Explained with ayahs 1–5
اہل کتاب کی موضوع روایتیں
ق حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے ص، ن، الم، حم، طس، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورة بقرہ کی تفسیر میں شروع میں کردی ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کرسکتے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بد دینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کردیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجودیکہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت…
Read the full tafseer →سورة قٓ 4
یعنی یہ بات اگر ان لوگوں کی عقل میں نہیں سماتی تو یہ ان کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے۔ اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ اللہ کا علم اور اس کی قدرت بھی تنگ ہوجائے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ابتدائے آفرینش سے قیامت تک مرنے والے بیشمار انسانوں کے جسم کے اجزاء جو زمین میں بکھر چکے ہیں اور آئندہ بکھرتے چلے جائیں گے، ان کو جمع کرنا کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ہر جز جس شکل میں جہاں بھی ہے، اللہ تعالیٰ براہ راست اس کو جانتا ہے، اور مزید براں اس کا پورا ریکارڈ اللہ کے دفتر میں محفوظ کیا جا رہا ہے جس سے کوئی ایک ذرہ بھی چھٹا ہوا نہیں ہے۔ جس وقت اللہ کا حکم ہوگا اسی وقت آناً فاناً اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
احیاء بعد الموت پر مشہور شبہ کا جواب
(آیت) قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ ، کفار و مشرکین جو قیامت میں بعث بعد الموت (یعنی مردوں کے زندہ ہونے) کا انکار کرتے ہیں ان کی سب سے بڑی دلیل یہ تعجب ہے کہ مرنے کے بعد انسان کے اکثر اجزاء جسم مٹی ہوجاتے ہیں، پھر وہ مٹی منتشر ہو کر دنیا میں پھیل جاتی ہے، پانی اور ہوا اس کے ذرات کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں، قیامت میں دوبارہ زندہ کرنے کے لئے ساری دنیا میں بکھرے ہوئے اجزاء کو معلوم رکھنا کہ یہ جز فلاں کا ہے، یہ فلاں کا اور پھر ہر ایک کے اجزاء کو الگ الگ جمع کردینا کس کے بس کی بات ہے ؟ قرآن کریم نے اس کا جواب دیا کہ انسان اپنے محدود علم و…
Read the full tafseer →قد علمنا ماتنقص الارض منھم وعندنا کتب حفیظ 4
مخالفین کے شبہات کا جواب
فرمایا کہ دوبارہ زندہ کیا جانا اس وجہ سے ان کو بعید از امکان معلوم ہو رہا ہے کہ جسموں کے سڑ گل کر خاک میں مل جانے کے بعد ان کے اجزاء کو زمین کی تہوں سے فراہم کرنا۔ ان کے خیال میں، ناممکن ہے۔ یہ مغالطہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علم کو اپنے علم پر قیاس کیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ جسم انسانی کے جن جزاء کو زمین تحلیل کرتی ہے، وہ ان سب کو جانتا ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔ جس نے ہر چیز کو خلق کیا ہے اور جس کے حکم ہی سے ہر چیز پر موت طاری ہوتی ہے، اس سے کوئی چیز کس طرح مخفی رہ…
Read the full tafseer →4۔ 1 یعنی زمین انسان کے گوشت، ہڈی اور بال وغیرہ بوسیدہ کر کے کھا جاتی ہے یعنی اسے ریزہ ریزہ کردیتی ہے وہ نہ صرف ہمارے علم میں ہے بلکہ لوح محفوظ میں بھی درج ہے اس لئے ان تمام اجزا کو جمع کر کے انہیں دوبارہ زندہ کردینا ہمارے لئے قطعًا مشکل امر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: یہ اس بات کا جواب ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو، پھر ہمارے جسم کے وہ حصے دوبارہ کیسے جمع ہوں گے جن کو مٹی کھا چکی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ تمہارے جسم کے جن جن حصوں کو مٹی کھاتی ہے، ان سب کا ہمیں پورا پورا علم ہے، اس لیے ان کو دوبارہ بحال کردینا ہمارے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔
2: اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔
Read the full tafseer →اس پر جو تبصرہ قرآن کرتا ہے وہ اس اثر کو مزید گہرا کردیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ زمین اس جسم کو آہستہ آہستہ کھاتی ہے۔
قد علمنا ما۔۔۔۔۔ کتب حفیظ (50 : 4) ” ( حالانکہ ) زمین ان کے جسم میں سے جو چکھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے “۔
انداز تعبیر ایسا اختیار کیا گیا ہے کہ زمین کو زندہ اور متحرک کردیا گیا ہے اور وہ ان اجسام کو کھا رہی ہے جو اس کے منہ میں آہستہ آہستہ غائب ہو رہے ہیں۔ اور یہ زمین ان اجسام کو کھا رہی ہے ، نہایت آہستگی کے ساتھ۔ اور پھر ان کے اجسام کو یوں دکھایا گیا ہے کہ وہ تسلسل کے ساتھ کھائے جا رہے ہیں۔ زمین ان کے جسم کے جس حصے کو کھاتی…
Read the full tafseer →2 یعنی یہ نہیں کہ آج سے معلوم ہے بلکہ ہمارا علم قدیم ہے حتی کہ ان میں قبل و قوع ہی سب اشیاء کے سب حالات ایک کتاب میں جو " لوح محفوظ " کہلاتی ہے لکھ دیے تھے اور اب تک ہمارے پاس وہ کتاب موجود چلی آتی ہے۔ پس اگر علم قدیم کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو یوں ہی سمجھ لے وہ دفتر جس میں سب کچھ لکھا ہے حق تعالیٰ کے سامنے حاضر ہے۔ یا اس کو پہلے جملہ کی تاکید سمجھو۔ کیونکہ جو چیز کسی کے علم میں ہو اور قلمبند بھی کرلی جائے وہ لوگوں کے نزدیک بہت زیادہ مؤکد سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح یہاں مخاطبین کے محسوسات کے اعتبار سے متنبہ کردیا کہ ہر چیز خدا کے علم میں ہے اور اس کے ہاں لکھی ہوئی ہے جس میں ذرا کمی بیشی نہیں…
Read the full tafseer →آیت 4 { قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْہُمْ ج } ”ہم خوب جانتے ہیں کہ زمین ان میں سے کیا چیز کم کرتی ہے۔“
”ہم“ کے صیغے کے ساتھ یہ شاہانہ اندازِ بیان ہے۔ انسانوں کے دفن ہونے کے بعد زمین ان کے جسموں کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے ‘ ہر انسان کا کون سا عضو کیسے ضائع ہوتا ہے اور پھر ان کے اجزاء کس کس صورت میں کہاں کہاں جاتے ہیں ‘ ہمیں ایک ایک چیز کا علم ہے۔
{ وَعِنْدَنَا کِتٰبٌ حَفِیْظٌ۔ } ”اور ہمارے پاس تو ایک محفوظ رکھنے والی کتاب بھی موجود ہے۔“
ہمارے پاس ایک ایک چیز کا ریکارڈ موجود ہے۔ ان کے جسموں کو ہم نے مٹی سے پیدا کیا تھا اور ان کی موت کے بعد ان کے تمام اجزاء کو ہم مٹی میں ہی محفوظ…
Read the full tafseer →5 دوسرے اعتراض کا جواب :۔ حالانکہ ان کا یہ اعتراض محض ان کی کم عقلی اور عدم معرفت الٰہی کی بنا پر ہے۔ وہ اللہ کے علم اور اس کی قدرت کی وسعت کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ پہلی چیز تو یہ ہے کہ ان کی ہر چیز مٹی میں نہیں چلی جاتی بلکہ ان کی روح اللہ کے قبضہ میں چلی جاتی ہے۔ دوسری چیز یہ کہ ان کے جسم کے ذرات اگر مٹی میں مل بھی جائیں تو بھی وہ سب ذرات اللہ کے علم میں ہوتے ہیں۔ اور وہ جب چاہے ان ذرات کو اکٹھا کرکے پھر سے انسان کی شکل دے کر اور اس میں اس کی روح ڈال کر پھر سے زندہ کرسکتا ہے۔ تیسری چیز یہ ہے کہ ان کے ذرات کا اللہ کو علم ہی نہیں بلکہ اس کے پاس ہر چیز پہلے سے لکھی ہوئی بھی موجود اور محفوظ ہے۔…
Read the full tafseer →4۔” روشن خیال “۔ و حواس پرست مشرکوں کے دعوے پر جرح ہورہی ہے کہ تم اس بازگشت کو محال آخر کس بنا پر کہہ رہے ہو ؟ کیا اس لئے کہ اس ہستی میں قابلیت حیات نہیں ؟ اگر یہ مراد ہے تو یہ تو خود تمہارے مشاہدہ کے بھی خلاف ہے۔ پھر کیا ہے کہ ہمارے علم اور ہماری قدرت کو تم ناقص، محدود ناکافی سمجھتے ہو ؟ تو ہمارا علم تو ادنی سے ادنی جزئیات تک محیط ہے اور یہ علم بھی کچھ نوپیدا اور حادث نہیں، قدیم ہے۔ قبل وقوع ہی سے ہے۔ (آیت) ” ماتنقص الارض منھم “۔ یعنی ان کے جسم کے ہر ہر جزء کی وضع، مقدار، کیفیت سب ہی کچھ درج ہے۔ مراد لوح محفوظ سے ہونا ظاہر ہے۔ (آیت) ” فھم فی امر مریج “۔ حق کے ترک و انکار کا لازمی نتیجہ یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترجمہ : ق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، قسم قرآن کریم کی کہ کفار مکہ، محمد ﷺ پر ایمان نہیں لائے، بلکہ اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا یعنی انہی میں سے ایک رسول جو ان کے زندہ ہونے کے بعد نار (جہنم) سے ڈراتا ہے آگیا سو کافر کہنے لگے یہ ڈراوا عجیب بات ہے، کیا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے ؟ ہم کو لوٹایا جائے گا، دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کر کے، یہ واپسی انتہائی درجہ بعید (بات) ہے، زمین ان میں سے جو کچھ کھا جاتی ہے وہ ہمیں معلوم ہے اور ہمارے پاس محفوظ کرنے والی کتاب ہے اور وہ لوح محفوظ ہے جس میں تمام اشیاء…
Read the full tafseer →قد علمنا ما تنقص الارض منھم و عندنا کتب حفیظ . ہم ان کے ان اجزاء کو جانتے ہیں جن کو مٹی (کھاتی اور) کم کرتی ہے اور ہمارے پاس وہ کتاب (یعنی لوحِ ) محفوظ ہے۔
اس آیت میں انکار قیامت کی تردید ہے یعنی زمین مرنے کے بعد جو ان کے جسموں کو کھا لیتی ہے وہ ہم کو معلوم ہے (ہم جانتے ہیں کہ وہ خاک کے ذرّے کہاں کہاں ہیں) ہمارے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ہے۔ ان تمام ذرات کو جمع کرنا اور پھر زندہ کر کے اٹھانا ہمارے لیے دشوار نہیں ہے۔
کِتٰبٌ حَفِیْظٌ : یعنی ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو شیطانوں کے دست تصرف سے باہر ہے۔ اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں ہوسکتا۔ حَفِیْظٌ کا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہمارے پاس ایک کتاب…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ان کی اس بات میں فرماتا ہے کہ ہم ان کے ان اجزا کو جانتے ہیں جن کو ان کے مرنے کے بعد مٹی کھاتی اور کم کرتی ہے اور جو اجزا چھوڑتی ہے۔
اور ہمارے پاس ایسی کتاب جو شیطانی تصرفات سے محفوط یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے اس میں ان کا مرنا اور قید میں ٹھہرنا اور پھر قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونا سب لکھا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →(1) قد علمنا ما تنقص الارض منھم : وہ دوبارہ زندہ ہونے کو اس لئے بعید کہہ رہے تھے کہ مٹی ہونے کے بعد اس کے ذرات تو سب ایک جیسے ہوجاتے ہیں، پھر جب ان کی مٹی کی دوسری مٹی سے پہچان ہی ختم ہوگئی تو وہ دوبارہ کیسے زندہ ہوسکتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہے کو رد کرتے ہیں فرمایا :(قد علمنا)”یقینا ہم جان چکے، یعنی ہمیں پہلے ہی سے معلوم ہے کہ مرنے کے بعد زمین ان کے جسم میں سے جن جن اجزا کو کم کرے گی اور انہیں مٹی میں بدلتی جائے گی وہ جہاں کہاں ہوں گے، ہمارے علم سے ایک ذرہ بھی باہر نہیں ہے۔ ”منھم“ میں لفظ ”من“ تبعیض کیلئے ہے اس میں اشارہ ہے کہ انسان کے تمام اجزا مٹی نہیں ہوتے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1 ۔ 5:۔ ق والقران المجید۔ عام قراٗت قاف میں جزم کے ساتھ ہے۔ حضرت حسن بصری، ابن ابی اسحاق اور نصیر بن عاصمنے قاف پڑھا ہے کیونکہ کسرہ، جزم کا بھائی ہے جب اس کا آکر ساکن ہوا تو کسرہ کے ساتھ اسے حرکت دی۔ عیسیٰ ثقفی نے فاء کو فتحہ دیا ہے اسے خفیف ترین حرکت دی ہے۔ ہارون اور محمد بن سمیقع نے قاف ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ عموما یہ مبنی کی حرکت ہوتی ہے جس طرح منذ، قط، قبل اور بعد ہے۔ ق کے معنی میں اختلاف ہے کہ وہ کیا ہے ؟ ابن زید، عکرمہ اور ضحاک نے کہا : یہ ایسا پہاڑ ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے جو سبز زمرہ کا مرد ہے اس کی وجہ سے آسمان سبز ہے۔ آسمان کے دونوں کنارے اس پر ہیں۔ آسمان اس پر قبہ کی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
10:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' قد علمنا ماتنقص الارض منہم '' (ہم جانتے ہیں کہ انمیں سے زمین کیا گھٹاتی ہے یعنی ان کے جسموں میں سے اور ان کے جو ان کے جسموں سے ضائع اور ختم ہوجاتا ہے)
11:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) '' قد علمنا ماتنقص الارض منہم '' سے مراد ہے کہ ہم خوب جانتے ہیں جو زمین گھٹاتی ہے ان کے گوشت سے ان کے بالوں سے اور ان کی ہڈیوں سے۔
12:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم خوب جانتے ہیں ان مردوں کو جن کو زمین کھاجائے گی جب وہ مرجائیں گے۔
13:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے…
Read the full tafseer →قَدْ عَلِمْنَا [ ہم جان چکے ہیں ] مَا تَنْقُصُ [ اس کو جو گھٹاتی ہے ] الْاَرْضُ مِنْهُمْ ۚ [ زمین ان (کی لاش ) میں سے ] وَعِنْدَنَا [ اور ہمارے پاس ] كِتٰبٌ حَفِيْظٌ [ محفوظ کرنے والی کتاب ہے ]
وَعِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِيْظٌ کا مطلب یہ ہے کہ ذاتی علم کے سوا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے ایک دفتر بھی قائم کر رکھا ہے جس میں یہ بھی درج ہے کہ کون شخص زمین کی کس پہنائی میں دفن ہے اور اس کے جسم کے اجزاء کہاں کہاں ہیں اور ہر شخص کے تمام اقوال و افعال بھی اس میں درض ہیں، یہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کا معاملہ جاہلیت کے عربوں کے لیے تو اچنبھے کا ہوسکتا تھا لیکن اس زمانے میں سائنس نے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
پھر فرمایا ﴿ بَلْ عَجِبُوْۤا ﴾ (الاٰیات الثلاث) بل کا عطف کس پر ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :
فکانہ قیل انا انزلناہ لتنذر بہ الناس فلم یومنوا بہ بل جعلوا کلا من المنذر والمنذر بہ عرضة للتکبر والتعجب (یعنی ہم نے یہ قرآن نازل کیا تاکہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو ڈرائیں لیکن وہ لوگ اس پر ایمان نہ لائے انہوں نے ڈرانے والے کو بھی جھٹلایا اور جس چیز سے ڈرایا اس کو بھی جھٹلایا، حق کو نہ مانا تکبر اختیار کیا اور تعجب کرنے لگے) کیا ہم ہی میں سے ڈرانے والا آگیا ؟ اور کہنے لگے کہ یہ تو عجیب چیز ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے پھر زندہ ہو کر اٹھیں گے یہ تو بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
بیان عظمت کلام خداوندی و انکار منکرین وتعجب بر حشر ونشر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ق والقران المجید ....... الی ...... کذلک الخروج “۔
(ربط) سورة حجرات کے مضامین کا اختتام اس امر کے بیان پر تھا کہ اسلام کی توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہدایت ہے اور اس کا عظیم انعام ہے اس پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے ایمان پر استقامت اور دین حق پر ثابت قدمی اس اعتقاد ویقین پر موقوف ہے کہ حق تعالیٰ شانہ بندہ کی ہر حالت سے باخبر ہے اور وہ ہر عمل کو دیکھتا ہے وہ آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے تو اس مناسبت سے اب سورة ق کی ابتداء عظمت کلام خدا وندی سے کی جارہی ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہدایت کا…
Read the full tafseer →4:” قد علمنا۔ الایۃ “ یہ جواب شکوی ہے۔ یہ کفار کے اس استبعاد کا رد ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو پھر کس طرح زندہ ہوں گے۔ فرمایا مردوں کے اجساد کے جو حصے زمین کھاجاتی ہے وہ ہمیں خوب معلوم ہیں کوئی ذرہ ہمارے عہم سے باہر نہیں۔ اس لیے ان کو دوبارہ زندہ کرلینا ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں ای ما تاکل الارض من لحومہم ودمائہم و عظامہم لایعزب عن علمنا شیء (معالم و خازن ج 6 ص 234) ۔ رد لاتبعادھم الرجع لان من لطف علمہ حتی علم ماتنقص الارض من اجساد الموتی وتاکلہ من لحومہم وعظامہم کان قادرا علی رجعہم احیا کما کانوا (مدارک ج 4 ص 134) ۔ ہمارے پاس ایک ایسی کتاب بھی ہے جس میں تمام تفاصیل اشیاء اور اعمال بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
منازل قرآن
صحابہ کرام ؓ نے قرآن پاک کو سات منزلوں میں تقسیم کرلیا تھا۔ اس سورة مبارکہ سے ساتویں منزل شروع ہو رہی ہے جو آخر قرآن تک جائے گی ۔ پہلی منزل میں قرآن پاک کی تین لمبی سورتیں سورة البقرہ ، سورة آل عمران اور سورة النساء ہیں ۔ اس کے بعد دوسری منزل میں پانچ سورتیں سورة المائدہ ، سورة الانعام ، سور ۃ الاعراف ، سورة الانفال اور سورة التوبہ آتی ہیں ۔ پھر تیسری منزل میں سات سورتیں یعنی سورة یونس ، سورة ہود ، سورة یوسف ، سورة الرعد ، سورة ابراہیم ، سورة الحجر اور سورة النحل ہیں ۔ چوتھی منزل میں نو سورتیں ہیں جن کے نام سورة بنی اسرائیل ، سورة الکہف ، سورة مریم ، سورة طلحہ ، سورة الانبیاء ،…
Read the full tafseer →قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْہُمْ 0 ۚ وَعِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِيْظٌ 4
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : من قال ق قسم جعل الواوعاطفۃ و من لم یقل بہ کانت الواوللقسم عندہ و جواب القسم عندالکوفیین ھو قولہ بل عجبواو قال ابن کیسان جو ابہ مایلفظ و قال الاخفش محذوف 1 ؎ ای لتعبثن یدل علیہء اذامتنابل عجبواللا ضراب عن الجواب اذا منصوبۃ بماول علیہ الجواب فوقہم حال من السماروالارض معطوف علی موضع السماء ای ویروالارض مددناھا حال تبصرۃ مفعول لہ حب الحصیدای حب الزرع الحصید وعندالکوفیین ھومن باب اضافۃ الشیء الی نفسہ کمسجد الجامع وھذا جائز اذا اختلف اللفظان کحق الیقین وحبل الوریدو وارالآخرۃ۔ والنخل معطوف علی الحب باسقات حال مقدرۃ لہاطلع نضید حال رزقا مفعول ملہ بل ھم ای انھم غیر منکرین لقدرۃ اللہ علی الخلق…
Read the full tafseer →قَدْعَلِمْنَا مَا تَنْقُضُ الْاَرْضُ مِنْھُمْ ج وَعِنْدَنَا کِتٰبٌ حَفِیْظٌ۔ (قٓ: 4)
(ہم نے جان لیا ہے جو کچھ زمین ان سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک محفوظ رکھنے والی کتاب بھی ہے۔ )
مخالفین کے اشکالات کا جواب
اس مختصر سی آیت میں پروردگار نے مخالفین کے اشکالات کا جواب دیا ہے۔ انھیں اشکال دو حوالوں سے تھا۔ ایک تو یہ کہ ہزاروں سال پہلے جو لوگ مرچکے ہیں ان میں سے ایک بہت بڑی اکثریت کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ ان کی قبریں کہاں ہیں۔ کتنے قبرستان ہیں جو آبادیوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ اور کتنی آبادیاں ہیں جو قبرستانوں میں بدل چکی ہیں۔ اور ان میں دفن ہونے والے جسموں سے محروم ہو کر نہ صرف مٹی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن
ربط سورت :” ق “ حروف مقطعات میں شامل ہے۔ بعض اہل علم نے غیر مستند روایات کے حوالے سے اس کا مطلب بیان کرنے کی کوشش کی ہے لیکن نبی ﷺ اور صحابہ کرام (علیہ السلام) سے اس کا کوئی معنٰی ثابت نہیں۔ لہٰذا اسے اس طرح ہی تلاوت کرنا چاہیے۔ القرآن سے پہلے واؤ کا حرف قسم کے لیے ہے۔ عربی زبان میں حرف واؤ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ان میں واؤ قسم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
قرآن کا معنٰی ہے یکجا کرنا، تلاوت کرنا، الفاظ پر غور کر کے زبان سے ان کی ادائیگی کرنا، الفاظ کا ” تتبُّع “ کرنا۔ (المنجد)
المجید کا معنٰی بڑا اور عزت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم دے کر ارشاد فرمایا ہے کہ یہ لوگ…
Read the full tafseer →جب اجزائے موت معلوم ہو تو اس کو لوٹانے پر کیوں قدرت نہیں :
آیت 4 : قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْہُمْ (ہم ان کے ان اجزاء کو جانتے ہیں۔ جن کو مٹی کم کرتی ہے) اس میں ان کے دوبارہ لوٹانے کو بعید خیال کرنے کی تردید ہے۔ کیونکہ جس ذات کا علم اس قدر لطیف ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ مردوں کے اجسام میں سے زمین کیا کچھ کم کرتی اور ان کے گوشت ٗ پوست اور ہڈیوں کو کھاتی ہے۔ وہ ان مردوں کو اسی طرح زندہ کر کے لوٹانے کی بھی قدرت رکھتے ہیں جیسا وہ پہلے تھے۔ وَ عِنْدَنَا کِتٰبٌ حَفِیْظٌ (اور ہمارے پاس کتاب محفوظ ہے) شیاطین کی دست برد اور تغیر سے محفوظ ہے اور وہ لوح محفوظ ہے۔ نمبر 2۔ حفیظ بمعنی حافظ ہے وہ…
Read the full tafseer →3 ۔” ائذا متنا وکنا ترابا “ ہم اٹھائے جائیں گے۔ بعث کے ذکر کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ کلام اس پر دلالت کررہی ہے۔ ” ذلک رجع “ یعنی زندگی کی طرف لوٹنا۔ ” بعید “ اور نہیں ہونے والی یعنی بہت بعید ہے کہ موت کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ حروف مقطعات کا بیان سورة بقر کے شروع میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آ کر محمد رسول ﷺ کے رسول ہونے کی اور قرآن کو اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کر دے گا تو ہم مان لیں گے۔ محمد ﷺ تو ہم جیسے انسان ہیں ان کی باتوں کا ہمیں یقین نہیں آتا۔ اس کا جواب تفصیل سے سورة انعام میں ہے مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ فرشتہ کو اصل صورت میں دیکھنا تو عام لوگوں کی طاقت سے باہر ہے سوائے اللہ کے رسول کے عام لوگوں میں سے فرشتہ کو جو کوئی اصل صورت میں دیکھے گا وہ فوراً مرجائے گا۔ اس لئے فرشتہ بھی ان لوگوں کے پاس آئے گا تو انسان کی صورت میں آئے گا۔ پھر ان لوگوں کا شبہ بھی باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
تفسیر سورة ق
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا تا ہے، یعنی اس کے معانی بہت وسیع، عظیم اور اس کے پہلو بیشمار ہیں، اس کی برکات بےپایاں اور اس کی عنایات بہت زیادہ ہیں۔ (مجد) کا معنی ہے اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت۔ (مجد) سے موصوف ہونے کا سب سے زیادہ مستحق کلام اللہ یعنی قرآن ہے جو اولین وآخرین کے علوم پر مشتمل ہے، جس کی فصاحت کامل ترین، جس کے الفاظ عمدہ ترین اور جس کے معانی عام اور حسین ترین ہیں۔ یہ اوصاف اس کی کامل اتباع، اس کی فوری اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر شکر کے موجب ہیں۔
مگر اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے بنا بریں فرمایا : (بل عجبوا) یعنی رسول مصطفیٰ ﷺ کو…
Read the full tafseer →[ 4] منکرین کے شبہات کے جواب کا ذکر وبیان :
سو منکرین کے شبہات کے جواب کے لئے اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ جو کچھ زمین ان میں سے کھاتی ہے۔ یعنی اول تو زمین سب کچھ نہیں بلکہ ان میں سے کچھ ہی کھاتی ہے۔ کیونکہ روح تو پہلے ہی ان سے منتقل ہوجاتی ہے، اور پھر جسم میں سے بھی جیسا کہ حدیث میں ثابت ہے کہ عجب الذنب کی وہ چھوٹی سی ہڈی باقی رہتی ہے جس سے آدمی کے جسم کی ترکیب ہوتی ہے [ جامع البیان، الوجیز وغیرہ ] اور پھر جو بھی کچھ زمین کھاتی ہے، وہ بھی ہمارے علم سے باہر نہیں، بلکہ ہمیں اس کا پوری طرح علم ہے، تو پھر ہمارے لیے ان کو دوبارہ زندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیات 1 تا 15۔
اسرار ومعارف۔
ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی ان کے جسموں میں سے جتنا کچھ زمین کھاتی جاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے پھر ہمارے لئے کیا مشکل ہے کہ بکھرے ہوئے تمام ذروں کو ایک جگہ جمع کردیں اور انہیں جوڑ کر دوبارہ زندگی بخش دیں۔
Read the full tafseer →(50:4) قدعلمنا : قد ماضی کے ساتھ تحقیق کا معنی دیتا ہے۔ تحقیق ہمیں علم ہے۔ ہم جانتے ہیں۔
ما تنقص الارض منھم : ما موصولہ، باقی جملہ اس کا صلہ۔ تنقص مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ نقص (باب نصر) مصدر۔ وہ کم کرتی ہے۔ وہ گھٹاتی ہے۔
منھم : ای من اجسامھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے جسموں اور جسدوں سے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع کافرون ہیں۔ یعنی ہم جانتے ہیں کہ مرنے والوں کے جسموں کو کھا کر مٹی ان کو مٹی بنا دیتی ہے تو اس کے ذرات کہاں کہاں ہیں۔ ان کو اکٹھا کرنا اور پھر زندہ کرکے اٹھانا ہمارے لئے دشوار نہیں ہے۔
کتب حفیظ۔ موصوف و صفت۔ حفیظ حفظ سے بروزن فعیل بمعنی فاعل۔ حفاظت رکھنے والا۔ اور بمعنی مفعول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 :
عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔
تشریح : آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(ف 1) مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آن کر محمدرسول اللہ کے رسول ہونے کی اور اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کردے گا تو ہم مان لیں گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے قسم کھاکر فرمایا کہ قسم ہے قرآن کی جو نہایت بزرگی و کرامت و شرافت والا ہے کہ تم خدا کے رسول ہو، ہم جانتے ہیں کہ یہ کفار ایمان نہیں لائے، اور اس قرآن کی بزرگی اور عظمت وشان کا کیا کہنا جس نے آکر کفر وشرک کو منسوخ کردیا اور اپنی اعجازی قوت اور لامحدود اسرار ومعارف سے دنیا کو محو حیرت بنادیا۔ یہی بزرگی والا قرآن بذات خود شاہد ہے کہ اس کے اندر کوئی نقص وعیب نہیں لیکن منکرین پھر بھی رسول اور قرآن کو قبول نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] قرآن مجید میں قسمیں بہت آئی ہیں اور لوگوں کو ان کے مفہوم اور مقصد کے متعلق طرح طرح کے شکوک ہیں۔ تشریح کیلئے ملاحظہ ہو صفحہ 2601
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة ق
فرمایا : کہ قرآن کی لفظی ومعنوی بزرگی اور عظمت خود قرآن پر وال ہے ۔ اور جس شخص نے اس صحیفہ مقدس کا بغور مطالعہ کیا ہے ۔ وہ اس کے محاسن سے متاثر ہو کر مجبور ہوجاتا ہے ۔ کہ اس کی سچائی پر گواہی دے اور یہ کہہ دے ۔ کہ اتنی بڑی کتاب ۔ اتنا مکمل زندگی کا پروگرام ، اور اتنے خوارق علمیہ کا حامل مجموعہ ناممکن ہے ۔ کہ انسانی دماغ کی اختراع وایجاد قرار دیا جاسکے ۔ مگر ان مکہ کے ناسمجھ لوگوں کو اس کتاب ہدیٰ کی رفعتوں کا اندازہ نہیں ہوتا ۔ انہیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ ان میں کا ایک آدمی کیونکر منصب نبوت پر فائز ہوسکتا ہے ۔ ان کے نزدیک پیغمبر کے لئے ضروری ہے ۔ کہ وہ فوق البشر شخصیت ہو ۔ پھر انہیں…
Read the full tafseer →(4) یقینا ہم ان کے ان اجزا کو جانتے ہیں کہ جن کو زمین ان میں سے کم کرتی اور گھٹائی ہے اور ہمارے پاس کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے اور جو حفاظت کرنے والی ہے۔ یہ اس بعید از مکان کا جواب ہے کہ آخر یہ غیر ممکن کیوں ہے یا تو یوں کہو کہ محل میں حیات کی قابلیت نہیں اور یہ ہدایتہ غلط ہے کیونکہ محل تو بالفعل حیات سے متصف ہے یا یوں کہو کہ فاعل اور زندہ کرنے والے کو اتنا علم کہاں کہ وہ ہمارے اجزائے منتشرہ کو جمع کرسکے اس کو فرمایا کہ زمین جس قدر حصے کو کم کرتی ہے فاعل کو اس کا سب علم ہے اور یہ علم آج سے نہیں بلکہ تمہارے پیدا کرنے سے پہلے بھی جانتا تھا کہ تم مرکر کہاں جائو گے اور تمہارا ہڈی چمڑا کہاں…
Read the full tafseer →جو کچھ زمین کم کررہی ہے وہ ہمارے علم میں ہے اور ان کا کیا بھی ہمارے پاس محفوظ ہے
4 ۔ تم اس وقت زندہ وجاوید بحث و مباحثہ میں مصروف ہو اور تم کو تمہاری اس زندگی پر ذرا تعجب نہیں لیکن آئو ہم تم کو بتائیں کہ ہم نے تم کو اس زمین سے پیدا کیا ہے کیا تم اپنے پیدا کیے جانے کی حقیقت کو جانتے ہو ؟ پھر تمہارے مرنے کے بعد تم کو اسی زمین میں لوٹایا جائے گا کیا تم اپنے لوگوں کو اس میں لوٹایا جانا دیکھتے ہو یا نہیں ؟ پھر ایک وقت آئے گا کہ ہم تم کو اس زمین سے دوبارہ پیدا کرکے کھڑا کردیں گے پہلی دو باتوں پر تم کو ذرا تعجب نہیں ہے اور اس آخری تیسری بات پر تم کو بہت تعجب ہے اس کی وضاحت ہم پیچھے جلد پنجم سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
Removal of a Doubt relating to Resurrection
قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ (We know very well how much of them is diminished by the earth,... 50:4). The disbelievers wondered at the idea that when they are dead and reduced to broken bones and particles of dust and scattered all over the world, whether it is possible that, on the Day of Resurrection, they will be raised up again. They thought that it was impossible when they are dead, disintegrated, with their organs torn apart that they will be brought back to their original shape and bodies. The verse refutes the…
Read the full tafseer →3 This was the second cause of their surprise, the first being that a member of their own kind and clan had arisen with the claim that he had come as a warner to them from God. They were further surprised that the person was warning them to the effect that all men will be raised back to life after death and they will be produced aII together in the Court of AIIah where their deeds will be subjected to accountability and they will be rewarded and punished accordingly.
4 That is, "If it cannot be comprehended by intellect, it is their own narrow mind to blame. It does not mean that Allah's…
Read the full tafseer →