Ayahs 50:1–4تفسیر سورة ق
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا تا ہے، یعنی اس کے معانی بہت وسیع، عظیم اور اس کے پہلو بیشمار ہیں، اس کی برکات بےپایاں اور اس کی عنایات بہت زیادہ ہیں۔ (مجد) کا معنی ہے اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت۔ (مجد) سے موصوف ہونے کا سب سے زیادہ مستحق کلام اللہ یعنی قرآن ہے جو اولین وآخرین کے علوم پر مشتمل ہے، جس کی فصاحت کامل ترین، جس کے الفاظ عمدہ ترین اور جس کے معانی عام اور حسین ترین ہیں۔ یہ اوصاف اس کی کامل اتباع، اس کی فوری اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر شکر کے موجب ہیں۔
مگر اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے بنا بریں فرمایا : (بل عجبوا) یعنی رسول مصطفیٰ ﷺ کو جھٹلانے والے تعجب کرتے ہیں (ان جاء ھم منذر منھم) ” کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک متنبہ کرنے والا آیا “ جو انہیں ایسے امور کے بارے میں متنبہ کرتا ہے جو انہیں نقصان دیتے ہیں اور وہ انہیں ایسے امور کا حکم دیتا ہے جوا نہیں فائدہ دیتے ہیں اور وہ خود ان کی جنس سے ہے جس سے علم حاصل کرنا، اس کے احوال اور اس کی صداقت کے بارے میں معرفت حاصل کرنا ممکن ہے۔ لہٰذا انہوں نے ایک ایسے امر پر تعجب کیا جس پر تعجب کرنا ان کے لئے مناسب نہیں بلکہ اس پر تعجب کرنے والی عقل پر تعجب کرنا چاہیے۔
(فقال الکفرون) ” کافر کہنے لگے۔ “ جس نے ان کو اس تعجب پر آمادہ کیا ہے وہ ان کی ذہانت اور عقل کی کمی نہیں بلکہ ان کا کفر اور تکذیب ہے۔ (ھذا شیء عجیب) یہ بڑی انوکھی چیز ہے۔ ان کا اس کو انوکھا اور نادر سمجھنا دو امور میں سے کسی ایک پر مبنی ہے۔
(1) یا تو وہ اپنے تعجب اور اسے انوکھا سمجھنے میں سچے ہیں، تب یہ چیز ان کی جہالت اور کم عقلی پر دلالت کرتی ہے، اس پاگل اور مجنون شخص کی مانند، جو عقل مند شخص کے کلام پر تعجب کرتا ہے، اس بزدل شخص کی مانند جو شہسوار کے شہسواروں کے ساتھ بھڑ جانے پر تعجب کرتا ہے اور اس کنجوس کی مانند جو سخی لوگوں کی سخاوت پر تعجب کرتا ہے، جس کا یہ حال ہو، اس کے تعجب کرنے سے کون سا نقصان ہے ؟ کیا اس کا تعجب اس کی بہت زیادہ جہالت اور اس کے ظلم کی دلیل نہیں ؟
(2) یا ان کا تعجب اس لحاظ سے ہے کہ وہ اس بارے میں اپنی غلطی کو جانتے ہیں، تب یہ سب سے بڑا اور بدترین ظلم ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے تعجب کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ء اذا متنا وکنا ترابا ذلک رجع بعید) ” بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے (تو کیا پھر زندہ ہوں گے) یہ زندہ ہونا بعید ہے۔ “ انہوں نے اس ہستی کی قدرت کی، جو ہر چیز پر قادر اور ہر لحاظ سے کامل ہے، محتاج بندے کی قدرت پر قیاس کیا ہے جو ہر لحاظ سے عاجز ہے اور جاہل کو، جسے کسی چیز کا علم نہیں، اس ہستی پر قیاس کیا ہے جو ہر چیز کا علم رکھتی ہے اور برزخ میں قیام کی مدت کے دوران، زمین ان کے اجساد میں جو کمی کرتی ہے، وہ اسے بھی جانتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب میں درج کر رکھا ہے یعنی جو کچھ ان کی زندگی اور موت میں ان کے ساتھ وقوع پذیر ہوگا، اس کے بارے میں یہ کتاب ہر قسم کے تغیر و تبدل سے محفوظ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کامل اور وسیع علم کے ذریعے سے، جس کا اس کے سوا اور کوئی احاطہ نہیں کرسکتا، اس کی مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت پر استدلال ہے۔
Ayah 50:5(بل) ” بلکہ “ ان کا وہ کلام جو ان سے صادر ہوا ہے، محض اس حق کے ساتھ ان کا عناد اور تکذیب ہے جو صدق کی بلند ترین نوع ہے۔ (لما جاء ھم فھم فی امر مریج) ” جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک الجھاؤ میں پڑگئے۔ “ یعنی وہ ایک مختلف اور مشتبہ معاملے میں پڑے ہوئے ہیں، کسی چیز پر انہیں ثبات حاصل ہے نہ قرار۔ کبھی تو آپ کے بارے میں الزام تراشی کرتے ہوئے کہتے ہیں :” تو جادوگر ہے “ کبھی کہتے ہیں :” تو پاگل ہے “ اور کبھی کہتے ہیں :” تو شاعر ہے “ اسی طرح انہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، ہر کسی نے اپنی فاسد رائے کے تقاضے کے مطابق اس میں کلام کیا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جس نے حق کی تکذیب کی، ہر کسی نے اپنی فاسد رائے کے تقاضے کے مطابق اس میں کلام کیا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جس نے حق کی تکذیب کی، وہ مشتبہ معاملے میں پڑا ہوا ہے، اسے کوئی راہ سمجھائی دیتی ہے نہ قرار آتا ہے، اس لئے تو اس کے معاملات کو باہم متناقض اور افک و بہتان پر مبنی پائے گا۔ جو کوئی حق کی اتباع اور اس کی تصدیق کرتا ہے، اس کا معاملہ درست اور اعتدال کی راہ پر ہوتا ہے، اس کا فعل اس کے قول کی تصدیق کرتا ہے۔
Ayahs 50:6–11اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کا حال اور ان کے قابل مذمت افعال کا ذکر کرنے کے بعد، انہیں آیات آفاقیہ میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ عبرت حاصل کریں اور ان امور پر استدلال کریں جن کے لئے ان کو دلیل بنایا ہے، فرمایا : (افلم ینظروا الی السماء فوقھم) ” کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ “ یعنی غور و فکر کی یہ نظر کسی مشقت اور سامان سفر باندھنے کی محتاج نہیں بلکہ بہت آسان ہے۔ وہ دیکھیں (کیف بنینھا) کہ ہم نے اسے کیسے ایک گنبد بنایا، جو اپنے کناروں پر برابر اور مضبوط بنیاد رکھتا ہے، جسے ان ستاروں سے آراستہ کیا گیا ہے جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور چلتے چلتے غائب ہوجاتے ہیں، جو ایک افق سے دوسرے افق تک اپنے حسن اور ملاحت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے، تو اس میں کوئی سوراخ دیکھے گا نہ شگاف اور نہ تجھے اس میں کوئی خلل نظر آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اہل زمین کے لئے چھت بنایا ہے اور اس کے اندر ان کے لئے ضروری مصالح ودیعت کیے ہیں۔
(و) ” اور “ طرف (الارض) ” زمین کی “ دیکھیں کہ کیسے (مددنھا) ” ہم نے اسے کشادہ بنایا ہے ؟ “ حتیٰ کہ ہر حیوان کے لئے سکون وقرار اور اس کے تمام مصالح اور استعداد کو ممکن بنایا اور اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا کہ وہ نہ ہلے اور ٹھہری رہے (وانبتنا فیھا من کل زوج بھیج) انسانوں اور جانوروں کی خوارک اور ان کے فائدے کے لئے نباتات کی اصناف میں سے ہر صنف اگائی، جو دیکھنے والوں کو بھلی لگتی اور خوش کرتی ہے اور اس کا نظارہ کرنے والے کی آنکھ ٹھنڈی ہوتی ہے اور ان فوائد میں سے ان باغات کا خاص طور پر ذکر کیا جو لذیز پھلوں پر مشتمل ہوتے ہیں، مثلا، انگور، انار، لیموں اور سیب وغیرہ اور دیگر پھلوں کی تمام اقسام، نیز کھجور کے لمبے لمبے درخت، جن کا فائدہ بھی بہت طویل اور دیرپا ہوتا ہے، جو آسمان میں اتنے بلند ہوجاتے کہ بہت سے درخت اس بلندی تک نہیں پہنچ سکتے۔ وہ تہ بہ تہ گابھے میں سے گھچوں کی صورت میں ایسا پھل نکالتے ہیں جو بندوں کے لئے رزق، خوراک، سالن اور میوہ ہے۔ جسے وہ کھاتے ہیں اور اپنے اور اپنے مویشیوں کے لئے ذخیرہ کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اس بارش اور ان عوامل کے ذریعے سے، جس کے نتیجے میں روئے زمین پر دریا بہتے ہیں اور اس کے نیچے (حب الحصید) کھیتی کا اناج ہوتا ہے، یعنی وہ کھیتی جسے پکنے پر کاٹا جاتا ہے، مثلا ‘ گیہوں، جو، مکئی، چاول اور باجرہ وغیرہ، کیونکہ ان اشیاء میں غور و فکر کرنے میں (تبصرۃ) ” ہدایت ہے “ جس کے ذریعے سے بندہ جہالت کے اندھے پن میں بصیرت حاصل کرتا ہے (وذکری) ” اور یاد دہانی ہے “ جس سے بندہ نصیحت حاصل کرتا ہے جو دین ودنیا میں اسے فائدہ دیتی ہے اور اس کے ذریعے سے وہ ان امور میں نصیحت حاصل کرتا ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اور اس سے ہر شخص بہرہ مند نہیں ہوتا بلکہ (لکل عبد منیب) صرف وہی بندہ بہرہ مند ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا، محبت اور خوب ورجا کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرنے والا اور اس کے داوی کی آواز پر لبیک کہنے والا ہے۔ رہا وہ شخص جو اس نصیحت کو جھٹلاتا اور اس سے روگردانی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور تنبیہ کرنے والے اسے کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اس زمین پر جو بڑی بڑی مخلوق، قوت، اور شدت کا وجود ملتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی دلیل ہے اور اس میں جو حسن، مہارت، نادر صنعت کاری اور بےمثال تخلیق پائی جاتی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کے اندر بندوں کے لئے جو فوائد اور مصالح پنہاں ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت ہے جو ہر چیز پر وسیع اور اس کے جودو کرم کی دلیل ہے، جو ہر زندہ کے لئے عام اور سب کو شامل ہے۔ اس کے اندر جو بڑی بڑی مخلوق اور بےمثال نظام ہے وہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی واحد، یکتا اور بےنیاز ہے، جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہی ہے۔ یہ وہ ہسیت ہے جس کے سوا کوئی عبادت تذلل، اور محبت کے لائق نہیں۔ زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد جو اسے زندگی عطا ہوتی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا تاکہ ان کو انکے اعمال کا بدلہ دے، اس لئے فرمایا : (واحیینا بہ بلدۃ میتا کذلک الخروج) ” اور ہم نے اس (پانی) کے ذریعے سے مردہ شہر کو زندہ کیا بس اسی طرح (قیامت کے دن) نکل پڑنا ہے۔ “
اللہ تعالیٰ نے ان کو سماوی اور ارضی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرنے کے بعد قوموں کو گرفت میں لینے والے عذاب سے ڈرایا کہ وہ تکذیب کے رویے پر جمے نہ رہیں، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب ٹوٹ پڑے گا جو ان کے تکذیب کرنے والے بھائیوں پر ٹوٹ پڑا تھا۔ فرمایا :
Ayahs 50:12–15یعنی ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں نے بھی اپنے انبیائے عظام اور مرسلین کرام کو جھٹلایا، جیسے نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قوم نے جھٹلایا، ثمود نے حضرت صالح ( علیہ السلام) کی تکذیب کی، عاد نے ہود ( علیہ السلام) کو جھٹلایا، لوط کی قوم نے لوط ( علیہ السلام) کو اور اصھاب ایکہ نے شعیب ( علیہ السلام) کو جھوٹا سمجھا۔ زمانہ اسلام سے قبل یمن کے ہر بادشاہ کو (تبع) کہا جاتا تھا، چناچہ تبع کی قوم نے اپنے رسول کی تکذیب کی جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ نہیں فرمایا کہ وہ رسول کون تھا اور اسے کس (تبع) کے زمانے میں مبعوث کیا گیا ؟ کیونکہ۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ وہ رسول عربوں میں مشہور اور معروف تھا اور عرب میں پیش آنے والے واقعات ان سے چھپے ہوئے نہ تھے، خاص طور پر اس قسم کے عظیم حادثے سے وہ بیخبر نہیں رہ سکتے تھے۔ پس ان تمام قوموں نے ان رسولوں کو جھٹلایا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ پس اس پاداش میں ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی وعید اور اس کی سزا واجب ہوگئی۔
حضرت محمد ﷺ کو جھٹلانے والو ! تم ان گزری ہوئی قوموں سے بہتر ہو نہ گزرے ہوئے رسول تمہارے رسول ﷺ سے بہتر ہیں، اس لئے ان کے جرم سے بچو ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان قوموں پر نازل ہوا تھا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق اول یعنی ابتدائی پیدائش کے ذریعے سے آخرت کی تخلیق پر استدلال کیا۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ ان کو عدم کے بعد وجود میں لایا اسی طرح وہ ان کے مرنے اور ان کے مٹی ہوجانے کے بعد انہیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا۔ اس لئے فرمایا : (افعیینا) کیا ہم بےبس ہوگئے اور ہماری قدرت کمزور پڑگئی (بالخلق الاول) ” پہلی بار پیدا کرکے۔ “ معاملہ ایسا نہیں ہے ‘ ہم ایسا کرنے سے عاجز ہیں نہ بےبس اور انہیں اس بارے میں کوئی شک بھی نہیں، وہ تو تخلیق جدید کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اور اس کا معاملہ ان پر متلبس ہو کر رہ گیا ہے، حالانکہ یہ التباس کا مقام نہیں کیونکہ اعادہ ابتدا سے زیادہ سہل ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وھو الذی یبدؤ ا الخلق ثم یعیدہ وھو اھوان علیہ) ّالروم : 30/28) ” وہی ہے جو تخلیق کیا ابتدا کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور اس کے لئے آسان تر ہے۔ “
Ayahs 50:16–18اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ انسان کی جنس مرد اور عورت کو پیدا کرنے میں وہ تنہا ہے۔ وہ انسان کے تمام احوال کو، جنہیں وہ چھپاتا ہے اور اس کا نفس اسے وسوسے میں مبتلا کرتا ہے، خوب جانتا ہے اور وہ (اقرب الیہ من حبل الورید) ” اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے۔ “ جو انسان کے سب سے زیادہ قریب والی رگ ہے۔ اس سے مراد وہ رگ ہے جس نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے۔ یہ چیز انسان کو اپنے خالق کے مراقبے کی دعوت دیتی ہے، جو اس کے ضمیر اور اس کے باطن سے مطلع ہے اور اس کے تمام احوال میں اس کے قریب رگ ہے۔ اس لئے انسان کو چاہیے کہ ایسے کام کے ارتکاب سے حیا کرے جس کام سے اللہ نے اس کو روکا ہے، اس لئے کہ اللہ اس کو دیکھتا ہے، اور جس کام کا اللہ نے حکم دیا ہے اسے ترک نہ کرے۔
اسی طرح اس کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں ” کراماً کاتبین “ کا لحاظ رکھے، ان کی عزت و توقیر کرے، وہ کسی ایسے قول و فعل سے بچے جو اس کی طرف سے لکھ لیا جائے جس سے رب کائنات راضی نہ ہو۔ اسی لئے فرمایا : (اذ یتلقی المتلقین) ” جب دو لکھنے والے لکھ لیتے ہیں۔ “ یعنی بندے کے تمام اعمال درج کر رہے ہیں (عن الیمین) دائیں جانب کا فرشتہ نیکیاں لکھتا ہے اور دوسرا فرشتہ (عن الشمال) بائیں جانب سے برائیاں لکھتا ہے اور ان میں سے ہر ایک (قعید) یہ کام کرنے کے لئے بیٹھا ہوا اور اپنے اس عمل کے لئے مستعد ہے، جس کے لئے اسے مقرر کیا گیا ہے یعنی اس کام میں لگا ہوا ہے۔
(مایلفظ من قول) وہ خیر یا شرکا جو بھی لفظ بولتا ہے (الا لدیہ رقیب عتید) تو ایک نگران موجود ہوتا ہے جو اس کے پاس ہرحال میں موجود رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وان علیکم لحفظین۔ کراما کاتبین۔ یعلمون ما تفعلون) (الانفطار : 10182۔ 12) ” اور بیشک تم نگہبان مقرر ہیں، بلند مرتبہ کاتب، جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب جانتے ہیں۔ “
Ayahs 50:19–22(وجاء ت) ” اور آئی “ یعنی اس غافل اور آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والے کے پاس (سکرۃ الموت بالحق) ” موت کی بےہوشی حق کے ساتھ “ جس سے لوٹنا اور بچنا ممکن نہیں۔ (ذلک ماکنت منہ تحید) یہ وہی چیز ہے جس سے پیچھے ہٹتے اور اس سے دور بھاگتے تھے۔
(ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید) ” اور صور میں پھونکا جائیگا، یہی وعید کا دن ہے۔ “ یہ وہ دن ہے جس دن ظالموں کو عذاب دیا جائے گا، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا اور مومنوں کو ثواب عطا کیا جائے گا جس کا اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ (وجاءت کل نفس معھا سائق) ” اور ہر شخص آئے گا، ایک اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا۔ “ جو اسے قیامت کے میدان کی طرف ہانک کرلے جائے گا یہ اس سے بچ کر پیچھے نہیں رہ سکے گا (وشھید) ” اور ایک گواہ ہوگا “ جو اس کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گا۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی طرف اعتناء اور اس کی طرف سے ان کے اعمال کی حفاظت اور نہایت عدل و انصاف سے اس کو جزا و سزا دینے پر دلالت کرتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ اس کا اہتمام کرے۔
مگر اکثر لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں، اس لئے فرمایا : (لقد کنت فی غفلۃ من ھذا) ” اس سے تو غافل ہو رہا تھا۔ “ یہ بات قیامت کے روز روگردانی کرنے والے اور انبیاء ورسل کو جھٹلانے والے کو زجرو توبیخ، ملامت اور عتاب کے طور پر کہی جائے گی، یعنی تو اس دن کو جھٹلایا کرتا تھا اور اس دن کے لئے عمل نہ کرتا تھا، پس اب (فکشفنا عنک غطاء ک) ” ہم نے تجھ سے پردہ ہٹا دیا “ جس نے تیرے دل کو ڈھانپ رکھا تھا جس کی بنا پر تو کثرت سے سوتا تھا اور اپنی روگردانی پر جما ہوا تھا۔ (فبصرک الیوم حدید) ” پس آج تیری نگاہ تیز ہے۔ “ وہ مختلف قسم کے عذاب اور سزاؤں کو دیکھے گا جو اسے ڈرا رہی ہونگی اور گھبراہٹ میں مبتلا کر رہی ہونگی۔ یا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے سے خطاب ہے، کیونکہ دنیا میں وہ ان فرائض سے غافل تھا جن کے لئے اس کو تخلیق کیا گیا تھا مگر قیامت کے روز وہ بیدار ہوگا، اس کی غفلت دور ہوجائے گی اور یہ سب ایسے وقت میں ہوگا جب کوتاہی کا تدارک اور ناکامی کی تلافی ممکن نہ ہوگی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس عظیم دن کو اہل تکذیب کے ساتھ سلوک کے ذکر کے ذریعے سے بندوں کے لئے تخویف اور ترہیب ہے۔
Ayahs 50:23–29اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : (وقال قرینہ) اس جھٹلانے اور روگردانی کرنے والے کا فرشتوں میں سے وہ ساتھی، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی اور اس کے اعمال کی حفاظت کے لئے مقرر کیا ہے، قیامت کے روز اس کے سامنے موجود ہوگا اور اس کے اعمال کو اس کے سامنے پیش کرے گا اور کہے گا : (ھذا ما لدی عتید) ” یہ (اعمال نامہ) میرے پاس حاضر ہے۔ “ یعنی میں نے وہ سب کچھ پیش کردیا ہے جس کی حفاظت اور اس کے عمل کو محفوظ رکھنے پر مجھے مقرر کیا گیا تھا پس اب اس کے عمل کی جزا دی جائے گی۔ جو کوئی جہنم کا مستحق ہوگا اسے کہا جائے گا : (القیا فی جھنم کل کفار عنید) ” ہر ناشکرے، سرکش کو جہنم میں ڈال دو ۔ “ یعنی جو بہت زیادہ کفر کرنے والا، آیات الٰہی سے عنادر کھنے والا، بہت کثرت سے گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کے محارم اور معاصی میں جسارت کرنے والا ہے۔
) مناع للخیر) ” بھلائی سے روکنے والا۔ “ اس کے پاس جو بھلائی موجود ہے وہ اسے روکتا ہے، جس میں سے سب سے بڑی بھلائی اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے اور وہ اپنے مال اور بدن کے فائدے کو (لوگوں تک پہنچے سے) روکتا ہے (معتد) اللہ تعالیٰ کے بندوں پر زیادتی کرنے والا اور اس کی حدود سے تجاوز کرنے والا ہے (مریب) اللہ تعالیٰ کے وعدے اور وعید میں شک کرنے والا ہے۔ اس میں کوئی ایمان ہے نہ احسان، بلکہ اس کا وصف کفر وعدوان، شک و ریب، بخل اور رحمن کو چھوڑ کر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنا ہے، بنابریں فرمایا : (الذی جعل مع اللہ الھا اخر) وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ (فالقیہ) اس کے دونوں ساتھی فرشتو ! اس کو ڈال دو (فی العذاب الشدید) ” سخت عذاب میں۔ “ جو سب سے بڑا، سب سے سخت اور سب سے برا عذاب ہے۔
(قال قرینہ) اس کا شیطان ساتھی اس سے بری الذمہ ہوتے ہوئے اور اس کے گناہ کا اسی کو ذمہ دار تھہراتے ہوئے کہے گا : (ربنا ما اطغیتۃ) ” اے ہمارے رب ! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا “ کیونکہ مجھے اس پر کوئی اختیار تھا نہ میرے پاس کوئی دلیل و برمان تھی بلکہ یہ خود ہی انتہائی گمراہی میں تھا، وہ خود ہی اپنے اختیار سے گمراہ ہو کر حق سے دور ہوگیا۔ جیسا کہ ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وقال الشطین لما قضی الامر ان اللہ وعدکم وعد الحق ووعد تکم فاخلفتکم) (ابراہیم : 18/22) ” اور جب فیصلہ ہوجائے گا تو شیطان کہے گا : بیشک اللہ نے تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا اور میں نے جو وعدہ تمہارے ساتھ کیا میں نے اس کی خلاف ورزی کی “ میرا تم پر کوئی دباؤ تو تھا ہی نہیں ‘ میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری مان لی۔ پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمہارا فریاد رس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے، یقیناً ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی آپس کی خصوصیت کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا : (لاتختصمو الدی) ” میرے پاس نہ جھگڑو “ یعنی میرے پاس تمہارے آپس میں جھگڑے کا فائدہ نہیں۔ (و) حالانکہ (قدقدمت الیکم بالوعید) ” میں تمہارے پاس وعید بھیج چکا تھا۔ “ یعنی میرے رسول کھلی نشانیاں، واضح دلائل اور روشن براہین لے کر تمہارے پاس آئے، تم پر میری حجت قائم اور تمہاری حجت منقطع ہوگئی تم نے اپنے گزشتہ اعمال میرے سامنے پیشے کیے جن کی جزا واجب ہے۔
(مایبدل القول الدی) ” میرے ہاں بات بدلا نہیں کرتی۔ “ یعنی یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا اور جو خبر دی ہے، اس کی خلاف ورزی کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی ہستی اپنے قول اور اپنی بات میں سچی نہیں (وما انا بظلام للعبید) ” اور میں بندوں پر ظلم نہیں کرتا “ بلکہ وہ اچھا اور برا جو عمل کرتے ہیں اسی کی جزا و سزا دیتا ہوں، ان کی برائیوں میں اضافہ کیا جاتا ہے نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جاتی ہے۔
Ayahs 50:30–35اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے : (یوم نقول لجھنم ھل امتلات) ” اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گئی ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، جہنم میں ڈالے گئے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا (وتقول ھل من مزید) ” وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے ؟ “ یعنی جہنم اپنے رب کی خاطر ناراضی اور کفار پر غیظ و غضب کی وجہ سے اپنے اندر مجرموں کے اضافے کا مطالبہ کرتی رہے گی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا : (لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین) (السجدۃ : 32/13) ” میں جن ہم کو جنات اور انسانوں سے ضرور بھروں گا۔ “ حتی کہ اللہ رب العزت اپنا قدم کریم، جو تشبیہ سے پاک ہے، جہنم میں رکھ دے گا۔ جن ہم کی لپٹیں ایک دوسرے کی طرف سمٹ جائیں گے، جہنم پکار اٹھے گی، بس کافی ہے، میں بھر چکی ہوں۔
(وازلفت الجنۃ) جنت کو قریب کردیا جائے گا (للمتقین غیر بعید) ” پرہیز گاروں کے لئے، دو رنہ ہوگی “ جہاں اس مشاہدہ کیا جاسکے گا، اس کی دائمی نعمتوں اور مسرتوں کو دیکھا جاسکے گا۔ جنت کو صرف ان لوگوں کے قریب کیا جائے گا جو اپنے رب سے ڈر کر شرک اکبر اور شرک اصغر سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے احکام کی تعمیل اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ انہیں مبارک بادی کے طور پر کہا جائے گا : (ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ) ” یہی وہ چیز ہے “ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر رجوع کرنے والے اور حفاظت کرنے والے سے۔ “ یعنی یہ جنت، اور اس میں جو کچھ موجود ہے، جس کی نفوس انسانی خواہش رکھتے ہیں، جس سے آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں، جس کا ہراس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کے ساتھ محبت، اس سے استعانت، اس سے دعا اور اس کے خوب اور اس سے امید کے ذریعے سے، اس کی طرف بہت کثرت سے رجوع کرتا ہے۔ (حفیظ) اخلاص اور تکمیل کے ساتھ کامل ترین طریقے سے اللہ کے اوامر کی تعمیل کرتا ہے نیز اس کی حدود کی حفاظت کرتا ہے۔
(من خشی الرحمن) اپنے رب کی پوری معرفت اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے اس سے ڈرتا ہے، اپنی حالت غیب یعنی جب وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے، تو خشیت الٰہی کا التزام کرتا ہے اور یہی حقیقی خشیت ہے۔ رہی وہ خشیت جس کا اظہار لوگوں کی نظروں کے سامنے اور ان کی موجودگی میں کیا جائے تو اس میں کبھی کبھی ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ آجاتا ہے۔ یہ حقیقی خشیت پر دلالت نہیں کرتی۔ فائدہ مند خشیت تو صرف وہی ہے جو کھلے اور چھپے ہرحال میں ہو۔ (وجاء بقلب منیب) ” اور رجوع کرنے والا دل لے کر آیا۔ “ یعنی اس کا وصف اپنے آقا کی طرف رجوع ہو اور اس کے تمام داعیے اپنے آقا کی رضا میں جذب ہوگئے ہوں۔ ان نیک اور پرہیز گا رلوگوں سے کہا جائے گا : (ادخلوھا بسلم) اس طرح اس جنت میں داخل ہوجاؤ کہ یہ داخلہ ہر قسم کی آفات اور شر سے سلامتی سے مقرون اور تمام ناپسندیدہ امور سے مامون ہے۔ ان کو عطا کی گئی نعمتیں منقطعی ہوں گی نہ ان میں کوئی بدمزگی آئے گی۔ (ذلک یوم الخلود) ” یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔ “ جسے کبھی زوال آئے گا نہ موت اور نہ کسی قسم کا کوئی تکدر ہوگا۔
(لھم ما یشاء ون فیھا) انہیں وہاں ہر وہ چیز حاصل ہوگی، جس سے ان کی چاہت وابستہ ہوگی۔ اس سے بڑھ کر (مزید) “ اور بھی زیادہ ہے “ یعنی ثواب، جسے رحمن اور رحیم ان کے لئے بڑھاتا رہے گا، جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی اس کا گزر ہوا ہے۔۔۔ سب سے بڑا، سب سے جلیل اور سب سے افضل ثواب اللہ تعالیٰ کے چہرہ انور کا دیدار، اس کے کلام کی سماعت اور اس کے قرب کی نعمت ہوگی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی انہی لوگوں میں شامل کردے۔
Ayahs 50:36–37اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کو، جو رسول اکرم ﷺ کو جھٹلاتے ہیں، ڈراتے ہوئے فرماتا ہے : (وکم اھلکنا قبلھم من قرن) ” ہم نے ان سے پہلے کئی امتیں ہلاک کر ڈالیں۔ “ یعنی بہت سی قوموں کو ہلاک کیا (ھم اشد) ” وہ زیادہ تھے “ ان لوگوں سے (بطشا) ” قوت میں۔ “ یعنی زمین میں، قوت اور آثار میں ان سے بڑھ کر تھے، بنابریں فرمایا : (فنقبوا فی البلاد) ” پس انہوں نے شہروں کا گشت کیا۔ “ یعنی انہوں نے نہایت مضبوط قلعے اور بلند عمارتیں تعمیر کیں، باغات لگائے، نہریں نکالیں، کھیت اگائے، زمین کو آباد کیا اور ہلاک ہوگئے۔ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی آیات کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دردناک سزا اور سخت عذاب کے ذریعے سے گرفت میں لے لیا (ھل من محیص) ” کیا کہیں بھاگنے کی جگہ ہے ؟ “ یعنی جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا ہے، اس وقت ان کے لئے کوئی بھاگنے کی جگہ ہوتی ہے نہ کوئی بچانے والا ہوتا ہے۔ پس ان کی قوت ان کا مال اور ان کی اولاد ان کے کسی کام نہ آسکی۔
(ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب) ” بیشک جو شخص دل رکھتا ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے۔ “ یعنی ایک عظیم، زندہ، ذہین اور پاک دل، یہ دل، جب آیاتا الٰہی میں سے کوئی آیت اس پر گزرتی ہے، تو اس سے نصیحت حاصل کرکے فائدہ اٹھاتا ہے اور بلند مقام پر فائز ہوتا ہے اور اسی طرح جو کوئی کان لگا کر آیات الٰہی کو اس طرح غور سے سنتا ہے جس سے رشد و ہدایت حاصل ہوتی ہے اور اس کا قلب (شھید) ” حاضر ہوتا ہے “ تو وہ بھی تذکر، نصیحت، شفاء اور ہدایت سے بہرہ مند ہوتا ہے۔ رہا روگردانی کرنے والا شخص جو آیات الٰہی کو غور سے نہیں سنتا تو اس شخص کو آیات الٰہی کوئی فائدہ نہیں دیتیں، کیونکہ اس کے پاس قبولیت کا مادہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اس شخص کی ہدایت کا تقاجا نہیں کرتی جس کا یہ وصف ہو۔
Ayahs 50:38–40یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی قدرت عظیم اور مشیت نافذہ کے بارے میں خبر ہے، جن کے ذریعے سے اس نے سب سے بڑی مخلوق کو وجود بخشا۔ (السموت والارض وما بینھما فی سءۃ ایام) ” آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، چھ دن میں (پیدا کیا) ۔ “ پہلا دن اتوار تھا اور آخری یعنی چھٹا دن جمعہ تھا، اس کو کسی مشقت کا سامنا کرنا پڑا نہ تھکن کا اور اسے کوئی لاغری لاحق ہوئی نہ لاچاری۔ پس وہ اللہ، جو زمین و آسمان کو، ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وجود میں لایا، اس کا مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونا زیادہ اولیٰ اور زیادہ لائق ہے۔ (فاصبر علی ما یقولون) ” پس جو کچھ یہ کہتے ہیں، اس پر صبر کیجئے۔ “ وہ آپ کی مذمت کرتے ہیں اور آپ جو کتاب لے کر آئے ہیں اس کی تکذیب کرتے ہیں، آپ ان کو نظر انداز کرکے اپنے رب کی اطاعت کیجئے اور صبح، شام اور رات کے اوقات میں اور نمازوں کے بعد اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کیجئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نفس کو تسلی دیتا، اس کو سکون عطا کرتا اور صبر کو آسان بناتا ہے۔