51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 51:57

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کچھ کھلائیں پلائیں

میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھ کو کھلائیں 57 ؎ گزشتہ آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا تھا کہ ” میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے “ اس کی مزید وضاحت اس زیر نظر آیت نے کردی ہے وہ اس طرح کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کی بہت ضرورت ہے کہ کوئی اس کی عبادت کرے اور ظاہر ہے کہ ضرورت احتیاج کی نشاندہی کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کسی کی محتاج نہیں اور نہ ہی اس کو کسی کی احتیاج ہے بلکہ اس کا اصل مقصد تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مکلف مخلوق کے فرائض میں یہ چیز رکھ دی ہے کہ وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور کسی دوسرے کی عبادت نہ کریں اور ان کو اس کا مکلف بنایا گیا ہے۔ کہ وہ یہ فریضہ ‘ فریضہ سمجھ کر ادا کریں اور بالا راہ اور بالا اختیار کسی دوسرے کی عبادت نہ کریں اور ان کو اس کا مکلف بنایا گیا ہے کہ وہ یہ فریضہ ‘ فریضہ سمجھ کر ادا کریں اور بالا راہ اور با لا اختیار کسی دوسرے کی عبادت نہ کریں اور یہ کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو اپنی ذمہ داری اور اپنا فرض بالا رادہ پورا کریں گے اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو بالاختیار اور بالا ارادہ ایسا نہیں کریں گے اور پھر ایسا نہ کر کے وہ ایک ایسے جرم کے مرتکب ہوں گے جس جرم کی پاداش میں ان کو سزا دی جاسکے گی اور اگر وہ اس کی پابندی کریں گے تو چونکہ انہوں نے یہ پابندی بالا رادہ اور بالاختیار کی ہوگی اس لئے وہ اس کے مستحق ٹھہریں گے کہ ان کو انعام و اکرام دیا جائے لہٰذا اگر وہ پابندی کریں گے تو یقینا ان کو انعام و اکرام بھی دیا جائے گا۔ اب زیر نظر آیت میں اس کی وضاحت اس طرح فرمائی کہ محتاجوں کی جتنی احتیاجیں بھی اس دنیا میں موجود ہیں سب سے بڑی اور اہم احتیاج رزق کی ہے اور میں نے ان سے جب رزق کا مطالبہ نہیں کیا تو آخر کیوں نہیں کیا ؟ محض اس لئے کہ مجھے کسی چیز کی بھی احتیاج نہیں ہے اور نہ ہی میں ان سے رزق کا طلب گار ہوں جو ساری احتیاجوں میں بڑی احتیاج سمجھی گئی ہے اور نہ ہی میں نے اس لئے ان کو عبادت کا حکم دیا ہے کہ مجھے ان کے سجدوں اور ان کی طاعتوں کی حاجت ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ اس میں بھی ان ہی کا فائدہ ہے کہ میرے ہاں جب وہ سرنیاز جھکائیں گے تو ان کی خفتہ صلاحیتیں بیدار ہوجائیں گی اور ان کو حیوانی اور شیطانی ہتھکنڈوں سے چھٹکارا مل جائے گا اور پھر ان کا عقاب ہمت ایسی بلندیوں پر پرواز کرے گا جہاں فرشتوں کی رسائی بھی ممکن نہیں ہے۔ غور کرو کہ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت سے محروم رہتے ہیں ساری عمران کا قدم حیوانی زندگی کے دائرہ سے باہر نہیں نکلتا۔ انہیں انسانی عظمتوں اور اس کی صلاحیتوں کی بیکرانیوں کا علم ہی نہیں ہوتا وہ ہمیشہ حیوانی زندگی کی لذتوں ہی میں مگن رہتے ہیں اور اپنی اصلاح کے زریں مواقع ضائع کردیتے ہیں۔ فرمایا اگر تم غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ صرف انسانوں ہی کا نہیں بلکہ اس پوری کائنات کی روزی کا بندوبست تو اس کے اپنے ذمہ ہے وہی سب کو کھلاتا اور پلاتا ہے اور اس طرح کھلاتا پلاتا ہے کہ خود نہیں کھاتا اور پیتا۔ انسانوں کی ساری کوششوں کو بار آور کرنے والا وہ خود ہے اور وہ صرف وہ ہی ہے جو خود نہیں کھاتا اور دوسروں کو کھلاتا ہے ۔ قرآن کریم نے کتنی وضاحت اور صفائی سے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں لوگوں سے رق نہیں چاہتا کہ وہ مجھے کھلائیں اور احادیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے بعض بندوں کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ اے آدم کے بیٹے میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں دیا۔ بندہ کہے گا کہ اے میرے اللہ ! میں تجھے کھانا کیسے دیتا تو رب العالمین ہے ؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا لیکن تو نے اس کو نہیں کھلایا اگر تو اس کو کھانا کھلا دیتا تو مجھے اس کے پاس موجود پاتا۔ (رواء مسلم ‘ عن ابی ہریرہ ؓ) اس سے کیا بات معلوم ہوئی ؟ بشمول قرآن کریم کی اس آیت کے اور اس حدیث اور اس حدیث جیسی ساری دوسری حدیثوں سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مانگنا وہ مانگتا ہوتا ہے جو اپنی ذات کے لئے مانگا جائے خواہ وہ مکمل طور پر اپنی ذات کے لئے ہو یا اپنی ذات کا اس میں کچھ حصہ ہو۔ جیسے آج کل کے مانگنے والوں کا حال ہے اور وہ مانگنے والے جو دوسروں کے لئے صرف لوگوں کی توجہ دلاتے ہیں لیکن خود اس مال کو ہاتھ تک نہیں لگاتے ان کا مانگنا اور اپیل کرنا ماگنا نہیں کہلاتا بلکہ دوسروں کو محض توجہ دلانے کے ضمن میں آتا ہے اور یہ توجہ خود اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے بھی دلائی ہے جو ہر طرح کی احتیاج سے پاک ہے ور رسول اللہ ﷺ نے بھی توجہ دلائی ہے لیکن اپنی ذات کے لئے اس مال کا استعمال کبھی روا نہیں رکھا اور نہ ہی استعمال کیا ہے۔ زیر نظر آیت کو گزشتہ آیت سے ملا کر اس کے مفہوم کو سمجھنے کی ایک بار پھر کوشش کریں فرمایا اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو ایک جنس کی دو اقسام میں پیدا کیا ہے ۔ انہیں اپنی کسی احتیاج کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ ہر حال میں ان کا نخرہ پورا کرے اور ان کی ناز برداری کرتا رہے۔ اس کو اپنی سلطنت کی حفاظت و نگرانی کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کی حکومت اس کے اپنے ذمہ اور اپنی قوت پر قائم ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ اس دنیا کے سارے لوگ خواہ وہ کون ہیں ‘ کہاں ہیں اور کیسے ہیں اسی کے محتاج ہیں۔ اس نے ان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی عبادت و اطاعت کا حق ادا کر کے سعادت و کمال کے مدارج حاصل کریں جو اس نے ان کے لئے مقرر کر رکھے ہیں۔ اس مقصد کی یاد دہانی کے لئے اس نے رسول بھیجے تاکہ لوگوں پر اصل حقیقت واضح ہوجائے لیکن رسول کی ذمہ داری صرف حق کو واضح کردینے کی ہے جب رسول نے اس ذمہ داری کو پورا کردیا تو وہ بری الذمہ ہوگیا اگر لوگوں نے اس کی دعوت کو قبول نہ کیا تو انہوں نے قبول نہ کر کے خود اپنا نقصان کیا اللہ اور اس کے رسول کا کچھ نہیں بگاڑا کہ ہر ممکن ان کو راضی کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ اللہ اور اس کا رسول اس نقصان سے بچ جائیں۔ اللہ کی ذات نقصان سے پاک ہے اور اللہ کا رسول ویسے ہی اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہے۔ رہے لوگ وہ سمجھتے ہیں تو ان کا فائدہ ہے اگر نہیں سمجھتے تو اپنے پائوں پر خود کلہاڑی چلا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نہ تو ان کے رزق کا محتاج ہے اور نہ اس کو ضرورت ہے کہ یہ لوگ مجھ کو کھلائیں۔ وہ بےنیاز ہے ‘ اس نے جو کچھ کیا ہے محض انسانوں کے فائدہ کے لئے کیا اور اگر وہ ان کو لوگوں کی ضرورتوں کی طرف توجہ دلاتا ہے تو محض اس لئے کہ وہ اسطرح اللہ کے شکر گزار بندے بن جائیں نہ اس لئے کہ اب اس کو کوئی ضرورت لاحق ہوگئی ہے۔ 58 ؎ زیر نظر آیت پر غور کرو کہ پوری آیت کے سارے الفاظ میں صرف لفظ (ان) کے سوا اللہ تعالیٰ کے ذاتی اور صفاتی نام ہیں اور پھر ان ناموں کو کس طرح جوڑ کر بیان کردیا گیا ہے کہ بہت بڑا مفہوم اس میں پنہاں نظر آ رہا ہے۔ علاوہ ازیں قرآن کریم کی کوئی آیت ایسی نہیں جس میں صرف ایک ہی لفظ استعمال کر کے آیت کا مضمون اس طرح اللہ تعالیٰ کے ذاتی اور صفاتی ناموں سے پورا کردیا گیا ہو۔ ہاں ! بعض آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے ذاتی اور صفاتی نام اکٹھے بیان ہوئے ہیں اور وہ پانچ ‘ چھ سے زیادہ بھی ہیں لیکن ان میں دوسرے الفاظ بھی ایک سے زائد آئے ہیں جیسے سورة الحشر کی آیت 22 ‘ 23 اور 24۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے ذاتی نام کے ساتھ صفاتی ناموں کا تسلسل بیان ایک بہت بڑی خوبی ہے اور اس خوبی کے باعث لوگوں نے سورة الحشر کی آیت 22 ‘ 24 کو اسم اعظم کی آیت قرار دے کر اس کے وظیفہ کا حکم دیا ہے اور اس کے فضائل میں بہت کچھ تحریر کیا گیا ہے لیکن ہمارے خیال میں اس لحاظ سے قران کریم کی دوسری آیتوں کے مقابلہ میں زیرنظر آیت کو ترجیح دی جانا ضروری ہے۔ لیکن علامہ امین احسن اصلاحی (رح) نے اپنے استاد گرامی قدر علامہ فراہی رحمتہ اللہ کے حوالہ سے ایک عجیب نقطہ بیان کیا ہے جو شاید علامہ امین احسن (رح) کو بہت پسند آیا ہوگا اس لئے اس کا خصوصاً ذکر کیا ہے لیکن جو نقطہ فراہمی (رح) نے بیان کیا ہے اس میں سوائے تکلف کے ہمیں کوئی بات نظر نہیں آئی اور (المعین) کو حالت رفع میں سمجھنے کی بجائے اس کو مجرور بنانے اور سمجھانے کے لئے جو قاعدہ بتایا ہے اس کو ہم نے محض تکلف کا نام دیا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ علامہ (رح) نے جو توجیہہ پیش کی ہے کہ لفظ متین اللہ تعالیٰ کی صفت کی حیثیت سے قرآن کریم میں کہیں اور نہیں آیا۔ اس بات کو ہم اس وقت صحیح سمجھتے جب اللہ تعالیٰ کے دوسرے صفاتی نام قرآن کریم میں من و عن موجود ہوتے حالانکہ یہ بات بالکل واضح اور صاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کتنے ہی صفاتی نام ہیں جو قرآن کریم میں اپنی اس حالت میں بھی موجود نہیں ہیں اور کتنے ہی نام ہیں جن کے مشقات قرآن کریم میں ملتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جن کے مشقات بھی بیان نہیں ہوئے محض مادہ استعمال ہوا ہے پھر ان صفاتی ناموں میں سے صرف ایک نام (المعین) ہی کو کیوں الگ کیا جائے اس لئے کہ (معین) کا لفظ اللہ تعالیٰ کی صفت کی حیثیت سے قرآن کریم میں کہیں اور استعمال نہیں ہوا۔ اگر یہ ضروری قرار دیا جائے تو پہلے دن صفاتی ناموں کو نکلنا چاہئے جن کے مشقات بھی بعینہ قرآن کریم میں نہیں ملتے صرف مادے پائے جاتے ہیں۔ مثلاً (الخافض ‘ الواحد ‘ المجد ‘ المقدم ‘ الموخر ‘ المعطی ‘ المانع ‘ الضار ‘ النافع ‘ الرشید ‘ العدل ‘ الجلیل) حالانکہ یہ صفاتی نام معروف صفاتی نام ہیں پھر ان میں ایک (المتین) بھی داخل سمجھ لیں تو کیا ہوگا ؟ اور اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے وہ اسماء جو بعینہ قرآن کریم میں موجود نہیں مگر ان کے مشقات مذکور ہیں تو ان سے بھی زیادہ ہیں جن کے مشقات بھی بعینہ قرآن کریم میں نہیں ملتے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گام ہے۔ بہرحال ( المعین) کو اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں سے نکالنے کے لئے اس تکلف کی کوئی ضرورت نہیں جس کی تکلیف علامہ فراہمی (رح) نے کی اور اصلاحی (رح) نے شاگردی کے لحاظ میں اس کو بہت پسند کیا جب کہ یہ صفاتی نام کتب احادیث میں بھی مع اپنی فضیلت کے آ چکے ہیں۔ ہاں ! اگر ان احادیث پر کوئی اعترض ہے تو اس کا رنگ کوئی دوسرا اختیار کیا جائے اس لئے کہ علامہ (رح) کے اس رنگ میں بھنگ پڑگئی ہے۔ یہ بات قبل ازیں ہم نے بہت دفعہ عرض کی ہے کہ بعض اوقات بڑے بڑے قابل اور عقل مند لوگ بھی ایسی بات کہہ دیتے ہیں جس میں کوئی خاص وزن نہیں ہوتا لیکن بعد میں آنے والے ان کے اپنے وزن سے اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ ان کی بےوزن بات میں بھی ان کو بہت وزن محسوس ہونے لگتا ہے۔ حالانکہ اسلام نے بہت سنہری اصول بتا دیا ہے کہ انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کے بعد کسی شخص کو معصوم تسلیم نہ کیا جائے ورنہ اس سے بہت خرابیاں پیدا ہوں گی اور عزت و احترام اس چیز کا نام نہیں کہ کسی غیر نبی و رسول بزرگ کی بات کو وہ اہمیت دی جائے جو کسی نبی و رسول کی بات ہی کو دی جاسکتی ہو وہ بھی اس وقت جب اچھی طرح ثابت ہوجائے کہ یہ بات واقعی نبی و رسول کی ہے۔
Ayah 51:58

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ ہی روزی دینے والا بڑا زور آور سلجھا ہوا ہے

بلاشبہ ان ظالموں کا حصہ بھی مقرر ہے جیسا کہ ان کے ساتھیوں کا تھا لیکن وہ جلدی نہ کریں 59 ؎ (ظلموا) ان لوگوں نے کفر ‘ شرک ‘ ‘ نفاق اور دوسری بہت سی معاصی کا ارتکاب کر کے اپنی فطرت سلیمہ کو ضائع کردیا ہے اور بجائے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے جس کا ان کو مکلف بنایا گیا ہے اور جس کی تخلیقی صلاحیتیں ان کو دی گئی ہیں ان کا کفران نعمت کر کے انہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا ہے اور ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے اور آخرت سے انکار کر کے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کرلیا ہے یقینا ان ظالموں کو بھی ان کا حصہ ملے گا جیسا کہ ان سے پہلے ظالموں کو ملا یعنی وہ ظالم جو ان مکہ کے ظالموں سے پہلے تھے جنہوں نے اپنے اپنے دور میں اپنے اپنے نبی و رسول کی تعلیمات کو جھٹلایا جیسے قوم نوح ‘ عاد یا ثمود ‘ قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ۔ (ذنوبا) ذنب کی جمع ہے اور ذنب کے معنی الزام کے بھی ہیں اور ڈول کے بھی اور خصوصاً وہ ڈول جو پانی کا بھرا ہوا ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ ڈول نے اتنا پانی حاصل کرلیا جتنا کہ اس کا حصہ تھا اور اس نسبت سے یہاں یہ لفظ آیا ہے کہ پہلے ظالموں کے حصہ کا جو عذاب تھا انہوں نے اس دنیا کا حصہ پا لیا اور یہ لوگ بھی اس دنیا کے عذاب کا حصلہ جو ان کے لئے مقرر ہے حاصل کرلیں گے اور پھر آخرت میں بھی جو کچھ ان کے حصہ کا ہے ان کو مل جائے گا اور جو ان کے حصہ کا ہے ان کو مل جائے گا۔ پس اپنے مخاطبین کو آپ اتنی بات کہہ دیں کہ وہ جلدی نہ کریں عذاب آئے گا اور ضرور آئے گا اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو ہم بھی اپنی روش بدلنے والے نہیں لیکن جو مہلت ان کو ہمارے قانون میں دی جا چکی ہے وہ تو ان کو پوری کرنا ہی ہوگی اس لئے کہ ان ہی میں ایسے بھی ہیں جو اس مہلت سے استفادہ کرتے ہوئے توبہ و استغفار کر کے بچ نکلنے والے ہیں پھر ہم ان کی خاطر اپنے قانون کو بدلنے والے نہیں۔ جب ان کے عذاب کا وقت آجائے گا تو ان میں سے بھاگنے والوں کو بھی وہ نہیں چھوڑے گا لیکن جب تک ان کی وہ مہلت پوری نہیں ہوتی جو ہماری طرف سے دی جا چکی ہے تو اس وقت تک یہ دندناتے بھی پھریں تو ہم جلدی کرنے والے نہیں اور ان کے لئے بھی بہتر یہی ہے کہ وہ جلدی نہ کریں۔ کہاوت ہے کہ سہج پکے سو میٹھا ہو۔
Ayah 51:59

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

پھر بلاشبہ ان ظالموں کا بھی (عذاب کا) حصہ مقرر ہے جیسا ان کے ساتھیوں کا تھا پس وہ جلدی نہ کریں

منکرین کے لئے بڑی ہی خرابی ہے اس دن جس دن کا ان سے وعدہ کیا جا چکا ہے 60 ؎ کافروں ‘ منکروں ‘ مشرکوں اور منافقوں کے لئے کیا ہے ؟ افسوس ہی افسوس تو ہے آج بھی اور کل بھی ‘ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کے لئے خرابی ہی خرابی ہے۔ یقینا وہ متعین دن بھی آئے گا جو ان کے وعدہ کے لئے مقرر کیا جا چکا ہے یعنی قیامت سے اگر وہ انکار کر رہے ہیں تو ان کے انکار کے باعث نہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ ان کو یقین دلوانے کے لئے ہم اس دن کو جلدی لے آئیں اور نہ ہی یہ ہو سکتا ہے کہ اس کو موخر کردیں اور ان سے آج ہی نمٹ لیں تاکہ ان کو اپنے کئے کا جلد حصہ مل جائے۔ نہیں جو ان کو وعدہ دیا گیا ہے اس کا وہ انتظار کریں کیا ان سے پہلے جن لوگوں نے انکار کیا تھا وہ اس وعدہ کے دن کو نہیں پہنچے جو یہ نہیں پہنچیں گے۔ دیکھ لو کہ ان کے لئے جو وقت مقرر تھا اس کو آتے کتنی دیر لگی اور ان کو بھی اس سے سمجھ لینا چاہئے کہ جب ان کا متعین وقت آئے گا تو ان کو بھی اس حالت سے نہیں بدلنے دیا جائے گا جس حالت میں وہ اس وقت ہوں گے۔ اس مضمون پر سورة الذاریات ختم ہو رہی ہے۔ اللہ جل جلالہ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق دے۔ رب اغفر وارحم انت خیر الراحمین۔ عبدالکریم اثری 12 فروری
Ayah 51:60

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

پس منکرین حق کے لیے بڑی ہی خرابی ہوگی اس دن جس (دن) کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے

تعارف سورة (الطور) نام سورت اس سورت کا نام سورة الطور ہے اور یہ لفظ اس سورت کی پہلی آیت یا پہلا لفظ ہے یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اس لئے مکی کہلاتی ہے اس سورت میں 2 رکوع اور 49 آیات کریمات بیان کی گئی ہیں۔ سورت کا نزول نمبر 76 ہے۔ اور تریب موجودہ میں اس کا نمبر 52۔ اس سورت میں 312 کلمات اور 1500 حروف بیان کئے گئے ہیں لیکن جیسا کہ ہم پہلے کئی بار کہہ چکے ان کو ہم نے خود شمار نہیں کیا بلکہ گزشتہ تحریرات پر انحصار کیا ہے۔ یہ سورت سورة الذاریات سے کچھ عرصہ بعد نازل ہوئی تاہم مکی ہونے کے باعث اس کے مضامین مکی سورتوں ہی سے ملتے جلتے ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ مکی سورتوں میں توحید الٰہی کا بیان ہے اور اس کے ساتھ منکرین قیامت کو قیامت کے دن کی یقین دہانی کرائی گئی ہے اور اس موضوع پر ان کو دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ موضوع سورت جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ کفار مکہ قیامت کا نہایت سختی سے انکار کرتے تھے اور نبی اعظم و آخر ﷺ کو اس معاملہ میں جھٹلاتے تھے اور اس طرح چونکہ قرآن کریم میں اس کے اثبات کے دلائل تھے لہٰذا وہ قرآن کریم پر معترض تھے اور برملا کہتے تھے یہ محمد ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے اور یہ اللہ کا کلام نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس نظریہ کی دلائل سے تردید کی ہے اور ساتھ ہی نبی اعظم و آخر ﷺ کو تاکید کی ہے کہ یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں ان کو کہنے دیں اور آپ ﷺ اپنا کام ثابت قدمی سے جاری رکھیں اور سمجھ لیں کہ ان کی یہ باتیں ہم اچھی طرح سن رہے ہیں اور اس سورت کا خلاصہ مختصر الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ : آیت اسے آیت 28 تک بتایا گیا ہے کہ قیامت آئے گی اور اس بات کو قسم سے موکد کیا گیا ہے جیسا کہ گزشتہ سورت الذاریات میں موکد کیا گیا تھا اور ان کو کہا گیا ہے کہ قیامت آئے گی اور تم لوگوں کو ہزار ہا سال گزرنے کے بعد بھی اسی طرح اٹھا کر کھڑا کردیا جائے گا جیسے تم لوگ ابھی سوئے ہی تھے اور پھر تم کو میدان حشر میں لا کر کھڑا کردیا جائے گا اور اس جگہ ان کی دنیوی زندگی کے متعلق دریافت کیا جائے گا اور پھر ان سے استغفار بھی کیا جائے گا کہ کیا یہ وہی دن نہیں ہے جس کا تم کو وعدہ دیا جاتا تھا اور تم اس کا مسلسل انکار کرتے جاتے تھے ؟ اگر کوئی شخص کسی حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو کیا وہ حقیقت حقیقت نہیں رہتی ؟ تم اگر ایک سچائی کو قبول نہ کرو تو تمہارے قبول نہ کرنے کے باعث وہ حقیقت جھوٹ میں بدل جائے گی ؟ پھر منکرین اور متبعین کو جو قیامت کے روز پیش آنے والا ہے اس کی وضاحت بیان کی گئی ہے تاکہ اگر کوئی غور و فکر کرنا چاہتا ہے تو کرلے کہ ابھی ان کے لئے مہلت باقی ہے۔ آیت 21 میں ایک پختہ اصول کا اعلان کیا گیا ہے کہ اچھی طرح سن لو اور یاد رکھو کہ جیسا کرو گے ویسا ہی بھرو گے۔ جو بوئو گے وہی کاٹو گے۔ پھر آیت 29 سے آیت 49 تک نبی اعظم و آخر ﷺ کی رسالت کے منکرین اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں کو مخاطب کیا گیا ہے وار ان کو وعیدیں سنائی گئی ہیں اور ان کے جھٹلانے کے انجام سے ان کو خبردار کیا گیا ہے ۔ کفار سے کہا گیا ہے کہ جب تم کو توحید الٰہی کے دلائل دیئے جاتے ہیں تو ان کو سننے کی بجائے تم شورو غوغا شروع کردیتے ہو اس کی وجہ کیا ہے ؟ کیا تمہارا کوئی خالق نہیں ؟ کیا تم پیدا ہی نہیں کئے گئے ؟ کیا اس آسمان و زمین میں تمہارا اور تمہارے وڈیروں کا کوئی حصہ ہے اور اس کے بعد نبی اعظم و آخر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ لا علاج مریض ہیں تاہم آپ ان کا علاج کرتے چلیں کون ان میں صحت یاب ہوتا ہے اور کون ابدی نیند سو کر جہنم واصل ہوجاتا ہے اور اسی پر سورت کا مضمون ختم کردیا گیا ہے۔