Qaaf 50:3

Qaaf · from ayah 3

50:3

ءَاِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا ۚ— ذٰلِكَ رَجْعٌ بَعِیْدٌ ۟ءَاِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابًا ‌ۚ ذٰ لِكَ رَجۡعٌ ۢ بَعِيۡدٌ

بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی ہوگئے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندہ ہونا (عقل سے) بعید ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

When we have died and have become dust, [we will return to life]? That is a distant return."

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:3

کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک ہو جائیں گے (تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے)؟ یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی ہوگئے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندہ ہونا (عقل سے) بعید ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے۔ پھر یہ واپسی دور (از عقل) ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا ہم مر کھپ جائیں اور مٹی ہوجائیں گے، (اس وقت ہمیں پھر زندہ کیا جائے گا ؟) یہ واپسی تو ہماری سمجھ سے دور ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی ہوجائیں گے پھر جیئں گے یہ پلٹنا دور ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا جب ہم مَر جائیں گے اور ہم مٹّی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے)؟ یہ پلٹنا (فہم و ادراک سے) بعید ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا جب ہم مر گئے اور ہم مٹی ہوگئے ؟ یہ واپس لوٹنا بہت دور ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی بن جائیں گے (تو پھر دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟) یہ واپسی تو (عقل سے) بعید ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو دوبارہ لوٹائے جائیں گے ! یہ لوٹایا جانا تو بہت بعید ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے (تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟) یہ لوٹنا تو بہت بعید (از عقل) ہے

— مولانا اسحاق مدنی

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے (تو کیا دوبارہ زندہ ہوں گے ؟) یہ رجعت تو (بہت ہی) بعید ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے (تو ہم پھر سے زندہ کیے جائیں گے یہ لوٹایا جانا تو بہت دور کی بات ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا جب ہم مرگئے مٹی ہوگئے تو پھر زندہ ہوں گے ؟ یہ زندہ ہونا عقل سے دور ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

What! When we are dead and reduced to mere dust, (shall we be raised to life)? Such a return is far-fetched.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it when we die and become dust (that we will be brought to life again?) That is a return, far (from understanding).

— Muhammad Taqi Usmani

Is it when we die and become dust (that we will be brought to life again?) That is a return, far (from understanding).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"When we are dead and have become dust. (Shall we be resurrected) That is a far return."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When we are dead and have become dust (shall we be brought back again)? That would be a far return!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

When we have died and have become dust, [we will return to life]? That is a distant return."

— Saheeh International

that after we die and become dust, we shall be brought back to life again. This seems far from reality".

— Muhammad Sarwar

What! when we are dead and have become dust? That is afar (from probable) return.

— Muhammad Habib Shakir

Shell We be brought back when we are dead and have become dust? That is a return remote!

— Abdul Majid Daryabadi

"What! When we die and become dust, (shall we live again?) That is a (sort of) return far (from our understanding)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

اہل کتاب کی موضوع روایتیں ق حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے ص، ن، الم، حم، طس، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورة بقرہ کی تفسیر میں شروع میں کردی ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کرسکتے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بد دینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کردیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجودیکہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 3 یہ ان لوگوں کا دوسرے تعجب تھا۔ پہلا اور اصل تعجب زندگی بعد موت پر نہ تھا بلکہ اس پر تھا کہ انہی کی جنس اور قسم کے ایک فرد نے اٹھ کر دعویٰ کیا تھا کہ میں خدا کی طرف سے تمہیں خبردار کرنے کے لیے آیا ہوں۔ اس کے بعد مزید تعجب انہیں اس پر ہوا کہ وہ شخص انہیں جس چیز پر خبردار کر رہا تھا وہ یہ تھی کہ تمام انسان مرنے کے بعد از سرنو زندہ کیے جائیں گے، اور ان سب کو اکٹھا کر کے اللہ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، اور وہاں ان کے اعمال کا محاسبہ کرنے کے بعد جزا اور سزا دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر ق (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) قسم ہے قرآن مجید کی (یعنی جس کو دوسری کتابوں پر فضیلت و شرف ہے کہ ہم نے آپ کو عذاب قیامت سے ڈرانے کے لئے بھیجا ہے مگر ان لوگوں نے نہ مانا) بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی (کی جنس) میں سے (یعنی انسانوں میں سے) ایک ڈرانے والا (پیغمبر) آ گیا (جس نے ان کو قیامت کے دن سے ڈرایا) سو (اس پر) کافر لوگ کہنے لگے کہ (اول تو خود) یہ (ایک) عجیب بات ہے (کہ بشر پیغمبر ہو، دوسرے پھر دعویٰ بھی عجیب بات کا کرے کہ دوبارہ زندہ ہوں گے بھلا) جب ہم مر گئے اور مٹی ہوگئے تو کیا دوبارہ زندہ ہوں گے یہ دوبارہ زندہ ہونا (امکان سے) بہت ہی بعید ہے (خلاصہ یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 2–3

بل عجبوآ ان جآء ھم منذرمنھم فقال الکفرون ھذا شیء عجیب ءاذا متنا وکنا تراباً ، ذلک رجع بعید (3-2) مخالفین کی مخالفت کی اصل ملت یہاں بل اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن نے اس اعتراض کو محض حقیقت سے فرار کے لئے ایک بہانہ قرار دیا ہے۔ اس بل کے مضمران کھولیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ جو لوگ قرآن کو جنات و شیاطین کا القاء قرار دیتے ہیں ان کی تردید کے لئے قرآن کی عظمت و جلالت ہی کافی ہے۔ ان کے محرار کی اصل وجہ وہ نہیں ہے جو وہ ظاہر کر رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کو اس بات پر تعجب ہے کہ ایک شخص انہی کے اندر سے ان کے لئے منذر بن کر اٹھا جو ان کو اس بات سے ڈرا رہا ہے کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 حالانکہ عقلی طور پر اس میں بھی کوئی استحالہ نہیں ہے۔ آگے اس کی کچھ وضاحت ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: یہ اس بات کا جواب ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو، پھر ہمارے جسم کے وہ حصے دوبارہ کیسے جمع ہوں گے جن کو مٹی کھا چکی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ تمہارے جسم کے جن جن حصوں کو مٹی کھاتی ہے، ان سب کا ہمیں پورا پورا علم ہے، اس لیے ان کو دوبارہ بحال کردینا ہمارے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ 2: اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ء اذا متنا وکنا ترابا ذلک رجع بعید (50 : 3) ” کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک ہوجائیں گے ! یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے “۔ ان کی نظروں کی میں مسئلہ یہ ہے کہ مرنے اور خاک ہوجانے کے بعد زندگی کا دوبارہ پیدا ہونا مستعبد ہے اور یہ ایک نہایت ہی سادہ نظریہ ہے۔ کیونکہ ایک دفعہ جب مردہ مٹی میں زندگی ڈال دی گئی ہے تو دوبارہ مٹی میں اسی طرح زندگی ڈالنا کیا مشکل کام ہے جبکہ یہ معجزہ ان کے سامنے ہر لحظہ رو بعمل ہوتا رہتا ہے۔ اور اس کائنات کے ہر پہلو میں ہو رہا ہے۔ اس سورت میں قرآن کریم نے ان کو اس نکتے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ لیکن قبل اس کے کہ زندگی کی اس نمائش گاہ کے بارے میں ہم قرآن مجید کے اشارات اور تکوینی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 2–3

1 یعنی ساری مٹی نہیں ہوجاتی، جان سلامت رہتی ہے اور بدن کے اجزاء تحلیل ہو کر جہاں کہیں منتشر ہوگئے ہیں وہ سب اللہ کے علم میں ہیں۔ اس کو قدرت ہے کہ ہر جگہ سے اجزائے اصلیہ کو جمع کر کے ڈھانچہ کھڑا کر دے اور دوبارہ اس میں جان ڈال دے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3 { ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا } ”کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو ہم پھر سے زندہ کیے جائیں گے ؟ “ { ذٰلِکَ رَجْعٌم بَعِیْدٌ۔ } ”یہ لوٹایا جانا تو بہت دور کی بات ہے۔“ مر کر مٹی ہوجانے کے بعد ہمارا دوبارہ زندہ ہونا بالکل انہونی سی بات ہے ‘ یہ بعید از قیاس دعویٰ کر کے یہ صاحب بہت دور کی کوڑی لائے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 بعث بعد الموت :۔ یہ کفار مکہ کا دوسرا اعتراض یا انکار ہے جو بعث بعد الموت سے تعلق رکھتا ہے کہ جب انسان مر کر مٹی میں مل جائے گا اور مٹی ہی بن جائے گا تو اس کے دوبارہ جی اٹھنے کا معاملہ عقل سے بھی بعید ہے، قیاس کے بھی اور عادت کے بھی خلاف ہے۔ لہذا ہم اسے تسلیم نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ (عقل و قیاس سے) یعنی ایک تو بشر کی زبان سے دعوی رسالت خود ہی عجیب اور پھر ساتھ ہی یہ عقیدہ حشرونشر کا۔ ہم ” روشن خیالوں “ کی عقلیں اسے کیسے قبول کرلیں کہ جب ایک چیز فناء ہوگئی، اس کے اجزاء بکھر کر پارہ پارہ ہوگئے تو وہ دوبارہ پھر موجود ہوجائے گی، اعادۂ معدوم تو ہمارے تجربہ، مشاہدہ، عقل، سب کے خلاف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–4

ترجمہ : ق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، قسم قرآن کریم کی کہ کفار مکہ، محمد ﷺ پر ایمان نہیں لائے، بلکہ اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا یعنی انہی میں سے ایک رسول جو ان کے زندہ ہونے کے بعد نار (جہنم) سے ڈراتا ہے آگیا سو کافر کہنے لگے یہ ڈراوا عجیب بات ہے، کیا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے ؟ ہم کو لوٹایا جائے گا، دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کر کے، یہ واپسی انتہائی درجہ بعید (بات) ہے، زمین ان میں سے جو کچھ کھا جاتی ہے وہ ہمیں معلوم ہے اور ہمارے پاس محفوظ کرنے والی کتاب ہے اور وہ لوح محفوظ ہے جس میں تمام اشیاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ء اذا متنا و کنا ترابا ذالک رجع بعید . کیا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے تو دوبارہ زندہ ہوں گے ‘ یہ دوبارہ زندہ ہونا ناممکن ہے۔ ءَ اِذَا مِتْنَا .... اس کا تعلق محذوف فعل سے ہے ‘ یعنی کیا ہم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا ‘ جب ہم مر کر خاک ہوچکے ہوں گے۔ یہ بات بہت ہی بعید (از امکان) ہے۔ ذٰلِکَ رَجْعٌ بَعِیْدٌ : یہ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنا تو عقل و عادت اور امکان سے بھی بعید ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اس پر کفار مکہ بالخصوص مذکورہ لوگ کہنے لگے کہ محمد جو کہتے ہیں کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، یہ عجیب بات ہے کہ جب ہم مرگئے اور مٹی و ریزہ ریزہ ہوگئے تو کیا دوبارہ زندہ ہوں گے، یہ محمد کی بات امکان سے بہت ہی بعید ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ء اذا متنا و کنا تراباً :”اذا“ فعل محذوف کا ظرف ہے :”ای انرجع اذا متنا و کنا تراباً“”یعنی کیا ہم اس وقت دوبارہ لوٹیں گے جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے۔“ مزید دیکھیے سورة رعد (5) اور سورة صافات (16)۔ (2) ذلک رجع بعید : یہ لوٹنا تو عقل سے بہت دور ہے، یعنی ان کے خیال میں ممکن ہی نہیں۔ (3) حقیقت یہ ہے کہ کفار نے جن باتوں کو باعث تعجب قرار دیا وہ قابل تعجب نہیں، بلکہ قابل تعجب کفار کی باتیں ہیں۔ چناچہ انہوں نے اس بات کو قابل تعجب قرار دیا کہ انہیں خبردار کرنے اور ڈرانے والا خود ان میں سے آیا، حالانکہ اپنی جنس کا فرد ڈرانے اور آگاہ کرنے میں زیادہ مخلص اور خیر خواہ ہوتا ہے۔ تعجب کی بات یہ تھی کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

1 ۔ 5:۔ ق والقران المجید۔ عام قراٗت قاف میں جزم کے ساتھ ہے۔ حضرت حسن بصری، ابن ابی اسحاق اور نصیر بن عاصمنے قاف پڑھا ہے کیونکہ کسرہ، جزم کا بھائی ہے جب اس کا آکر ساکن ہوا تو کسرہ کے ساتھ اسے حرکت دی۔ عیسیٰ ثقفی نے فاء کو فتحہ دیا ہے اسے خفیف ترین حرکت دی ہے۔ ہارون اور محمد بن سمیقع نے قاف ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ عموما یہ مبنی کی حرکت ہوتی ہے جس طرح منذ، قط، قبل اور بعد ہے۔ ق کے معنی میں اختلاف ہے کہ وہ کیا ہے ؟ ابن زید، عکرمہ اور ضحاک نے کہا : یہ ایسا پہاڑ ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے جو سبز زمرہ کا مرد ہے اس کی وجہ سے آسمان سبز ہے۔ آسمان کے دونوں کنارے اس پر ہیں۔ آسمان اس پر قبہ کی صورت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1:۔ ابن جریر ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ '' ق '' اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے پیچھے ایک سمندر کو پیدا فرمایا جو اس ساری زمین کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے پھر اس کے پیچھے پہاڑ کو پیدا فرمایا جس کو '' ق '' کہا گیا دنیا کا آسمان اس پر پھیلا ہوا ہے پھر اس پہاڑ کے پیچھے اس زمین سے سات گنا بڑی زمین پیدا فرمائی پھر اس کے پیچھے ایک سمندر کو پیدا کیا جو اس کو گھیرے ہوئے ہے پھر اس کے پیچھے ایک پہاڑ کو پیدا فرمایا اسے بھی (آیت ) '' ق '' اور دوسرا آسمان اس پر پھیلا ہوا ہے یہاں تک کہ آپ نے سات زمینیں اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ءَاِذَا مِتْنَا [ کیا جب ہم مردہ ہوجائیں گے ] وَكُنَّا تُرَابًا ۚ [ اور ہم ہوجائیں گے مٹی (تب اٹھائے جائیں گے ) ] ذٰلِكَ [ یہ (اٹھایا جانا) ] رَجْعٌۢ بَعِيْدٌ [ بہت دور والا لوٹنا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 2–4

پھر فرمایا ﴿ بَلْ عَجِبُوْۤا ﴾ (الاٰیات الثلاث) بل کا عطف کس پر ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : فکانہ قیل انا انزلناہ لتنذر بہ الناس فلم یومنوا بہ بل جعلوا کلا من المنذر والمنذر بہ عرضة للتکبر والتعجب (یعنی ہم نے یہ قرآن نازل کیا تاکہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو ڈرائیں لیکن وہ لوگ اس پر ایمان نہ لائے انہوں نے ڈرانے والے کو بھی جھٹلایا اور جس چیز سے ڈرایا اس کو بھی جھٹلایا، حق کو نہ مانا تکبر اختیار کیا اور تعجب کرنے لگے) کیا ہم ہی میں سے ڈرانے والا آگیا ؟ اور کہنے لگے کہ یہ تو عجیب چیز ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے پھر زندہ ہو کر اٹھیں گے یہ تو بہت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

بیان عظمت کلام خداوندی و انکار منکرین وتعجب بر حشر ونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ق والقران المجید ....... الی ...... کذلک الخروج “۔ (ربط) سورة حجرات کے مضامین کا اختتام اس امر کے بیان پر تھا کہ اسلام کی توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہدایت ہے اور اس کا عظیم انعام ہے اس پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے ایمان پر استقامت اور دین حق پر ثابت قدمی اس اعتقاد ویقین پر موقوف ہے کہ حق تعالیٰ شانہ بندہ کی ہر حالت سے باخبر ہے اور وہ ہر عمل کو دیکھتا ہے وہ آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے تو اس مناسبت سے اب سورة ق کی ابتداء عظمت کلام خدا وندی سے کی جارہی ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہدایت کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–3

3:۔ ” بل عجبوا “ یہ شکوی ہے۔ بل، اضراب کے لیے ہے۔ اور اس کا معطوف علیہ محذوف ہے ای فشکوا بل عجبوا الخ، یعنی انکا انکار کسی شب ہے پر مبنی نہیں کیونکہ شب ہے کی گنجائش ہی نہیں بلکہ انہیں تعجب ہے کہ انہی میں سے ایک بشر ان کے پاس رسول بنا کر بھیجدیا گیا ہے۔ ” فقال الکافرون الخ “ یہ ان کے تعجب کی تفسیر اور محل تعجب کا بیان ہے۔ جب کفار سے کہا گیا کہ تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو کہنے لگے یہ تو بڑی ہی حیرت انگیز بات ہے۔ ” ءاذا متنا الخ “ ، اذا کی جزاء مقدر ہے ای نحشر (الشیخ) ۔ یا نرجع (روح) ۔ کیا جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو پھر بھی اٹھائے جائیں گے ؟ یہ بات تو بالکل ناممکن اور غیر معقول ہے اور عقل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

منازل قرآن صحابہ کرام ؓ نے قرآن پاک کو سات منزلوں میں تقسیم کرلیا تھا۔ اس سورة مبارکہ سے ساتویں منزل شروع ہو رہی ہے جو آخر قرآن تک جائے گی ۔ پہلی منزل میں قرآن پاک کی تین لمبی سورتیں سورة البقرہ ، سورة آل عمران اور سورة النساء ہیں ۔ اس کے بعد دوسری منزل میں پانچ سورتیں سورة المائدہ ، سورة الانعام ، سور ۃ الاعراف ، سورة الانفال اور سورة التوبہ آتی ہیں ۔ پھر تیسری منزل میں سات سورتیں یعنی سورة یونس ، سورة ہود ، سورة یوسف ، سورة الرعد ، سورة ابراہیم ، سورة الحجر اور سورة النحل ہیں ۔ چوتھی منزل میں نو سورتیں ہیں جن کے نام سورة بنی اسرائیل ، سورة الکہف ، سورة مریم ، سورة طلحہ ، سورة الانبیاء ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ءَ اِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا۝ 0 ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِيْدٌ۝ 3 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 2–3

بَلْ عَجِبُوْٓا اَنْ جَآئَ ھُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْہُمْ فَقَالَ الْـکٰفِرُوْنَ ھٰذَا شَیْ ئٌ عَجِیْبٌ۔ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تَرَابًا ج ذٰلِکَ رَجْعٌ م بَعِیْدٌ۔ (قٓ: 2، 3) (بلکہ ان لوگوں کو تعجب ہوا اس بات پر کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ایک خبردار کرنے والا آیا، تو کافروں نے کہا، یہ تو عجیب بات ہے۔ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے، یہ واپسی تو عقل سے بہت دور کی بات ہے۔ ) مخالفین کی مخالفت کی اصل علت بَلْ…اضراب اور اعراض کے لیے ہوتا ہے۔ تو یہاں بَلْ کا استعمال یہ بتانے کے لیے ہے کہ مخالفین جو قرآن کریم کے بارے میں عجیب و غریب باتیں کہہ رہے ہیں یہ ان کی ساری…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت :” ق “ حروف مقطعات میں شامل ہے۔ بعض اہل علم نے غیر مستند روایات کے حوالے سے اس کا مطلب بیان کرنے کی کوشش کی ہے لیکن نبی ﷺ اور صحابہ کرام (علیہ السلام) سے اس کا کوئی معنٰی ثابت نہیں۔ لہٰذا اسے اس طرح ہی تلاوت کرنا چاہیے۔ القرآن سے پہلے واؤ کا حرف قسم کے لیے ہے۔ عربی زبان میں حرف واؤ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ان میں واؤ قسم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کا معنٰی ہے یکجا کرنا، تلاوت کرنا، الفاظ پر غور کر کے زبان سے ان کی ادائیگی کرنا، الفاظ کا ” تتبُّع “ کرنا۔ (المنجد) المجید کا معنٰی بڑا اور عزت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم دے کر ارشاد فرمایا ہے کہ یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

لطائف آیت : آیت میں ضمیر کی بجائے الکافرون کا لفظ صراحت کے ساتھ لا کر اس بات کی گواہی دینا مقصود ہے کہ اپنی اس بات میں انہوں نے اپنے آپ کو کفر عظیم کے آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ہٰذَا کا مشارالیہ الرجع ہے۔ اور اذا مضمر فعل کی وجہ سے منصوب ہے۔ معنی یہ ہوگا : کیا جب ہم مرجائیں گے اور بوسیدہ ہوجائیں گے کیا ہم لوٹائے جائیں گے ؟ قراءت : متنا نافع ٗ حمزہ ٗ علی ٗ حفص نے اسی طرح پڑھا۔ ذٰلِکَ رَجْعٌم بَعِیْدٌ (یہ دوبارہ زندہ ہونا بہت ہی بعید بات ہے) نمبر 1۔ انتہائی انوکھی اور بعید ہے جیسا کہتے ہیں۔ ہذا قول بعید۔ یعنی وہم و عادت سے بعید ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ الرجع بمعنی الرجوع ہو یعنی یہ لوٹایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” بل عجبوا ان جاء ھم منذر “ خوف دلانے والے ” منھم “ اس کا نسب اور سچائی اور امانت داری کو جانتے ہیں ” فقال الکافرون ھذا شیء عجیب “ غریب۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ حروف مقطعات کا بیان سورة بقر کے شروع میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آ کر محمد رسول ﷺ کے رسول ہونے کی اور قرآن کو اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کر دے گا تو ہم مان لیں گے۔ محمد ﷺ تو ہم جیسے انسان ہیں ان کی باتوں کا ہمیں یقین نہیں آتا۔ اس کا جواب تفصیل سے سورة انعام میں ہے مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ فرشتہ کو اصل صورت میں دیکھنا تو عام لوگوں کی طاقت سے باہر ہے سوائے اللہ کے رسول کے عام لوگوں میں سے فرشتہ کو جو کوئی اصل صورت میں دیکھے گا وہ فوراً مرجائے گا۔ اس لئے فرشتہ بھی ان لوگوں کے پاس آئے گا تو انسان کی صورت میں آئے گا۔ پھر ان لوگوں کا شبہ بھی باقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–4

تفسیر سورة ق اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا تا ہے، یعنی اس کے معانی بہت وسیع، عظیم اور اس کے پہلو بیشمار ہیں، اس کی برکات بےپایاں اور اس کی عنایات بہت زیادہ ہیں۔ (مجد) کا معنی ہے اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت۔ (مجد) سے موصوف ہونے کا سب سے زیادہ مستحق کلام اللہ یعنی قرآن ہے جو اولین وآخرین کے علوم پر مشتمل ہے، جس کی فصاحت کامل ترین، جس کے الفاظ عمدہ ترین اور جس کے معانی عام اور حسین ترین ہیں۔ یہ اوصاف اس کی کامل اتباع، اس کی فوری اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر شکر کے موجب ہیں۔ مگر اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے بنا بریں فرمایا : (بل عجبوا) یعنی رسول مصطفیٰ ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 3] منکرین کے بعث بعد الموت پر اچنبھے کا ذکر وبیان : سوا رشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک عجیب بات ہے۔ یعنی اول تو ایک بشر کا نبی و رسول بن جانا بجائے خود ایک باقابل قہم معاملہ ہے۔ اور پھر اس پر مزید یہ کہ اس نے جو پیغام سنایا وہ بھی ناقابل یقین اور بڑا عجیب ہے کہ ناقابل یقین اور بڑا عجیب ہے کہ ہم مرکز مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جائیں گے، بھلا یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے، یہ تو ایک انہونی اور ناقابل فہم بات ہے، بھلا جب ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور گل سڑ کر ختم ہوجائیں گے اور نام ونشان تک مٹ جائے گا، تو اس کے بعد ہم دوبارہ کس طرح زندہ ہوجائیں گے ؟ سو بعث بعد الموت کا معاملہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

آیات 1 تا 15۔ اسرار ومعارف۔ ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:3) ء اذا متنا وکنا ترابا : ای ونبعث اذا متنا وکنا ترابا۔ کیا ہم دوبارہ نزدہ اٹھائے جائیں گے جب ہم مرگئے ہوں گے۔ اور مٹی بن چکے ہوں گے۔ (یہ کفار کے انکار اور ان کے انکار کی دوسری وجہ تھی) ذلک : ای بعث بعد الموت رجع بعید موصوف و صفت بعید : ای بعید عن الاوھام او العادۃ او امکان یعنی یہ واپسی (مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا) ۔ وہم و گمان سے بالاتر ، خرق العادت اور ناممکنات میں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 : عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔ تشریح : آیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

(ف 1) مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آن کر محمدرسول اللہ کے رسول ہونے کی اور اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کردے گا تو ہم مان لیں گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے قسم کھاکر فرمایا کہ قسم ہے قرآن کی جو نہایت بزرگی و کرامت و شرافت والا ہے کہ تم خدا کے رسول ہو، ہم جانتے ہیں کہ یہ کفار ایمان نہیں لائے، اور اس قرآن کی بزرگی اور عظمت وشان کا کیا کہنا جس نے آکر کفر وشرک کو منسوخ کردیا اور اپنی اعجازی قوت اور لامحدود اسرار ومعارف سے دنیا کو محو حیرت بنادیا۔ یہی بزرگی والا قرآن بذات خود شاہد ہے کہ اس کے اندر کوئی نقص وعیب نہیں لیکن منکرین پھر بھی رسول اور قرآن کو قبول نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] قرآن مجید میں قسمیں بہت آئی ہیں اور لوگوں کو ان کے مفہوم اور مقصد کے متعلق طرح طرح کے شکوک ہیں۔ تشریح کیلئے ملاحظہ ہو صفحہ 2601

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–7

سورة ق فرمایا : کہ قرآن کی لفظی ومعنوی بزرگی اور عظمت خود قرآن پر وال ہے ۔ اور جس شخص نے اس صحیفہ مقدس کا بغور مطالعہ کیا ہے ۔ وہ اس کے محاسن سے متاثر ہو کر مجبور ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کی سچائی پر گواہی دے اور یہ کہہ دے ۔ کہ اتنی بڑی کتاب ۔ اتنا مکمل زندگی کا پروگرام ، اور اتنے خوارق علمیہ کا حامل مجموعہ ناممکن ہے ۔ کہ انسانی دماغ کی اختراع وایجاد قرار دیا جاسکے ۔ مگر ان مکہ کے ناسمجھ لوگوں کو اس کتاب ہدیٰ کی رفعتوں کا اندازہ نہیں ہوتا ۔ انہیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ ان میں کا ایک آدمی کیونکر منصب نبوت پر فائز ہوسکتا ہے ۔ ان کے نزدیک پیغمبر کے لئے ضروری ہے ۔ کہ وہ فوق البشر شخصیت ہو ۔ پھر انہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) کیا جب ہم مرگئے اور مر کر مٹی اور خاک ہوگئے تو کیا پھر لوٹ کر زندہ ہوں گے یہ دوبارہ پھر زندہ ہو کر لوٹنا بہت ہی بعید از عقل بات ہے۔ یعنی اول تو اس پر تعجب کہ ہماری ہی جنس سے یعنی بشر ہم کو ڈرانے کے لئے آیا پھر اس پر تعجب یہ کہ کہتا ہے کہ مرجانے اور مٹی ہوجانے کے بعد پھر تم کو دوبارہ زندہ ہونا اور زندہ ہوکر لوٹنا ہے تو یہ رجعت اور دوبارہ لوٹنا تو عقل وفہم سے بہت دور اور بعید بات ہے بھلا خاک ہوجانے کے بعد پھر ہمارا انسان بن جانا یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ سورہ مومنون میں گزر چکا ہے ھیھات ھیھات لما توعدون اگرچہ یہ قول نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہے لیکن دین حق کے سب منکروں میں ایک ہی قسم کی ذہنیت…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کو ایک سے بڑھ کر دوسری بات پر تعجب ہے آخر ان کے کس کس تعجب کو دور کیا جائے ؟ 3 ۔ فرمایا جارہا ہے کہ ان کے تعجب کی حالت پر تعجب یہ ہے کہ ان کو ایک طرح کا تعجب نہیں بلکہ ایک تعجب سے بڑھ کر دوسری بات پر تعجب ہے اور جن جن باتوں پر تعجب ہے وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ و پیوستہ ہیں ان کا ایک تعجب دور ہوگا تو سارے ہی دور ہوتے چلے جائیں گے یہ تعجب کی تسبیح جب ٹوٹے گی تو کوئی تعجب بھی باقی نہیں رہے گا قرآن کریم پر ان کو تعجب ہے نبی اعظم و آخر ﷺ پر ان کو تعجب ہے اور پھر جو کچھ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے اس پر ان کو تعجب ہے کیونکہ قرآن کریم بار بار مرنے کے بعد جی اٹھنے کی بات کرتا ہے اور ان کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

Linkage with the preceding Surah This Surah mostly contains subjects relating to the Day of Judgment, Resurrection, the Reckoning, Paradise, the Fire, Allah's reward and punishment etc. Thus this Surah is linked with Surah Al-Hujurat because the concluding part of the latter Surah dealt with these subjects. Characteristics and Virtues of Surah Qaf It is reported in Muslim, as cited in Qurtubi, that Umm Hisham Bint Harithah Ibn Nu` man ؓ ، said: "For around two years, or a year and a part of another year, we shared one single oven with the Holy Prophet ﷺ . I memorized Surah Qaf from the Holy…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

2 This sentence is a unique example of eloquence. In it a vast subject has been compressed into a few brief words. The object for which an oath has been sworn by the Qur'an has not been mentioned. In stood, a subtle gap has been left and the sentence is resumed with "nay". If one thinks a little and also keeps in view the background in which this has been said, one comes to know what-is the subject of the gap that has been left between the oath and "nay". In fact, what has been sworn of is this: "The people of Makkah have not refused to acknowledge the Prophet hood of Muhammad (upon whom be…

Read the full tafseer →