Explained with ayahs 1–5
اہل کتاب کی موضوع روایتیں
ق حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے ص، ن، الم، حم، طس، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورة بقرہ کی تفسیر میں شروع میں کردی ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کرسکتے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بد دینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کردیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجودیکہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت…
Read the full tafseer →سورة قٓ 2
یہ فقرہ بلاغت کا بہترین نمونہ ہے جس میں ایک بہت بڑے مضمون کو چند مختصر الفاظ میں سمو دیا گیا ہے۔ قرآن کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اسے بیان نہیں کیا گیا۔ اس کا ذکر کرنے کے بجائے بیچ میں ایک لطیف خلا چھوڑ کر آگے کی بات " بلکہ " سے شروع کردی گئی ہے۔ آدمی ذرا غور کرے اور اس پس منظر کو بھی نگاہ میں رکھے جس میں یہ بات فرمائی گئی ہے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ قسم اور بلکہ کے درمیان جو خلا چھوڑ دیا گیا ہے اس کا مضمون کیا ہے۔ اس میں دراصل قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ " اہل مکہ نے محمد ﷺ کی رسالت کو ماننے سے کسی معقول بنیاد پر انکار نہیں کیا ہے، بلکہ اس سراسر غیر معقول بنیاد پر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
خلاصہ تفسیر
ق (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) قسم ہے قرآن مجید کی (یعنی جس کو دوسری کتابوں پر فضیلت و شرف ہے کہ ہم نے آپ کو عذاب قیامت سے ڈرانے کے لئے بھیجا ہے مگر ان لوگوں نے نہ مانا) بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی (کی جنس) میں سے (یعنی انسانوں میں سے) ایک ڈرانے والا (پیغمبر) آ گیا (جس نے ان کو قیامت کے دن سے ڈرایا) سو (اس پر) کافر لوگ کہنے لگے کہ (اول تو خود) یہ (ایک) عجیب بات ہے (کہ بشر پیغمبر ہو، دوسرے پھر دعویٰ بھی عجیب بات کا کرے کہ دوبارہ زندہ ہوں گے بھلا) جب ہم مر گئے اور مٹی ہوگئے تو کیا دوبارہ زندہ ہوں گے یہ دوبارہ زندہ ہونا (امکان سے) بہت ہی بعید ہے (خلاصہ یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
بل عجبوآ ان جآء ھم منذرمنھم فقال الکفرون ھذا شیء عجیب ءاذا متنا وکنا تراباً ، ذلک رجع بعید (3-2)
مخالفین کی مخالفت کی اصل ملت
یہاں بل اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن نے اس اعتراض کو محض حقیقت سے فرار کے لئے ایک بہانہ قرار دیا ہے۔ اس بل کے مضمران کھولیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ جو لوگ قرآن کو جنات و شیاطین کا القاء قرار دیتے ہیں ان کی تردید کے لئے قرآن کی عظمت و جلالت ہی کافی ہے۔ ان کے محرار کی اصل وجہ وہ نہیں ہے جو وہ ظاہر کر رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کو اس بات پر تعجب ہے کہ ایک شخص انہی کے اندر سے ان کے لئے منذر بن کر اٹھا جو ان کو اس بات سے ڈرا رہا ہے کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اپنے…
Read the full tafseer →2۔ 1 حالانکہ اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں ہے، ہر نبی اسی قوم کا ایک فرد ہوتا تھا جس میں اسے مبعوث کیا جاتا تھا۔ اسی حساب سے قریش مکہ کو ڈرانے کے لئے قریش ہی میں سے ایک شخص کو نبوت کے لئے چن لیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: یہ اس بات کا جواب ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو، پھر ہمارے جسم کے وہ حصے دوبارہ کیسے جمع ہوں گے جن کو مٹی کھا چکی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ تمہارے جسم کے جن جن حصوں کو مٹی کھاتی ہے، ان سب کا ہمیں پورا پورا علم ہے، اس لیے ان کو دوبارہ بحال کردینا ہمارے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔
2: اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔
Read the full tafseer →بل عجبوا ان ۔۔۔۔۔ شییء عجیب (2) ء اذا متنا ۔۔۔۔۔۔ رجع بعید (50 : 2 تا 3) “ بلکہ ان لوگوں کو تعجب اس بات پر ہوا کہ ایک خبردار کرنے والا خود انہی میں سے ان کے پاس آگیا۔ پھر منکرین کہنے لگے : “ یہ تو عجیب بات ہے ، کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک ہوجائیں گے (تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے) ؟ یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے ”۔
کیا یہ بات قابل تعجب ہو سکتی ہے کہ ایک ڈرانے والا ان میں سے آگیا ۔ اس میں تو کوئی تعجب نہیں بلکہ یہ تو بالکل ایک قدرتی بات ہے اور فطرت سلیمہ اسے بڑی سادگی اور خوشی خوشی قبول کرتی ہے۔ یہ نہایت ہی معقول بات ہے کہ لوگوں کا مصلح اپنی قوم میں سے ہو ، لوگون کے احساسات میں ، ان کے ساتھ شریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
1 یعنی ساری مٹی نہیں ہوجاتی، جان سلامت رہتی ہے اور بدن کے اجزاء تحلیل ہو کر جہاں کہیں منتشر ہوگئے ہیں وہ سب اللہ کے علم میں ہیں۔ اس کو قدرت ہے کہ ہر جگہ سے اجزائے اصلیہ کو جمع کر کے ڈھانچہ کھڑا کر دے اور دوبارہ اس میں جان ڈال دے۔
Read the full tafseer →آیت 2 { بَلْ عَجِبُوْٓا اَنْ جَآئَ ہُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْہُمْ } ”بلکہ انہیں بہت عجیب محسوس ہوا ہے کہ ان کے پاس آیا ہے ایک خبردار کرنے والا ان ہی میں سے“
مُنْذِر کے معنی ہیں انذار کرنے والا ‘ خبردار warn کرنے والا۔
{ فَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ہٰذَا شَیْئٌ عَجِیْبٌ۔ } ”تو کافروں نے کہا یہ تو بڑی عجیب سی بات ہے۔“
Read the full tafseer →2 ایسے شان والے قرآن کی جس بات یا جن باتوں پر قسم کھائی جارہی ہے وہ عبارت یہاں محذوف ہے۔ اور اسے مخاطبین یعنی کفار مکہ کے فہم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کفار مکہ کا سارا جھگڑا دو باتوں پر تھا۔ ایک وہ آپ کی رسالت کے منکر تھے۔ دوسرے آخرت کے منکر تھے۔ اور قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ قرآن کے دلائل اور اس کی داخلی شہادتیں اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں باتیں درست ہیں۔
3 کفار کا پہلا اعتراض رسول انہیں میں سے کیوں ہے ؟ دور نبوی سے پہلے صرف عرب ہی نہیں ساری دنیا میں فتنہ و فساد پھیلا ہوا تھا۔ اب تعجب کی بات تو یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ ان حالات میں انسانوں کی ہدایت کے لئے کوئی نبی یا ڈرانے والا نہ…
Read the full tafseer →2۔ (حالانکہ اس نذیر کی سچائی پر ہر طرح کے دلائل صحیح قائم ہوچکے ہیں) (آیت) ” منھم “۔ انہیں میں سے، یعنی محض بشر ہوکر، یہی اس کے خصوصیات رکھ کر۔ مشرکین کی بڑی چڑھ اسی عقیدۂ رسالت سے ہے۔ وہ دیوتا کے قدموں پر گرپڑنے کو تیار رہتے ہیں۔ لیکن کسی فانی انسان کو خدا کا قاصد سمجھنا ان کی عقل کی گرفت سے بالکل باہر ہوتا ہے۔ آیت میں ایک حقیقت صحیح وثابت کے مقابلہ میں حیرت وشک کو باطل ٹھہرایا ہے۔ اس سے بعض اصولیین نے بقاعدۂ اقتضاء النص یہ مسئلہ نکالا ہے کہ مجرد شک وعجب کسی دلیل کا معارض نہیں ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترجمہ : ق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، قسم قرآن کریم کی کہ کفار مکہ، محمد ﷺ پر ایمان نہیں لائے، بلکہ اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا یعنی انہی میں سے ایک رسول جو ان کے زندہ ہونے کے بعد نار (جہنم) سے ڈراتا ہے آگیا سو کافر کہنے لگے یہ ڈراوا عجیب بات ہے، کیا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے ؟ ہم کو لوٹایا جائے گا، دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کر کے، یہ واپسی انتہائی درجہ بعید (بات) ہے، زمین ان میں سے جو کچھ کھا جاتی ہے وہ ہمیں معلوم ہے اور ہمارے پاس محفوظ کرنے والی کتاب ہے اور وہ لوح محفوظ ہے جس میں تمام اشیاء…
Read the full tafseer →بل عجبوا ان جاء ھم منذر منھم فقال الکفرون ھذا شی ءٌ عجیبٌ . بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی (کی جنس بشری) میں سے ایک ڈرانے والا (پیغمبر) آگیا سو کافر لوگ کہنے لگے کہ یہ ایک عجیب چیز ہے۔
بَلْ عَجِبُوْا : بل بمعنی قد کے ہے یعنی کفار مکہ نے بلاشبہ تعجب کیا اس بات پر کہ انہیں میں سے ایک ڈرانے والا ان کے پاس ایسی بات لے کر آیا ہے جو تعجب انگیز نہیں تھی۔ یہ امر تعجب آفریں نہ ہونا چاہیے کہ انہی میں کا ایک شخص جس کو وہ سچا جانتے تھے اور اس کی سچائی کا اقرار کرتے تھے ‘ ان کی خیر خواہی کرتا ہے۔ اس کو اندیشہ ہے کہ کہیں ان لوگوں کو دکھ پہنچ جائے ‘ ایسے بہی خواہ قوم سچے مخلص آدمی کو تو کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) ق۔ یہ دنیا میں سبز رنگ کا پہاڑ کا اس کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور قسم ہے قرآن مجید کی۔ قریش سے جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے تو اس پر ان لوگوں کو تعجب ہوا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ قسم کھا کر بیان کرتا ہے اور ان تعجب کرنے والوں میں ابی بن خلف، امیہ بن خلف، منبہ بن الحجاج اور نبیہ بن حجاج ہیں کہ ان لوگوں کو اس پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس ان کے خاندان میں سے ایک ڈرانے والا رسول ان کے پاس آیا۔
Read the full tafseer →2(1) بل عجبوآ ان جآء ھم منذرمنھم :”عجبوآ“ (انہوں نے تعجب کیا) میں ضمیر کفار قریش کے لئے ہے اور ڈرانے والے سیدنا محمد ﷺ ہیں۔ بعض نے کہا کہ ضمیر سے مراد تمام لوگ ہیں اور ”ان میں سے“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان کی جنس سے ایک انسان ہیں اور آپ ﷺ کی صفات میں سے ”منذر“ کا ذکر اس لئے فرمایا کہ آپ انہیں دوبارہ زندہ کئے جانے، اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے اور اس کے عذاب سے ڈراتے تھے۔
(2) فقال الکفرون ھذا شیء عجیب : یہ دوسری بات ہے جسے کفار نے عجیب قرار دیا اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔ یہاں ”فقالوا“ کہنے کے بجائے جو یہ فرمایا ”فقال الکفرون“ تو لفظ ”الکفرون“ ان کی مذمت کے اظہار کے لئے ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1 ۔ 5:۔ ق والقران المجید۔ عام قراٗت قاف میں جزم کے ساتھ ہے۔ حضرت حسن بصری، ابن ابی اسحاق اور نصیر بن عاصمنے قاف پڑھا ہے کیونکہ کسرہ، جزم کا بھائی ہے جب اس کا آکر ساکن ہوا تو کسرہ کے ساتھ اسے حرکت دی۔ عیسیٰ ثقفی نے فاء کو فتحہ دیا ہے اسے خفیف ترین حرکت دی ہے۔ ہارون اور محمد بن سمیقع نے قاف ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ عموما یہ مبنی کی حرکت ہوتی ہے جس طرح منذ، قط، قبل اور بعد ہے۔ ق کے معنی میں اختلاف ہے کہ وہ کیا ہے ؟ ابن زید، عکرمہ اور ضحاک نے کہا : یہ ایسا پہاڑ ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے جو سبز زمرہ کا مرد ہے اس کی وجہ سے آسمان سبز ہے۔ آسمان کے دونوں کنارے اس پر ہیں۔ آسمان اس پر قبہ کی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1:۔ ابن جریر ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ '' ق '' اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے پیچھے ایک سمندر کو پیدا فرمایا جو اس ساری زمین کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے پھر اس کے پیچھے پہاڑ کو پیدا فرمایا جس کو '' ق '' کہا گیا دنیا کا آسمان اس پر پھیلا ہوا ہے پھر اس پہاڑ کے پیچھے اس زمین سے سات گنا بڑی زمین پیدا فرمائی پھر اس کے پیچھے ایک سمندر کو پیدا کیا جو اس کو گھیرے ہوئے ہے پھر اس کے پیچھے ایک پہاڑ کو پیدا فرمایا اسے بھی (آیت ) '' ق '' اور دوسرا آسمان اس پر پھیلا ہوا ہے یہاں تک کہ آپ نے سات زمینیں اور…
Read the full tafseer →بَلْ عَجِبُوْٓا [بلکہ ان لوگوں نے حیرت کی ] اَنْ جَاۗءَهُمْ [ کہ آیا ان کے پاس ] مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ [ ایک خبردار کرنے والا ان میں سے ] فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ [ پھر کہا انکار کرنے والوں نے ] ھٰذَا [ یہ (اٹھایا جانا ) ] شَيْءٌ عَجِيْبٌ [ عجیب ہی چیز ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
پھر فرمایا ﴿ بَلْ عَجِبُوْۤا ﴾ (الاٰیات الثلاث) بل کا عطف کس پر ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :
فکانہ قیل انا انزلناہ لتنذر بہ الناس فلم یومنوا بہ بل جعلوا کلا من المنذر والمنذر بہ عرضة للتکبر والتعجب (یعنی ہم نے یہ قرآن نازل کیا تاکہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو ڈرائیں لیکن وہ لوگ اس پر ایمان نہ لائے انہوں نے ڈرانے والے کو بھی جھٹلایا اور جس چیز سے ڈرایا اس کو بھی جھٹلایا، حق کو نہ مانا تکبر اختیار کیا اور تعجب کرنے لگے) کیا ہم ہی میں سے ڈرانے والا آگیا ؟ اور کہنے لگے کہ یہ تو عجیب چیز ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے پھر زندہ ہو کر اٹھیں گے یہ تو بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
بیان عظمت کلام خداوندی و انکار منکرین وتعجب بر حشر ونشر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ق والقران المجید ....... الی ...... کذلک الخروج “۔
(ربط) سورة حجرات کے مضامین کا اختتام اس امر کے بیان پر تھا کہ اسلام کی توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہدایت ہے اور اس کا عظیم انعام ہے اس پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے ایمان پر استقامت اور دین حق پر ثابت قدمی اس اعتقاد ویقین پر موقوف ہے کہ حق تعالیٰ شانہ بندہ کی ہر حالت سے باخبر ہے اور وہ ہر عمل کو دیکھتا ہے وہ آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے تو اس مناسبت سے اب سورة ق کی ابتداء عظمت کلام خدا وندی سے کی جارہی ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہدایت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ” بل عجبوا “ یہ شکوی ہے۔ بل، اضراب کے لیے ہے۔ اور اس کا معطوف علیہ محذوف ہے ای فشکوا بل عجبوا الخ، یعنی انکا انکار کسی شب ہے پر مبنی نہیں کیونکہ شب ہے کی گنجائش ہی نہیں بلکہ انہیں تعجب ہے کہ انہی میں سے ایک بشر ان کے پاس رسول بنا کر بھیجدیا گیا ہے۔ ” فقال الکافرون الخ “ یہ ان کے تعجب کی تفسیر اور محل تعجب کا بیان ہے۔ جب کفار سے کہا گیا کہ تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو کہنے لگے یہ تو بڑی ہی حیرت انگیز بات ہے۔ ” ءاذا متنا الخ “ ، اذا کی جزاء مقدر ہے ای نحشر (الشیخ) ۔ یا نرجع (روح) ۔ کیا جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو پھر بھی اٹھائے جائیں گے ؟ یہ بات تو بالکل ناممکن اور غیر معقول ہے اور عقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
منازل قرآن
صحابہ کرام ؓ نے قرآن پاک کو سات منزلوں میں تقسیم کرلیا تھا۔ اس سورة مبارکہ سے ساتویں منزل شروع ہو رہی ہے جو آخر قرآن تک جائے گی ۔ پہلی منزل میں قرآن پاک کی تین لمبی سورتیں سورة البقرہ ، سورة آل عمران اور سورة النساء ہیں ۔ اس کے بعد دوسری منزل میں پانچ سورتیں سورة المائدہ ، سورة الانعام ، سور ۃ الاعراف ، سورة الانفال اور سورة التوبہ آتی ہیں ۔ پھر تیسری منزل میں سات سورتیں یعنی سورة یونس ، سورة ہود ، سورة یوسف ، سورة الرعد ، سورة ابراہیم ، سورة الحجر اور سورة النحل ہیں ۔ چوتھی منزل میں نو سورتیں ہیں جن کے نام سورة بنی اسرائیل ، سورة الکہف ، سورة مریم ، سورة طلحہ ، سورة الانبیاء ،…
Read the full tafseer →بَلْ عَجِبُوْٓا اَنْ جَاۗءَہُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْہُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ ھٰذَا شَيْءٌ عَجِيْبٌ 2 ۚ
عجب
العَجَبُ والتَّعَجُّبُ : حالةٌ تعرض للإنسان عند الجهل بسبب الشیء، ولهذا قال بعض الحکماء : العَجَبُ ما لا يُعرف سببه، ولهذا قيل : لا يصحّ علی اللہ التَّعَجُّبُ ، إذ هو علّام الغیوب لا تخفی عليه خافية . يقال : عَجِبْتُ عَجَباً ، ويقال للشیء الذي يُتَعَجَّبُ منه : عَجَبٌ ، ولما لم يعهد مثله عَجِيبٌ. قال تعالی: أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً أَنْ أَوْحَيْنا
[يونس/ 2] ، تنبيها أنهم قد عهدوا مثل ذلک قبله، وقوله : بَلْ عَجِبُوا أَنْ جاءَهُمْ
[ ق/ 2] ، وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ [ الرعد/ 5] ،
(…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
بَلْ عَجِبُوْٓا اَنْ جَآئَ ھُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْہُمْ فَقَالَ الْـکٰفِرُوْنَ ھٰذَا شَیْ ئٌ عَجِیْبٌ۔ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تَرَابًا ج ذٰلِکَ رَجْعٌ م بَعِیْدٌ۔ (قٓ: 2، 3)
(بلکہ ان لوگوں کو تعجب ہوا اس بات پر کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ایک خبردار کرنے والا آیا، تو کافروں نے کہا، یہ تو عجیب بات ہے۔ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے، یہ واپسی تو عقل سے بہت دور کی بات ہے۔ )
مخالفین کی مخالفت کی اصل علت
بَلْ…اضراب اور اعراض کے لیے ہوتا ہے۔ تو یہاں بَلْ کا استعمال یہ بتانے کے لیے ہے کہ مخالفین جو قرآن کریم کے بارے میں عجیب و غریب باتیں کہہ رہے ہیں یہ ان کی ساری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن
ربط سورت :” ق “ حروف مقطعات میں شامل ہے۔ بعض اہل علم نے غیر مستند روایات کے حوالے سے اس کا مطلب بیان کرنے کی کوشش کی ہے لیکن نبی ﷺ اور صحابہ کرام (علیہ السلام) سے اس کا کوئی معنٰی ثابت نہیں۔ لہٰذا اسے اس طرح ہی تلاوت کرنا چاہیے۔ القرآن سے پہلے واؤ کا حرف قسم کے لیے ہے۔ عربی زبان میں حرف واؤ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ان میں واؤ قسم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
قرآن کا معنٰی ہے یکجا کرنا، تلاوت کرنا، الفاظ پر غور کر کے زبان سے ان کی ادائیگی کرنا، الفاظ کا ” تتبُّع “ کرنا۔ (المنجد)
المجید کا معنٰی بڑا اور عزت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم دے کر ارشاد فرمایا ہے کہ یہ لوگ…
Read the full tafseer →سب سے زیادہ خطرناک چیز سے ڈرانے والے پر تعجب :
اَنْ جَآئَ ہُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْہُمْ منذر سے محمد ﷺ مراد ہیں اس میں ان کے اس تعجب کا انکار ہے جو انہوں نے ایسی چیز پر کیا جو تعجب انگیز نہیں اور وہ یہی بات ہے کہ انہی میں سے ایک شخص کو ان کی طرف منذر بنا کر بھیجا گیا۔ جس کی عدالت و امانت کے وہ خود شاہد ہیں۔ تو جو ایسا امین ہو وہ اپنی قوم کا خیر خواہ نہیں ہوگا۔ تو اور کون ہوگا۔ وہ اس بات سے خائف ہے کہ کہیں میری قوم کو کوئی خطرناک چیز نہ آلے۔ جب اس کو یہ معلوم ہے کہ خطرہ ان کے سر پر منڈلا رہا ہے تو اس کو لازم ہے کہ وہ ان کو ڈرائے۔ پھر وہ ایسے خطرے سے ان کو متنبہ کیوں نہ کرے جو سب سے زیادہ ڈرانے کی…
Read the full tafseer →1 ۔” قٓ“ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ قسم ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ سورت کا نام ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ قرآن مجید کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ قرظی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نام قدیر، قادر، قاہر، قریب، قابض کی چابی ہے اور عکرمہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سبز زمرد کا یہ پہاڑ ہے جس نے زمین کو گھیرا ہوا ہے۔ اسی سے آسمان کی سرسبزی ہے اور آسمان گنبد کی طرح ہے اور اس پر آسمان کے دونوں جانب (پہلو) ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ اس حجاب کے باہر ہے جس میں سورج غروب ہوتا ہے اس کے سوا سال کی مسافت ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ” قضی الامر یا قضی ماھو کائن “ (معاملہ کا فیصلہ کردیا یا آئندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ حروف مقطعات کا بیان سورة بقر کے شروع میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آ کر محمد رسول ﷺ کے رسول ہونے کی اور قرآن کو اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کر دے گا تو ہم مان لیں گے۔ محمد ﷺ تو ہم جیسے انسان ہیں ان کی باتوں کا ہمیں یقین نہیں آتا۔ اس کا جواب تفصیل سے سورة انعام میں ہے مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ فرشتہ کو اصل صورت میں دیکھنا تو عام لوگوں کی طاقت سے باہر ہے سوائے اللہ کے رسول کے عام لوگوں میں سے فرشتہ کو جو کوئی اصل صورت میں دیکھے گا وہ فوراً مرجائے گا۔ اس لئے فرشتہ بھی ان لوگوں کے پاس آئے گا تو انسان کی صورت میں آئے گا۔ پھر ان لوگوں کا شبہ بھی باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
تفسیر سورة ق
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا تا ہے، یعنی اس کے معانی بہت وسیع، عظیم اور اس کے پہلو بیشمار ہیں، اس کی برکات بےپایاں اور اس کی عنایات بہت زیادہ ہیں۔ (مجد) کا معنی ہے اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت۔ (مجد) سے موصوف ہونے کا سب سے زیادہ مستحق کلام اللہ یعنی قرآن ہے جو اولین وآخرین کے علوم پر مشتمل ہے، جس کی فصاحت کامل ترین، جس کے الفاظ عمدہ ترین اور جس کے معانی عام اور حسین ترین ہیں۔ یہ اوصاف اس کی کامل اتباع، اس کی فوری اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر شکر کے موجب ہیں۔
مگر اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے بنا بریں فرمایا : (بل عجبوا) یعنی رسول مصطفیٰ ﷺ کو…
Read the full tafseer →[ 2] منکرین کے بشریت پیغمبر (علیہ السلام) پر اچنبھے کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کو پیغمبر کی بشریت سے اچنبھا اور اس پر تعجب تھا۔ جس پر انہوں نے کہا ایک ہم ہی میں سے، اور ہم ہی جیسا ایک انسان نبی و رسول کس طرح ہوسکتا ہے ؟ یعنی وہ لوگ بنوت و رسالت اور بشریت کے درمیان منافات سمجھتے تھے۔ اس لیے انہوں نے پیغمبر (علیہ السلام) کی بشریت کو دیکھتے ہوئے ان کی نبوت و رسالت کا انکار کردیا، اور اس طرح انہوں نے کفر کا طوق اپنے گلوں میں ڈال دیا۔ افسوس کہ قرآن و سنت کی ایسی بیشمار اور واضح تعلیمات و تاکیدات کے باوجود یہی غلط فہمی آج بھی بہت سے مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیات 1 تا 15۔
اسرار ومعارف۔
ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…
Read the full tafseer →ف 6 یا ” خود ہم میں سے ایک شخص کا ہمارے پاس اللہ کا رسول بن کر آنا عجب بات ہے۔
Read the full tafseer →(50:2) بل عجبوا ان جاء ہم منذر منھم : بل حرف اضراب ہے یعنی اے رسول ﷺ آپ کو ان کی طرف اس واسطے بھیجا تھا کہ آپ حشر کے روز دوبارہ جی اٹھنے اور حساب و کتاب اور سزا جزاء کے متعلق ان کو ڈرائیں لیکن ان بدقسمت لوگوں نے صرف آپ کے ڈراوے سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا بلکہ مزید برآں اس پر تعجب میں پڑگئے کہ یہ ڈرانے والا ان میں سے کیسے آگیا۔ یہ ان کی طرح کھاتا ہے اور ان کی طرح پیتا ہے اور ان کی طرح چلتا ہے پھر یہ ہی خاص طور پر نبوت کے لئے قابل کیوں سمجھا گیا کیوں نہ کوئی فرشتہ اس مقصد کے لئے بھیجا گیا وغیرہ وغیرہ۔
منذر اسم فاعل واحد مذکر انذار (افعال) مصدر۔ ڈرانے والا۔
فقال الکفرون ھذا شیء عجیب :تفسیر کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 :
عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔
تشریح : آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(ف 1) مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آن کر محمدرسول اللہ کے رسول ہونے کی اور اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کردے گا تو ہم مان لیں گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے قسم کھاکر فرمایا کہ قسم ہے قرآن کی جو نہایت بزرگی و کرامت و شرافت والا ہے کہ تم خدا کے رسول ہو، ہم جانتے ہیں کہ یہ کفار ایمان نہیں لائے، اور اس قرآن کی بزرگی اور عظمت وشان کا کیا کہنا جس نے آکر کفر وشرک کو منسوخ کردیا اور اپنی اعجازی قوت اور لامحدود اسرار ومعارف سے دنیا کو محو حیرت بنادیا۔ یہی بزرگی والا قرآن بذات خود شاہد ہے کہ اس کے اندر کوئی نقص وعیب نہیں لیکن منکرین پھر بھی رسول اور قرآن کو قبول نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] قرآن مجید میں قسمیں بہت آئی ہیں اور لوگوں کو ان کے مفہوم اور مقصد کے متعلق طرح طرح کے شکوک ہیں۔ تشریح کیلئے ملاحظہ ہو صفحہ 2601
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة ق
فرمایا : کہ قرآن کی لفظی ومعنوی بزرگی اور عظمت خود قرآن پر وال ہے ۔ اور جس شخص نے اس صحیفہ مقدس کا بغور مطالعہ کیا ہے ۔ وہ اس کے محاسن سے متاثر ہو کر مجبور ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کی سچائی پر گواہی دے اور یہ کہہ دے ۔ کہ اتنی بڑی کتاب ۔ اتنا مکمل زندگی کا پروگرام ، اور اتنے خوارق علمیہ کا حامل مجموعہ ناممکن ہے ۔ کہ انسانی دماغ کی اختراع وایجاد قرار دیا جاسکے ۔ مگر ان مکہ کے ناسمجھ لوگوں کو اس کتاب ہدیٰ کی رفعتوں کا اندازہ نہیں ہوتا ۔ انہیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ ان میں کا ایک آدمی کیونکر منصب نبوت پر فائز ہوسکتا ہے ۔ ان کے نزدیک پیغمبر کے لئے ضروری ہے ۔ کہ وہ فوق البشر شخصیت ہو ۔ پھر انہیں…
Read the full tafseer →(2) کافروں نے نہیں مانا بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا آیا سو دین حق کے منکروں نے کہا یہ ایک عجیب سی بات ہے۔
Read the full tafseer →کفار کو اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ ڈرانے والا ان ہی میں سے ایک انسان ہے
2 ۔ گزشتہ آیت میں قسم کھا کر کہا گیا ہے کہ یہ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس قسم کے کھانے کی ضرورت کیا پیش آئی اور یہ بات کس نے کہی ہے کہ یہ کتاب یعنی قرآن کریم اللہ کی کتاب نہیں ہے ؟ زیر نظر آیت نے اس کی وضاحت فرما دی کہ یہ کن لوگوں کو جواب دیا گیا ہے اور کیوں دیا گیا ہے ؟ فرمایا یہ لوگ یعنی کفار مکہ اس بات پر تعجب کر رہے ہیں کہ ایک ڈرانے والا ان ہی کی قوم میں سے ایک انسان ہے اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ ہم جیسے انسانوں میں سے ایک انسان ہو کر رسول بن جائے اور پھر اسی پر اللہ کی طرف سے کتاب بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
Linkage with the preceding Surah
This Surah mostly contains subjects relating to the Day of Judgment, Resurrection, the Reckoning, Paradise, the Fire, Allah's reward and punishment etc. Thus this Surah is linked with Surah Al-Hujurat because the concluding part of the latter Surah dealt with these subjects.
Characteristics and Virtues of Surah Qaf
It is reported in Muslim, as cited in Qurtubi, that Umm Hisham Bint Harithah Ibn Nu` man ؓ ، said: "For around two years, or a year and a part of another year, we shared one single oven with the Holy Prophet ﷺ . I memorized Surah Qaf from the Holy…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 This sentence is a unique example of eloquence. In it a vast subject has been compressed into a few brief words. The object for which an oath has been sworn by the Qur'an has not been mentioned. In stood, a subtle gap has been left and the sentence is resumed with "nay". If one thinks a little and also keeps in view the background in which this has been said, one comes to know what-is the subject of the gap that has been left between the oath and "nay". In fact, what has been sworn of is this: "The people of Makkah have not refused to acknowledge the Prophet hood of Muhammad (upon whom be…
Read the full tafseer →