ رحمٰن کے نام پر تعجب کیا تھا اس لیے ان کے اس اظہار کے بعد قرآن کریم نے رحمن کا لفظ بار بار استعمال کیا ہے کہ اگر ان کو اس سے چڑ آتی ہے تو آئے ہم اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی اس صفت کو بیان کرنے سے باز نہیں آسکتے اور نہ ہی حق سے باز آنے کا حق ہے کیونکہ اسلام کا منشا حق کو قبول کرنا اور لوگوں کو حق پہنچانا ہے نہ کہ حق سے باز رکھنا۔ پھر ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ہی رحمن ہے تو پھر اللہ کو جب نہیں دیکھا جاسکتا تو رحمن کو کیسے دیکھا جاسکتا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کہو یا رحمن بہرحال وہ دیکھی جانے والی چیز نہیں بلکہ محض صفات کے باعث پہچاننے والی چیز ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی ذات کو دیکھ کر ماننا چاہتا ہے گویا وہ اگر مشرک نہیں تو بھی مشرک بننا چاہتا ہے کیونکہ شرک کی ابتدائی سیڑھی یہی ہے جہاں سے شرک شروع ہوتا ہے حالانکہ یہ فیصلہ شدہ بات ہے کہ اللہ ان دیکھی اور ان سمجھی چیز ہے جس کو اس دنیا میں اس مرئی آنکھ سے دیکھا جانا ممکن ہی نہیں خواہ وہ آنکھ کس کی ہو حتیٰ کہ نبی اعظم و آخر محمد رسول اللہ ﷺ کی آنکھ نے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کا اس مرئی آنکھ سے دیدار نہیں کیا انسان کی یہ آنکھ اللہ رب ذوالجلال والا کرام کو اس دنیا کے اندر رہتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی کیونکہ آنکھ اسی چیز کو دیکھ سکتی ہے جس کی کوئی شکل و صورت موجود ہو اور وہ جسمانی ہو غیر جسمانی چیز کو آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ فرمایا اللہ الرحمن سے ڈرنے والے لوگ جب اللہ رب کریم کے پاس رجوع کرنے والا دل لے کر آئیں گے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں یقیناً ان کی پذیرائی ہوگی۔
Ayah 50:34ان سے کہا جائے گا سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائو اب تم کو اس میں ہمیشہ رہنا ہے
34 ۔ گزشتہ آیت میں (قلب منیب) کہہ کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کا ذکر کیا گیا تھا اور (منیب) کی اصل نوب ہے جس کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ، خلوص کے ساتھ توبہ کرنے والا ، ہر طرف سے مڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والا (اناب) اور (انیب) بھی اسی سے ہے زیر نظر آیت میں فرمایا جارہا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا دل لے کر آئے ہیں ان کو کہا جائے گا کہ اب تم جنت میں داخل ہوجائو کیونکہ تم اللہ تعالیٰ کی ذات سے بن دیکھے ڈرتے تھے اور اس دن کو بن دیکھے مانتے اور تسلیم کرتے تھے اور لوگوں سے زیادہ تم کو اللہ رب کریم کا خوف اور ڈر رہتا تھا اب تم کو جنت میں داخل ہونے کا کہا جارہا ہے کہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جائو اور تمہارا یہ جنت میں داخل ہونا اب عارضی اور چند روزہ نہیں بلکہ اب تم کو ہمیشہ ہمیشہ یہیں رہنا ہے اور اب تمہارے لیے اس جگہ سلامتی ہی سلامتی ہے اور اس طرح کا چین ہے کہ اس کے بعد تم کبھی بےچین نہیں ہو گے۔
Ayah 50:35تمہارے لیے جو تم چاہو گے اور علاوہ ازیں بھی تم کو بہت کچھ ملے گا
35 ۔ جنت کے انعامات کا ذکر قرآن کریم نے باربار کیا ہے اور ان کے وہی نام رکھے جو اس دنیا میں انسان کو مرعوب ہیں اور انسان کی طبیعت تقاضا کرتی ہے کہ یہ چیز مجھے ملے اگر ان انعامات کا ذکر کسی ایسی صورت میں کیا جاتا جس سے انسان دنیا میں متعارف نہیں ہے تو جنت کی حقیقت کو چاہے کوئی عقیدتاً مان لیتا لیکن سمجھ سوچ کر نہایت دلجمعی سے کوئی شخص بھی اس کی خواہش نہ کرتا کیونکہ فطری طور پر انسان کو اس چیز کی طلب ہوتی ہے جو فطراً اللہ نے اس کے اندر ودیعت کردی ہے خواہ وہ کم ہے یا زیادہ اور جو چیز فطرت میں داخل نہیں انسان کبھی اس کی خواہش نہیں کرسکتا ہاں ! انسان کی خواہشات اس دنیا میں اکثر بدلتی رہتی ہیں اور جوں جوں خواہش بدلتی ہے اور ایک خواہش کی جگہ دوسری لے لیتی ہے تو اس کی فطری چاہت بھی اتنی ہی کمزور ہوجاتی ہے اور اس کی جگہ دوسری چاہت لے لیتی ہے ہاں ! ایک دو سال کے بچہ کی خواہشات کا اندازہ لگائو پھر آٹھ دس سال کے بچے کی خواہشات کا پھر پندرہ سولہ سال کی عمر کے بچہ کی خواہشات کا اور پھر 25 , 24 سال کی عمر کے نوجوان کی خواہشات کا اس طرح 45 , 40 سال کی عمر کی خواہشات کے بعد سترہ پچھتّر سال کی عمر کی خواہشات کا ایک چارٹ تیار کرکے اندازہ کرو کہ پہلی خواہشات ڈیڑھ ، دو سال کے بچے کی خواہشات تھیں ان میں اور اب ستر پچھترّ سال کی عمر کی خواہشات میں زمین و آسمان سے بھی زیادہ تم کو فرق نظر آئے گا اور لاریب تم کو اپنی ہی ڈیڑھ سال سے دو سال کی خواہشات پر ہنسی آئے گی اس لحاظ سے مرنے کے بعد دوبارہ زندگی جب ملے گی تو اس کے اندر کیا خواہشات ہوں گی اس وقت ہم میں سے کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی جان سکتا ہے لہٰذا ان خواہشات کا ذکر کرنے کے لیے ہم کو مجبوراً اپنی موجودہ زندگی کی خواہشات کو پیش نظر رکھنا ہوگا جن خواہشات سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں ان ہی کے ذکر سے ہم محظوظ ہوسکتے ہیں اس لیے ان ہی کا ذکر کیا جانا ضروری ہے اس لیے ارشاد فرما دیا کہ اس وقت جو خواہشات ان کی ہوں گی اسی کے مطابق ان کو دیاجائے گا اور چونکہ ان خواہشات کے متعلق صحیح اندازہ اس زندگی میں ممکن ہی نہیں ہے اس لیے ارشاد فرما دیا کہ ہمارے پاس اس کے لیے اس سے بھی زیادہ ہے یعنی میری بخشش قلیل اور محدود نہیں ہوگی جو کچھ وہ چاہیں گے ہم انہیں اتنا ہی دیں گے نہیں بلکہ اس وقت تو ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس وقت وہ کیا چاہیں گے یہ صحیح کہ ان کا دامن طلب بڑا وسیع ہوگا لیکن بہرحال ایک محدود شے کی خواہشات بھی محدود ہی ہوں گی اللہ تعالیٰ کی وسعت عنایت کے سامنے ان کی طلب کی حقیقت ہی آخر کیا ہے ان کا ظرف کتنا ہی کشادہ کیوں نہ ہو بحرکرم کے ساتھ اس کی کیا حقیقت ہے فرمایا ہم صرف اتنا ہی نہیں دیں گے جتنا وہ مانگیں گے گویا جتنے کی وہ خواہش رکھیں گے بلکہ جتنا وہ چاہیں گے وہ بھی دیں گے اور اس کے علاوہ ہمارے پاس ان کے لیے اور بھی بہت کچھ موجود ہے جس کا اندازہ بہرحال انسان وہ بھی اس دنیا میں نہیں لگا سکتا اور نہ ہی لگایا جاسکتا ہے۔
Ayah 50:36ہم نے کتنی قومیں اور بستیں ہلاک کیں جو مکہ والوں سے شان و شوکت میں بہت زیادہ تھیں
36 ۔ اے پیغمبر اسلام ! ان اہل مکہ کو بتا دو کہ تم سے پہلے کتنی ہی قومیں اور بستیاں گزر چکی ہیں کہ انہوں نے اپنی قوت اور طاقت کے بل بوتے پر دوسرے ممالک پر لشکر کشی کی اور ان کی بزور اپنا زیر نگیں بنایا اور پھر ایک مدت تک ان کا ڈنکا بجتا رہا اور سکہ چلتا رہا اور وہ ایک ایک کی بجائے کتنے کتنے ممالک ملا کر سلطنتیں بناتے رہے اور انہوں نے مادی ترقیاں کیں اور منقوحہ علاقوں سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا ان کو دیکھ کر ان کے اردگرد کی قومیں ان پر رشک کرتی رہیں اور ان کی ٹھاٹھ باٹھ نے دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈالا لیکن جب ہماری پکڑ کا وقت آیا تو ان کی ساری طاقت و قوت دھری کی دھری رہ گئی اور کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آئی اور ہمارے عذاب نے ان کو تہس نہس کرکے رکھ دیا اور کوئی چیز بھی ان کو ہمارے عذاب سے نہ بچا سکی ان کی ساری ترقیاں ملیا میٹ ہو کر رہ گئیں اہل مکہ ! یہ بات تم کو اس لیے یاد کرائی جا رہی ہے کہ اگر تم نے ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہی روش اختیار رکھی تو تمہاری تباہی و بربادی کا وقت بھی آجائے گا اس وقت تمہارا یہ سارا تکبر اور ساری نخوت ہوا ہوجائے گی آج وقت ہے سنبھل جائو اور ہماری مہلت کے وقت کو ضائع نہ کرو ( نقبوا) کا لفظ اس آیت میں آیا ہے جو جمع مذکر غائب ماضی معروف کا صیغہ ہے یعنی وہ گھومے پھرے بوساطت ” فی “ اندر گھومتے پھرتے رہے اور شہروں میں خوب ترقیاں کیں اور نام پیدا کیا بستیوں میں دوڑے مال لانے لیجانے کے لیے ، علاج معالجے کے لیے آتے جاتے لیکن ان ساری سہولتوں کے باوجود موت سے گلو خلاصی کر اسکے ؟ آپ دیکھ رہے ہیں کہ اب ان کے نام تاریخ میں باقی رہ گئے ہیں بلکہ ان کا نام تم کو ڈرانے کے لیے لیا جارہا ہے کہ پہلے جانے والوں کے ناموں سے اور ان کے کاموں سے تماری واقفیت ہوجائے اور تم اس سے فائدہ اٹھا کر اپنی اصلاح کرلو تاکہ تہاری آخرت برباد نہ ہوجائے جس طرح ان کی آخرت برباد ہوگئی۔
Ayah 50:37اس میں تمہارے لیے نصیحت ہے بشرطیکہ تم نصیحت حاصل کرو اور بات کو سمجھو
37 ۔ گزشتہ تاریخی واقعات میں اور قوموں کی زندگیوں اور تباہیوں کے واقعات میں بہت بڑی عبرت مخفی ہوتی ہے لیکن کن کے لیے ؟ جو عبرت حاصل کرنا چاہیں اور دوسروں کو دیکھ کر اصلاح کرلیں قلب جب تک اپنا کام کررہا ہے یعنی لوٹ پوٹ ہوتا ہے اور چلتا رہتا ہے انسان کی حرکت جاری رہتی ہے اور دوسرے سارے اعضا اپنا اپنا کام کرتے رہتے ہیں اس لیے اسلام جب بھی عقل وفکر اور سمجھو سوچ کی بات کرتا ہے تو اس کے لیے قلب ہی کا نام لیتا ہے اور انہی معنوں میں اس جگہ بھی قلب کا لفظ آیا ہے کہ انسان کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا رہے لیکن دوسرے جانوروں اور الانعام کی طرح عقل و فکر سے کام نہ لے تو اس کو انسانوں کی صفت میں شمار نہیں کیا جاتا بلکہ قرآن کریم ایسے لوگوں کو مردے قرار دیتا ہے پھر اس کی کئی حالتیں ہیں آخری حالت کا نام مردو دلی ہے کہ جب انسان پر کسی طرح کی کوئی نصیحت بھی کام نہیں کرتی اور جب من حیث القوم کسی قوم کی حالت یہ ہو تو وہ قوم زندہ قوم نہیں کہلا سکتی کیونکہ وہ اپنا مقصد حیات کھو چکی ہوتی ہے اور انبیاء کرام اس زندگی کو عطا کرنے کے لیے بھیجے جاتے رہے ہیں انہوں نے مردہ قوم کی تربیت کرکے اس میں زندگی پھونکنے کی کوشش کی ہے پھر جن کے مقدر میں زندگی تھی وہ زندہ ہوگئے اور جن کے حق میں موت کا فیصلہ صادر تھا وہ اسی موت کے اندر قیامت تک کی موت مرگئے فرمایا اگر دل پورا بیدار نہ ہو اور جماعتی زندگی نہ ہونے کے برابر ہو تو بھی اس قوم میں جب تک ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں کہ وہ کسی کی بات کو سن کر ، سمجھ کر برداشت کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی تھوڑی بہت کوشش کرتے ہیں ہر بات کو سنی ان سنی نہیں کردیتے اور ایسی باتیں سنانے والے کی زندگی کے درپے نہیں ہوجاتے ان پر امید قائم رہتی ہے کہ وہ کسی وقت سنبھل بھی جائیں اور صحیح معنوں میں زندگی حاصل کرلیں دراصل یہ بات اہل مکہ کی حالت کو بیان کررہی ہے کہ ان میں بہت ہی کم لوگ ہیں جو بات کو سننے کی بھی برداشت رکھتے ہیں ورنہ زیادہ تر وہی لوگ ہیں جو نبی اعظم و آخر ﷺ کی باتوں کو سن کر مخالفت اور وہ بھی بہت بری قسم کی مخالفت پر تل جاتے ہیں اور حق پر چلنا تو درکنار حق کو سن کر برداشت بھی نہیں کرتے اور یہ زندہ قوموں کی نشانی نہیں ہے اس وقت اگر قوم مسلم اپن یحالت زار پر غور کرے تو وہ سمجھ جائے کہ ہمارا شمار بھی اس وقت دنیا کی زندہ قوموں میں نہیں بلکہ مردہ قوموں میں ہے اور بہت کم صلاحیت رہ گئی ہے کہ حقیقی اور سچی بات کو سن کر کسی کی رگ پھڑکے اور وہ اپنی اصلاح کی کوشش کرے قومی لیڈر اور اسلامی حکومتیں اس وقت اپنا اسلامی تشخص قائم نہیں رکھ سکیں بلکہ دوسروں کے سہارے زندگی کو بحال رکھے ہوئے ہیں اور آپس کے اختلاف اور دنیوی حرص نے ان کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے اور قومی زندگی کے اصولوں کو انہوں نے بالکل بھلا دیا ہے قرآن کریم کی یہ آیت ثابت کررہی ہے کہ قوم کے اندر جب تک ایسے آدمی موجود ہوں جو قوم کی بات کریں اور ایسے آدمی بھی موجود ہوں جو بات کو سنیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قوم میں زندگی کی رمق باقی ہے بالکل مر نہیں گئی اور جب ایسی بات کے کرنے والے موجود ہی نہ ہوں یا بات تو کرنے والے کچھ کر ہی رہے ہوں قوم بجائے بات کو سننے کے ان کے درپے ہوجائے تو وہ حالت زیادہ خطرناک ہوتی ہے اس کی مزید وضاحت درکار ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد چہارم سورة یونس کی آیت 57 کی تفسیر بھی دیکھ لیں جس میں قرآن کریم کو دلوں کی بیماریوں کی شفا دینے والا بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 50:38ہم نے آسمانوں زمین کو چھ ادوار میں پیدا کردیا اور کوئی تکان نہیں ہوئی
38 ۔ زیر نظر آیت سے کلام کا رخ نبی اعظم وآخر ﷺ کی تسلی اور تسکین کی طرف منتقل ہورہا ہے جس میں آپ ﷺ کو صبروثبات کی تلقین کی گئی ہے لیکن اس کا کوئی مطلب یہ نہ سمجھے کہ آپ ﷺ دل ہار رہے تھے یا دلبرداشتہ ہوچکے تھے یا تعلیم و تربیت میں کسی طرح کی سستی کا شکار تھے خاکم بدہن کہ میں ایسی کوئی بات کہوں یا سمجھوں یہ تسلی و تشفی محض دل کو بڑھانے اور یہ باور کرانے کے لیے ہوتی ہے کہ آپ ﷺ جس کام کو کر رہے ہیں اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھیں بلکہ ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں ہماری مدد تمہارے ساتھ ہے ذرا زور لگائو دیکھو کہ ان کا کیا حشر ہونے والا ہے ہم نے آسمانوں اور زمین کو بنایا لیکن کیا اچانک بنا دیا نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ آہستہ آہستہ اور آرام آرام سے اس کو بنایا اور ہماری سنت بھی یہی ہے کہ کوئی اچانک آنے والی چیز بھی ایسی نہیں ہے جس کی ہم نے پہلے اطلاع نہ کی ہو ہاں ! بار بار اس کا اعلان کرتے ہیں اور خبردار کرنے کے باوجود پھر جو کوئی خبردار نہیں ہوتا وہ وقت بھی آجاتا ہے جب کہ اس کی مہلت اور ڈھیل پوری ہوجاتی ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم تھک جاتے ہیں اس لیے کچھ کیا اور پھر تک ہار کر چھوڑ بیٹھے جب کچھ طاقت آئی تو دوبارہ شروع کرلیا نہیں نہیں ! ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے نہ ہم کبھی پہلے تھکے تھے اور نہ اب تھکے ہیں یہ یہود کا نظریہ ہے کہ اللہ نے چھ دنوں میں یہ سب کچھ بنا کر ساتویں دن آرام کیا اس لیے گویا ساتواں دن چھٹی کا ہوگیا۔ فرمایا ہرگز نہیں یہود کا یہ نظریہ بالکل لغو اور فضول ہے ، ہمیں قطعاً کوئی تھکان نہیں ہوئی۔ آسمان و زمین کو چھ دن میں مکمل کرنے سے کیا مراد ہے ؟ اس کی وضاحت ہم پیچھے کرچکے ہیں مثلا عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة الاعراف آیت 54 ، جلد چہارم سورة یونس 3 ، سورة ہود آیت 7 ، جلد ششم سورة الفرقان آیت 59 ، سورة السجدہ آیت 4 میں ۔ ان مقامات کی طرف رجوع کریں ان شاء اللہ العزیز پوری وضاحت ان جگہوں میں مل جائے گی اور یاد رکھیں کہ اللہ کا دن پچاس ہزار سال کا ہوتا ہے اسی لیے ہم اس کو چھ ادوار سے تعبیر کرتے ہیں۔
Ayah 50:39جو کچھ اہل مکہ کہتے ہیں آپ ﷺ صبروثبات کے ساتھ سن لیں اور صلوٰۃ کی زیادہ پابندی کریں
39 ۔ جیسا کہ گزشتہ آیت میں عرض کیا گیا ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو صبروثبات کی تلقین اس لیے نہیں کی کہ آپ ﷺ کہیں بےصبرو بےثبات ہونے والے تھے نہیں اور ہرگز نہیں اس سے مراد وہی ہے جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہ کے کہ آپ ﷺ فکر نہ کریں اگر انہوں نے یہی روش رکھی تو ان سے نمٹ لیں گے کیونکہ ہماری مدد و نصرت آپ ﷺ کے ساتھ ہے ابھی ہم نے ان کو ڈھی دے رکھی ہے تاکہ ان کو بعد میں کوئی اعتراض نہ رہے آپ ﷺ کو صبروثبات کو بڑھانے کا نسخہ بھی ارشادفرما دیا کہ صبروثبات کو بڑھانے کا سب سے زیادہ کامیاب نسخہ صلوٰۃ ہے کہ کاس میں اذکار ہیں ، دعا ہے جس سے صبر و ثبات کی طاقت میں بےبہا اضافہ ہوتا ہے اگر کوئی شخص صحیح معنوں میں صلٰوۃ کا مفہوم سمجھتا ہو اور صلوٰۃ جس چیز کا تقاضا کرتی ہے اس کو پورا کیا جائے اور صبر کیا چیز ہے اس کو کیسے حاصل کیا جاتا ہے اور اگر انسان صبروثبات سیکھ جائے تو اس کو کیا طاقت و قوت میسر آتی ہے اور اس طاقت و قوت کو حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟ ان سارے سوالوں کا جواب مع شے زائد آپ کو ان شاء اللہ العزیز عروۃ الوثقیٰ جلد پنجم سورة طٰہ کی آیت 130 میں ملے گی اور صلوٰۃ کی حقیقت سورة المومنون کی آیت 9 کے تحت بیان کی گئی ہے اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کیا ہے ؟ سمجھ لینا چاہیے کہ اصل تسبیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان نقائص سے جو لوگوں نے خوش فہمی اور کم عقلی کی بنا پر اس کی طرف منسوب کردیئے ہیں پاک و صاف بیان کیا جائے اور ان کو مسکت اور دندان شکن جواب دیا جائے اور تحمید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کمالات کو ظاہر کیا جائے اور اس کی صفات کو وضاحت سے بیان کی جائے اور ثابت کیا جائے کہ جس طرح اس کی ذات میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی صفات میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں ہے یہی وہ نفی و اثبات ہیں جو دونوں مل کر اللہ تعالیٰ کے صحیح تصور کو دل میں راسخ کردیتے ہیں اور اسی اثر و رسوخ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا صحیح تعلق قائم ہوتا ہے جو تمام صبرو توکل کی اصل بنیاد ہے صلوٰۃ کے لیے (قبل طلوع الشمس و قبل الغروب) کے الفاظ بھی آئے ہیں اور چونکہ یہی لفظ پیچھے سورة طہٰ میں گزر چکے ہیں اس لیے عروۃ الوثقیٰ جلد پنجم کے سورة طہٰ میں آیت 130 کی تفسیر ملاحظہ فرما لیں ان شاء اللہ العزیز تفصیل وہاں مل جائے گی۔
Ayah 50:40اور رات کو بھی اللہ کی تسیح کرو اور ستاروں کے ڈھلنے کے بعد بھی
40 ۔ گزشتہ آیت میں قبل طلوع الشمس و قل الغروب سورج کے طلوع اور اس کے غروب سے پہلے کے الفاظ بول کر دن کو دو اہم نمازوں کا ذکر کیا گیا ہے یعنی فجر اور عصر کا اور زیر نظر آیت میں (ومن الیل فسبحہ) میں رات کی دو اہم نمازوں کا ذکر فرما دیا اور رات کی نماز میں عشا کی ناز آجاتی ہے او تہجد کی اگرچہ فرض نہیں ہے لیکن نفل میں جو شان اور جو حقیقت و لطف اور مزہ تہجد کی نماز میں ہے وہ کسی دوسری نفلی نماز میں نہیں ہے اور یہ بھی کہ یہ دونوں نمازیں بہت اہمیت رکھتی ہیں اور ان کی وہی اہمیت ہے جو دن کی نمازوں میں فجر اور عصر کی ہے اور اس کے بعد فرمایا ہے (ادبار السجود) سے صلوٰۃ ظہر اور مغرب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ سورج کے طلوع کے بعد پہلی صلوٰۃ ظہر ہی ہے اور سورج کے غروب کے بعد پہلی نماز مغرب کی نماز ہے اور سورج کا طلوع و غروب دونوں حالتیں سورج کے سجدہ کی ہیں اور اسی نسبت سے (ادبار السجود) کے الفاظ لائے گئے ہیں ۔ اگرچہ اس کے مفہوم اور بھی بیان کیے گئے ہیں اور ایک مضمون کی طرف سے ہم نے ترجمہ میں بھی اشارہ کردیا ہے کہ سجدوں کے بعد بھی تسیبح وتحمید اس میں داخل ہے لیکن پہلا مفہوم زیادہ واضح ہے کیونکہ سورج کے طلوع و غروب کو سجدہ کی حالت سے تعبیر کیا گیا ہے تاہم معنوں کی وسعت اور مفہوم کی وسعت میں جو لطف ہے اس کے پیش نظر ساری باتیں بھی مراد لی جاسکتی ہیں اور مضمون کی وسعت سب پر محیط ہے۔
الصلوٰۃ وما یتعلق بھا نماز اور اس کے متعلقات کی اہمیت
(1) صما من امراء مسلم تحضرہ صلوٰۃ مکتوبۃ فحسن وضوء ھاو خشو عھار ورکو عھا الاکافۃ کفارۃ لبما قبلھا من الذنوب مالم یوت کبیرۃ و ذلک الدھر کلہ) (مسلم بحوالہ مشکوٰۃ ص 39 , 38 ، عن عثمان بن عفان ؓ ” جو مسلمان بھی نماز فرض کا وقت آنے کے بعد اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے ، خشوع پیدا کرے اور رکوع کرے تو اس کا یہ عمل تمام گزشتہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے جب تک کہ اس نے کسی گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہ کیا ہو اور یہ عمل ساری عمر جاری رہتا ہے۔ “
(2) (ان امتی یدعون یوم القیامۃ غرا محجلین من اٰثار الوضوء) (مسلم ، مشکوٰۃ ص 39) ” میری امت کو قیامت کے روز اس طرح چلایا جائے گا کہ ان کی پیشانیاں اور ان کے پائوں وضو کے اثر کی وجہ سے چمک رہے ہوں گے “۔
(3) (ان العبد المسلم لیصلی الصلٰوۃ یریدبھا وجہ اللہ فتھا فت عنہ ذنوبہ کما تھا فت ھذا الورق عن ھذہ الشجرۃ) (احمد بحوالہ مشکوٰۃ ص 58) ” مسلمان بندہ اللہ کی خوشنودی کے لیے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جیسے درخت سے یہ پتے جھڑ رہے ہیں “
(4) (یا علی ؓ ! ثلاث لاتوخر ھا الصلوٰۃ اذاتت و الجنازۃ اذا حضرت والا یم اذوجدت لھاکفوا) (ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ ص 61) “ اے علی ؓ ! تین چیزوں میں کبھی تاخیر نہ کرو ، نماز میں جب کہ اس کا وقت آجائے جنازہ میں جب کہ وہ موجود ہو بےشوہر عورت کے نکاح میں جب کہ تم کو اس کے میل کا کوئی رشتہ مل جائے “
(5) (من ادر کہ الاذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجۃ وھولا یریدالراجعۃ فھو منافق) (ابن ماجہ ، ترغیب و ترھیب ص 115 ج 1) ” جو شخص اذان کے وقت مسجد میں ہو پھر بغیر کسی ضرورت کے وہاں سے اس طرح چلا جائے کہ واپس آنے کا ارادہ نہ ہو تو وہ منافق ہے “
(6) (اول مایحاسب بہ العبد یوم القیامۃ الصلوٰۃ فان صلحت صلح سائر عملہ وان فسدت فسد سائرہ عملہ) ( طبرانی فی الاوسط ترغیب ص 143 جلد اول ) ” قیامت کے روز بندہ سے سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے اگر وہ درست ہوئی تو اس کے سارے اعمال درست ہوں گے اور اگر وہ خراب ہوئی تو اس کے سارے اعمال فاسد ہوں گے “
(7) (اقرب مایکون العبد من ربہ عزوجل وھو ساجد فاکثردالدعاء) ( مسلم بحوالہ ترغیب ص 145) ” بندہ اپنے پروردگار کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدہ کی حالت میں “
(8) (اذا قضی احد کم الصلوٰۃ فی سجدہ فلیجعل لبیتہ نصیبا من صلاتہ فان اللہ جاعل فی بیتہ من صلٰوۃ خیراً ) (مسلم ترغیب ص 159 ج اول) ” جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں اپنی نماز پوری کرچکے تو اس چاہیے کہ اپنے گھر کو بھی اپنی نماز کا کچھ حصہ دے اس لیے کہ گھر میں نماز پڑھنے سے اللہ تعالیٰ اس میں خیرو برکت فرما دیتا ہے “۔
(9) (صلوا ایھا الناس فی بیوتکم فان افضل صلوٰۃ العمرء فی بیتہ الا اصلٰوۃ المکتوبۃ) (نسائی ، ترغیب ص 159 ج اول ) ” اے لوگو ! اپنے گھروں میں نماز ادا کیا کرو اس لیے کہ فرض نمازوں کو چھوڑ کر انسان کی افضل ترین نماز وہ ہے جو وہ گھر میں پڑھے “
(10) (الذی تفوتہ صلٰوۃ العصر فکانماو تراھلہ و مالہ ) (بخاری و مسلم ، مالک ترغیب 169 ج اول ) ” جس شخص کی نماز عصر چھوٹ گئی تو ایسا ہے جیسے کہ اس کے سارے اہل و عیال اور مال و دولت کو لوٹ لیا گیا “
نماز تہجد کی تفصیل ان شاء اللہ العزیز سورة المزمل میں ہوگی لاریب نماز تہجد فرض نہیں ہے لیکن نفلی نمازوں میں جو اس کا درجہ ہے وہ کسی دوسری نفل نماز کو حاصل نہیں ہے۔
Ayah 50:41ایک منادی کے پکارنے کی صدا پر کان لگائے رکھنے کا حکم جو زیادہ دور نہیں ہے
41 ۔ اے پیغمبر اسلام ! اب جو بات آپ ﷺ کو بتائی جانے والی ہے اس کی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے کہ اس کی طرف کان لگائے رکھو کہ کس وقت اس کا ٹھونکا آکر بجنے لگتا ہے کیونکہ یہ وہ ساتھی ہے جو انسان کے بالکل قریب ہے اور (من مات قد قامت قیامت ہ) جو شخص بھی وفات پا گیا تو گویا اس کی وفات ہی کیا ہوئی اس کی قیامت تو آگئی ؎
خیر کن اے فلاں و غنیمت شمار عمر
کہ بانگ برآید فلاں نہ ماند
قریش مکہ قیامت کے روز کو سختی سے جھٹلاتے تھے اور اسلام نے آکر اتنا ہی سختی سے ان کو باور کرایا کہ قیامت کا آنا ضروری ہے جتنا کہ تمہاری انفرادی موت کا آنا لازم و ضروری ہے جس طرح تم موت کے ساتھ دو چارہ ونے سے نہیں بچ سکتے اسی طرح تم قیامت کے زد میں بھی نہیں بچ سکتے پھر یہ بھی کہ اگر اس روز کو جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں تو ماننے والوں کو اس میں کسی طرح کا شبہ نہیں ہونا چاہیے اس لیے اس کی طرف ہر وقت متوجہ رہنا بہت ضروری اور لازم ہے اور یہ بھی کہ جو لوگ اس کی طرف سے غفلت میں مبتلا ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور تم اس کے ظہور کے انتظار میں رہو اس کی وضاحت پیچھے اسی سورت کی آیت 19 میں گزر چکی ہے۔
Ayah 50:42اس دن سب لوگ ایک سخت چیخ کو سن رہے ہوں گے اور یہی نکلنے کا دن ہوگا
42 ۔ قیامت کے آنے کی ابتدائی صورت کیا ہوگی ؟ فرمایا ایک سخت چیخ سنائی دے گی اور ہر ایک کان کو یہ معلوم ہوگا کہ شاید میرے ہی کان کے ساتھ لگی ہوئی ہے چیخ کیا ہوگی ؟ حقیقت حال تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن یہ وہی ہوگی جس کو دوسری جگہ (نفخ صور) سے تعبیر کیا گیا ہے جس کا ذکر عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة الانعام کی آیت 73 ، جلد پنجم سورة الکحف کی آیت 99 ، سورة طحہٰ کی آیت 102 ، جلد ششم سورة المومنون کی آیت 101 ، جلد ہفتم سورة النحل آیت 87 ، سورة یٰسین آیت 51 ، سورة الزمر آیت 68 میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے اور یہی وہ دن ہے کہ جہاں جہاں کوئی مرکر فنانی الارض ہوا ہے اس زمنا سے وہ نکل کر حاضر ہوجائے گا اور اس لیے ان دن کو یوم الخروج کا نام دیا گیا ہے اور اسی کو دوسری جگہ قبروں سے نکلنا کہا گیا ہے۔
Ayah 50:43ہم سب کو زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور سب کو لوٹ کر ہمارے ہاں آنا ہے
43 ۔ اگر دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور حاضر ہونے سے کسی کو انکار ہے تو پہلے وہ اپنی پیدائش سے انکار کرے یا کم از کم اپنے پہلے پیدا کرنے والے کے متعلق بتائے کہ وہ کون ہے ؟ اگر وہ یہ مانتا ہے کہ پہلی بار زندہ کرنے والا رب ذوالجلال والا کرام ہے تو آخر پہلی بار پیدا کرنے والے کو دوسری بار پیدا کرنے میں کیا مشکل ہے ؟ یہ بات بار بار دہرائی جارہی ہے کہ کسی کا تسلیم کرنا یا تسلیم نہ کرنا تحکم سے نہیں بلکہ دلیل سے ہونا چاہیے اور پھر اگر کوئی دلیل ہے تو اس کو پیش کردیں ہم تو واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ زندہ کرنے والے ہم ہیں اور مارنے والے بھی ہم ہیں اور پھر سب کو لوٹ کر بیر ہمارے پاس حاضر ہونا ہے اور پھر ہمارے پاس ہر ایک کے اعمال کا ریکارڈ بھی موجود ہے اور ان کے اعمال کے گواہ بھی اس لیے ہمارے ہاں جو کچھ ہے وہ دلائل اور ثبوت سے ہے بغیر ثبوت نہیں اگر وہ لوگ یہ مغالطہ اپنے ذہن سے نکال دیں کہ کوئی قیامت کے روز ان کی مدد کو پہنچے گا اور اگر وہ پھنس گئے تو ان کو نکلوالے گا تو یہ اس کی ایسی غلطی ہے جو آج نہیں نکل سکتی تو بہرحال جب وہ دن آئے گا یہ غلطی نکل کر حاضر ہوجائے گی اگرچہ اس وقت ان کی غلطی نکلنے کا ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔
Ayah 50:44زمین پھٹ جائے اور لوگ دوڑ کر نکل پڑیں گے اور اسی طرح اکٹھے کرلیے جائیں گے
44 ۔ یہ گویا نفخ صور کی حمایت ہے کہ جس دن وہ چیخ سنائی دے گی تو پہلی چیخ سے تو زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا اور ہر طرف موت ہی موت ہوگی اور ہر ذی روح موت کی آغوش میں ہوگا خواہ وہ کوئی ہے ، کون ہے اور کیا ہے ؟ پھر زمین کو پھٹنے کا حکم ملے گا اور اس طرح اس کے پھٹتے ہی ہر طرف سے لوگ دوڑ پڑیں گے اور اتنا جلدی دوڑیں گے کہ کسی کو کچھ سمجھ ہی نہ آئے گی کہ وہ کہاں سے نکل آیا اور کیسے نکل آیا گویا وہ انسان نہیں بلکہ ایک ٹڈی دل ہے اور یہ کام کہتے اور دیکھتے یا سنتے تو اتنی دیر نہیں لگ رہی ہے لیکن اس کے ہوتے کچھ دیر لگے گی کہ (کن) ہوتے ہی ( فیکون) ہوجائے گا اور سب حاضر کھڑے ہوں گے یہ حشر ہم پر بالکل آسان ہے کوئی اس مغالطہ میں نہ رہے کہ لوگوں کو اس طرح زمین میں زندہ کرکے کیسے کھڑا کردیا جائے گا جب کہ زمین میں ان کا جزء بھی محفوظ نہیں رہا ہوگا زمین میں ان کا جزء کیوں محفوظ نہیں ہے اگر تم کو ایک چیز نظر نہ آرہی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز ہی محفوظ نہیں ہے تم کو جو زمین میں محفوظ کیا گیا ہے اور اس سے تم کو پیدا کیا جارہا کیا تم کو اس زمین میں پیدا ہو کر آنے والے نظر آرہے ہیں کہ وہ کہاں کہاں اور کیسے کیسے محفوظ ہیں ؟ کیا تم پیدا نہیں ہوئے ؟ اگر ہوئے تو آخر کیسے ذرا سمجھا سکتے ہو ؟ تعجب ہے تم پر کہ تم اچھے بھلے موجود ہو اور اس طرح کی بحثیں کر رہے ہو دوبارہ پیدا ہونے پر تم کو اعتراض ہے اور پہلی پیدائش کے بارے میں تم کو کچھ علم نہیں کہ تم کو اس زمین سے کس طرح زندہ کرکے نکالا گیا تو تم ذرا غور کرتے تو یہی دلیل تمہارے ماننے کے لیے کافی تھی اگر تم ماننا اور تسلیم کرنا چاہتے بہرحال یہ کام تمہارے کرنے کا نہیں جو تم کو بہت زیادہ مشکل دکھائی دے رہا ہے یہ کام جس کو کرنا ہے اس کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں تم کو بہت دفعہ سمجھایا گیا کہ ایک بار زمین کو سڑی پڑی تم دیکھتے ہو اور دور دور تک تم کو کہیں بھی ہریاول نظر نہیں پڑتی پھر ہم اپنے اندازے کے مطابق زمین پر آسمان کو رجوع کرا دیتے ہیں اور پھر کیا ہوتا کہے کہ بوند ٹپکنے کی دیر ہوتی ہے اور زمین کے اندر ہی سے وہ ہریالی نکل کر تمہارے سامنے آکھڑی ہوتی ہے اور چند دنوں کے بعد ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگتا ہے یہ سب کچھ تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو اور پھر انکار بھی کیے جاتے ہو۔
Ayah 50:45ہم ان کی باتوں کو سن رہے ہیں جو وہ کہہ رہے ہیں بس آپ ﷺ ان کو نصیحت کرتے رہیں
45 ۔ جس طرح کی باتیں یہ لوگ کر رہے ہیں ہمارے علم میں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں ہم نے جو مہلت ان کو دے رکھی ہے وہ آہستہ آہستہ کم ہورہی ہے ان کا معاملہ ہمارے ہی سپرد رہنے دیں آپ ﷺ کا اپنا کام تبلیغ کر کرتے جائیں اور صبرو ثبات سے اپنی تعلیم جاری رکھیں اور اچھی طرح یاد رکھیں کہ کسی شخص کو ایمان و ہدایت دینا آپ ﷺ کا کام نہیں جو آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول کرے گا اس کا اپنا فائدہ ہے اور جو قبول نہیں کرے گا اس کا اپنا نقصان ہے آپ ﷺ کو ان پر نگران مقرر نہیں کیا گیا اور کسی کے بارے میں آپ ﷺ سے ہرگز کوئی سوال نہیں کیا جائے گا کہ فلاں ایمان نہیں لایا تو آخر کیوں ؟ نصیحت کرنے والے کا کام صرف نصیحت کرنا ہے اور ایہ ہے کہ جس بات کی وہ نصیحت کرتا ہے آیا وہ خود کاربند ہے یا نہیں اس لیے آپ ﷺ کو اپنی ذمہ داری ہے اور پیغام پہنچانے کی ذمہ داری آپ ﷺ اپنا کام جاری رکھیں اور ان کی مزاحمت کے باوجود جاری رکھیں زیر نظر سورت کا جو موضوع شروع کرتے وقت تھا اسی پر اس کا اختتام کیا جارہا ہے جس نے واضح کردیا ہے کہ رسول کا کام شروع سے لے کر آخر تک اللہ تعالیٰ کی توحید اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا پیغام لوگوں تم تک پہنچانا ہے اور آپ ﷺ نے وہ بحمد اللہ خوب پہنچایا اور اس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے لوگوں کی گواہی بھی اس پر حاصل کرلی جیسا کہ حجۃ الوداع میں ان سے آپ ﷺ نے لی اور اسی تبلیغ و تندیر پر سورة کو ختم کیا جارہا ہے۔
وآخردعونا ان الحمدللہ رب العلمین۔
(عبدالکریم اثری ، 14 فروری 1998 ء )