51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 51:1

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

قسم ہے ان ہواؤں (کے رب) کی جو (بخارات کو) اُڑانے والی ہیں

قسم ہے ان ہوائوں کے رب کی جو بخارات کو اڑانے والی ہیں 1 ۔ قسم کیوں کھائی جاتی ہے ؟ اپنی بات موکد اور پکا کرنے کے لیے تاکہ اس میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے اور سامع کو اگر کوئی شک و شبہ ہے تو بھی نکل جائے اللہ رب ذوالجلال والا کرام پر کسی کو کسی طرح کا کوئی شبہ ہو ، یہ بات تسلیم نہیں کی جاسکتی پھر قسم کھانے کا مقصد ؟ اس کا مقصد صرف انسانوں کی زبان ہے چونکہ قرآن کریم ہم انسانوں ہی کی زبان میں نازل ہوا ہے لہٰذا اس نے پیرا یہ بیان وہی اختیار کیا ہے جو انسانوں کے ہاں متعارف ہے اور یہ بھی کہ ان چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ رب ذوالجلال والا کرام ہے اسی نے ان کو پیدا فرما کر بطور شہادت پیش کیا ہے اور یہ قسم محض شہادت کے طور پر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر جگہ قسم کے ساتھ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہاں اس چیز کا پیدا کرنے والا یعنی اللہ تعالیٰ یا رب کریم وہاں محذوف ہے مثلاً اس جگہ ہوائوں کا ذکر ہے اور وہ ہوائیں بھی خاص قسم کی ہوائیں پھر ظاہر ہے کہ ہوائیں مخلوق ہیں لہٰذا ان کا خالق صرف اور صرف ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ لہٰذا اس جگہ اللہ تعالیٰ محذوف تسلیم کیا گیا ہے اور مفہوم یہ ہے کہ قسم ہے ان ہوائوں کے رب کی جس نے ان ہوائوں کو پیدا کیا اور ان ہوائوں میں یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ گردو غبار کو اڑا کر لاتی ہیں یا یہ کہ وہ خاص ہوائیں جو پانی کو بخارات بنا کر اڑاتی رہتی ہیں اور اس گردوغبار کے ذرات کو اس سے الگ چھانٹتی رہتی ہیں پھر الذرایات کے ساتھ (ذروا) کا اضافہ صرف بحر ملانے کے لیے نہیں ہے بلکہ ذرو اصل ہے الذاریات کی گویا ذرو سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مونث ہے یعنی بکھیرنے والیاں ، پراگندہ کرنے والیاں اور یہ ان ہوائوں کی صفت ہے اور اصل مادہ اس کا ذرا ہے جس کے معنی پیدا کرنے کے ہیں اس نے پیدا کیا اس نے بکھیرا ، اس نے پھیلایا۔ ان ہوائوں کے رب کی قسم جو ہوائیں گردو غبار کو اڑا کرلے جاتی ہی ، پھیلا دیتی ہیں یا پانی کو بخارات میں تبدیل کرکے اڑا لے جاتی ہیں اور پانی کی تطہیر کرکے اس کو صاف ستھرا کردیتی ہیں اور یہ بھی کہ اربوں کھربوں ٹن پانی اڑا کر فضا کے اندر اس طرح پھیلا دیتی ہیں کہ وہ اس فضا کے اندر کہیں نظر تک نہیں آتا یہ کام کوئی معمولی کام نہیں ہے ہم کو محض اس لیے معمولی نظر آتا ہے کہ ہماری آنکھیں روز مرہ زندگی میں اس کو برستا دیکھتی ہیں اور ہم نے کبھی غور ہی نہیں یا کہ وہ کتنا بڑا نظام ہوگا جس کے ذریعہ اتنا زیادہ پانی یہ ہوائیں اڑا کر اوپر فضا میں لے جاتی ہیں اور پھر اس کو اس طرح پھیلا دیتی ہیں کہ کہیں کسی جگہ پر فضا میں نظر تک نہیں آتا اگر اس پر ذرا غور و فکر سے دیکھا جائے تو انسان پکار اٹھتا ہے کہ : سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
Ayah 51:2

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر ان (کے رب) کی جو پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں

قسم ہے ان ہوائوں کے رب کی جو پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں 2 ۔ (الذایات) سے مراد اگر وہ ہوائیں ہیں جو بخارات بناکر پانی کو اڑانے والی ہیں (حملت) سے وہ ہوائیں مراد ہیں جو اس بخارات شدہ پانی کو اکٹھا کرکے جوڑ کر بادل کی شکل میں دکھاتی ہیں (حملت) حاملۃ کی جمع ہے اسم فاعل کا صیغہ جمع مونث اور اس کے معنی ہیں اٹھانے والیاں ( وقرا) اسم مفرد اوقار جمع بوجھ اور خصوصاً پانی کا بوجھ۔ وہ ہوائیں جو پانی کا بوجھ اٹھاکر لاتی ہیں اور اس کو بادل کی صورت میں دکھاتی ہیں۔
Ayah 51:3

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر ان کی جو (بادلوں کو لے کر) سبک رفتاری سے چلتی ہیں

قسم ہے ان ہوائوں کے رب کی جو بھاری بادلوں کو لے کر تیز رفتاری سے چلتی ہیں 3 ۔ (جریت) چلنے والیاں جری سے جس کے معنی پانی کی روانی کی طرح تیز چلنے کے ہیں اسم فاعل کا صیغہ جمع مونث اور (جریت) جاریۃ کی جمع ہے اور جاریہ اس بچی کو بھی کہتے ہیں جو ادھر ادھر بھاگتی پھرتی ہے اور فطرتاً ایک جگہ آرام سے بیٹھ نہیں سکتی اور اسی طرح جاریۃ کشتی کو بھی کہتے ہیں کہ وہ پانی پر چلتی پھرتی ہے (یسرا) آسانی کے ساتھ ایک چیز جب چلتی ہے اور اس کے چلنے ہی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ جو بوجھ اس پر لادا گیا ہے وہ اس کو آسانی سے اٹھا کرلے جارہی ہے یا نہایت مشکل سے اٹھا کر چل رہی ہے خواہ وہ جانور ہے یا کوئی کل اور مشین سے چلنے والی گاڑی۔ (جاریت یسرا) کے لفظ نے جو مفہوم ادا کیا ہے اس کو ہم روزمرہ اپنی زندگی میں مشاہدہ کر رہے ہیں کہ کروڑوں ٹن پانی سے لدے ہوئے بادل اتنی تیزی سے ان کو ہانک کرلے جارہی ہوتی ہے کہ نظریں اس کو دیکھتی ہی دیکھتی رہ جاتی ہیں انسان نے ایک ہوائی جہاز اڑایا جس میں کتنے ذہن کھپے اور کہاں کہاں سے میٹریل لاکر لگایا گیا اور کروڑوں روپے اس پر خرچ کئے گئے اور وہ تین چار سو آدمیوں کو لے کر اڑا تو عقل اڑانے والے پر اس جہاز کو بنانے والے پر ، اتنا بوجھ لے کر اس کے اترنے پر حیران رہ جاتی ہے لیکن ذرا غور کرو کہ جس ہوا کے ایک ہی دھکے نے کروڑوں ٹن پانی کو اپنے کندھوں پر اس طرح دوڑایا کہ تیرا ہوائی جہاز بھی اتنا تیز نہ دوڑ سکا اور پھر اس کے اندر نہ تو کوئی کل اور پرزہ ہے اور نہ کوئی مشین فٹ ہے نہ کوئی پائلٹ تجھے نظر آرہا ہے اور اس تیز سے اس کو گھمایا اور پھرایا جارہا ہے کہ اتنا تیزی سے چلتا ہوا بادل ایسے معلوم ہوتا ہے کہ روئی کا گا لا اڑتا چلا جارہا ہے اور بھاری پن کی کوئی صورت وہاں نظر نہیں آرہی پھر تیرے دیکھتے ہی دیکھتے کبھی اس کو بالکل سفید روئی کی طرح کردیا گیا اور کبھی سیاہ رنگ میں تبدیل کرکے رکھ دیا گیا ہے اور ہوائیں ہیں کہ اس طرح ان کو ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر لے پھر رہی ہیں کہ گویا اس کا کوئی وزن ہی نہیں ہے۔
Ayah 51:4

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر وہ جو (اس) اَمر الٰہی (بارش) کو تقسیم کرتی ہیں

قسم ہے ان ہوائوں کے رب کی جو امرالٰہی (بارش) کو تقسیم کرتی ہیں 4 ۔ (المقسمات) اسم فاعل جمع مونث المقسم واحد تقسیم کرنے والی ہوائیں جو اللہ رب ذوالجلال والا کرام کے حکم سے پانی کو تقسیم کرتی ہیں کہ کس علاقہ کو کتنا پانی درکار ہے یا کس علاقہ کے لیے کتنا پانی گرانے اور بہانے کا حکم ہے اس سے کم و بیش اس علاقہ میں پانی نہیں گرایا جاتا بارش کے ذریعہ سے اتنا پانی برسایا جاتا ہے جتنا کہ حکم الٰہی میں کسی علاقہ کا حصہ ہے اور یہ سب احکام اللہ رب کریم کی طرف سے تقسیم کیے جاتے ہیں اور اسی کے حکم سے یہ ہوائیں یہ سارے کام چلارہی ہیں اور اس پابندی کے ساتھ چلا رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور مرضی کے خلاف کسی جگہ ایک قطرہ بھی نہیں برسایا جاتا حکم الٰہی کی اتنی پابندی ہے کہ بادلوں کو دیکھ کر انسان معلوم کرتا ہے کہ بس بارش آئی اور اتنی برسے گی کہ ندی نالے بھر جائیں گے لیکن جب بادل چھٹتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ کتنے علاقے ہیں جہاں یہ بادل نہایت گہرے سیاہ رنگ کے چھائے ہوئے ہیں لیکن بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں ٹپکا کہ سب بادل غائب ہوگئے ہیں اور اس کے برعکس ایسا نظر آتا ہے کہ آسمان بالکل صاف ہے ، سورج چمک دمک رہا ہے اور اچانک ایک چھوٹا سا بادل نظر آیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے جل تھل کردیا ادھر زمین کی حالت یہ ہوگئی کہ وہ پانی کو کنٹرول بھی نہ کرسکی اور ادھر آسمان ہے کہ تھتما ہوا نظر نہیں آتا یہ سب کچھ اسی قادر مطلق کی مہربانیاں ہیں کہ اس نے کسی علاقہ کے حصہ میں کیا رکھا ہے اور کی کے لیے کیا ؟ اس حقیقت کو انسان نہیں سمجھتا یہ چار قسم کی شہادتیں پیش کی گئی ہیں اور پھر ان کے اندر جو مضمون پنہاں کردیا گیا ہے اگر سائنس اس کو کھولنا شروع کردے تو یہ کبھی ختم ہونے ہی میں نہ آئے ان چار قسم کے اشاروں یا استعاروں میں اتنا مضمون مخفی ہے کہ اس وقت تک جتنی ہوائوں اور گیسوں کی سائنس وضاحت کرچکی ہے ابھی تک ان چاروں کی وضاحت مکمل نہیں ہوئی ان چاروں کے جو کام گنوائے جاچکے ہیں وہ ایک ہی طرح کے چار مختلف کام ہیں اور ابھی تک ان چاروں کی الگ الگ وضاحت نہیں کی جاسکتی مسلمان سائنس دانوں کا فرض تھا کہ وہ ان اشاروں اور استعاروں پر غور کرتے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی الگ الگ تقسیم کی ہے ان کاموں کی تقسیم کے لحاظ سے ایک ایک پر مکمل بحث کرکے دیکھتے تو ان کو کتنے انکشافات ہوسکتے تھے جو ابھی تک بھی واضح نہیں ہوئے اور قرآن کریم نے جو ان کو الگ الگ بیان کیا ہے تو یہ محض بیکار نہیں کیا بلکہ ان کے اندر بہت بڑے بڑے راز مخفی ہیں ان ہوائوں کے الگ الگ گروپ ہیں جو فضا کے اندر اس طرح اپنا اپنا کام انجام دے رہے ہیں کہ اپنا کام بھی سرانجام دیتے ہیں اور ایک دوسرے گروپ پر اثر انداز نہیں ہوتے فضا کے اندر یقیناً ان کی حدود مقرر ہیں اور ان حدود سے وہ متجاوز نہیں ہوتے ہوا نام کے لحاظ سے بلاشبہ ایک ہے لیکن اپنے اپنے کام کے لحاظ سے ان کے الگ الگ کام ہیں مفسرین کیا کرسکتے تھے انہوں نے صرف ان ہوائوں کی قسموں پر اکتفا کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بتایا تو وہ یہی ہے کہ ایک بات کو پختہ کرنے کے لیے جو اگے آرہی ہے اللہ رب کریم نے قسم کھا کر بات کی ہے تاکہ سب انسانوں کو یقین آئے کہ ہاں ! ایسا ہوگا اور یہ کہ ہوائوں کی قسم کھائی ہے یا ان ہوائوں کے رب کریم کی۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے جس کو ہم اللہ کے الفاظ یا اللہ کی باتیں کہہ سکتے ہیں اور دوسری طرف اس کائنات کے اندر اللہ کے افعال بھی ہیں جو اس کلام الٰہی کا کام کہلاتے ہیں گویا اس اس کی تھیوری ہے اور دوسرا اس کا پریکٹیکل اور تھیوری اور پریکٹیکل کبھی آپس میں الگ الگ نہیں ہوسکتے کہ تھیوری کچھ کہے اور کرنے والا کچھ کررہا ہو ایسا ہونا ممکن نہیں اللہ کا کلام اور اللہ کا کام کبھی آپس میں اختلاف نہیں کرسکتا ایک مسلم سائنس دان کے لیے یہ حقیقت اور یہ اصول یاد ہوتا اور اب وہ اس کے مشاہدوں کی طرف بڑھتا اور اس اصول کی روشنی میں وہ آگے بڑھنے کی کوشش کرتا تو وہ بہت کچھ سیکھ سکتا تھا جو ابھی تک بدستور تشنہ ہے موسمیات والوں کا کام بہت وسیع تھا لیکن افسوس کہ ہمارے پاس انگریزوں کی اختراعی تھیوری موجود ہے اور ہم اسی کے تحت آگے قدم رکھتے ہیں جو بھی رکھتے ہیں اور ہمارے مذہبی پیشوائوں نے اس قرآن کریم کو مردوں کو ثواب پہنچانے کے لیے مختص کردیا اور زندہ کے ہاتھ سے اس کو اس طرح چھین لیا ہے کہ شاید یہ چیز زندوں کی رہنمائی کے لیے اتاری ہی نہیں گئی بلکہ یہ بڑے بڑے سیٹھوں ، بلیکیوں ، ذخرہ اندوزی کرنے والوں ، سودی کا کاروبار کرنے والوں ، سود لینے والوں اور دینے والوں ، غریبوں کا خون چوس چوس کر پینے والوں ، ظلم اور زیادتیاں کرنے والوں ، ڈاکوئوں ، چوروں ، زانیوں ، شرابیوں کو بخشوانے کا ایک نسخہ ان کے ہاتھ اللہ میاں نے دے دیا ہے تاکہ ان کے مرنے کے بعد اس نسخہ سے ان کے باقی ماندہ لوگوں سے رحمتیں وصول کرکے ان کے ان سارے مرے ہوئوں کو جو یہی کرتے کرتے مرگئے بخشوا دیں اور یہ دھندا تو باقاعدہ چل رہا ہے لکنی کوئی نہیں کہتا ، کوئی نہیں جانتا ، کوئی نہیں سنتا کہ یہ کتاب تو اللہ کا کلام ہے اور یہ ساری کائنات اللہ کا فعل اور پھر اس للہ کے فعل کا مشاہدہ کرنا ہے تو اس تھیوری کی مدد سے کرنا چاہیے تھا جو اللہ رب ذوالجلال والا کرام نے محمد رسول اللہ ﷺ کے سینہ اقدس پر نازل کی تھی اور اس میں دنیا کی ساری ترقیوں اور دین کی ساری گھتیوں کا حل مخفی ہے اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کائنات کے اندر موجود ہے اور قرآن کریم نے اس کے لیے کوئی استعارہ یا اشارہ استعمال نہیں کیا کاش کہ سائنس کا طالب علم قرآن کریم کا طالب علم بھی ہوتا اور قرآن کریم کا طالب علم سائنس کا طالب علم بھی ہوتا اور سائنس دان ان خطوط کے تحت ان اصولوں کے تحت جو اللہ نے خود بتائے تھے اس دنیا میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا تو دنیا کا کوئی سائنس دان خواہ روس کا ہوتا یا جرمن کا وہ سائنس دان امریکہ کا ہوتا یا فرانس کا ، وہ سائنس دان انگلستان کا ہوتا یا دنیا کے کسی اور ملک کا مسلم سائنس دان سے کبھی آگے نہ نکل سکتا کیونکہ ایک مسلم سائنس دان کے پاس وہ سنہری اصول موجود تھے جو اس کائنات کے بنانے والے کے بنائے ہوئے تھے وہ اختراعی اور من گھڑت نہیں تھے اور وہ اصول آج بھی قرآن کریم کے اندر موجود ہیں اور بحمد اللہ من و عن موجود ہیں للہ موجود ہیں ، خدا کی قسم موجود ہیں آپ نے یہ سن رکھا ہے کہ قرآن کریم کوئی سائنس کی کتاب نہیں بلکہ تذکیرو نصیحت کی کتاب ہے لاریب یہ کتاب تذکیرو نصیحت کی کتاب ہے لیکن سائنس کو آپ لوگوں نے تذکیرو و نصیحت سے کیسے باہر نکال دیا کیا (ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار) قرآن کریم کی آیت نہیں ہے ؟ اگر ہے اور یقیناً ہے تو (اتنا فی الدنیا) صرف پڑھنے کیلئے اور وظیفہ کیلئے ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ حاشا کلا (فی الدنیا حسنۃ) سائنس ہے جس کا مشاہدات سے تعلق ہے اور سائنس نے آج تک جو کچھ دریافت کیا ہے وہ اس دنیا ہی کے متعلق ہے اور لاریب اس سے دنیا سنورتی ہے اگر اس سے ان لوگوں نے اپنی آخرت برباد کرلی ہے تو اس میں ان کا یہ قصور ہے کہ انہوں نے اس کو محض دنیا کے مشاہدہ تک محدود رکھا اور قرآن کریم کی تھیوری کے مطابق کوشش نہ کی اگر ان کی کوشش اس الٰہی تھیوری کے مطابق ہو تو یقیناً ان کی آخرت بھی سنور جاتی اور وہ آخرت پر یقیناً ایمان لاتے ان چار قسم کی ہوائوں کا ہوائیں کہیں یا ان کو فرشتے قرار دیں ؟ نام کے لحاظ سے نام الگ ہوجائے گا لیکن حقتق کے لحاظ سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑے گا قرآن کریم کی متعین کردہ ایک دریافت کی مراد ہے اور ظاہر ہے کہ جو شخص جس راہ سے تلاش کرے گا اس کو وہی راہ سمجھ میں آئے گی لیکن قرآن کریم کی راہ حقیقی اور اصل راہ ہے اللہ مسلمانوں کو اس راہ پر ڈال دے اور وہ اپنی دناق اور آخرت دونوں کو اس کی رہنمائی میں درست کرنے کی کوشش کریں اور اپنی زندگیوں کو قرآن کریم کے استعارات کے مطابق مشاہدات میں ڈھالنے کی کوشش کریں اور دنیا پر ثابت کردیں کہ ع مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا بلاشبہ جو وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ سچا ہے جس کو ساری دنیا مل کر بھی جھوٹا نہیں کرسکتی 5 ۔ (توعدون) وعد سے مضارع مجہول کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم سے جو وعدہ کیا جاتا ہے لاریب وہ سچا ہے۔ ویسے تو اس وعدہ میں ہر وہ چیز آگئی جس کا انبیاء کرام (علیہ السلام) سے وعدہ کیا جاتا رہا لیکن اس جگہ خاص طور پر جس کا وعدہ کیا گیا ہے وہ قیامت کا روز ہے جس سے مکہ کے لوگ الرجک تھے اور اس پر یقین لانے کے لیے تیار نہ تھے جو وعدہ کیا گیا وہ کیا تھا ؟ یہی کہ تم کو دبارہ زندہ کیا جائے گا اور اس دنیوی زندگی کے بارے میں تم سے بار پرس ہوگی اور تم کو تمہارے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دی جائے گی ہم تم کو بار بارقسم کسے موکد کرکے کہہ رہے ہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا گیا ہے وہ بالکل سچا ہے گر تم نے آخرت سے بےنیاز ہو کر اعمال کیے تو اخرت میں پکڑ لیے جائو گے اور جب ہم تم کو پکڑ لیں گے تو نہ تمہارا کوئی سفارشی سفارش ہی کرسکے گا اور نہ ہی تم کو چھوڑا جائے گا اور یہ دنیا کے سارے تعلق و اسباب ٹوٹ جائیں گے نہ ہی کوئی شخ تمہارے کام آئے گا۔
Ayah 51:5

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

بلاشبہ جو وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے وہ سچا ہے

بلاشبہ سزا و جزا کا دن ضرور آنے والا ہے اور بدلہ مل کر رہے گا 6 ۔ یہ بات ہم پیچھے بہت سے مقامات پر واضح کرچکے ہیں کہ اس دنیا میں انسان کے اعمال کا حساب بےباک نہیں کیا جاسکتا یہی وجہ ہے کہ انسان کے مرنے کے ساتھ بھی فوراً اس کا حساب کتاب مکمل نہیں کردیا جاتا ہاں ! اس کی اصل سکونت کا پر تو چاہے اس کو نظر آجائے اور روح پر جو عوارضات گزرتے ہیں وہ بھی محض ایک ترغیب و ترہیب کا انداز اپنے اندر رکھتے ہیں اس کو مکمل بدلہ نہیں کہا جاسکتا لہٰذا ضروری تھا کہ اس کے لیے کوئی ایک دن مقرر کیا جائے اور وہ دن وہی ہو جس دن اس پورے نظام کو ختم کرکے کوئی نیا نظام قائم کیا جائے کیونکہ جب یہ دنیا کا نظام قائم ہے پہلے آنے والوں کے اعمال جو انہوں نے اپنی زندگی میں کیے تھے اور ان کے مرنے کے بعد وہ زندہ رہے لہٰذا ان کا حصہ ان کے اعمال کے باعث ان کو اسی وقت تک ملتا رہنا عین عدل و انصاف کا تقاضا ہے اور ان کے بعد آنے والے جب ان اعمال سے نفع و نقصان حاصل کریں گے تو ان میں سے ان کا حصہ بھی یقینًا نکلے گا جو ان کے کھاتہ میں جمع ہورہا ہے اور برابر ہوتا رہے گا جب یہ نظام ختم ہوگیا اور سب لوگوں کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا تو ان کا کھاتہ بھی بند ہوگا اور اس کے بعد فوراً حساب شروع ہوجائے گا تب جاکر حساب مکمل ہوسکے گا یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس عقیدہ کے تسلیم کرانے پر بہت زور دیا ہے اور انسان کو بتایا کہے کہ وہ پاکیزہ انسانی معاشرہ قائم ہونا ممکن ہی نہیں جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے جب تک عقیدہ آخرت کے تسلیم کرنے کے بعد اعمال نہ کیے جائیں جن اعمال کے اندر یہ نظریہ موجود ہو قانون کتنا ہی سخت اور مکمل کیوں نہ ہو انسانی زندگی کے اس محدود حصہ پر ہی نافذ کیا جاسکتا ہے جب تک وحیات ہے مرنے کے بعد کوئی قانون اس پر مواخذہ نہیں کرسکتا اس لیے اس دنیاوی قانون میں خواہ وہ قانون اسلام ہی کا کیوں نہ ہو اس کو مکمل سزا و جزا نہیں دی جاسکتی آپ کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں ہی کا یوم آخرت پر ایمان ہے اور یہی معاشرتی کمزوریوں میں سب سے زیادہ کمزور نظر آرہے ہیں اگر یہ بات صحیح ہوتی تو اس کا نتیجہ بالکل اس کے برعکس ہوتا ؟ ایک تو یہ بات صحیح نہیں ہے کہ انسانی معاشروں میں مسلمانوں کے بارے میں جو وضاحت کی گئی کہ صرف یہ آخرت کے عقیدہ کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں ان کا مانناً یقیناً وہ دل کا ماننا نہیں ہے صرف کاغذوں کی حد تک ماننا اور تسلیم کرنا ہے اور یہ کمزوریاں محض اسی لیے ہیں کہ وہ دل کا ماننا اور تسلیم کرنا ان میں بہت کم پایا جاتا ہے۔
Ayahs 51:6–7

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور بلاشبہ سزا و جزا کا دن ضرور آنے والا ہے

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

قسم ہے آسمان (کے رب) کی جس پر راہیں (بنی ہوئی) ہیں

قسم ہے رب آسمان کی جس میں راستے بنے ہوئے ہیں اور انہی راستوں پر سیارے چلتے ہیں 6 ۔ 7 ۔ (حبک) کا ایک ہی لفظ بول کر آسمانوں کے اندر جو کچھ موجود ہے اور جس طرح موجود ہے سب کی وضاحت کردی اور جب تک یہ نظام دنیا قائم ہے اس ا کی ہی لفظ کی ترجمانی ہوتی رہے گی اور جو کچھ معلومات ہوئی ہیں اور جو ابھی ہوں گی ان سب پر یہ استعارہ کام دیتا رہے گا اس استعارہ نے یہ بات واضح کردی کہ آسمان کے اندر جو کچھ ہے وہ سب کا سب ایک پورے نظم کے اندر ہے اور وہاں کسی طرح کی کوئی بد نظمی نہیں ہے اور جس نظام کے ساتھ ان کو چلایا گیا ہے وہ اتنا پختہ ہے کہ کروڑوں سال گزرنے کے باوجود اس میں وہ نظم و ضبط باقاعدہ قائم ہے اور یہی بات اس کی دلیل ہے کہ اس کائنات کا بنانے والا اور چلانے والا ایک اور صرف ایک ہے اگر ایک کے ساتھ کوئی بھی دوسرا ہوتا تو یہ نظام کبھی کا تباہ و برباد ہوگیا ہوتا پھر یہ بھی کہ اس نظام کو چلتے دیکھا جساتا ہے اس نظام تک پہنچا جاسکتا ہے وہاں کی مخلوقات سے آمدورفت کی دقت بھی ممکن ہوسکتی ہے لیکن اس نظام میں مداخلت نہیں کی جاسکتی اور یہی حال اس دنیا کے نظام کا ہے زمین کے اندر کتنے تغیر و تبدل ہوتے رہتے ہیں ہوائیں چلتی ہیں ، آندھیاں آتی ہیں ، طوفان اٹھتے ہیں ، بارشیں ہوتی ہیں ، قحط سالیاں نمودار ہوتی ہیں ، وبائیں پھیلتی ہیں اور آتش فشاں پھٹتے ہیں زلزلے آتے ہیں اور موسموں میں تغیر و تبدل ہوتا ہے کیا انسان نے ان سب کی روک تھام کرلی ہے یا کرسکتا ہے اب تک جو کچھ معلومات سامنے آئی ہیں وہ زیادہ سے زیادہ یہی ہیں کہ قریب قریب فضا کے اندر جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ان سے اندازہ لگاکر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ بارش ہونے کا امکان ہے اور جن علاقوں کا نام لیا جاتا ہے ان کی وسعت سینکڑوں اور ہزاروں مربع میل ہوتی ہے بہرحال کسی چیز کا کرنا اور کسی چیز کا معلوم کرنا کہ ایسا ہونے کا امکان ہے اس کے فرق کے متعلق کون نہیں جانتا کہ کتنا بڑا فرق ہے قرآن کریم نے آسمان کے اندر راستے ذکر کیے ہیں اور انسان کی معلومات کے لیے ایک دروازہ کھول دیا ہے (حبک) یا تو حبیکۃ کی جمع ہے جیسے (طریقۃ) کی جمع طرق ہے اور یا پھر (حباک) کی جمع جیسے مثال سے مثل حبیکۃ اور حباک دونوں کے معنی ستاروں کی راہ کے ہیں۔ حبک کے معنوں میں بہت وسعت ہے۔ کپڑے میں خوبصورت ساخت کے آثار نمایاں ہوں تو حبک الثوب۔ ریت پر دھاریاں پڑی ہیں جو ہوا کی نسبت سے پڑجاتی ہیں اس کو حبک الرمل ٗ پانی پر جو ہوا کے ساتھ لہریں پڑتی نظر آتی ہیں ان کو حبک المایٔ اور گھونگریالے بالوں کو حبک الشعر کا نام دیا جاتا ہے اور اس جگہ مفسرین نے سیاروں کے راستے ہی مراد لیے ہیں اور یہی صحیح اور درست ہے۔
Ayah 51:8

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

بلاشبہ تم مختلف (بےجوڑ) باتوں میں پڑے ہوئے ہو

بلا شبہ تم لوگ مختلف باتوں میں پڑے ہوئے ہو جن کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں ہے 8 ۔ مخاطب اول کفار مکہ میں اور اس کے بعد سارے وہ لوگ جو قیامت کا انکار کرتے ہیں اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کے ماننے والے نہیں یا اس کو محض ماننے کی حد تک محدود ہیں اس کا لحاظ اعمال میں نہیں کرتے فرمایا تم لوگ ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق مختلف رائیوں کا اظاہر کرتے ہو کبھی کہتے ہو کہ وہ شاعر ہے پھر خود ہی کہہ دیتے ہو کہ شاعر تو کوئی کاہن ہے اور کبھی کہتے ہو جادوگر ہے اور پھر کہتے ہو کہ نہیں یہ تو شحر زدہ ہے اور کبھی پاگل اور مفتری قرار دیتے ہو اس طرح تم قیامت کے متعلق بھی مختلف رائیں رکھتے ہو اس طرح تمہاری باتوں کا گویا نہ سر ہے نہ پیر اور جو تمہارے منہ میں آتا ہے کہہ دیتے ہو اور بےلگام گھوڑے کی طرح بدھر چاہتے ہو چل نکلتے ہو اور بےمہار اونٹ کی طرح تمہارا کوئی راستہ مقرر نہیں کہ تم کو کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا۔
Ayah 51:9

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس سے وہی باز رہتا ہے جس کو (دین حق سے) پھیر دیا گیا

اس سے وہی پھیرا جاتا ہے جس کو پھیر دیا گیا ہو یعنی دین حق سے 9 ۔ (یوفک) واحد مذکر غائب مضارع مجہول افک سے پھیرا جاتا ہے۔ بھٹکایا جاتا ہے۔ افک وہ پھیرا گیا۔ ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس کے معنی کسی شے کے اپنے اصلی رخ سے پھیرنے کے ہیں اور یہ سب استعارات ہیں۔ اشارات ہیں جن کے اندر بہت بڑا مضمون مخفی رکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اللہ کے رسول ﷺ سے اللہ کی کتاب قرآن کریم سے قیامت کے روز یوم آخرت سے پھیر دیا جاتا ہے اور پھر جس کو پھیر دیا جاتا ہے اس کی رہنمائی کے لیے اللہ کے رسول آئیں ، اس کے سامنے سینکڑوں نہیں ہزاروں دلائل رکھیں لیکن سب ایسا ہی ہے جیسے بھینس سامنے بین بجانا ایسے لوگوں پر کوئی نصیحت اور کوئی دلیل اثر نہیں کرتی اور وہ کبھی اپنی اس بےمہاری سے واپس نہیں آتے اور پھر ان کے منہ میں جو آتا ہے کہہ دیتے ہیں۔ متضاد باتیں کرتے ہیں۔ ہنسی اور مذاق میں سب کچھ اڑا دیتے ہیں اور اس حالت کے لوگ اس وقت بھی موجود تھے اور آج بھی ان لوگوں کی کوئی کمی موجود نہیں ہے بلکہ اکثریت انہی لوگوں کی ہے اور پھر عوام تو عوام خواص کا بھی اس وقت یہی حال رہا ہے اور اندھی دوڑ میں سب کے سب شریک ہیں اور منزل مقصود کسی کو بھی یاد نہیں جو کچھ ہے محض زبانی دعویٰ ہے اور حالت یہ ہے کہ چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ۔
Ayah 51:10

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

غارت ہوئے اٹکل سے باتیں بنانے والے

غارت ہوئے اٹکل سے باتیں بنانے والے جو ہمیشہ شک میں مبتلا ہیں 10 ۔ (الخراصون) اٹکل دوڑانے والے جھوٹ بکنے والے (خرص) مبالغہ کا صیغہ (قتل) بددعا کا ایک کلمہ ہے جیسے ہماری زبان میں بدذات ، نامراد اور بدبخت کے الفاظ بولے جاتے ہیں اور اسی کو لعنت اور پھٹکار کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں درختوں پر پھل جو لگتے ہیں ان پھلوں کو دیکھ کر اور اس طرح پھل دار بیلوں کو دیکھ کر پھلوں کا اندازہ کرنے والے کو بھی ” خراص “ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اندازہ کرتا ہے اور اندازہ سے ان کے پھلوں اور پھر پھلوں کی رقم اور قیمت لگا کر بتا دیتا ہے جن لوگوں کا پیچھے سے ذکر چلتا آرہا ہے یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں دین اسلام کے متعلق ، نبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق ، اللہ کی کتاب کے متعلق ، روز آخرت کے متعلق اور اسلام کی تعلامیت کے متعلق یہ سب باتیں محض اٹکل پچو سے کہتے ہیں کوئی مدلل بات نہیں کرتے اور ظاہر ہے کہ جب کوئی دلیل موجودڈ نہ ہو تو جو کچھ کہا جائے گا وہ کیا ہوگا ؟ اس کو اٹکل پچو اور اندازہ ہی سے تعبیر کی اجائے گا یا دفع الوقتی کرنا ہے خواہ وہ کسی طرح ہوجائے کوئی سیدھی اور صاف دلیل سے بات نہیں کریں گے ان کے لیے قرآن کریم کا بددعائیہ فقرہ ہے کہ ” اٹکل پچو سے باتیں کرنے والے مارے گئے “
Ayah 51:11

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

جو غفلت (یا جہالت) میں (حق کو) بھولے ہوئے ہیں

جو غفلت اور جہالت کے باعث بھولے ہوئے ہیں یا ضد میں آئے ہوئے ہیں 11 ۔ (غمرۃ) کی اصل غ م ر ہے اور (غمرۃ) اس کثیر پانی کو کہتے ہیں جس کی گہرائی کے باعث تہ نظر نہ آئے اور بطور تشبیہ جہالت اور اندھی عقیدت پر اس لفظ کو بالا جاتا ہے اور انسان پر چھا جانے والی غفلت پر بھی اس کا اطلاق کرتے ہیں اور (غمر) کے اصل معنی ہیں کسی چیز کے اثر کو زائل کرنا ، لیکن تیز رو گھوڑے اور فیاض آدمی پر بھی اس کو بولا جاتا ہے زیر نظر آیت میں چھا جانے والی جہالت ہی مرا لی جاسکتی ہے اور (غمراب الموت) موت کی سختیوں کو کہا جاتا ہے جو انسان کے سارے بدن پر چھا جاتی ہیں رنگ بدل جاتا ہے اور اعضاء کی حرکت عجیب سی ہوجاتی ہے اور آنکھیں جھپکنا تقریباً بند ہوجاتی ہیں اور اس جگہ مراد ہے کہ وہ انگلی کرنے والے وہی لوگ ہیں جو غفلت میں مدہوش پڑے ہیں اور اس مدہوشی سے نکالنے کیلئے جو تدبیریں اختیار کی جاتی ہیں ان تدبیروں کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ان پر جہالت کی ایسی غفلت چھائی ہے کہ وہ احکام خداوندی کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور ذرا ٹس سے مس نہیں ہوتے ( شاھون) سھرٌ سے ہے جس کے معنی غافل ہونے کے ہیں اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ، غفلت سے جو خطا ہوتی ہے اس کو سمو کہتے ہیں اس کی دو قسمیں ہیں ایک یہ کہ انسان سے ایسی چیزیں سرزد نہ ہوں جو اس خطا کو کھینچتی ہیں اور پیدا کرتی ہیں جیسے دیوانہ کسی انسان کو اگر گالی دے ، دوسرے یہ کہ اس سے ایسی چیزیں بھی ہوئیں جو اس خطا کو پیدا کرتی ہیں جیسے وہ شخص جس نے شراب وغیرہ پی اور پھر اس سے کوئی برائی بغیر ارادہ کے ہوگئی ، پہلی خطا اختیاری نہیں لہٰذا اس پر مواخذہ نہیں لیکن دوسری خطا اختیاری ہے اور اس پر مواخذہ بھی ہے (ساھون) کا لفظ ان نمازیوں پر بھی بولا گیا ہے جو اپنی نمازوں سے بالکل بیخبر ہیں کچھ معلوم نہیں کہ اس میں کیا پڑھا ہے ، کیوں پڑھا ہے اور اس کا نتیجہ کیا ہے ؟ جو نتیجہ نکلنا چاہئے وہ کیوں نہیں نکل رہا ؟
Ayah 51:12

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

وہ پوچھتے ہیں کہ سزا و جزا کا دن کب ہوگا ؟

وہ پوچھتے ہیں کہ سزا و جزا کا دن کب ہوگا ؟ ان کا یہ پوچھنا بطور مذاق ہے : 12 وہ روز قیامت کے بارے میں استفسار کرتے ہیں لیکن ان کا یہ استفار بطور معلومات نہیں ہے بلکہ از راہ مذاق ہے اور وہ جزا و سزا کو تسلیم کرنے والوں کا مذاق اڑانا چاہتے ہیں اور ان کا منہ بند کرنا چاہتے ہیں کہ صاحب جس دن سے آپ ہم کو ڈرا رہے ہیں وہ کب آئے گا ؟ وہ آخر آکیوں نہیں جاتا یہ ڈراوے تو ہم ایک مدت مدیر سے سنتے چلے آ رہے ہیں۔ نہ اس دن کو آنا تھا نہ وہ آیا لیکن تم دقیانوسی خیال کے لوگ اپنی پرانی رٹ لگاتے چلے جا رہے ہیں اس طرح دراصل وہ مذاق ہی مذاق کرتے چلے جا رہے ہیں اور یہ ان کے جھٹلانے کا ایک انداز ہے اسی لئے قرآن کریم نے ان کو (الخراصون) کے لفظ سے موسوم کیا ہے اور طرح طرح کی باتیں بنانے والے قرار دیا ہے غفلت میں ڈوبے ہوئے اور بےمہار اونٹ کہا ہے اور ان کے سوال کرنے کا انداز بتایا ہے اور جو کچھ ان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے وہ سب کچھ ان چند فقرات میں کہہ رہا ہے۔
Ayah 51:13

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے (وہ وہی دن ہوگا)

وہ دن وہی ہے جس دن ان کو آگ میں جلا دیا جائے گا۔ 13 (یفعون) جمع مذکر غائب مضارع مجمہول ، وہ مصیبت میں مبتلا کئے جاتے ہیں ان کو عذاب دیا جائے گا۔ فرمایا جس دن کے بارے میں وہ از راہ مذاق اور از راہ استہزاء سوال کر رہے ہیں اور پھر اس طرح سوال کرنا ان کا محض دل لگی ہے لئے ہے اس لئے ان کو اس طرح کا جواب بھی سنا دو کہ وہ دن وہی دن ہوگا جب ان کو آگ پر لاکھڑا کردیا جائے گا اور اب ان کا امتحان لیا جائے گا کہ بتائو یہ دن کونسا دن ہے اور اس جگہ تم کو لاکر کیوں کھڑا کیا گیا ہے ؟ ذرا سوچ کر جواب دو کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس دن سے تم انکار کرتے تھے وہ دن یہی دن ہو اور ظاہر ہے کہ اس وقت ان کو یہ باتیں کھا جائیں گی اور اس طرح کے کلمات کو سن کر برداشت کرنے پر وہ مجبور محض ہوں گے اور اس طرح گویا مذاق اڑانے والوں کا اپنا مذاق اڑ جائے گا اور آنے والی آیت اس کی مزید وضاحت کر رہی ہے
Ayah 51:14

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

اپنی شرارتوں کا مزہ چکھو یہی ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے (یقین آیا ہے یا نہیں ؟ )

اپنی شرارتوں کا مزہ چکھ لو اور یہی ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے : 14 فرمایا جائے گا کہ یہی تمہارے ان سارے مذاقوں اور استہزائوں کا نتیجہ ہے جو تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں تم جلدی مچا رہے تھے اور بار بار ڈینگیں مارتے تھے کہ وہ دن جس کا تم ہم سے بار بار وعدہ کرتے ہو وہ دن آکیوں نہیں جاتا اس وقت تم جس کے متعلق سوال کرتے ہوئے آ… آکیوں نہیں جاتا بڑا لمبا کرکے نہایت گھمنڈ کے ساتھ پوچھا کرتے تھے یہی وہ دن ہے اب دیکھ لو کہ وہ دیر سے آیا ہے یا سویر سے اور پھر آیا ہے یا ابھی نہیں آیا ؟ اور اگر آیا ہے تو کیسا آیا ہے ؟ پھر یہ کہ چاہتے ہو تو مان لو ورنہ اب بھی انکار کر دو تم چاہو جو کرو آزاد ہو لیکن ایک بات پھر سن لو کہ اب اس آزمائش میں تم کو ہمیشہ کیلئے مبتلا رہنا ہے کیونکہ یہ دارالعمل نہیں بلکہ دارالجزا ہے تمہارے عمل کا بدلہ ہے اور یہ تمہاری اختیاری چیز نہیں کہ تم چاہو تو اس کو وصول کرو اور چاہو تو رد کر دو اب اس کا مزہ تم کو یقیناً چھکنا ہے جس سے بھاگ کر جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
Ayah 51:15

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

بلاشبہ (اس دن) پرہیزگار باغات اور چشموں میں ہوں گے

بلا شبہ اس وقت پرہیز گار لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے : 15 وہ آزاد منعش لوگ جو اللہ ، اس کے رسول ﷺ اور روز قیامت کا اور دوسری اسلام کی ساری باتوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور آزادی کے ساتھ پھبتیاں کستے تھے اور استہزادء کا نشانہ بناتے تھے اب ان کو جب ان کے کئے کی سزا سے دو چار کیا جائے گا تو اس سزا کو پانے اور حاصل کرنے پر وہ مجبور کردیئے جائیں گے اور اس طرح ان کی ساری آزادی ان کی قید و بند میں بدل جائے گی اور ان کے مقابلہ میں وہ لوگ جو دنیا میں اپنے آپ کو پابند سمجھتے تھے اور ان کو ہر معاملہ میں دیکھنا پڑتا تھا کہ آیا وہ اس طرح کریں یا نہ کریں یہ لیں یا نہ لیں ، یہ کھائیں یا نہ کھائیں ، یہ پئیں یا نہ پئیں ، اس کو پہنیں یا نہ پہنیں اس طرح ہر معاملہ میں وہ اپنے آپ کو پابند سمجھتے تھے اب ان کی بات کی جا رہی ہے کہ یہ ماشاء اللہ قیامت کے روز آزاد کردیئے جائیں گے اور ان کے حصہ کی جنت ان کو وراثتاً دے دی جائے گی اور پھر آزاد کردیا جائے گا کہ تم جہاں چاہو اپنے حصے کی اس جنت میں رہو اور ان باغوں سے جو چاہو کھائو اور ان چشموں سے جو چاہو پئیو پھر طرح طرح کے کھانے ، طرح طرح کے پھل اور طرح طرح کے مشروبات ان کیلئے تیار ہوں گے اور جو ان کی اس وقت کی خواہش ہوگی وہ ان کو بغیر کسی سعی و کوشش کے سب کچھ میسر آئے گا اور یہ سب کچھ ان کی نیکیوں کا صلہ ہوگا جو وہ دنیا میں کماتے رہے اور ان دکھوں کا بدلہ ہوگا جو وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے دنیا میں دنیا والوں کی طرف سے سہتے رہے۔
Ayahs 51:16–34

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

اپنے رب کی عطاؤں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ اس سے قبل نیکوکار تھے

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

وہ راتوں میں بہت کم (ہی) سویا کرتے تھے

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

وہ صبح کے وقتوں میں (اپنے اللہ سے) بخشش طلب کیا کرتے تھے

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مالوں میں ہر مانگنے والے اور نہ مانگنے والے کا حق ہوتا تھا

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں (اَن گنت) نشانیاں ہیں

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہارے (اپنے) نفسوں میں بھی کیا پھر تم غور نہیں کرتے ؟

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور تمہارا رزق آسمانوں میں ہے اور جو کچھ تم سے وعدہ کیا گیا ہے

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

پس قسم ہے آسمان و زمین کے پروردگار کی کہ یہ بات حق ہے ، جیسے تم بولتے ہو

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

کیا آپ ﷺ کے پاس ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی خبر (نہیں) پہنچی ؟

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے السلام علیکم کہا فرمایا (تم پر بھی) سلام (ہو لیکن خیال کیا کہ) یہ ناواقف لوگ ہیں

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر جلدی سے اپنے گھر کی طرف گئے اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

پھر اس کو ان کے سامنے رکھ دیا ، کہا کہ تم کھاتے کیوں نہیں ؟

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

پھر دل ہی دل میں ان سے خوف محسوس کیا مہمانوں نے کہا تم خوف نہ کھاؤ اور انہوں نے اس کو ایک ہونہار بیٹے کی خوشخبری سنا دی

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

پھر (اتنے میں) اس کی بیوی سامنے آئی اور اپنے ماتھے (یا چہرے) پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا کہ میں تو اب بڑھیا بانجھ ہوں (اولاد کہاں ؟ )

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

وہ بولے کہ تیرے رب نے ایسا ہی فرمایا ہے بلاشبہ وہ بڑا حکمت والا جاننے والا ہے

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

اس نے کہا اے بھیجے گیو تمہارا کیا حال ہے ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تاکہ ہم ان پر مٹی کے بنے ہوئے پتھر (کنکر) برسائیں

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جو تیرے رب کی طرف سے نشان شدہ ہیں جو حد سے بڑھے ہوئے ہیں

یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے : 16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی Missing in book
Ayah 51:35

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

پھر ہم نے وہاں سے سارے مومنوں کو نکال لیا

ہم نے اس علاقہ سے جس پر عذاب آنے والا تھا سارے مومنوں کو نکال دیا 35 ؎ لوط (علیہ السلام) کو عذاب آنے سے پہلے ہی فرشتوں نے بتا دیا تھا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے آئے ہیں اور آج کی رات گزرے گی اور صبح کے قریب تمہاری قوم کا عذاب شروع ہوجائے گا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جائے گا اس لئے آپ رات کے پہلے حصہ میں یہاں سے نکل جائیں اور اپنے ساتھ دوسرے ایمان لانے والوں کو بھی لے کر نکلیں اور انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ آپ کی بیوی بھی پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی اور ظاہر ہے کہ جب وہ پیچھے رہ گئی تو وہ ہلاک بھی ہوگئی اور یہی ہوا کہ لوط (علیہ السلام) نے قوم کو اطلاع کردی اور خود اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر وہاں سے نکل گئے اور ابھی صبح نہیں ہوئی تھی کہ آپ کی قوم پر تباہی آگئی اور کچھ زیادہ دیر نہ لگی تھی کہ ان کا کام تمام ہوگیا۔ غور کرو کہ مضمون کو بیان کرتے وقت فرشتوں کی زبان استعمال ہو رہی تھی اور اچانک اب زیر نظر آیت سے اس مضمون کو فرشتوں کی زبان سے اٹھا کر اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف کردی کہ ہم نے اس بستی میں جتنے مسلمان تھے ان کو نکال باہر کردیا اور قرآن کریم کا یہ اسلوب بیان عام ہے کہ واحد سے جمع اور جمع سے واحد غائب سے حاضر اور حاضر سے غائب بلکہ متکلم کی صورت میں بات شروع کردی جاتی ہے اس لئے ہم نے بار بار عرض کیا ہے کہ قرآن کریم کسی گرائمر کا پابند نہیں بلکہ حق تو یہ ہے کہ کوئی زبان بھی گرائمر کی پابند نہیں ہوتی گرائمر ہی کو زبان کا پابند ہونا پڑتا ہے اگرچہ گرائمر کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کن کو جو اہل زبان نہیں ہوتے تاکہ وہ اپنی ضرورت کو دوسری زبان سے پورا کرسکیں نہ اس لئے کہ اہل زبان کو گرائمر سکھانے لگیں۔ زبان ایک فطری چیز ہے اور گرائمر اختراعی اور وضعی و اصولی ہے اور فطرت وضعی اور اصولی چیزوں کی پابند نہیں ہو سکتی ‘ وضعی اصول فطرت کے مطابق ڈھالے جاتے ہیں۔ یہ بات ہم اس لئے بار بار عرض کرتے لے آ رہے ہیں کہ گرائمر کی زبان استعمال کرنے والے بجائے اس کے کہ اپنی ضرورت پوری کریں اپنے آپ کو اہل زبان سمجھنے لگتے ہیں اور اس طرح حقیقت سے وہ خود انحراف کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگ جو اہل زبان ہیں انحراف کر رہے ہیں حالانکہ ان کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ گرائمر چیز کیا ہے اور ہم کس چیز سے انحراف کر رہے ہیں۔
Ayah 51:36

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

پھر ہم نے مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی گھر نہ پایا

ہم نے اس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی گھر نہ پایا 36 ؎ آپ سیدنا لوط (علیہ السلام) کی سرگزشت بھی پڑھ چکے ہیں کہ لوط (علیہ السلام) اس قوم سے حسب و نسب کے لحاظ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے بلکہ لوط (علیہ السلام) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے ساتھ ہجرت کر کے آئے تھے اور پھر ایک مدت کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کے اشارہ سے سدوم کی بستیوں کی طرف منتقل ہوئے اور اس جگہ ان کی زبان سے واقفیت حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس قوم کی ہدایت کے لئے نبی بنا دیئے گئے اور ابراہیم (علیہ السلام) ہی کا پیغام رسالت ان بستی والوں کو پہنچانے لگے اس لحاظ سے آپ کا گھر یا آپ کا گھرانہ اس بستی میں واحد گھرانہ تھا جو اللہ تعالیٰ کا پیغام اس بستی والوں کو پہنچا رہا تھا اور زیر نظر آیت میں اس بات کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ اس گھر میں اللہ تعالیٰ کی بات ہوتی تھی باقی گھروں میں جو حالت تیر اس کی تفصیل اوپر محولہ بالا آیات میں گزر چکی اور آپ کی بیوی بھی چونکہ اسی قوم کا ایک فرد تھی اس لئے اس نے بھی آپ کی بجائے اپنے خاندان والوں ہی کا ساتھ دیا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ پر ایمان لانے والے مکمل گھرانے نہیں تھے بلکہ کسی گھر میں سے ایک دو فرد کے طور پر تھے اور اس لحاظ سے جتنے بھی افراد ہوتے تھے سب مختلف گھروں سی تعلق رکھتے تھے اس طرح وہ معدودے چند آدمی ہی تھے جن کو لوط (علیہ السلام) اپنے ساتھ لے گئے تھے اور سنت اللہ کے مطابق اب ان معدودے چند آدمیوں کے سوا اس پوری بستی میں سے کوئی ایک بھی نہ بچا۔
Ayah 51:37

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ان لوگوں کیلئے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں ایک نشانی بنا دیا

ہم نے اس واقعہ کو ان لوگوں کے لئے جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں ایک نشانی بنا دیا 37 ؎ یہ بات قریش مکہ کو بتائی جا رہی ہے کہ تم لوگ شام کی تجارت کو جاتے ہو اور اس بستی کے کنارے سے تم کو گزارنا پڑتا ہے اور اس بستی کی جگہ اب بحر محیط ہے اس کو تم دیکھتے ہو اور ان آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہو لیکن اس کے باوجود ذرا ٹس سے مس نہیں ہوتے حالانکہ اگر تم لوگوں کے اندر اللہ رب ذوالجلال والا کرام کا ذرا خوف بھی موجود ہوتا تو تم لوگ وہاں سے گزرتے ہی اور اس بستی کو دیکھتے ہی گھبرا جاتے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کی دعائیں کرتے لیکن تم لوگ ایسے قی القلب ہو کہ تم وہاں سے گزرتے ہو اور تمہارے دلوں پر ذرا اثر نہیں ہوتا کہ یہ قوم اپنی بدکاریوں اور بدکرداریوں کی وجہ سے اس عذاب میں مبتلا کی گئی تھی اور آج ہم بھی وہی کچھ کر رہے ہیں جو یہ لوگ کیا کرتے تھے اور کل یہ اگر عذاب الٰہی کی گرفت میں آئے تھے تو آج ہم بھی آسکتے ہیں اس لئے تم کو عبرت حاصل کرنا چاہئے تھی۔ ایک جگہ اگر کسی کو کوئی گرا پڑا دیکھ لے تو اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ اس جگہ ضرور کوئی ایسا نشیب ہے پھر اس راستہ سے آدمی کیوں گزرے اگر وہ انسان ہے تو دوسرے کے گرنے سے اس کو فائدہ حاصل کرنا چاہئے اور وہ راہ اختیار نہیں کرنی چاہئے بہرحال نہ سنبھلنے والے والے کے لئے سنت اللہ وہی ہے جس سے دو دوچار ہوچکے اور جو سبب ان کی ہلاکت کا ہوا ہے وہ دوسروں کی ہلاکت کا بھی ہو سکتا ہے اور اب مضمون کو لوط (علیہ السلام) کی سرگزشت سے اٹھا کر موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی قوم کی طرف منتقل کردیا گیا ہے۔
Ayah 51:38

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی (نشان عبرت ہے) جب ہم نے اس کو فرعون کی طرف ایک واضح دلیل دے کر بھیجا

موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کو دیکھو کہ جب ہم نے اس کو قوم فرعون کی طرف روانہ کیا 38 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) کو قوم فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق بنی اسائیل سے تھا اور بنی اسرائیل سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے دور حکومت میں مصر آئے تھے اور اس جگہ آ کر آباد ہوگئے تھے پھر یہ لوگ بڑھتے بڑھتے بہت ہی بڑھ گئے۔ انجام کار فرعون مصر نے جب حکومت نے بنی اسرائیل سے واپس لی تو اس قوم پر ظلم و ستم کی ساری حدود ختم کردیں جب یہ لوگ فرعون اور اس کی قوم کے ظلم میں پسنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو نبی بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیج دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات پیچھے بہت سی سورتوں میں گزر چکے اور بہت تفصیل اس قصہ کی بیان کی جا چکی اگر اس کی تفصیلات دیکھنا مقصود ہوں تو مندرجہ ذیل سورتوں کی محولہ آیتوں کی تفسیر کو دیکھیں مثلا۔ غزوہ الوثقیٰ جلداول سورة البقرہ کی آیت 47 ‘ 61 ‘ 63 ‘ تا 75 ‘ 83 ‘ 87 ‘ 92 ‘ 93 ‘ 108 ‘ 136 ‘ 243 ‘ اور 251 ‘ جلد دوم سورة النساء کی آیات 153 ‘ تا 156 ‘ ‘ 164 ‘ جلد سوم سورة المائندہ کی آیات 12 ‘ 13 ‘ 20 تا 25 ‘ 32 ‘ 45 ‘ 70 ‘ 71 ‘ 78 ‘ 79 ‘ سورة الانعام کی آیات 84 ‘ تا 90 ‘ 146 ‘ 154 ‘ 189 ‘ سورة الاعراف 103 ‘ تا 107 ‘ 159 ‘ تا 171 ‘ جلد چہارم سورة الانفال آیت 54 ‘ سورة یونس آیت 74 ‘ تا 93 سورة ہود آیات 96 ‘ تا 99 ‘ 110 ‘ سورة ابراہیم آیت 5 ‘ 6 ‘ 8 ‘ جلد پنجم سورة النحل آیت 123 ‘ سورة بنی اسرائیل 2 تا 7 : 101 تا 104 ‘ سورة الکھف آیات 60 تا 82 سورة مریم آیات 51 ‘ تا 53 ‘ سورة طٰہ آیات 90 ‘ تا 98 ‘ جلد ششم سورة الانبیاء آیات 48 ‘ 49 ‘ سورة المومنون آیات 45 تا 49 ‘ سورة الفرقان آیات 35 ‘ 36 ‘ سورة الشعراء آیات 10 ‘ 62 ‘ سورة النمل آیت 7 تا 14 ‘ سورة القصص آیت 3 تا 48 ‘ جلد ہفتم سورة العنکبوت آیت 39 ‘ 40 ‘ سورة السجدہ آیت 23 ‘ 24 ‘ سورة الاحزاب آیت 29 ‘ سورة ال مومن آیت 23 تا 45 جلد ھذا سورة الزخرف آیت 36 تا 56 ‘ سورة الفرقان آیت 17 تا 33 ‘ سورة الجاثیہ آیت 16 17 ‘ موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کھلے نشانات دیئے گئے تھے ان کا ذکر بھی اوپر کی محولہ آیتوں میں موجود ہے اور خصوصاً (تسع آیات) کا ذکر سورة الاعراف کی آیت 130 تا 140 میں بڑی وضاحت سے کیا جا چکا ہے اور پھر ان نو نشانوں میں سے دو نشانات کو بہت اہمیت حاصل ہے ایک لاٹھی کا نشان اور دوسرا یدبیضاء کا نشان اور ان دونوں کی قدرے وضاہت ہم پیچے محولہ سورتوں اور ان کی آیتوں میں کرچکے ہیں اگر ضرورت ہو تو وہیں سے دیکھ لی جائے اور خصوصاً سورة طٰہ کی آیات 17 تا 22 ‘ 65 ‘ تا 70 کی تفصیل و تفسیر پر ضرور نگاہ ڈال لیں۔ عصا کے متعلق اس جگہ آپ کی توجہ کے لئے چند مثالیں پیش خدمت ہیں اگر آپ چاہیں تو ان پر بھی غور کرلیں۔ عصا کا محاورہ گزشتہ آسمانی کتابوں میں (1) ” یہوداہ سے سلطنت نہیں چھوٹے گی اور نہ اس کی نسل سے حکومت کا عصا موقوف ہوگا۔ “ (پیدائش 49 : 10) (2) ” اسرائیل سے ایک عصا اٹھے گا اور مو آب کی نواحی کو مار لے گا “۔ (گتنی 24 : 17) (3) ” لوہے کے عصا سے انہیں توڑے گا۔ “ (زبور 2 : 9) (4) ” تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے تو صداقت کا دوست اور شرافت کا دشمن ہے۔ “ (زبور 45 : 7) (5) ” تیری چھری اور تیری لاٹھی وہی میری تسلی کا باعث ہیں۔ (زبور 110 : 2) (6) ” خدا وند تیرے زور کا عصا صیتون سے بھیجے گا۔ “ (زبور 110 : 2) (7) ” اور تیری بادشاہی کا عصا راستی کا عصا ہے۔ “ (عبرانیوں باب اول : 9) (8) ” اور وہ لڑکا جو لوہے کا عصا سے سب قوموں پر حکومت کرے گا “۔ (مکاشفہ 12 : 5) عصا کا محاورہ جس طرح کتب احادیث میں پایا جاتا ہے (1) لا تقوم الساعۃ حتی یخرج رجل من قحاطن یسوق الناس بعصاء (فتح الباری شرح صحیح بخاری پارہ 29 ص 27) اس کی شرح میں حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ رقم طراز ہیں کہ یسوق الناس بعصاء کنایۃ عن غلبتہ علیھم و اختیار ھم ولم یرونفس العصا (فتح الباری پارہ نمبر 14 ص 308) (2) فنکت ساعۃ بعصاء (صحیح مسلم ج اول ص 431) امام نووی (رح) اس کی شرح میں رقم طراز ہیں و ھذا عادۃ من تفکر فی امرھم۔ (3) فاخذ بیدہ عباس بن عبدالمطلب فقال لہ انت واللہ بعد ثلاث عبدالعصا وانی واللہ لاری رسول اللہ ﷺ سوف یتوفی من وجعہ ھذا (صحیح بخاری فتح الباری پارہ 18 ص 105) (سنن بیہقی ص 100 ج 7) (5) من اناکم و امر کم جمیع علی رجل واحد یرید ان یشق عصا کم او یغرق جماعتکم فاقتلوہ ۔ (صحیح مسلم ج 2 ص 128) فرعون نے موسیٰ سے منہ موڑا ‘ جاوگر اور پاگل ہونے کا الزام لگایا 39 ؎ (فتولی) فرعون نے ایمان لانے سے منہ پھیرا۔ (برکنہ) اپنے جتھے اور لشکر کے ساتھ رکن دراصل آسرا ‘ زور اور قوت کو کہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ کسی بھی بادشاہ اور حکمران کے لئے اس کی پارٹی اور اس کا لائو لشکر ہی زور اور قوت ہوتا ہے۔ برکنہ ای بقوتہ (ابن عباس ؓ) (رکن) کے معنی ذاتی قوت کے بھی کئے گئے ہیں اور اس سے مراد اس کا لائو لشکر بھی لیا گیا ہے اس طرح اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے اپنے لشکر ‘ اپنے اعوان و انصار یا اپنی ذاتی طاقت اور قوت سے مفرور ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور پھر صرف انکار ہی نہ کیا بلکہ آپ پر جادو گر ہونے کا الزام رکھا اور کبھی جادو گر کہنے کی بجائے مجنون کا الزام بھی دیا اور پاگل سمجھ کر ٹھکرا دیا اور یہ عادت سارے مفروروں میں موجود تھی ‘ ہے اور رہے گی کہ وہ اپنے اقتدار کے نشہ میں جو چاہتے ہیں کہہ دیتے ہیں اور باوجود متضاد باتیں کرنے کے ان کے سامنے کوئی شخص بولنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کے نبی و رسول ہی کی طاقت ہوتی تھی کہ وہ بےدھڑک جو کہنا چاہتے یا جو کہنے کا ان کو حکم ہوتا تھا کہہ دیتے تھے۔
Ayahs 51:39–40

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

پھر اس نے مع اپنے اراکین منہ موڑا اور جادوگر اور پاگل ہونے کا الزام لگایا

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

پھر ہم نے اس (فرعون) کو مع اس کے لشکروں کے پکڑ لیا پھر ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ ملامت کیا گیا تھا

اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکر کو ایسا پکڑا کہ دریا میں ڈبو کر چھوڑا 40 ؎ سنت اللہ شروع سے آرہی ہے کہ انبیاء و رسل کی مخالفت کرنے والے جب مخالفت پر ڈٹ جاتے ہیں اور دلائل کا جواب دلائل سے دینے کی بجائے طاقت ‘ دھونس اور دھاندلی سے دینے لگتے ہیں تو جو مہلت ان کو اللہ رب ذوالجلال والا کرام سے دی جاتی ہے جب وہ پوری ہوجاتی ہے تو ان کا کام بھی تمام کردیا جاتا ہے گویا ان کے اقتدار ‘ ان کی قوت و سطوت اور ان کی طاقت کی صف لپیٹ دی جاتی ہے اور جب ان کے ظلم کا دروازہ بند ہوجاتا ہے تو کوئی آنکھ بھی ان پر نم نہیں ہوتی بلکہ ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور یہ صورت حال اس جگہ بھی وارد ہوئی جب فرعون اور اس کا پورا لشکر دریا کی نذر ہوگیا اور بچی تو صرف فرعون کی نعش سالم بچ گئی کہ بعد میں آنے والوں کے لئے وہ سامان عبرت پیش کرتی رہے۔ یہ کتنا عظیم صانع تھا جو نمودار ہوا لیکن اس صانع عظیم پر کوئی آنکھ بھی پرنم نہ ہوئی اور کسی نے اظہار افسوس تک نہ کیا بلکہ سب کے سب مونہوں میں ایک ہی بات تھی کہ ” خس کم جہاں پاک “ لا ریب وہ قابل مزمت اور قابل ملامت ہی تھا اور ہر طرف سے وہ ملامت کا شکار ہوا۔ یہ فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کی داستان کے چند اشارات و استعارات تھے اور اس کے بعد عاد قوم اور ثمود قوم کا بانن کیا جائے گا تاکہ عبرت حاصل کرنے والے کسی کی داستان ہی سے عبرت حاصل کرسکیں۔