51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 51:41

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور عاد (کے واقعہ) میں بھی (عبرت ہے) جب ہم نے ان پر ایک سخت آندھی چلائی

عاد قوم میں بھی عبرت کے نشانات ہیں جن پر ایک سخت آندھی بھیجی گئی 41 ؎ عاد قوم کی طرف ہود (علیہ السلام) کی نبی و رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ عاد کے متعلق ہم پیچھے تفصیلی بحث عرض کرچکے ہیں اور اس کا ذکر ہود (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت میں بھی کیا گیا ہے اور ہود (علیہ السلام) کی سرگزشت بھی جلد چہارم سورة ہود میں ہی میل کی۔ اگر اس واقعہ کی تفصیلات دیکھنا ہوں تو جلد سوم سورة الاعراف آیت 65 ‘ جلد چہارم سورة ہود آیات 50 ‘ 53 ‘ 58 ‘ 60 ‘ 89 ‘ جلد ششم سورة الشعراء کی آیت 124 ‘ کی تفسیر دیکھیں۔ وہاں بتایا گیا ہے کہ عاد عرب کے قدیم قبیلہ یا امم سامیہ کے صاحب قوت و اقتدار ‘ صاحب جماعت کا نام ہے اور ان کی طرف ہود (علیہ السلام) کو رسول بنا کر مبعوث کیا گیا تھا۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن انہوں نے بھی مخالفت کی ساری حدود پھلانگ دیں اور انجام کار اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ان پر ایک ایسی تیز رفتار آندھی بھیجی جس نے ان کو اس طرح روند ڈالا کہ ان کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا اور ان کا تفصیل ذکر محولہ بالا سورتوں اور آیتوں میں ملے گا۔
Ayah 51:42

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

وہ (آندھی اتنی زبردست تھی کہ) جس چیز پر گزرتی اس کو ریزہ ریزہ کیے بغیر نہ چھوڑتی

وہ آندھی جس پر بھی گزری اس نے ہر ایک چیز کو ریزہ ریزہ کر کے رکھ دیا 42 ؎ ان کا انجام بھی بڑا ہی عبرت ناک ہوا ان کی سرکشی جب حد سے تجاوز کرگئی تو ان کو راہ راست پر لانے کی ساری تدبیریں ان پر آزما لی گئی تھیں اور ہود (علیہ السلام) کی پیغمبرانہ صلاحیتوں کو انہوں نے نہایت سختی سے دبانے کی کوشش کی یہاں تک کہ انہوں نے برملا ہود (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم اس ڈھونگ میں آنے والے نہیں کہ تجھ کو اللہ کا رسول مان لیں اور اپنے معبودوں کی عبادت چھوڑ کر یہ یقین کرلیں کہ وہ رب کریم کے سامنے ہمارے سفارشی نہیں ہوں گے۔ ہود (علیہ السلام) نے بھی ان سے کہا کہ نہ تو میں بیوقوف ہوں اور نہ پاگل بلکہ بلاشبہ اللہ کا رسول اور نبی ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے کسی بیوقوف کو منتخب نہیں کیا کرتا کہ اس کا نقصان اس کے نفع سے بڑھ جائے اور ہدایت کی جگہ گمراہی آجائے وہ اس عظیم الشان خدمت کے لئے اپنے بندوں سے ایسے شخص کو چنتا ہے جو ہر طرح اس کا اہل ہو اور اس خدمت حق کو بخوبی انجام دے سکے مگر قوم کی سرکشی اور مخالفت بڑھتی ہی گئی اور ان پر آفتاب سے زیادہ روشن دلائل و نصائح کا مطلق اثر نہ ہوا اور وہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی تکذیب و تذلیل کے اور زیادہ درپے ہوگئے اور اس کو مجنون اور خبطی کہہ کر اور زیادہ مذاق اڑانے لگے اور کہنے لگے اے ہود ! جب سے تو نے ہمارے معبودوں کو برا کہنا اور ہم کو ان کی عبادت سے باز رہنے کی تلقین کرنا شروع کیا ہے ہم دیکھتے ہیں اس وقت سے تیرا حال خراب ہوگیا ہے اور ہمارے معبودوں کی بد دعا سے تو پاگل و مجنون ہوگیا ہے تو اب ہم اس کے علاوہ تجھ کو اور کیا سمجھیں ؟ اس طرح اس بدبخت اور بدنصیب قوم پر جب ہود (علیہ السلام) کی نصیحتوں کا کوئی اثر نہ ہوا بلکہ ان کا بغض وعناد اور دوبالا ہوگیا تب ہولناک عذاب نے ان کو آگھیرا۔ آٹھ دن اور سات راتیں پیہم تیز و تند ہوا کے طوفان اٹھے اور ان کو اور ان کی آبادی کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا۔ تنومند اور قومی ہیکل انسان جو اپنی جسمانی قوتوں کے گھمنڈ میں سرمست سرکش تھے اس طرح بےحس و حرکت پڑے نظر آتے تھے جس طرح آندھی سے تناور درخت بےجان ہو کر گر جاتے ہیں۔ غرض ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے درس عبرت بنیں اور اس طرح دنیا و آخرت کی لعنت اور عذاب ان پر مسلط کردیا گیا کہ وہ اسی کے مستحق تھے۔
Ayah 51:43

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور ثمود بھی جب ان سے کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھا لو

اور قوم ثمود بھی باعث عبرت ہے جب ان سے کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھا لو 43 ؎ ثمود قوم کے نبی و رسول سیدنا صالح (علیہ السلام) تھے۔ ثمود کہاں آباد تھے اور کس خطہ میں پھیلے ہوئے تھے ؟ اس کے لئے یہ بات تو طے شدہء ہے کہ ان کی آبادیاں حجر میں تھیں جو حجاز اور شام کے درمیان وادئی قریٰ تک میدان نظر آتا ہے یہ سب ان کا مقام سکونت ہے اور آج کل یہ علاقہ فج الناقہ کے نام سے مشہور ہے۔ ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات اور آثار آج تک موجود ہیں اور اس زمانہ میں بھی بعض مصری اہل تحقیق نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا بیان ہے کہ وہ ایک ایسے مکان میں داخل ہوئے جو شاہی حویلی کہی جاتی ہے اور اس میں متعدد کمرے ہیں اور اس حویلی کے ساتھ ایک بہت بڑا حوض ہے اور یہ پورا مکان پہاڑ کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ حجر کا یہ مقام جو حجر ثمود کہلاتا ہے شہر مدین سے جنوب مشرق میں اس طرح واقع ہے کہ خلیج عقبہ اس کے سامنے پڑتی ہے اور جس عاد کو عاد ارم کہا گیا ہے اسی طرح ان کی ہلاکت کے بعد ان کو ثمود ارم یا عاد ثانیہ کہا جاتا ہے۔ ثمود کا تفصیلی ذکر غزوہ الوثقیٰ جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 73 ‘ 75 اور 77 ‘ جلد چہارم سورة ہود کی آیات 61 ‘ 62 ‘ 65 اور 89 میں ‘ جلد پنجم سورة الحجر کی آیات 80 تا 84 میں جلد ششم سورة الشعراء کی آیت 142 ‘ میں گزر چکا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔ ثمود کو بھی ایک وقت تک مہلت دی گئی تھی لیکن انہوں نے اس مہلت سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور صالح (علیہ السلام) کی مخالفت میں کمربستہ ہوگئے اور عاد کی طرح انہوں نے بھی اپنے نبی ورسول صالح (علیہ السلام) کی نصیحتوں سے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا اور صالح (علیہ السلام) کی سخت مخالفت کی یہاں تک کہ عاد قوم کی طرح وہ بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب کی زد میں آگئے۔
Ayah 51:44

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی پس ان کو ایک سخت کڑک نے آپکڑا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے رہ گئے

ثمود نے بھی حکم الٰہی کی نافرمانی کی اور ان کو سخت کڑک کے عذاب نے آدبایا 44 ؎ مختصر یہ کہ صالح (علیہ السلام) کی مغرور قوم نے ان کی پیغمبرانہ دعوت و نصیحت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اللہ کے نشان کا مطالبہ کیا تب صالح (علیہ السلام) نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں دعا کی اور آپ کی دعا قبول ہوئی۔ قبولیت کے بعد اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہارا مطلوبہ نشان اونٹنی کی شکل میں موجود ہے یہ میری اونٹنی جس پر میں سوار ہو کر تمہاری بستیوں میں گھومتا پھرتا اور واعظ و درس کا کام کرتا ہوں دیکھو اگر تم نے اس کو کوئی ایذا پہنچائی تو پھر یہی تمہاری ہلاکت کا وقت ہوگا اور تمہاری یہ نافرمانی تمہاری ہلاکت کا نشان ثابت ہوگی۔ انہوں نے یہ بات سنی اور اونٹنی کو گزند پہنچانے کا پختہ اردہ کرلیا اور ایک روز سازش کر کے قداء بن سالف کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ اس اونٹنی کی کونچیں کاٹنے میں پہل کری اور باقی سب اس کی اعانت کریں۔ اس سازش کے تحت انہوں نے آپ (ناقۃ) کو ہلا کر ڈالا اور یہ اونٹنی اسلام کی اصطلاح میں (ناقۃ اللہ) کہلائی۔ صالح (علیہ السلام) کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ آبدیدہ ہو کر کہنے لگے اے بدبخت قوم ! آخر تم سے صبر نہ ہوسکا اب اللہ تعالیٰ کے عذاب کا انتظار کرو تین روز کے بعد وہ نہ ٹلنے والا عذاب آئے گا اور تم سب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تہس نہس کر کے رکھ جائے گا۔ ثمود پر عذاب الٰہی کے نشانات آنے والی صبح ہی کو نمودار ہونے لگے اور پہلے ہی روز ان سب کے چہرے اس طرح زور پڑگئے جیسا کہ خوف کی ابتدائی حالت میں ہو ہی جایا کرتے ہیں۔ اور دوسرے روز سب کے چہرے سرخ تھے گویا خوف و دہشت کا یہ دوسرا درجہ تھا اور تیسرے روز ان سب کے چہرے سیاہ تھے اور تاریکی چھائی ہوئی تھی اور یہ خوف و دہشت کا وہ تیسرا مقام ہے جس کے بعد موت ہی کا درجہ باقی رہ جاتا ہے تین دن کی علامات عذاب نے اگرچہ ان کے چہروں کو واقعہ زرد ‘ سرخ اور سا اہ بنا دیا تھا لیکن ان رنگوں کی ترتیبی خصوصیات یہ صاف بتا رہی ہیں کہ ان کے دلوں کو صالح (علیہ السلام) کے سچے ہونے کا یقین تھا اور صرف محض حسد و بغض کے باعث انکار کرتے تھے۔ اب جب کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف وہ جرم کرچکے اور اس کی پاداش میں صالح (علیہ السلام) سے عذاب کی ہولناک خبر سنی تو ان پر خوف و دہشت کے دو فطری رنگ اور نقوش نمایاں ہونے لگے جو موت کے یقین کے وقت خوف و دہشت سے مجرموں کے اندر پیدا ہوا کرتے ہیں۔ بہرحال ان تین یوم کے بعد وقت موعود آپہنچا اور رات کے وقت ایک ہیبت ناک آواز نے ہر شخص کو اسی حالت میں ہلاک کردیا جس حالت میں وہ تھا۔ قرآن کریم نے اس ہلاکت آفریں آواز کو کسی مقام پر (صاعۃ) یعنی کڑک دار آواز بھی کہا اور کسی جگہ (رجفہ) ‘ یعنی زلزلہ ڈالنے والی چیز اور کسی جگہ (طاغیہ) دہشت ناک اور بعض جگہ (صیحہ) (چیخ) فرمایا گیا ہے۔ اور یہ سب ایک ہی طریقہ عذاب کے مختلف اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ اس طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس عذاب کی ہولناکیاں کیسی گوناگوں تھیں۔ تم ایک ایسی کوندنے والی بجلی کا تصور کرو جو بار بار اضطراب کے ساتھ چمکتی ‘ کڑکتی اور گرجتی ہو اور اس طرح کوند رہی ہو کہ کبھی مشرق میں ہے تو کبھی مغرب میں اور پھر جب ان تمام اوصاف کے ساتھ چمکتی ‘ کوندتی ‘ گرجتی ‘ لرزتی لرزاتی ہوئی کسی مقام پر ایک ہولناک چیخ کے ساتھ گرے تو اس مقام اور اس کے نواح کا کیا حال ہوگا ؟ یہ ایک معمولی اندازہ ہے اس عذاب الٰہی کا جو قوم ثمود پر نازل ہوا اور ان کے اور ان کی بستیوں کو تباہ و برباد کر کے سرکشوں کی سرکشی اور مفروروں کے غرور کا انجام ظاہر کرنے کے لئے آنے والی نسلوں کے سامنے عبرت پیش کر گیا۔ ایک طرف قوم ثمود پر عذاب خداوندی نازل ہوا اور دوسری جانب صالح (علیہ السلام) اور ان کے پیرو مسلمانوں کو اللہ نے اپنی حفاظت میں لے لئے اور ان کو اس عذاب خداوندی سے محفوظ رکھا۔
Ayah 51:45

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

پھر وہ اٹھنے کی تاب نہ لاسکے اور نہ ہی کسی کی مدد حاصل کرسکے (بلکہ سب کے سب ہلاک ہو کر رہ گئے)

پھر ثمود کی قوم کے لوگ اٹھنے کی طاقت نہ لاسکے اور نہ ہی کسی کی مدد حاصل کر سکے 45 ؎ ثمود قوم کے لوگ اپنے پیشروئوں کی طرح بت پرست تھے بعض جن مرے ہوئے بزرگوں سے ان کو عقیدت تھی۔ ان کے بت تراش کر انہوں نے رکھے ہوئے تھے اور انہیں بزرگوں ‘ پیروں ‘ مرشدوں اور ولیوں کی یاد میں جو بت انہوں نے تراشے ہوئے تھے ان کو معبود سمجھتے تھے اور اس طرح کہ شرک میں وہ مبتلا تھے۔ ان کی اصلاح اور احقاق حق کے لئے ان ہی کے قبیلہ و خاندان سے صالح (علیہ السلام) کو ناصح پیغمبر اور رسول بنا کر بھیجا گیا تھا کہ وہ ان کو راہ راست دکھائیں اور ان کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی نعمتیں یاد دلائیں جن سے صبح و شام وہ محفوظ ہوتے رہتے ہیں اور ان پر واضح کریں کہ کائنات کی ہر شے اللہ تعالیٰ کی توحید اور یکتائی پر شاہد ہے اور یقینی دلائل اور مسکت براہین کے ساتھ ان کی گمراہی کو ظاہر کریں اور ان کو بتائیں کہ پرستش و عبادت کے لائق ذات خداوندی کے علاوہ دوسرا کوئی نہیں خواہ وہ کون ہو ‘ کہاں ہو اور کیسا ہو کیونکہ وہ جو بھی ہوگا مخلوق ہی ہوگا اور مخلوق کبھی پرستش و عبادت کے لائق نہیں ہو سکتا۔ قوم نے صالح (علیہ السلام) کی ایک نہ مانی اور نہ اپنے پروردگار کے حکم کی تعمیل کے لئے دو تیار ہوئے۔ انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی پیش کردہ دعوت کو واضح طور پر ٹھکرا دیا اور ان کے کہنے پر چلنے سے غرور کے ساتھ گریز کیا جیسا کہ پیچھے عرض کیا جا چکا ہے کہ صالح (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے وہ اونٹنی جس پر تعلیم و تبلیغ کا کام کرتے تھے اور ثمود والے پہلے ہی اس اونٹنی سے دشمنی رکھتے تھے وہی اونٹنی ان کے عذاب کا نشان مقرر کردی اور ان کو واضح الفاظ میں کہ دیا کہ یہ اونٹنی اللہ کا نشان ہے اگر تم نے اس کو کوئی گزند پہنچائی تو تم کو دھر لیا جائے گا اور تمہارا وہی حال ہوگا جو تم سے پہلے قوم عاد کا ہوا لیکن اس نامراد اور بدبخت قوم نے مشورہ کر کے اس اونٹنی کو قتل کردیا اور اس کے بعد ان کو تین دن کی مزید مہلت دی گئی لیکن وہ مہلت سے فائدہ اٹھانے والے کب تھے۔ تین دن کے بعد صالح (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے ہجرت کر گئے اور باقی قوم کو اللہ تعالیٰ نے تہس نہس کردیا۔ (و ھم ینظرون) اور اس طرح گویا وہ دیکھتے ہی دیکھتے رہ گئے اور اس صفحہ ہستی سے ان کو مٹا دیا گیا۔ اس طرح نہ تو وہ دوبارہ کھڑے رہ سکے اور نہ ہی ان کے وہ مددگار اور حاجت روا جن کی خاطر انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی مکالفت کی اور ان کے پیغام کو ٹھکرایا ان میں سے ایک بھی ان کی مدد کے لئے آگے نہ بڑھا اور نہ ہی ان کی مدد کے لئے وہ آگے بڑھ سکتے تھے اس طرح قوم کو بعد میں آنے والوں کے لئے درس عبرت بنا دیا گیا لیکن تعجب ہے کہ کسی قوم نے بھی اپنے سے پہلے گزری ہوئی قوموں کی داستانوں سے عبرت حاصل کرنے کی کوشش نہ کی اور جو صورت پہلوں کی تھی وہی بعد میں آنے والوں کی ہوئی۔ اس کے بعد قوم نوح کا ذکر کیا جانے والا ہے اگرچہ قوم نوح گزشتہ دونوں سے بہت پہلے کی قوم ہے تاہم اس کا تذکرہ بعد میں کیا گیا ہے کیونکہ تذکیر کے لئے ترتیب لازم و ضروری نہیں۔ بس نصیحت کے پیش نظر کبھی کسی قوم کا ذکر اور کبھی کسی قوم کا ذکر بیان کردیا گیا اور قرآن کریم کے واقعات میں یہ بات عام پائی گئی ہے۔
Ayah 51:46

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور ان (سب) سے پہلے قوم نوح (کا بھی یہی حال ہوا) بلاشبہ وہ لوگ بڑے نافرمان تھے

قبل ازیں قوم نوح کو ان قوموں سے پہلے ہلاک کیا گیا تھا کہ یہ لوگ بھی فاسق ہی تھے 46 ؎ نوح (علیہ السلام) ‘ آدم (علیہ السلام) کے بعد پہلے نبی ہیں جن کو رسالت سے نوازا گیا جیسا کہ صحیح مسلم باب شفاعت میں ابوہریرہ ؓ کی ایک طویل روایت میں بہ تصریح بیان کی ہے کہ (یا نوع انت اول الرسل الی الارض) ” اے نوح ! تو زمین پر سب سے پہلا رسول بنایا گیا “۔ نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ تقریباً قرآن کریم کی 25 سورتوں میں کیا گیا ہے جن میں سورة الاعراف کی آیات 59 ‘ تا 69 ‘ سورة ہود کی آیات 25 ‘ تا 89 ‘ سورة بنی اسرائیل کی آیات 2 تا 17 ‘ سورة الشعرا کی آیات 105 ‘ تا 116 ‘ سورة الصافات آیات 75 تا 79 ‘ سورة ال مومن کی آیات 5 تا 31 اور سورة نوح مکمل آپ ہی کے ذکر میں بیان کی گئی ہے۔ اگر آپ تفصیل چاہتے ہیں تو انہی محولہ سورتوں کی تفسیر دیکھیں۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم زیادہ تر بنت پرست ہی تھی اور انہوں نے اپنی قوم کے پانچ بزرگوں کے بت بنا رکھے تھے جو دوسرے سارے بزرگوں سے زیادہ بزرگ تسلیم کئے جاتے تھے۔ نوح (علیہ السلام) ایک مدت تک قوم کو سمجھاتے رہے لیکن قوم نے ان کی ایک نہ مانی اور صرف یہی نہیں کہ ان کی بات سننے کے لئے تیار نہ ہوئے بلکہ ان کو دیکھنے کے لئے بھی تیار نہ ہوئے اور آپ کو دیکھتے ہی اپنے چہروں کے سامنے پردہ کرلیتے تھے اور یہ ان لوگوں کا کا وہ مذاق تھا جس میں دوسری قوموں سے منفرد تھے دوسری قوموں میں سے کسی قوم نے یہ حرکت نہیں کی جو انہوں نے اپنائی انجام کار نوح (علیہ السلام) کو کشتی بنانے کا حکم ملا۔ آپ نے ایک بہت بڑی کشتی تیار کی اور جب کشتی تیار ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آسمان کو حکم دیا کہ بس بارش شروع ہوگئی آپ اللہ کے حکم سے اس کشتی میں سوار ہوگئے اور آپ کے ساتھ آپ پر ایمان لانے والے بھی کشتی میں سوار ہوئے اور ضرورت کی اشیاء بھی آپ نے کشتی میں رکھ لیں پھر ایک بہت بڑا طوفان آیا جس نے نوح (علیہ السلام) کی پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سب کو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا باقی جو کچھ بچا وہ ان کے فسق و فجور کی داستان تھی جو آج تک پڑھی جاتی ہے اور رہتی دنیا تک پڑھی جاتی رہے گی اگرچہ اس پڑھنے سے بھی کسی قوم نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اور آج ہماری حالت بھی وہی ہے کہ ان تذکار سے ذرہ بھر نصیحت حاصل کرنے کے لئے ہم بھی تیار نہیں اور تعجب ہے کہ ان داستانوں کو ہم نے مردے بخشوانے کے لئے خاص کردیا ہے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
Ayah 51:47

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو دست قدرت سے بنایا اور ہم ہی صاحب قدرت ہیں

ہم نے آسمان کو دست قدرت سے بنایا اور ہم ہی صاحب قدرت ہیں 47 ؎ (والمساء بینھا باید) ” اور آسمان کو ہم نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے “ (ید) کی اصل ی د ی ہے اور (ید) کے معنی ہاتھ کے ہیں اور (ید) یعنی ہاتھ کے معنی میں بہت وسعت ہے لغت عرب میں (ید) کے معنی مختلف کئے گئے ہیں جیسے ہاتھ ‘ اقتدار ‘ قابو ‘ غلبہ ‘ ملک ‘ قبضہ ‘ تصرف ‘ روکنا ‘ برکت ‘ سخاوت ‘ احسان ‘ ذلت ‘ بھلائی اور ندامت وغیرہ اور اول الذکر معنی حقیقی و صنعی ہیں اور باقی معانی کسی قرینہ ‘ مقام ‘ سیاق یا اختلاف صلابت کی وجہ سے مراد لئے جاسکتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ یدیت الیہ میں نے اس کے ساتھ احسان کیا مالی بہ ید مجھ میں اس کی طاقت نہیں ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے ؎ فاعمد لما تعلوہ فمالک بالذی لا تستطیع من الامور یدان جس چیز پر تو غالب آسکے اس کا ارادہ کر کیونکہ جس کام کی تجھ میں طاقت نہ ہو اس میں تصرف نہیں کرسکتا۔ اور یہ بات قبل ازیں بہت دفعہ کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے جب بھی کسی عضو کی نسبت کی جائے تو اس سے اس عضو کا نتیجہ مراد ہوتا ہے نہ کہ وہ عضو جو ایک جسمانی چیز ہے جیسے ید وجھہ اور (عن) وغیرہ اور ہاتھ کا اطلاق قبضہ اور قدرت ہی کے لئے کیا جاتا ہے اس لحاظ سے اس جگہ بھی یہی مراد ہے کہ ” آسمان کو ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے بنایا ہے “ اور بہت سی جگہوں پر (ید) یعنی ہاتھ کا لفظ بطور استعارہ اور محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ (ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکتہ) (2 : 195) (لا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک) (17 : 29) (یقبضون ایدیھم) (9 : 67) اردو زبان میں بھی ہاتھ کا محاورہ اکثر بولا جاتا ہے اور سب کو معلوم ہے کہ یہاں ہاتھ سے کیا مراد ہے۔ مثلاً ” ہاتھ اٹھانا “ دست درازی کرنا ‘ زیادتی کرنا ‘ کسی کی کوئی چیز دبا لینا ‘ کسی کی مدد کرنا ‘ چھوڑ دینا ‘ دست بردار ہوجانا ‘ کنارہ کش ہونا۔ ” ہاتھ کا اونچا ہونا “ سخی ہونا ‘ آسودہ حال ہونا۔ ” ہاتھ باندھنا “ منت سماجت کرنا ” ہاتھ بندھ جانا “ مجبور ہوجانا ‘ بےطاقت ہوجانا۔ ” ہاتھ بھر کی زبان ہونا “ گستاخ ہونا ‘ گالی گلوچ پر اتر آنا۔ ” ہاتھ پائوں باندھنا “ مجبور کردینا ‘ بےبس کردینا مثل ہے کہ ” ہاتھ پائوں دیا سلائی بات کرنے کو فضل الٰہی “ طاقت و قوت تو موجود نہیں مگر زبان خوب چلتی ہے۔ (انا لموسعون) ہم نے اس کو بہت وسیع بنایا ہے یعنی کشادہ بنایا ہے یہاں تک کہ زمین کا یہ طویل و عریض کرہ اس کے سامنے ایسا ہے جیسے دائرہ کے وسط میں کوئی نقطہ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہم بڑی وسعت رکھنے والے ہیں اور بہت فنا کے مالک ہیں اور ہماری قدرت بےکراں ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا دراصل اس میں وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کے لئے عبرت ہے کہ وہ سوچیں اور انصاف سے بتائیں کہ ایسی قدرت و طاقت رکھنے والے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لئے عبرت ہے کہ وہ سوچیں اور انصاف سے بتائیں کہ ایسی قدرت و طاقت رکھنے والے اللہ رب ذوالجلال والا کرام کے لئے مردوں کو زندہ کردینا آخر کیا مشکل ہے اور یہ کانٹا ان کے گلے میں کیوں اٹک کر رہ گیا ہے۔ ایک طے شدہ بات سے انکار کرنے میں ان کو کیا ملے گا۔
Ayah 51:48

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے فرش بنایا پھر (دیکھو) ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں

زمین کو ہم نے فرش بنایا ہے اور پھر خوب بچھا دیا ہے کیا ان کی آنکھیں بند ہیں ؟ 48 ؎ غور و فکر کرنے والوں کے لئے جس طرف بھی وہ نظر اٹھائیں ان کو قدرت کے نشانات دکھائی دیتے ہیں بشرطیکہ وہ عقل و فکر کے ساتھ دیکھنے کی سعی و کوشش بھی کریں صرف جانوروں کی طرح نہ دیکھنے کے عادی ہوں۔ فرمایا غور کرو اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ یہ زمین جس پر تم آباد ہو اس کو کس نے بچھا دیا ہے اور کس نے اس کو ایک آرام دہ فرش دیا ہے اور صرف بچھا ہی نہیں دیا بلکہ تمہاری ضرورت کے کتنے دفینے اور خزانے ہیں جو اس کے اندر چھپا دیئے گئے ہیں بلکہ تمہارے لئے محفوظ کردیئے گئے ہیں کہ تم عقل و فکر سے کام لو اور ان دفینوں اور خزانوں کو نکالنے کی جستجو کرو پھر دیکھو کہ یہ زمین تم کو کیا کچھ دیتی ہے اور کس طرح تم کو مالا مال کردیتی ہے اور تمہارے لئے کھیتی باڑی کے کام آتی ہے اور تم جہاں چاہتے ہو اس پر کھیتی باڑی شروع کردیتے ہیں اور جو چاہتے ہو اس میں لگا دیتے ہو اور کس قدر تمہارے کام آنے والی چیز ہے۔ اس کے اندر کتنے کتنے وسیع و عریض ‘ زرخیز ‘ ہموار میدان ہیں اور مناسب مقامات پر دریا بہہ رہے ہیں اور جگہ جگہ پہاڑ نصب کردیئے گئے ہیں۔ زمین کی تہہ کے اندر میٹھے اور ٹھنڈے پانی کے چشمے بہہ رہے ہیں اور اس کے اردگرد سمندر رواں دواں ہیں ‘ میدانی علاقوں میں تم جہاں سے چاہتے ہو پانی کے ذخائر نکالنا شروع کردیتے ہو اور پہاڑوں کی بلندیوں پر بغیر کھودے تمہارے لئے چشمے بہا دیئے گئے ہیں۔ اس کے منہ سے تم ہر قسم کی اجناس ‘ پھل اور سبزیاں اگا رہے ہو۔ موسم میں کتنی خوشگوار تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں اور اسی کے باعث لیل و نہار کی گردش کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ اس فرش زمین کو کسی بھی نقطژہ نظر سے دیکھیں آپ کو اس کے بنانے ‘ بچھانے ‘ پھیلانے والے کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا اعتراف کرنا ہی پڑے گا پھر ایسی ہستی کے لئے کیا مشکل ہے کہ وہ لوگوں کو ایک بار موت دینے کے قیامت کو دوبارہ زندہ کر دے۔ جب کہ وہ خود ارشاد فرما رہے ہیں کہ میں نے ان لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ (الماھدون) اسم فاعل جمع مذکر حالت رفع (الماھد) مفرد بچھانے والے ‘ تیار کرنے والے ‘ درست کرنے والے۔
Ayah 51:49

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہم نے ہرچیز کے جوڑے بنائے تاکہ تم غور کرو

ہم نے ہرچیز کے جوڑے جوڑے بنائے ہیں تاکہ تم غور و فکر کرو 49 ؎ دنیا میں جتنی چیزیں موجود ہیں اگر آپ ایک ایک کا تجزیہ کر کے دیکھتے جائیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ترویج کا اصول ہر جگہ موجود ہے پیچھے ابھی ابھی آپ نے آسمان اور زمین کا ذکر پڑھا ہے اور ان دونوں کی ترویج کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑی وضاحت کردی ہے جس کا ذکر سورة الطارق میں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کا یہ ایک بہت بڑا نشان ہے کہ اس نے ہر ایک چیز کو جوڑا جوڑا بنایا ہے اور یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ دارالعمل ‘ داراخرت کا جوڑا ہے اور کسی ایک جوڑے میں سے ایک کا ذکر آجائے تو دوسرے کا ثبوت خود بخود مہیا ہوجاتا ہے جس چیز کا کوئی شروع ہے ضروری ہے کہ اس کا کوئی آخر بھی ہو کیونکہ شروع کا آخر جوڑا ہے اور اس سے یہ بات بھی واضح ہے کہ باہم اختلاط ہی سے افزائش نسل کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا اور لاریب انسان ہو یا حیوان ان میں زوج ‘ زوج کا ہونا سب کو معلوم ہے جو آئے دنوں شوشے چھوڑ رہے ہیں کہ صرف ایک صنف سے افزائش نسل کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے یا کیا جاسکتا ہے بالکل غلط اور جھوٹ ہے۔ افزائش نسل کا مطلب کیا ہے کہ نسل درانل پیدا ہوتے چلے جانا اور اس کے لئے زوجین کا ہونا لازم و ضروری ہے ایک ہی صنف سے پیدائش کا سلسلہ اس طرح ممکن ہے کہ پیدائش اس سے آگے نہ بڑھے بلکہ وہاں جا کر رک جائے۔ گویا افزائش نسل کا طریقہ روک دیا جائے کہ آگے نہ بڑھ سکے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نباتات کی دنیا میں بھی زوجیت کا یہ سلسلہ جاری ہے اور جمادات میں بھی اور جن چیزوں کو ایجاد کیا گیا ہے ان میں سے بھی کسی ایک ایجاد کا تجزیہ کر کے دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ زوجین کا اصول ان میں بھی کار فرما ہے۔ جس چیز کا نام ہم نے ضد رکھا ہے وہ کیا ہے ؟ یہی عمل ترویج ہی تو ہے گویا تضادات اور متقبالات کی ایک دنیا قائم ہے جہاں نظر کرو گے تو زوجین کو موجود پائو گے۔ یہ الگ ہے کہ کہیں اپ زوجین کا نام تضاد ‘ متقابل ‘ ضد اور اس طرح کے دوسرے نام رکھ لیں جس طرح سردی اور گرمی ‘ خوشی اور غمی ‘ شقادت اور سعادت ‘ ہدایت اور ضلالت ‘ سیاہی اور سفیدی ‘ صحت اور بیماری ‘ ایمان اور کفر ‘ ظلم اور عدل ‘ رات اور دن ‘ آسمان اور زمین ‘ لوہا اور لکڑی ‘ سونا اور چاندی اگر شمار کریں گے تو آخر کہاں تک ؟ اختصار اس کا یہی ہے کہ اگر نظر دوڑائیں گے تو ہر سو یہ وج در زوج کا اصول موجود پائیں گے اور اسی اصول کے اندر انسان کے لئے بہت سے نصائح موجود ہیں اگر وہ نصیحت حاصل کرنا چاہے اور اسی میں قیامت کا اثبات بھی موجود ہے اور توحید کی دلیل بھی کہ صرف اور صرف ایک ہی ذات ہے جس پر یہ اصول قائم نہیں ہوتا اسی لئے اس نے خود اپنی ذات کو مجموعہ ضدین قرار دیا ہے اور واضح کردیا ہے کہ وہ صرف اور صرف ایک ہی ذات ہے جو (ھو الاول والآخر والظاھر والباطن) ہے کہ نہ اس کا کوئی شروع ہے اور نہ ہی کوئی آخر ہے۔ اس کی وضاحت ہم پیچھے بہت سے مقامات پر کرچکے ہیں۔ مثلاً غزوہ الوثقیٰ جلد ہفتم سورة یٰسین کی آیت 36 جلد ہذا سورة الزخرف کی آیت 13۔
Ayah 51:50

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

پھر تم اللہ کی طرف دوڑو بلاشبہ میں تمہارے پاس ڈرانے والا آیا ہوں

تم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف دوڑو بلاشبہ میں تمہارے پاس ڈرانے والا بن کر آیا ہوں 50 ؎ لوگو ! اگر عذاب الٰہی سے محفوظ رہنا چاہتے ہو ‘ اگر آخرت کو سنوارنا چاہتے ہو ‘ اگر تم رضائے الٰہی کے طالب ہو ‘ اگر تم حق کے متلاشی ہو تو تم اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف بھاگو اور جتنا بھاگ سکتے ہو اتنا بھاگو ‘ جتنا دوڑ سکتے ہو اتنا دوڑو اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ شیطان تمہارے پیچھے لگا ہوا ہے اگر تم نے جلدی نہ کی تو نہ معلوم کہ وہ تم کو کسی وقت دبوچ لے اس لئے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اللہ رب کریم کی طرف دوڑو اور اس دنیا کی ہرچیز سے پیچھا چھڑائو اور بھاگو فغروامن کل شی الی اللہ بالتوجہ والمحبۃ والاستغفراق وامتثال الاوامر ہرچیز سے دامن چھڑا کر اس کی طرف بھاگو۔ اس راہ میں جو چیز حائل ہو اسے ٹھوکر سے پرے ہٹا دو اللہ تاعلیٰ کی ذات ہی تمہاری توجہ اور محبت کا مرکز بن جائے۔ اللہ ہی کے ذکر میں تم محور ہو اور اسی کے احکام کو قبول کرنے میں جتنی جلدی کجر سکتے ہو سبقت اختیار کرو۔ تم کو چلانے والے کبھی تم کو کسی طرف چلائیں گے اور کبھی کسی طرف تم جدھر نظر دوڑائو گے تم کو یہی نظر آئے گا کہ چلو چلو لاہورچلو ‘ چلو چلو رائے ونڈ چلو ‘ چلو چلو اسلام آباد چلو ‘ چلو چلو ننگل سادھاں چلو ‘ چلو لیاقت باغ چلو ‘ چلو چلو یادگار پاکستان چلو لیکن یہ سارے کے سارے داعی بالکل دائی ہیں ‘ فریبی ہیں ‘ مکار ہیں تم چلو چلو اور اللہ رب کریم کی طرف چلو کیونکہ یہی ایک راہ ہے جس راہ پر چل کر تم سیدھے منزل مقصود کو حاصل کرسکتے ہو۔ غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف چلانے والے تم کو کون ہیں ؟ ( انی لکم منہ نذیر مبین) بلاشبہ اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جو اس بات کے داعی ہیں کہ تم چل چل اور دوڑ دوڑ کر چلو ‘ بھاگو بھاگو اور دوڑ دوڑ کر بھاگو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف کہ وہی تمہارا داتا ہے اور وہی تمہارا نجات دہندہ ہے اور اسی کے پاس تمہاری دنیا اور آخرت کی کامیابیاں ہیں۔ (انی لکم منہ) میں (ہ) ضمیر ہے اس کا مرجع مفسرین نے عذاب اور غضب بتایا ہے یعنی میں تم کو عذاب اور غضب سے ڈرانے کے لئے آیا ہوں لیکن (منہ) کی ضمیر کا مرجع اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے یعنی میں تم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈرانے کے لئے آیا ہوں از خود نہیں آیا۔ میں تمہارے اندر موجود رہا ‘ میرا بچپن اور جوانی سب تمہاری آنکھوں کے سامنے گزری لیکن میں نے کب تم کو یہ دعوت دی جواب دے رہا ہوں تم اس سے اندازہ کرسکتے ہو کہ مجھے اسی اللہ رب کریم نے تمہاری طرف مبعوث کیا ہے تو میں آیا ہوں اور اسی نے جو پیغام مجھے دیا ہے وہی تم تک پہنچا رہا ہوں۔
Ayah 51:51

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھہراؤ ، میں اللہ کی طرف سے تمہارے پاس صریح ڈرانے والا ہوں

اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنائو میں اللہ کی طرف سے تم کو ڈرانے کیلئے آیا ہوں 51 ؎ لوگو ! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو نہ اس کی ذات میں اور نہ اس کی صفات میں یہ آفاق وانفس کے دلائل جن کا تمہارے سامنے انبار لگا دیا گیا ہے اور اللہ کی یہ کائنات اس کی کھلی کتاب ہے اس کے ایک ایک ورق کی ورق گردانی کرو تم کو جس طرح روز قیامت کا ثبوت ان اوراق میں ملے گا اسی طرح اس کی توحید کے دلائل بھی ملیں گے اور تم پر یہ حقیقت عیاں ہوجائے گی کہ وہ وحدہ لا شریک ہے جو اس محیر العقول کارخانہ قدرت کا خالق ومالک ہے اور اس نے اس میں کسی سے کوئی مدد نہیں لی اور جو بنایا لاریب خوب بنایا ہے۔ وہ کتنا ہی کوئی بدبخت ہوگا جو اس کے ساتھ کسی کو اس کی کسی ایک بھی صفت میں ساجھی یا شریک ٹھہرائے گا یا اس کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت کرے گا۔ خبردار ! اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ اس کے ساتھ کسی کو اس کا شریک نہ بنانا اور کسی کو معبود قرار نہ دیا ورنہ اپنی آخرت اپنے ہاتھوں آپ برباد کرلو گے۔ بلاشبہ میں تمہارے پاس اسی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے ڈرانے والا بن کر آیا ہوں خود بخود ہی تم کو اس طرح کی ہدایت نہیں دینے لگا اگر تم نے اس پیغام کو ٹھکرا دیا تو میرے پیغام کو نہیں ٹھکرائو گے بلکہ اللہ رب کریم کے پیغام کو ٹھکرائو گے اور اگر تم اللہ کے پیغام کو ٹھکرائو گے تو آخر جائو گے کہاں ؟ میں تم کو خبردار کر رہا ہوں اگر تم متنبہ نہ ہوئے تو اپنے پائوں پر خود کلہاڑی مارو گے۔
Ayah 51:52

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اس طرح ان سے پہلے لوگوں کے پاس جب کوئی رسول آیا تو انہوں نے اس کو جادوگر اور دیوانہ ہی کہا

ان لوگوں کے پاس جب بھی کوئی رسول آیا تو انہوں نے جادو گر اور دیوانہ ہی قرار دیا 52 ؎ اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ لوگ جو کچھ آپ ﷺ کے متعلق بیان کرتے ہیں اور اپ کو کبھی جادوگر ‘ کبھی سحر زدہ ‘ کبھی مجنون ‘ کبھی کاہن اور کبھی شاعر کہتے ہیں یہ اس طرح کے الزام دے کر بالکل وہی بات کر رہے ہیں جو ان سے پہلے لوگ اپنے اپنے رسولوں اور نبیوں کے ساتھ کرچکے۔ انہوں نے بھی کبھی اپنے اپنے رسول کو جادوگر اور دیوانہ قرار دیا جس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ جو ان لوگوں نے اپنے رسولوں اور نبیوں کے ساتھ کیا وہی یہ لوگ آپ ﷺ سے کر رہے ہیں تو پھر جو نتیجہ ان کو بھگنتنا پڑا وہی نتیجہ یہ لوگ بھی بھگتیں گے جب عمل ان لوگوں کا اور ان لوگوں کا ایک جیسا ہے تو پھر نتیجہ آخر ایک جیسا کیوں نہیں نکلے گا ؟ گزشتہ قوموں کے ان الزامات سے ان کے نبی و رسول ساحر اور مجنون نہیں بن گئے تھے اور آپ ﷺ بھی ان کے الزامات سے ایسے نہیں بنیں گے۔ پہلے کہنے والوں کا منہ بھی کالا ہوا اور ان کا بھی ہوجائے گا۔
Ayah 51:53

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا وہ ایک دوسرے کو وصیت کر کے مرے ہیں بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں

کیا وہ اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کر کے مرے ہیں بلکہ ایک طرح کے سرکش ہیں 53 ؎ کہاں نوح (علیہ السلام) ‘ کہاں صالح ‘ اور ہود ‘ کہاں موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور کہاں محمد رسول اللہ ﷺ ان سب کے زمانوں میں کتنا بعد اور کتنی دوری ہے لیکن اس زمانی بعد کے باوجود ان کی فکر اور قول میں کتنی یکسانیت ہے ایسا لگتا ہے کہ ہر مرنے والے نے آنے والوں کو یہ وصتک کی تھی کہ ہم نے اپنے اپنے رسولوں اور نبیوں کو ایسا ایسا کہا تھا اور تم اگر ہماری قوم سے ہو تو یہی بات تم کو بھی اپنے دور کے نبی و رسول سے کہنا ہوگی۔ کیا سچ مچ کہیں ایسا ہی تو نہیں ہوا کہ اگلے پچھلوں کو وصیت کرتے گئے ہوں۔ اچھا اگر یہ بات نہیں تو پھر ہم اس کو یوں سمجھیں گے کہ جب کوئی شخص یا کوئی قوم حق کو ٹھکراتی ہے تو وہ اس طرح لوگوں کی سنی سنائی باتوں پر عمل کرتی ہے ‘ حق کی تلاش کبھی نہیں کرتی اور سنی سنائی اور رواج کی باتیں ہمیشہ ایک ہی جیسی ہوتی ہیں۔ غور کرو کہ ہندو کیوں ہندو ہیں ؟ یہودی کیوں یہودی ہیں ؟ اور عیسائی کیوں عیسائی ہیں ؟ اور اس طرح آج کل کی جو تقسیمات معرض وجود میں آئی ہیں کہ کوئی دیوبندی اور کوئی اہل حدیث ‘ کوئی بریلوی ہے اور کوئی شیعہ یہ سارے لوگ ایسے کیوں ہیں ؟ محض اس لئے کہ وہ جن جن گھروں ‘ خاندانوں اور قوموں میں پیدا ہوئے انہی کے ساتھ رواجا وابستہ ہوتے چلے گیے۔ کوئی ہندو سمجھ سوچ کر عقل و فکر کے ساتھ ہندو نہ ہوا اور یہی حال دوسرے سارے گروہوں کا ہے گویا جس طرح دوسرے جانوروں اور جانداروں میں جنسیں ہیں کہ کوئی کبوتر ہے تو کوئی کوا اور کوئی الو ہے تو کوئی بلبل یہ سارے جانور ہونے کے باوجود الگ الگ گروہوں میں تقسیم ہیں بالکل اسی طرح انسان بھی ان گروہوں میں تقسیم ہو کر اپنے اپنے گروہ کے افراد ہیں جس طرح ایک گدھے کا بچہ گدھا ہوتا ہے اسی طرح ایک ملاں کا بچہ ملاں ہوجاتا ہے اور چوہدری کا بچہ چوہدری اور شیخ کا شیخ اور اسی طرح ہندو کا ہندو ‘ برہمن کا برہمن ‘ بریلوی کا بریلوی اور دیوبندی کا دیوبندی۔ اس طرح گویا کوئی بات عقل و فکر اور سمجھ سوچ سے تعلق نہیں رکھتی اس لئے کہ جو پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور رسولوں کو کہا تھا وہی کچھ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کی قوم کہہ رہی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ جس طرح پہلو نے عقل و فکر سے کام لے کر کچھ نہیں کیا یہ لوگ بھی عقل و فکر سے کام لے کر کچھ نہیں کہہ رہے۔ بلکہ یہ شرارت پیچھے سے اسی طرح چلتی آرہی ہے اور سارے سرکشوں کی سرکشی برابر ایک ہی جیسی چلی آرہی ہے۔ پھر نافرمان اور سرکش کیا کرے گا ؟ یہی کہ وہ نافرمانی اور سرکشی کرے گا۔ جب سارے نبیوں اور رسولوں کی دعوت ایک جیسی تھی تو نافرمانی اور سرکشی بھی ایک ہی جیسی ہونی چاہئے تھی اور وہی کچھ ہوا کہ سارے سرکشوں اور نافرمانوں کی سرکشی اور نافرمانی ایک جیسی ہی چلی آرہی ہے یہی وجہ ہے کہ نتیجہ بھی ایک ہی جیسا نکلتا رہا ہے۔
Ayah 51:54

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ ان سے منہ پھیر لیجئے آپ ﷺ پر کوئی الزام نہیں

اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان سے منہ پھیر لیجئے آپ ﷺ پر کوئی الزام نہیں ہے 54۔ نبی و رسول کے ذمہ کیا ہے ؟ فقط پیغام پہنچانا اور پیغام ان تک آپ ﷺ نے پہنچا دیا۔ لیکن پیغام سننے والوں نے پیغام سن کر جو ناک بھوں چڑھائی اور آپ ﷺ کو الٹی سیدھی سنا دیں تو کیا اب آپ ﷺ ان کا پیچھا کریں گے ؟ نہیں ‘ ہرگز نہیں انہوں نے جو کچھ کیا محض اپنی جہالت کے باعث کیا پھر جاہل سے آخر کس چیز کی توقع ہو سکتی ہے ؟ جہالت کی تو آپ ان کی باتوں کی کوئی پرواہ نہ کریں اور نہ ہی کسی کو کوئی جواب دیں بلکہ ان کی جہالت کی باتوں سے اعراض کر جائیں آپ ﷺ پر کوئی الزام نہیں آئے گا کیونکہ کسی کے الزام دینے سے آدمی مجرم نہیں ہوجاتا بلکہ جب یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ محض الزام تھا تو الزام لگانے والوں کا منہ کالا ہوجاتا ہے اور ملزم بری الذمہ قرار پاتا ہے اور مبارکبادیوں کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ (فتولی عنھم) سے مراد اعراض کرنا نہیں بلکہ ان کی پروا نہ کرنا مراد ہے اور اعراض کرنا اور پروانہ کرنا دونوں میں جو فرق ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ بعض مفسرین نے معقول باتوں کا جواب نہ دے سکنے کے بعد اپنے وہمی مفروضوں اور جماعتی لغزشوں کو سہارا دینے کے لئے اس آیت سے استدلال کر کے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی ہے اور اپنے مخالف نظریہ رکھنے والوں سے کسی دلیل کے ساتھ بات نہ کر کے اس آیت کو سہارا بنایا ہے کہ ہم نے جو کچھ کہنا تھا وہ کہہ دیا اب ہم محض تضیع اوقات نہیں چاہتے اگر مانتے ہو تو مانو ورنہ ہماری بلا سے جائو جہنم میں ہمارا سرمت کھائو اور ہم سے کسی دلیل کا مطالبہ مت کرو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو صاف حکم دیا ہے کہ (فتولی عنھم فما الت بملوم) حالانکہ جو بات اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ سے فرمائی ہو ہرگز ہرگز یہ نہیں تھی جو ہمارے مفسرین نے اپنے وہمی مفروضوں کا مدلل جواب سن کر ارشاد فرما دی اور علم کے مدعی ہونے کے باوجود جہالت کا مظاہرہ کیا اور آنے والی ہدایت کا ذرا بھی خیال نہ کیا گیا۔
Ayah 51:55

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

اور (ان کو) سمجھاتے رہیے کہ بلاشبہ نصیحت ایمان والوں کو فائدہ پہنچاتی ہے

ہاں ! آپ ﷺ ان کو سمجھاتے رہئے کہ بلاشبہ نصیحت ایمان والوں کو فائدہ دیتی ہے 55 ؎ اگر وہ بات ہو جو ہمارے بعض مفسرین نے ارشاد فرمائی ہے تو قرآن کریم میں تضاد ثابت ہوجاتا ہے اور وہ بھی ایک آیت کے بعد دوسری آیت میں حالانکہ قرآن کریم میں کسی طرح کا کوئی تضاد نہیں اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ گزشتہ آیت میں مخالفین کے الزامات کا جواب نہ دینے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان لوگوں کے الزامات کی کچھ پروا نہ کریں اور زیر نظر آیت میں اس کی مزید وضاحت فرما دی کہ آپ اپنا کام منہ دھیان کرتے چلے جائیں کیونکہ آپ ﷺ کا کام نصیحت کرنا ہے اور آپ ﷺ کے علم میں یہ بات نہیں دی گئی کہ آپ ﷺ کی نصیحت کو کون قبول کرے گا اور کون نہیں کرے گا اور یہ کہ جو قبول کرے گا وہ کب کرے گا ‘ آج یا کل ؟ اس لئے آپ ﷺ اپنا کام جاری رکھیں کسی جاہل سے الجھنے کی ضرورت نہیں اور ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کی نصیحت اگر کام دے گی تو ان ہی لوگوں کو کام دے گی جن کے دلوں میں ایمان کا نور موجود ہے اور جو ڈھول کی طرح اندر سے بالکل خالی ہیں وہ سوائے بجنے اور شور بپا کرنے کے کچھ نہیں کرسکتے۔ بس آپ ﷺ اپنا کام جاری رکھیں جو ایمان لاتے ہیں وہ سو بار لائیں اور جو کفر پر قائم رہنا چاہتے ہیں ان کی اپنی مرضی اور جو منافقت سے کام لیتے ہیں وہ بھی اپنا نقصان آپ کرتے ہیں آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
Ayah 51:56

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے

میں نے جنوں اور انسانوں کو فقط اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے 56 ؎ لفظ جن کا اطلاق پوری کائنات کی ہر اس مخلوق پر محیط ہے جو مخلوق پوشیدہ رہتی ہے ۔ کبھی ظاہر ہوتی ہے اور کبھی پوشیدہ ہوجاتی ہے۔ بالکل مخفی ہے کہ نظر آہی نہیں سکتی۔ وہ جو اس قدر زور آور ہے کہ اس پر مشکل سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ وہ مخلوق جو ذوی العقول نہیں ہے۔ وہ مخلوق جو من حیث الجنس انسان سے تعلق رکھتی ہے لیکن بود و باش میں وہ مدنی نہیں ہے بلکہ بدوی اور سفری ہے۔ وہ مخلوق جس کی اصل آگ سے ہے وہ مرئی نہیں بلکہ بالکل مخفی ہے اور ملک یعنی فرشتہ کی ضد ہے جو مجسمہ برائی ہے اور خیر کا اس میں کوئی عنصر نہیں ہے۔ قرآن کریم میں ان ساری اصناف کا ذکر موجود ہے چونکہ ان سب پر مشمول انسان کے لفظ جن کا اطلاق ہوتا ہے اس لئے اس میں اختلاف ناگزیر تھا ہے اور رہے گا۔ لیکن جب بنیادی طور پر کوئی اختلاف نہ ہو تو فرعی اختلاف مہلک نہیں بلکہ مفید ہے اور اس کا ہونا اور اس کا موجود رہنا لازم و ضروری ہے بلکہ انسانی ترقیوں اور ایجادات کا سارا انحصار اس پر ہے کہ یہ اختلاف موجود رہے تاکہ بات سے بات نکلتی اور پھیلتی رہے تفصیلات اس کی بہت لمبی ہیں اور پیچھے ہم ضروری مقامات پر اس کی وضاحت بھی کرتے آ رہے ہیں وہ قارئین کرام جو اس تفسیر کا مسلسل مطالعہ کرتے آ رہے ہیں ان پر بہت سی باتیں واضح ہوچکی ہوں گی اور وہ حقیقت کو یقینا سمجھ چکے ہوں گے تاہم ان شاء اللہ العزیز اس کی مزید وضاحت سورة الجن ہی میں ہوگی کیونکہ اس کے ساتھ اس کی مناسبت موجود ہے۔ اس جگہ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ مخلوق جس پر جن کا اطلاق ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود مکلف بھی ہے وہ وہی مخلوق ہے جو من حیث الجنس تو انسان سے تعلق رکھتی ہے لیکن چونکہ وہ مدنی نہیں بلکہ بدوی اور سفری ہے وہ طبعاً مدنیت کو پسند نہیں کرتی اس لئے اس پر جن کا لفظ اطلاق کرتا ہے اور قرآن کریم جس طرح انسانوں کو مخاطب کرتا ہے بالکل اسی طرح جنوں کو بھی مخاطب کرتا ہے جس طرح انسانوں کو مکلف قرار دیتا ہے بالکل اسی طرح ان جنوں کو بھی مکلف قرار دیتا ہے۔ جو نبی و رسول ان انسانوں کے لئے ہے وہ نبی و رسول ان جنوں کے لئے بھی ہے۔ حلت و حرمت کا جو قانون ان انسانوں کے لئے ہے وہ ان جنوں کے لئے بھی ہے اور ان دونوں میں کسی طرح کا کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا۔ یہ جن چونکہ من حیث الجنس انسان ہی ہیں اس لئے انسانوں کے ساتھ ان کے تعلقات و روابط ‘ لین دین اور ایک دوسرے سے میل جول اکثر ہوتا رہتا ہے اور یہ بات معروف ہے۔ قرآن کریم نے ان کو اسی نام سے یاد کیا ہے جو ان کو اپنی بود و باش اور رہن سہن کے طریقوں کے لحاظ سے پسند ہے اور دونوں کو ایک ہی جیسا مکلف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے ان کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے یعنی میں نے جن و انس کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میں انہیں حکم دوں کہ وہ میری عبادت کریں کیونکہ یہی مکلف ہیں اور مکلف ہیں تو محض اس لئے کہ صاحب ارادہ ہیں اور ان کو ایک حد تک اختیار بھی دیا گیا ہے کہ چاہیں عبادت کریں اور چاہیں نہ کریں۔ باقی مخلوق میں سے کوئی ایک مخلوق بھی ایسی نہیں پیدا کی گئی جو چاہے تو ایک کام کرے اور چاہے تو نہ کرے وہ جس کام اور جس مقصد کے لئے پیدا کی گئی ہے وہ اسی پر مجبور بھی کردی گئی ہے کہ وہ اپنے مقصد کو پورا کرے۔ اس کو اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ چاہے ایک کام کرے اور چاہے نہ کرے ملائکہ یعنی فرشتے ایک غیر مرئی مخلوق ہے لیکن یہ ارادہ اس میں نہیں رکھا گیا کہ وہ چاہے ایک کام کرے اور چاہے نہ کرے۔ نہیں ہرگز نہیں بلکہ جس مقصد کے لئے ان کو پیدا کیا گیا وہ مقصد وہ پورا کر رہے ہیں اور کرتے ہی رہیں گے۔ سورج کتنی بڑی چیز ہے کہ اگر یہ زمین پر رکھا جائے تو امین کو بشمول اس کے سمندروں کے ڈھانپ لے لیکن کیا وہ صاحب ارادہ ہے ؟ کہ چاہے طلوع ہو اور چاہے نہ ہو یا وہ جب چاہے طلوع ہو اور جب چاہے غروب ہو۔ اس طرح اسی کائنات ارضی و سماوی میں سے ایک ایک کے متعلق غور کرتے چلے جائو تو تم کسی ایک کو بھی صاحب ارادہ و اختیار نہیں پائو گے۔ ہاں ! صرف اور صرف انسان ہی ایسی مخلوق ہے جس کو عقل و فہم ‘ امتیاز و اختیار کی نعمتیں ارزاں کی گئی ہیں اس لئے ان کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی جبین نیاز اپنے ارادہ اور اختیار کے ساتھ اس ذات الٰہ کے سامنے جھکائے جس نے اس کو صاحب ارادہ اور اختیار بنایا ہے اور اپنے ان احسانات سے اسے مالا کردیا۔ اب اگر وہ کسی اور کی عبادت کرنے لگے جو اس کا خالق نہیں ہے اور اس کو اس نے صاحب ارادہ اختیار نہیں بنایا تو یہ اس کی نافرمانی اور الحاد ہوگا اور پھر اس کی اس نافرمانی اور الحاد کی سزا بھی ضرور ملنی چاہئے کیونکہ اس نے اپنے ارادہ و اختیار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی بجائے غیر اللہ کی عبادت کی یا اپنے ارادہ و اختیار سے عبادت کے قریب نہ گیا اور اپنی طبع کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ اگر ان مکلف جنوں اور انسانوں کو ایک جنس سے تعبیر نہ کیا جائے تو وہ دونوں ایک امت اور ایک قوم نہیں ہو سکتے اور پھر جب ایک امت اور ایک قوم نہ ہوں تو ضروری ہے کہ ان دونوں امتوں اور دونوں قوموں سے الگ الگ رسول و نبی آئیں اور وہ اپنی اپنی امت اور قوم کو نبوت کا پیغام پہنچائیں اور اس طرح دونوں کے لئے الگ الگ قانون ‘ الگ الگ کتاب ‘ الگ الگ رسول اور الگ الگ احکام ہوں جو ان کی قومی زندگی کے مطابق ہوں۔ لیکن ہمارے مفسرین میں سے یہ بات کسی نے بھی تسلیم نہیں کی اور نہ ہی کتاب و سنت میں کہیں ان کی ہدایت و راہنمائی کے الگ الگ اصول و طریقے بتائے گئے ہیں بلکہ آنے والا نبی و رسول ان دونوں اصناف کے لئے یکساں ایک جیسا تسلیم کیا گیا ہے اور ہر نبی و رسول ان دونوں اصناف کے لئے بنایا گیا ہے حالانکہ قرآن کریم نے ایک جگہ نہیں اور ایک بار نہیں بلکہ بہت سے مقامات اور بہت سی جگہوں پر اس کی وضاحت کی ہے کہ ” ہم نے ہر ایک قوم کے لئے ایک رسول بھیجا ہے “۔ ( یونس : 37) اور یقینا ہمیں نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا ہے۔ “ (النحل : 36) ” اور ہم نے آپ ﷺ سے پہلے کتنے رسول ان کی اپنی اپنی قوم میں بھیجے۔ “ (الروم : 47) اور ہر قوم کے لئے ایک راہنما آیا۔ “ (الرعد : 7) ” اور کوئی قوم نہیں جس میں ایک نہ ایک ڈرانے والا نہ آیا ہو۔ “ (فاطر : 24) اور ہم نے پہلی قوموں میں کتنے رسول بھیجے اور ہم نے ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی بولی میں بھیجا تاکہ وہ ان کو حقیقت حال سے آگاہ کرسکے۔ “ (ابراہیم : 5) پھر کوئی صاحب بتائیں کہ اگر یہ جن اور انسان ایک قوم نہیں اور ایک جنس نہیں تو ایک قوم ور جنس کا رسول دوسری قوم اور جنس کے لئے کیسے رسول بنایا گیا ؟ اس کی کوئی دلیل ؟ عورت اور مرد ایک جنس کی دو اصناف ہیں لیکن ایک جنس ہونے کے باعث ان کا رسول ایک ہی رہا۔ دنیا کے سارے انسان ایک ہی جنس سے تعلق رکھتے ہیں خواہ وہ کافر ہیں یا مسلمان ‘ ہندو ہیں یا سکھ ‘ یہودی ہیں یا عیسائی بہرحال ایک جنس ہونے کے باعث محمد رسول اللہ ﷺ (کافتہ للناس) کے لئے رسول بنا کر مبعوث کئے گئے دنیا میں جتنے رسول اور نبی بنا کر بھیجے گئے چونکہ وہ انسانوں ہی کی طرف نبی و رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اس لئے پوری دنیا کے رسولوں اور نبیوں پر ایمان لانا شرط اسلام قرار دیا گیا اور کسی ایک نبی و رسول کی نبوت و رسالت کا انکار سارے نبیوں اور رسولوں کی نبوت و رسالت کا انکار تصور کیا گیا۔ جس کی وضاحت ہم پیچھے سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مثلاً غزوہ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ کی آیت 177 ‘ 285 ‘ جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 74 ‘ سورة النساء کی آیت 136 ‘ 150 ‘ 152 ‘ وغیرہ وغیرہ میں۔ پھر اس کی مزید وضاحت اسی جلد کی سورة الاحقاف کی آیت 29 میں بھی کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔